No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
❤❤❤❤❤❤تم یہاں بیٹھی ہو اور میں تمہیں پوری یونیورسٹی میں ڈھونڈتی پھر رہیں ہوں٠٠٠
٠٠٠بیا حور کے پاس آتے ہی بولی تھی کلاس ختم ہونے کے بعد وہ اپنی کچھ اور دوستوں سے بات کرنے لگی تھی اور پھر بات کرتے وقت اسنے حور پر دھیان ہی نہی دیا تھا کی وہ کہاں ہے اب جب خود کی باتیں ختم ہوئی تو پہلا خیال اسکو حور کا آیا تھا جو وہا موجود نہیں تھی بیا اسکو ڈھونڈتی پھر رہی تھی جب وہ اسکو ایک بینچ پر بیٹھی ملی تھی….
…..ہاں وہ تم بیزی تھی تو میں یہاں آ کر بیٹھ گئی ..حور اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھتے ہوۓ بولی …
…ارے تم تو جانتی ہی ہو ارم کو وہ کتنی باتونی ہے بس لگا لیا مجھے اپنی باتوں میں ….بیا حور کی برابر میں بیٹھ گئی….جبکی حور اسکے جواب میں کچھ نہیں بولی تھی بس ایسے ہی خاموش بیٹھی رہی تھی ….
……کیا تم اب تک صبح والی بات پر اداس ہو …بیا اسکی خاموشی کو نوٹ کرتے ہوۓ بولی تھی ….
جب سے وہ دونوں یونی آئں تھی تب سے وہ خاموش تھی بیا بہت اچھے سے جانتی تھی کی وہ آج صبح والے واقع کہ وجہ سے بہت اداس ہے..
….بیا جب تم سب کچھ جانتی ہو تو پھر ایسی حرکتيں کیوں کرتی ہو جبکی تمھیں معلوم ہے تمہارے ایسا کرنے سے تقلیف مجھے ہی ہوتی ہے…
…حور بہت ہی اداسی سے بولی تھی بولتے ہوۓ اسکی آواز کے ساتھ ساتھ اسکی آنکھوں میں بھی نمی تھی…
….میں یہ سب تمھیں تقلیف پہوچانے کے لیے نہی کرتی میں بس یہ چاہتی ہوں کی تمہارے اور بھائی کے بیچ سب ٹھیک ہو جاۓ…
…میں بس تمہارے چہر برداشت نہی کر سکتی ہوں حور میں تو بس تمھیں ھر پل ہنستے ہوۓ دکھنا چاہتی ہوں..بیا اسکو اپنی باہوں میں لیتے ہوۓ بولی تھی..اسکو بہت دکھ ہوتا تھا جب زربھائی حور کے ساتھ ایسے کرتے تھے وہ بس ان دونوں کے درمیاں سب کچھ ٹھیک کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
….بیا سب کچھ معلوم ہونے کے بعد بھی تم یہ سب بول رہی ہو اتنے سالوں میں تو کچھ نہی بدلہ نہ وہ اور نہ انکی نفرت اور تمھیں لگتا ہے کی تمہاری ان چھوٹی سی کوششوں سے وہ بدل جاۓ گے تو یہ تمہاری بھول ہے بیا…حور اسکی باہوں سے خود سکو آزاد کراکر اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی تھی۔
…..میں یہ جانتی ہوں یہ سب پر کوئی بھی کسی سے بنا کسی غلطی کے یا گناہ کے زیادہ وقت تک نفرت نہی کر سکتا ہے اور یہ تم بھی جانتی ہو کی تم ہر طرح سے بےقصور ہو بس انکو اس بات کا احساس دلانا ہے کی تم خود معصوم تھی اس وقت تو اس میں تمہاری کیا غلطی….بیا اسکو ہر بار کی طرح اس بار بھی سمجھاتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
۔۔۔پر انکے لیے تو میں ہی قصوروار ہوں تم چاہے کچھ بھی کر لو پر ایسا کبھی نہی ہوگا جیسا تم چاہتی ہو….
….تم نہ امید مت ہو حور دیکھنا ایک دن سب ٹھیک ہوگا بیا اسکو یقین دلاتے ہوۓ بولی ….اسکو حور بہت عزیز تھی اور اسکی خوشیاں کیونکہ وہ حور کو بلکل اپنی بہنوں کیطرح سمجھتی تھی راحت بیگم نے اسکو اور حور کو بلکل اپنی بیٹیوں کی طرح پالا تھا…
…..بیا کی بات سنکر وہ بس خاموش ہی رہی تھی مگر اسکے دل نے بیا کی بات پر آمین کہا تھا…
…چلو گھر چلتے ہیں ڈرائیور بھی آ گیا ہوگا بیا وہاں سے اٹھتے ہوۓ بولی تھی تو اسکی بات پر حور بھی اسکے ساتھ اٹھ گئ تھی❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤کیا ہوا بھائی آپ یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہے ……راحت بیگم سکندر صاحب کو باہر لون میں اکیلا بیٹھا دیکھ کر انکے پاس آتے ہوۓ بولی تھی جو کسی گہری سوچ میں گم تھے …
…. شام کا وقت تھا موسم کافی اچھا بھی ہو رہا تھا اور انکی طبیعت پر اس موسم کا اچھا اصر ڈال رہا تھا ویسے بھی آجکل انکی طبیعت خراب ہو رہی تھی جسکی وجہ سے وہ آفس بھی نہی جا رہے تھے…
..بھائی میں آپ سے کہ رہی ہوں…جب سکندر صاحب نے راحت بیگم کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور ایسے ہی سوچوں میں گم رہے تو راحت بیگم نے انکے بازو پر ہاتھں رکھتے ہوۓ انکو اپنی موجودگی کا احساس کروایا …
…کیا ہوا کیا تم مجھسے کچھ کہ رہیں تھی…سکندر صاحب اپنی سوچوں سے باہر آتے ہوۓ بولے…
…کیا ہوا بھائ آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں.. ….راحت بیگم انکے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھتی ہوۓ بولی…..
..راحت کبھی کبھی میں یہ سوچتہ ہوں کی انسان جب کسی کے لیے کچھ اچھا کرتا ہے تو جانے انجانے میں اس سے کچھ غلط بھی ہو جاتا ہے کسی کو خوشی دینے کے ساتھ ساتھ وہ کسی کے غموں کی وجہ بھی بن جاتا ہے….
…سکندر صاحب بہت دکھ سے بولے تھے اور راحت بیگم انکی آنکھوں میں وہ کرب آسانی سے دیکھ سکتی تھی….
۔۔بھائی ماضی کی باتوں کو یاد کرکے کچھ حاصل نہی ہوتا اور ویسے بھی یہ سب تو قسمت میں لکھا ہوتا ہے اور ہم چاہ کر بھی کچھ نہی کر سکتے ہیں…جسکی قسمت میں جو لکھا ہے وہ تو ہو کر ہی رہتا ہے اسمے کسی کی کیا غلطی….
….راحت بیگم اپنے بھائی کا دکھ کم کرنا چاہتی تھی جو انکو اندر ہی اندر تڑپاتا رہتا تھا….
…لیکن کبھی کبھی سب کچھ قسمت کی وجہ سے نہی ہوتا راحت…..کچھ ہمارے جذبات میں لیۓ گیے
فیصلوں کی وجہ سے بھی ہوتا ہے…
…سکندر صاحب کھوے ہوۓ لہجے میں بولے وہ بات تو راحت بیگم سے کر رہے تھے پر انکی سوچیں کہیں اور تھی…
…بس بھائی آپ کیوں بار بار یہ سب یاد کر کے خود کو تقلیف دیتے ہیں جو ہونا تھا ہو چکا ہے ….راحت بیگم بات کو ختم کرتے ہوۓ بولی تھی…
….سب کچھ بھولنا آسان بھی تو نہی ہے نہ سکندر صاحب اپنی چیئر سے کھڑے ہوتے ہوۓ بولے تھے…
….پر مشقل بھی تو نہی ہے نہ آگر آپ کوشش کریں تو سب ہو سکتا ہے..راحت بیگم بھی کھڑے ہو کر انکے پاس آئ تھی آئ تھی۔۔
۔کیا کیا باتیں چل رہی ہیں بہن بھائی میں سکندر صاحب کچھ بولتے نازبیگم ان دونوں کے پاس ہی آتے ہوۓ بولی تھی انکے ساتھ ملازمہ بھی تھی جو ٹرے ہاتھ میں لیے انکے پیچھے ہی ا رہی تھی..
…بس یہ ھم دونوں بہن بھائی کی باتیں ہی ھم تک ہی رہنے دیں راحت بیگم مسکراتے ہوۓ بولی تو انکی بات سنکر نازبیگم بھی مسکرا دی تھی…
….چلیں نہ بتایں مجھے برا بھی نہی لگے گا یہ آپ دونوں کی بات ہے پر باتیں بعد میں کر لینا پہلے یہ حلوہ کھا لے ورنہ ٹھنڈا ہو جاۓ گا وہ ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی تو وہ دونوں بھی مسکراتے ہوۓ اپنی اپنی جگہ پر پھر سے بیٹھ گئے تھے❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤اسلام علیکم۔۔۔۔وہ دونوں جو لاؤنج میں بیٹھی کوئی میگزین دیکھ رہی تھی کسی کی آواز پر دونوں نے ایک ساتھ سر اٹھا کر دیکھا…
….تو سامنے ظفر کو کھڑا پایا تھا جو ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا…
… وعلیکم السلام بھائی…حور نے اسکو دیکھ کر بہت خوشدلی سے جواب دیا تھا ….جبکی ظفر کو دیکھ کر بیا کا منہ بن گیا تھا جسکو ظفر نے خوب اچھے سے نوٹ کیا تھا اور بیا کے ایسا کرنے سے اسکے ہونٹھوں پر مسکراہٹ آ گئ تھی…
…..اور کیسی ہو تم وہ حور کو دیکھ کر بولا اور دوسرے صوفہ پر آکر بیٹھ گیا تھا بیا ابھی بھی لاتعلق بنی بیٹھی تھی ۔۔
۔۔۔میں ٹھیک ہوں بھائی آپ کیسے ہیں اور بہت دنوں بعد آۓ ہیں حور نے مسکرا کر اسکی بات کا جواب دیا تھا ….کیونکہ اسکو ظفر اور اسکی عادت بہت پسند تھی وہ ہمیشہ بہت عزت سے حور سے بات کرتا تھا اور یہ ہی وجہ تھی کی وہ اس سے کھل کر بات کر لیا کرتی تھی….
….میں بھی ٹھیک ہوں بس ذرا بزنس کے کام سے باہر گیا ہوا تھا اس لیے آنا نہی ہوا ظفر اسکو تفصیل سے بات بتا رہا تھا پر اسکی نظر بیا پر بھی تھی جو میگزین میں نہ جانے کیا تلاش کر رہی تھی..
…اچھا….اور سب…اس سے پہلے کی حور کچھ اور کہتی یکدم اسکی نظر سامنے سے آتے زرخان اور عنایہ پر پڑی تھی ان دونوں کو ساتھ آتا دیکھ حور کے مسکراتے ہونٹھ یکدم سکڑے تھے اور یہ بات ظفر کی نظروں سے چھپی نہی رح سکی تھی….
……السلام عليكم بھائی آپ آج جلدی گۓ تبھی بیا نے بھی انکو ساتھ آتے دیکھا تھا اور عنایہ کو زرخان کے ساتھ دیکھ کر اسکا منہ پھر سے بن گیا تھا اسکو یہ دونوں بہن بھائی پسند نہی تھے عنایہ کی وجہ سے حور کو دکھ ہوتا تھا کیونکہ وہ زرخان کے قریب رہتی تھی اور پھر ظفر عنایہ کا بھائی تھا تو یہ وجہ تھی اسکو نہ پسند کرنے کی لیکن وہ اس بات سے انجان تھی کی اسکے اس رویہ سے ظفر کو دکھ ہوتا تھا….
…وعلیکم السلام ہاں وہ آج میں نے سوچا کیوں نہ تم سب کو باہر ڈینر کے لیے لے چلوں اور میں نے مام اور پھوپو کو بھی بول دیا تم بس جاکر تیار ہو جاؤ….وہ بیا کیطرف دیکھتے بولا تھا آج کام کم تھا تو اسنے سوچا ظفر اور عنایہ کو پارٹی دینے کا
…..اس وجہ سے وہ آج جلدی آ گیا تھا زرخان دوسرے صوفہ پر بیٹھتے ہوۓ بولا تھا عنایہ بھی اسکے ساتھ صوفہ پر بیٹھ گئی تھی ….
…ارے واہ بھائی اپ سچ کہ رہے ہیں کتنا مزہ آیگا…بیا خوش ہوتے ہوۓ بولی تھی اس بات سے انجن کی ظفر اسکا مسکراتا ہوا روپ آنکھوں کے ذرے اپنے دل میں اتر رہا تھا…..
…پر حور اسکے ساتھ نہی جاۓ گی یہ سوچ کر اسکی خوشی ایکدم سے کم ہوئی تھی…
…حور تم بھی چلو نہ ہمارے ساتھ یہاں اکیلی رہ کر کیا کروگی….حور جو وہاں سے جانے ہی لگی تھی جب ظفر کھڑے ہوتے ہوۓ اسکے پاس جا کر بولا تھا ..نہی آپ لوگ جایں مجھے پڑھنہ ہے وہ اپنی بات کہ کر وہاں رکی تھی…
کیونکہ اس وقت اسکو یہاں اپنی موجودگی اچھی نہی لگ رہی تھی کی ایک تو زرخان کے ماتھے پر پڑے بل دوسرا عنایہ کی وہاں موجودگی اس سے مزید وہاں رکا نہی گیا تھا….
…میں نے صرف بیا کو کہا ہے جانے کے لیے اور کسی کو نہیں …زرخان کی سرد آواز جاتے جاتے اسکے کانوں میں پڑی تھی پھر سے وہ دکھ ہوا تھا اسکی پلکیں یکدم سے بہیگی تھی ..
…جبکی زرخان بات سنکر عنایہ طنزیہ مسکرائی تھی اور بیا کو اسکی مسکراہٹ زہر لگی تھی..
…اگر وہ بھی چلی جاتی تو کچھ ہو نہی جاتا… ظفر کو اسکا اس طرح سے بولنا بلکل پسند نہی آیا تھا وہ ہمیشہ حور کی سائیڈ لیتا تھا جس پر ان دونوں میں بہص ہو جاتی تھی…
…میں اپنا موڈ خراب نہی کرنا چاہتا ہوں ظفر بہتر ہے تم چپ رہو …اور جاؤ بیا تم تیار ہو کر آؤ ہم ویٹ کر رہے ہیں تمہارا ….زرخان بیزاری سے ظفر کو بولتا بیا کیطرف مڑا تھا جو چپ چاپ وہاں بیٹھی تھی اور پھر نہ چاہتے ہوۓ بھی اسکو ان لوگوں کے ساتھ جانا پڑا تھا اور عنایہ کی موجودگی میں وہ وہاں سارا وقت بیزاری سے رہی تھی
