Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan NovelR50515 Mera Ishq Teri justujoo (Last Episode)Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq Teri justujoo (Last Episode)Part 2
Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
اتنی محبت کیوں کرتی ہو۔۔ مجھ سے۔۔۔۔؟؟ کہ۔۔۔۔ اب تو خود سے بھی جیلسی ہونے لگی ہے۔
اسکی آنکھوں سے گرتے آنسو کو اس کے گالوں سے صاف کیا۔
میں۔۔۔ نہہہہیں۔۔۔ کرت۔۔ییییی!!
تابی کادل زور سے دھڑکا۔
اچھا۔۔۔۔۔پھر۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔؟؟
عمر نے پواٸزن کی بوتل اس کے سامنے کی تو وہ بری طرح سٹپٹاٸی۔۔
سوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا۔
یہ۔۔۔۔ میری نہیں۔۔۔!
لڑکھڑاتے اور ٹوٹے لہجے میں کہا۔
تابی۔۔۔!! میں یہ تمہارے ہاتھ میں دیکھ چکا تھا۔۔۔ اسلیے۔۔۔ جھوٹ مت بولو۔
عمر کو وہ بوتل گاڑی کے پاس ملی تھی۔
اور اندھیرے میں تیر چھوڑا تھا۔کہ یہ اس کے ہاتھ میں ہی تھی۔
تابی کا سر جھک گیا۔
تو۔۔۔۔ ؟؟ کیا کرتی ۔۔۔؟؟
اور ویسے بھی۔۔ میں جیوں یامروں۔۔۔۔۔۔!!
ابھی تابی کے الفاظ منہ میں ہی تھے۔ کہ عمر نے اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھے اسے اپنی طرف کیا
اور اس کے چہرے پے جھکا۔ اسکی سانسیں بندکر گیا۔۔
وہ بے بسی سے ہاتھ مارتی رہ گٸ۔ اور پھر ہار مان خود کو اس کے سہارے چھوڑ دیا۔
عمر نے اس کے ماتھے کے ساتھ ماتھا جوڑا۔دونوں ہی کی آنکھیں بند تھیں۔
آٸندہ اگرمرنے کی بات کی تو۔۔۔ ان سانسوں کو ہمیشہ کے لیے بند کردوں گا۔
گھمبیر لہجے میں کہتا وہ تابی کے دل کے تار چھیڑ گیا۔ عمر نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔
ایم سوری۔۔۔ میری جان۔۔۔۔!!
جو میں نے کیا تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔شاید معافی کا حقدار بھی نہیں۔۔۔۔ میں۔۔۔۔!!
لیکن۔۔۔ پھر بھی۔۔۔۔۔ تم سے دستبرداری نہیں اختیار کر سکتا۔۔۔۔!!
تم نے تو ہمیشہ مجھ سے عشق کیا ہے۔۔۔۔
لیکن۔۔۔ تم میرا۔۔۔ جنون بن گٸ ہو۔۔۔۔!!
اس کے ماتھے پے محبت کی مہر ثبت کرتے وہ اسے مان بخش رہا تھا۔
آ۔۔۔پ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔طلا۔۔۔۔۔۔!!
تابی کوابھی بھی وہ بات۔۔۔۔نہیں بھول رہ تھی۔
معاف کردو۔۔۔ آٸیندہ کھبی بھی ایسا نہیں کہوں گا۔۔۔
عمر نے اپنے ہاتھوں کو کان لگایا۔
ایک شرط پے۔۔۔۔۔!!
تابی نے بھی دل سے عمر کو معاف کر دیا۔ لیکن ۔۔۔۔ سبق تو سکھانا تھا۔
ہر شرط منظور ہے۔۔۔! جھٹ سے بولا
پہلے سن تو لیتے۔۔۔۔
1000 times sit stand.
بہت نخرے سے بولی۔
واٹ ۔۔؟؟ سیریسلی۔۔۔۔۔۔؟؟
عمر حیران ہوا۔
جی یس۔۔۔۔۔!!
سینے پے ہاتھ باندھے وہ دلہن کے روپ میں عمر کے دل پے بجلاں گراریی تھی۔
tabi……!! today is our wedding nite…. and you spoil it……..!!
عمر نے جان بوجھ کے معنی خیزی سے بات ادھوری چھوڑ دی.
تابی بلش کرنے لگی۔
جی نہیں۔۔۔۔ !!
ہاں کرنے سے پہلے سوچنا تھا۔
تابی نہ مانی۔
ہمممممم۔۔۔۔ عمر سوچ میں پڑ گیا۔
آگے بڑھ کے تابی کو گود میں اٹھایا۔ اور اٹھک بیٹھک کرنے لگا۔
تابی حیرانی سے اسے دیکھے گٸ۔
یہ۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔؟؟
تابی سٹپٹاٸی۔
سزا پوری کر رہا ہوں۔۔۔۔
بنا اسکی طرف دیکھے وہ اپنا کان جاری رکھے ہوۓ تھا ۔
تابی کے چہرے پے سماٸیل آگٸ۔
عمر۔۔۔۔۔!! آپ۔۔۔ تھک جاٸیں گے۔ اس کے چہرے کی طرف دیکھتے پیار سے کہا۔
عمر نے گہری نظروں اسکی جانب دیکھا۔ اسکا چہرہ شرم سے جھک گیا۔
پہلی بار۔۔۔۔ بیوی نے کوٸی۔۔۔ خواہش کی ہے۔۔۔۔! کیسا پوری نہ کروں۔۔۔۔؟؟
آنکھوں کے رستے نہارتے وہ اسے پزل کر رہا تھا۔
پھر ایک پل میں تابی کے چہرے سے مسکراہٹ ہٹ گٸ۔ سبحان کو سوچتے وہ پریشان ہوٸی۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ عمر نے اسکے چہرے کے بدلتے زاویے نوٹ کیے۔
سب۔۔۔۔حان۔۔۔۔ بھاٸی۔۔۔۔!! انہوں نے مجھے۔۔۔۔ گھر۔۔۔ سے نکال دیا۔ لہجہ پھر روندھ گیا۔
عمر نے گہرا سانس لیا۔
شادی کے بعد رخصتی ہی ہوتی ہے۔۔۔ اب رخصتی کو تم۔۔۔۔ نکالنا تو نہ کہو۔۔۔ یار۔۔۔!! عمر نے اسے چیٸر کرن چاہا۔
لیکن ۔۔۔۔بھاٸی۔۔۔ ناراض ہیں۔۔۔ مجھ سے۔۔۔!! میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔
فوراً سے سوال کا انداز بدلا۔
ٹھیک ہو جاٸیں گے۔۔۔۔ جب سارا سچ پتہ چلے گا۔۔۔
آپ۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے نیچے اتاریں۔۔۔ !! آپ ۔۔۔ تھک جاٸیں گے۔۔۔!!
تابی بولتے میں اسکی سانس پھولتی دیکھ فوراً بولی۔
بیو ی کا بھرم کیسے توڑ دوں۔۔۔؟؟ عمر نے دھیرے سے کہا۔۔۔۔
آپ۔۔۔۔ صلہ۔۔۔۔ سے بہت۔۔۔ محبت کرتے تھے۔۔۔۔؟؟
اچانک سوال پے عر چونکا۔
تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔۔؟؟
اسکی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا۔۔
کچھ پل یونہی بیت گۓ۔
آپکی باتوں میں۔۔۔ اس کے لیے کیٸر ہے۔۔۔۔۔ لیکن آنکھوں۔۔۔ میں۔۔۔۔ اسکا ۔۔۔ عکس ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ دکھا۔
سچے دل سے کہا۔
عمر ایک دم تھما۔
اور پیار سے اسے دیکھنے لگا۔
اچھھھھھاااااا!! تو کس کا عکس ۔۔۔۔۔ دکھتا ہے۔۔۔۔؟؟
تابی نے نظریں جھکالیں۔
آج عمر کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے۔ اس کے دل کی دھڑکن پھر سے تیز ہوگٸ۔
تابی۔۔۔۔!! تم نے ثابت کیا ہے۔۔۔۔ کہ تم نے میری جستجو کی اور محبت سے عشق تک کا سفر طے کرتی چلی گٸ۔۔۔
لیکن میرے لیے تم کب میرا جنون بن گٸ ۔۔۔مجھے خود بھی نہ نہیں پتہ چلا۔
عم کی باتیں تابی کے لیے ٹھنڈی پھوار کی طرح تھیں۔
دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔
اتنے آنسوٶں کے بعد اللہ نے آخر اسے اسکی محبت سے ملا دیا تھا۔
وہ اللہ کا جنا شکرادا کرتی کم تھا۔
پواٸزن ہاتھ میں رھے بھی وہ خودکشی کا گناہ نہیں کر پاٸی۔
اور اللہ نے اسے اس کے صبرکا پھل دیا۔
ویسے ایک۔۔۔۔ بات ہے۔۔۔۔! تم۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھ سے زیادہ جانتی ہوناں۔۔۔۔۔!!
بچپن سے ہی۔۔۔۔
چھپ چھپ کے مجھے دیکھنا۔۔۔۔
مجھے سوچ کے مسکرانا۔۔۔۔۔
مجھے دکھی دیکھ کے آنسو بہانا۔۔۔۔
میری ڈانٹ پے چپکے چپکے رونا۔۔
میری شرٹ کر چوری کرنا۔۔۔۔۔۔!!
یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔۔ کب۔۔۔کیا میں۔۔۔نے۔۔۔؟؟
آخری بات پے تڑپ گٸ۔عمر زیرِ لب مسکرایا۔
جب ۔۔۔ اٹھا کے لےکے گٸ تھی تو اسی وقت دیکھ لیا تھا میں نے۔۔۔!! لہجے میں شرارت تھی۔
تابی نے سر جھکا کے زبان دانتوں تلے دباٸی۔
عمر۔۔۔۔!! بس کریں۔۔۔
تابی نے اسے مسلسل اٹھک بیٹھک کرتے دیکھا۔ تو دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے بول دی۔
پکا۔۔۔۔۔؟؟
عمر نے تصدیق چاہی۔ تو تابی نے اثبات میں سر ہلادیا۔
مطلب۔۔۔۔ سزا ختم۔۔۔۔!! عمر مسکایا۔
اور محبت شروع۔۔۔۔۔!!
باقی کے الفاظ اسکے کان کی لو کوچھوتے کہے۔ تو وہ اپنا چہرہ مزید اسکے سینے میں چھپا گٸ۔۔
عمر اسے گود میں اٹھاۓ ہی بستر پے لایا۔ اور دھیرے سے لٹا دیا۔
خود اس کے پاس ہی۔۔ اسکے گرد بازو رکھے اسکے فرار کا راستہ روک اس کے چہرے پے جھکا۔
عمممممرررررر!! بمشکل منہ سے نکلا۔
جی جانِ عمر۔۔۔۔۔!! عمر اس کے بالوں پے لب رکھے خمار آلود لہجے میں بولا۔
مجھھھھےےےے چییننننج۔۔۔۔۔ککرنااااا ہے۔۔۔۔!!
ہکلاتے ہوۓ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ بولی۔
ہاں۔۔۔۔! تو کر لو۔۔۔ کس نے روکا ہے۔۔۔۔؟؟
عمر نے لاپرواہی سے کہتے پیچھے ہوتے کہا۔ وہ فوراً اٹھی۔کہ مبادا پھر سے وہ اس کے سحر میں نہ جکڑی جاۓ۔
لیکن اس کے اٹھنے سے پہلے ہی عمر نے لاٸیٹ آف کر دی ۔ اور اسکی طرف بڑھا۔ وہ وہیں ٹھٹھکی۔۔
وہ پوری جان کپکپا رہی تھی۔
لیکن رات کی تاریکی کے ساتھ عمر کی جسارتیں بھی بڑھتی جا رہیں تھیں۔
اور دور چاندعشق میں ڈوبے ان دونوں دلوں پے صدقے واری ہو رہا تھا۔









وہ دونوں کافی دیر سے بیٹھیں انتظار کر رہی تھیں۔ کہ وہ شخص اندر داخل ہوا۔
خوش آمدید۔۔۔۔۔!!
پری۔۔۔!! کیسی ہو۔۔۔؟؟
خالد نے کافی دیر بعد اندر آتے صلہ کو پرجوش انداز میں مخاطب کیا۔۔
صلہ چونکی۔
کون۔۔۔۔ہو۔۔۔تم۔۔۔؟؟
صلہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸی۔
جکہ سحر نے وہیں بیٹھے سبحان کو لوکیشن سینڈ کی۔ اور مطمیٸن ہوگٸ۔
ارے۔۔۔۔۔۔! مجھے نہیں۔۔۔ پہچانا۔۔۔۔؟؟
خالد حیران ہوا۔ یا شاید ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔۔ صلہ سمجھ نہ پاٸی۔
ارے جان۔۔۔۔!! میں خالد ہوں۔۔۔۔۔!!
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔!! اور وہ عورت کہاں ہے۔۔ جو ہمیں۔۔ یہاں لاٸی۔۔؟؟
صلہ کو اسکے جان کہنے پے ہی میٹر گھوما تھا۔
افففففف۔۔۔!! اتنا غصہ۔۔۔۔۔۔؟؟ ویسے۔۔۔۔ جچتا بھی ہے تم پے ۔۔۔۔!!
خباثت سے کہتے وہ صلہ کی جانب بڑھا۔
اور وہ عورت۔۔۔۔ اپنا کام کر کے جا چکی ہے۔۔۔
ہاتھ آگے بڑھایا۔
خبردار۔۔۔۔!! دور رہو۔۔ مجھ سے۔۔۔!! ورنہ منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔۔!!
صلہ نے خوب جاندار انداز میں دھمکی دی۔۔۔
ارے واہ۔۔۔۔!! میرے گھر میں کھڑے ہو کے۔۔۔۔۔۔ مجھے ہی دھمکی۔۔۔۔۔۔؟؟
خالد نے مذاق اڑایا۔
دیکھو۔۔۔۔! سبحان کو چھوڑ دو۔۔۔۔اور میرے پاس آجاٶ۔۔۔!!
زندگی کی ہر آساٸش دوں گا۔۔۔۔ بس میری بن جاٶ۔۔۔
رازداری سے کہتا وہ صلہ کو اندر تک دہلا گیا۔
سبحان کے دوست ہوناں۔۔۔ تم۔۔؟؟
صلہ نے اب کے غصے سے دیکھا۔ صلہ کو یاد آگیا تھا۔۔۔
تو اتنا تو جانتےہو گے۔۔۔
سبحان حیات خان ۔۔۔۔ اپنی چیزیں کسی کو دینے کا روادار نہیں۔۔۔ تو میں تو ۔۔۔ اسکی بیوی ہوں۔۔۔!!
سوچو۔۔۔۔!! جب اسے پتہ چلے گا۔۔۔ کہ تم نے۔۔۔ مجھے کڈنیپ کیا ہے۔۔۔۔۔!! تو وہ تمہارا کیا حال کرے گا۔۔
صلہ نے بنا ڈرے اچھا خاصا اسے ڈرانا چاہا۔
تبھی لاٸیٹ چلی گٸ۔
دونوں باتوں میں اتنا مگن تھے۔کہ کب سبحان اپنے آدمیوں سمیت اسے بنگلے میں داخل ہوا۔اور سب پے حاوی ہوتا چلا گیا۔۔ خالد کو پتہ ہی نہ چلا۔
اور دروازے کےپاس رک گیا۔ اور انکی باتیں سننے لگا۔
جہاں خالد کی بات نے اسکے غصے کو ہوا دی۔ وہیں صلہ کا اسے دھمکی دینا۔۔۔ سبحان کے چہرے پے مسکان لے آیا تھا۔
بنا آواز پیدا کیے وہ اندر داخل ہوا۔اور ساتھ ہی لاٸیٹ آف کر دی۔ سحر سبحان کو دیکھ چکی تھی۔ اور بہت خوش تھی۔
لاٸیٹ جانے سے صلہ سحر کی طرف پلٹی۔
لیکن بہت قریب سے سبحان کے کلون کی خوشبو اسے محسوس ہوٸی۔
سبحان نے اسکی گردن پے ہاتھ رکھتے مخصوص رگ کو دبایا۔ تو وہ وہیں بے ہوش ہوتی اسکی بانہوں میں جھول گٸ۔
اور فوراً بستر پے لٹاتاخالد کیجانب بڑھا۔ اسے اندھیرے میں خطرہ محسوس ہوا۔ لیکن اس سے پہلےکہ وہ کچھ کرتا۔۔ سبحان نے زور کا پنچ ا سکے منہ پے دے مارا۔وہ لڑکھڑایا۔
اور سنبھل کے سامنے دیکھنے کی ناکام کوشش کی۔
کلاٸی کو مسلتا وہ پھر سے ایک پنچ اسے رسید کر چکا تھا۔
کون۔۔۔ ہو بھٸ۔۔۔۔؟؟
خالد کو کچھ بھی صحیح نہ لگا۔
مسٹر۔۔۔ کے کے۔۔!! تمہیں۔۔ کیالگا۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ میری عزت تک پہنچ جاٶ گے۔اور میں خاموش بیٹھا رہوں گا۔۔۔؟؟
سبحان کی آواز پے خالد کے چودہ طبق روشن ہوگۓ۔
تمہاری جرأت کیسے ہوٸی۔۔۔۔؟؟ میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کے دیکھنے کی بھی۔۔۔۔؟؟
سبحان نے ایک اورپنچ مارا۔ خالد بوکھلا کے باہر کی جانب بھاگا۔ لیکن سبحان نے اسے واپس کھینچ کے پے در پے مکے برساۓ۔ اس نے کافی خود کا بچاٶ کرنا چاہا۔ لیکن ناکام رہا۔
سحر نےلاٸیٹ آن کی۔ تو خالد کی بری حالت دیکھ کروہ بھی سہم گٸ۔
سبحان ٹھٹھکا۔اورلب بھینچتے خالد کو دور دھکا دیا۔
اور سحر ک جانب بڑھا۔
گڑیا۔۔۔۔!! آر یو اوکے۔۔۔۔؟؟
بہت پیار سے پوچھتا۔ اسکا ڈر ذاٸل کرنا چاہا۔
جی۔۔۔۔۔۔۔!! آپی۔۔۔۔۔؟؟ صلہ کی جانب اشارہ اشارہ کیا۔
ڈونٹ وری۔۔۔ وش آجاۓ گا۔۔۔ آپ گھر جاٸیں۔۔۔ آپ کی آپی کو۔۔۔ تھوڑا سا۔۔ سبق سکھا کے گھر لے آٶں گا۔۔۔
مسکراتے ہوۓ کہتے وہ سحر کو بھی مسکرانے پے مجبور کر گیا۔
سبق سکھانا۔۔۔۔ لیکن ڈانٹنا نہیں۔۔۔۔!!
کان میں کہتی وہ باہر آٸی۔ عزیز اس کا ویٹ کر رہا تھا۔
سبحان خالد کی طرف بڑھا جو بے ہوش ہو چکا تھا
۔اسے باہر گھسٹتے لے جا کے اپنے ایک آدمی کے حوالے کا۔
اسے اسپیشل بلیک روم میں قید کر دو۔
اور بھوکا پیاسا رکھو۔
اس کے آدمی اسکے ایک حکم پے جان دنے والے تھے۔فوراً خالد کو پکڑا اور لے جا کے گاڑی میں ڈالا۔
میرے یہاں سے نکلتے ہی
اس جگہ کو آگ لگا دو۔
اپنے ایک اور آدمی سے کہتا سبحان اندر کی جانب بڑھا۔
صلہ کو بانہوں میں اٹھایا۔ اور باہر کی جانب بڑھا۔
اب اسکا رخ فارم ہاٶس کی جانب تھا۔
صلہ سے اب حساب کتاب کا بھی تو معاملہ طے کرنا تھا۔گ










صبح تابی کی آنکھ کھلی تو خود کو عمر کی بانہوں میں پایا۔
اور وہ نجانے کب سے جاگا۔اسے آنکھوں کے رستے دل میں اتار رہا تھا۔
آ۔۔۔۔پپپپ۔۔۔ کب۔۔۔۔ جاگے۔۔۔۔؟؟ نیند سے بوجھل بند ہوتی آنکھوں سے پوچھا۔
میں سویا ہی کب تھا۔۔۔۔؟؟ عمر نے اسکے بالوں میںمنہ چھپاتےخماری سے کہا۔
عمر۔۔۔۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔۔ صبح۔۔۔ ہوگٸ ہے۔۔۔آپ جاٸیں۔۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔!! خالہ آنی نے دیکھا۔۔۔ تو۔۔۔ ناراض ہوں گیں۔۔۔
فوراً سے اٹھتے تابی نے عمر کو بھی اٹھانا چاہا۔
کیوں۔۔۔۔؟؟ وہ کیوں۔۔۔ ہونے لگیں۔۔ ناراض۔۔۔؟؟
کھینچ کے تابی کو پھر سے اپنے ساتھ لٹایا۔
انہوں۔۔۔ نے منع کیا تھا ناں۔۔۔۔ آپ کو۔۔۔۔!!
سادہ لہجےمیں کہتی وہ عمر کے سیدھا دل میں اتر رہی تھی۔
میں مما سے کر لوں گا بات۔۔۔۔!! تم یہاں آٶ۔۔۔ میرے پاس ۔۔۔۔!! عمر کو واپس رات کے موڈمیں آتا دیکھ تابی کی جان جانے لگی۔
عمر۔۔۔۔۔میں نے نماز پڑھنی ہے۔۔۔۔ ٹاٸم نکل رہا ہے۔۔!!
منمناتے ہوۓ کہا۔
تو عمر زیرِ لب مسکرایا۔
اسکے گال کو بہت پیار سے اپے لبوں سے چھوا۔
اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔ تابی فوراً دل سنبھالتی اٹھی۔
عمر اس کے اس انداز پے دل سے مسکایا تھا۔









دھیرے دھیرے آنکھیں کھولتی وہ انگڑاٸی لیتی بیدار ہوٸی۔
مندی مندی آنکھوں سے سامنے دیکھا۔ تو آنکھیں پوری کی پوری کھل گٸیں۔
جلاد۔۔۔۔۔!!
بے اختیار منہ سے نکلا۔
اور جھٹ سے بستر سے اٹھ کھڑی ہوٸی۔
سبحان بھی ایک لمحے کی دیری کیے بنا اسکی جانب بڑھا۔
تم۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔۔ بنا سوچے سمجھے ہی بولتی ہو ناں۔۔۔؟؟
تیکھے انداز میں پوچھا۔
صلہ نے منہ بنا کے سر جھکا لیا۔
صلہ۔۔۔ دی گریٹ۔۔۔۔!! اب ایک منٹ کی دیری کیے بنا۔۔۔ مجھے سب سچ بتا دو۔۔۔!!
وہی غصہ پھر رسے عود کر آیا۔
کییییسسا سچ۔۔۔۔؟؟
بالوں کی لٹ کو معصومیت سے کانکے پیچھے اڑستے وہ سبحان کے غصے کو ہوا دے گٸ۔
کیوں۔۔۔۔ بھاگی تھی۔۔۔گھر سے۔۔۔۔؟؟
بازو سے پکڑ کے زور کا جھٹکا دیا۔
لیکن صلہ اس بار اس کے غصے سے زرا خاٸف نہ ہوٸی۔
کون بولا۔۔۔۔۔۔؟؟ میں بھاگی۔۔۔۔۔؟؟ میں تو۔۔۔ سحر۔۔۔ کے ساتھ۔۔۔ ٹھنڈی ہوا۔۔۔ کھانے گٸ تھی۔۔۔ وہ۔۔تو۔۔۔۔
راستے۔۔ میں ہم۔۔ کڈنیپ۔۔۔ ہو۔۔۔۔!!
مزے سے بولتی وہ سبحان کی گھوری پے یکدم چپ ہوٸی۔
اچچچھھھھااا۔۔۔۔۔۔ !! عمر کو کیسے پتہ چلاہمارےبیچ کی ڈیل کا۔۔۔۔؟؟ جیب سے گن نکالتے صلہ کوڈرا چکا تھا۔۔۔
کووووننن ۔۔۔سی۔۔۔ ڈیللللل؟؟؟
گن اس کی Chin کے نیچے رکھی۔ اور اسکا چہرہ اوپر کیا۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتےوہ اسے زیر کرنے لگا۔
حلق سے آواز نہ نکلی۔ وہ سبحان کے قریب آنے پے پھر سے سانس روک گٸ۔
صلہ۔۔۔!! میں سب برداشت کر سکتاہوں۔ لیکن دھوکا نہیں۔۔۔۔!!
ہمارے بیچ کی بات۔۔۔ عمر تک کیسے پہنچی۔۔۔۔؟؟
بہت سنجیدگی سے کہتا وہ صلہ کی آنکھیں نم کر گیا۔
میری۔۔۔۔ ڈاٸری۔۔ پڑھ لی تھی اس نے۔۔۔ شاید۔۔۔!! لہجہ بھی نم ہوا۔
سبحان کےماتھے پے تیوری پڑی۔
کیا مطلب۔۔۔۔؟؟ کہتے گن پیچھے کی۔
لاسٹ ٹاٸم جب ۔۔۔وہ تابیکو چھوڑنے آیا تھا۔۔۔۔
تو روم۔۔۔۔میں بھی۔۔۔ گیا تھا۔۔۔!! لیکن۔۔۔۔ مجھے علم نہیں تھا۔۔۔!! اور جب۔۔۔۔ میں روم میں آٸی۔۔۔ ڈاٸری ۔۔۔ باہر دراز کے اوپر پڑی تھی۔۔ اور ۔۔۔وہ جا چکا تھا۔۔۔!!
سر جھکاۓ وہ اعترافِ جرم کر گٸ تھی۔
سبحان کو چپ ہی لگ گٸ۔
دل پے ایک بوجھ تھا۔۔ وہ ہٹ گیاتھا۔
اب فیصلے کا وقت تھا۔
کیوں ناں۔۔۔۔ اس کہانی کو وہیں ختم کریں۔۔۔ جہاں سے یہ شروع ہوٸی تھی۔۔۔ پرسکون ہوتا وہ صلہ کو چونکا گیا۔
صلہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
سبحان نے دراز میں سے ایک فاٸل نکالی۔ اور ٹیبل پے رکھی۔ ساتھ ہی کافی زیادہ اماٶنٹ رکھا۔
اور خود آرام سے صوفے پے پرسکون ہو کے بیٹھ گیا۔
آج وہ اپنے عشق کو آزمانے چلا تھا۔
ہماری ڈیل آج ختم۔۔۔!!
اس فاٸل میں ڈاٸیورس پیپرز ہیں۔ جیسا کہ ۔۔۔ طے ہوا تھا۔اور ساتھ یہ۔۔۔۔ تیس لاکھ کی رقم۔ ۔۔
رہ گٸ سحر کی بات تو۔۔۔ اس کے آپریٹ کا سارا خرچ میں اٹھاٶں گا۔ ۔۔۔ اور تمہاری امی۔۔۔۔!! جن کا ہاسپٹل میں علاج ہو رہا ہے۔۔۔ وہ بھی میری زمہ داری ہے۔۔۔۔!!
ہاں۔۔۔۔!! اب تم۔۔۔ آزاد ہو۔۔۔۔!! آج ۔۔۔ ہماری۔۔۔ کہانی۔۔ یہیں۔۔ ختم۔۔۔۔۔!!
صلہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
اسے اپنی سماعتوں پے یقین نہ آیا۔
تیری۔۔۔ آنکھوں کے دریا کا۔۔۔۔ اترنا بھی۔۔۔ ضروری تھا۔۔۔
محبت بھی۔۔۔ ضروری تھی۔۔۔۔ بچھڑنا بھی۔۔۔ ضروری تھا۔۔۔۔
ضروری تھا۔۔۔ کہ ہم دونوں۔۔۔ طوافِ آرزو کرتے۔۔۔۔
مگر۔۔۔۔ ان آرزٶں کا بکھرنا بھی۔۔۔ ضروری تھا۔۔۔
آج۔۔ سارے حقوق۔۔۔ادا کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔!!
سبحان کی بات یاد آتے ہی دو موتی آنکھوں سے ٹوٹ کے گرے۔
آگے بڑھ کے فاٸل اٹھاٸی ۔
ہاتھ لرزے۔۔ لیکن ہمت نہ ہاری۔
پن۔۔۔۔؟؟ سختی سے کہتے پن کی ڈیمانڈ کی۔
سبحان نے پن اسکی طرف بڑھایا۔ اسکی۔ایک ایک حرکت کو وہ بہت فرصت سے نوٹ کر رہا تھا۔
پن ہاتھ میں لیتے اسکے ہاتھ لرز رہے تھے۔
کہنا آسان تھا۔ کہ الگ ہونا ہے۔
لیکن۔۔۔ آج۔۔۔۔ جداٸی۔۔ کے اس لمحے میںصلہ کا دل دھاڑیں مار کے رونے کا چاہ رہا تھا۔۔۔
ایک نظربھی اس نے سبحان کی جانب نہ دیکھا۔
اور وہ بنا پلک جھپکے اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔
فاٸل کھولی۔۔
مسز۔ صلہ سبحان۔۔!! جانِ سبحان۔۔!!
سب سے اوپر کی لاٸن پڑھی۔ تو دل دھڑکا۔ آنکھ اٹھا کے سبحان کو دیکھا۔
اس کےسکون میں اور دکھنے میں کوٸی تبدیلی نہیں آٸی تھی۔
دھڑکتے دل کے ساتھ آگے پڑھا۔
آپ کو کیا لگا۔۔۔۔؟؟ سبحان کی زندگی سے نکل جانا ۔۔۔۔؟؟ بہت آسان ہے۔۔۔۔؟؟
میں سبحان حیات خان ہوں۔۔۔ اور تم۔۔۔ اس خان کی جان ہو۔۔۔!!
اور اپنی جان کو کوٸی اپنے سے دور نہیں کرتا۔۔۔!!
صلہ کے گال دھک اٹھے۔ سبحان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
اب صلہ کی ہمت نہ ہوٸی اس کی طرف دیکھنے کی۔
آج ۔۔۔ہماری۔۔۔ ڈیل ختم ہوٸی۔۔
اور۔۔۔ شادی شروع۔۔۔۔!!
سبحان نے ایک قدم بڑھایا۔
آگے پڑھا۔
عشق۔۔کےسفر۔۔۔میں ۔۔۔۔!!
جذبات کی روانی ہو۔۔۔۔!!
پھر سے قدم بڑھا
صلہ ہرلفظ کے ساتھ اپنی دھڑکن کو بھی بڑھتا محسوس کر رہی تھی۔
مجھے۔۔۔ تم چاہیے۔۔۔۔۔!!
تمہاری ہر سانس پے حکمرانی ہو۔۔۔۔۔۔۔
میری روح کا حصہ ہو۔۔۔۔۔۔
جیسے جیسے وہ پڑھتی گٸ۔ سبحان اسکے روبرو آچکا تھا۔
پلکیں اٹھا کے دیکھا۔
میرے جنون کی انتہا ہو۔۔۔۔۔
اور ایک دوجے کے روبرو ہو۔۔
میری زندگی کی بس یہی کہانی ہو۔۔۔۔
میرا عشق۔۔۔۔ تیری جستجو۔۔۔۔ہو۔۔۔۔۔!!
صلہ کے چہرے پے ایک مسکراہٹ چھا گٸ۔
آج وہ سبحان کو جیت گٸ تھی۔
سبحان نے فاٸل لے کے ساٸیڈ پے رکھی۔اور اسے کھینچ کے خود کے قریب کیا۔
میری بنو گی۔۔۔۔۔۔!! اس کےکان میں سرگوشی کی۔
صلہ لرز کے رہ گٸ۔
کہاں تو آگ برساتا جلاد اور کہاں یہ محبت بھرا لہجہ۔۔۔۔۔!!
صرف میری۔۔۔۔!! کان کی لو کولبوں سے چھوتے وہ بہت آہستہ آواز میں صلہ پے اپنا سحر پھونک رہا تھا۔
صلہ تو ایک لفظ تک بولنے کی سکت میں نہ تھی۔
سبحان نے اسکے چہرے پے بکھرے قوس و قزاح کے رنگ دیکھے۔ جو بتا رہے تھے کہ وہ صرف اسکی ہے۔
اسکے ماتھے پے پیار ک پہلی مہر ثبت کی۔
صلہ نے آنکھیں میچ لیں۔ اسکی لرزتی پلکوں کو سبحان نے اپنے لبوں کی تراوت بخشی۔
اندر تک وہ دہل گٸ تھی۔
ایک اظہار محبت سے ہی اسے چپی لگ گٸ تھی۔
دھیرے سے پلکیں اٹھیں۔
اور سبحان کے دل پے وار کر گیٸں۔
اپنے لب اسکے گالوں پے باری باری رکھے۔ تو وہ سانس روک گٸ۔
You are bushing…..
سبحان نے مسکاتے اسے دیکھتے پیار سے کہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ یوں اپنی سانسیں روکے۔
اوروہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی تھی ۔۔ جب بھی قریب جتا وہ سانسیں روک لیتی تھی۔
سبحان کے کہنے پے وہ شرما کے دوسری طرف دیکھنے لگی۔
یہاں آٶ۔۔۔۔!!
وہ اسے لیے ونڈو کے پاس گیا۔
جہاں رات کی تاریکی کو سورج اپنی روشنی میں جذب کر رہا تھا۔۔۔ سورج طلوع ہونے کا منظر بہت ہی خوبصورت تھا۔
واٶ۔۔۔۔۔۔۔!! بے اختیار ہی اسکے لبوں سے نکلا۔
سبحان اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔
یہ کتنا پیارا نظارہ ہے۔۔۔۔۔!! میں نے پہلے نہیں دیکھا ۔۔۔۔ کبھی۔۔۔
پلٹتے سبحان کو کہا۔ جو بہت ہی وارفتگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اسکی آنکھوں میں لکھی محبت کی داستان پڑھتے پھر سے اسکا دل دھڑکا۔
دھیرے سے آگے ہوتا وہ اسکے لبوں پے جھکا۔
رات کی تاریک چھٹ گٸ تھی۔
روشن صبح نے ان دونوں کا خوب استقبال کیا۔۔









تابی جوعمرکے ساتھ نیچے نہیں آرہی تھی۔ عمر زبردستی اسکاہاتھ تھامے سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔
لیکن سامنے سب کو ایک ساتھ اکٹھا دیکھ ٹھٹھکا۔
اور سب سے زیادہ شہریار کو دیکھ کے سوچ میں پڑگیا۔
گۓ کام سے۔۔۔۔۔!! زیرِ لب بڑبڑایا۔
شہریار رات کو ہی بنا بتاۓ گھر آیا تھا۔ اور صبح سب س پہلے عمر کا کار نامہ اس کے گوش گذارا۔
وہ سخت غصے میں تھا۔
یہ سب کیا ہے۔۔۔۔؟؟ عمر۔۔۔۔؟؟
کمر پےہاتھ باندھے وہ سخت لہجے میں بولا۔
بھاٸی۔۔۔۔۔۔!! وہ منمنایا۔
عمر ۔۔۔ صرف سچ بتاٶ۔۔۔۔!! انگلی اٹھا کے وارن کیا۔
تو عمر نے سب کو شروع سے آخر تک مختصراً ساری بات بتا دی۔
رابیہ بیگم نے شہریار کو اشارہ کیا۔
کہ دیکھا۔۔۔ کتن کچھ کر گیا۔۔۔ اور پتہ بھی نہ چلا۔
شہریار نے اشارے سے چپ رہنے کو کہا۔
وہ سختی کرنا چاہتا تھا۔لیکن تابی کے ساتھ اسے نیچے آتا دیکھ وہ جان گیاتھا۔کہ تابی اسے معاف کر چکی ہے اور دل سے قبول کر چکی تھی۔
لیکن پھر بھی وہ تابی سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔!!
تابی۔۔۔۔!! ساری باتیں اپنی جگہ۔۔۔ !! لیکن جو تکلیف اس نے تمہیں دی۔۔۔ اسکے لیے عاف کرنا نہ کرنا تمہارے اختیار میں ہے۔۔۔۔!!
فیصلہ تمہارا ہوگا۔۔۔۔اور وہ فیصلہہم سب کو قبول ہوگا۔۔۔۔!!
شہریار نے رابیہ بیگم کوکن اکھیوں سے دیکھا۔ انہوں نے پہلو بدلا۔
جبکہ عمر زیرِ لب مسکرایا۔
بھاٸی۔۔۔۔!! میں ۔۔۔۔ نے ۔۔۔ انہیں معاف۔۔۔ کر دیا۔۔۔ ہے۔۔!! لیکن۔۔۔۔!!
عمر نے سوالیہ نظروں سے تابی کو دیکھا۔
لیکن۔۔۔ خالہ آنی۔۔ نے اگر معاف نہ کیا۔۔۔۔ تو میں اپنی معافی واپس لے لوں گی۔۔۔۔!!!
جا کے رابیہ بیگم کے پاس بیٹھ گٸ۔ اور پیار سے ان کے کندھے پے سر رکھا۔
رابیہ بیگم تو اس پے ویسے ہی وارے دقے تھیں۔
پیار سے اس کے ماتھے پے بوسہ دیا۔
عمر نے سانس بحال کیا۔اور ماں کے قدموں میں جا بیٹھا۔
ایم سوری امی۔۔۔۔۔!!
خطا کار ہوں۔۔۔
گناہ گار ہوں۔۔۔
لیکن ہوں تو آپ کا بیٹا۔۔۔۔
معاف کا طلب گار ہوں۔۔۔
ایک کان کو ہاتھ لگاۓ وہ اپن بچپن کی عادت کے مطابق ماں سے بولا۔
رابیہ بیگم نے اسکے ہاتھ کان سے ہٹاۓ تو وہ ماں کے گلے لگا۔ جبکہ دوسری جانب تابی ان کے گلے لگی تھی۔
بچے تو غلطیاں کرتے ہی ہیں۔۔۔ ماں باپ تو معاف ہی کرتے آۓ ہیں۔۔۔۔









محبت کا سویرا ان دونوں کو مکمل کر گیا تھا۔
اور دونوں نے اپنی مرضی سے ایک دوسرے کو اپنایاتھا۔
آٸینے کے آگے تیار ہوتی وہ بہت خوش تھی۔
گیلے بالوں کو ایک طرف کر کے کھلا چھوڑ دیا تھا۔
آنکھو ںمیں کاجل لگاتے اور لاٸیٹ پنک کلر کی لپ اسٹک لگاتے وہ مسلسل مسکرارہی تھی۔ سبحان اسکے قریب آیا۔ وہ بھی تیار ہو چکا تھا۔
صلہکا رخ اپنی جانب کیا۔ آنکھوں کی تشنگی بڑھتی جارہی تھی۔۔۔
لیکن خود پے کنٹرول کرتے اسکے ہاتھ کوتھاما اور گولڈ کی چوڑیاں اسکی دونوں کلاٸیوں میں پہنا دیں۔
ماشاللہ۔۔۔۔!! تمہارے ہاتھ میں آتےہی انکی قدرومنزلت بڑھ گٸ ہے۔۔۔
صلہ نے اپنی دونں بھری کلاٸیوں کو دیکھا۔
اسکی آنکھیں نم ہوگٸیں۔ ۔۔
اس نے کب سوچا تھا۔ کہ اتنا چاہنے والااسکی زندگی میں آجاۓ گا۔۔۔
تھوڑاایڑھیکے بلاوپرہوتی وہ سبحان کے ماتھےپے پیار کی مہر ثبت کرگٸ۔۔
سبحان کو اک خوشگوار حیرت ہوٸی۔
You are such a amazing wife….





سبحان نے کہتے اسکےگال کو پیار سے چھوا۔
اچھا۔۔۔۔ اب چلیں۔۔۔ !! دیر ہورہی ہے۔۔۔۔!!
سرپراٸز بھی تو دینا ہے۔۔۔!!
صلہ نے سبحان کو پھر سے بہکتے دیکھا تو جھٹ سے بولی۔
اور اسکارف لیا۔ جس نے اسکی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا۔
دونوں آگے پیچھے باہر نکلے۔
پہلی فلاٸیٹ سے دونوں لاہور جا رہے تھے۔
سبحان نے سیٹ کے ساتھ ٹک لگاتے صلہ کا ہاتھ تھام۔لیا۔
صلہ دھیرے سے مسکرا دی۔












تابی۔۔۔۔!! بہت چھپی رستم نکلی ہو۔۔۔۔!!
اکیلے اکیلے صلح کرلی۔۔۔ پتا بھی نہیں لگنے دیا۔۔۔۔!!
ناشتہ بناتے انوشے نے تابی کوآڑے ہاتھوں لیا۔
بھابھی۔۔۔۔!! آپ کو پتہ ہے ناں۔۔۔ ان کا۔۔۔۔!!
تابی شرماٸی۔
اوہو۔۔۔۔۔!! ان کا۔۔۔۔۔؟؟
انوشے نے پھر چھیڑا۔ تو وہ شرما کے وہاں سے ہٹ گٸ۔
اب شہرار کو بھی دیکھ لو۔۔ ایسے باتوں میں لگےہیں۔۔۔ عمر سے ۔۔ جیسے ناراض ہی نہ ہوۓ ہوں۔۔۔
ورنہ صبح دیکھتی۔۔۔۔ جو غصہ تھا۔۔۔۔۔!!
ساتھ ساتھ ہاتھ چلاتے وہ بتا بھی رہی تھیں۔
بہن بھاٸیوں کا پیاراایساہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔!
انوشے کی باتپے تابی کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
سبحان بھیبتو اس سے کتنا پیار کرتاتھا۔ لیکن۔۔۔۔ ایک اعتبار نہ کیا۔
کیاہوا۔۔۔۔؟؟ چپ کیوں ہوگٸ۔۔۔۔؟؟
انوشے نے چولہے کی آنچ دھیمی کرتے تابی سے کہا۔
چچی جان۔۔۔۔۔!! چچی جان۔۔۔۔!!
ابھی تابی کچھ کہتی کہ آیان اور ثانی کچن میں داخل ہوۓ۔
چچی جان۔۔۔۔؟؟ تابی حیران ہوٸی۔
جی ہاں۔۔۔ آج سےآپ ہماری چچی جان ہیں۔۔۔!!
ہمیں۔۔۔ عمر چاچو نے کہاہے۔۔۔۔!! اب آپ یہیں رہیں گیں۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔۔!! اور۔۔۔ اب سےآپ کو چچی جان کہیں ہم۔۔۔۔!!
میں نے تو ۔۔۔ ان کو صرف چچی کہنےکاکہا تھا۔۔۔!!
جان ۔۔۔۔ انہوں نے خود لگا لیا۔۔۔
عمر کی آمد سے وہ سارے اسکی طرف دیکھنےلگے جو سینےبپےہاتھ باندھے نظر لگ جانےکی حد تک پیارا لگ رہا تھا۔
تابی نے شرما کے سر جھکالیا۔
تو عمر کاجاندار قہقہہ بلند ہوا۔
وہ ڈاٸینگ ٹیبل پے ناشتہ لگا رہے تھے۔۔
جب سبحان اور صلہ اندر داخل ہوۓ۔
سبھی انکی آمد پے چونکے۔
کون جانتا تھا۔۔۔ کہ وہیوں اچانک آجاٸیں گے۔
تابیکی تو آنکھیں جھلملا گٸیں۔
وہیں رک جاٶ سبحان۔۔۔!! رابیہ بیگم نے اسے وہیں روکا۔
سبحان حیران ہوا۔۔اور ٹھٹھک گیا۔
کیوں آۓ ہویہاں۔۔۔۔؟؟ رعب دار آواز میں پوچھا۔
تابی کے آنسو بہہ نکلے۔ جبکہ عمر اپنی شریک حیات کے آنسو دیکھ نفی میں سر ہلانے لگا۔
آپ کی ہی اجازت سے آیا ہوں۔۔۔۔!!
پورے یقین سے کہتا وہ سب کو چونکاگیا۔
سوالیہ نظروں سے رابیہ بیگم کو دیکھا۔
وہ مسکرا دیں۔
سبحان نے آگے بڑھ کے تابی کے لیے بانہیں وا کیں۔
لہکن وہ ورتی وہیں جمی رہی۔
نظروں میں ہزاروں شکوے تھے۔
بھاٸی کےگلےنہیں لگو گی۔۔۔۔؟؟
سبحان نے نم لہجے سے کہا تو وہبھاگت سبحان کےگلےبلگی پھوٹ پھوٹ کے رودی۔
سبحن اسے پیار سے سینے سےلگاۓ تھپکی دینےلگا۔
تھوڑا اورلیٹ ہوجاتے ناں۔۔۔!! تو ہماری ببٹی کےہاتھ کےناشتے سے محروم ہوجاتے۔۔۔!!
رابیہ بیگم نےہی بولنے میں پہل کی۔۔۔
سبحان تابی کولیے ڈاٸینگ ٹیبل تک آیا۔
مجھے سرو نہیں کرو گی۔۔۔؟؟
بہت مان سےکہا۔
تو تابیآنسو پونچھتی سبحان کو سرو کرنےلگی۔
رابیہ بیگم نے صلہ کو بھی سبحان کے ساتھ والی چیٸر پے بٹھایا۔ اور اسےبھی سرو کیا۔
یہ سب کایا پلٹ کیسے ہوٸی۔۔۔؟؟ گتھی سلجھ ہی نہیں رہی تھی۔
تابی عمر کو نظر انداز کیے مسلسل سبحان کو ہی سرو کیے جا رہی تھی۔
عمر نے کھا جانے والی نظروں سے سبحان کو دیکھا تھا۔ جس کے آنے کے بعد تابی اسے بھول گٸ تھی۔
اتنا حیران او رپریشان نہ ہو۔۔۔۔! جب نکاح کر کے آۓ تھے ناں۔۔۔۔! مجھے اسی دن پتہ لگ گیا تھا۔۔۔۔۔
سبحان نے بم پھوڑا۔
نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا چیٸر کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ سب کو حیران کر گیا تھا۔
میں ۔۔۔ سبحان حیات خان ہوں۔۔۔!! میری بہن۔۔۔ کا نکاح ہوجاۓ اور مجھے پتہ ہی نہ لگے۔۔۔۔۔؟؟
ہاں۔۔۔ دکھ اس بات کا ہوا۔۔۔۔کہ۔۔ میری۔۔ بہن نے مجھ سے چھپایا۔۔۔!!
تابی کا سرجھکا۔ لیکن عمر نے بھی چیٸر کےساتھ ٹیک لگا کے سب سننے میں ہی بہتر سمجھا۔
پھر تابی کی جھوٹی شادیکا ڈرامہ کیا۔۔۔
خالہ آنی کو بلوایا۔۔۔۔!!
اس دوران۔۔۔۔ مر تم۔۔ غاٸب تھے۔۔ اس بات کی پریشانی تو تھی۔۔۔ لیکن پھر۔۔۔ بھی۔۔۔ !! خالہ آنی کو ساری بات بتا کے۔۔۔ یہ سب مل کے کیا۔۔۔۔!!
عم نے کن اکھیوں سے ماں کو دیکھا۔ جو دھیرے دھیرے مسکرارہیں تھیں۔
اور پھر وہی ہوا۔۔۔۔!! جسا ہمنے سوچا تھا۔۔۔!!
ہممممممم!! یعنی سارا قصور میرے متھے منڈ دیا۔۔۔۔؟؟
عمر نے منہ بگاڑ کےکہا۔
نہیں۔۔۔۔!! جہاں میرا قصور تھا۔ ۔۔ (صلہ کو پیار سے دیکھا۔ جسے آنے سے پہلے وہ سب بتا چکا تھا۔ وہ بھی دھیرے سے مسکراٸی) وہاں میں نے ایکسپٹ بھی کیا۔
چلو۔۔۔۔ پھر ٹھیک ہو گیا۔۔۔!!
عمر نے سکھ کا سانس لیا۔
مسز۔۔۔۔!! کیا آج مجھے بھوکا رکھنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔؟؟
سبحان سے کہتا وہ تابی کی طرف مڑا۔
تابی گڑبڑاٸی۔ اور ہاتھ میں پکڑا پانی کا جگ عمر کےپاس لاتےبلاتے الٹ ہی دیا۔
اوہ۔۔۔۔!! ایم سوری۔۔۔!! تابی بہت بری طرح سٹپٹا گٸ تھی۔
عمر بس اپنی حالت پے افسوس ہی کرتا رہ گیا۔
جبکہ باقی سب کا مشترکہ قہقہہ زیدی ہاٶس میں خوشیوں کی آمدکاسندیسہ دے گیا۔
ختم شد
