Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Teri justujoo (Episode 14)

Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
 

پولیںں پہنچ چکی تھی۔ اور آتے ہی ہواٸی فاٸر کیاتھا۔

مونا کادھیان بٹا۔ تو پولیس نے اسے فوراً حراست میں لیا۔

زلفی کو بھی فوراًحراست میں لے لیا گیا۔

مونا تڑپ رہی تھی۔ خود کو چھڑارہی تھی۔

بہت غلط کیا ہے تم سب نے مل کے۔۔۔۔!! چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ کسی کو۔۔۔۔۔!! میں واپس آٶں گی۔۔۔۔!!

اور بدلہ لوں گی۔۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔۔

انگلی اٹھا کے وارن کرتی اس وقت وہ دیوانی ہی لگ رہی تھی۔

زلفی تو بولنے کے قابل ہی نہ رہا تھا۔

اے ڈی بھی پولیس کے ساتھ ہی باہر نکلا تھا۔

سمیرا اور شہریار زین کی جانب بڑھے۔

زین شرمندہ تھا۔ نظر تک نہیں اٹھا پارہا تھا۔

آپ۔۔۔ سب نے مل کے۔۔۔ یہ۔۔۔ کیا۔۔۔۔!!

بمشکل۔بولنے کے قابل ہوا۔

میں۔۔۔ اندھا ہو گیا تھا۔۔۔۔!! مجھے۔۔۔مونا۔۔۔ کی چالاکی سمجھ میں ہی نہ آٸی۔۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ معاف کر دیں۔۔۔۔

زین بہت شرمندہ تھا۔ ہاتھ جوڑے

زین۔۔۔۔!! ہاتھ نیچے کرو۔

شہریار نے زین کے ہاتھوں پے ہاتھ رکھ کے اسے حوصلہ دیا۔

جو تم نے کیا۔۔۔۔۔!! وہ معافی کے لاٸق تو نہیں۔۔۔

لیکن۔۔۔ ہمارے لیے۔۔۔۔ تم۔۔۔ ہماری بہن کے شوہر ہو۔۔۔ اور ہمیشہ ہمارے لیے۔۔ قابل احترام رہو گے۔

شہریار نے اسے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ اسکی آنکھیں نم تھیں۔

آگے تم۔۔۔۔ جانو۔۔ اور تمہاری۔۔۔ بیوی۔۔۔۔!!

اپنا دامن بچاتے شہریار اور عمر دونوں ساٸیڈ پے ہوگۓ۔

سیمی۔۔۔۔!! کیا ۔۔۔ تمہارا۔۔۔ اتنا بڑا ۔۔۔ دل ہے۔۔۔ کہ مجھے۔۔۔ معاف۔۔۔۔؟؟

کر دیا۔۔۔۔۔!!

روتے ہوۓ سمیرا نے زین کہ بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول دیا۔

زین نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔

اور دونوں ہی خاموش آنسو بہانے لگے۔

وہ دیکھیں۔۔۔!! اتنی محنت کے بعد۔۔۔ ہمیں۔۔ کوٸی پوچھ ہی نہیں۔۔ رہا۔۔۔۔؟؟

اور خاموشی سےصلح بھی ہوگٸ۔

عمرنے نروٹھے پن سے شہریار کو کہا۔۔

شہرہار نے پلٹ کر ان دونوں کو دیکھا۔ اور دھیرے سے مسکرا دیا۔

شکر اللہ کا۔۔۔ !! میری بہن کی خوشیاں واپس مل۔گٸیں ۔۔ اسے۔۔۔۔!!

شہریار پرسکون ہو تے بولا۔

اینڈ اٹس آل کریڈیٹ گوز ٹو می۔۔۔۔۔۔!!

عمر نے فرضی کالر جھاڑے۔۔۔۔

اور میں۔۔۔۔؟؟

میں کدھر گیا۔۔۔۔؟؟ اے ڈی نے اندر آتے آخری بات سن لی تھی۔ تو منہ بنا کے بولا۔

نہ۔۔ تم نے کیا۔۔۔۔کیا؟؟؟

عمر نے اسے چھیڑا۔

سن لیں۔۔۔ بھاٸی۔۔۔۔۔!! دونوں کمر پے لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ رکھے۔

اک تو سعدی ک بیوی بن کے جو سب سے مشکل کام کیا ۔۔۔ اسکا کیا۔۔۔؟؟

اور سیکنڈ۔۔۔۔ شہریار بھاٸی کو اس پلان میں شامل کرنے کا مشورہ بھی میرا تھا۔۔۔

اے ڈی نے اپنی قابلیت جھاڑی۔

نو ڈاٶٹ۔۔۔۔۔!

without AD we can nothing to do…

شہریار نے بھی اسکی ساٸیڈ لی۔۔

تو اے ڈی زیادہ چوڑا ہوگیا۔

بھاٸی۔۔۔۔!! عمر۔۔۔۔!!

سمیرا نے انہیں پیار سے پکارا۔

وہ تینوں اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔

I am proud of you….!!

روتےہوۓ سمیرا نے دل سے ان دونوں کو کہا۔

شہریار نے دونوں بانہیں وا کیں۔ اور آگے بڑھ کے بھاٸی کے سینے سے جا لگی۔

عمر بھی اموشنل سا ہو گیا۔

شہریار کو اشارہ کیا۔۔ مجھے بھی گلے لگاٶ۔

تو شہریار نے دوسری بازو اس کے لیے ھول کے اس بھی اپنے سینے سے لگایا۔

ان تینوں بہن بھاٸیوں کی محبت پر اے ڈی اور زین رشک کرنے لگے۔

شہریار بچپن سے ایسا ہی تھا۔ پیار میں وہ دونوں کو ایسے ہی گلے لگایا کرتا تھا۔

اور آج بھی وہ اس کے لیے وہی چھوٹے بچے تھے۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

صلہ گال پے ہاتھ رکھے حیرانی سے رابیہ بیگم کو دیکھے جا رہی تھی

اگر۔۔۔۔ سبحان سے محبت ہے۔۔۔۔ تو میرے۔۔۔ بیٹے سے ۔۔۔ کیا تھا۔۔۔۔؟؟

رابیہ بیگم غصے سے بولیں۔

انوشے بہت پریشان ہوٸی۔

انہیں آج تک کھبی کسی نے اونچی آواز میں بات کرتے نہ دیکھا تھا کجا کہ۔۔۔ کسی کو تھپڑ ہی مار دیں۔

خالہ ۔۔۔۔ آنی۔۔۔۔۔!! سبحان نے انہیں پکارا۔۔

رابیہ بیگم۔نے سبحان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔

میرا بیٹا۔۔۔! نجانے کہاں ہے۔۔۔؟؟

اس نے۔۔۔۔ ہمیں بھی نہیں۔۔۔ بتایا۔۔۔۔اکیلے۔۔۔۔ ہی اپنا غم ۔۔۔ غلط کرتا رہا۔۔۔۔؟؟

رابیہ بیگم دکھ سے بولیں۔

ہمیں۔۔۔ یہاں ۔۔۔ بلالیا۔۔۔۔؟؟ تم نے۔۔۔؟؟

کس منہ سے بلایا۔۔۔ تم نے۔۔۔۔؟؟

اب کی بار رابیہ بیگم نے سبحان سے غصے سے پوچھا۔

امی۔۔۔ پلیز۔۔۔ سنبھالیں ۔۔۔ خود کو۔۔۔!!

آپ کی طبعیت خراب ہو جاۓ گی۔

انوشے انکے غصے سے گھبراٸی۔

جانتا ہوں ۔۔۔ آپ کواس سب سے بہت دکھ ہوا ہوگا۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔!!

انوشے۔۔۔! چلویہاں سے۔۔۔!!

میں اس گھر میں ایک منٹ بھی رکنا نہیں چاہتی۔

سبحان کی بات کاٹتے وہ انوشے سے بولیں۔

خالہ آنی۔۔۔۔!! نہیں۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ کہیں نہیں ۔۔۔ جا رہیں۔۔۔!!

تابی نے فوراً ان کا ہاتھ تھاما۔آنسواسکی آنکھوں میں بھی آرہے تھے۔

بیٹا۔۔۔۔!! تمہارے لیے ہی آٸی تھی یہاں۔۔۔۔!! لیکن۔۔۔ اب۔۔۔ ؟؟

صلہ اور سبحان کو ایک کڑی نظر سے دیکھا۔

اب اگر رکی۔۔۔۔!! تو شاید کچھ ۔۔۔ برا ہوجاۓ۔

میں آپ کو کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔!!

آپ نے مجھے جو بھی کہنا ہے کہہ لیں۔

مارنا ہے۔۔۔ مار لیں۔۔۔

لیکن میں آپ کو کہیں نہیں جانے دوں گا۔

سبحان ایک عزم سے آگے بڑھا۔

رابیہ بیگم نے رخ پھیر لیا۔

سبحان تڑپ کر رہ گیا۔

کہاں کبھی اس نے رابیہ آنٹی کو ایسے دیکھا۔۔۔۔؟؟

اس نے تو ہمیشہ انہیں پیار لٹاتے ہی دیکھا تھا۔

مانا کہ آپ خفا ہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ اس سب میں قصور وار تو میں ہوں ناں تابی کا کیا قصور۔۔۔۔؟؟

اسے کیوں۔۔۔۔؟؟ سزا دینا چاہ رہی ہیں۔۔۔؟؟

یہ ۔۔تو۔۔۔ مہمان ہے اس گھر میں اب۔۔۔!

آپ کی بیٹی ہے۔۔۔!!

٢

کیا۔۔۔ اسے آپ اپنی دعاٶں میں رخصت نہیں۔۔۔ کریں گیں۔۔۔۔۔۔؟؟

سبحان کی بات پے رابیہ بیگم نے ایک نظر تابی پے ڈالی۔ جو دور کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔

دل کواسکے لیے کھیچ سی پڑی۔

وہ تابی کے لیے ہمیشہ اپنے دل میں ماں والی ممتا محسوس کرتی تھیں۔

اور خود کو ہارتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

تابی۔۔۔۔!!اس سے کہہ دو۔۔۔ کہ یہ چاہتا ہے کہ ہم۔۔ یہاں رکیں۔۔۔!! تو یہ دونوں میرے سامنے نہ آٸیں۔

سختی سے بنا انہیں دیکھے کہا۔

کچھ پل تو سبحان بول ہی نہ سکا۔

پھر خود کو سنبھالا۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔!! جیسا آپ چاہیں گیں۔۔۔ ویسا ہی ہو گا۔۔۔

خالہ صغرا۔۔۔۔!! سبحان نے پکارا تو فوراً حاضر ہوٸیں۔

خالہ آنی کا سامان شبیر سے کہہ کے روم میں پہنچاٸیں۔

اور انہیں جو بھی چاہیے ہو ۔۔۔ آپ کی زمہ داری ہے۔

مجھے۔۔۔ کسی قسم کی شکایت ک موقع نہ ملے۔

آپ بالکل بے فکر رہیں۔ بہت اچھا سے خیال رکھوں گی۔

صغرا خالہ نے خوشی سے کہا

سحر کے ساتھ ہوۓ واقعہ کے بعد آج سبحان نے بات کی تھی۔ ورنہ اس نے بات کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔

سبحان نے پلٹ کر دیکھا۔ تو صلہ وہاں نہ تھی۔

سبحان فوراً اس کے پیچھے روم میں آیا۔

وہ باتھ میں تھی۔ سبحان ا سکا ویٹ کرنے لگا۔

وہ باہر آٸی تو اسکا منہ دھلاہوا تھا۔

چہرہ کا نشان بھی مدھم تھا۔

لیکن ۔۔۔ سبحان کے دل کو کچھ ہوا۔ اسکی روٸی ہوٸی سوجھی آنکھیں دیکھ کے۔۔۔

صلہ۔۔۔۔۔!!

آگے بڑھا۔

میں ۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔۔!! آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔!!

صلہ نےبنا دیکھے نظریں جھکاۓ آنسو چھپاتے کہا۔

سبحان سے اسکایہ روپ نہ دیکھا گیا۔

فوراً آگے بڑھ کے اسے اپنے سینے سے لگایا۔

وہ بے تحاشا رونے لگی۔

وہ اسے پیار سے تھپکی دینے لگا۔

اسے صلہ کے لیے برا لگ رہا تھا۔

صلہ۔۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔ مت رو۔۔۔!! تمہارے آنسو۔۔۔ مجھے۔۔۔ تکلیف دے رہے ہیں۔۔۔!!

بے اختیار ادا کیے الفاظ صلہ کو حیران کر گٸے۔

فوراً پیچھےہوتے آنسو صاف کرتے اسے دیکھا۔۔ اور منہ پھیر گٸ۔

چاہو تو۔۔۔ مجھے۔۔۔ تھپڑ مار لو۔۔۔ لیکن۔۔۔ پلیز۔۔۔۔!!

مسٹر۔۔۔ ایس کے۔۔ پلیز۔۔۔ یہ اپنا ۔۔۔۔ ڈرامہ بند کریں۔۔۔

آپ یہ جانتے ہیں۔۔۔ کہ اس سب۔۔ کی وجہ۔۔ آپ ہیں۔۔۔۔۔

روتے ہوۓ وہ جیسے پھٹ پڑی۔

اور ویسے۔۔۔۔ بھی۔۔۔۔ جتنی۔۔ خطاٸیں۔۔۔ کرچکی ہوں۔۔۔ اس کےلیے۔۔۔ ایک تھپڑ ۔۔۔ پڑنا ضروری ہو گیا تھا۔

اب کے خود کلامی سے بولی۔

صلہ۔۔۔۔۔!! یہاں۔۔۔ دیکھو۔۔۔ میری طرف۔۔۔۔!! سبحان غصہ کر کے مزید اسے دکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔

آپ۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔۔

صلہ ناراضی سے بولی

ادھر دیکھو۔۔۔ میری طرف۔۔۔!! سبحان نے اسکے قریب جا کے اسکے روٹھے چہرے کو اپنی طرف موڑا۔

اس کے آنسو صاف کیے اور اس کے گال پے اپنے لب رکھ دیۓ۔

اور اس لمحے صلہ نے سانس روک لیا۔

گال پے تھپڑ والی جگہ لب رلھے وہ صلہ کو اپنے حصار میں جکڑے جا رہا تھا۔

خالہ آنی کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔ اب بالکل نہیں رونا۔۔۔۔۔!!

پیار سے دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھاما۔

لہجے میں اتنی چاہت تھی کہ صلہ ہونق بنی دیکھتی رہی۔

سبحان حیات خان۔۔۔۔ مجھ سے معافی مانگ رہا ہے۔۔۔۔۔؟؟ صلہ حیران تھی۔

کیا ہوا۔۔۔۔؟؟

سبحان نے مسکرا کے اسے دیکھا۔

اسکی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا۔

ک۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔۔۔!!

آپ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ دور۔۔۔۔۔۔!!

صلہ جیسے جیسے کہہ رہی تھی ویسے ویسے وہ نزدیک ہو رہا تھا۔

صلہ کی زبان رک گٸ۔

صلہ۔۔۔۔۔!! جب جب تم۔یہ الفاظ بولتی ہو۔۔۔۔!! مجھے ۔۔۔ اکساتی ہو۔۔۔۔کہ میں۔۔۔۔ تمہارے قریب آٶں۔۔۔!!

گھبیر لہجہ۔۔۔۔ صلہ نے گھبرا کے دیکھا۔

ہما۔۔۔ری۔۔۔۔ ڈیل۔۔۔۔ ہوٸی۔۔۔۔!! اور بہت۔۔۔۔۔ جلد۔۔۔۔ ہمارے روستے جدا۔۔۔۔ بھی۔۔۔۔ ہو جاٸیں۔۔۔گے!!

پھر سے یاد کرانا چاہا۔۔۔

ڈیل۔۔۔۔ ختم بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔!!

معنی خیزی سے کہتا وہ صلہ کو چونکا گیا۔

کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ مطلب۔۔۔؟؟

اگر۔۔۔ تم ۔۔یہ سوچ رہی ہو۔۔۔ کہ۔۔۔ ڈیل کے بعد۔۔۔ تمہیں۔۔۔ مجھ سے ۔۔۔۔ آزادی مل جاۓ گی۔۔۔۔!!

تو اپنے دل سے یہ غلط فہمی نکال دو۔۔۔۔!!

میں سبحان حیات خان ہوں۔۔۔۔

میں اپنی چیزیں۔۔۔ کسی کو دینے کا عادی نہیں۔۔۔ بھلے وہ مجھے۔۔۔ توڑنی کیوں نہ پڑ جاٸیں۔۔۔

اور تم تو۔۔۔۔ بیوی ہو میری۔۔۔۔!! تم سے دستبردار ہو جاٶں۔۔۔۔۔؟؟ بھول کے بھی نہ سوچنا۔۔۔۔

سرد لہجے میں وارننگ دیتا وہ صلہ کو سلگا گیا۔

مسٹر۔۔۔ ایس کے۔۔۔۔!! میں کوٸی۔۔ چیز نہیں ہوں۔۔۔۔

جیتی جاگتی۔۔ انسان ہوں۔۔۔۔!! اور۔۔۔ جذبات رکھتی ہوں۔۔۔۔!!

آپ۔۔۔ میرے ساتھ۔۔۔۔ کوٸی۔۔۔ زور زبردستی نہیں۔۔۔ کر سکتے۔۔۔!!

کمزور سا احتجاج کرنا چاہا۔

مں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔ کیا نہیں۔۔۔۔!! تمہاری سوچ بھی وہاں نہیں جا سکتی۔۔۔ صلہ دی گریٹ۔۔۔!!

کھینچ کے اپنے ساتھ لگاتے وہ صلہ کو مزید غصہ دلا گیا۔

چھوڑیں۔۔۔ مجھے۔۔۔۔!! خود کو اسکی گرفت سے چھڑاتی وہ ہلکان ہو رہی تھی۔

اور وہ اسکا پھڑپھڑانا انجواۓ کر رہا تھا۔

جب ہاتھ چلانے لگی تو دونں ہاتھوں کو پکڑ کمر کے ساتھ لگا کے مزید خود سے قریب کیا۔

چھوڑیں مجھے۔۔۔ جنگلی۔!!

غصے میں بے اختیار صلہ کے منہ سے ادا ہوا لفظ سبحان کو سخت غصہ دلا گۓ۔

زور سے بیڈ پے دھکا دیا۔

صلہ دی گریٹ ۔۔۔ ابھی تک۔۔۔۔ آپ نے میرا۔۔۔ جنگلی پن دیکھا کہاں۔۔۔ ہے۔۔۔؟؟

اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے وہ صلہ کی جان سولی پے اٹکا گیا۔۔۔

ایم۔۔۔۔سوری۔۔۔۔!!

غلطی سے منہ سے نکل۔۔۔۔۔۔!!

روتے ہوۓ صلہ نے فوراً معافی مانگی۔۔

یہی تو مسلہ ہے۔۔۔۔۔!! آپ بولتی پہلے ہیں۔۔۔ سوچتی بعدمیں۔۔۔۔!!

اس کے قریب آتے وہ صلہ کا سانس خشک کر رہا تھا۔

پلیز۔۔۔۔۔!! میں۔۔۔ ہاتھ۔۔۔۔ جوڑتی۔۔۔۔!!

بے دردی سے روتی۔۔ وہ سبحان کو ٹھٹھکا گٸ۔

اس کے پاس ہوتے دھیرے سے اسے گلے لگایا۔۔ اس کا پورا جسم لرز رہا تھا۔

آٸیندہ ۔۔۔ مجھ سے دور ہونے۔۔۔کی بات۔۔۔ بھول کے بھی مت کرنا۔۔۔۔!!

ورنہ ۔۔۔۔ مجھے میرے اقدام سے تمہارے یہ آنسو بھی نہیں روک پاٸیں گے۔۔۔!!

پیار اور سرگوشی میں کہتا وہ صلہ کے بالوں پے ہونٹ رکھے اسے خود میں بھینچ گیا۔

صلہ اس کے پل پل بدلتے اس رویے کو نہیں سمجھ پا رہی تھی۔

لیکن اس نے سوچ لیا تھا۔ وہ ساری زندگی اسکی قید میں نہیں رہے گی۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

بھاٸی۔۔۔۔! آپ بھی ساتھ چلتے۔۔۔۔!!

مجھے اکیلا بھیج رہے ہیں۔۔۔!! جبکہ۔۔۔ بھابھی۔۔۔ آپ کا انتظار فرما رہی ہیں۔۔۔!!

عمر نے اٸیر پورٹ پے شہریار سے کہا۔

میں بھی آجاٶں گا۔۔۔۔!! ایک ڈیل ہے دبٸ میں۔۔۔! وہاں سے سیدھا پاکستان ہی آٶں گا۔

اور ہاں۔۔۔ !! امی کو کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔!!

آٸی نو۔۔۔۔۔!! یہ بھیکوٸی کہنے کی بات ہے۔۔؟؟

اناٶنسمنٹ ہوٸی تو وہ اللہ حافظ کہتا۔۔۔ اے ڈی سے گلے ملا۔

بڈی۔۔۔ جلد آنا پاکستان۔۔۔ ویٹ کروں گا۔۔۔

اے ڈی کے گلے لگتے وہ اداس سا کہتا آگے بڑھ گیا۔

جبکہ شہریار اور اے ڈی نے واپسی کے لیے قدم بڑھاۓ۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

بھابھی۔۔۔ پلیز۔۔۔ آپ بات کریں۔۔۔ ناں۔۔۔ بھاٸی۔۔۔ سے۔۔!!

تابیآج دوسرا دن تھا۔۔۔ پریشان تھی۔

انوشے کے پوچھنے اور زور دینے پے اس نے یہ کہا کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔ عمر سے نکاح کی بات پھر چھپا گٸ۔

تابی۔۔۔۔!! اب ۔۔۔ جب سب۔۔۔ انویٹیشنز جا چکے ہیں۔۔۔

آج مہندی ہے اور تم۔۔ ایس باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔؟؟

سبحان نہیں مانے گا۔۔۔ پتہ ہے۔۔ ناں۔۔؟؟

انوشے بھی پریشان ہوگٸ تھی۔

بھابھی۔۔۔۔ میں کیا۔۔۔ کروں۔۔۔؟؟

عمر کا بھی کچھ۔۔۔ پتہ نہیں۔۔۔!! بے اختیاری زبان پھسلی۔۔۔۔!!

کیا۔۔۔ مطلب۔۔۔؟؟

تابی۔۔۔!! سبحان کی آمد نے دونوں کو بری طرح چونکایا۔

میرے روم میں آٶ۔۔۔ ابھی اسی وقت۔۔۔!!

غصے ے کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔ تابی کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔

جاٶ۔۔۔!!سن آٶ۔۔ بات۔۔!! گھبراٶ نہیں۔۔

انوشے نے اسے حوصلہ دیا۔

تابی اٹھ کے بحان کے روم میں گٸ۔

صلہ وہاں نہ تھی۔ وہ سحر کے پاس تھی۔

کیا۔۔ کہہ رہی تھی تم۔۔۔؟؟ بھابھی۔۔۔سے۔۔۔ ؟؟

کڑے تیوروں سے پوچھا۔

بھاٸی۔۔۔۔ وہ۔۔۔ !!

تابی نے اپنے اور عمر کے نکاح کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بس اب ہمت اکھٹی کرنی تھی۔

بولو۔۔۔

!!گرجدار آواز میں کہا۔

بھاٸی۔۔۔۔۔!! وہ ۔۔ میں۔۔۔۔ اور۔۔۔ عمر۔۔۔۔۔!!

بس۔۔۔۔۔!! خبردار۔۔۔ جو تمہاری زبان سے اس شخص کا نام بھی نکلا۔۔۔ تو۔۔۔۔!! جان سے مار دوں گا۔۔۔۔!!

اتنے دھڑلے سے عمر کا نام لیتے اسے لحاظ نہ آیا۔۔ یہ بات سبحان کو بہت ناگوار گزری۔

بھاٸی۔۔۔۔۔!! ایک۔۔۔ بار۔۔۔ بات۔۔۔!!

کوشش کی بولنے کی۔۔۔!!

تابی۔۔۔!!اس دن کے لیے بڑا کیا۔۔۔ تھا۔۔۔؟؟ ہر خواہش پوری کی تھی۔۔۔۔؟؟

وہ۔۔شخص ۔۔۔ تمہیں۔۔۔ اپنے بھاٸی سے ۔۔زیادہ عزیز ہو گیا۔۔۔؟؟

جو کل ک تمہیں چھوڑ۔۔کے کسی اور کا ہو رہا تھا۔۔۔۔؟؟ سبحا ن نے غصہ ضبط کرتے بہت تحمل سے کہا۔

بھاٸی!! تابی کی آواز حلق میں دب رہی تھی۔

سبحان نے اے گلے سے لگایا۔

فیصلہ ہو گیا ہے تابی۔۔۔!! اور اب۔۔۔ فیصلہ نہیں بدلے گا۔۔۔!!

آج ۔۔مہندی ہے۔۔۔!! اور کل نکاح۔۔۔!! اس لیے۔۔۔ اپنے دل و دماغ سے اس انسان کو نکال دو۔۔۔ اسی۔۔۔ میں۔۔۔ بہتری۔۔ہے۔۔!!

اور شاباش جاٶ۔۔۔۔!! اچھے بچوں کی طرح تیار ہو

جاٶ۔۔۔!!

مجھےبالکل۔۔ گڑیا۔دیکھنی چاہیے ۔۔۔

آنکھیں۔۔۔ سبحان کی بھی نم ہوٸیں۔

تابی اپنے آنسو صاف کرتی اپنے روم کی جانب بڑھی۔

فیصلہ ہو گیا تھا۔۔۔۔!! وہ نکاح پے نکاح نہیں کر سکتی تھی۔۔۔

بھاٸی کی عزت جان سے بھی عزیز تھی۔۔

ہاں۔۔ فیصلہ ہو گیا تھا۔۔۔

عمر نے اسے۔۔ بیچ منجدھار میں چھوڑ دیا تھا۔۔۔

جہاں نہ آگے کا کو ٸی راستہ تھا۔۔ نہ۔۔ پیچھے پلٹنے کا۔۔۔

سواۓ موت کے۔۔۔۔!!

آساں۔۔ تھے۔۔ مگر۔۔۔ سادہ دل ایسے بھی نہیں۔۔۔ تھے۔۔۔

کھا۔۔ جاٸیں گے دھوکا۔۔۔۔

کھو جاۓ گا رستہ۔۔۔۔

پڑ جاۓ گا۔۔۔ مرنا۔۔۔۔

ہمیں۔۔۔۔ معلوم نہیں تھا۔۔۔۔۔۔!!

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

مجھے ۔۔۔ یہ لڑکی ہر حال۔میں چاہیے۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔!!

کچھ بھی کرو۔۔۔۔ مجھے اسے لا کے دو۔۔۔۔!!

نشے میں چور۔۔ اسے بس صلہ کا سراپا ہی ہر جگہ نظر آرہا تھا اور وہ جنونی و رہا تھا۔

سر۔۔۔!! آپ کا حکم سر آنکھوں پے۔۔۔!بہت جلد۔۔ وہ آپ کے پاس ہوگی۔۔۔!!

رفیق۔۔ نے فوراً اپنے باس کو کہا۔

جلد مطلب جلدی۔۔۔!! جاٶ۔۔۔!!

غلیظ مواد کو منہ سے لگاتے وہ بس صلہ میں ہی کھیا ہوا تھا۔

نہیں۔۔۔ ہر بار۔۔ ہر جگہ۔۔۔ تم۔۔ آگے نہیں۔۔۔ ہو سکتے۔۔۔!!

وہ۔۔۔ صرف ۔۔۔ میری ہے۔۔۔۔!! صرف۔۔۔ کے کے کی۔۔۔!!

KK

Khalid king ki……

*************************

مہندی کی گہماگہمی سے وہ جلد ہی فارغ ہوگۓ تھے۔ سب کچھ اچھے سے ہو گیا تھا۔

صلہ اس سب میں شامل نہ ہوٸی۔ اور یہ بھی

رابیہ بیگم نے ہی کہا تھا۔

لیکن سبحان نے اب آگے کی پلاننگ کر رکھی تھی۔

وہ باات والے دن صلہ کو سب سے اپنی مسز کے روپ میں Introduce کروانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

وہ سحر کے روم مں رہی سارا دن۔

اپنے ہاتھوں کی مہندی میں کھوٸی۔ وہ بس عمر کو یاد کر رہی تھی۔۔

عمر۔۔۔کہاں۔۔۔ ہو تممم۔۔۔۔۔؟؟ پلیز۔۔۔ آجاٶ۔۔۔۔!!ورنہ۔۔۔ مر جاۓ گی۔۔۔ تمہاری تابی۔۔۔!!

نہیں۔۔۔ ہو سکتی۔۔۔ میں کسی اور کی۔۔۔!!

تابی صرف ۔۔۔ اپنے عمرکی ہے۔۔۔!! وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔

مر جاٶں گی۔۔۔ لیکن یہ۔۔۔ گناہ نہیں کروں گی۔

وہ فیصلہ لے چکی تھی۔

اٹھی اور دراز میں سے پواٸزن کی بوتل نکالی۔۔۔

اسی لمحے رابہ بیگم اندر داخل ہوٸیں۔ تو اسے وہ بوتل۔واپس رکھنی پڑی۔۔

تابی۔۔۔۔!! میری بچی۔۔۔!!اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے۔۔۔!! بیٹا۔۔۔!! میری دعا ہے۔۔۔۔ کہ اللہ تمہیں زندگیکی ہر خوشی دے۔۔ اور تمہاری آنکھوں میں کبھی آنسو نہ آۓ۔۔۔۔

رابیہ بیگہ اسے پیار کرتی بولیں۔ تو وہ آنسو ضبط کرتی ان کی گود میں سر رکھے آنکھیں موند کے لیٹ گٸ۔

آپ۔۔۔۔ مجھ سے۔۔۔ بہت پیار کرتی ہیں۔۔۔ ناں۔۔۔؟؟

بہت زیادہ۔۔۔!! سمیرا کی طرح تم بھی مجھے بہت۔۔ عزیز ہو تابی۔۔۔۔!! یا۔۔ شاید اس سے بھی زیادہ۔۔۔!!

ٹہرے ہوۓ لہجے میں کہتیں وہ پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ بھی پھیر رہیں تھیں۔

آپ دعا کریں۔۔۔ ناں۔۔ أللہ میری مشکلیں آسان کر دے۔۔!!

ٹرانس کی کیفیت میں وہ بولی۔ تو رابیہ بیگم۔ٹھٹھکیں۔

بیٹا۔۔۔!! پریشان نہ ہو۔۔۔!! میں اسفند سے ملی ہوں۔۔۔!! وہ بہت ہی اچھا اور نیک لڑکا ہے۔۔۔!! سلجھا ہوا۔۔۔!! بہت خیال۔کھے گا وہ تمہارا۔۔۔!!

دل پے پتھر رکھے اسے تسلی دی۔

اب کی بار تابی چپرہی۔ جبکہ دل زورزور سے صرف اک ہی نام لے رہا تھا۔ اسے عمر چاہیے تھا۔

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

شاور لے کے وہ نکلا۔۔ تو موباٸیل آن کیا۔

اس وقت وہ اپنے اپارٹمنٹ میں تھا۔

وہ کل ہی پہنچ گیا تھا۔ لیکن تھکن سے چور صرف سونے پے ہی دھیان دیا۔ ۔ اور اب وہ لاہور جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

اور جانے سے پہلے وہ تابیسے بھیملنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔اور اسے اپنے دلکی بات بتانا چاہتا تھا۔

اس کے چہرے کے حیا کے رنگ سوچ کے ہی وہ مسکایا تھا۔

لیکن اس نے پہلے انوشے کو فون ملایا۔

جب سے وہ پاکستان سے باہر گیا تھا۔ بالکل رابطہ ختم کر دیا تھا۔ آج آن کرتے سب سے پہلے بھابھی سے ہی بات کرنے لگا تھا۔ اور انہیں سمیرا کی طرف سے سب کچھ سیٹ ہونے کی خوشخبری دینے والاتھا۔

اس بات سے انجان ۔۔۔کہ۔۔۔ ایک بہت بڑی خبر اسکا انتظار کرہی تھی۔

☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀

صلہ سحر کے روم۔میں داخل۔ہوٸی تو وہاں سبحان کو دیکھ ٹھٹھک گٸ۔

اس دن کے بعد آج دیکھ رہی تھی۔

وہ سحر کے پاس اس کے روم میں ہی سارا وقت بتانے لگی تھی۔سبحان بھی شادی کی تیاریوں میں کافی مصروف تھا۔ اس لے بھی زیافہ توجہ نہ دی۔

لیکن آج بارات والے دن وہ صلہ اور سحر کو سب سے ملونا چاہتا تھا۔

سسٹر۔۔ !! آپ سحر کولے جاٸیں۔اور تیار کر دیں۔ میری گڑیا کو بالکل باربی ڈول لگنا چاہیے۔!!

سبحان نے صلہ کو دیکھتے نرس سے کہا۔

وہمسکراتے ہوۓ سحر کو لے کے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی۔

اب یہ کونسا نیا ڈرامہ ہے۔۔۔۔؟؟ منہ ہی منہ میں بڑبڑاٸی۔

خود سے باتیں کرنے کی عادت گٸ نہیں۔۔۔۔؟؟

اٹھ کر صلہ کے پاس آیا۔ سادہ سے کپڑوں میں ہی بنا کسی بناٶ سنگھار کے وہ سبحان کے دل میں اتری جا رہی تھی۔

آپ یہاں۔۔۔ کیا۔۔۔ کرہے ہیں۔۔۔؟؟ آپ کو تو ۔۔ مہمانوں۔۔ کے پاس ہون چاہیے۔۔۔۔!! آج۔۔ آپ کی بہن۔۔ کی بارات ہے۔۔!!

صلہ نے اسکی بات کو اگنور کرتے اپنی بات کی۔

ہممم۔۔۔۔ سوچا۔۔۔ اپنی مسز کے ساتھ۔۔ آج سب ممانوں کو رسیو کروں۔

پراسرار انداز پے صلہ کا دل دھڑکا۔

میں آپ کا مطلب ۔۔۔نہیں۔۔ سمجھی۔۔۔۔!!

یہ ڈریس چینج کر لو۔۔۔!! تیار ہو کے باہر آٶ۔۔ آج سارے مطلب ۔۔ سمجھا دوں گا۔

معنی خیزی سے کہتا وہ صلہ کے ہاتھ پیر ٹھنڈے کر گیا۔

آپ کی خالہ آنی سے۔۔۔ پھر سے تھپڑ پڑوانے کا ارادہ ہے آپ کا۔۔۔؟؟ وہ بھی سب۔۔۔۔ مہمانوں کے سامنے۔۔۔۔!!

صلہ نے طنز کیا۔۔

نہیں۔۔۔!! بالکل۔۔۔ بھی۔۔ نہیں۔۔۔ !!

آج۔۔ سارے حقوق۔۔۔ادا کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔!!

اب باقی باتیں۔۔ بعد میں۔۔۔!! تیار ہو کے نیچے آٶ۔

حکم دیتا وہ مڑا۔

میں۔۔۔ ایسا۔۔ کچھ نہیں۔۔ کرنے والی۔۔۔ اور نہ ہی۔۔۔۔!!

تمہیں۔۔۔ پیار کی زبان نہیں سمجھ آتی ناں۔۔۔۔؟؟

تو ٹھیک ہے۔۔۔ میں خود۔۔ تمہیں چینج کروادیتا ہوں۔ اور یقین جانو۔۔۔ مجھے۔ بہتتتتتت اچھا لگے گا۔

کہتے ساتھ ہی وہ صلہ کی جانب بڑھا۔

ننن۔نہیں۔۔۔۔۔ میں۔۔ ہو جاتی۔۔۔۔ ہوں۔۔ خود ہی تیار۔۔۔!! صلہ نے فوراً ہار مانی۔

گڈ۔۔۔!! بیوٹشن آۓ گی۔۔ کوٸی بھی۔۔ بدمزگی نہیں۔۔ چاہے۔۔ اوکے۔۔۔!!

m waiting.

کہتےہوۓ گھڑی دیکتے وہ باہر نکل گیا۔

اب یہ شخص کیا نیا ڈرامہ کرنے والا ہے۔۔۔؟؟

صلہ نے لمبا سانس خارج کیا۔

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

مہمان آنا شروع ہو گۓ تھے۔تابی نے اپنی کسی دوست کوانواٸیٹ نہیں کیا تھا۔۔۔

جب وہ خوش ہی نہیں تھی تو خوشی کس کے ساتھ بانٹتی۔دلہن کے لباس میں اسکا سراپا دل میں اترنےکی حد تک پرکشش لگ رہا تھا۔

عمر۔۔۔۔ میں۔۔ یہ سب۔۔۔ تمہارے۔۔۔ لیے۔۔!!

لیکن آج۔۔۔۔ میری ڈولی اٹھانے والےمیرا جنازہ اٹھاٸیں گے۔۔۔۔۔

ایم سوری بھاٸی۔۔۔۔!!

میں نہیں کر سکتی۔۔۔ یہ گناہ۔۔۔!! اور اب۔۔۔ کچھ بھی کہنے سننے کا وقت نہیں رہا۔

اور نہ ہی آپ نے۔میرایقین کرنا ہے۔۔۔!!

بنا کسی ثبوت کے۔۔۔ نکاح کو۔کیسے ثابت کروں۔۔۔؟؟

اب بس۔۔۔۔ ایک ہی راستہ بچا ہے۔۔۔!! اے اللہ ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ معاف کر دینا۔

بارات آگٸ۔۔۔۔ بارات آگٸ۔۔۔

پانچ چھ لڑکیاں اندر داخل ہوٸیں اور تابی

کو گھیر لیا۔۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

تیار ہوکے خود کو آٸینے میں ایک نظردیکھا۔ تو دیکھتی رہ گٸ۔۔

اسےاپنا آپ بہت الگ اور پیارا لگا۔

حراماں۔حراماں چلتی وہ سیڑھیاں اترتی نیچے آٸی۔

سب ک نظریں اس پری پیکر پے اٹھیں۔ سبحان بھی دکھتا رہ گیا وہ کنفوز سی ہوٸی۔ سبحان نے آگے بڑھ کے اسکے آگ اپنا ہاتھ کیا۔

کچھ جھجک اور کچھ شرماتے اس نے سبحان کا مضبوط ہاتھ تھام لیا۔

سبحان نے اسکا ہاتھ لرزتا محسوس کیا۔

تو زیرلب مسکرایا۔ سب سے باری باری صلہ کا تعارف کروایا۔ اسے اپنے ساتھ لیے ہر طرف مہمانوں کوویلکم کر رہا تھا۔

ایک خوبصورت سی سماٸیل۔نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ہوا تھا۔

دونوں کوجوڑی کی سب ہی تعریف کر رہے تھے۔

اتنے میں اوشے بھابھی اور لڑکیاں مل کے گھونگھٹ نکالے تابی کونیچے لے کے آٸیں۔

بے اختیار سبحان کا دل بھر آیا۔

اور بہن کے پاس چلاگیا۔ صلہکا رکا ہوا سانس بحال ہوا۔

موباٸیل کال پے انوشے چونکی۔

عمر کی کال دیکھ وہ فوراً اٹینڈ کرتی ساٸیڈ پے ہو گٸ۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم بھابھی جی کیاحال ہیں۔۔۔۔؟؟

عمر کی چہکتی آواز کان سے ٹکراٸی۔

عمر ۔۔۔۔۔!! کیا ہے یہ سب۔۔۔؟؟ جب سے گۓ ہو۔ کوٸی۔۔ خیر خبر نہیں۔۔!! فون تک بند کر دیا تھا تم نے۔۔۔۔؟؟

نہ شہریار نے کوٸی رابطہ کیاتم نے۔۔۔۔!! یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔؟؟

انوشے غصے میں بولی۔

بھابھی۔۔۔۔! پلیز ۔۔ بریک۔۔۔!! سوچا اب۔۔۔ خوش خبری کے ساتھ ہی فون کروں گا۔۔۔۔!! اس لیے رابطہ نہیں رکھا۔

اچھا۔۔۔!! سمیرا۔۔۔۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے ناں۔۔ اب۔۔۔؟؟

ڈرتے ہوۓ پوچھا۔

جی جی الحَمْدُ ِلله سب ٹھیک ہے اب۔۔۔!!

صد شکر۔۔۔۔!! انوشے نے سکھ کا سانس لیا۔

اور وہ۔۔۔ تمہارے۔۔۔ بھاٸی صاحب۔۔۔؟؟ ساتھ ہی شہریار کاپوچھا۔۔

جی جی وہ بھی پہنچ جاٸیں۔۔ گے ایک دو دن تک۔۔۔!! پتہ ہے۔۔۔ بہت۔۔۔ مس کر رہی ہیں۔۔۔ !!

بھابھی۔۔۔۔!! یہ شور کیسا ہے۔۔۔۔؟؟

پیچھے شور کی آواز سے وہ چونکا۔۔

کسی فنکشن پے ہیں آپ۔۔۔؟؟

ہاں۔۔۔! اسلام آباد میں ہی ہیں۔۔۔!!انوشے نے شور کی وجہ سے مزید ساٸیڈ پے ہوتے کہا۔

آپ۔۔۔۔۔ یہاں۔۔۔ اسلام آباد۔۔۔۔میں۔۔۔۔؟؟

what a pleasant surprize…..

عمر کو خوشی ہوٸی۔

عمر۔۔۔۔ہم۔۔ اس وقت سبحان کے گھر میں ہیں۔۔۔!! آج تابی کی شادی ہے۔۔۔۔!

عمر کو اپنی سماعت پے یقین نہ آیا۔

Wait a second…..

کیاکہا آپ نے۔۔۔؟؟ کس کی شادی۔۔۔۔؟؟

دوبارہ دھڑکتے دل سے تصدیق چاہی۔

عمر۔۔۔ ابھی کچھ ہی دیر میں نکاح ہونے والا ہے تابی کا ۔۔۔۔!!

دھیرے سے مایوسی سے کہا۔

ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔؟؟

عمر چلایا۔

انوشے ٹھٹھکی۔

کیا۔۔ مطلب۔۔۔۔؟؟اسکاشک یقین میں بدل رہا تھا۔۔

عمر اور تابی کے بیچ کوٸی نہ کوٸی بات ضرور تھی۔

بھابھی۔۔۔۔!! وہ ۔۔۔۔نکاح کیسےکر سکتی۔۔ہے۔۔۔؟؟

عمر کو اب بھی یقین نہیں آرہاتھا۔

کیوں۔۔۔۔؟؟ کیوں نہیں۔۔۔ کر سکتی۔۔۔؟؟

عمر نے غصے سے فون بندکر دیا۔

how dare you tabi…?????

How…..????

میرامان تھا۔۔۔۔۔!!

میرا یقین تھی تم۔۔۔۔!!

کیوں توڑا۔۔۔ میرا۔۔ یقین۔۔۔؟؟

وہ رو دیا۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔ بہت شوق ہے ناں۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔ کسی اور سے نکاح کرنے کا۔۔۔۔! تو۔۔میں ۔۔ تمہارا یہ شوق پورا کر دیتا ہوں۔

لاکر سے نکاح نامہ نکالا۔ اور باہر نکلا گاڑی اسٹارٹ کی ۔۔اور خان والا کی روڈ پے ڈال دی۔

سب غلطیاں کوتاہیاں۔۔ معاف۔۔۔ تابی۔۔۔۔!!

اسکی معافی نہیں ملے گی تمہیں۔۔۔۔!!

ہرگز نہیں۔۔۔۔!!

نفرت ۔۔۔غصہ۔۔۔۔ دکھ۔۔۔۔ کیاکچھ نہیں تھا۔۔۔ اس وقت اس کے دل و دماغ میں ۔۔۔۔۔؟؟

اور آندھی طوفان کی طرح آج وہ سب بہا کےلے جانے والا تھا ساتھ میں۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

تعبیر حیات خان ۔۔۔ولد حیات خان ۔۔ کیا۔۔۔ آپ کو ۔۔ افند یار ولد آفاق احمد سے بیس لاکھ حق مہر نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟؟

پورے ہال میں ایک خاموشی تھی۔

سب گھونگھٹ نکالے تابی کو دیکھ رہے تھے۔اور وہ گھونگھٹ کے اندر روۓ جا ر ہی تھی۔۔

پواٸزن اس کی بوتل اسکےہاتھ میں تھی۔

مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا۔ وہ پر بھی نہ بولی۔

ایک بار پیر بولنےلگے۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔

ایک منٹ۔۔۔۔!مولوی صاحب۔۔۔۔!

ہال کی خاموشی میں ایک آواز گونجی۔ سب کی نظریں اس آنے والے شخص پے اٹھیں۔

یہ نکاح نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔ بہت فرصت سے پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ سب پے سکتا طاری کر گیا۔

کیا۔۔۔۔۔۔کیا۔۔ مطلب۔۔۔۔۔ہے ۔۔۔اس بات کا؟؟

سبحان کو کسی انہونی کا احسا س جاگا۔

وہی ۔۔۔۔ جو آپ نے سنا۔۔۔۔۔!!

مولوی صاحب۔۔۔۔! ایک بات بتاٸیں۔۔۔۔۔! کیا نکاح کے اوپر۔۔۔۔ نکاح جاٸز ہے؟؟

سوالیہ انداز میں پوچھتےوہ سب پے بم پھوڑ چکاتھا۔

لاحولاولاقوة۔۔۔۔۔۔!

کیا بول رہے ہو۔۔۔۔ برخوردار۔۔۔۔۔۔؟؟

مولوی صاحب کو غصہ آگیا۔

بتاٸیں۔۔۔۔ ناں۔۔۔ جو پوچھا۔۔۔۔۔۔!!!

عمر نے اپنی بات پے زور دیا۔

ہرگز ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔! بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔! جاٸز ہی نہیں۔

مولوی صاحب کے سخت الفاظ پے عمر زیرِلب مسکرایا۔

تو پھر۔۔ یہ نکاح بھی جاٸز نہیں۔۔۔۔!

سکون سے کہتے وہ وہاں موجود سب کو بے سکون کر گیا۔

کیا بکواس ہے۔۔۔۔۔؟ کیا کہنا چاہتے ہو تم۔۔۔؟؟

سبحان جارحانہ انداز میں اسکی طرف بڑھا۔

لیکن عمر اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔

آپ کی بہن۔۔۔ کا نکاح ہو چکا ہے۔۔۔۔ مسٹر سبحان۔۔۔!!

اب کی بار عمر بھی کرختگی سے بولا۔

سبحان کے پیروں تلے سے زمین کھسکی۔

یہ۔۔۔۔ یہ سب۔۔۔۔کیا ہے۔۔۔ سبحان۔۔۔۔۔؟؟ کیا کہہ رہا ہے یہ لڑکا۔۔۔؟؟

دلہا۔۔۔۔ (اسفندیار ) کے والد آفاق مرزا بھی بھڑک اٹھے۔

جھوٹ۔۔۔ بول رہا۔۔۔ہے۔۔۔ یہ۔۔۔۔!

آپ نکاح شروع کریں۔ مولوی صاحب۔۔۔۔۔!!!

سبحان سے عمرکو گھورتے ہوۓ تنبیہ انداز میں کہا۔

جانتا تھا۔۔۔۔ یقین نہیں۔۔۔ کریں گے۔۔۔۔!

اس لیے۔۔ یہ۔۔۔ ثبوت ساتھ لایا ہوں۔۔۔

نکاح نامہ سامنے کیا۔ سبحان نے عمرکو دیکھتے نکاح نامہ پکڑا۔ ۔۔۔۔

اسے اپنی آنکھوں پے یقین نہ آیا۔

بے یقینی سے پلٹ کر گھونگھٹ اوڑھے اپنی بہن کی طرف دیکھا۔

یہ سب کیا ہے سبحان۔۔۔۔۔؟؟ کچھ ہمیں۔۔۔ بھی سمجھا دو۔۔۔؟؟

مسٹر آفاق کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہاتھا۔ دلہا بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

یہ لیں۔۔۔ آپ بھی پڑھنے کا شرف حاصل کر لیں۔۔۔

عمر نے طنز بھرے لہجے میں کہتے نکاح نامہ انکے آگے کیا۔

۔پڑھتے ہوۓ انکے چہرے کے تاثرات بھی سخت ہوۓ۔

اتنا بڑا۔۔۔ دھوکا۔۔۔۔۔۔؟؟ نکاح نامہ اب مولوی صاحب کے ہاتھ میں تھا۔

پورے ہال میں چہ مگوٸیاں شروع ہو گٸ تھیں۔

سبحان صاحب۔۔۔۔!! آپ اتنا بڑا۔۔ گناہ کروانے جا رہے تھے ہم سے۔۔۔۔؟؟

آپ کی بہن کا پہلے سے نکاح ہو چکا ہو۔۔۔۔۔اور آپ اسکا پھرسے نکاح کروارہے تھے۔۔۔۔؟؟

مولوی صاحب سخت غصہ ہوۓ۔

سبحان نے بے یقینی سے دلہن بنی اپنی بہن کو دیکھا۔

اب بھی اگر یقین نہیں۔۔۔ تو۔۔۔ تو اپنی۔۔۔بہن سے کنفرم کر سکتے ہیں۔۔۔

عمر نے اپنی بات پے زور دے کے کہا۔

سبحان ابھی بھی بے یقینی کا شکار تھا۔ وہ تابی پے اندھا یقین کرتا تھا۔

اسی یقین کے لیے وہ دھیرے دھیرے چلتا تابی کے پاس آیا۔ اور وہ۔۔ جو۔۔۔ رو رو کے اپنا برا حال کر چکی تھی۔۔۔

اسی دن سے ڈرتی تھی۔۔

پواٸزن کی بوتل ہاتھ میں مضبوطی سے تھامے وہ آنکھیں میچ گٸ تھی۔

تابی۔۔۔۔۔! گڑیا۔۔۔۔۔؟؟ سبحان کے لہجے میں دنیا جہان کی تھکن سی آگٸ تھی۔

آواز پے تعبیر لرز اٹھی۔

لرزتے ہاتھوں سے گھونگھٹ ہٹایا۔ جہاں آنسوٶں سے دھلا چہرہ تھا۔ اور نظریں جھکی ہوٸ تھیں۔

بولو۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔!!! یہ۔۔۔۔۔ جھوٹ ہے۔۔۔!

ایک امید تھی۔۔۔!لہجہ۔۔۔ لڑکھڑا رہا تھا۔ سب کی نظریں تعبیر پر تھیں۔

تعبیر نے روتے ہوۓ بھاٸی کی طرف دیکھا۔۔

ایک بے بسی تھی۔۔ ایک درد تھا۔

اورلب پیوست تھے۔۔

سبحان کے اندر سے کچھ ٹوٹا۔

تابی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

بھاٸی۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ۔۔۔ے ؟؟

تابی۔۔۔۔۔۔!! صرف ہاں یا ناں میں جواب دو۔۔۔

سبحان کے لہجے میں اب کی بار سختی تھی۔

تابی کاسانس رکا۔

سب کی ابھی بھی نظریں تابی اور سبحان پے ٹکیں تھیں۔

تابی نے بمشکل سر اثبات میں ہلایا۔ وہیں سبحان لڑکھڑایا۔ اور اسکا ہاتھ اٹھا۔

لیکن مار نہ سکا۔۔

بہت اچھا۔۔۔۔۔ مسٹر سبحان! بہت اچھا۔۔۔۔۔۔؟؟

یہاں۔۔ بلاکر اچھا بے عزت کیا آپ نے ہمیں۔۔۔۔!!

آفاق صاحب نے کڑے تیوروں سے سبحان کو آڑے ہاتھوں لیا۔

سبحان کے الفاظ اندر ہی اندر دم توڑ گۓ تھے۔

اسفندیار نے سہرا اتار کے ہاتھوں میں لیا۔

غصہ میں آگے بڑھا۔

پہلے اپنی بہن سے پوچھ لینا تھا۔۔۔ کہ وہ کیا گل کھلا چکی ہے۔۔۔۔ پھر ۔۔۔؟؟؟

زبان سنبھال کے بات کرو۔۔۔ !! سبحان نے اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔ اور سختی سے اسے منع کیا۔

زبانیں تو اب سب کی کھلیں۔۔۔ گٸیں۔۔۔!!.

کس کس کی زبان کولگام دیں گے۔۔۔۔؟؟

آفاق صاحب نے بھی بیٹے کی پیروی کرتے کہا۔

تابی کا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ۔

آج اسکے بھاٸی کو اسکی وجہ سے۔۔۔ سب کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا۔

سبحان نے آگے بڑھ کر تابی کا ہاتھ غصہ سے پکڑا۔ اس نے دہل کر سبحان کو دیکھا۔

اس گھر میں اب ۔۔۔۔ تمہاری۔۔۔ کوٸی۔۔ جگہ نہیں۔۔۔!!

جاٶ ۔!!. اسی کے ساتھ۔۔۔! جس کے ساتھ نکاح کیا۔۔۔!

آنکھیں نم لیکن لہجہ اٹل تھا۔

بھا۔۔۔۔۔ٸی۔۔۔۔۔!!

تابی تڑپی۔۔

ایک منٹ۔۔۔۔۔!! یہ میں نے۔۔۔ کب بولا۔۔۔ کہ۔۔۔ میں۔۔۔ عمر فرقان زیدی۔۔۔۔۔ اس نکاح کو قاٸم رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔؟؟

ایک بار پھر سے وہ سب کو چپ کرا گیا۔ سبحان کو اس کے ارادے ٹھیک نہ لگے۔

سوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا۔

جو بے حسی کی انتہا پے تھا۔

آپ کے لیے شادی نکاح۔۔۔

6months deal

کا نام ہے۔۔۔!!

اب کی بار عمر کے لہجے میں درد تھا۔

میرےلیے یا تو نکاح ہے۔۔۔۔ یا نہیں۔۔۔۔۔ہے۔۔۔!!

اسکا ہر لفظ وہاں موجو د سب لوگوں کو سکتے میں ڈال گیا۔ کوٸی نہیں جانتا تھا کہ وہ آگے کیا کرنے والا ہے۔

میں ۔۔۔ یہ نکاح نہیں۔۔۔ رکھنا چاہتا۔۔۔!!

تابی کی سانس رکی۔

میں ۔۔۔۔۔ عمر فرقان زیدی۔۔۔ اپنے۔۔۔ پورے ہوش وحواس میں۔۔۔۔ تعبیر حیات خان کو۔۔۔ طلا۔۔۔۔۔!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *