Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Teri justujoo (Episode 10)

Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan

بھابھی۔۔۔!! مجھے صرف سچ سننا ہے۔۔۔۔پلیز۔۔۔ سب جاننا ہے مجھے۔۔۔۔۔!!

عمر جو گھر والوں کو سرپراٸز دینے آیا تھا یوں اچانک آ کے۔۔۔

لیکن آگے آ کے خود ہی سرپراٸز ہو گیا۔

کو۔۔۔۔۔وووٸی بھی بات ۔۔۔نہیں ۔۔۔عمر۔۔۔۔!! اور۔۔۔۔ تم۔۔۔۔!!

بھابھی۔۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔۔ سچ۔۔۔۔۔؟؟

عمر نے ٹوکا۔

انوشے کا سر جھک گیا۔

اور پھر اس نے شہریار کے جانے سے لیکر اب تک کے سارے حالات سے عمر کو آگاہ کر دیا۔

عمر تو سکتے میں آگیا۔

اسے یقین نہ آیا کہ۔۔۔ زین۔۔۔۔۔

اور اتنا سب کچھ ہو گیا اور وہ بے خبر تھا۔

بھابھی۔۔۔۔۔!! مجھے۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔ بتایا۔۔۔۔۔؟؟

عمر کے لہجے میں دکھ تھا۔

اتنا سب۔۔۔ ہو گیا۔۔۔۔۔۔اور مجھے کسی۔۔۔نے بتان ا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔۔۔؟؟

عمر۔۔۔۔!! شہریار۔۔۔۔ نہیں چاہتے تھے ۔۔۔کہ گھر میں کسی کو پتہ چلے۔۔ اور سب پریشان ہوں۔ اسی لیے وہ خود۔۔۔۔۔۔؟؟

کیوں۔۔۔۔۔؟ سمیرا آپی کے صرف وہی بھاٸی ہیں۔۔۔؟؟

میں کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔؟؟ تلخ لہجے میں بات کاٹی۔

یا۔۔۔۔ آپ سب نے یہ سمجھ لیا۔کہ گھر سے دور ہے تو زندگیوں سے بھی نکال پھینکو اسے۔۔۔۔؟؟

عمر۔۔۔۔! کیسی فضول باتیں کر رہےہو؟ انوشے عمر کی بات پر تڑپ ہی تو گٸ۔

عمر نے سختی سے آنکھیں موندیں۔ جیسے کچھ فیصلہ کرنا چاہ رہا ہو۔

عمر۔۔۔۔۔!! میرے بھاٸی۔۔۔! ایسا مت سوچو۔۔۔۔

جانتے ہو ناں۔۔۔ شہریار کی جان ہے تم میں اور سمیرا میں۔۔۔۔۔!! تم دونوں کو اگر کچھ بھی ہو ۔۔ تو سب سے زیادہ تکلیف انہیں ہی ہوگی۔

انوشے نے عمر کےکاندھے پے ہاتھ رکھتے نرمی سے سمجھایا۔

بھاٸی کو ایٹ لیسٹ ۔۔۔۔ مجھے بتانا چاہیے تھا۔

نم لہجے میں کہتے وہ انوشے کو چپ کرا گیا۔

امی سے ملے۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اپنے روم میں۔۔۔۔۔!!

انوشے نے اچانک بات پلٹی۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔! ابھی ہی تو آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔!!

اور اب جا رہا ہوں۔۔۔۔۔ !! ایک عزم سے کھڑے ہوتے وہ انوشے کو بری طرح چونکا گیا۔

کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔ مطلب۔۔کہاں۔۔۔ جارہے ہو؟؟؟

انوشے بھی فوراً بے چینی سے کھڑی ہوٸی۔

وہیں۔۔۔ جہاں۔۔ میری زیادہ ۔۔ضرورت ہے۔

بہت مطمیٸن انداز میں کہا۔بیگ اٹھایا۔

عمر۔۔۔۔ !! کیوں پہلیاں بجھوا رہے ہو۔۔۔؟ بتاٶ مجھے۔۔۔! انوشے پریشان ہوٸی۔

ایک مان آپ نے اپنے شوہر کا رکھا۔ اب۔۔۔ اہک مان آپ میرا۔۔۔ رکھیں گیں۔۔۔۔۔بھابھی۔۔۔!!

میرے آنے کے بارے میں آپ کسی۔۔۔ سے کچھ نہیں کہیں گیں۔۔۔۔!! عمر انوشے کومشکل۔میں ڈال گیا۔

عمر۔۔۔۔۔!! انوشے بے بس ہوٸی۔

ابھی بات مکمل نہیں ہوٸی۔ بھابھی۔

عمر نے ٹوکا۔انوشے نے سوالی نظروں سے عمر کی جانب دیکھا۔

میں یو کے جا رہا ہوں۔۔۔۔!!

لیکن یہ راز آپ کے اور میرے بیچ رہے گا۔۔۔

مجھ سے وعدہ کریں۔۔۔ کہ۔آپ کسی کو نہیں بتاٸیں گی کہ میں کہاں ہوں۔۔۔۔۔!

عمر نے انوشے کو ساکت ہی کر دیا۔

وعدہ کریں بھابھی۔۔۔!! عمر نے ہاتھ آگے بڑھایا۔

عمر۔۔۔۔!! شہریار۔۔۔ وہیں ہیں۔۔۔ ناں۔۔۔۔!! وہ ٹھیک کر دیں گے سب۔۔۔۔!! کیا ۔۔ تمہیں۔۔۔ ان پے بھروسہ نہیں۔۔۔۔؟؟انوشے نے اسے روکنا چاہا۔

بھابھی۔۔۔!! شہریار بھاٸی نے عرصہ لگا دینا ہے۔ اس مسٸلے کو حل کرنے میں۔۔۔۔!!

آپ کا یہ سمجھ دار دیور۔۔۔ کچھ ہی دنوں میں مسٸلہ Solve کرآۓ گا۔

یقین رکھیں۔ آپ کے شوہر سے پہلے واپس بھی آجاٶں گا۔

عمر نے مطمیٸن انداز میں کہا۔ تو انوشے زیرِ لب مسکراٸی۔

پھر۔۔۔۔ میں یہ سمجھوں ناں۔۔۔۔۔ہ آپ میرا بھرم رکھیں گیں۔ اور کسی سے بھی میرے بارے میں بات نہیں کریں گیں۔

عمر نے انوشے سے وعدہ لیا۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔لیکن امی سے تو مل۔لو۔۔۔۔!

انوشے نے ہار مانتے کہا تھا۔وہ عمر کو اچھی طرح جانی تھی۔ ایک بار کچھ کرلینے کی ٹھان لیتا تو پھر اپنی بات سے پیچھے نہی ہٹتا تھا۔

نہیں بھابھی۔۔۔!! ان سے ملا۔۔۔ تو جا نہیں پاٶں گا۔۔۔۔!!

آپ ان کا خیال رکھیے گا۔ اللہ نگہبان

عمر کہتےہی باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔

انوشے اس کے پیچھے آٸی۔ اور اسکے لیے دعاٸیں رکرتی وہ رو دی۔

**************

کیا۔۔۔۔مسٸلہ ہے۔۔۔۔؟؟ کیوں شور مچایا ہوا ہے۔۔۔؟؟

گیٹ پے شور سن کے صلہ گیٹ کی طرف بڑھی۔

میڈم جی۔۔۔!! یہ شخص اندر آنے کی ضد کر رہا ہے ۔ ہم۔نے منع کیا تو ہاتھا پاٸی پے اتر آیا۔

گیٹ کیپرنے غصے سے کہا۔

صلہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ سکتے میں آگٸ تھی۔

انکل۔۔۔۔آپ جاٸیں۔۔۔ میں۔بات کر لیتی ہوں۔

صلہ نے چوکیدار کو وہاں سے ہٹایا۔تو وہ منہ بنا کے چلا گیا۔

واہ۔۔۔کیا ہاتھ مارا ہے۔۔۔ کافی اونچا مرغا پھانسا ہے۔۔۔۔!! رمضان نے طنزاور مسکراتے کہا۔

بکواس بند ۔۔۔۔۔۔ اور کیوں۔۔ آۓ ہو یہاں۔۔۔۔۔؟؟

صلہ نے غصہ دباتے سخت لیکن دھیمی آواز میں کہا۔

میں۔۔ کیوں۔۔۔آیا۔۔۔۔۔؟؟

واں ۔۔۔۔ ڈیرے پے ۔۔۔مجھ اپنےاس یار سے گولی مروا کے مرنے کے لیے چھوڑ آٸی۔۔۔۔۔ اور مجھے پوچھتی ہے۔۔۔کہمیں یہاں کیوں آیا۔۔۔۔؟؟

اونچی پواز میں بولتا وہ صلہ کو زہر لگا۔

آواز آہیستہ رکھو۔ اور نکلویہاں سے۔۔۔۔!! ورنہ۔۔۔!!

صلہ نے اسے گیٹ کا رستہ دکھایا۔

ہاں ہاں۔۔۔ چلا جاتا ہوں۔۔۔ میرے بیس لاکھ دے دو۔چلاجاتا ہوں۔

احسان جتاتےکہا۔

کون سے بیس لاکھ۔۔۔۔۔؟؟ کوٸی پسے نہیں ہیں میرے پاس۔۔۔۔!!

اب نکلو یہاں سے۔۔۔!!

صلہ اسے سبحان کے آنے سے پہلے بھگانا چاہتی تھی۔ اور ویسے بھی گھر میں آج مہمان آرہے تھٕے۔ایسے میں وہ کوٸی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔

آہا۔۔۔۔۔۔۔۔کون سے بیس لاکھ۔۔۔۔؟ بہت جلدی یادداشت نے کام کرنا بند کر دیا۔۔۔۔!!

میرے پاس نہیں ہیں کوٸی بھی پیسے۔۔۔۔!! اگر ہوتے بھی تو۔۔۔ تمہیں ۔۔کبھی نہ دیتی۔۔۔!!

صلہ نے غصے سے اسکی بات ٹوکتے کہا۔تو رمضان کو بھی غصہ آگیا۔

ایک تو صلہ نے اپنی ماں کو بھی وہاں سے نکلوا کے غاٸب کر دیا۔ اور بہن کو بھی لے گٸ۔ اس سب کا بھی رمضان کو بہت غصہ تھا۔

تو۔۔۔ تُومجھے ۔۔۔ پیسے نہیں دے گی۔۔۔۔۔؟؟

رمضان نے سخت لہجے میں پوچھا۔

نہیں۔۔۔۔! سپاٹ لہجے میں کہتی وہ رمضان کا پارہ ہاٸی کر گٸ۔

تو ٹھیک ہے۔۔ اب دیکھنا ۔۔۔۔۔میں کیا کرتا ہوں۔۔۔۔

تُو پچھتاۓ گی۔۔۔ روۓ گی۔۔۔۔!!

لیکن وقت کو واپس نہیں پلٹ سکے گی۔۔۔۔

اب دیکھ۔۔۔ میں کیا کرتا ہوں۔۔۔۔!!

غصے سے دھمکی دیتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

صلہ خاموشی سے وہیں کھڑی رہ گٸ۔ وہ رمضان کی سوچ تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔

سر جھٹک کر اندر آگٸ۔

***********

شہریار بتاۓ ہوۓ ایڈریس پے پہنچ گیاتھا۔

لیکن کافی ویٹ کرنے کے بعد بھی وہ شخص نہیں آیا۔

تو وہ وہاں سے اٹھا اور باہر نکلا۔

تو ایک آدمی اس کے پیچھے آیا۔ اور اس کے کندھے کو ٹچ کیا ۔

سر۔۔۔۔۔۔!! میرے پیچھے آٸیں۔

وہ شخص کہتے ساتھ ہی آگے نکل گیا۔ تو شہریار بھی سوچتا پیچھے پیچھے ہی اس کے ساتھ چلنےلگا۔

کچھ دیر آگے جا کے وہ ایک خاموش گلی میں گھس گیا۔

اور ایک عام سے ریسٹورنٹ میں وہ انٹر ہوتے ساتھ ہی شہریار کو اشارہ کیا۔

شہریار بھی اس کے پیچھے ریسٹوینٹ میں گیا۔

بیٹھیں سر۔۔۔!!

دھیمے لہجے میں کہا۔

شہریار سپاٹ انداز میں ایک چیٸر پے بیٹھا۔

سر۔۔۔!! آپ سوچ رہے ہوں گے ۔۔۔ کہ۔۔۔ میں کون ہوں۔۔۔

لیکن میں۔۔۔۔آپ کی مدد کرسکتا ہوں۔

مونا سے زین سر کا پیچھا چھوڑانے میں ،میں آپ کی مدد کروں گا۔

ہممممم۔۔مممم اور تم میری مدد کیوں کرو گے۔۔۔۔؟؟

شہریار کو اسکا انداز بہت پراسرار سا لگا۔

کیونکہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔ایک ایسی۔۔۔۔۔ناگن ہے۔۔۔۔ جس۔۔۔ نے مجھے بھی۔۔۔ ڈسا ہے۔۔۔۔۔!! آگے ہو کے کہتا۔۔۔ ا سکے لہجے میں صرف نفرت ہی نفرت تھی۔

شہریار اسے دیکھے گیا۔

میں اسکا پہلا شوہر ہوں۔۔۔۔۔۔!! اب کے لہجے میں دکھ تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

ارے بیٹا۔۔۔۔!! اتنا تکلف کیوں کر دیا۔۔۔۔۔؟؟

آفاق انکل۔کی بیوی مسز آسیہ نے کھانے پینے کی انواع و اقسام دیکھتے سبحان کو پیار سے ٹوکا۔

آج مسٹر اینڈ مسز آفاق سبحان کے گھر مدعو تھے

۔ساتھ میں اسفند یار بھی تھا۔

پلیز آنٹی لیں ناں۔۔۔۔ آپ کا آنا بہت اچھا لگا۔۔۔

صلہ ۔۔۔ نے انہیں ایک پلیٹ پیش کی۔

ماشااللہ بہت اچھی اور نیک ہیں آپ۔۔۔؟

کتنا عرصہ ہوا آپ کی شادی کو۔۔۔۔؟

ایک کیک کا پیس اٹھاتے ہوۓ انہوں نے سرسری انداز میں پوچھا۔۔

جی۔۔۔۔۔!! کچھ۔۔۔ عرصہ ہی ہوا ہے۔۔۔۔۔!!

صلہ نے گڑبڑا کے سبحان کی طرف دیکھتے مسکراتےکہا۔

ماشااللہ ۔۔۔۔ !! بہت پیاری جوڑی ہے آپ دونوں کی۔۔۔۔!!

دل سے وہ انکی تعریف کر رہی تھیں۔

صلہ کا دل زور سے دھڑکا۔

ارے بھٸ۔۔۔۔!! ہماری گڑیا کہا ں ہے۔۔۔؟؟

ملواٶ گے نہیں۔۔۔۔؟؟ آفاق انکل نے تابی کازکر کیا۔

کیوں نہیں۔۔۔۔۔!!

تابی۔۔۔ کو لے آٶ۔۔۔۔!!

آفاق انکل کو مسکرا کے کہتے ۔۔ وہ دھیرے سےساتھ بیٹھی صلہ سے مخاطب ہوا۔

تو صلہ فوراً سر ہلاتی اٹھی۔لیکن ۔۔۔

اتنے میں تابی خود ہی وہاں آگٸ۔

صغرا خالہ بھی اس کے ساتھ تھیں۔ شای وہی اسے سمجھا کے اپنے ساتھ لاٸیں تھیں۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم ،۔۔۔۔۔۔۔۔!!

تابی نے آتے ہی سلام کیا۔

سادہ سے روپ میں وہ مسز آسیہ کو بہت بھاٸی۔

فوراً اٹھ کے اسے گلے سے لگایا

ماشاءاللہ ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔!! آٶ بیٹا۔۔۔۔ یہاں ۔۔۔ آٶ۔ ۔۔۔۔!!

مس آسیہ نے تابی کو اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔

اسفند نے بھی پسندیدگی کی نگاہ سے تابی کو دیکھا ۔

اور اس بات کو آفاق انکل اور سبحان دونوں نے نوٹ کیا۔

مسز آفاق تابی سے چھوٹے موٹے سوال کرنے لگیں۔۔۔۔

تابی گنے چنے جواب دیتی رہی۔

جبکہ ایک بار بھی نظر اٹھا کے کسی کو بھی نہ دیکھا۔

اندر سے وہ ٹوٹ ر ہی تھی۔۔۔۔ لیکن ہمت جٹاۓ بیٹھی تھی۔

ارے بھٸ۔۔۔۔۔!! سبحان۔۔۔۔۔۔ !! ہمیں تابی بہت پسند آگٸ ہے۔۔۔۔۔ اگر ۔۔۔ تم اجازت دو۔۔ تو ہم۔۔۔ اسے اپنے بیٹے کے لیے آپ سے تابی کو مانگنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔

مسز آسیہ۔۔۔کچھ زیادہ ہی جلدی میں تھیں۔

تابی کا ہاتھ مسلسل ان کے ہاتھ میں تھا۔

انکی بات پے تابی نے حیرت سے پہلے انہیں دیکھا۔ پھر۔ سامنے بیٹھے سبحان کو۔۔۔

سبحان کے چہرے کے تاثرات نارمل تھے۔۔

ہاں۔۔۔۔۔ سبحان۔۔۔۔!! ہم ۔۔۔ خاص ۔۔ اسی مقصد سے آۓ ہیں آج۔۔۔۔!! اس لیے۔۔۔ ہمیں مثبت جواب دینا۔۔۔۔

ہمارا اسفند بھی تمہارے سامنے ہے۔۔۔۔۔!! مسٹر آفاق نے مسکراکے بیٹے کو دیکھا۔ تو وہ دھیرے سے مسکرا دیا۔

ارے۔۔۔۔ انکل۔۔۔!! آپ کی بات سر آنکھوں پے۔۔۔۔۔

اسفند تو مجھے بھی بہت پسند ہے۔۔۔۔!!

سبحان کی بات پے تابی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔

اسے یقین نہ آیا۔۔۔۔ کہ اسکا بھاٸی۔۔۔۔ بنا اسکی راۓ لیے۔۔۔۔ زندگی کا اتنا بڑا۔۔۔ فیصلہ بنا اسکی مضی کے لے لے گا۔ ایک پل میں ہی۔۔۔۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔۔!! ہمیں کوٸی دن دے دو۔۔۔۔ ہم آکے۔۔۔ رسم ادا کرلیں۔۔۔۔!!

مسٹر آفاق نے اگلا لاٸحہ عمل بتایا۔

تابی کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اور وہاں سے اٹھ گٸ۔

اس کے یوں اچانک اٹھ کے جانے پے ایک لمحے کو سب خاموش ہوگۓ۔

شاید۔۔۔۔ شرما گٸ ہے۔۔۔۔!!

مسز آفاق نے مسکرا کے کہا۔ لیکن سبحان مسکرا بھی نہ سکا۔۔۔

کیونکہ اس کا دل اسے بے چین کر رہا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

عمر نے جیسے ہی یو کے اٸیر پورٹ پے قدم رکھا۔

ایک شخص جلدی میں چلتا اس کے پاس آیا۔

ویلکم۔۔۔ویلکم۔۔۔ ٹو دا یوکے۔۔۔۔!!

وہ شخص بہت خوشی سے بولا۔

عمر نے ا س سے مصافحہ کیا۔

آپ ارسل ہیں۔۔۔۔؟؟ عمر نے تصدیق کی۔

جی جی۔۔۔ اس ناچیز کو اے ڈی۔۔۔

یعنی ارسل ڈیٹکٹیو کہتے ہیں۔۔۔۔

بلال بھٸی نے مجھے ساری ڈیٹیل دے دی ہے۔۔۔ آپ بالکل بے فکر ہو کے آٸیں۔ اب سے آپ کی ساری ٹینشن اے ڈی کی۔

اے ڈی نے عمر سے بیگ لیا۔ اور اسے لیے گاڑی کی جانب بڑھا۔ عمر مسکراتا اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھا۔

وہ بہت باتونی تھا۔۔۔ عمر کو پہلی ملاقات میں ہی اندازہ ہو گیا تھا۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

میں کیسے تمہارا یقین کر لوں ۔۔۔۔ کہ تم سچ کہہ رہے ہو؟؟؟؟

شہریار کو اس شخص کی باتوں پے یقین کرنے کو دل نہ کیا۔

میں جانتا تھا۔۔۔۔ آپ یقین نہیں کریں گے۔۔۔۔

یہ دیکھیں۔۔۔۔ فوٹو گرافس۔۔۔۔ ہماری شادی کی۔۔۔۔!!

اس نے جیب سے نکال کے کچھ تصویریں شہریار کے سامنے رکھیں۔

شہریار انہیں دیکھنے لگا۔

ہماری لو میرج تھی۔۔۔۔ جس کمپنی میں میں ایم ڈی کی پوسٹ پے تھا۔۔۔۔۔ مونا وہاں جاب کے لیے آٸی۔۔۔

میں نے ہی اسے جاب دی۔۔۔ ہماری دوستی ہوٸی۔۔۔ کب دوستی پیار میں بدلی۔۔۔۔۔ پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔ اور ۔۔۔ پھر ہمنے ۔۔شادی کر لی۔۔۔۔۔

وہ بنگلہ دیش سے ہے اور میں پاکستان سے۔۔۔!!

ہم۔۔۔۔ دونوں خوش تھے ۔۔ ایک۔۔۔ساتھ۔۔۔۔!!

میں نے اسی محبت میں اپنا سب کچھ ۔۔۔ا سکے نام کر دیا۔۔۔۔۔

اسکی۔۔۔ ایک اپاہج ۔۔۔۔ماں تھی۔۔۔ جو اسی کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔۔ مجھے اس سے محبت تھی۔۔۔ میں نے کبھی اعتراض نہ کیا۔۔۔

کچھ لمحے اس نے تٶقف کیا۔

وہ مجھ ۔۔۔ سے محبت کرتی تھی۔۔۔ یہ بھرم اس دن ٹوٹا۔۔۔ جب میں نے۔۔۔ اسے ۔۔۔کسی۔۔ غیر کی بانہوں میں۔۔ دیکھا۔۔۔۔

اس کے لہجے میں دکھ تھا۔۔۔۔

ہماری لڑاٸیاں شروع ہوگٸیں۔

وہ جو مجھ پے پیار نچھاور کرتی تھی۔۔۔

اسے میرے وجود س نفرت ہونے لگی۔۔۔۔

اس نے مجھ سے علیحدگی کا مطالبہ کر لیا۔۔۔۔

میں نہیں مانا۔۔۔۔

پھر اک۔۔۔۔ دن۔۔۔ میں گھر آیا۔۔۔

اس کی ماں۔۔۔ زمین پے پڑٕی تھی۔۔۔۔ بے ہوش۔۔۔۔

میں ان کے پاس گیا۔۔۔۔ انہیں ۔۔۔ چیک کیا۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ انکی ڈیتھ ہو چکی تھی۔۔۔

اسی وقت۔۔۔ مونا گھر میں داخل ہوٸی۔۔۔

اور اس نے ۔۔۔ مجھ پے ۔۔۔۔ الزام دھر دیا اپنی ماں کے مرڈر کا۔۔۔۔۔!!

اس نے پولیس کو بھی کال کر دی۔۔۔۔ میں وہا ں سے بمشکل جان بچا کے بھاگا۔۔۔

اور۔۔۔۔ اب تک چھپتا چھپاتا پھر رہا۔۔ہوں۔۔۔۔

بہت دفعہ جی چاہا ۔۔۔کہ اس ۔۔۔گناہ کی پوٹلی۔۔۔کو مار پھینکوں۔۔۔ کہیں۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔

میرا پاسپورٹ۔۔۔۔ سب کچھ اس کے پاس ہے۔۔۔۔

میں بالکل خالی ہاتھ ہوں۔۔۔

پھر ایک دن مجھے پتہ لگا۔۔۔۔

اس نے نیا شکار ڈھونڈا ہے۔۔۔۔۔۔ مسٹر زین۔۔۔۔!!

میں نے کہیں بار ان سے ملنے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن ناکام ٹھہرا۔۔۔۔

آج بھی۔۔۔ ان سے ملنے۔۔۔آفس ہی گیا تھا۔۔۔۔

وہاں۔۔۔۔ آپ کو دیکھا۔۔۔۔ آپ کو باتیں سنیں۔۔۔

اسی وقت۔۔میں نے فیصلہ کیا۔۔۔۔ کہ ۔۔میں آپ کی مدد کروں گا۔۔۔۔

جس سے آپ کا مسٸلہ بھی حل ہو جاۓ اور۔۔۔۔ میرا بھی۔۔۔۔!!

اس شخص نے پوری کہانی شہریار کو سنا دی۔

چیٸر کے ساھ ٹیک لگاۓ۔۔ شہریار گہری سوچ میں غرق ہو گیا تھا۔

تم۔۔۔میری کیسے مدد کر سکتے ہو۔۔۔۔؟؟

سر۔۔۔۔۔!! جیسے آپ کہیں گے۔۔۔۔ کروں گا۔۔۔۔۔!!

بس مجھے۔۔۔ اس ناگن کو سزا دلانی ہے۔۔۔ اور اپنا پاسپورٹ لینا ہے۔۔۔۔!!

وہ شخص فوراً بولا۔

شہریار فیصلہ نہ کر پارہا تھا۔۔۔

کہ اس پے یقین کرے یا نہ۔۔۔۔۔؟؟ تم نے سب کچھ۔۔۔ بتایا۔۔۔۔

لیکن ۔۔۔اپنا۔۔۔ نام۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔بتایا۔۔۔۔؟؟

ز۔۔۔لفی۔۔۔۔!! میرانام۔۔۔۔ زلفی ہے۔۔۔۔!!

نام بتاتے اسکی زبان لڑکھڑاٸی۔

شہریار کو اسکی آواز کی کپکپاہٹ چونکا گٸ۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

آج توجو ہوا سو ہوا۔۔۔

آج کے بعد۔۔۔۔

مجھے ۔۔۔ وہ شخص ۔۔ گیٹ کے آس پاس بھی نظر نہ آۓ۔۔

سمجھے۔۔۔۔!!

چوکیدار سے رمضان کی آمد کا پتہ چلتےہی سبحان نے چوکیدار کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اور سیکیورٹی بھی مزید سخت کر دی۔

وہ رمضان کی وجہ سے گھر والوں کوکسی مشکل۔میں نہیں ڈال۔سکتا تھا۔۔۔

جبکہ ا۔۔۔اب وہ معصوم سی پیاری سی سحر ۔۔۔ا سے بھی بہت عزیز ہو گٸ تھی۔

اور صلہ کے لیے بھی اسے فکرہونے لگی تھی۔

صلہ وہ پہلی لڑکی تھی جس نے سبحان کے دل کےتار چھیڑے تھے۔

اب جبکہ یہ حقیقت بھی اس پے آشکار ہو گٸ تھی۔۔

کہ وہ مجبوری میں عمر سے رشتہ جوڑ رہی تھی۔۔۔۔

اس کے بعد۔۔ سے اس کے دل۔میں جو صلہ کے۔۔ لیے میل۔تھا وہ بھی جاتا جا رہا تھا۔۔۔

لیکن وہ سبحان ہی کیا۔۔۔؟؟ جو اپنے دل کےآگے گھٹنےٹیک دے۔۔۔۔؟؟؟

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

ایسا۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔کر سکتےہیں۔۔۔ بھاٸی۔۔۔۔!؟؟

جبکہ۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ آگے پڑھنا ہے۔۔۔۔

پھر۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔

تابی کے آنسو ہی نہیں رک رہے تھے۔۔۔

گھٹنوں میں سر دٸیے وہ کافی دیر سے رٶۓ جا رہی تھی۔

عمر۔۔۔۔۔ کہاں ہو تم۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔ آجاٶ۔۔۔

میں۔۔۔کیسے۔۔۔۔ کسی ۔۔۔ اور ۔۔۔سے۔۔۔۔؟؟

یااللہ۔۔۔۔۔ کیسی ۔۔۔آزماٸش ہے یہ۔۔۔۔۔؟؟

تابی نے پاس پڑا۔۔۔موباٸل اٹھا یا۔ ایک بار پھر عمر کو کال کی۔لیکن اسکا نمبر بند آرہا تھا۔۔۔

آنسو پونچھتے موباٸل واپس رکھ دیا۔

میں۔۔۔۔ کیا ۔۔۔کروں۔۔۔۔ کیسے۔۔۔ سمجھاٶں۔۔۔ بھاٸی کو۔۔۔؟؟

ایک جنگ چل رہی تھی اس کے اندر۔۔۔

اس وقت اسے عمر کے ساتھ کی ضرورت تھی اور وہ۔۔۔ کہاں تھا۔۔۔۔؟؟

وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔۔

اسے کچھ بھی اچھا نہ لگ رہا تھا۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

جیل سے باہر نکلتےہر وہ دونوں بہت خوش تھے۔

ویسے آپس کی بات ہے۔۔۔۔

ہماری۔۔۔ ضمانت کس نے کراٸی۔۔۔۔۔؟؟

اور جیدی۔۔۔؟؟ اسکا تو پتہ ہی نہیں۔۔۔ کہ وہ کب باہر نکلا۔۔۔۔ کہاں گیا۔۔۔۔؟؟

ہاں یار۔۔۔ بڑا ہی کوٸی بے وفا نکلا۔۔۔ وہ ٹڈا۔۔۔۔۔!!

شمس نے بھی سمیر کی ہاں میں ہاں ملاٸی۔

سر۔۔۔!! آٸیے۔۔۔۔!! باس آپ کا ویٹ کر رہےہیں۔۔۔۔۔ایک آدمی نے مہذب انداز میں پاس آکے کہا۔۔۔

تو وہ ایک دوسرے کو دیکھتے اس آدمی کے ساتھ ہو لیۓ۔

کہیں۔۔۔ ہمارا۔۔ کراٸم پاٹنر۔۔۔۔ واپس تو نہیں۔۔۔ آگیا۔۔۔؟؟ کے کے۔۔۔۔؟؟

سمیرنے سرگوشی کی۔۔

ہممممم۔۔۔مم مجھے بھی یہی لگتا ہے۔۔۔۔

کےکے ہی ہوگا۔۔۔۔!!

چلو۔۔۔ مل۔لیتے ہیں۔۔۔ اپنے کراٸم پارٹنر سے۔۔۔۔

وہ دونوں خوشی خوشی گاڑی میں بیٹھے اپنی منزل۔کی جانب چل دیٸے۔

یہ جانے سمجھے بغیر۔۔۔ کے وہ سفر ۔۔۔ان کا آخری سفر بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔!!

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

مسلسل ادھر سے ادھر چکر لگاتی صلہ کوٸی بیس بار فون چیک کر چکی تھی۔

آج اس نے اپنی ماں سے ملنے ہاسپٹل جانا تھا۔

اور اس کے لیے اس نے سبحان سے ہاسپٹل کا ایڈریس مانگا تھا میسج پے۔۔۔

میسج سین ہوگیا تھا۔

لیکن ریپلاٸی نہیں آیا تھا۔

شاید وہ بزی تھا ورنہ لازمی جواب دیتا۔۔۔

چاہے ڈانٹ ہی کیوں نہ دیتا۔

تبھی کال نے اسے چونکایا۔

ڈرتے ڈرتے فون کان سے لگایا۔

ہارٹ بیٹ بھی تیز ہو گٸ۔

تھوڑی دیر میں ڈراٸیور اور گارڈ پہنچ جاٸیں گے۔۔۔

اور وہ تمہیں لے جاٸیں گے۔۔

یاد رکھنا ۔۔۔ صرف آدھا گھنٹہ ہوگا۔۔۔۔

جو کہنا سننا ہوا کہہ سن لینا۔۔۔۔!!

دوبارہ کال کروں۔۔۔ تو گھر پے ہو۔۔۔!!

بنا صلہ کی سنے ۔۔ وہ صرف اپنی سنا کے فون بند کر چکا تھا۔۔۔

صحیح کہتی ہوں میں۔۔۔

ہٹلر ہی ہے یہ۔۔۔۔!!

اونچی آواز میں بڑبڑاتی وہ نیچے آٸی۔

وہ سحر کو فی الحال ساتھ نہیں لےکے جانا چاہتی تھی۔ وہ سحر کےلیےبہت حساس تھی۔

کیاہوا بیٹا۔۔۔۔؟؟ کوٸی ۔۔۔ پریشانی ہے؟؟

صغرا خالی نےصلہ کو پریشان دیکھا تو پوچھ لیا۔

نہیں۔۔۔ خالہ۔۔۔ ۔۔

بلکہ۔۔۔مجھے۔۔۔ کہیں ۔۔۔ جانا ہے بہت ضروری ہے۔۔۔ سحر ۔۔۔کے لیے۔۔۔ فکر۔مند ہوں۔۔۔۔

ارے بیٹا۔۔۔۔!!آپ جاٶ۔۔ سحرکے ساتھ میں۔۔۔ ہوں ناں۔۔۔اور سحر گھرمیں ہی ہے۔۔۔

آپ کام نمٹا آٸیں۔۔۔۔!!

صغرا خالہ نے جھولا جھولتی سحر کی طرف پیار سے دیکھا۔

اوہ۔۔۔ تھینک یو سومچ۔۔۔ خالہ۔۔۔! میں جلدی واپس آجاٶں گی۔۔۔ بس آپ ۔۔اسے ۔۔اکیلا۔۔ نہ چھوڑنا۔۔۔۔!!

صلہ نے انہیں تنبیہہ کی۔۔

بےفکرہوکے جاٶ۔۔۔۔!!

باہر گاڑی کے ہارن کی آواز آٸی۔

صلہ جلدی سے سحر کے پاس گٸ۔ اسے اپنے جانےکا بتایا۔

آپی۔۔۔۔!میں بھی چلوں آپکے ساتھ۔۔؟؟وہ بھی تیار ہوگٸ جانے کے لیے۔!!

گڑیا جانی۔۔۔۔!! آپی کام سے جا رہی ہے۔۔۔ ناں۔۔

اور ۔میں جلدی واپس آجاٶں گی۔۔۔ آپ نے اپنا خیال رکھنا ہے بہت۔۔۔

اوکے۔۔۔!! سحر نےاثبات میں سرہلایا۔۔

وہبچن سے ہی ایسی تھی جہس نے کبھی کوٸی ضد نہ کی تھی۔ ہمیشہ فرما برداری ہی دیکھاٸی تھی۔

!صلہ سحر کوپیار کرتی باہر نکلی۔

سحرکی نظروں نے آخر تک اسکا پیچھاکیا۔

صلہ بھی مڑ۔مڑکر اسے دیکھ رہی تھی۔اور مسکراتی باہرآٸی اور اسکے گاڑی مں بیٹھتے ہی گاڑی چل۔پڑی۔

*************

اوہ۔۔ہو۔۔۔۔ یہ تو ختم ہے۔۔۔۔!!

رات کے کھانےکی تیار ی کرتے صغرا خالہ نے ماتھے پے ہاتھ مارا۔

اور سامان کا تھیلا اٹھاۓ باہر جانے کے ارادہ سے نکلیں۔

دادو۔۔۔۔!! آپ کہاں جا رہیں ہیں۔۔۔۔؟؟

سحر نے روکا۔

بیٹا۔۔۔ بازار جارہی ہوں کچھ سامان ختم ہو گیا۔ وہ لینا ہے۔۔۔۔

دادو۔۔۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلٶں؟؟

سحرنےبہت پیار سےپوچھا

ارے۔۔ بیٹا۔۔۔!! آپ گھر رہیں۔۔۔ میں۔جلدی واپس آجاٶں گی۔۔۔

دادو۔۔۔!! میں نے بھی جانا ہے۔۔ آٸسکریم۔کھانی ہے میں نے۔۔۔کوٸی بھی مجھے کہیں نہیں لے کے جاتا۔

سحر اداس ہوٸی

ایسی بات نہیں بیٹا۔۔۔! آپ کی آپی آگیٸ۔۔۔ تو وہ پریشان ہوں گیں۔

صغراخالہ نے ٹالا چاہا۔

مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے۔۔۔ مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔

تھوڑا خفا ہوٸی

اچھا۔۔۔ ایک منٹ ۔۔میں آپ کی آپی سے پوچھ لوں۔۔۔؟؟نہیں۔۔۔ تو وہ ناراض۔ہو جاٸیں گیں۔

نہیں۔۔۔۔!! وہ مجھےجانےہی نہیں دیں گیں۔۔۔۔

آپ ان سے نہیں ۔۔۔۔ پوچھیں۔۔۔۔ پلیز۔۔

ہم۔ان کے آنے سے پہلے واپس آجاٸیں گے ناں۔۔۔۔

صغرا خالہ کو اس معصوم۔کے چہرے کی خوشی مسرور کررہی تھی۔

اچھا۔۔۔ بابا چلو۔۔۔۔!! لیکن ۔۔۔ وعدہ کرو۔۔۔ میرے ساتھ ساتھ رہو گی وہاں۔۔۔۔

آپ کے ساتھ ہی رہوں گی۔۔۔۔!! ااب چلیں بھی۔۔۔

سحر نےصغرا خالہ ک ہاتھ تھاما۔اوور بہر کی ططرف قدم بڑھاۓ۔

اور صغرا خالہ اسے ایسے دیکھ کے خوش ہورہی تھیں۔

گاڑی میں بیٹھتے۔۔۔۔ ہی سحر کی خوشی دیدنی تھی۔

کچھ ہی دیر میں وہ قریبی مارکیٹ میں پہینچ گۓ۔

ہم بس دس منٹ میں آتےہیں۔۔ تم یہیں ۔۔۔۔۔ ویٹ کرو۔۔۔

صغرا خالہ نے ڈراٸیور سے کہا۔ اور سحر کا ہاتھ تھامے نیچے اتر گٸیں۔

اتنی بڑی مارکیٹ۔۔۔ سحر پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی۔ہر چیز تھی وہاں۔۔۔۔۔!!

دادو۔۔۔۔۔! یہاں۔۔۔۔ کتنا کچھ ہے۔۔۔ ناں۔۔۔۔!!

ادھر ادھر دیکھتی وہ بہت خوش ہورہی تھی۔

میری بیٹی نے کیا لینا ہے۔۔۔؟

صغرا خالہ نےاسے پیار سے پوچھا۔

میں۔۔۔ میں ۔۔۔۔لےلوں۔۔۔ دادو۔۔۔؟؟ آپ مجھے۔۔۔۔ لے دیں گیں۔۔۔۔؟؟

اس نے آنکھیں پھیلاتےہوۓ حیرت سے پوچھا۔

ہاں بیٹا۔۔۔۔۔ لے لو جو جو لینا ہے۔۔۔۔میری پیاری بیٹں ہیں آپ۔۔۔۔!!

صغرا خالہ اسکا اشتیاق دیکھ نم لہجے میں بولیں۔

تو وہ خوش ہوتی بچوں کی چیزوں کے کارنر کی طرف چل دی۔ صغرا خالہ بھی ساتھ ساتھ رہیں۔

اس بات سے انجان کے۔۔۔۔ کوٸی۔۔۔ ہے جو ان کے تعاقب میں ہے۔۔۔

ڈھیر سارا سامان لےکے وہ خوشی خوشی مارکیٹ سے نکلیں۔

انہیں مارکیٹ سے نکلتا دیکھ ڈراٸیور فوراً ان کیطرف لپکا۔ا ور سارا سامان لے کے گاڑی کی جانب بڑھا۔

دادو۔۔۔۔!! آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔ میں۔۔۔ نےبہت ساری۔۔چیزیں۔۔۔ لیں۔۔۔۔ صلہ۔۔۔ آپی کے لیے۔۔۔۔ چوڑیاں لیں۔۔۔ انہیں بہت پسند ہیں چوڑیاں۔۔۔ لیکن ۔۔۔ انہوں۔۔۔ نے پہنننا ہی چھوڑ دیں۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ اب میں خود انہیں۔۔۔ پہناٶں گی۔۔۔۔

اور وہ جو۔۔۔ چادر ہے ناں۔۔۔ موتیوں والی۔۔۔۔۔۔۔ وہ میں نے مما کے لیے لی ہے۔۔۔

جب ان سے ملنے جاٶں گی ناں۔۔۔ تو انہیں۔۔۔ دوں۔۔۔ گی۔۔۔!!

آج خوشی سے وہ چہکے جا رہی تھی۔

اور میری بیٹی نے اپنے لیےکیا لیا۔۔۔۔؟؟

اوہہ۔۔۔۔۔ یاد آیا۔۔۔۔

آٸسکریم ۔۔۔ لینی تھی میں نے۔۔۔لی ہی۔۔ نہیں۔۔۔!

اردگرد دیکھا۔۔۔۔ دور روڈ کے پار آٸسکرم پارلر نظر آیا۔۔

خوشی کے جذبے کی رو میں بہتی وہ ۔۔۔۔ اس طرف بڑھی۔

خالہ صغرا اسے آوازیں دیتی رہ گٸیں۔

رش اور گاڑیوں کے بیچ میں سے نکلنا ان کے لیے مشکل تھا۔

پلٹ کے ڈراٸیودرکو دیکھا کہ اسے سحرکی طرف بھیجیں۔ لیکن انہیں۔۔ ڈراٸیور کہیں نظر نہ آیا۔

جبکہ ڈراٸیور۔۔ سامان گاڑی میں رکھتے وہیں کسٕی کے سر میں ڈنڈا مارنے سے بےہوش پڑا تھا۔

جیسے ہی وہ آٸسکریم لے کے پلٹی۔

اسکے چہرے پے دنیا جہان کی خوشی تھی۔۔۔

جیسے اس نے سب پا لیا۔

لیکن اگلے ہی لمحے ۔۔

اسے اپنی گردن پے جلن کا احساس ہوا۔

جلن بڑھی۔کان اور کاندھے پے بھی جلن بڑھی۔

بے اختیار اس کے ہاتھ سے آٸسکریم نیچے گری۔

صغرخقلہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ اس کی اس حالت پے وہ افراتفری میں اسکی طرف بھاگیں۔ اور ٹریفک کا بھی خیال نہ کیا۔

اور ایک گاڑی سے انکی ٹکر ہوٸی۔ اور وہ دور جا گریں۔

آنکھوں کے سامنے وہ معصوم درد سے تڑپتی ۔۔روتی ۔۔ بلکتی۔۔۔ نظر آٸی۔۔

لیکن وہ چاہ کے بھی نہ اٹھ پارہی تھیں۔

لوگوں کا ایک ہجوم لگ گیا تھا۔ کچھ لوگو ں نے خالہ صغرا کو اٹھانے کی کوشش کی۔

جبکہ دوسری طرف وہ معصوم درد سے بے حال تڑپ رہی تھی۔

افففف۔۔۔ دیکھو تو۔۔۔۔۔کیا حالت ہوگٸ ہے۔۔۔۔۔!!

ہاں۔۔۔۔ شاید تیزاب تھا۔۔۔۔ بیچاری۔۔۔۔۔!!

وہ معصوم زمین پے ڈھے سی گٸ۔

کسی نے بھی آگے بڑھ کے اسے اٹھانے کی کوشش نہ کی۔وہ آسمان کی طرف دیکھتی آنکھوں میں آنسو لیے۔۔ درد سہتے سہتے آنکھیں موندنے لگی۔۔۔۔

Call the ambulance….

کسی نے چلا کے کہا۔۔۔۔

لیکن شاید۔۔۔۔۔۔ بہت۔۔۔ دیر۔۔۔ ہوگٸ تھی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *