No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
“””””””””””””””اسکے قدم حور کے روم کے سامنے آکر رکے تھے اور اسنے بہت زور سے لات دروازے پر ماری تھی جس سے دھڑ کہ آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا….
…حور اور بیا جو بیڈ پر بیٹھی تھی اتنی زور سے دروازہ کھلے کہ آواز پر یکدم ڈر کے دونوں نے دروازے کہ طرف دیکھا جہاں زر کھڑا حور کو گھور رہا تھا اسکے اپنی طرف اس طرح گھورتا پاکر حور ڈری تھی…
….بھائی کیا ہوا آپ اتنے غصّے میں کیوں لگ رہے ہیں بیا بیڈ سے اٹھ کر زر کے پاس جاتے ہوئے بولی تھی جو ابھی بھی حور کو ہی دیکھ رہا تھا….
…بیا تم جاؤ یہاں سے مجھے حور سے کچھ بات کرنی ہے..
…زر نے بیا کو جواب دے کر پھر سے ایک نظر حور کے سہمے چہرے کو دیکھا اور قدم اسکی طرف بڑھا دئے تھے
حور اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر بیڈ سے اٹھی اور ایک طرف کھڑی ہو گئی تھی اسکو آج پھر زر کے ارادے ٹھیک نہی لگ رہے تھے پر آج وہ بھی اسکی نہی سنے گی اتنا تو اسنے بھی سوچ لیا تھا کیونکہ یہ سب اب اسکی برداشت سے باہر ہو گیا تھا…
…بیا اسکو حور کے قریب بڑھتا دیکھ باہر کہ طرف بھاگی تھی کیونکہ اسکو کچھ تو غلط ہونے کا ڈر لگ رہا تھا…
….میں بس تم سے اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ڈیڈ اس رشتے کو ختم کرنا چاہے گے تو تمھیں کوئی اعتراض نہی ہوگا …زر اسکے بلکل قریب جا کر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا..
…میرا نہیں خیال میرے اعتراض کرنے یا نہ کرنے سے آپکو کوئی فرک پڑے گا ویسے بھی مجھے بابا کے کسی بھی فیصلے سے کوئی اعتراض نہی ہوگا کیونکہ وہ میرے لئے بہتر ہی کریں گے…حور کے لہجے میں طنز صاف تھا اسکے پچھلے بار کے رویہ سے وہ زر سے بہت بدغمان ہو چکی تھی اور اب اسکی برداشت جواب دے چکی تھی…
…مجھے فرک پڑے گا حور بہت فرک پڑے گا کیونکہ تم میری بیوی ہو ….اسکا جواب سنکر ایک تقلیف دہ احساس اسکے چہرے پر ٹہرا تھا اب جب وہ اسکے لئے پاگل ہو رہا تھا تو اسے اس رشتے کہ چاہ نہی رہی تھی …
…..میں نہی ہوں آپکی بیوی یہ بات آپ مجھے ہمیشہ سے بتاتے آ رہے ہیں یہ رشتہ آپکے لئے سرف ایک کاغذ تک کا تھا۔
۔۔اور اچھا ہوا اپنے بات خود شروع کر دی آپ اس رشتے کو ختم کرنا چاہتے تھے نہ تو کر دے آپکو کوئی نہی روکے گا…. آج حور اپنے اندر کا سارا گبار نکال رہی تھی جو آج تک اسکے اندر بھرا ہوا تھا
آپ دے مجھے طلاق……
..چٹاخ کہ آواز کے ساتھ ہی حور کہ چلتی زبان بند ہوئی تھی حور آنکھوں میں آنسوں لئے اپنے گال پر ہاتھ رکھے زرخان کو دیکھ رہی تھی جو آنکھوں میں بےپناہ غصّہ لئے اسے گھور رہا تھا….
..بس بہت بکواس کر لی اب ایک اور غلط الفاظ نہی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا ایک اور بات میں یہ رشتہ کبھی ختم نہی کرنا چاہتا ہوں سمجھی تم ….
زر اسکا بازو سختی سے اپنی پکڑ میں لیتا ہوا بولا تھا اسکی سخت پکڑ سے حور کے منہ سے آہ نکلی تھی اسکی پکڑ سے حور کو درد ہو رہا تھا…
….لیکن اب میں یہ رشتہ نہی چاہتی ہوں اور میں آپکی مرضی کہ پابند نہی ہوں کہ جب اپنے کہا تو ختم اور جب آپ نے کہا نہی ختم تو نہی ختم ایسا کیوں..کیا میری کوئی مرضی نہی ہے ….بات کرتے کرتے اسکی آواز بھی رندہ رندہ گئی تھی ….وہ اتنی بہادر نہی تھی اور زر سے تو بہت ڈرتی تھی آج پتا نہی کیسے وہ اتنا بول گئی تھی پر اندر سے ابھی بھی اسکو زر سے ڈر لگ رہا تھا …
….ہاں تمہاری کوئی مرضی نہی ہے اب بھی وہ ہی ہوگا جو میں چاہتا ہوں…زر اسکا ہاتھ تھام کر اسکو روم سے باہر لے جاتا ہوا بولا تھا آج اسکو لگ رہا تھا کہ اگر اسنے کوئی فیصلہ نہی لیا تو حور ضرور اس رشتے کو ختم کر کے ہی رہے گی جس میں ڈیڈ اسکا ساتھ ضرور دے گے۔۔۔
..ہاتھ چھوڑے میرا کہاں لے جا رہے ہیں آپ مجھے حور اسکی پکڑ سے اپنا ہاتھ آزاد کرنے کہ ناقام سی کوشش کرتے ہوئے بولی تھی..
…ابہی پتا چل جائے گا تمھیں کہاں لے جا رہا ہوں زر حور کیطرف دیکھتے ہوئے بولا سیڑهیاں اترنے لگا تھا”””””””””
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
“”””””””””بھائی آپ سے ایک بات پوچھوں سچ بتائے گے نہ….ثنا اسکے پاس ہی صوفہ پر برابر میں بیٹھتے ہوئے بولی تھی وہ بہت دیر سے اسکو دیکھ رہی تھی جو نا جانے کن سوچوں میں بیٹھا تھا
…ہاں پوچھو اس میں اجازت لینے کہ کیا ضرورت ہے تم مجھ سے کچھ بھی پوچھ سکتی ہو …..فیصل اسکی بات سنکر ثنا کہ طرف محبت سے دیکھ کر مسکرا کر بولا تھا پر اسکی مسکراہٹ میں اسکی آنکھیں ساتھ نہی دے رہی تھی اور یہ بات ثنا نے نوٹ کہ تھی….
..بھائی آپ حور کو پسند کرنے لگے تھے نہ…..پلز جھوٹ مت بولنا کیونکہ میں نے نوٹ کیا ہے جب سے آپکو اسکے نکاح کے بارے میں پتا چلا ہے آپ بہت اداس رہنے لگے ہے اس دن بھی میں نے دیکھا تھا آپکا چہرہ کیسے اتر سا گیا تھا …
ثنا بس بولتی چلی گئی تھی جو اسکے دل میں تھا وہ بہت دنوں سے اس سے یہ بات کرنا چاہتی تھی پر اسکی ہمت ہی نہی ہو رہی تھی پر آج اسکو پھر سے یوں بیٹھا دیکھ کر ثنا سے برداشت نہی ہوا تو وہ پوچھ بیٹھی تھی…
……پسند تو بہت کم ہے ثنا میں اس سے محبت کرنے لگا تھا پتا نہی کب اور کیسے بس مجھے اس سے محبت ہو گئی تھی میری زندگی میں جتنی بھی لڑکیاں آئی ہے میں نے کبھی انکے بارے میں اس طرح سے نہی سوچا تھا جیسا میں حور کے لئے سوچنے لگا تھا پر…..فیصل اپنی بہن سے اپنی محبت کا عتراف کرتے ہوئے بولا تھا جب سے اسکو پتا چلا تھا کہ حور کا نکاح ہوا وا تو اسکو بہت دکھ ہوا تھا وہ کسی کو کیا کہتا کیونکہ اس میں کسی کہ بھی غلطی نہی تھی یہ تو قسمت نے اسکے ساتھ ایک کھیل کھیلا تھا جس میں وہ اپنا دل ہار بیٹھا تھا ایسی لڑکی پر جو شروع سے ہی کسی اور کے نام تھی…
…فیصل نے ایک گہرا سانس لے کر اپنی بات ختم کہ اور ثنا کیطرف دیکھا جو بس ایک ٹک اسکو ہی دیکھ جا رہی تھی اسکو بہت ….
….بھائی اس میں ساری غلطی میری ہی ہے مجھے آپکو حور سے ملوانہ ہی نہی چاہئے تھا ورنہ مجھے پہلے دن ہی آپکو اسکے بارے میں بٹ دینا چاہئے …ثنا کو ساری بات پتا چل جانے کے بعد اپنے بھائی کے لئے بہت دکھ ہوا تھا اور اب اسکو کہیں نہ کہیں خود کہ بھی غلطی لگ رہی تھی آخر پہلے اس نے ہی تو ملاقات کروائی تھی حور کہ فیصل سے…..
….میں نے کہا نہ ثنا اس سب میں کسی کہ کوئی غلطی نہی ہے تم خود کو یہ سوچ کر اداس مت کرو جو ہونا تھا ہو گیا ہے اب تمہارا بھائی اتنا بھی کمزور نہی ہے سمجھی پاگل..
…فیصل ثنا کے گال کھنچتے ہوئے بولا اور ہولے سے مسکرایا تھا وہ ثنا کو اپنے لئے یوں اداس نہی دیکھ سکتے تھا اسلئے ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔۔۔
۔..اسکی بات سنکر ثنا بھی اس بار کھل کر مسکرائی تھی پر وہ جانتی تھی کہ جتنا اسکا بھائی بول رہا ہیں انکے لئے یہ سب بھولنا آسان بھی نہی تھا “”””””””
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
“””””””””””ہاتھ چھوڑو حور کا زر …وہ حور کو اپنے ساتھ کھنچتا ہوا نیچے لے آیا تھا اور اب اپنے روم کیطرف بڑھ رہا تھا جب اسکو اپنے پیچھے سے سکندر صاحب کہ آواز آئی تو اسکے ساتھ ساتھ حور نے بھی مڑ کر دیکھا تھا ….
…..میں نے کہا اسکا ہاتھ چھوڑو کیا پاگلپن کر رہے ہو تم ..سکندر صاحب اب اسکے پاس آکر حور کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے آزاد کراتے ہوئے بولے تھے …
…اس وقت انکے ساتھ بیا اور راحت بیگم کے ساتھ ساتھ ناز بیگم بھی تھی بیا زر کا غصّہ دیکھ کر بھاگتی ہوئی سکندر صاحب کے پاس گئی اور انکو ساری بات بتائی تھی جس پر سکندر صاحب کے ساتھ ساتھ سب ہی اپر کیطرف جا رہے تھے جب زر انکو نیچے ہی مل گیا تھا…
….اپنا ہاتھ زر کے ہاتھ سے آزاد ہوتے ہی حور یکدم سے سکندر صاحب کے پیچھے کھڑی ہو گئی تھی اس وقت اسکو ذر سے خوف محسوس ہو رہا تھا آج اس نے زر کا یہ الگ ہی روپ دیکھا تھا جو ہر روپ سے الگ اور خوفناک لگا تھا اسکو…
…. اور آپ جو کرنے والے تھے اسکے بارے میں کیا خیال ہے آپکا ….زر بلکل سامنے کھڑے ہو کر انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اور ایک نظر سہمی سی کھڑی حور کو دیکھا تھا….
….میں وہ کرنے والا ہوں جو ہمیشہ سے تم اور تمہاری ماں چاہتے تھے ….سکندر صاحب نے ایک غصّیلی نظر ناز بیگم پر ڈالی تھی جو یہ بات سمجھنے کہ کوشش کار رہی تھی کہ آخر زر کیا کر رہا تھا…
….میں بھی کوئی پاگلپن نہی کر رہا ہوں ڈیڈ میں وہ کر رہا ہوں جو آپ بہت پہلے سے چاہتے تھے اور جو اب میں بھی چاہتا ہوں…..زر نے کہتے کے ساتھ ہی سکندر صاحب کے پیچھے کھڑی حور کا ہاتھ پکڑ کر اسکو اپنے پاس کیا تھا….
…..آپ حور کہ رخصتی چاہتے تھے نہ تو آج ابھی اور اسی وقت سمجھ لے حور کہ رخصتی ہو گئی ہے ….
زر نے وہاں پر موجود سبھی لوگوں کے سر پر جیسے دھماکہ کیا تھا…
…زر کہ بات سنکر جہاں بیا اور راحت بیگم خوش ہوئی تھی وہیں سکندر صاحب پریشان ہوئے تھے جبکہ ناز بیگم کو تو یقین ہی نہی آ رہا تھا کہ یہ سب زر بول رہا ہے ….
….جیسا تم چاہ رہے ہو زر ویسا اب نہی ہوگا حور کا ہاتھ چھوڑو اور ایک دو دن میں کاغذات تیار کرواتا ہوں طلاق کے اب میں مزید یہ سب برداشت نہی کر سکتا ہوں..سکندر صاحب نے اسکی بات کہ نفی کہ تھی جبکہ انکی بات سنکر حور کے ہاتھ پر زر کہ پکڑ اور مضبوط ہوئی تھی….
….یہ بات آپ اپنے دماغ سے نکال دے ڈیڈ کہ میں حور کو چھوڑ دوں گا حور میری بیوی اور ہمیشہ رہیگی اور رہی بات رخصتی کہ تو سمجھ لے وہ بھی ہو گئی ہے اور آپ لوگ اس کے لئے مجھے روک نہی سکتے ہے کیونکہ ی میرا اور میری بیوی کہ معملا ہے زر ایک نظر سبکی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا جبکہ حور میں اب کچھ بولنے اور سننے کہ ہمّت ہی نہی بچی تھی…
…زر یہ کیا کر رہے ہو تم تمہارا دماغ بھی ٹھیک ہے تم اس لڑکی کو اپنی بیوی بول رہے ہو جس سے تم نفرت کرتے تھے جسکی شقل تک دیکھنا تمہیں گوارا نہی تھا تم آج اسکی اپنی بیوی بول رہے ہو…کب سے چپ کھڑی ناز بیگم بولی تھی انکی اب سب کچھ برداشت سے باہر ہو چکا تھا آج انکو پورا یقین ہو گیا تھا کہ انکا بیٹا انکے ہاتھ سے نکل گیا ہے…..
…مام آپ چپ رہے تو بہتر ہوگا میں اب کسی کہ کوئی بات نہی سننا چاہتا ہوں
“””زر یکدم انکی بات کاٹتے ہوئے بولا تھا جس پر ناز بیگم کا غصّے سے منہ بن گیا تھا اتنے سالوں سے جو نفرت وہ زر کے دل میں حور کے لئے ڈال رہی تھی آج زر کے اس فیصلے سے انکو سب کچھ ختم ہوتا لگ رہا تھا ….
…اور کسی کے عتراض سے مجھے کوئی فرک نہی پڑتا ہے اپ لوگ میرے اس فیصلے کو قبول کرے یا نہی مجھے کوئی پرواہ نہی ہے آج اسکو سب پر غصّہ آ رہا تھا کیونکہ ہر کوئی اسکا حور سے جدا کرنے میں لگے ہوئے تھے اور اب وہ حور سے دور رہنے کے بارے میں سوچ بھی نہی سکتا تھا جبھی تو اس نے یہ فیصلہ لیا تھا .. “وہ ایک نظر سبکو دیکھتا حور کا ہاتھ تھام کر اپنے روم کیطرف بڑھا تھا جبکہ اسکا جواب سنکر ناز بیگم تیلملا کر رہ گئی تھی اور سکندر صاحب بےبسی سے اسکو جاتا دیکھتے رہے تھے…کیونکہ وہ بہت اچھے سے جانتے تھے کہ زر اپنی ضد کا پکا ہے اور اپنے آگے کسی اور کی نہیں چلنے دیتا تھا…… “”””””””””
“””””””””””””””””””””””””””””””:”””””””””””””””””””””””””زر نے حور کا ہاتھ اپنے روم میں لاکر چھوڑا تھا اور زور سے دروازہ بند کر کے یہاں سے وہا غصے سے ٹحلنے لگا تھا..
اسکا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اسکے کانوں میں ابھی بھی ڈیڈ کے الفاظ گونج رہے تھے جو اسکے غصے کو مزید بھڑاہ رہے تھے اپر سے حور کہ باتیں آج جو سب حور نے اس سے کہا تھا وہ سب سنکر اسکو یقین ہی نہی ہو رہا تھا کہ حور اسکے لئے اتنی بدغمان تھی جبکہ یہ بات وہ بھول ہی چکا تھا کہ اس سب کے پیچھے اسکی ہی تو غلطی تھی جو آج حور اس سے اتنی بدغمان ہو چکی تھی۔۔۔۔
۔۔۔جبکہ حور وہیں ڈری سہمئی سی کھڑی چور نظروں سے زر کا غصے سے بھرا چہرہ دیکھ رہی تھی اسکو زر سے اب پہلے سے بھی زیادہ خوف محسوس ہو رہا تھا کیونکہ آج غصّے میں وہ اسکو اتنا کچھ بول چکی تھی اور اب باہر ہوئی بات پر وہ ڈر کے ساتھ ساتھ گھبرانے بھی لگی تھی حور کو یہ لگ رہا تھا کہ اب دوبارہ سے وہ اس پر ہاتھ نہ اٹھا دے…
….اب سے تم اسی روم میں رہو گی بہت شوق ہو رہا تھا نہ تمھیں اس رشتے کو ختم کرنے کا اب میں بھی دیکھتا ہوں کیسے کرتی ہو تم….
زر اپنے غصّے کو کم کرتے ہوئے حور کے قریب آکر بولا تھا اسکی بھیگی آنکھوں کو دیکھ کر وہ تھوڑا نرم ہوا تھا اور کچھ اس پر ہاتھ اٹھانے کا اسکو بہت افسوس تھا پر اس نے بات ہی ایسی کہی تھی کہ وہ اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا …
….یہ بات یاد آتے ہی اسکی نظریں اسکے گال پر پڑی تھی بےساختہ اسکا ہاتھ اٹھا تھا اور اس نے جیسے ہی اسکے گال کو چھونا چاہ تھا
جبھی حور اسکا بڑھتا ہوا ہاتھ دیکھ کر ڈر کے یکدم دو قدم دور ہوئی تھی حور کو لگا تھا کہ وہ اپنا پھر سے وہی عمل دوہرانے والا ہے اس نے ڈر سے اپنی آنکھیں بھی بند کر لی تھی..
حور کو خود سے ڈرتا دیکھ زر کو بےحد افسوس ہوا تھا اس نے ایک جھٹکے میں اسکا بازو پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا جس پر حور نے بوکھلا کر اپنی آنکھیں کھول کر اسکو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
.اسکو خود کو دیکھتا پاکر زر بےساختہ اس پر جھکا اور اپنا حق استمال کرتے ہوئے نہ جانے کتنی بار اسکے اس رخسار کو اپنے ہونٹھوں سے چوما تھا جس پر وہ ہاتھ اٹھا چکا تھا …
…حور پہلے تو کچھ سمجھ نہیں پائی تھی پر زر کہ اس حرکت سے اسکی دھڑکنے بےترتیب ہوئی تھی وہ پوری جان سے کانپ گئی تھی…..
جبکہ حور کے ایسے کاپنے سے زر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی …
…جاؤ سو جاؤ زر حور کو خود سے الگ کرتے ہوئے نرمی سے بولا تھا
….جبکی اسکی اجازت ملتے ہی حور جلدی سے جا کر بیڈ کے بلکل کونے میں لیٹ گئی تھی زر حور کو لیٹتا دیکھ واشروم میں چلا گیا تھا اب وہ کچھ پرسکون ہوا تھا کیونکہ اسکو لگ رہا تھا کہ آج جو اسنے حور کے ساتھ کیا ہے یہ اسکا طریقہ تھا اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کا …
۔۔۔زر کے جانے کے بعد حور کتنی ہی دیر اسکے بارے میں سوچتی رہی تھی اسکی سمجھ نہی آ رہا تھا کہ کیا کرے اسکو اب ایسا لگ رہا تھا کہ زر یہ سب ضد میں کر رہا ہے کیونکہ اس نے خود اس رشتے کو ختم کرنے کہ بات کہی تھی اور اب وہ ضد میں آکر یہ سب کر کے اسے تقلیف پہوچانا چاہتا ہے حور کے دل میں زر کے لئے ایک اور غلط فہمی پیدہ ہو رہی تھی کیونکہ زر کا رویہ حور کے ساتھ غلط ہی رہا ہے تو وہ اسکے بارے میں کچھ ایسا ہی سوچ سکتی تھی…..
زر جب واشروم سے کپڑے چینج کر کے باہر آیا اور چلتا ہوا بیڈ پر آکر بیٹھ گیا …زر نے ایک نظر حور کو دیکھا جو آنکھیں بند کر کے لیٹی ہوئی تھی …
اور زر بہت اچھے سے جانتا تھا کہ وہ سو نہی رہی ہے کچھ دیر تو وہ بیٹھا اسے ہی اسکو دیکھتا رہا تھا پھر لائٹ اوف کر کے سونے کے لئے لیٹ گیا تھا اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ حور کے دل میں جو بدغمانی اسکے لئے ہے وہ سب ختم کر کے ہی رہیگا اور وہ جانتا تھا کہ وہ دن بھی دور نہی ہے”””””””””جاری ہے “””””””””
“””””””””””””””””””””””””””””””””””
