Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan NovelR50515 Mera Ishq Teri justujoo (Episode 05)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq Teri justujoo (Episode 05)
Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
,*******************************
مسلسل سڑکوں کی خاک چھانتے کافی وقت بیت گیا تھا۔
لیکن وہ کہیں نہ ملی۔۔ عمر بہت سخت پریشان تھا۔
کہیں۔۔۔۔ کہیں۔۔۔ وہ اپنے گھر۔۔۔۔۔؟؟ عمر کے زہن میں ایک دم سے یہ خیال کوندا۔
تو اسکا دل بہت زور سے دھڑکا۔ اور کچھ سوچتے ہوۓ۔۔گاڑی” خان ولا” کی طرف موڑ دی۔
**************
دانتوں سے کاٹنے پر کلاٸی پے نشان پڑ گۓ۔۔ گرفت ڈھیلی پڑی تو وہ۔اپنا آپ چھڑا کر باہر بھاگی۔
جس راستے وہ آۓ تھے۔اس راستے سے وہ واپس پلٹی۔
وہ شخص بھی پیچھے بھاگا۔
ہار نہ مان رہا تھا۔
تابی سر پٹ بھاگی۔
لیکن اس شخص نے تابی کو جالیا۔ اور تابی کی شال اسکے ہاتھ میں آگٸ۔ تابی نے اسکی بھی پروا نہ کی۔ اور بھاگتی رہی۔
اس شخص نے ہاتھ میں لپیٹ کر تابی کی شال دور پھینکی۔
اور پھر سے تابی کے پیچھے بھاگا۔
کہاں بھاگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟رک ۔۔۔۔۔ یہاں آ۔۔۔۔!!!
اس شخص نے تابی کو پکڑکر اپنی طرف کھینچا۔
تابی اس سے خود کوبچاتی دور جا گری۔
لیکن فوراً سنبھل بھی گٸ۔
سامنے۔۔۔ شیطان کے روپ میں اس بھیڑیے کو دیکھا۔ جو فاتحانہ انداز میں اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔
تابی نے خود کے بچاٶ کے لیے ارد گرد نگاہ دوڑاٸی۔ ۔۔لیکن۔۔۔ اسے کچھ نظر نہ آیا۔ ۔پوری سڑک سنسان تھی۔
ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔۔ تابی کے آنسو روانی سے بہنے لگے۔
خبر دار ۔۔۔۔۔ جومیرے قریب بھی۔۔۔۔ آۓ۔۔۔۔۔!!
تابی نے اٹھنے کی کوشش کی۔لیکن چوٹ کی وجہ سے اٹھ نہ پاٸی۔
آہا۔۔۔۔۔۔۔قربان جاٶں اس ادا پے۔۔۔۔۔!! یہ۔۔جانتے وۓ۔۔ بھی کہ۔۔۔۔ مجھ سے۔۔۔ بچ نہیں سکتی۔۔۔۔ پھر۔۔ بھی دھمکیاں۔۔۔۔۔؟؟
دور رہو۔۔۔ مجھ سے۔۔۔۔۔!
تابی کہتے ہوۓ بمشکل اٹھی۔اور پھر سے بھاگی۔ وہ شخص بھی پھر سے مسکراتے ہوۓ پیچھے آیا۔
تابی نے مڑ کے دیکھا۔ اس شخص کی آنکھوں میں ہوس صاف نظر آرہی تھی۔
تابی پے ایک ہی جنون سوار تھا۔ کہ موت آجاۓ ۔۔بے شک۔۔۔
لیکن۔۔ عزت پے آنچ بھی نہ آنے پاۓ۔
وہ پیچھے ہی بھا گا آرہا تھا۔ کہ وہ سامنے کسی سخت چیز سے ٹکراٸی۔
ٹکر بہت سخت تھی۔ ٹکر ا کے پیچھے کی طرف گرنے لگی تھی۔
کہ سامنے والے نے اسے اپنی بانہوں میں تھام لیا۔
سر اٹھا کے دیکھا۔
تو وقت تھم سا گیا۔۔۔۔۔
دل کی دھڑکن رک سی گٸ۔۔۔۔۔۔
دل نے اللہ کے آگے سجدہ کیا۔ ۔۔۔
آنکھوں سے سامنے والے کے چہرے کو عقیدت سے چوما۔۔
روتی آنکھیں۔ ۔۔۔ لیکن چہرے پے ایک سکون سی مسکان سج گٸ۔
یہ جانے بنا کی۔۔۔۔ سامنے والے کے غصے کی عتاب سے وہ بچ پاۓ گی بھی یا نہیں۔۔۔۔۔؟؟
اس بات سے بالاتر وہ پر سکون تھی کہ وہ مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
وہ عزت کا رکھوالا تھا۔۔۔۔
سکون کی ایک لہر پورے جسم میں سرایت کر گٸ تھی۔
اٶے۔۔۔۔۔۔۔! اسے میرے حوالے۔۔۔ کر۔۔۔ یہ میرا شکار ہے۔۔۔۔!!
وہ شخص سامنے والے کو جانے بنا اپنا ہی مدعا بیان کر رہا تھا۔
تابی کو بنا دوپٹے کے دیکھ عمرکے تن بدن میں آگ لگ گٸ۔
جھٹکے سے تابی کو ساٸیڈپے کیا۔
اور غصے سے اس شخص کی جانب بڑھا۔
اور ایک مکا بنا کر پورے زور سے اسکے منہ پے جڑ دیا۔
وہ اس اچانک افتاد کے لیے تیار نہ تھا۔ گرتےگرتے بچا۔
اسکے منہ سے خون نکلا۔
ارے۔۔۔۔۔س۔ا۔۔۔۔۔ل۔۔۔!! تو نے مجھ پے ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔۔؟
ایک اور مکا رکھ کے دیا۔
اور پھر اسے سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ اور پے در پے اسکے مکے جڑتے چلا گیا۔
واپس رکشے کی طرف بھاگا۔ لیکن عمر نے اسے نہ چھوڑا۔
چھوڑ دے۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ تو لے جا۔۔۔ یار۔۔۔ لڑکی۔۔۔ تیری ہوٸی۔۔۔مجھے۔۔۔ چھوڑ دے۔۔۔۔۔!!
وہ ہاتھ جوڑتے ہار مانتے بولا ۔
وہ لڑکی۔۔۔۔ بیوی ہے۔۔۔ میری۔۔۔۔۔! کہتے ساتھ ہی عمر نے ایک اور مکا جڑا۔
جبکہ تابی کی نظر بے اختیار ہی عمر پے جا ٹہری۔ وہ اسے اپنی بیوی تسلم کر رہا تھا۔
ہمت۔۔۔کیسے۔۔۔۔ ہوٸی۔۔۔ تیری۔۔۔۔؟؟ میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی۔۔۔۔۔؟؟۔
عمر اسے مارتے جا رہا تھا۔۔۔۔وہ ادھ موا ہو کے بے ہوش ہوگیا۔
لیکن عمرکا غصہ نہیں کم ہورہا تھا۔
پھر اسکے بے جان ہوۓ وجود کو ایک طرف پھینکا۔
کچھ ہی دور عمر کو تابی کی شال گری نظر آٸی۔
غصہ ضبط کرتے شال کو اٹھایا۔ اور تابی کی طرف بڑھا۔
اور اسکے گرد اچھی طرح سے شال لپیٹی۔ تابی بس اسکا چہرہ دیکھے جا رہی تھی۔اور آنسو بہاۓ جا رہی تھی۔
عمر نے اسکا ہاتھ پکڑا۔ گرفت اتنی سخت تھی۔ کہ تابی کو اس کے غصے کی انتہاکا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا۔
*******
گھر پہنچتے ہی عمر نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
کیوں۔۔۔ کیوں۔۔۔ تابی۔۔۔۔کیوں۔۔۔ کیا ۔۔تم۔۔۔نے ۔۔۔ ایسا۔۔۔۔؟؟
کیوں بھاگی۔۔۔ تم۔۔۔۔۔؟؟
عمر سے خود پے قابورکھنا محال ہور ہاتھا۔
تابی اس کے غصے سے کانپنے لگی۔
نظریں اٹھ ہی نہیں پا رہی تھیں۔
تم۔۔۔۔تم جانتی ہو۔۔۔۔! اگر۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔ کچھ ۔۔۔ہو جاتا۔۔تو۔۔۔۔؟؟دونوں ہاتھو ں سے اسے کندھوں سے تھامے وہ اس پے برسا۔
ایک ۔۔۔۔ایک ۔۔۔۔۔لمحے۔۔۔۔ کے۔۔۔لیے بھی۔۔۔۔ تم نے۔۔۔۔ نہیں۔۔ سوچا۔۔۔۔؟؟
کچھ۔۔۔ہو جاتا تمہیں۔۔۔۔۔؟؟ تو۔۔۔۔ کیا ہوتا۔۔۔ میرا۔۔۔۔؟؟
روانی میں کہتے ہوۓ اسے خود بھی اندازہ نہ ہوا کہ وہ کیا کہہ گیا ہے۔۔۔۔؟؟
تابی تو اسکے لفظوں کے سحر میں ہی کھو گٸ۔
مم۔۔۔۔! اس نے صفاٸی دینی چاہی۔
چپ۔۔۔۔۔! ایک۔۔دم۔۔۔ چپ۔۔۔۔! تابی۔۔۔!
اسکے ہونٹوں پے ہاتھ رکھ کے ایک جذب کے عالم میں چپ کروادیا۔
اس وقت وہ ایک دیوانہ لگ رہا تھا۔
کیا۔۔۔۔۔کیا کہا۔۔۔تھا۔۔۔۔۔میں۔۔۔ نے۔۔ یہی۔۔۔ کہ۔۔صبح ۔۔۔ چھوڑ آٶں گا۔۔۔۔۔؟؟
کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ مجھ پے بھروسہ ۔۔۔نہیں تھا۔۔۔۔۔؟؟کیا۔۔میں نے ۔۔۔۔ تمہیں کوٸی۔۔۔ تکلیف پہنچاٸی۔۔۔۔؟؟
یا۔۔۔کچھ۔۔۔ غلط ۔۔۔کیا ۔۔۔تمہارے۔۔۔ ساتھ۔۔۔۔؟؟؟
بتاٶ مجھے۔۔۔۔؟؟
اپنے ہاتھوں۔۔۔۔ میں اسکا چہرہ تھامے وہ روانی میں کہتا جا رہا تھا۔
بنا یہ سوچے۔۔۔ کہ ۔۔۔ اس نے تابی سے نکاح بدلے لینے کے لیے کیا ہے۔
اس وقت وہ تابی کو ایک الگ ہی عمر لگ رہا تھا۔۔
عمر کا دکھی انداز اسےدکھی کر رہا تھا۔وہ شرمندہ ہو گٸ۔
معا۔۔۔ف۔۔۔۔۔!! تابی نے معافی مانگنی چاہی۔
عمر نے بے اختیار ہی اسے گلے سے لگا لیا۔۔اور آنکھیں موند لیں۔
وہ لمحہ۔۔۔۔
وہ پل۔۔۔۔
جن میں وہ دور ہوٸی۔۔۔۔
اور وہ یہ سوچ کے ۔۔۔۔ کہ اسے ۔۔۔کچھ۔۔۔ ہو گیا۔۔ تو۔۔۔؟؟ اسکی روح نکال کے لے گیا ۔
کتنی دعاٸیں۔۔ منگ لی تھیں۔۔۔ان پلوں میں۔
اسکی سلامتی کی۔۔۔۔۔۔
اسکی عزت کی حفاظت کی۔۔۔۔
اس معصوم کی معصومیت کی۔۔۔۔۔۔ !!
پاگل ہی تو ہو گیا تھاوہ۔۔۔
اور تبھی تو اسے۔۔۔ احساس ہوا تھا۔۔۔ کہ تابی۔۔۔ اس کے لیے۔۔۔ کیا تھی۔۔؟؟
اسے خود سے لگاۓ وہ خود میں سکون اترتا محسوس کر رہا تھا۔
اور تابی عمر کے اس عمل سے پریشان تھی۔ وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔۔ کہ وہ کیا ۔۔ ری ایکٹ کرے۔۔۔۔؟؟
************
وہ مسلسل تابی کے نمبر پر کال کر رہا تھا۔اسے آفس کے لیے نکلنا تھا۔ صغرا خالہ کھانا لگانے میں مصروف تھیں۔
جبکہ صلہ سبحان کی بے چینی کو نوٹ کر رہی تھی۔
اور اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے الفاظ ترتیب دے رہی تھی۔
کہاں ہو گڑیا۔۔۔۔۔؟؟ فون اٹھاٶ۔ سبحان اسے بتانا چاہتا تھا ۔ صلہ کے بارے میں۔ تاکہ۔۔۔ جب وہ گھر واپس آۓ۔ تو اسے برا نہ لگے۔
ایک پوری کہانی وہ پہلے سے ہی ترتیب دے چکا تھا۔
اور صلہ کو بھی آگاہ کر چکا تھا۔
جہاں سبحان کو تابی کی فکر کھاۓ جا رہی تھی۔ وہیں صلہ کو سحر سے ملنے کی بے چینی تھی۔
بیٹا جی۔۔۔۔! ناشتہ لگ گیا ہے۔۔۔ آجاٸیں۔
صغرا خالہ نے دروازے کے باہر سے ہی اطلاع دی۔ اور چلی گٸ۔
سبحان نے نظر انداز کر دیا۔
اتنے میں اسکا وباٸیل بجا۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ بولو۔۔۔۔!!
سر۔۔۔۔! آپ کاکام ہو گیا ہے۔۔۔کل ہی مسٹر عمر کو انجانے نمبر سے تصاویر بھیج دی گٸ ہیں۔
گڈ۔۔۔!! سبحان مسکراہٹ لبوں تلے دباتا مسرور کن انداز میں پلٹا۔
سامنے ہی نظر پریشان بیٹھی صلہ پے جا ٹہری۔




گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔عمر تابی کو اپنی کچھ شراٸط پے واپس چھوڑنے جا رہا تھا۔
اور اب بہت مطمیٸن بھی تھا۔
تابی عمرکے رویۓ پے جز بز کا شکار تھی۔۔۔ رات کو جسطرح وہ ا سے سمیٹ رہا تھا۔ صبح ہوتے ہی وہ سب یکسر بھول گیا تھا۔
تابی نے بھی دوبارہ کوٸی بات نہ کی۔
گاڑی خان ولا میں داخل ہوٸی۔
تابی کےبدل کی دھڑکن اچانک تیز ہوٸی۔
اس نے یہی سوچا تھا کہ جاتے ہی سب سبحان کو بتا دے گی ۔
لیکن ۔۔۔۔ عمر ۔۔۔کی دھمکی۔۔۔۔۔ ! وہ ڈر گٸ تھی۔۔ اس رسواٸی سے ۔۔۔۔ جو عمر اپنے کہے پےعمل کر دیتا۔۔۔۔
اسے ناچاہتے ہوۓ بھی عمر کی بات ماننا تھی۔
عمر ابھی یہ نکاح ایکسپوز نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وجہ وہ نہیں جانتی تھی۔ لیکن اس کی ہاں میں ہاں ملانے پے وہ مجبور تھی۔
اپنا گھر ہے۔۔۔۔ تمہارا۔۔۔! اتر آٶ۔۔۔۔۔۔۔۔! یاانویٹیشن دینا پڑے گا۔۔۔۔۔۔؟
عمرجو گاڑی سے اتر چکا تھا۔تابی کو اپنی جگہ جمے دیکھ طنز سے بولا۔
تابی گڑبڑا گٸ۔ اور فوراً گاڑی سے اتری۔
عمر کے ساتھ گھر کے دروازے سے دھڑکتے دل سے انٹر ہوٸی۔
****************
کیا۔۔۔۔۔پریشانی ہے۔۔۔۔؟؟ منہ پے بارہ کیوں بجے ہیں۔۔۔؟؟
سبحان نے صلہ کے چہرے پے پریشانی کے آثار دیکھتے ہوۓ بے تاثر انداز میں کہا۔
صلہ ابھی کچھ کہتی کہ۔۔ سبحان کا موباٸیل ایک بار پھر بجنے لگا۔
موباٸیل کان سے لگاۓ وہ باہر نکلا۔
سیڑھیاں اترتا ہوا ۔ وہ نیچے آیا۔۔۔
سامنے ہی ۔۔۔ تابی آتی دکھاٸی دی۔ ایک لمحے۔کو سبحان کا دل لرزا۔
تابی کے پیچھے ہی ۔۔۔۔ اندر آتے عمر پر بھی نظر پڑ چکی تھی۔
بھاٸی۔۔۔۔۔۔۔!
تابی ایک دم سبحان کے سینے سے جا لگی۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔ میری گڑیا ٹھیک ہے ناں۔۔۔۔۔
اور ۔۔۔۔اتنی صبح صبح۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سبحان کو کچھ کھٹک رہا تھا۔
تابی نے کچھ کہنا چاہا۔
لیکن۔۔۔۔۔ عمر کی بات یاد آگٸ۔۔۔۔
اگر بھاٸی کے سامنے منہ کھولا۔۔۔۔ اور نکاح کا بتایا ۔۔۔ تو اسی وقت وہیں۔۔۔۔ کھڑے کھڑے طلاق دے دوں گا۔۔۔
اور پھر روتے رہنا ۔۔۔ دونوں بہن بھاٸی مل کر ساری۔۔۔ زندگی۔۔۔۔
کچھ۔۔۔نہیں۔۔۔۔ بس۔۔۔ آپ کی۔۔۔ یاد آرہی تھی۔۔۔۔ اسلیے۔۔ واپس آگٸ۔
نظریں جھکاتے۔۔ نارمل انداز اپنایا۔
سبحان نے ایک نظر۔۔عمر پر ڈالی۔ جسکی آنکھوں میں آج اجنبی پن تھا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا۔۔۔۔۔
جو فوٹو گراف اس نے عمر۔کو انجانے نمبر سےبھجواٸیں تھیں۔ وہ اس نے دیکھ بھی لی ہوں گی۔اور اب وہ اس کے ردعمل کا ویٹ کر رہا تھا۔
اتنے میں۔۔ سب کی نظر سیڑھیاں اترتی صلہ پر جا ٹہریں۔
عمر کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ لرز گٸ۔
وہ نہیں جانتی تھی ۔کہ اتنی جلدی عمر سے سامنا ہو جاۓ گا۔
عمر کی آنکھوں میں صرف نفرت تھی۔۔
وہیں تابی۔۔ صلہ کو اپنے گھر دیکھ کر بری طرح چونکی۔
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تابی بہت سخت حیران ہوٸی۔
لیکن اتنی دیر میں صلہخود کو کمپوز کر چکی تھی۔اور سیڑھیاں اترتی ایک ادا سے نیچے آٸی۔
ہمممم۔۔۔۔۔ کم۔۔۔۔۔ !!!
سبحان نے آگے بڑھ کر صلہ کا ہاتھ تھاما۔
اور تابی کے پاس لے کے آیا۔
میٹ ۔۔۔ مٸی لوو۔۔۔۔۔۔۔ ماٸی واٸف۔۔۔ صلہ ۔ سبحان۔!!!
تعارف کروایا۔ تابی پے تو جیسے آسمان ہی گر گیا ہو۔ آنکھوں میں بے یقینی تھی۔
کیسی ہو ڈٸیر۔۔۔۔۔؟
چہرے پے جھوٹی سماٸیل سجاۓ وہ تابی سے ملی۔
پر تابی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوٸی۔
ایک درد بھری نظر عمر پر ڈالی۔
جو اس وقت ضبط کے کڑے مراحل میں سے گزر رہا تھا۔
آٶ۔۔۔ صلہ۔۔۔۔ تمہیں اپنے ۔۔۔جان سے پیارے بھاٸی۔۔۔ سے ملواٶں۔
ہاتھ تھامے اب وہ عمر کی طرف بڑھا۔
میٹ ۔۔ماٸی لیڈی۔۔۔۔ ماٸی واٸف۔۔۔۔ !!!
لہجے اور آنکھوں میں غرور تھا۔ جسے عمر نے باآسانی سمجھ لیا۔
کیسے ہو۔۔۔۔۔؟
ایک کھوکھلا سوال کر ڈالا۔
عمر نے گہری سانس خارج کی۔
زندہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔ اپنوں کے دھوکے کے بعد بھی۔۔۔۔۔
دیکھو۔۔۔۔ !!!
اپنے قدموں پے چل کے آیا ہوں۔
تھوڑا سا پیچھے ہو کے۔۔۔ خود کو شو کیا۔
صلہ کو اس انسان کے لیے دکھ ہوا۔ بہت بڑا دھوکا دے گٸ تھی وہ اسکو۔۔۔۔
مبارک باد نہیں دو گے کیا۔۔۔۔۔۔؟
سبحان نے عمر کا دھیان اپنی طرف موڑا۔
کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔؟
جا ن سے عزیز بھاٸی کی۔۔۔۔۔ بیٹر ہاف سے ملنے کے بعد ۔۔۔۔ مبارک باد۔۔۔۔۔ تو بنتی ہے۔۔۔۔۔
طنز میں بجھا لہجہ۔۔۔
۔سبحان کے چہرے پے سرد پن چھا گیا۔
اور تم۔۔۔۔۔ مس صلہ عرفان۔۔۔۔۔۔ سوری سوری۔۔۔۔
مسز صلہ۔۔۔۔ سبحان۔۔۔۔۔۔ !!!!
فوراً لفظوں ی تصحیح کی۔
نٸ زندگی مبارک ہو۔۔۔۔ ایک نٸے۔۔۔ دھوکے کے ساتھ۔۔۔۔۔
خود پے ضبط کی آخری حد بھی ٹوٹنے لگی۔۔
ایک شکوہ کناں نظر سبحان پے ڈالی۔اور ساتھ ہی انہی نظروں سے تابی کو دیکھا۔
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
کیا کچھ نہیں تھا۔۔۔۔ ان نظروں میں۔۔۔۔
جسے تابی بخوبی سمجھ گٸ تھی۔اور ایکپلمں واہاں سے ہٹی۔
سبحان نے پلٹ کردیکھا۔ تابی نہ تھی۔۔ پریشان ہوتا اس کے پیچھے گیا۔
اور صلہ۔۔۔۔ اپنی زندگی کی طرح وہیں اکیلے کھڑی رہ گٸ۔
****************
زندگی اتنابڑا زخم دے جاۓ گی۔۔۔۔ اس نے سوچا نہ تھا۔۔۔
گاڑی میں بیٹھا وہ خود ہی اپنے زخموں کی پیوند کاری کر رہا تھا۔
ایک نظر اس محل پے ڑالی۔۔۔۔
جہاں اسکی منگیتر تھی۔۔۔۔ جس نے اسے ڈاچ کر کے اس گھر کو اپنایا تھا۔
اور اسی گھر کی بیٹی۔۔۔۔ جسے وہ نکاح کے بندھن میں باندھ چکا تھا۔
اس گھر سے رشتہ۔۔۔۔ اب بہت گہرا ہو گیا تھا۔
سٹٸیرنگ پے ہاتھوں کی گرفت بہت سخت ہوٸی۔
بھلےاسے صلہ سےکوٸی طوفانی عشق نہ تھا۔لیکن وہ اسے پسند کرتا تھا۔۔ اسکی اچھاٸیوں سے متاثر تھا۔
اور اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ۔۔۔ بھی اس نے تابی ہی کی وجہ سے کیا تھا۔۔۔۔
کیونکہ وہ تابی کو ناپسندکرتا تھا۔
وجہ۔۔۔۔ وہی۔۔۔ رابیہ بیگم نے ہمیشہ اسے سب پے برتری دی تھی۔
بچپن میں جب بھی وہ رہنے آتی بمشکل وہ وقت کٹتا۔ کجا کہ وہ ساری زندگی کےلیے اسے اپنے سر پے سوار کر لیتا۔
جس سے وہ نفرت کرتاتھا وہی۔۔ اس کی زندگی میں شامل ہوگٸ۔۔۔
لیکن۔۔۔ اب بہت جلد یہ چیپٹر۔۔۔ میں ہمیشہ کے لیے۔۔۔ کلوز کروں گا۔۔۔۔
مسٹر سبحان۔۔۔۔ جسٹ۔۔ ویٹ اینڈ واچ۔
خود کو حق پے سمجھتا وہ گاڑی آگے بڑھا گیا
نہ چاہتے ہوۓ بھی ایک آنسو بند توڑ کر گال پے پھل گیا تھا۔
عمر نے اسے صاف نہ کیا۔
یہ آنسو کس بات پے تھا۔۔۔ وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔
**************
تابی۔۔۔۔۔تابی۔۔۔۔ میری گڑیا۔۔۔۔۔ ! پلیز دروازہ کھولو۔۔۔۔؟؟
سبحان مسلسل تابی کے کمرے کا دروازہ بجا رہا تھا۔
اور وہ اندر اپنے بکھرے وجود کی کرچیاں سمیٹنے میں لگی تھی۔
یہ احساس کتنا تکلیف دہ تھا۔۔۔ کہ وہ۔۔ بدلے کی سولی پے لٹکاٸی گٸ تھی۔
جو بھی کیا ۔۔۔اس کے بھاٸی نے کیا۔۔۔۔ !!
لیکن سزا۔۔۔۔ اسے ملی۔۔۔۔
وہ سارے سوال ۔۔۔جو رمرے نکاح کے وقت اسے تنگ کر رہے تھے۔۔۔ ان سب سوالاں کے جواب اسے مل گۓ
تھے۔
صلہ کو اپنے گھر اپنے ہی بھاٸی کی بیوی کے روپ میں دیکھ کہ وہ سب جان گٸ تھی۔۔
تابی۔۔۔ پلیز۔۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں ۔۔۔ سب سمجھا دوں گا۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔میری جان۔۔۔ دروازہ ۔۔۔ کھولو۔۔۔!!
سبحان کالہجہ نم ہوا۔
کاندھے پے ہاتھ کا دباٶ محسوس کرتا وہ پلٹا۔
بیٹا جی۔۔۔۔! اسے تھوڑا۔۔ سنبھلنے کا موقع دو۔ ۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔۔!!
سبحاننے اک درد بھری نظر دروازے پے ڈالی۔ اور وہاں سے ہٹ گیا۔
وہ گھر نہیں رکنا چاہتا تھا۔ تابی کا رونا اے تکلیف دے رہا تھا۔
پلیز ۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ میری ۔۔بات سنیں۔ ۔۔۔ !!
صلہ نے اسے بیچ راستے میں روکا۔
تو اسکے قدم۔ٹھٹھکے۔
وہ آپ نے کہا۔۔۔ تھا۔۔۔ کہ آپ۔۔۔ بیس۔۔۔ لاکھ۔۔۔؟؟
تم۔۔۔۔۔۔؟؟
سبحان کو صلہ پے بے انتہا غصہ آیا ۔
تم۔۔۔ا ور تمہارا۔۔۔ دین ۔۔ایمان۔۔۔ ! صرف پیسہ ہے۔۔۔!
پیسوں کے لیے۔۔۔ تم جیسی لڑکیاں۔۔۔ کسی سے بھی محبت کا جھوٹا ڈرامہ رچا سکتی ہیں۔ ۔۔۔
اور کسی کے نکاح میں بھی خود کو بیچ دیتی ہیں۔۔۔۔۔
تابی سے بات نہ کر سکنےکا سارا غبار صلہ پے اتار دیا۔
صلہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔
زبان گنگ ہو گٸ۔
وہ۔۔۔ کیا۔۔۔ کہہ رہا تھا۔۔۔۔؟؟
وہ اسے۔۔۔ کیسی۔۔۔ لڑکی سمجھ رہا تھا۔۔۔؟؟
ایک بار وہ پھر اپنی باتوں سے صلہ کا دل۔بری طرح چھلنی کر چکا تھا۔
فکر مت کرو۔۔۔۔ مل جاٸیں گے تمہیں۔۔۔ تمہارے پیسے۔۔۔۔!!
میں۔۔ اپنی ڈیل بھولا نہیں۔۔۔!
سب یاد ہے۔۔ مجھے۔۔۔!
اور ا۔۔۔اب جاٶ یہاں سے۔۔۔۔۔!!
حقارت اور نفرت سے کہتا وہ منہ پھیر کے خود ہی وہاں سے نکل گیا۔
دو آنس لڑھکتے ہوۓ گالوں پے بہہ نکلے۔
سر جھک گیا۔ خود اپنا آپ غلیظ سا لگنے لگا۔
کیا وہ۔۔ واقعی۔۔۔ اتنی گری لڑکی تھی۔۔۔۔؟؟
کیا وہ یہ سلوک ڈیزرو کرتی تھی۔۔۔؟؟صغرا خالہ بھی وہیں موجود تھیں۔
انھیں بھی صلہ کے لیے بہت دکھ ہوا۔ لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتی تھیں۔
اسلیے خاموشی سے وہاں سے واپس پلٹ گیٸں۔
صلہ نے روم۔میں آتے ہی روم لاک کیا۔ اسے رہ رہ کر خود پر سبحان پے غصہ آرہا تھا۔۔۔
کیوں ۔۔ کچھ نہ بولی وہ۔۔ اسے۔۔۔۔ ؟؟
خاموشی سے سب کچھ۔۔۔ کیوں سن آٸی۔۔۔؟؟
سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔ آنسوٶ ں میں رونی آگٸ۔
آج عمر سے آمنا سامنا ہوا۔ اسکی آنکھوں میں کتنا درد اور حقارت تھی۔۔
عمر نے نظروں سے وہ سب کہا۔۔ جو سبحان زہر سے بھرے لفظوں کے تیرچلا گیا تھا۔
آنسو پونچھتی وہ آٸینے کے سامنے جا کھڑی ہوٸی۔
اپنا آپ بہت ارزاں لگا۔
کافی دیر یونہی بے دماغی سے کھڑی رہی۔
صرف اپنی بہن کی حفاظت کے لیے۔۔۔
اسکی جان کی سلامتی کے لیے۔۔۔۔
وہ دو مردوں میں پیس کے رہ گٸ تھی۔
اک کے لیے۔۔ بے وفا تھی۔۔۔ تو دوسرے کے لیے۔۔۔۔؟؟
نظریں جھک گٸیں۔ وہ چاہ کے بھی اپنےلیے غلط الفاظ نہ نکال پاٸی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی۔۔ اسکا اندر کا عکس کتنا پاکیزہ ہے۔۔۔
بس۔۔۔۔ اب بہت ہو گیا۔۔۔۔
مسٹر۔۔۔۔۔ ایس کے۔۔۔۔۔!! اب اور نہیں۔۔۔
میں نے یہ نکاح کی ڈیل۔۔۔ صرف اپنی بہن کےلیے کی !!
سختی سے اپنے آنسو صاف کیے۔
اگر۔۔۔ آپ کو اپنی فیملی عزیز ہے تو۔۔۔۔ مجھے بھیاپنی بہن سے بڑھ کر کوٸی نہیں۔ ۔۔!
اب میں آپ کو بتاٶں گی۔۔۔
صلہ دی گریٹ۔۔۔ کیا چیز ہے۔۔۔۔!!
منہ صاف کرتے وہ کبرڈ کی جانب بڑھی۔
وہاں ایک دراز کو دیکھتے وہ رکی۔
یہ وہی دراز تھی۔۔ جے رات کے آخری پہر سبحان نے کھولا تھا۔
جب اسے لگا کہ صلہ سو رہی ہے۔
در حقیقت وہ جاگ رہی تھی۔
نمبر لگا کے لاک کھولا۔ ایک لمحےکو صلہ کا دل دھڑکا۔
لیکن اگلے ہی لمحے خود کو حوصلہ دیتی وہ دراز کھول چکی تھی۔ سامنے ہی اسکی مطلوبہ چیز نظر آگٸ۔
دھیرے سے لرزتےہاتھوں سے اٹھایا ۔
اور دراز کو دوبارہ لاک لگا کے وہ وہاں سے ہٹ گٸ۔
اپنے دوپٹے میں اس چیز کو اچھی طرح لپیٹ کے وہ گھر کےبیرونی دروازے سے نظر بچا کےچپکے سے باہر نکل گٸ۔
یہ جانےبغیر ۔۔۔ کہ روم کے کیمرے میں ا سکی ایک ایک حرکت کو سبحان نے بہت فرصت سے دیکھا۔
اسکے اعصاب تنے۔
آفس میں بیٹھے ہی اس نے فون پر کوٸی نمبر ڈاٸیل کیا ۔
اور صلہ کا پیچھا کرنے کو کہا۔
اور پھر خود بھی کچھ سوچتے ہوۓ لیپ ٹاپ بند کیا۔ گاڑی کی چابیاں اور والٹ اٹھایا۔ اور آفس سے باہر نکلا ۔
