No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
❤❤❤❤❤❤اسلام علیکم بابا اپ نے بلایا تھا مجھے…
زرخان انکے پاس آکر سلام کرتا بولا تھا …
ہاں بیٹا آؤ بیٹھو مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ہے
سکندر صاحب نے اسکے سلام کا جواب دے کر اسکو اپنے سامنے والے سنگل صوفہ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ….
جبکہ دوسرے صوفہ پر ناز بیگم بیٹھی تھی وہ لوگ اس وقت لاؤنچ میں موجود تھے اور ناز بیگم اچھے سے سمجھ رہیں تھی کی وہ لوگ اس وقت یہاں کیوں موجود ہیں اور وہ اس سےکیا بات کرنا چاہتے ہیں …..
جی ڈیڈ بولیں…
زر انکے سامنے بیٹھتے ہوۓ بولا تھا۔۔
جو بھی تھا وہ اپنے باپ سے کتنا ہی ناراض سہی پر وہ اپنے ڈیڈ کی بہت عزت اور ان سے بہت محبت کرتا تھا….
بیٹا مجھے تم پر بہت فخر ہے کہ تم نے بہت ہی کم عمر میں سب کچھ اتنے اچھے سے سمبھالا اور میرے چھوٹے سے بزنس کو آج اتنا بڑا کر دیا ہے کہ میں سوچ بھی نہی سکتا تھا اور بس اب میں چاہتا ہوں کی تمہیں ایک اور ذمیداری سونپ دوں اور مجھے پورا یقین ہے کی تم اس کو بھی بہت اچھے سے سمبھالو گے…
اس دن ناز بیگم کی بات کے بعد سے سکندر صاحب نے سوچ لیا تھا کی جتنی جلدی ہو سکے وہ نور کو اسکا حق اور اسکا اس گھر میں مقام دلا کر ہی رہیں گے….
کیسی ذمیداری ڈیڈ۔۔۔
زر کچھ ناسمجھ انداز میں پہلے اپنی مام پھر سکندر صاحب کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔۔
بیٹا میں چاہتا ہوں کی جتنی جلدی ہو سکے اب تم حور کی ذمیداری بھی سمبھال لو….میں چاہتا ہوں کی اب حور کی رخصتی ہو جانی چاہئے….
سکندر صاحب نے جیسے ایک دھماکہ کیا تھا زرخان کے سر پر ….
جبکی ناز بیگم آرام سے بیٹھی تھی….
نہیں بابا میں رخصتی نہی چاہتا نہ اب اور نہ کبھی میرا ایسا ارادہ ہے….
زرخان اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ بولا تھا…
یہ کیسی بات کر رہے ہو تم زر نکاح ہوا ہے تو رخصتی بھی ہوگی ….
سکندر صاحب کو غصّہ تو بہت آیا تھا اسکی بات سن کر پر وہ اپنے غصّے پر قابو پاتے ہوۓ بولے تھے۔۔
جبکہ ناز بیگم زر کا جواب سن کر اندر ہی اندر خوش ہوئی تھی وہ جانتی تھی کی ایسا ہی ہونا تھا….
میں اس نکاح کو نہیں مانتا ڈیڈ…
ویسے بھی یہ نکاح بچپن میں ہوا تھا آپکی مرضی سے اور اب میں رخصتی نہی چاہتا ہوں یہ میری مرضی ہے….
زرخان دوٹک انداز میں بولا تھا اس بات سے بےخبر کی دروازہ پر موجود وجود کو اسکے یہ الفاظ کتنی تکلیف پہنچا رہے ہیں….
تمہارے نہ ماننے سے کچھ نہی ہوگا زر وہ تمہاری بیوی ہے اور تمھیں اسے اور اس رشتے کو قبول کرنا ہی ہوگا…اس بار سکندر صاحب کی آواز اونچی ہوئی تھی…
میں نہ اسے اور نہ اس رشتے کو کبھی قبول کروں گا اتنا کہ کر زر وہاں رکا نہی تھا تن فن کرتا وہاں سے نکلا ہی تھا کی اسکی نظر وہاں کھڑی حور پر پڑی تھی جو انکی سب باتیں سن چکی تھی …
زر ایک غصّے سے بھری نظر اس پر ڈالتا چلا گیا تھا آج اسکی وجہ سے وہ اپنے ڈیڈ کے ساتھ اتنی بری طرح بات کر کے آیا تھا ..
آپ مجھے تو چپ کروا سکتے ہے اب اپنے بیٹے کو کیسے چپ کروائیں گے
ناز بیگم انکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی خود بھی وہاں سے چلی گئی تھی
جبکہ سکندر صاحب گرنے کے انداز میں صوفہ پر بیٹھے تھے انکو یقین نہی آ رہا تھا کی انکا بیٹا ایسا کر سکتا ہے انکو ناز بیگم کا تو پتا تھا کی وہ حور کو پسند نہی کرتی ہے پڑ انکا بیٹا بھی یہ ہی خیالات رکھتا ہے انکو بڑا دکھ ہوا تھا جان کر❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤پھوپھو آپ تو کہتی تھی نہ کی وقت کے سب ٹھیک ہو جائے گا صبر کرو اور میں نے صبر کیا پھوپو پر کچھ ٹھیک نہی ہو رہا ہے سب کچھ اور بگڑتا جا رہا ہے بتائیں نہ ایسا کیوں ہو رہا ہے….
حور راحت بیگم کی گود میں سر رکھے روتے ہوئے ان سے اپنے سوالوں کے جواب مانگ رہی تھی…
اسکا رونا دیکھ کر راحت بیگم کے ساتھ ساتھ بیا کی بھی آنکھیں نم ہو گئی تھی….
ابھی اسنے ساری بات تفصیل سے انکو بتائی تھی جو وہ سن کر آئی تھی بس تب سے روئے جا رہی تھی…
جبکہ اسکی بات سن کر راحت بیگم چپ ہو گئی تھی وہ اسکو کیا کہتی وہ خود یہ سوچتی تھی کی سب ٹھیک ہو جائے گا پر ایسا نہیں ہوا..
پھوپھو آپ تو کہتی تھی نہ کی نکاح کے بعد شوہر اور بیوی دونوں میں محبت ہو ہی جاتی ہے پر پھوپھو جو محبت مجھے ان سے ہو گئی ہے انکو کیوں نہیں ہوئی بتائیں نہ…..
راحت بیگم نے اسکو شروع سے ہی یہ بات بتا رکھی تھی کی زر اسکا شوہر ہے کیونکہ جس عمر میں اسکا نکاح ہوا تھا وہ یہ رشتہ نہیں سمجھتی تھی اور بس اسکے دل میں تب سے ہی زر کے لئے محبت پیدا ہو گئی تھی اور یہ بڑھتی ہی رہی تھی اسکے ہر ظلم کے بعد بھی…
نہ میرا بچہ چپ ہو جاؤ ایسے نہی روتے اللّه ہے نا تم ناامید نہ ہو دیکھ لینا ایک دن سب اچھا ہوگا اس طرح رونے سے کچھ نہی ہوگا بس تم اپنے لئے صبر کی دعا مانگو….
راحت بیگم اسکو چپ کراتے ہوۓ بولی تھی۔۔
اور وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی انکی اتنی سی بات سن کر چپ ہو گئی تھی کیونکہ اسکو یقین تھا اپنے رب پر….
سب ٹھیک ہو جائے گا نہ وہ پھر سے ان سے پوچھ رہی تھی…
یقین کرنا چاہ رہی تھی انکی بات کا…
ہاں میرا بیٹا سب ٹھیک ہوگا راحت بیگم نے اسکی پیشانی چومی اور اسکو اپنی باہوں میں بھر لیا تھا..اسکو چپ دیکھ کر بیا کو بھی سکون ملا تھا ورنہ اسکا رونا اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا ❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤کن سوچوں میں گم ہیں بھائی آپکی چائے بھی رکھی رکھی ٹھنڈی ہو گئی ہے….
ثنا اپنے بھائی کو دیکھتے ہوۓ بولی جو نہ جانے کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا….
ہاں نہیں تو میں تو بس….
وہ تھوڑا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا…
اس نے جب سے ثنا کے ساتھ اس لڑکی کو دیکھا تھا بس تب سے وہ اسکے خیالوں اسکی سوچوں پر سوار ہو گئی تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کی اسکے ساتھ ایسا ھو رہا تھا ورنہ تو بہت سی لڑکیاں اسکی زندگی میں آئی تھی پر انکے بارے میں کبھی اس نے اس طرح سے نہیں سوچا تھا وجہ کوئی
اسکی طرح معصوم اور اتنی خوبصورت بھی تو نہی ملی تھی اسکو…
ویسے کس کے بارے میں سوچا جا رہا تھا اتنی آرام سے کہ آپ اپنے سامنے بیٹھی بہن کو ہی بھول گئے…
ثنا شرارت سے اسکو چھیڑتے ہوۓ بولی تھی..
اب وہ اسکو کیا بتاتا کی وہ اسکی دوست کے ہی بارے میں سوچ رہا تھا جسکو پھر سے دیکھنے کے لئے وہ ثنا کو دو تین بار یونی بھی ڈراپ کرنے گیا تھا پر اسکو مایوس ہو کر آنا پڑتا تھا…
اور وہ ثنا سے پوچھنا بھی چاہتا تھا پر اسکی ہمّت ہی نہیں ہوتی تھی جبکہ وہ ایک آزاد خیال لڑکا تھا اسکے لئے یہ سب عام تھا پر پھر چاہ کر بھی وہ پوچھ نہیں سکا تھا….
کسی کے بارے میں نہیں اور جب تم آس پاس ہو تو بندہ کسی کے بارے میں سوچ بھی نہی سکتا ہے ہر وقت جو بولتی رہتی ہو اس سے آدمی ڈسٹرب ہی ہو جاتا ہے
وہ اپنا کپ ہاتھ میں لیتے ہوۓ اسکو چھیڑتے ہوۓ بولا۔۔
آپکو لگتا ہے کی میں زیادہ بولتی ہوں آپ بہت برے ہیں بھائی
ثنا منہ بناتے ہوۓ بولی
جبکہ اسکے منہ بنانے سے اسکو ہنسی آ گئی وہ جانتا تھا کہ ثنا اس بات سے بہت چڑتی ہے کی اگر کوئی اسکو یہ بولے کی وہ زیادہ بولتی ہے جبکہ یہ حقیقت تھی کہ اسکو زیادہ بولنے کی عادت تھی…
میں تو مذاق کر رہا ہوں تم اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض مت ہوا کرو تمھیں پتا ہے نہ کہ تمہارا بھائی تمہاری ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا
وہ اسکو مناتے ہوئے بولا اور اسکی اتنی سی بات سن کر ثنا مسکرا دی تھی جس پر وہ بھی کھل کر مسکرایا تھا.❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤مام میں آج بہت خوش ہوں اتنا کی آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتی ….
عنایہ اپنی ماں کے گلے لگتے ہوۓ بولی تھی۔۔
۔ایسا کیا مل گیا ہے تمھیں جو اتنی خوش ہو تم عالیہ بیگم اسکو خود سے الگ کر کے اسکے خوشی سے کھلتے چہرے کو دیکھ کر بولی جسکی خوشی چہرے سے ہی جھلک رہی تھی..
ملا نہیں ہے پر ملنے ہی والا ہے جلد ہی جو میں چاہتی تھی….عنایہ پرجوش انداز میں بولی تھی…
میں سمجھی نہیں عالیہ بیگم اسکی الجھی بات سمجھ نہیں پائی تھی…
ابھی سمجھاتی ہوں پھر عنایہ نے انکو بتایا کی آج آفس میں زر سے اسکو پتا چلا تھا کی انکل حور کی رخصتی چاہتے ہیں پر جس پر زر نے انکو صاف لفظوں میں انکار کر دیا تھا….یہ سن کر عنایہ تو خوش ہو گئی تھی اسکو اس بات کی غلط فہمی تھی کی زر اسکو پسند کرنے لگا ہے جبکی ظفر کی اور اسکی پھر سے بحث ہوئی تھی اس بات پر…
یہ تو بہت اچھی بات ہے اب وہ ہی ہوگا جو میں اور ناز چاہتے تھے ہمیشہ سے عالیہ بیگم خوش ہوتے بولی….جب انکے گھر عنایہ کی پیدائش ہوئی تھی تو ناز بیگم نے پہلے ہی بول دیا تھا کی وہ زر سے اسکی شادی کریں گی اور بھلا اس بات سے انکو کیا اعتراض ہوتا …پر انکی خواہش تب ختم ہوئی جب سکندر صاحب چار سالہ حور کو انکی زر کی بیوی بنا کر گھر میں لاۓ تھے اور بس تب ہی سے ناز بیگم کے دل میں حور کے لئے ناپسندیدگی بڑھتی ہی چلی گئی تھی …اور کچھ ناز بیگم کو اس بات کا غصّہ تھا کی انکے بیٹے کی شادی انکی مرضی کے بغیر کر دی گئی ہے ….
جی مام اب وہ ہی ہوگا جو آپ لوگ چاہتے تھے اور وہ حور بہت جلد اس گھر اور زر کی زندگی سے دور ہو جائے گی عنایہ نفرت سے بولی تھی.جبکی .اسکی بات پر عالیہ بیگم خاموش ہی رہی تھی❤❤❤❤جاری ہے…..
۔
