Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10


❤❤❤❤❤❤کیا ہوا ہے حور جب سے تم آئ ہو چپ چاپ ہی بیٹھی ہو کوئی پریشانی ہے کیا….
ثنا بہت دیر سے حور کو ایسے ہی بیٹھا دیکھ رہی تھی وہ کسی سے بات بھی نہی کر رہی تھی بس ایک جگہ بیٹھی تھی تھی پارٹی میں بس ثنا کہ کچھ کزنز تھی اور کوئی نہی تھا اور وہ بس ثنا سے بات کر رہی تھی اور جب ثنا کچھ وقت کے لئے اسکے پاس سے چلی جاتی تو وہ پھر سے چپ بیٹھ جاتی تھی اسکو یوں چپ چاپ بیٹھا دیکھ کر ثنا فکرمندی سے اسکے پاس آکر بولی تھی…
…نہی ایسی کوئی بات نہی ہے ویسے بھی تم تو جانتی ہی ہو کہ میں یہاں تمہارے علاوہ کسی کو اچھے سے جانتی بھی نہی ہوں اور پھر بیا بھی یہاں نہی ہے تو بس اسلئے.
…حور بات بناتے ہوئے بولی تھی اب وہ اسکو کیا بتاتی کہ یہاں آتے ہوئے اسکے ساتھ کیا کیا ہوا ہے وہ زر کا رویہ سمجھ نہی پا رہی تھی کہ اسنے یہ سب اس سے کیوں کروایا تھا غصّے میں یا پھر کچھ اور بات تھی بس یہ ہی بات اسکو بار بار پریشان کر رہی تھی کہ یہ سب کرانے کہ کیا وجہ تھی..
….جب تک تم بات نہی کروگی تو کیسے جان پاؤ گی انکو چلو اٹھو جلدی سے یہاں بیٹھنے کے لئے نہی بلایا ہے میں نے تمھیں ….
ثنا حور کہ نہ نہ کو نظرانداز کرتی زبردستی اسکا ہاتھ پکڑ کر حور کو اپنی سب کزنز کے پاس لے آئی تھی اور یوں ان لوگوں کے بیچ آکر کچھ پل کے لئے حور سب کچھ بھول گئی تھی اور پھر باتوں ہی باتوں میں اسکو وقت کا پتا ہی نہی چلا تھا…
………..وہ اپنے روم میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا اسکو ایک منٹ کے لئے بھی سکوں نہی مل رہا تھا جب بھی بار بار اسکو یہ خیال آتا کہ وہاں فیصل بھی موجود ہوگا تو وہ اور بےسکون ہو جاتا تھا اسکو کسی پل چین نہی مل رہا تھا
اگر اسکو یہ معلوم ہوتا کہ وہ پارٹی ثنا نے صرف اپنی دوستوں کے لئے دی ہے اور اس میں صرف لڑکیاں ہی ہوگی تو وہ اس قدر بےسکون نہ ہوتا..
اسنے ٹہلتے ٹہلتے گھڑی کہ ترف دیکھا جس میں اس وقت گیارہ بج رہے تھے ٹائم دیکھ کر اسکا پارہ یکدم ہائی ہوا تھا اتنا وقت ہو گیا تھا اور حور اب تک واپس نہی آئی تھی نہ ہی اس نے کال کہ تھی..
یہ سب سوچ کر زر کا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا وہ یکدم رکا تھا اور ٹیبل پر پڑی اپنی کار کا چابی لے کر وہ ابھی باہر کیطرف بڑھا ہی تھا کہ اسکو باہر سے کار کہ آواز سنائی دی تھی اسکے چلتے قدم رکے تھے اب وہ چلتا ہوا اپنے روم کہ گلاس وال کے پاس آیا کیونکہ اسکا روم نیچے تھا اور اس وال سے وہ آرام سے باہر کا نظارہ دیکھ سکتا تھا
زر نے جیسے ہی پردہ ہٹا کر دیکھا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی

فیصل کار پیچھے کا دروازہ کھول رہا تھا اور اس میں سے حور کو نکلتا دیکھ کر غصّے سے زر کہ رگے بھی تن گئی تھی جبکہ زر نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ثنا کو دیکھا ہی نہی تھا اسے تو بس وہ دونوں ہی دیکھ رہے تھے یہ سب دیکھ کر زر غصّے سے وہاں سے ہٹا تھا….❤❤❤❤❤

❤❤❤❤❤❤تمہاری یہ دوست کچھ زیادہ ہی چپ رہتی ہے نہ….
فیصل نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے اپنے برابر میں بیٹھی ثنا سے پوچھا تھا اس نے حور کے ساتھ تین چار ملاقات میں یہ بات بہت نوٹ کہ تھی کہ حور بہت کم بولتی ہے جبکہ بیا اس سے بلکل الگ تھی…
…جی بھائی حور ایسی ہی ہے بہت کم ہی کسی سے بات کرتی ہے یونی میں بھی میرے اور بیا کے علاوہ اسکی کسی سے دوستی نہی ہے ..
ثنا اسکو حور کے بارے میں تفصیل سے ساری بات بتانے لگی تھی جیسے سن کر فیصل ہولے سے مسکرایا تھا اگر وہ اپنے دوستوں کے سامنے بولتا کہ اسکو ایسی لڑکی سے محبت ہوئی ہے جو نہ صرف کم بولتی ہے بلکی کچھ ڈرپوک بھی ہے تو اسکے دوست اس بات پر کبھی یقین نہی کرتے کیونکہ آجتک اسکو صرف بولڈ لڑکیاں ہی پسند آتی تھی پر کہتے ہیں نہ کہ محبت کب اور کس سے ہو جائے پتا نہی چلتا یہ ہی سب کچھ فیصل کے ساتھ ہوا تھا جس پر اسکو خود کو بھی یقین نہی آتا تھا….
…کیا ہوا بھائی آپ خود ہی خود میں کیوں مسکرا رہے ہیں…
ثنا اسکو مسکراتا دیکھ کر پوچھنے لگی تھی جس پر فیصل ایک بار پھر سے کھل کر مسکرایا تھا.
….کچھ نہی بس ایسے ہی ویسے تمہاری دوست بہت اچھی ہے بہت معصوم سی..
فیصل نے دل سے اسکی تعریف کہ تھی ایک دم سے اسکے آنکھوں کے سامنے حور کا چہرہ آیا تھا
…..ہاں بھائی بہت اچھی ہے…پتا ہے بھائی جب مجھے پتا چلا تھا کہ اسکے مام ڈیڈ نہی ہے تو یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا تھا وہ بہت چھوٹی سی عمر میں یتیم ہو گئی تھی…
..ثنا ایک گہرا سانس لے کر بولی تھی اسکی بات سانکر فیصل کو بھی بہت دکھ ہوا تھا…
….پتا ہے بھائی جتنا یہ سنکر مجھے دکھ ہوا تھا اتنی ہی خوشی تب ہوئی تھی جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ حور کا نکاح ہو چکا ہے مجھے لگا چلو کوئی تو ہے اسکا اس دنیا میں…
….فیصل جو ثنا کہ بات بہت غور سے سن رہا تھا اسکی نکاح والی بات پر اس نے ایک دم سے کار کو روکا تھا اور حیران نظروں سے ثنا کو دیکھا جو اسکے اس طرح کار روکنے سے ڈر سی گئی تھی….
…..کیا ہوا بھائی کار کیوں روک دی آپنے ثنا کچھ فکرمندی سے بولی تھی..
…کیا کہا تم نے حور کا نکاح ہو چکا ہے..فیصل پھر سے اسکی بات دوہراتے ہوئے پوچھ رہا تھا اسکو یقین نہی آ رہا تھا کہ قسمت اسکے ساتھ اتنا بڑا ظلم بھی کر سکتی ہے….
…جی بھائی حور کا بچپن میں ہی ہوا تھا زر بھائی کے ساتھ…
.ثنا نے ایک اور دھماکہ کیا تھا فیصل کے اپر آج اسکو لگ رہا تھا کہ آج زر نے اسکو پھر سے ہرا دیا ہے …
….کیا ہوا بھائی آپ ٹھیک تو ہیں ثنا فیصل کے چہرے کا رنگ اڑتا دیکھ کر پھر سے بولی تھی اسکی تو سمجھ نہی آ رہا تھا کی اچانک اسکے بھائی کو یکدم سے کیا ہو گیا ہے….
….ہاں….نہی…ہاں..میں ٹھیک ہوں فیصل پھر سے کار سٹارٹ کرتے ہوئے بولا تھا اسکا اس وقت دل کر رہا تھا کہ سب چیزوں کو تھس نہس کر دے سب کچھ ختم کر دے آج زر نے انجانے میں اسکو زندگی کہ سب سے بڑی ہار دی ہے اگر آج زر اسکے سامنے ہوتا تو شاید وہ اسکو ختم ہی کر دیتا جو ہر بار اسکے راستے میں آتا تھا
..فیصل خود پر قابو پاتے ہوئے کار ڈرائیو کر رہا تھا مگر اسکی سوچوں میں بس حور اور زر ہی سوار تھے❤❤❤❤❤❤
َََََََ–“”””———–“””””———–”””””———-“”
❤❤❤❤❤❤میں نے جب بولا تھا کہ کسی اور کے ساتھ آنے کہ ضرورت نہی ہے تو تم کیوں آئ..
….حور نے ابھی اپنے آکر اپنے روم کا دروازہ ہی بند کیا تھا جب اسکے کانوں میں ایک آواز گونج تھی اور یہ آواز تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی اس نے یکدم سے مڑ کر دیکھا تو مارے حیرت کے اسکی آنکھیں کھلی کہ کھلی رہ گئی تھی….
…زر بڑے آرام سے اسکے بیڈ پر بیٹھا حور کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو اسکو اپنے روم میں دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ ڈری ہوئی بھی لگ رہی تھی ایک پل کے لئے تو زر اسکی حیرت سے کھلی آنکھوں میں ڈوب سا گیا تھا ..
…میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے یا پھر تمھیں میری بات ایک بار میں سمجھ نہی آتی ہے ….
…زر بیڈ سے اٹھ کر قدم قدم چلتا ہوا اسکے قریب جا رہا تھا جبکہ حور اسکے پاس آتا دیکھ کر ڈر کے دو قدم پیچھے ہوئی تھی…
….آج بیا کہ طبیعت خراب تھی جس وجہ سے وہ آج راحت بیگم کے پاس ہی سوئی ہوئی تھی اور اس بات کا آج زر نے فائدہ اٹھایا تھا…
….سنائی نہی دیا تمھیں میں نے کیا کہا تم سے زر نے اسکے قریب آکر ایک جھٹکے میں اسکی کلائی تھام کر حور کو اپنی طرف کھینچا تھا جس سے حور اپنا بیلنس برکرار نہی رکھ سکی تھی اور اسکے سینے سے آکر لگی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔ وہ ثنا ضد کر رہی تھی میں انکے ساتھ آنے سے منا کر رہی تھی پر وہ زبردستی
اس سے پہلے کہ وہ اور کچھ کہتی زر نے اسکی کلائی جو اسکے ہاتھ میں موجود تھی اسکو موڑ کر سختی سے اسکی پیچھےکمر سے لگائی تھی جس سے حور کو یکدم تقلیف ہوئی تھی اور ایک ہلکی سی چیخ اسکے منہ سے نکلی تھی…
…..چپ یکدم آواز نہ نکلے منہ سے ورنہ تمہارے لئے اچھا نہی ہوگا..
زر اسکی کلائی پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے بولا تھا اسکی بات سنکر حور یکدم چپ ہوئی تھی مگر اسکی پلکیں بھیگ چکی تھی جن پر زر کہ نظر تھی کیونکہ وہ اس وقت زر کہ قربت اور اسکے غصّے کے ڈر کہ وجہ سے کانپ رہی تھی….
…تم وہ چیز کیوں کرتی ہو جسکے لئے میں تمھیں منا کرتا ہوں اور میں نے منا کیا تھا نا فیصل سے دور رہنے کے لئے….
…..زر اسکے آنسوں دیکھ کر کچھ نرم لہجے میں بولا تھا پر فیصل کا نام آتے ہی اسکے لہجے کے ساتھ ساتھ اسکی پکڑ میں پھر سے سختی ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے آج وہ اپنا سارا غصّہ اس پر نکال دینا چاہ رہا تھا ….
…..جی کہا تھا پر میں جان کر نہی آئی ہوں وہ ثنا نے بولا تھا اس نے میری ایک نہی سنی تو مجبورن مجھے آنا پڑا تھا..
….حور پلکیں جھکا کر اسکی بات کا جواب دے رہی تھی ایسے جیسے اپنا کوئی جرم قبول کر رہی ہو کیونکہ اس وقت وہ دونوں بےحد قریب کھڑے ہوئے تھے اتنا کہ حور اپنے چہرے پر زر کہ سانسوں کہ تپیش محسوس کر رہی تھی زر کو خود کے اتنے قریب دیکھ کر وہ گھبرانے کے ساتھ ساتھ ڈری ہوئی بھی تھی….
…اس نے ثنا سے بہت انکار کیا تھا کہ وہ گھر سے بلا لے گی پر اس نے اسکی ایک نہ سنی تھی اور سارا راستے وہ بس ڈرتی ہوئی آ رہی تھی اور گھر آکر وہ ہی ہوا تھا جس چیز کا اسکو ڈر تھے پر زر اس طرح سے کرے گا اسکے وہم گمان میں بھی نہی تھا….
…..ٹھیک ہے اب اگر آئندہ یہ ہرکت دوبارہ کہ تو اسکا انجام بھی سوچ لینا..
زر اسکے آنسوں دیکھ کر حور کو اپنی پکڑ سے نرمی سے آزاد کرتے ہوئے بولا تھا اور ایک نظر اسکے آنسوں سے تر چہرے پر ڈالتا وہا سے نکلتا چلا گیا تھا …
جبکی اسکے جاتے ہی حور روتی ہوئی اوندھے منہ بیڈ پر گر کر رونے لگی تھی ۔
وہ جو کچھ دنوں سے اسکے بدلے ہوئے روپ کو دیکھ رہی تھی اور یہ سوچنے لگی تھی کی زر بدلنے لگا ہے اسکو لگنے لگا تھا کہ اسکی نفرت اسکی بچپن کہ محبت کے آگے ہار گئی ہے پر وہ غلط تھی جو یہ سوچنے لگی تھی کیونکہ نہ وہ بدلہ تھا اور نہ ہی اسکی نفرت آج پھر سے زر کا یہ رویہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ صرف اسکی بھول ہے زر اور اسکی نفرت کبھی نہی بدل سکتی ہے آج بھی اسکو خوشی ملتی ہے اسکو تقلیف پہچا کر نہ جانے کتنا وقت بیت گیا تھا اسکو یوں روتے ہوئے اور پھر ایسے ہی روتے روتے وہ نیند کہ وادیوں میں اتر گئی تھی ❤❤❤❤❤❤
“””””””———–“””””””””———–“”””””””
❤❤❤❤❤❤بیا بیٹا حور کو بھی بلا لاؤ ہم سب کے ساتھ ہی کھانا کھا لیگی وہ بھی تھوڑا باہر نکلے گی روم سے تو اسکی طبیعت پر بھی اچھا اثر پڑیگا…
…سکندر صاحب بیا سے بولے تھے جو انکے برابر میں ہی بیٹھی ہوئی تھی….
….ماموں جان میں نے بولا تھا اسکو پر حور نے آنے سے انکار کر دیا تھا اسلئے امی نے اسکا کھانا اپر روم میں ہی دے دیا ہے ۔۔۔
بیا انکی بات کا جواب دے کر ایک نظر زر کہ طرف دیکھا جو بس بیٹھا اپنی پلیٹ کو گھور رہا تھا…
….جی بھائی وہ نہی آنا چاہتی تھی تو میں نے ضد نہی کہ بس راحت بیگم اپنے بھائی کو دیکھتے ہوئے بولی تھی…
….آج چار دن ہو گئے تھے حور کو روم سے نکلے ہوئے اس دن رات میں ہی اسکو بہت تیز بخار ہو گیا تھا سکندر صاحب کے ساتھ ساتھ راحت بیگم اور بیا بھی کافی پریشان ہو گئے تھے دو دن بعد اسکا بخار ٹھیک ہوا تھا
پر آج چار دن ہو گئے تھے وہ روم سے باہر نہی نکلی تھی جس پر وہ تینوں بہت پریشان تھے بیا کو کہیں نہ کہیں لگتا تھا کہ زر کہ وجہ سے ہوا پر حور نے اسکو کچھ بتایا ہی نہی تھا…
…..راحت بیگم کی بات سنکر سکندر صاحب نے ایک نظر زر کو دیکھا جو خاموشی سے اپنا کھانا کھا رہا تھا اس دن کے بعد سے وہ زر سے ٹھیک سے بات بھی نہی کر رہے تھے زرخان نے بہت بار کوشش کی ان سے بات کرنے کہ پر وہ اسکو نظرانداز کر دیتے تھے انکو لگتا تھا کہ شاید انکے اس رویہ سے وہ ہاں کر دے پر وہ غلط تھے اور وہ زرخان سے پوری طرح مایوس ہو گئے تھے اسلئے اب انکو آگے کیا کرنا تھا انہونے سوچ لیا تھا…
….کیا ہوا زر بیٹا کہاں جا رہے ہو کھانا کھا لو اچھے سے اسکو اٹھتا دیکھ ناز بیگم بولی تھی..
..نہی مام میں کھا چکا ہوں وہ انکو جواب دے کر وہاں رکا نہی تھا سیدھا اپنے روم میں آیا تھا…
….ناز بیگم نے اسکو جاتے دیکھا تھا انکو وہ ایک ڈو دن سے بہت چپ اور تھوڑا بدلہ ہوا سا لگ رہا تھا ناز بیگم کو ڈر تھا کہ اس سب کی وجہ کہیں حور تو نہی ہے اس جو انہونے دیکھا تھا اسکے بعد ووہ تھوڑا پریشان رہنے لگی تھی…
…..روم میں آکر وہ ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا اسکو بھوک نہی تھی لیکن وہ پھر بھی گیا تھا یہ سوچ کر کہ آج شاید اسکو وہ نظر آ جائے گی پر آج بھی وہ نیچے نہی آئ تھی اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے کتنا بےتاب تھا پر وہ تھی کہ اسکی تڑپ کو اور بڑھا رہی تھی
زر اچھے سے جانتا تھا وہ نیچے کیوں نہی آ رہی تھی اور اسکو اپنے اس دن والے رویہ پر افسوس بھی تھا وہ حور کو تقلیف نہی دینا چاہتا تھا پر اسکو فیصل کے ساتھ دیکھ کر وہ اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا اور پھر غصّے میں آکر ناچاہتے ہوئے بھی وہ حور کہ تقلیف کہ وجہ بن گیا تھا

لاکھ چاہنے کے باوجود بھی وہ اسکے روم میں بھی نہی جا سکا تھا اگر آج گھر میں کوئی اسکو حور کے لئے اتنا پریشان ہوتا دیکھ لیتا تو کوئی اس بات پر یقین ہی نہ کرتا کہ وہ اسکے لئے اتنا پریشان ہو رہا ہے اس وقت وہ خود کو بہت بےبس محسوس کر رہا تھا اور صرف اس لڑکی کے لئے جس سے وہ بچپن سے ہی اپنی نفرت کا اظھار کرتا آیا تھا زر نے غصّے میں آکر پاس رکھی ٹیبل کو بہت زور سے لات ماری تھی جس سے وہ دور جاکر گری تھی اسکے پیر میں ایک درد کی لہر اٹھی تھی پر یہ درد اس درد سے کم تھا جو وہ اس وقت اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا تبھی وہ ایک فیصلہ کرتا اپنے روم سے نکلا تھا ❤❤❤❤❤❤ .—

❤❤❤❤❤❤بابا آپنے مجھے بلایا کوئی کام تھا آپکو…
حور سکندر صاحب کے پاس آتے بولی تھی اس وقت وہ اپنی اسٹڈی میں موجود تھے اور راحت بیگم بھی وہیں پر بیٹھی ہوئی تھی …
…ہاں آؤ یہاں میرے پاس آکر بیٹھو سکندر صاحب اسکو اپنے پاس بلاتے ہوئے بولے تو حور بھی انکے پاس جاکر بیٹھ گئی تھی…
….اور کیسی طبیعت ہے بیٹا آپکی انہونے بہت ہی محبت سے اسکی طرف دیکھا تھا
…جی بابا اب پہلے سے کافی بہتر ہے حور ہولے سے مسکراتے ہوئے بولی تھی..
…بیٹا میں بس تم سے ایک بہت ضروری بات کرنا چاہتا ہوں میں جانتا ہوں ایک فیصلہ میں نے بہت پہلے تمہاری اجازت کے بغیر کیا تھا جسکا مجھے آج تک بہت افسوس ہے….سکندر صاحب اپنی بات شروع کرتے ہوئے بولے تھے جبکہ انکی بات سنکر حور کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا وہیں راحت بیگم بھی بیٹھی انہی کو دیکھ رہی تھی ناجانے وہ آج کیا بات کرنے والے تھے….
….اس وقت مجھے جو سہی لگا تھا میں نے وہ کیا تھا اور اب مجھے جو تمہارے لئے بہتر لگے گا وہ میں کروں گا اور مجھے امید ہے تمھیں اس بات سے کوئی اعتراض نہی ہوگا..
سکندر صاحب اب بلکل اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اس سے پوچھ رہے تھے جس پر حور نے ہاں میں گردن ہلا دی تھی اس میں اس وقت کچھ بولنے کہ ہمت ہی نہی ہو رہی تھی …
….ہمیشہ خوش رہو میری بیٹی جاؤ اب جا کر آپ آرام کرو سکندر صاحب نے اسکی پیشانی چومتے ہوئے کہا تھا تو وہ خاموشی سے وہاں چلی گئی تھی پر اسکے دل میں جو سوال تھے وہ وہ چاہ کر بھی ان سے پوچھ نہی پائی تھی…
…..بھائی آپ کیا کرنے والے ہیں اب.. حور کے جانے کے بعد بہت دیر سے خاموش بیٹھی راحت بیگم بولی تھی….
…وہ ہی جو مجھے کرنا چاہئے جو حور کے لئے ضروری ہے …سکندر صاحب اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے بولے تھے…
…اور کیا ہے حور کے لئے ضروری راحت بیگم بھی انکے پاس ہی کھڑی ہوئی تھی کچھ کچھ تو سمجھ رہی تھی پر وہ انکے منہ سے پوری بات سننا چاہتی تھی…
….طلاق..جو رشتہ زر اور حور کے بیچ ہے اسے اب ختم ہی کر دینا چاہیے مجھے بہت افسوس ہے کہ میں گل سے کیا وعدہ نہی نبھا سکا پر میں اسکے لئے زر سے بہتر انسان تلاش کروں گا جو اسکی عزت کرے گا جسکی وہ حقدار ہے ….
….جہاں انکی بات سنکر راحت بیگم کو شاق لگا تھا وہیں دروازے کے پار کھڑے زر کہ حالت بھی کچھ راحت بیگم سے کم نہی تھی وہ اپنے باپ سے حور اور اسکے بارے میں بات کرنے آیا تھا پر انکی بات سنکر وہیں کھڑا رہ گیا تھا….
…یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ بھائی ایسا نہی ھو سکتا آپ نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا راحت بیگم بےیقینی سے انکی طرف دیکھ کر بولی تھی…
….سوچنا پڑ رہا ہے مجھے راحت ورنہ میں خود یہ سب نہی چاہتا تھا تم سب کچھ جانتی ہی ہو پھر بھی وہ بھی بےبسی سے بولے تھے انکی بےبسی باہر کھڑا زر بھی اچھے سے محسوس کر سکتا تھا…
…پر بھائی حور وہ نہیں مانےگی راحت بیگم حور کے دل کی بات سے اچھے سے واقف تھی…
….تم نے سنا نہی راحت حور کو کوئی اعتراض نہی ہے میرے کسی بھی فیصلے سے سکندر صاحب کہ اس بات سے زرخان کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے
…پر بھائی آپ ایسا….راحت میں اب کوئی مزید بات نہی کرنا چاہتا ہوں اس بارے میں
اور زر کو کوئی اعتراض نہی ہوگا تو حور کو بھی نہی ہوگا اس بات سے یہ بھی میں جانتا ہوں کیونکہ وہ میرے ہر فیصلے میں میرا ساتھ دے گی سکندر صاحب کہ اس بات پر زر غصّے سے وہاں سے حور کے روم کیطرف بڑھا تھا ❤❤❤❤❤
……….جاری ہے ……….