Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“””””””””وہ اس وقت اپنے شاندار سے آفس میں بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا اور اسکی سوچوں پر اس وقت حور سوار تھی پہلے وہ جتنا اس سے دور رہنا چاہتا تھا وہ اسکو اتنا ہی قریب نظر آتی تھی پر اب جو وہ ہر وقت اسکو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا تھا اسکو ہر پل محسوس کرنا چاہتا تھا وہ اس سے اتنا ہی دور رہنے لگی تھی اور اسکو آجکل موقع بھی مل گیا تھا اس سے دور رہنے کے لئے وجہ جب بابا نے یہ اعلان کیا کہ وہ اب چاہتے تھے کہ جب زر رخصتی کر ہی چکا ہے تو انکا ولیمہ بھی ہو جانا چاہیے اور اسکو اس بات سے کیا اعتراض ہونا تھا پر وہ حور کہ آنکھوں میں انکار دیکھ سکتا تھا ہر اسکو دکھ ہوا تھا پر اسنے سوچ لیا تھا کہ وہ بہت جلد حور کو منا بھی لے گا۔۔
“””بھائی میں کچھ دنوں کے لئے شہر سے باہر کیا چلا گیا تم نے تو اپنی رخصتی کیا ولیمہ کا انتظام بھی کروا لیا ماننا پڑیگا تجھے لوگوں کو حیران کیسے کیا جائے کوئی تجھ سے سیکھے۔۔
“””وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اسکو ظفر کا اپنے روم میں آنے کہ پتا ہی نہیں چلا تھا ظفر کچھ دنوں کے لئے اپنے ڈیڈ کے ساتھ کام کے سلسلے سے باہر گیا ہوا تھا اور آتے ہی جو خبر اسکو ملی تھی اسے سن کر وہ بہت خوش ہوا تھا…
“””اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے کیا تو میری ہر بات سے واقف رہتا ہے ۔۔۔
“””زرخان اب سیدھا ھو کر بیٹھ گیا تھا اور اپنے پاس پڑی فائل پر نظر ڈالتے ہوئے بولا…
“””ہاں جانتا تو ہوں پر اتنی جلدی یہ سب ہوگا اس بات پر تھوڑا حیران ہوا ہوں۔۔۔
“””ظفر اسکے دیکھتے ہوئے بولا تھا جو ابھی بھی فائل میں گم تھا وہ کچھ دن سے زر کا حور کے لئے بدلہ ہوا رویہ نوٹ کر رہا تھا جسے دیکھ کر اسکو خوشی ہوئی تھی اور پھر جب ایک دن وہ پھر سے اسکو سمجھا رہا تھا حور کے لئے تو وہ اس بار کچھ نہی بولا تھا جس سے اسکا شق یقین میں بدل گیا تھا….
“”””جلدی کرنے کہ وجہ تھی ورنہ میں خود یہ سب اتنی جلدی نہیں چاہتا تھا پہلے میں حور کو ماننا چاہتا تھا اسکے دل سے وہ سب باتیں نکال دینا چاہتا تھا جو میرے رویہ کہ وجہ سے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
“”””اس بار زر نے سامنے بیٹھے ظفر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا اسکی بات سن کر ظفر خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا تھا….
“”””ایک بات بتاؤ گے زر تم کب سے حور کو اتنا پسند کرنے لگا ہو مجھے بہت اچھا لگا تمھیں اسکے لئے یوں فکرمند دیکھ کر ظفر اپنے دل کہ بات اسکو بولا تھا”””
“”””میں حور کو پسند نہیں کرتا ظفر میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں ‘””زر اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے بولا اور اپنے آفس کہ گلاس وال کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا تھا جہاں سے اسکو سڑک پر ڈورتی ہوئی گاڑیاں دکھائی دے رہیں تھی..
“”””اسکے منہ سے حور کے لئے محبت لفظ سن کر ظفر مسکرایا تھا…
“””یہ سب کب ہوا اور کیسے میں نہیں جانتا بچپن سے لی کر اب کچھ عرسے تک میں نے اس سے نفرت ہی کی ہے یا یوں کہہ سکتے ہو ڈیڈ کے لئے جو غصّہ میرے دل میں تھا وہ میں اس پر نکلتا رہا پھر مام کی باتوں میں ا کر یہ سب کرتا رہا تھا میں اسے نظر انداز کرنا چاہتا تھا پر کر نہی سکا۔۔۔
“”””زر کہتے کہتے کچھ پل کے لئے رکا تھا جیسے اسکی سمجھ نہیں آ رہا ہو کہ کیسے بات شروع کرے۔۔۔
“””””پہلی بار میں نے خود کو اس وقت بےبس محسوس کیا جب میں نے حور کو اس دن شادی میں پہلی بار غور سے دیکھا تھا یا یوں کہہ لو کہ مجھے بھی بس ایک لمحہ لگا تھا اس سے محبت ہونے میں اور میں ہر بار اس بات کو جھٹلاتا رہا تھا میں نے سوچا تھا یہ سب وقتی جذبات ہے پر ایسا نہیں تھا جتنا میں اس سے اور اسکی سوچوں سے پیچھا چھوڑنا چاہتا تھا اتنا ہی وہ مجھ پر حاوی ہوتی جا رہی تھی اور اس دن جب میں نے کسی اور کو اسکو دیکھتے ہوئے دیکھا تو وہ سب میرے لئے برداشت کرنا مشکل ہو گیا اس دن مجھے احساس ہوا کہ حور صرف میری ہے اور کوئی اور اسے دیکھے یہ میری برداشت سے باہر تھا…
کیونکہ وہ صرف میری ہے اس پر صرف میرا حق ہے اور اس دن سے میری محبت میں شدّت بڑھتی ہی چلی گئی تھی جس میں میں نے حور کو بھی تکلیف دی تھی۔۔۔
“”ظفر مجھے کبھی کبھی یقین ہی نہی ہوتا ہے کہ میں حور سے اتنے وقت تک نفرت کیسے کرتا رہا ہوں اب جب یہ بات سوچتا ہوں تو خود پر ہنسی آتی ہے مجھے…زر کہتے ہوئے خد بھی مسکرا پڑا تھا…
زر بول رہا تھا اور ظفر بس یک ٹک اسکو دیکھتا جا رہا تھا جو اپنی محبت کا عتراف کر رہا تھا ظفر کو اس وقت وہ دیوانہ ہی تو لگ رہا تھا….
“”””واہ بھائی تو تو پورا مجنو ہی بن گیا ہے ..ظفر ہنس ہوئے اسکے پاس جاکر زر کہ کندھے پر ہاتھ مارتا ہوا بولا تھا اسکے اس طرح سے کرنے پر زر جیسے ہوش میں آیا تھا…..
“””ہاں اب تو مجھے بھی یہ ہی لگنے لگا ہے زر اسکی بات پر مسکرایا….
“””پھوپھو کو کیسے راضی کرے گا یہ سوچا ہے تو نے….ظفر جانتا تھا کہ ناز بیگم اس رشتے سے خوش نہیں ہے..
“”””پتا نہیں یار مام کو راضی کرنا تو سب سے بڑا مسلہ ہے جو میں جلد سے جلد انکو راضی کر کے سب مسلے ختم کر دینا چاہتا ہوں زر اب کی بار پرسوچ انداز میں بولا تھا اسکی بات سن کر ظفر بھی نے صرف گردن ہلا دی تھی””””””””””
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
“”””'””سچ میں حور میں اتنی خوش ہوں کہ تمہیں بیان نہیں کر سکتی ہوں زر بھائی کے فیصلے سے اور اب تو تمہارا ولیمہ بھی ہو رہا ہے کتنا مزہ آۓ گا وہ دونوں اس وقت یونی کہ کینٹین میں بیٹھی باتیں کر رہیں تھی جبکہ حور کم بیا زیادہ بول رہی تھی..
بیا پرجوش انداز میں بس بولے جا رہی تھی اس بات سے بےخبر کہ حور کہ دھیان اسکی باتوں پر تھا ہی نہی۔۔۔
“””دیکھو امی کہتی تھی نہ کہ صبر کرو اللہ صبر کرنے والو کے ساتھ ہے اور ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا اور دیکھو اللہ نے زر بھائی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تمہارا اور انکا رشتہ کیا ہے اور وہ اس کو قبول بھی کر چکے ہیں
“””””اب کہ بار بیا اسکی طرف مڑی تھی جو ابھی بھی اپنی سوچوں میں گم تھی..
“””میں تم سے بات کر رہیں ہوں حور کن خیالوں میں گم ہو..بیا نے اسکی خاموشی نوٹ کہ تو اسکے کندھے پر اپنے ہاتھ کا دباو ڈالتی ہوئی بولی تھی…
“””ہا….ہاں…نہیں میں سن رہی ہوں تمہاری بات حور اپنی سوچوں سے باہر نکلی تھی..
“””کیا ہوا حور تم پریشان سی لگ رہی ہو کوئی بات ہوئی ہے کیا…کیا تم خوش نہیں ہو زر بھائی کے فیصلے سے…
بیا اسکے چہرے کو دیکھ رہی تھی اس نے نوٹ کیا تھا اس دن کے بعد سے حور بہت چپ چپ رہنے لگی تھی..
“”””پتا نہیں بیا مجھے خوش ہونا چاہیے یا نہیں ابھی تو میں سب سمجھنے کہ کوشش کر رہی ہوں کہ یہ سب اتنی جلدی ہو گیا کہاں تو وہ میری شکل تک برداشت نہیں کرتے تھے اور اب یہ سب حور بہت الجھی ہوئی تھی سب باتوں سے اس وقت سب کچھ اسکی سمجھ سے باہر تھا اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جو سب ہو رہا ہے اس پر یقین کرے یا نہیں اسکو سب کچھ ایک دھوکا لگ رہا تھا…
“””” تم سب باتوں کو بھول جو اور بس اس وقت تمھیں خوش ہونا چاہیے میری جان بیا اسکو پیار سے سمجھنے لگی تھی پر وہ کیا کرتی اسکا دل تھا کہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا مام کا رویہ اور پھر زر کو تو وہ کبھی سمجھ ہی نہیں پائی تھی اور پھر عنایہ بھی تو تھی جو ہر وقت اسکی سوچوں میں شامل تھی اور وہ چاہ کر بھی یقین نہین کر پا رہی تھی…
“””””تم دونوں یہاں بیٹھی ہو اور میں کلاس میں ڈھونڈھ رہی تھی تمھیں ثنا ان دونوں کے قریب آتے بولی اور ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گئی تھی…
“”””آؤ ثنا تمھیں ایک بہت ہی زبردست خبر بھی تو سنانی ہے بیا اسکے بیٹھتے ہی حور کہ طرف آنکھ دبا کر بولی جس پر حور نے گھوری سے اسے نوازا تھا..
“”””اور پھر بیا جو بولنے پر آئ بولتی ہی چلی گئی تھی ثنا زر کے رویہ کے بارے میں کچھ نہی جانتی تھی بس اسکو انکے نکاح کا پتا تھا..
“”واہ یار حور تمہارا دو دن بعد ولیمہ ہے اور تم یہاں یونی میں بیٹھی ہو ثنا کو خوشی تو ہوئی تھی حور کی رخصتی کا سن کر پر ایک لمحے کے لئے اسکی آنکھوں کے سامنے اپنا بھائی کا چہرہ آیا تھا پر وہ حور کے لئے بھی خوش تھی اس لئے اسکو چھیڑتے ہوئے بولی تھی…
“””ثنا اب باقی سب کی طرح تم بھی مت شروع ہو جانا دو دیں بعد ہے کل نہی جو تم سب ایسے ریعکٹ کر رہے ہو حور اسکی بات پر جھنجھلا گئی تھی آج یونی آتے وقت پہلے راحت بیگم بولی تھی کہ وہ کچھ دن یونی نہ جائے اسکے بعد بیا اور اب ثنا کے منہ سے یہ الفاظ سن کر وہ چڑ کر بولی تھی…
“”””کیا بات ہے ہماری دلہن تو غصّہ بھی کرنے لگی ہے ثنا اور بیا شرارت سے اسکی طرف دیکھ کر بولی جس پر وہ وہاں سے ایکدم اٹھی تھی وہ جانتی تھی کہ اب وہ دونوں شروع ہو گئی ہے اور اسکی اسی طرح سے پریشان کرے گی…
“”””کہاں جا رہی ہو حور بیٹھو نہ تھوڑی دیر اور ابھی کلاس شروع ہونے میں ٹائم ہے وہ دونوں اسکا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی..
“””ہاں ٹائم ہے پر مجھے ایک کام یاد آ گیا ہے جو مجھے کلاس شروع ہونے سے پہلے پورا کرنا ہے حور انکو جواب دے کر وہاں رکی نہی تھی جبکہ اسکے اس طرح سے جانے پر ثنا اور بیا ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگی تھی””””””””
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
”””””””””””””‘ بیا اور راحت بیگم بہت خوش تھی اور بہت خوشی خوشی سب تیاری کر رہیں تھی مگر ناز بیگم تو ایسے رہ رہی تھی جیسے انکے نہیں کسی اور کے بیٹے کا ولیمہ ہو اور انکو اس طرح سے دیکھ کر سکندر صاحب اور راحت بیگم کو بہت دکھ ہو رہا تھا جو بھی تھا انکو اپنے بیٹے کی خوشی میں تو شامل ہونا چاہیے تھا….
“”اور پھر دو دن بھی پر لگا کر گزر گئے تھے ولیمہ کا دن بھی آ گیا تھا
حور کی پریشانی اور بڑھتی جا رہی تھی اس وقت وہ دلہن بنی بیٹھی تھی گھبراہٹ سے اسکی ہتھیلی بھی پسینے سے بھیگ چکی تھی جبھی بیا روم میں داخل ہوئی اور اسکو یوں تیار دیکھ کر بس دیکھتی ہی رہ گئی تھی وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی کہ اس نے دل ہی دل میں حور کہ نظر اتاری تھی…
“””چلو حور نیچے تمہارا ہی انتظار ہو رہا ہے بیا اسکو دیکھ کر بولی تو حور اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی اسکی ہمراہی میں نیچے کی طرف چلی تھی
انکے ولیمہ کا فنکشن نیچے لان میں رکھا گیا تھا اور یہ صرف زر کی مرضی سے ہوا تھا…
“””اس نےجیسے ہی بیا کی ہمراہی میں خوبصورتی سے سجے لان میں قدم رکھا تو پاس کھڑی لڑکیوں نے اسکے اپر پھولوں کی بارش کرنی شروع کر دی تھی حور بس نیچے نظریں جھکا کر چلتی جا رہی تھی اور سامنے اسٹیج پر بیٹھے زر کے دل میں اترتی جا رہے تھی جو بسں یک ٹک اسکو دیکھے جا رہ تھا زر کو حور پر سے اپنی نظریں ہٹانہ مشکل لگ رہا تھا وہ نظریں جھکائے چلتی ہوئی اسکے پاس آ رہی تھی لڑکیاں ابھی بھی اس پر پھولوں کی بارش کر رہیں تھی اور یہ سب زر نے ہی آئیڈیا کیا تھا اور اسکا آئیڈیا سن کر ظفر ہنستے ہنستے پاگل ہو گیا تھا جس پر زر ماتھے پر بل ڈال کر اسکو گھورنے لگا جس پر وہ خاموش ہو گیا تھا…
….بیا نے حور کو اسکے پہلوں میں لاکر بیٹھایا تھا
زر نے ایک نظر اسکے جھکے سر کو دیکھا اور پھر اسکی نظر حور کے ہاتھوں پر پڑی جو اپنے دونوں ہاتھوں کو بیٹھی ہوئی آپس میں مسل رہی تھی وہ اسکی گھبراہٹ کو سمجھ گیا تھا اسکی گھبراہٹ دیکھ کر زر کے ہونٹھوں پر ایک جاندار مسکراہٹ آئں تھی جسکو اسٹیج کے کچھ ہی فاصلے پر کھڑی عنایہ نے بہت ہی سلگتی نظروں سے دیکھا تھا اسکا بس نہی چل رہا تھا کہ وہ حور کو وہاں سے غیاب ہی کر دے..
“”””””بہت ہی خوبصورت لگ رہی ہو میرا تو دل کر رہا ہے کہ تمھیں یہاں سے کہیں دور لے جاؤں جہاں صرف تم ہو اور میں بس”””زر اسکے کان میں سرگوشی کہ انداز میں بولا
اور اسکے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسکی گھبراہٹ کو کچھ کم کرنا چاہا تھا..
“”””حور جو پہلے ہی اتنی گھبرا رہی تھی اسکی بات اور اسکا لمس محسوس کر کے اب اسکی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا ….
“””کیا کیا باتیں کر رہے ہیں آپ بھائی صبر کرے یہ ہمیشہ آپ کے ہی پاس رہنے والی ہیں…بیا زر کو دیکھ کر شرارت سے بولی تھی..
“”””””ہاں بھائی زر صبر کر اور تو شرم کر اتنے لوگ تجھے نظر نہی ارہے ہیں کیا ظفر نے اسکو شرم دلانی چاہی تھی…
“”””جب تیری ہوگی نہ تب پوچھوں گا تجھ سے “”زر بھی کہاں چپ رہنے والا تھا.۔
“”””میں بھی بس اپنے نمبر کے انتظار میں ہوں پتا نہی کب تک انتظار کرنا پڑے گا…ظفر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور اپنے سامنے کھڑی بیا کو آنکھوں کے راستے اپنے دل میں اتارتے ہوئے بولا تھا…
“””اسکی بات کا مطلب سمجھ کر بیا کا رنگ ایکدم گلابی ہوا تھا جسکو ظفر نے بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا…..
“”” ارے کیوں پریشان کر رہے ہو بچوں کو چلوں جا کر مہمانوں کو دکھوں ……راحت بیگم انکے پاس آتی ہی ظفر اور بیا کی طرف دیکھتی ہوئی بولی ….
“””جی امی جا رہی ہوں…بیا نے جلدی سے کہا اور وہا سے چلی گئی …
بیا کے ایسے جانے پر ظفر کے ہوٹوں نے ایک خوبصورت سی مسکراہٹ کو چھواں تھا”””””
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””'”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
“”””””'”” “فنکشن اپنی عروج پر تھا ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی لیکن اسکو تو بس ایک ہی چہرہ نظر آ رہا تھا فیصل اس وقت زر کی قسمت پر بہت رش کر رہا تھا کتنا خوش نصیب تھا زر جو اسکو حور جیسی لائف پارٹنر ملی تھی …. وہ زر سے صرف ریس میں ہی نہیں بلکی اپنی پہلے پیار میں بھی ہار گیا تھا جو بھی تھا حور اسکی پہلی محبت تھی کیونکہ اپنی زندگی میں پیار صرف اسے حور سے ہی ہوا تھا جسکو شاید بھولنا اتنا آسان نہیں تھا …فیصل یہاں آنا تو نہیں چاہتا تھا پر اپنے ڈیڈ کے اسرار پر اسکو یہاں آنا پڑا تھا کیونکہ وہ لوگ بہی اس شہر کے برڑ بزنس مین میں شمار ہوتے تھے سکندر صاحب نے انکو بھی انوائٹ کیا تھا ثنا نے اسکو آنے کے لئے فورس نہی کیا تھا پر اپنے ڈیڈ کی وجہ سے اسکو انا پڑا ۔۔۔ ….اور وہ اب دور سے کھڑا ہو کر زر کی قسمت پر رشک کر رہا تھا اور کوئی بھی تھا دو آنکھیں بڑی غور سے اسکو دیکھ رہیں تھی لیکن وہ اس بات سے بےخبر بس حور کو دیکھ جا رہا تھا …. زر جو سبھی مہمانوں سے مل رہا تھا جیسے ہی اسکی نظر سامنے کھڑے فیصل پر پڑی اسکی نظروں میں ناگوارئی آ گی تھی جو دور کھڑی عنایہ سے چھپی نہ رہ سکی تھی ……..
…..زر نے گردن موڑ کر حور کو دیکھا جو ثنا اور بیا کہ باتوں کا جواب بس ہاں نا میں دے رہی تھی اس نے پھر سے سامنے دیکھا مگر اب فیصل وہاں موجود نہیں تھا اسکے ماتھے کہ بل ایکدم کم ہوئے تھے وہ انکو انوائٹ تو کرنا نہیں چاہتا تھا پر ڈیڈ اور ثنا کہ وجہ سے چپ ہی رہا تھا….
….ابھی وہ حور کی طرف دیکھ ہی رہا تھا جب اسکا فون بجا تھا اس نے جیسے ہی کال پک کرنے کے لئے فون پاکٹ سے نکالا تھا عنایہ کا نام دیکھ کر وہ چوکا تھا وہیں حور کہ نظر بھی اسکے فون کہ اسکرین پر چمکتے عنایہ کے نام پر پڑی تھی اس نے فورن ہی نظر اٹھا کر زر کو دیکھا جو سامنے دیکھ رہا تھا شاید عنایہ کو تلاش کر رہا تھا جب اسکو وہ کہیں نظر نہیں آئ تو زر کال پک کرتا وہاں سے اٹھ کر گیا تھا حور کی نظریں اسی پر تھی جو فون پر بات کرنے کے بعد سکندر صاحب سے کچھ کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا اور اسکو یوں جاتا دیکھ حور کو بہت دکھ ہوا تھا اور زر کے لئے اسکے دل میں جو غلط فہمی تھی وہ مزید بڑھ گئی تھی ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھ سے گرا تھا””””
“””کیا ہوا حور تم اتنی اداس کیوں لگ رہی ہو اور یہ زر بھائی کہاں گئے ہیں “”تبھی بیا کی نظر اس پر پڑی تو وہ فکر مندی سے بولی تھی ساتھ میں ثنا بھی اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی.. …نہیں کچھ نہیں بس میں تھوڑا تھک گئی ہوں…حور نے اسکی بات کا جواب دیا دوسری بات وہ نظرانداز کر گئی تھی …. “””رکو میں امی کو لاتی ہوں اور زر بھائی کو دیکھوں کہاں گئے ہیں وہ وہاں سے چلی گئی تھی جب وہ واپس آئ تو راحت بیگم اسکے ساتھ تھی پر زر اسکو کہیں نظر نہیں آیا تھا کچھ دیر بعد فنکشن بھی ختم ہو گیا اور وہ واپس زر کے روم میں آ گئی تھی مگر زر کا کچھ پتا نہیں تھا اسکو یہ سوچ کر ہی رونا آ رہا تھا کہ زر اور عنایہ دونوں ساتھ ہیں تبھی تو پوری تقریب میں وہ اسکو پھر دوبارہ نظر نہیں آئی تھی اس نے بےدردی سے اپنی ساری چوڑیاں اتاری تھی اور پھر ڈریس چینج کرنے چلی گئی تھی سادہ سا سوٹ پہن کر باہر نکلی تھی آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اسکو رہ رہ کر زر پر بھی غصّہ آ رہا تھا کہ اگر یہ سب کرنا ہی تھا تو یہ سب ناٹک کرنے کہ کیا ضرورت تھی وہ بیڈ پر لیٹی لیٹی بس یہ ہی سب سوچے جا رہی تھی اور پھر کب اسکی آنکھ لگی اسکو خبر نہیں ہوئی تھی”””””'””””””جاری ہے “”””””