Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan NovelR50515 Last updated: 18 February 2026
Rate this Novel
Mera Ishq Teri justujoo (Episode 01)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 02)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 03)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 04)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 05)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 06)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 07)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 08)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 09)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 10)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 11)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 12)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 13)Mera Ishq Teri justujoo (Episode 14)Mera Ishq Teri justujoo (Last Episode)Part 1Mera Ishq Teri justujoo (Last Episode)Part 2
Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
سبحان گہری سوچ میں راکنگ چیٸر پر جھول رہا تھا۔
آنے والے وقت کے بارےمیں سوچ رہا تھا ۔
لاٸحہ عمل تیار کرر ہا تھا کہ موباٸیل کی میسج ٹون پر چونکا۔
میسج کھولا۔۔ تو سامنے زیدی ہاٶس کی تصویر شو ہوٸی۔ وہ برتھ ڈے پارٹی فیملی پکچر تھی۔
سبھی خوش نظر آرہے تھے۔
سبحان کی نظر۔۔۔عمر اور تابی پے جا ٹہری۔۔۔ سختی سے لب بھینچ لیۓ۔
کیسے۔۔۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔ عمر۔۔۔۔۔۔؟
میری تابی پے۔۔۔۔ تم نے۔۔۔۔۔ اس کم ظرف لڑکی کو ترجیح دی۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی نہیں ۔۔۔ سوچا۔۔۔ میری تابی پر کیا بیتے گی۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ معصوم ۔۔۔ تو ۔۔۔دل۔کا درد چھپاگٸ۔۔۔۔۔۔!!!
لیکن میں تو اسکا بھاٸی ہوں۔۔۔۔ اسکاباپ۔۔۔ماں۔۔۔ سب کچھ۔۔۔
میں نہ جان پاتا۔۔۔۔۔ ۔۔؟ ایسا کیسے ممکن تھا۔۔۔۔۔؟
موباٸل کو ساٸیڈ پے رکھا۔
تمہیں پچھتانا ہو گا۔۔۔۔۔ تم پچھتاٶ گے۔۔۔۔۔!!
ایک ہیرے کوتم نے ٹھکرایا۔۔۔ اک بے مول پتھر کی خاطر۔۔۔!!!
اب میں سبحان حیات خان۔۔۔۔۔ تمہیں بتاۓ گا۔۔۔۔!! ٹھکراناکیا ہوتا ہے۔۔۔۔!!!
ایک جنون تھا اس کے اندر ۔۔۔۔۔
کلاٸی پے بندھی گھڑی پے ٹاٸم دیکھا۔
اپنے ملازم فراز کو بلایا۔ اسے سب سمجھا کے جانےکا اشارہ کیا۔
اور خود والدین کی تصویر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
بابا۔۔۔۔۔ مما۔۔۔۔۔!! کیا سوچ کے ۔۔۔ آپ نے۔۔۔۔ بچپن میں۔۔۔۔ عمر اور تابی کا رشتہ طے کیا۔۔۔۔؟
کیوں۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ ایسا۔۔۔۔۔۔؟ وہ شخص ۔۔۔۔ ہماری تابی۔۔۔ کے لاٸق ہی نہیں۔۔۔۔۔ جو ہماری تابی کی سچی اور کھری محبت کو نہ سمجھ سکا۔۔۔
بوجھ نہیں۔۔۔۔ کہ کیا۔۔۔ صحیح ہے۔۔۔ا ورکیا۔۔۔غلط۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور۔۔۔آپ نے۔۔۔۔ ایسے ۔۔۔انسان کے حوالے۔۔۔۔۔ تابی کو کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ہرگز نہیں۔۔۔۔!! وہ ہماری تابی کے قابل نہیں۔۔۔۔۔!!
میں بہت جلد ہماری تابی کے لیے۔۔۔ ایک بہت اچھا شخص ڈھونڈوں گا۔۔۔۔
جو اس کے۔۔۔۔ معیار کا ہو۔۔۔۔ اسے سمجھے۔۔۔۔ اسے مان دے۔۔۔۔نا کہ۔۔۔ بیچ راستے میں۔۔۔۔ چھوڑ کر کسی اور کے سنگ چلا۔جاۓ۔۔۔۔
سبحان آج اپنے دل کا بوجھ اپنے والدین سے بانٹ رہا تھا۔
سولہ سال کا تھا۔۔ جب والدین پلین کریش میں انتقال کر گۓ۔۔۔ اس وقت تابی صرف دس سال کی تھی۔۔
سبحان نے تابی کوماں اور باپ دونوں بن کر پالا۔۔۔
وقت سے پہلے بڑا ہو گیا۔۔
پڑھاٸی اور بزنس ایک ساتھ جاری رکھا۔
اس سب میں رابیہ آنٹی کے شوہو۔۔مسٹر زیدی نے اور حیات صاحب کے دوست۔۔ مسٹر خرم۔نے انکی بہت مدد کی۔
تو وہیں رابیہ آنٹی۔نے تابی کو ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔۔۔۔
اپنی ریزرو اور تنہاٸی پسند طبعیت کی وجہ سے وہ اپنوں میں زیادہ گھلتا ملتا نہ تھا۔
لیکن تابی کو کبھی نہ روکا تھا۔
