No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
❤❤❤❤❤کچھ وقت پہلے۔۔۔۔
“””کیوں ملنا چاہتے ہو تم مجھ سے جلدی بولو کیونکہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے تمہیں دینے کے لئے مجھے ایک بہت ضروری میٹنگ کے لئے بھی جانا ہے…
“زر اپنے سامنے کھڑے فیصل کو دیکھ کر بولا تھا اور پھر اپنی جگہ پہ بیٹھتے ہوئے اسکو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا..
“وہ ابھی اپنی ہوٹل میں ہونے والی میٹنگ کے لئے نکل ہی رہا تھا جب اسکی سیکٹری نے اسکو فون کر کے بتایا کہ فیصل آفندی ان سے ملنا چاہتے ہیں فیصل کا نام سن کر وہ ایک پل کے لئے تو حیران ہوا تھا کہ وہ اس سے کیوں ملنا چاہتا ہے پہلے تو اس نے سوچا کہ منع کر دے مگر پھر کچھ سوچ کر اسکو اندر بھیجنے کی اجازت دے دی تھی..
“”دیکھو زر یہ بات ھم دونوں اچھی طرح جانتے ہے کہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو خاص پسند نہیں کرتے ہیں “فیصل نے اپنی بات شروع کی تھی..
“تم یہ بتانے آئے ہو یہاں پر …زر اسکی بات بیچ میں کاٹتا ہوا بولا تھا..
“پہلے میری پوری بات سن لو تم پھر بعد میں بولنا …
“فیصل اپنا غصّہ ضبط کرتا ہوا بولا تھا اسکو اسکا بیچ میں بولنا ذرا بھی اچھا نہیں لگا تھا ..
“”ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے ہیں پر یقین کرنا میں نے کبھی بھی اس ناپسندیدگی میں تمہارے لئے کچھ نہ غلط سوچا ہیں اور نہ ہی کبھی کچھ غلط کیا پر اور اگر کوئی تمہارے ساتھ میرے سامنے کچھ غلط کرنے کا سوچےگا تو میرا فرض بنتا ہے کہ میں تمھیں اس بات سے آگاہ کروں “”فیصل زر کی طرف ہی دیکھ کر بول رہا تھا جو خاموش بیٹھا اسکی ایک ایک بات غور سے سن رہا تھا …
“فیصل نے اپنا موبائل نکالا اور اسکو زر کے سامنے کیا تھا میں نہی جانتا کہ عنایہ نے یہ مجھے کیوں بھیجی ہے پر وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے اور مجھے لگتا ہے اسکے ارادے ٹھیک نہیں ہے …
“”فیصل بول رہا تھا جبکہ زر تو بس اسکے موبائل میں وہ تصویر دیکھ رہا تھا جو کچھ دن پہلے اسکو ملی تھی جسکی وجہ سے وہ حور سے ناراض ہوا تھا اس پہ عنایہ کا نام اور msg دیکھ کر وہ حیران ہی تو رہ گیا تھا ….
“”حیران ہو گئے نہ یہ دیکھ کر میں بھی بہت ہوا تھا اور بس میں تمہارے پاس پہلے اس لئے آیا ہوں اگر عنایہ تم تک یہ فوٹو بھیج کر تمہارے اور حور کے درمیان غلط فہمی پیدا کرے اس سے پہلے میں تمھیں بتا دوں کہ جیسا اس میں دیکھ رہا ہے ویسا بلکل نہیں ہے اس دن بس میں نے حور کی ہیلپ کی تھی ..
“فیصل اسکو سب بتا رہا تھا جبکہ زر تو یہ پہلے سے ہی جانتا تھا مگر اسکو اب عنایہ پہ غصّہ آ رہا تھا کہ اس نے یہ سب کیا تھا وہ تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ایسا کرے گی…
“”اگر تمھیں میری بات پہ یقین نہیں ہے تو تم اپنی آنکھوں اور کانوں سے خود سن لینا عنایہ نے مجھے ہوٹل ملنے کے لئے بلایا ہے …
..فیصل آج اسکے اپر جیسے سارے راز کھول رہا تھا اور اس نے جس ہوٹل کا نام بتایا اسے سن کر زر کو ایک اور حیرت کا جھٹکہ لگا تھا اسنے فیصل کو اسی ہوٹل بلایا تھا جہاں آج زر کی میٹنگ تھی پر اس نے ایسا کیوں کیا وہ سمجھ نہیں پایا تھا….
“”وہ ایسا کیوں کر رہی ہیں آخر چاہتی کیا ہیں وہ …
زر نے اپنے دل میں آیا سوال اس سے کیا تھا …
“”تم اتنا بھی نہیں سمجھ سکے زر وہ تم سے محبت کرتی ہیں اور یہ سب کر کے وہ حور کو تمہاری زندگی سے نکالنا چاہتی ہیں جس میں اس نے مجھ سے مدد مانگی تھی پر تم مجھے اتنا تو جانتے ہی ہو میں کبھی کسی لڑکی کے ساتھ غلط نہیں کرتا ہوں اور نہ غلط ہونے دوں گا اور اب تمہاری باری ہیں کچھ کرنے کی …
فیصل اتنا کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا اس نے وہ کیا تھا جو صحیح تھا ….
“”فیصل تو چلا گیا تھا مگر وہ بہت دیر تک وہیں بیٹھا رہا تھا اس نے سوچ لیا تھا وہ وہاں ضرور جائے گا اور عنایہ کو سبق ضرور سیکھائے گا ۔۔
“”وہ ہوٹل آیا اور جلدی جلدی اپنی میٹنگ ختم کی اور جب وہ اپنی میٹنگ ختم کر کے فیصل کی بتائی جگہ پہ آیا تو حور کو وہاں دیکھ کر حیران ہی تو رہ گیا تھا یہ ہی حال فیصل کا بھی تھا..
اور پھر وہ حور کے موبائل میں msg دیکھ کر وہ سب سمجھ گیا تھا اسکا دل کیا کہ وہ عنایہ کا گلا ہی دبا دے ..
“”عنایہ کا پلان تھا زر یہاں حور اور فیصل کو ساتھ دیکھے گا تو ضرور کچھ غلط سوچتا اور پھر غلط فہمی اور بڑھ جاتی
..وہ حور کو یہاں دیکھ کر یقین اس پہ غصّہ کرتا اگر اسکی فیصل سے بات نا ہوئی ہوتی …
“”وہ عنایہ کے بارے میں سوچتا غصّے میں کار ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ حور پریشانی میں اپنے ہاتھ مثل رہی تھی اسکے زر کے غصّے کو دیکھ کر خوف محسوس ہو رہا تھا اسکو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ گھر جا کر اس پہ ہی غصّہ کریگا پر وہ اس بات سے انجان تھی کہ آج زر کے غصّے کی کوئی اور وجہ تھا❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤وہ اپنے آفس میں بیٹھی آج کی اپنی ہونے والی کامیابی پر مسکرا رہی تھی اسکا فلحال ایسا کچھ کرنے کا پلان نہیں تھا پر زر کی میٹنگ کی بات سن کر اسکے شیطانی دماغ میں ایک پلان ایا تھا اس نے جان بوجھ کر فیصل کو ایک تصویر بھیجی اور اس میں یہ بھی لکھا کہ اسکے پاس اس طرح کی اور بہت سے تصویر ہیں وہ جانتی تھی کہ فیصل یہ دیکھ کر ضرور آئے گا ..
اور پھر وہ زر کے فون سے حور کو میسج تو کر ہی چکی تھی اسکو پتا تھا کہ زر حور اور فیصل کو ساتھ دیکھے گا
.. تو حور کی ایک نہیں سنے گا اور یوں اسکا کام بھی ہو جائے گا ..
“”افففف ….
مجھے تو شدّت سے انتظار ہے اس پل کا جب زر حور کو گھر اور اپنے دل سے ہی نکال دیگا .
..عنایہ زہریلی مسکراہٹ ہونٹھوں پہ سجاتی ہوئی بولی تھی اور اپنی چیئر سے کھڑی ہوئی تھی اسکا ارادہ ظفر کے آفس میں جانے کا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ زر کی میٹنگ ہو چکی ہے یا نہیں …
“”ابھی وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی کہ زر اسکے آفس کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا جسکا چہرہ غصّے کی وجہ سے لال ھو رہا تھا اسکو اپنے سامنے دیکھ کر عنایہ حیران ہوئی تھی اسکو امید نہیں تھی کہ وہ واپسی پہ یہاں آئے گا ۔۔
‘”کیا ہوا ہے زر تم بہت جلدی ا گئے ہو میٹنگ …
” وہ جو بولتی ہوئی زر کے پاس جا رہی تھی ایک زوردار تھپڑ کی آواز پورے کمرے میں گونجی اور ساتھ ہی اسکا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا ..
“”عنایہ حیران نظروں سے زر کی طرف دیکھ رہی تھی..
“یہ حور اور میرے درمیان غلط فہمی ڈالنے کے لئے زر اسکو شولہ باز نگاہوں سے اسکو گھور رہا تھا..
“”تم نے مجھ پہ ہاتھ اٹھایا تمہارا …
عنایہ ابھی کچھ اور بولتی کے زر کا پھر سے ہاتھ اٹھا تھا اور اسکا دوسرا رخسار بھی لال کر چکا تھا …
“”اور یہ حور کو اپنی نفرت کا نشانہ بنانے کے لئے اپنے غلط کاموں میں اسکا استعمال کرنے کے لئے …زر بول رہا تھا اتنے میں حور کے ساتھ ظفر بھی وہاں آگیا تھا ..
“”دونوں کبھی تو زر کی طرف دیکھتے تو کبھی عنایہ کی طرف جو اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھے زر کو دیکھ رہی تھی..
“”زر کیا ہوا ہے تم اتنے غصّے میں کیوں ہو اور تم نے عنایہ پہ ہاتھ کیوں اٹھایا ہے..
ظفر اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ اس نے عنایہ کے تھپڑ مارا ہے ایک پل کے لئے اسے زر بھی شدید غصّہ ایا تھا مگر اپنے غصّے کو ضبط کرتا ہوا بولا تھا…
“”مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو اپنی بہن سے پوچھو یہ کیا کیا کرتی پھر رہی ہیں اور شکر کرو صرف تھپڑ ہی مارا ہیں ورنہ میرا ارادہ تو اسکی جان لینے کا ہے..
..زر ظفر کو دیکھ کر بولا تھا اس وقت اسکا غصّہ کسی بھی طرح کم نہیں ھو رہا تھا…
“”کیا کہ رہا ہے زر کیا کیا ہیں تم نے ایسا کہ اتنے غصّے میں ہے وہ …ظفر اب عنایہ کی طرف مڑا تھا جو بس زر کی آنکھوں میں اپنے لئے اتنی نفرت دیکھ کر اب اس میں کچھ بولنے کی ہمت ہی نہیں ھو رہی تھی کھیل بدل چکا تھا آج وہ اپنے ہی جال میں بری طرح پھس چکی تھی…
“”میں تو بھول ہی گیا تھا اس میں اب اتنی ہمّت کہاں ہوگی کہ اپنا گناہ قبول کرے میں بتاتا ہوں تمھیں کہ اس نے کتنی گھٹیا حرکت کی ہے.
…زر نے پھر سے ایک غصیلی نظر عنایہ پہ ڈالی اور پھر ایک ایک کر کے اسکو سب بتاتا چلا گیا تھا کہ کیسے اس نے حور اور فیصل کی تصویریں غلط طریقے سے لیں اور آج اسکے موبائل سے حور کو میسج کرکے ہوٹل بلایا اور اسی وقت یہ فیصل کو بھی کال کر چکی تھی…
“زر اسکو سب بتا رہا تھا جہاں ظفر کے لئے سب یقین کرنا مشکل ھو رہا تھا کچھ یہ ہی حال حور کا تھا جو حیرت سے کھڑی یہ سب سن رہی تھی اب اسکی سب سمجھ آ گیا تھا کہ فیصل اور زر اسکو ہوٹل میں دیکھ کر اتنا حیران کیوں ہوئے تھے….
“”مجھے تمھیں اس وقت بہن کہتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے عنایہ تم کیسی لڑکی ہو لڑکی ہو کر بھی تم ایک لڑکی کے ساتھ ایسا کر رہیں تھیں..ظفر ساری بات سن لینے کے بعد بہت دکھ سے عنایہ کہ طرف دیکھ کر بولا تھا آج اسکو عنایہ کی اس حرکت سے زر کے سامنے بہت شرمندگی محسوس ھو رہی تھی…
“”عنایہ میں تمھیں وارن کر رہا ہوں اگر تم نے کبھی حور کے ساتھ غلط کرنے کے بارے میں سوچا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اور آخری بات اس نے حور کا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کیا تھا..
“”حور میری بیوی ہے میری محبت اگر تم سوچتی ہو کہ حور کو میری زندگی سے نکال کر تم میری زندگی میں شامل ہو جاؤ گی تو یہ تمہاری بھول ہے…
. حور نہیں تو میری زندگی میں کوئی نہیں ہوگا یہ بات تم ہمیشہ یاد رکھنا..
“زر نے اسکی طرف انگلی اٹھا کر کہا تھا اور حور کا ہاتھ تھام کر اپنے اسکے روم سے نکل گیا تھا عنایہ بس کھڑی اسکو جاتا دیکھتی رہی تھی..
“آج صرف تمہاری وجہ سے مجھے زر کا سامنا کرنے میں بھی شرم آ رہی ہیں بہت غلط کیا عنایہ تم نے بہت غلط ..انکے جانے کے بعد ظفر خاموش کھڑی عنایہ سے پھر سے مخاطب ہوا تھا اور پھر ایک غصّے بھری نظر اس پر ڈالتا خود بھی وہاں سے چلا گیا تھا اب وہ وہاں بلکل اکیلی رہ گئی تھی بلکل تنہا اندر سے بھی باہر سے بھی❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤آپ اب تک ایسے ہی بیٹھے ہوئے ہیں ….حور بیا کے روم سے جب اپنے روم میں داخل ہوئی تو زر کو بیڈ پہ بیٹھا دیکھ کر حیرانی سے بولی تھی ..
“”کیونکہ وہ بہت دیر سے بیا کے روم میں بیٹھی اسکو آج ہونے والا سارا واقع بتا رہی تھی جسکو سن کر بیا کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی تھی اور اسکا غصّہ عنایہ پہ بڑھتا ہی جا رہا تھا وہ ایسی گری ہوئی حرکت کر سکتی ہیں ایسا تو اس نے سوچا بھی نہ تھا خیر ایسا تو کسی نے بھی سوچا نہیں تھا …
“ویسے تو زر نے حور اور ظفر کو یہ بات گھر پہ کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو یہ بات پتا چلے شادی ویسے ہی قریب تھی اس سے گھر میں ٹینشن ہی ہوتی سب کو جو وہ بلکل نہی چاہتا تھا پر حور اتنی بڑی بات بیا کو بتانا چاہتی تھی اس لئے ابھی بیا کے پاس سے ہی آئی تھی اور زر کو جس حالت میں چھوڑ کر گئی تھی وہ ابھی بھی ایسے ہی بیٹھا ہوا تھا….
“”ہاں بس آج کی ساری باتیں ذہن سے نکل ہی نہیں رہی ہیں اگر آج فیصل وقت پہ نہ آتا تو مجھے کچھ پتا ہی نہ چلتا اور پھر میں تم پہ …..زر سے آگے سوچا ہی نہیں جا رہا تھا وہ حور پہ شک تو نہیں کرتا پر فیصل کے ساتھ دیکھ کر اس پہ غصّہ ضرور ہوتا …
“”چھوڑیں زر ایسی باتوں کو یاد نہیں کرتے جو ہوا اچھا ہوا ہے بس آپ سب بھول جائیں …حور بیڈ پہ اسکے برابر آ بیٹھی تھی..
“”میں نے اس دن وہ تصویریں دیکھ کر تم پہ کتنا غصّہ کیا تھا مجھے معاف کر دو حور ….زر حور کو اپنی باہوں میں بھر کے اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگ رہا تھا اس نے غصّے میں یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ آخر یہ تصویریں بھیجی کس نے تھیں..
“زر میں نے بولا نہ کہ بھول جائے یہ سب تو بس آپ اب اس بارے میں مزید کوئی بات نہیں کریں گے..حور سے سے الگ ہوتی بولی اور اپنا سر اسکے شانے پہ رکھا تھا اسکی بات سن کر زر خاموش ہو گیا تھا کچھ پل وہ دونوں ایسے ہی خاموش بیٹھے رہے تھے…
“”زر ویسے آپکو عنایہ کو تھپڑ نہیں مارنا چاہئے تھے انکو بہت درد ہوا ہوگا اور اس درد کو مجھ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے آپ بہت زور سے مارتے ہیں …حور کچھ یاد آنے پہ بولی تھی اور بےساختہ اسکا ہاتھ اپنے گال پہ گیا تھا اسکو زر کا تھپڑ یاد آیا تھا…
“”زر جو خاموش بیٹھا تھا حور کی بات پہ بےساختہ اسکے ہونٹھ مسکرا اٹھے تھے اس نے حور کا چہرہ اپنے سامنے کیا..
“”اس دن تم نے بات ہی ایسے کہی تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی میرا ہاتھ اٹھ گیا تھا اور ویسے اگر کبھی تم نے اسی طرح کی کوئی بات کی نہ تو اس دن سے بھی زیادہ زور سے ماروں گا.
..زر اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا بولا اور اسکی شکل دیکھنے لگا جو اسکی بات سن کر حیران نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی…
“”آپ مجھے تھپڑ ماریں گے …حور اس الگ ہوتے ہوئے بولی تھی اسکو یقین نہیں آیا کہ زر یہ سب بول رہا تھا…
“جب کچھ غلط بولوگی تو ظاہر سی بات ہیں تھپڑ تو پڑے گا ہی نا تمھیں ..زر کو مزہ آ رہا تھا اسکی شکل دیکھ کر …
“”اسکا جواب سن کر حور بےرخی سے کروٹ لے کر لیٹی تھی مطلب صاف تھا اب اسکو کوئی بات نہیں کرنی ہیں…
“”یار بعد میں پیار بھی تو کروں گا نہ تمھیں بہت سارا …زر اسکے قریب ہی لیٹ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا..
“”مجھ نہیں چاہئے آپکا پیار اور نہ ہی مار ..وہ اب اسکی شرارت سمجھ چکی تھی اس لئے اس سے دور ہونا چاہا پر زر کی گرفت سخت تھی …
“”پر میں تو تمھیں دونوں ہی دوں گا.. اور ابھی فلحال مجھے تمھیں پیار دینا ہیں وہ بھی بہت زیادہ زر کہتا ہوا اس پہ جھکا تھا حور اسکے جھکنے پر اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤آج بھی اس نے اپنے کمرے کی ایک ایک چیز کو توڑ کر ڈالا ہوا تھا اسکے روم میں ہر طرف کانچ کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے ..
..اسکی حالت بھی ان ٹکڑو سے کم نہیں تھی آج زر نے اس پہ ہاتھ اٹھایا تھا ..
“زر نے اسکو تھپڑ نہیں مارا تھا اسکو اسکی اوقات دکھائی تھی کہ وہ کیا ہے اسکے لئے اور وہ تھی جو اسکے لئے پاگل ہو رہی تھی اسکو پانے کے لئے اس نے صحیح اور غلط سب کچھ بھلا دیا تھا….
“”حور میری بیوی ہے میری محبت …میری محبت …عنایہ کے کانوں میں زر کے الفاظ گونج رہے تھے…
“”اگر تم سوچتی ہو کہ حور کو میری زندگی سے نکال کر تم میری زندگی میں آ جاؤ گی تو یہ تمہاری بھول ہے..
..ایک اور جملہ اسکے کانوں میں ٹکرایا تھا..
“”اگر میری زندگی میں حور نہیں تو کوئی نہیں …کوئی بھی نہیں …عنایہ نے اپنے دونوں کانوں پہ ایک دم ہاتھ رکھا تھا اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی..
“”عنایہ مجھے تمھیں اپنی بہن کہتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہیں…اب فیصل کے الفاظ اسکی آنکھیں میں اسکے لئے چھپی نفرت ایک دم ہی تو اسکو سب یاد آیا تھا….
“”وہ جب سے آفس سے آئی تھی اپنے روم میں بیٹھی ہوئی تھی اور بس بار بار یہ سب باتیں اسکو یاد آ رہی تھی زر کی نظر میں اسکے لئے نفرت اور اسکے بھائ نے جن نظروں سے اسکو دیکھا تھا اس سے کچھ بھولا نہی جا رہا تھا ایک دم سے ہی اسکی آنکھیں آنسو سے بھر گئی تھی اسکو یاد نہی تھا کہ کب وہ یوں روئی تھی …
“”یہ سب اپنی غلطی کا احساس تھا یا کچھ اور لیکن اس وقت وہ خود کو بہت اکیلا اور ٹوٹا ہوا محسوس کر رہی تھی اسکو رہ رہ کر بس اپنی ساری باتیں یاد آ رہی تھی جسکے پیار میں اس نے یہ سب کیا تھا اسکو تو اسکی کوئی قدر ہی نہیں تھی نہ ہی اسکے پیار کی اسکا انکھ آنسو ٹوٹ کر زمین پہ گرا تھا ❤❤❤❤❤جاری ہے ❤❤❤❤
