Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

❤❤❤❤❤❤کہاں چلی گئی ہو تم گل کیا تمھیں ایک بار بھی اپنی بہن کی یاد نہیں آئی بولو کیا اتنی ناراض ہو گئی ہو تم مجھ سے کہ ایک بار بھی تم نے پلٹ کر نہیں دیکھا..
“ناز بیگم گل کی تصویر ہاتھ میں لئے بیٹھی تھی اس میں وہ زر کو اپنی گود میں لئے بیٹھی تھی انھیں یاد تھا جب زر پیدا ہوا تھا تو وہ کتنی خوش ہوئی تھی اور زر کا نام بھی گل نے اپنی پسند سے رکھا تھا..”
“ایسا نہیں تھا کہ انہیں اتنے سالوں میں گل کی یاد نہیں آئی تھی وہ ہر روز اسکی تصویر سے باتیں کرتی تھی…”
” وہ باہر سے جتنی سخت نظر آتی تھی اندر سے انکا دل اتنا ہی نرم تھا جبھی تو آج تک سکندر صاحب انکے دل کی بات نہیں جان سکے تھے ..”
“میں مانتی ہوں کہ میں نے بہت کچھ سنایا تھا اس دن غصّے میں اور بہت بددعا بھی دی تھیں پر وہ سب میں نے دل سے نہیں بولا تھا تمہاری وجہ سے امی کی جو حالت ہوئی تھی تو بس وہ الفاظ میرے منہ سے اس وجہ سے ہی ادا ہوئے تھے..”
“ناز بیگم کی آواز بولتے بولتے رندھ گئی تھی آنکھوں میں ایک دم پانی بھر آیا تھا..”
“پر گل تم نے تو اس دن کے بعد کبھی پلٹ کر بھی نہیں دیکھا کیا بلکل یاد نہیں آتی ہماری اتنا ناراض ہو گئی ہو تم ہم سے جبکہ ناراض تو ہمیں ہونا چاہئے تم سے پر دیکھو میں آج بھی تمہارے واپس لوٹنے کا انتظار کرتی ہوں مگر تم نہیں آئی..”
“وہ گل کی تصویر کو اپنے سینے سے لگا کر سیسکنے لگی تھی یہ وہ درد تھا جو آج تک انکو سکون نہیں لینے دیتا تھا ایسا ہی کچھ حال عمر صاحب کا بھی تھا دونوں ہی بہن بھائی اپنے درد کو ایک دوسرے سے چھپاتے رہتے تھے مگر دونوں ہی گل کے لئے تڑپتے تھے ….”
“کیا ہوا ہے ناز بیگم آپ رو کیوں رہیں ہے..”
“سکندر صاحب روم میں داخل ہوئے تھے ناز بیگم کی انکی طرف پیٹھ تھی پر وہ انکی سیسکی کی آواز سن چکے تھے اس لئے تھوڑا پریشان ہوئے تھے…”
“سکندر صاحب کی آواز سن کر ناز بیگم نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کئے اور گل کی فوٹو کو تکیے کے نیچے رکھ دی تھی..”
“نہیں میں کہاں رو رہی ہوں ..؟
وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی اور ڈریسنگ کے پاس جاکر چیزوں کو ادھر ادھر کرنے لگی تھی …”
“پر میں نے تمہاری آواز سنی تھی رونے کی..”
“سکندر صاحب کو حیرانی ہو رہی تھی کہ وہ رو کیوں رہی تھی اور اگر رو رہی تھی تو ان سے جھوٹ کیوں بول رہی تھی .
“آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ نہیں ہے اور بھلا میں کیوں رونے لگی وہ جلدی سے اپنی بات کہتی واشروم میں گھس گئی تھی ورنہ انکو ڈر تھا کہ اگر وہ کچھ دیر اور وہاں رکتی تو ضرور رو دیتی..”
“جبکہ ان کے جانے کے بعد سکندر صاحب بہت دیر تک سوچ میں کھڑے رہ گئے تھے❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
”””””’زر کے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی ٹہلتے ٹہلتے اسکے اب پیر بھی درد کرنے لگے تھے ..”
“اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جو ایک بجا رہی تھی وقت دیکھ کر اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا کیونکہ وہ زر کے پاس بہت دیر سے فون کر رہی تھی جو اسکی کال تک پک نہیں کر رہا تھا اور اب اتنا وقت ہو گیا تھا اسکو گھر سے گئے ہوئے۔۔”
“جب وہ غصّے میں گھر سے نکلا تھا حور بھی اسکو روکنے کے لئے اسکے پیچھے گئی تھی لیکن وہ اسکے بنا ایک سنے چلا گیا تھا وہ تو شکر تھا کہ گھر کا کوئی فرد وہاں موجود نہیں تھا ورنہ اسکو انکے ہزار سوالو کے جواب دینے پڑتے…”
“وہ اس وقت کا گیا تھا پر اب تک واپس نہیں لوٹا تھا اپر سے وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ جب سب نے ڈنر کے وقت اس سے زر کے بارے میں پوچھا تو اس نے سب سے خود ہی جھوٹ بول کر یہ بتا دیا تھا کہ زر آج لیٹ آئے گا پر اب پچھتا رہی تھی.. …
وہ یہ سب سوچ رہی تھی کہ تب ہی باہر سے کار کی آواز سنائی دی تو وہ جلدی سے اپنے روم سے نکلی تھی اس نے شکر کا سانس لیا تھا کہ زر ہی ھوگا..”
“وہ جلدی جلدی سے باہر پؤرچ کی طرف جا رہی تھی کہ سامنے سے آتے زر کے ساتھ عنایہ کو دیکھ کر اسکے قدم وہیں رک گئے تھے”
جو اسکے بازو پہ ہاتھ رکھے اسکو کچھ کہ رہی تھی یہ منظر دیکھ کر حور کو بلکل اچھا نہیں لگا تھا اسکو حیرانی ہوئی تھی اس وقت زر کے ساتھ اسکو دیکھ کر مگر اسکی نظر جیسے ہی زر کے ہاتھ پر پڑی تو وہ ایک دم سے اسکے پاس بھاگی تھی….”
“زر یہ آپکے ہاتھ پہ چوٹ کیسے لگی اور یہ سر پہ بھی …؟؟”
…حور اسکے ہاتھ اور سر پہ لگی چوٹ کو دیکھ کر بہت ہیں فکرمندی سے بولی اور اسکے زخم کو چھونے لگی تھی. “
زر کے زخم دیکھ کر تڑپ ہی تو گئی تھی آنکھیں آنسو سے بھری تھی..”
“جبکہ عنایہ کو حور کا زر کے قریب آنا اور اس طرح سے فکر کرنا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ایک ناگوار نظر اس پہ ڈالی تھی اس نے..”
“تم فکر مت کرو چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا کوئی بڑی بات نہیں ہوئی ہے…”
“زر اسکے ہاتھوں کو ہٹاتا ہوا بولا اور ایک نظر اسکے چہرے پہ ڈالی تھی اسکی لال آنکھیں اسکے بہت دیر تک رونے کا پتا دے رہیں تھی زر کو ایک پل کے لئے دکھ ہوا تھا اسکی یہ حالت دیکھ کر مگر پھر اسکی وہ بات یاد آتے ہی ایکدم سے غصّہ میں آیا تھا…”
“”یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ کتنی تو چوٹ لگی ہے آپکو اور آپ کہ رہے ہیں کہ چھوٹا سا ایکسیڈنٹ تھا …”
“حور اسکی چوٹ کو دیکھ کر بولی تھی جو زیادہ نہیں تھی صرف پیشانی پہ اور ہاتھ پر تھی پر پھر بھی اسکو دکھ ہو رہا تھا زر کو اس حالت میں دیکھ کر …”
“میں نے بولا نہ کہ زیادہ نہیں ہے پریشان مت ہو تم اور ہاں عنایہ تم اس وقت واپس مت جانا صبح چلی جانا اپر گیسٹ روم بھی خالی ہے…”
“وہ حور کو جواب دے کر عنایہ سے مخاطب ہوا تھا
“اسکو حور پہ کتنا بھی غصّہ تھا مگر وہ عنایہ یا پھر کسی اور کے سامنے حور پہ اپنے غصّے کا اظہار نہیں کرنا چاہتا تھا اسکو حور پہ کتنا بھی غصّہ تھا پر اب وہ کسی کے سامنے اپنے غصّے کا اظہار کر کے حور کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا…”
“”ٹھیک ہے اور اپنا خیال رکھنا یہ دوائی ہے اسکو لے لینا درد نہیں ہوگا زیادہ…”
عنایہ اسکی بات سن کر زر کے ہاتھ میں اسکی دوائی دیتے ہوئے بولی اور ایک نظر حور کو دیکھ کر اپر کی طرف چل دی تھی…”
“اسکے جانے کے بعد زر بھی اپنے روم میں چلا گیا تھا جبکہ حور وہیں کھڑی رہ گئی تھی اسکو زر کے سرد رویہ سے بےحد تکلیف ہو رہی تھی پر اسکو زر سے بات تو کرنی ہی تھی وہ اپنے آنسو صاف کرتی روم میں داخل ہوئی ….
“زر بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا اسنے ایک بازو اپنی آنکھوں پہ رکھا ہوا تھا حور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے برابر میں جا کر بیٹھی تھی …
“زر پلیز میرے ساتھ ایسا نہ کریں بس ایک بار میری بات تو سن لے میں نے صرف آپکے غصّے کی وجہ سے نہیں بتایا تھا آپکو مجھے لگا تھا آپ اس چھوٹی سی بات کے لئے ناراض ہو جائے گے مجھ سے اس لئے آپکی ناراضگی کا سوچ کر میں چپ رہی تھی…
“یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے حور مجھے بہت دکھ ہے کہ تم نے مجھے نہیں بتایا شاید اس وقت اتنا برا نہ لگتا جتنا اب لگ رہا ہے کیا..
میں تمہارے لئے اتنی بھی اہمیت نہیں رکھتا کہ تم مجھے اپنی ہر بات بتاؤ …
زر اپنی آنکھوں سے بازو ہٹاتا ہوا بولا تھا اور حور کو دیکھا جو اسکو ہی دیکھ رہی تھی.
..اور رہی بات ناراضگی کی تو تمھیں اگر میری ناراضگی کی اتنی ہی فکر ہوتی نہ تو تم اسکے ساتھ جانے کی بجائے مجھے فون کر دیتی …
“زر اتنی بات کہ کر پھر سے بازو اپنی آنکھوں پہ رکھ چکا تھا…
“زر پلیز اس وقت میرے سمجھ نہیں آیا کی میں کیا کروں اور پھر…
“حور میرے سر میں درد ہے مجھے سونے دو…
وہ جو بول رہی تھی زر کی بات پر خاموش ہو کر اسکو دیکھنے لگی تھی جو ابھی بھی ویسے ہی لیٹا ہوا تھا…
“زر میری بات تو سن لیں ایک بار …
حور اسکے دل سے غلط فہمی نکال دینا چاہتی تھی کہ اسکو اسکی ناراضگی کی کوئی فکر نہیں ہے…
“حور تم نے سنا نہیں میرے سر میں درد ہے مجھے سونا ہے اس بار زر سخت لہجے میں بولا تو حور اپنے آنسو پیتی اٹھی تھی اور دوسری سائیڈ آ کر اسکی طرف کروٹ لے کے لیٹ گئی تھی اس سے زر کی بےرخی برداشت نہیں ہو رہی تھی اور اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ زر کو کیسے سمجھایں وہ اسکی طرف دیکھتی دیکھتی ہی نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھا❤❤❤❤❤❤❤❤❤
””””””””””””””””””””””””'””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
“”””””””””صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو حور اسکے سینے پہ سر رکھے سو رہی تھی جبکہ اسکا ایک ہاتھ زر کے چوٹ لگے ہوئے ہاتھ پہ رکھا ہوا تھا شاید اس نے سونے سے پہلے اسکا ہاتھ تھاما ہوا تھا ….
“”زر لیٹا ہوا اسکے چہرے کو دیکھنے لگا تھا اس نے حور کے ہاتھ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالا اور حور کے چہرے پہ آۓ بالوں کو اپنے ہاتھ سے ہٹانے لگا ایک ہی دن میں اسکا چہرہ کتنا مرجھا سا گیا تھا زر کو تکلیف ہوئی تھی..
“رات وہ غصّے میں گھر سے نکلا تھا ایسا نہیں تھا کہ وہ حور پہ شک کر رہا تھا اسکو بس یہ بات بلکل اچھی نہیں لگی تھی کہ حور نے اسکو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا اسکو لگا کہ حور اس پہ اعتبار نہیں کرتی ہے تبھی تو اس سے یہ بات چھپائی تھی بس یہی سوچتے سوچتے وہ کار ڈرائیو کر رہا تھا بس اسی وجہ سے اسکا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہ عنایہ کو کال تو کرنا نہیں چاہتا تھا اگر کو بلاتا تو وہ اسکی حالت سمجھ جاتا اور پھر اس سے سوال کرتا اس لئے اس نے عنایہ کو بلانا مناسب سمجھا تھا اور اب اسکا حور پہ غصّہ تو ختم ہو گیا تھا مگر اسکی ناراضگی برقرار تھی..
“وہ حور کو دیکھتا اپنی سوچوں میں گم تھا جب حور کسمسا کے اٹھی تو سب سے پہلے اس نے زر کی طرف دیکھا تھا جو لیٹا ہوا اسکو ہی دیکھ رہا تھا..
..دونوں کی آنکھوں میں اس وقت الگ الگ جذبات تھے ایک کی آنکھوں میں…ناراضگی ….شکوہ تھا.
“جبکہ حور کی آنکھوں میں دکھ تھا اسکی بےرخی کی وجہ سے تکلیف تھی ….
“تبھی زر نے اس پہ سے اپنی نظریں ہٹائی تھی اور اسکا سر اپنے سینے سے ہٹاتا اٹھ بیٹھا تھا..
اگر وہ کچھ دیر اور اسکی آنکھوں میں دیکھ لیتا تو اپنی ناراضگی ختم ہی کر دیتا جو وہ فلحال نہیں چاہتا تھا..
“اب کیسی ہے آپکی طبیعت درد تو نہیں ہو رہا ہے آپکو ….
“حور اسکو اٹھتا دیکھ کر خود بھی اٹھ بیٹھی تھی اور اسکے ہاتھ کی چوٹ کو دیکھ کر بولی تھی ..
“ہاں ٹھیک ہے …
“زر صرف تین لفظوں میں اسکو جواب دے کر اٹھا اور واشروم کی طرف بڑھا تھا..
جبکہ اسکی بےرخی پہ حور کی آنکھیں پھر سے نم ہوئی تھی…
“اچھا آپکے لئے ناشتہ روم میں ہی لے آؤں ..
حور خود پہ ضبط کرتی اس سے پھر سے مخاطب ہوئی تھی غلطی اسکی ہی تھی اب سزا تو ملنی تھی اسکو اس بات کے لئے…
میرے ہاتھ میں چوٹ لگی ہے حور پیر میں نہیں میں نیچے چل کے جا سکتا ہوں ناشتہ کرنے کے لئے وہ بنا اسکی طرف دیکھے واشروم میں گھس گیا تھا حور اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی تھی…
“”وہ لوگ جب ناشتے کے لئے ڈائننگ روم میں گئے تو سب زر کی چوٹ دیکھ کر پریشان ہو کر اسکی پاس آئے تھے جن کو زر نے بڑی مشکل سے بات بنا کر انکو سمبھالا تھا اسکی چوٹ زیادہ نہیں تھی تو سب لوگوں کو کچھ اطمینان سا ہوا تھا اور
..اس دوران بھی حور زر کو کچھ نہ کچھ کھانے کے لئے دیتی جسکو زر منع کر رہا تھا جس سے حور کا منہ اتر جاتا تھا اور اسکا اترا چہرہ دیکھ کر عنایہ اندر ہی اندر خوش ہو رہی تھی..❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤حور ایک بات پوچھوں تم سے سچ بتانا پلیز ..
“بیا حور کو دیکھ کر بولی تھی جو اپنی ہاتھوں کی لکیروں میں نہ جانے کیا تلاش کر رہی تھی…
“ہاں یار پوچھو اس میں اجازت کی کیا بات ہے …
حور اسکی طرف دیکھ کر بولی جو اسکو ہی دیکھ رہی تھی…
“تمہاری اور بھائی کی لڑائی ہوئی ہے کیا ..
“بیا اسکو جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی اسکو کچھ تو غلط ہونے کا احساس ہوا تھا زر کی چوٹ اور پھر حور کا اداس چہرہ وہ صبح سے دیکھ رہی تھی اور زر کا حور کو نظر انداز کرنا اس کی آنکھوں سے چھپا نہیں رہا تھا…
“بیا کی بات پر حور نے اپنا چہرہ نیچے کر لیا تھا وہ کبھی بھی بیا سے جھوٹ نہیں بول سکتی تھی…
“کیا ہوا ہے حور مجھے نہیں بتاؤ گی ہو سکتا ہے میں تمہاری مدد کر دوں..
“بیا نے اسکا چہرہ اپر کیا تھا جو آنسو سے بھیگا ہوا تھا اور بیا کی بات سن کر حور اسکے گلے لگ کر رونے لگی تھی ..
“اسکو روتا دیکھ کر بیا ایکدم سے پریشان ہوئی تھی پر جبکہ حور بس رو رو کر اپنا دل ہلکا کر لینا چاہتی تھی کل رات سے اب تک کے سب آنسو بہا دینا چاہتی تھی…
“”حور بات سنو میری یہ رونا بند کرو اور مجھے بتاؤ کیا ہوا کیوں اداس ہو اتنی ….بیا اسکو خود سے الگ کرتی ہوئی بولی اور اسکے آنسو صاف کئے تھے اسکو بہت تکلیف ہوتی تھی حور کو اس طرح دیکھ کر…
“”بیا کی بات پہ حور خاموش ہوئی اور پھر اسکی ایک ایک کر کے ساری بات بتاتی چلی گئی تھی اور پھر سب بات بتا کر پھر سے اسکے گلے لگ کر رونے لگی تھی…
“”بیا میں مانتی ہوں کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے مجھے یہ بات زر سے چھپانی نہیں چاہئے تھی پر میں کیا کرتی مجھے بس انکے غصّے سے ڈر لگتا ہے ..
حور اسکے ہاتھ تھام کر بولی تھی..
“تم اپنی جگہ بلکل صحیح ہو حور لیکن بھائی بھی غلط نہیں ہیں جانتی ہو بیوی اور شوہر کا رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس میں دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات راز نہیں رکھتے ہیں ..
اور پھر تم نے یہ بات جاننے کے بعد کہ بھائی فیصل کو تمہارے آس پاس بلکل پسند نہیں کرتے اور تم اسکے ساتھ گھر آئی یہاں تک کے بھائی کو بتایا بھی نہیں اور انکو یہ بات جس طرح سے پتا چلی ہے تو انکا اتنا غصّہ کرنا تو لازمی ہے ….
“”بیا اسکو بڑی بہنوں کی طرح سمجھا رہی تھی..
“تو تم بتاؤ اب میں کیا کروں بیا مجھ سے انکی یہ بےرخی برداشت نہیں ہو رہی ہے …
حور نے اس سے التجا کی تھی..
“کرنا کیا ہے انکو پیار سے مناؤ اتنا تو کر ہی سکتی ہو نہ تم میری روتی شکل بہن…
بیا اس انداز میں بولی تھی کہ حور ایک دم سے ہنس پڑی تھی اسکو ہنستا دیکھ کر بیا کو سکون ملا تھا…
“ٹھیک ہے میں انکو منا لوں گی تم دیکھنا ..حور اس بار مسکرا کر بولی تھی