No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
❤❤❤❤❤❤وہ جو اپنی ہی دھن میں چلا جا رہا تھا سامنے سے آتے وجود سے بہت بری طرح ٹکرایا تھا..
…اسنے اس وجود کو گرنے سے بچانے کے لئے اپنی باہوں میں سبھالا تھا……
لیکن جیسے ہی اسکی نظر اپنی باہوں میں موجود حور پر پڑی تو اسکے ماتھے پر بل پر گئے تھے.. ….جو آنکھیں بند کیے اپنے آپ کو گرنے سے بچانے کے لئے اسکے بازوں کو مضبوطی سے پکڑے اسکی باہوں میں تھی…
۔۔کچھ لمحے تو وہ اسکو ایس ہی دیکھتا رہا لقین اگلے ہی لمحے اسنے حور کو اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا۔۔
…زرخان کے ایسا کرنے سے حور بہت بری طرح نیچے زمین پر گری کیونکہ وہ اسکے سہارے کھڑی تھی …..اور ایک آہ اسکے منہ سے نکلی تھی ..
یا اللہ میری کمر اپ ….
۔۔۔اس سے پہلے وہ اور کچھ بولتی اسنے بولتے ہوئے جیسے ہی اپر نظر اٹھا کر دیکھا تو اسکا اپر کا سانس اپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا تھا…وہ یہ سمجھ رہی تھی کی کوئی ملاذمہ ہوگی پر زر خان کو دیکھتے ہی اسکی بولتی بند ہو گئی تھی …
..کیونکہ زرخان خوں خار نظروں سے اسکو گھور رہا تھا….
..کتنی بار میں نے منا کیا ہے کی تم میرے سامنے مت آیا کرو تو کیوں آتی ہو …زرخان نے اسکو بازوں سے پکڑ کر زمین سے اٹھایہ اور اس پر دہاڈتے ہوئے بولا ….
…اسکی دہاڈ سن کر حور جو پہلے ہی اسکو دیکھ کر ڈر گئی تھی اور اب اسکی پکڑ سے کانپنے لگی تھی کیونکہ اسنے اسکو بازوں سے بہت سختی سے پکڑا ہوا تھا ….
…م..میں .. آپکے سامنے جان کر نہیں آئ میں تو نیچے جا.. ….
..بکواس بند کرو اپنی …..حور جو ہمّت کرتے ہوئے اپنی صفائی پیش کر رہی تھی اسکے غصے سے بھری آواز سن کر اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا.. .
..کیا ہوا زر کیوں غصہ کر رہے ہو…ناز بیگم جو کسی کام سے اپر آ رہیں تھی ….اسکی دہاڈ سن کر وہ اسکے پاس آتی ہوئی بولی تھی جو غصے سے حور کو گھور رہا تھا ….
..مام اس سے کہ دیں کی یہ میرے سامنے نہ آیا کرے ورنہ اسکے لئے اچھا نی ہوگا ….
….زرخان ناز بیگم کو کہتا اور بنا حور کی طرف دیکھ وہا سے چلا گیا ..
…حور جو گردن جھکائے کھڑی تھی اسکے الفاظ سن اسکی آنکھیں پھر سے بھیگ گئی تھی…
..جب تمھیں معلوم ہے وہ تمہاری شقل تک دیکھنا پسند نہی کرتا ہے تو کیوں آتی ہو اسکے سامنے..ناز بیگم نفرت سے اسکی طرف دیکھتے ہوئی بولی ..
..میں تو نیچے جا رہی تھی مام …حور نے روتے ہوئے انکو جواب دیا ….
…میں نے کتنی بار مانا کیا ہے کی مجھے مام مت بلایا کرو میں تمہاری مام نہیں ہوں سمجھی….
…ناز بیگم نے حور کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کیا اور وہا سے جانے لگی ….
..اور ہاں آئندہ میں تمہارے منہ سے اپنے لئے یہ الفاظ نہ سنو …ناز بیگم جاتے جاتے مڑی تھی اور اتنا کہ کر وہا سے چلی گئی ….
جبکی ناز بیگم کی بات سن کر حور کے آنسوں میں اور بھی روانگی آ گئی تھی …….❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤حور بیٹا یہ بیا ابھی تک نہیں آئ اسکو یونی نہیں جانا ہے آج …..اس وقت سب بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب راحت بیگم نے حور سے پوچھا..
..جی پھوپو وہ بس آ ہی رہی ہے ….حور نے نظریں نیچے کئے انکی بات کا جواب دیا اور انکے برابر والی چیئر پر آکر بیٹھ گئی تھی ….
…راحت بیگم نے اسکی طرف دیکھا جو نظریں جھکا کر بیٹھی تھی انکو اس پل اس پر بہت ترس آیا تھا وہ جانتی تھی کہ اتنی ڈری ہوئی کیوں ہے ..
…اور اسکی وجہ زر خان کی وہاں موجودگی تھی اور ایسا ہمیشہ ہوتا تھا …
کیونکہ گھر کے سبھی فرد اس بات کو اچھے سے
جانتے تھے کی زرخان کو حور سے کتنی نفرت تھی اسکی موجودگی تک وہ اپنے آس پاس برداشت نہی کر سکتا تھا بس ایک سکندر صاحب ہی لاعلم تھے اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کی زرخان نے کبھی اپنی نفرت کا اظھار انکے سامنے نہی کیا تھا….
……السلام عليكم بیا نے وہاں آتے ہی سبکو سلام کیا تھا…
…وعلیکم السلام..
اسکے سلام کا جواب سب سے پہلے زرخان نے خوشدلی سے دیا تھا کیونکہ بیا اسکے لئے گھر میں سب سے زیادہ عزیز تھی اور وہ اسکو اپنی بہن کیطرح محبت کرتا تھا ….
…اٹھ گئی تم کبھی تو جلدی اٹھا جایا کرو کچھ حور سے بھی سیکھ لو اسکے ساتھ رہنے کا کچھ تو فایدہ ہو تمھیں راحت بیگم اسکے بیٹھتے ہی شروع ہو گئی تھی جس پر بیا بس حور کو گھور کر رہ گئی تھی…
….کیوں ڈانٹتی ہو بچی کو صبح صبح اٹھ جایا کرے گی جب اسکو سمجھ آ جاۓ گے ناز بیگم اسکی حمایت میں بولی تھی اور مسکرا کر بیا کیطرف دیکھا جو انکے برابر والی چیئر پر بیٹھی تھی….
….مام ٹھیک کہ رہی ہے پھوپھو آپ میری بہن کو میرے سامنے مت ڈانٹا کریں ورنہ میں آپسے ناراض ہو جاؤں گا زرخان راحت بیگم کو دھمکی کے انداز میں بولا اور پھر بیا کیطرف دیکھ کر مسکرا دیا تھا….
…جبکی سامنے بیٹھی حور نے اسکے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھا اور ایک خیال بڑی ہی شدّت سے اسکے دل میں آیا تھا کی کاش کبھی زر مجھسے بھی اس طرح مسکرا کر بات کرتے کبھی مجھے بھی اتنی ہی محبت سے دیکھتے وہ پھر سے اپنی نظریں نیچے کئے سوچے جا رہی تھی اب تک اسنے ناشتہ شروع بھی نہی کیا تھا….
…..حور بیٹا آپکی اسٹڈی کسی چل رہی ہے کوئی پریشانی تو نہی ہے نہ یونی میں…
…سکندر صاحب نے خاموش بیٹھی حور کیطرف دیکھ کر پوچھا تھا جبکی حور کا نام سنکر زرخان کے مسکراتے ہونٹھ سکڑ گئے تھے اور ناز بیگم نے بھی ناگواری سے اپنے شوہر کیطرف دیکھا تھا..
….جی بابا بہت اچھی چل رہی ہے اور کوئی پریشانی بھی نہی ہے..حور نے مختاصر سا جواب دیا..
…اچھا اللہ حافظ میں چلتا ہوں زرخان آفس جانے کے لئے اٹھتے ہوئے بولا تھا…
…بھائی آپ جا ہی رہے ہیں تو ہم دونوں کو بھی ڈراپ کر دیں یونی تک اسکو اٹھاتا دیکھ بیا جلدی سے بولی….
….نہی بیٹا مجھے جلدی ہی دیر ہو جائے گی آپ ڈرائیور کے ساتھ چلے جانا زرخان اسکو جواب دے کر پھر سے جانے کے لئے پلٹا تھا….اسکا جواب سنکر بیا منہ بنا کر رح گئی تھی….
…جب وہ کہ رہی ہے تو لے جاؤ دونوں کو اتنی بھی دیر کہاں ہوئی ہے سکندر صاحب اسکا انکار سنکر پھر سے بولے…
….ڈیڈ میرے پاس وقت نہی کی میں ان لوگوں کو یونی لےکر جاؤں اور پھر آفس ویسے بھی آج میری بےحد ضروری میٹنگ ہے اور میں لیٹ نہی ہونا چاہتا ہوں وہ اس بار کچھ تلخی سے بولا تھا اور پھر روکا نہی تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جبکی سکندر صاحب اسکے رویہ پر چپ سے رہ گئے تھے…
….کوئی بات نہی ماموں انکو دیر ہو رہی ہوگی اس لئے نہی لے کر گئے بیا انکی طرف دیکھ کر مسکرا دی تھی اور اسکی ہنسی دیکھ کر سکندر صاحب بھی زرخان کا ابھی کچھ دیر پھلے والا رویہ بھول گئے تھے جبکی پاس بیٹھی حور اچھے سے جانتی تھی اسکے انکار کی وجہ جو میٹنگ نہی وہ تھی ورنہ وہ کبھی بیا کو کسی چیز کے لئے منا نہی کرتا ہے اور ی سب سوچ کر ایک بار پھر اسکی آنکھیں بھیگ چکی تھی❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤ وہ مغرور چال چلتا ہوا جیسے ہی آفس میں داخل ہوا تو …
..وہا کام کرتے سبھی ورکرز اسکے آنے پر اپنی سیٹ سے کھڑے ہو کر اسکو سلام کرنے لگے جسکا جواب وہ سر کے اشارے سے دے رہا تھا ….
۔۔اسکے آفس میں کام کرتے سبھی ورکرز اسکے غصے سے پناہ مانگتے تھے …
..کچھ تو اسکی پرسنلیٹی ہی ایسی تھی کی سب اسکے سامنے بولنے سے پہلے سوچتے تھے اپر سے اسکی غصیلی عادت سے سب واقف تھے کیونکہ وہ غصے میں سب کچھ بھول جاتا تھا ..اسکو اپنا کام بہت صفائی اور اچھے طریقے سے کرنا پسند تھا …..وہ اپنے کام میں کوئی بھی غلتی برداشت نہیں کرتا تھا۔۔ …
۔۔وہ سیدھا اپنے روم میں آکر رکا تھا اسکا آفس بھی اسی کہ ترح شاندار تھا ۔۔
۔۔کیا حال ہے زر …اسکو بیٹے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب ظفر اسکے روم میں داخل ہوتے ہوئے بولا ..
…تم کب آیے ….زرخان جو کوئی فائل دیکھ رہا تھا ظفر کی آواز سن کر اپنی چیئر سے اٹھتے ہوئے بولا تھا …
…میں ابھی کچھ دیر پہلے ہی آیا ہوں اور سیدھا آفس چلا آیا ….ظفر اسکے سامنے والی چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولا ….
….اور میٹنگ کیسی رہی ….زرخان نے فائل ایک طرف رکھتے ہوئے ظفر سے پوچھا جو میٹنگ کے لئے شہر سے باہر گیا ہوا تھا ….
ظفر عنایہ کا بڑا بھائی تھا اور اسی کی طرح زرخان کا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ بزنس پاٹنر بہی تھے….
…بہت اچھی ….ظفر بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بولا ..تھا
…گڈ ..زرخان نے کہا اور دوسری فائل کھول کر دیکھنے لگا …..
…ہیلو کیا ہو رہا ہے …وہ دونوں بیٹھے میٹنگ کے بارے میں بات کر رہے تھے جب ایک بار پھر سے روم کا دروازہ کھلا اور عنایہ روم میں داخل ہوتے ہوئے بولی تھی …
…کچھ نہیں ہم کل کی میٹنگ کے بارے میں بات کر رہے تھے …ظفر عنایہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ..
عنایہ بہی انکے ساتھ آفس میں کام کرتی تھی ….یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کی وہ زرخان کے قریب رہنے کے لئے یہاں پر کام کر رہی تھی….
….اوکے واسے ظفر بھائ آپکو پتا ہے کل زر نے پھر سے فیصل کو ریسنگ میں ہرا دیا تھا …عنایہ نے مسکراتے ہوئے ظفر کو کل کی ریسنگ کے بارے میں بتایا ….
….واسے زر یہ فیصل بھی بہت ضدی ہے ہر بار تمسے ہارتا ہے اور پھر سے تمھیں چیلنج کرتا ہے …ظفر ہنستے ہوئے بولا تھا کیونکہ وہ بھی فیصل کو بہت اچھے سے جانتا تھا …
فیصل زرخان ظفر اور عنایہ یہ سب ایک ساتھ یونی میں تھے …..اور فیصل اور زرخان کی یہ لڑائی وہیں سے شروع ہوئی تھی جو یونی کے بعد بھی جاری تھی….
…تم شاید بھول رہے ہو ظفر کی وہ مجھسے زیادہ ضدی اور جنونی نہیں ہو سکتا ہے …زرخان نے مغرور سی مسکراہٹ سے ظفر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا …
..مجھے پتا ہے میرے بھائی تجھے مجھ سے زیادہ اور کون جانتا ہوگا میں تیری رگ رگ سے واقف ہوں …ظفر نے زرخان کیطرف دیکھا …
۔۔۔اور میں بہی۔انکی باتیں سنتی عنایہ بھی بولی تھی اسکو اس بات کی غلطفہمی تھی کی وہ زرخان کے بےحد قریب ہے جبکہ ایسا نہی تھا…
…اگر زرخان کے کوئی قریب تھا تو وہ ظفر تھا جو زر کے دل تک کی بات سے واقف تھا۔
۔۔۔۔نہی تم نہی واقف ہو میری ہر بات سے زر اسکی بات سے نفی کرتا بولا جبکی اسکی بات سنکر عنایہ تلملا اٹھی تھی ….
..اچھے زر یہ بتاؤ کی تم پارٹی کب دے رہے ہو اپنی جیت کی خوشی میں عنایہ بات بدلتے ہویے بولی…
….ہاں پارٹی تو بنتی ہے بھائی ظفر بھی اسکی بات سے متفق ہوا….
…ٹھیک ہے چلتے ہے پھر تینوں ڈنر پر ابھی نہی اک دو دن بعد کیونکہ ابھی میں تھوڑا بیزی ہوں اسکے بعد چلتے ہے… زر راضی ہوتے بولا….
….چلو پھر ٹھیک ہے سنڈے میں چلتے ہیں ظفر نے آگے کا پروگرام بتایا تو زر بھی مان گیا تھا ❤❤❤❤جاری ہے.
