Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
“””””” صبح اسکی آنکھ مسلسل بجتے فون کہ آواز سے کھلی تھی پہلے تو اسکو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے پھر نظر ادھر ادھر گھما کر دیکھا تو وہ اس وقت زر کے روم میں اسکے بیڈ پر لیٹی تھی
پھر رات والا ایک ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے آتا چلا گیا تھا …
زر کا اس پر ہاتھ اٹھانا بابا کا غصّہ زر کہ ضد اور اچانک سب یاد کرتے کرتے اسکو زر کی وہ حرکت بھی یاد آ گئی تھی جس سے اسکا چہرہ یکدم سرخ ہوا تھا پر پھر سے دماغ میں اسکے لئے غلط سوچ آئیں تھی تو وہ اپنی سب سوچوں سے سر جھٹکتی ہوئی اٹھ بیٹھی تھی۔۔
فون بجنا بند ہو چکا تھا اسکو زر روم میں کہیں نظر نہیں آیا تھا شاید وہ واشروم میں تھا ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی جب زر کا فون ایک بار پھر بجنا شروع ہو گیا تھا۔۔
حور نے جھنجھلا کر ٹیبل پر پڑا زر کا فون اٹھایا اسکرین پر عنایہ کا نام دیکھ کر اسکا موڈ اور خراب ہوا تھا وہ فون رکھنا ہی چاہ رہی تھی کچھ سوچ کر اس نے کال ریسیو کہ تھی کہ شاید کوئی ضروری کام ہو…
السلام عليكم….
کال ریسیو کرتے ہی حور نے اسکو سلام کیا….
“””زر کہاں ہے اسکو فون دو مجھے اس سے بات کرنی ہے ہے….
“””عنایہ حور کہ آواز سنتے ہی ناگواری سے بولی تھی اسکو جب سے پتا چلا تھا کہ زر نے کل کیا کیا ہے تب سے ہی اسکا غصّے سے برا حال تھا اس نے بہت بار زر سے بات کرنے کی کوشش کہ پر وہ اپنا فون ہی نہی اٹھا رہا تھا اور اب زر کے فون پر اسکی آواز سن کر اسکا غصّہ اب مزید بڑھ چکا تھا..
زر واشروم میں ہے”
حور واشروم کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی اسکو عنایہ کے اس رویہ کہ ہمیشہ سے عادت تھی کیونکہ اس نے کبھی حور سے ٹھیک طرح سے بات ہی نہیں کی تھی اسلئے اسکو اب برا نہیں لگتا تھا…
“”ٹھیک ہے جب وہ آ جائے تو اسکو بولنا کہ مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے اور ووہ کل کا کیا وعدہ نہ بھولے… “
اتنا کہ کر اس نے فون رکھ دیا تھا جبکہ اس نے آخری جملہ جان بوجھ کر حور کو جلانے کے لئے بولا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہو گئی تھی…
“”حور کتنی ہی دیر فون کان سے لگا کر بیٹھی رہی تھی یہ کوئی نئی بات نہیں تھی وہ ہمیشہ سے ہی زر کے پاس پاس رہتی تھی اور دونوں بہت بار ایک ساتھ گھومنے بھی گئے تھے اور ہر بار کی طرح آج بھی حور اسکی بات سن کر اداس ہو گئی تھی….
“”وہ ایسی ہی بیٹھی تھی جب زر اسی وقت واشروم سے باہر آیا تھا حور کو اپنے ہی موبائل پر بات کرتا دیکھ کر ایک لمحے کے لئے تو وہ چونکا تھا پر پھر آئینے کی طرف چلا آیا تھا زر کو دیکھ کر حور نے جلدی سے فون کان سے ہٹا کر سائیڈ پر رکھا تھا ….
“”عنایہ کہ کال تھی بےحد ضروری کام ہے اسکو آپ سے کال کر لینا اسکو ..”حور بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولی تھی اور اسکا لہجہ بولتے ہوئے تلخ ہوا تھا جو زر نے بہت اچھے سے محسوس کیا تھا…
“”اسکی بات سن کر زر نے پلٹ کر دیکھا تو وہ واشروم میں گھس گئی تھی کتنی ہی دیر وہ بند دروازے کو دیکھتا اور اسکے تلخ لہجے کے بارے میں سوچتا رہا تھا اس نے جان کر حور سے نہیں پوچھا تھا کہ کس کی کال ہے کیونکہ وہ چاہتا تھا حور اسکو خود بتاۓ اس سے بات کرے اور ایسا ہی ہوا تھا مگر اسکے تلخ لہجے میں کہی بات پر اسکو غصّہ تو بہت آیا تھا پر وہ ضبط کر گیا وہ اب بلکل بھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس پر کوئی بھی سختی کرے
“”””””””””
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
“”””””ڈیڈ مام مجھے آپ دونوں سے بہت ضروری بات کرنی ہے اگر آپ لوگوں کے پاس وقت ہو تو…..
زر انکے روم میں آتے بولا وہ ناشتے کے وقت بھی ان لوگوں سے بات کرنا چاہتا تھا پر یہ سوچ کہ جگہ مناسب نہیں ہے تو چپ ہی رہا تھا جب سب لوگ ناشتے سے فارغ ہوئے تو وہ انکے پیچھے روم میں آیا بات کرنے آیا تھا…
…..اب بات کرنے کے لئے رہ ہی کیا گیا ہے جو تم یہاں ہم لوگوں سے کرنے آۓ ہو…
سکندر صاحب کا لہجہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا
“بلکل ٹھیک کہ رہے ہیں تمہارے ڈیڈ تم نے کچھ چھوڑا ہی نہیں ہے بات کرنے کے لئے…
ناز بیگم بھی اس بات پر اپنے شوہر کہ بات سے متفق ہوئی تھی جس پر سکندر صاحب نے ایک نظر انکی طرف دیکھا تھا وہ اچھے سے جانتے تھے کہ انکا کہنے کا کیا مقصد ہے…
….کیوں ڈیڈ میں نے ایسا کیا کیا ہے جو آپ اس طرح بات کر رہے ہیں بلکہ میں نے کل وہ کیا ہے جو آپ ہمیشہ سے چاہتے تھے آپکی سب سے بڑی خوائش پوری کہ ہے میں نے ..
“”سکندر صاحب کہ بات سن کر زر تڑپ کے انکے قدموں میں آ بیٹھا تھا چاہے وہ کتنا بھی غصّے والا تھا پر اپنے باپ سے بےپناہ محبت کرتا تھا اسکے لئے وہ دن کسی ازیت سے کم نہیں تھے جب وہ اس سے ناراض تھے بات تک نہیں کرتے تھے اسے اس وقت بھی خود پر بہت غصّہ تھا کہ اسنے اپنے ڈیڈ کو اتنی تکلیف پہنچائی تھی …
…..ہاں یہ میری سب سے بڑی خوائش تھی پر اس وقت تک جب تک تم نے اس رشتے کو ماننے سے انکار نہیں کیا تھا میری یہ خوائش تب ہی ختم ہو گئی تھی جب تم نے انکار کیا تھا اور اس لئے میں نے ایک اور فیصلہ لیا تھا جسکو تم نے ماننے سے پھر انکار کر دیا.””
..سکندر صاحب آج اسکی کہی بات یاد کرا رہے تھے جس پر زر خاموشی سے انکے قدموں میں بیٹھا رہا تھا وہ سچ ہی تو کہ رہے تھے…
…میں مانتا ہوں ڈیڈ میں نے اس وقت انکار کیا تھا پر ڈیڈ آج میں اس رشتے کو قبول کر رہا ہوں اور اسکو نبھانا بھی چاہتا ہوں بس آپ ایک بار میری بات سن لے…
زر نے انکے ہاتھ تھام کر التجا کہ تھی جبکہ اسکی بات پر ناز بیگم بار بار پہلو بدل رہی تھی یہ سب اب انکی برداشت کے باہر تھا..
“‘””میں کیسے مان لوں تم نے اس رشتے کو دل سے قبول کیا ہے تم ضد میں آکر یہ سب نہیں کر رہے ہو.”””
سکندر صاحب اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے بولے تھے انکو ایسا لگ رہا تھا کہ زر یہ سب بس ضد میں آ کے کر رہا ہے جس میں دونوں کہ ہی زندگی خراب ہونی تھی…
“”””ڈیڈ میرا یقین کریں آپ کیا آپکو ایسا لگتا ہے کہ میں یہ سب ضد میں کرو
….ڈیڈ آپ نے ایک بار کہا تھا نہ کہ آپکو مجھ پر بہت بھروسہ ہے کہ میں حور کہ زمیداری بہت اچھے سے سمبھال لوں گا تو بس میں آپ سے اتنا کہنا چاہتا ہوں آپ مجھ پر بس بھروسہ رکھیں اور میں آپکا یہ بھروسہ کبھی ٹوٹنے نہیں دوں گا “””””
زر اس بار انکو اپنی بات پر یقین دلاتے ہوئے بولا تھا جس پر سکندر صاحب کچھ پل تو خاموش ہی رہے تھے وہ اپنے بیٹے کو اچھی طرح جانتے تھے کہ جو وہ کہتا ہے اسکو کرتا بھی ہے چاہے وہ کام کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو اور سکندر صاحب کا دل اسکی باتوں سے راضی ہوا تھا کچھ کچھ …
“””میری تو ایک بات سمجھ نہیں آ رہی ہے آخر ایسا کیا جادو کر دیا ہے اس لڑکی نے تم پر جو تم اسکے لئے مارے جا رہے ہو…..
کب سے خاموش بیٹھی ناز بیگم کو اب یہ سب باتیں ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا
“””مام پلز میں اب کوئی بھی غلط بات حور کے بارے میں برداشت نہیں کروں گا بہت کچھ غلط کر چکا ہوں میں اب کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتا …
زر کو انکی یہ بات بری لگی تھی جبکہ ناز بیگم کہ ایسی باتوں پر وہ پہلے ایسے نہی بولتا تھا پر اب وہ بدل گیا تھا اسکے جذبات بدل گئے تھے حور کے لئے اسکا جواب سن کر ناز بیگم وہاں سے غصّے میں نکلتی چلی گئی تھی ….
“”اسکو اس طرح سے حور کے لئے بولتا دیکھ کر سکندر صاحب کو بہت خوشی ہوئی انکے دل سے ایک کیل سی نکل گئی تھی جو وہ زر کے بارے میں غلط سوچ رہے تھے…
….ڈیڈ مجھے امید ہے جو میں آپسے کہنا آیا تھا وہ آپ سمجھ گئے ہونگے اور مجھے امید ہے آپ مجھے میری غلطی کے لئے بھی معاف کر دیں گے ۔۔
زر انکی پشت کو دیکھتے ہوئے بولا اور کچھ دیر تو انکے جواب کا انتظار کرتا رہا تھا پھر وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ اسکے جانے کے بعد سکندر صاحب مسکرا دیئے تھے انکو یقین تھا کہ وہ جو بھی که رہا تھا اسے پورا بھی کرے گا ‘”””””””
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
“”””””کہاں جانے کہ تیاری کر رہی ہو..””
زر جب روم میں داخل ہوا تو اسکی نظر حور پر پڑی جو آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی ایک پل کے لئے زر کی نظریں اسکے بالوں میں الجھ گئی تھی اسکے بال بھی اسکی طرح ہی خوبصورت تھے….
“””یونی جا رہی ہوں…”
اور ویسے بھی آپکو تو کوئی مطلب نہیں ہے میں کہیں بھی آؤ یا جاؤ آخری بات اس نے آھستہ سے کہی تھی پر پھر بھی زر سن چکا تھا…
“””مجھے مطلب ہے تمہارے آنے جانے سے تمہاری ہنسی اور غم سے ہر چیز سے مجھے اب مطلب ہے حور …””
زر بولتا ہوا اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا…
“””اسکا جواب سن کر ایک پل کے لئے اسکا دل بہت بری طرح دھڑکا تھا پر جواب میں خاموش ہی رہی تھی..
“”””تم سے بات کر رہا ہوں میں..
ایک دم زر نے اسے بازو سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا..
“”وہ جو اس حملے کے لئے تیار نہیں تھی اس کا سر زور سے اس کے سینے سے ٹکرایا تھا….
“”””اففف…اسے دن میں تارے دکھائی دیئے تھے وہ ایک دم پیچھے ہٹنے کو تھی جب وہ سختی سے اس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اسے اپنے نزدیک کر گیا تھا حور کا حلق خشک ہوا تھا….
….آج تو تم نے مجھ سے اس لہجے میں بات کر لی ہے حور اور میں نے یہ بس آخری بار برداشت بھی کر لی آئندہ مت کرنا ورنہ تم تو جانتی ہی ہو آگے میں کیا کر سکتا ہوں “”
وہ اسکو صبح والا لہجہ یاد کرواتے ہوئے سخت لہجے میں بولا تھا آج اس نے دوسری بار یہ حرکت کہ تھی جو اسکو غصّہ دلا گئی تھی جتنا وہ پیار سے بات کر رہا تھا وہ اتنی ہی بدظن ہو رہی تھی اس سے…
“””وہ خود پر قابو پاتی گہرے گہرے سانس لیتی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ہمیشہ کہ طرح زر کہ سختی اسکی آنکھیں نم کر گئی تھی اسکی پکڑ نہ برداشت کرتے ہوئے حور نے گردن موڑی تھی..
“”””جب ہی وہ اس پر جھکا تھا وہ اب اس کی سانسیں اپنے کان اور گردن پر محسوس کر رہی تھی..
“”””اور ہاں اب تمہیں میری اچھی اور بری سبھی عادتوں سے سمجھوتا کرنا پڑے گا حور زرخان۔
“””زر اس کی کان کی لو کو نرمی سے اپنے لبوں سے چھوتا وہ اسکی جان نکل گیا تھا ….
حور اسکی بڑھتی ہوئی گستاخیوں پر لرز کر رہ گئی تھی …….
…زر اپنے دل کو مزید گستاخی پر آمدہ دیکھ کر اور اس کے سرخ چہرے سے بمشکل نگاہ چراتے ہوئے اس سے دور ہوا تھا ….
زرخان کے چھوڑنے پر حور زر سے دور ہوکر اپنی بےترتیب ہوئی سانسیں درست کرنے لگی تھی……
…چلو میں تمھیں یونی چھوڑ دیتا ہوں زر ایک نظر شرم سے لال پڑتے اسکے چہرے اور لرزاتے ہوئے وجود پر ڈالتا نرمی سے بولا تھا اور چلا گیا تھا ۔۔
“”” اسکے جانے کے بہت دیر تک حور وہیں بیٹھی رہی تھی پر یونی کے لیٹ ہونے کے ڈر سے وہ اٹھی اور اپنا حلیہ ٹھیک کرتی باہر نکلی تھی “””””””
“””””””””””””:::::::::”””””””””::::::::::”””””””””””””””””””””””””
“”””ایسا نہیں ہو سکتا زر اگر تم میرے نہیں ہوئے تو میں تمھیں کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گی”””
“”عنایہ نے پاس پڑا آخری گلدان زور سے دیوار پر دے مارا تھا جو ٹوٹ کر زمین پر گرا تھا اور پہلے سے پڑے ٹوٹے ہوئے ٹکڑو میں جاکر مل گیا کل سے اس پر پاگل پن سوار تھا اور نہ جانے اپنے غصّے میں کتنی ہی قیمتی چیزوں کو تباہ کر چکی تھی کچھ دیر بعد اسکا غصّہ کم ہوا تو اس نے زر کو فون کیا۔۔۔
مگر اسکے فون پر حور کہ آواز سن کر اسکا غصّہ پھر سے بڑھ گیا تھا “”
اسکو یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ حور اس وقت زر کے ساتھ اسکے روم میں تھی اور کتنے حق سے اسنے اسکا فون بھی ریسیو کر لیا تھا جو زر کو کل تک اپنے گھر میں برداشت نہیں تھی آج وہ خود اسکو اپنے روم میں لے آیا تھا یہ سب سوچتے ہی اس پر ایک جنون سوار ہو رہا تھا جو کسی بھی طرح کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا…..
“””عنایہ بیٹا یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے روم کا اور اپنی کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے””
ناز بیگم اسکے روم میں آتے ہی ایک دم حیرانی سے اسکو اور ٹوٹی ہوئی چیزوں کو دیکھ رہیں تھی جو اس وقت کہیں سے بھی عنایہ نہیں لگ رہی تھی اور نہ یہ روم اسکا لگ رہا تھا ….
“”””پھوپھو آپ نے یہ سب کیسے ہونے دیا زر اس حور کو قبول کر چکا ہے اور آپ کچھ نہیں کر سکی پھوپھو”””
عنایہ ایک دم انکے پاس کھڑے ہو کر جاتے ہوئے بولی تھی ..
آپنے تو وعدہ کیا تھا نہ کہ زر صرف میرا ہے اور آپ اس حور کو اسکی زندگی سے نکال دے گی تو آپ نے کیوں ہونے دیا یہ سب بتائیں نہ ….
عنایہ اس وقت جنون کی انتہا پر تھی ایک پل کو تو ناز بیگم گھبرا گئی تھی اسکی حالت دیکھ کر…
“””میری بات سنو عنایہ میں نے تم سے وعدہ کیا تھا نہ کہ زر صرف تمہارا ہے تو وہ تمہارا ہی ہے میں اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹی ہوں یہ سب بس اتنی جلدی ہوا کی مجھے کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ….
ناز بیگم اسکو بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے بولی تھی…
…..پھوپھو میں اس حور کو زر کی زندگی میں ایک پل کے لئے برداشت نہیں کر سکتی …
عنایہ نفرت سے بولی …
“””میں خود اس لڑکی کو اپنے بیٹے کہ زندگی تو کیا اس گھر میں برداشت نہیں کرتی تم دیکھنا ایک دن میں اسکو زر کی زندگی اور اس گھر سے ہمیشہ کے لئے نکال کر رہوں گی …
ناز بیگم زہریلے لہجے میں بولی تو انکی بات سن کر عنایہ کو سکون ملا تھا ..
“””کچھ کم ہوا اسکا غصّہ یا نہیں..
“تبھی عالیہ بیگم وہاں آتے ہوئے عنایہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی جو اب کچھ پرسکون نظر آ رہی تھی انکو ورنہ کل سے وہ پریشان ہو رہی تھی اسکی حالت دیکھ کر زر والی بات سن کر وہ بھی بہت حیران ہوئی تھی پر یہ فیصلہ زر کا تھا تو وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ورنہ وہ بھی یہ ہی سوچتی تھی کی زر اسکو پسند نہیں کرتا ہے تو شاید عنایہ کو کرتا ہوگا اور کچھ یہ ہی وجہ تھی انکی حور کو ناپسند کرنے کی مگر ایسا نہیں تھا انکی سوچ غلط نکلی تھی اور وہ بس جب سے اسکو سمجھا رہی تھی پر وہ انکی سننے کو تیار ہی نہیں تھی اس لئے انہوں نے تھک ہار کر ناز بیگم کو بلایا تھا…
“”میں نے کہا تھا نہ کہ میں ہی سمجھا سکتی ہوں اپنی بیٹی کو اور وہ صرف میری بات سنے گی کسی اور کہ نہیں”””
ناز بیگم محبت سے عنایہ کی طرف دیکھ کر بولی تھی ۔۔
“””جی آپ نے بلکل ٹھیک کہا تھا عالیہ بیگم بھی مسکراتے ہوئے وہیں انکے پاس بیٹھ گئی تھی تو عنایہ وہاں سے اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی تھی اب اسکو آگے کے بارے میں سوچنا تھا کہ حور کو زرکی زندگی سے کیسے نکالے”””””جاری ہے””””””