Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Teri justujoo (Episode 01)

Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan

*************

بے ہوشی کے بعد ایک بار وہ پھر ہوش وحواس میں واپس لوٹی۔

لیکن گھپ اندھیرے کے سوا اس پھر کچھ نظر نہ آیا۔

نجانے کتنے دنوں سے وہ رسیوں میں جکڑی زمین پر پڑی تھی۔

کب دن ہوا۔۔۔۔۔۔ کب رات۔۔۔۔؟

وہ نہیں جانتی تھی۔۔ کوٸی ذی روح نظر نہ آرہی تھی۔

پیاس سے حلق خشک ہو گیا تھا۔

گلے میں کانٹے سے چبھ رہے تھے۔۔ بمشکل اپنی آنکھیں کھولے وہ حواس بحال کر رہی تھی۔

بھوک اور پیاس سے نڈھال وجود کراہ کر رہ گیا۔

بے اختیار آنکھوں میں آنسو چھلک آٸے۔

اتنی بھی ہمت نہ تھی کہ ۔۔شور کر سکتی۔۔۔ یا کسی کو مدد کے لیے پکار سکتی۔۔۔۔

یا اللہ۔۔۔۔۔ میری مدد فرما۔۔۔۔۔

میں بے بس ہوں۔۔۔۔ مجبور ہوں۔۔۔۔

صرف تیرا۔۔۔۔ آسرا ہے۔۔۔۔۔

مجھے ۔۔۔۔ جانے انجانے۔۔۔۔ میں ہوٸی۔۔۔ بھول۔۔۔۔ گناہ۔۔۔ معاف کر۔۔۔ دے۔۔۔

میرا ۔۔۔ صبر۔۔۔ ٹوٹ رہا ہے۔۔۔۔۔! میرے مالک۔۔۔۔۔!!!!

مجھ پر رحم کر۔۔۔۔۔ رحم کر۔۔۔۔ رحم کر۔۔۔۔۔

وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔۔۔

گزرا وقت ۔۔۔۔ کتنا حسین تھا۔۔۔۔۔ یاد نہیں۔۔۔۔

یاد تھی ۔۔ تو ۔۔۔ اب کی۔۔۔۔ اذیت۔۔۔۔۔

اور اذیت اور دکھ میں۔۔ تو خدا ہی یاد آتا ہے۔۔۔

سارے جہاں کا مالک۔۔۔۔ کون و مکاں کا مالک۔۔۔۔

وحدہ لاشریک۔۔۔۔۔!!. جو انہونی کو ہونی کردے۔۔۔۔

معجز ہ رونما کر دے۔۔۔۔۔

اور وہاں سے مدد بھیجے۔۔۔۔جہاں انسان کی سوچ تک رساٸی حاصل نہ کر سکے۔۔۔

اس لڑکی کا دل درد سے چور تھا۔ اور لو صرف ربّ سے لگاٸی تھی۔

اور خدا اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔

بے شک خدا غفور و رحیم ہے۔۔۔

✨
✨
✨

مسلسل فون کال پے زچ ہو کے آخر اس نے فون اٹھا لیا۔۔۔۔۔ جبکہ چہرے پے بے زاریت تھی۔۔

ہیلو۔۔۔۔!!

ماتھے کی تیوری اسے ۔۔۔ مزید دلکش بنا رہی تھی۔۔

نیلی ۔۔کانچ سی آنکھیں۔۔۔ تیکھی ناک۔۔۔۔ کٹ دار گلابی ہونٹ۔۔۔۔ سفید و سرخ ۔۔گال۔۔۔۔۔ چمکتی۔۔ پیشانی۔۔

اور گالوں کی ساٸیڈ کا ایک گہرا ڈمپل

اس وقت اس پر۔۔ ایک حسن کی دیوی کا گمان ہو رہا تھا۔

اوکے۔۔۔۔۔!!. سن لیا۔۔۔۔۔۔ ڈونٹ ڈسٹرب می اگین۔۔۔۔۔!

کہتے ساتھ ہی ۔۔۔ ا مغرور حسینہ نے موبا ٸیل ساٸںیڈ پر رکھا۔ اور باہر کی جانب رخ کیا۔۔۔

جہاں رابیہ آنٹی۔۔ (خالہ)انکی بہو ۔۔۔ انوشے۔۔

اور ان کے دونوں بچے۔۔ آٹھ سالہ ثانیہ۔۔۔ عرف ۔۔۔ ثانی۔۔اور پانچ سالہ۔۔۔ آیان۔۔۔ جس کی آج سالگرہ تھی۔۔۔

اور وہ سب مل کر سلیبریٹ کر رہے تھے۔۔۔۔

تابی۔۔۔۔۔ آنی۔۔۔۔۔۔۔۔! آجاٸیں۔۔۔ نا۔۔۔۔

پھر کیک کٹ کریں۔

شہریار ۔۔۔ انوشے کے شوہر ۔۔۔ آج گھر نہ تھے۔۔۔ اس لیے۔۔ پارٹی کل کے لیے ۔۔۔ رکھی تھی۔۔ آج یہ آپس میں ہی۔۔ منا رہے تھے۔۔

آیان کی خواہش پے انوشے اور تابی نے مل کر کیک بیک کیا تھا۔۔۔۔

ڈاٸیگ ہال میں انہوں نے سارے انتظامات کیے تھے۔

آگٸی۔۔۔۔۔ میں۔۔۔! چلو۔۔۔ کٹ کرو۔۔۔!

تابی نے آتے ہی کہا۔

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔۔

ہیپی برتھ ڈے ڈٸیر آیان ۔۔۔۔

ہیپی برتھ ڈے۔۔۔ ٹو یو۔۔۔۔

آیان نے کیک کاٹا اور باری باری سب کو کھلانے لگا۔

آیان نے تابی کو کیک کھلایا۔۔ تو۔۔۔بدلے میں تابی نے کیک اسکی چھوٹی س ناک پے لگا دیا۔

اور اب وہ آگے آگے تھی اور آیان پیچھے پیچھے۔۔۔

ثانی بھی کیک کا پیس لیے انکے ساتھ ساھ تھی۔

زیدی ہاٶس میں اس وقت خوشیاں اور قلقاریاں تھیں۔

رابیہ بیگم نے دل ہی دل میں سب کے یونہی ہسننے مسکرانے کی دعا کی۔

دیکھا آپ نے ہماری تابی کتنی ہنس مکھ ہے۔۔۔۔!! اسکے ہونے سے ہمارا پورا گھر ہنستا مسکراتا ہے۔۔۔

انوشے نے پیار بھری نظر تابی پے ڈالی۔۔۔

ہمممم۔۔۔۔۔ جس گھر میں جاٸے گی۔۔۔ خوشیاں بکھیر دے گی۔۔۔ میری بچی پاکیزہ دل ہے۔۔۔۔

پاکیزہ۔۔ روح ہے۔۔۔ !!

رابیہ بیگم نے۔۔۔ مسکراتے۔۔ نم لہجے میں کہا ۔

انوشے نے رخ پھیر کر اُن کی جانب دیکھا۔

جو بظاہر مسکرا رہی تھیں۔ لیکن آنکھیں نم تھیں۔

انوشے نے ان کا کاندھا تھپکا۔ خود وہ بھی افسردہ ہوگٸ۔۔۔

کتنی خواہش تھی۔۔۔۔ ان کی۔۔۔ کہ تابی ان کے ۔۔گھر کی۔۔ بہو بن کے آۓ۔۔۔۔

لیکن ساری خواہشیں ۔۔کہاں پوری ہوتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟

ان کا اپنا بیٹا۔۔۔۔ کسی اور سے۔۔۔ پیار کرنے لگا۔۔۔

تو دل کی خواہش دل ہی میں دم توڑ گٸ۔۔

*****

فرقان زیدی کی وفات کے بعد۔۔۔

رابیہ بیگ نے اپنے تینوں بچوں کی بہت اچھی تربیت سے آراستہ کیا۔

شہریار سب سے بڑا تھا۔ باپ کی وفات پے وہ بی۔ اے میں تھا۔

اس سے چھوٹی سمیرا تھی۔ جو ایف اے میں تھی۔

اور سب سے چھوٹا عمر جو کہ۔۔ میٹرک میں تھا ۔

اور باپ کی موت کا سب سے گہرا دکھ عمر کو ہوا تھا۔

اور یہی وجہ تھی۔۔۔ کہ وہ سب کے نزریک ہو گیا۔

اور سب کا لاڈلہ بن گیا۔ سبھی اس کے ناز نخرے اٹھاتے تھے۔

شہریار نے تعلیم کے ساتھ ساتھ باپ کا بزنس بھی چھوٹی عمر میں ہی سنبھالا۔ رابیہ بیگم نے اپنے بیٹے کا بہت ساتھ دیا

پانچ سال بعد۔۔۔۔ رابیہ بیگم نے اپنے جاننے والوں میں شہریار کی شادی کر دی۔

اور ساتھ ہی سمیرا کی شادی یوکے میں اپنی بھاوج کے بیٹے کے ساتھ فکس کر دی۔

شہریار اور اور سمیراکی شادی ایک ساتھ ہی ہوٸی۔ سمیرا بیاہ کے یوکے گٸ۔

اور۔۔۔۔۔۔۔

انوشے شہریار کی زندگی میں بہار بن کے آٸی۔

جیسے عمر گھر بھر سب کی آنکھ کا تارا تھا۔ ویسے ہی انوشے نے بھی اسے عزیز رکھا۔

اور عمر بھی بھابی بھابھی کرتے نہ تھکتا ۔

سب سے پیار کرنے والاوہ مغرور شہزادہ اپنی مرحومہ خالہ کی بیٹی تعبیر کوبالکل پسند نہ کرتا تھا۔

یہی وجہ تھی۔جب رابیہ بیگم نے شادی کے لیے تابی کانام۔اس کے سامنے رکھا۔ تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا ۔

اور فوراً دل۔کی بات زبان پر لے آیا۔ کہ وہ اپنی ایک دوست کو پسند کرتا ہے۔ اور وہ دوست بھی اسے پسند کرتی تھی۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں شادی کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

یوں رابیہ بیگم کو بیٹے کی پسند کے آگے مجبور ہونا پڑا۔ اور دونوں کا رشتہ طے کر دیا۔

جہاں عمر بہت خوش تھا۔ وہیں تابی دل مردہ کر بیٹھی تھی۔

کیونکہ وہ بچپن ہی سے عمر کو بہت چاہتی تھی۔

لیکن جب رابیہ بیگم نے اچانک انھیں فون پر عمر اور صلہ ک منگنی کی اطلاع دی۔

تو حقیقتاً تابی کا دل ڈوبا۔ کتنے دن تو وہ بخار میں تپتی رہی۔

وہیں اسکا اکلوتا بھاٸی۔۔۔ سبحان حیات خان نے اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھا۔

وہ اپنی اکلوتی اور معصوم بہن کا دکھ سمجھ کے بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔

کہیں نہ کہیں اسے تابی کے دکھ کا اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔۔ لیکن بنا۔۔ کسی ثبوت کے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

تابی نے اپے بھاٸی سے بھی اپنے دل کی بات چھپا لی۔ اور دھوم دھام سے منگنی میں شرکت کی۔

منگنی کے بعد عمر ، صلہ کے ساتھ اسلام آباد شفٹ ہو گیا۔

صلہ جس کمپنی میں جاب کرتی تھی۔ وہاں عمر اپنی انٹرشپ کے لیے آیا تھا۔

اور جان پہچان دوستی میں بدلی۔ ۔۔ اور پھر پسندیدگی میں۔

انٹرشپ کرتے ہی عمر نے وہیں صلہ کی خواہش پے بزنس اسٹارٹ کر دیا۔

اور جلد ہی صلہ نے اپنی جاب چھوڑ عمر کے بزنس کو جواٸن کرلیا۔

منگنی کے لیے وہ عمر کے ساتھ لاہور آٸی۔

ساتھ میں اپنے باپ کو لےکے۔۔۔۔

منگنی کے بعد وہ واپس اسلام آباد چلی گٸ۔

رابیہ بیگم عمر کی اس منگنی سے دل سے راضی نہ تھیں۔ اسلیے۔۔ عمر کو بھی جانے سے نہیں روکا۔

********

تابی آنی۔۔۔۔! میرا گفٹ؟

آیان نے سوتے ہوۓ یاد آنے پے گفٹ کی ڈیمانڈ کی۔

لو جی۔۔۔۔۔! برتھ ڈے پارٹی کل ہے ناں۔۔۔۔

تو گفٹ بھی ۔۔۔کل ہی ملے گا۔

تابی نے پیار سے اس کے گال کھینچے۔

آیان کی برتھ ڈے۔۔۔ اور اپنی چھٹیوں کی وجہ سے وہ لاہور آٸی تھی۔

بی۔اے کے پیپرز دے کے وہ رزلٹ کا ویٹ کر رہی تھی۔

آیان اور ثانیہ کے پر زور اصرار پر وہ ایک ہفتے سے یہاں تھی۔

اور جب بھی یہاں آتی۔۔انہی کے ساتھ روم شیٸر کرتی تھی۔

پکا۔۔۔ ناں۔۔۔۔؟؟؟

آیان کو یقین نہیں آرہا تھا۔

ہاں۔۔۔۔ میرےشہزادے۔۔۔ پکا۔۔۔۔!!!

تابی نے اس کے بال بکھیرے تو بلک اٹھا۔

اسے اپنے چاچو کی طرح اپنے بالں سے عشق تھا۔

تابی۔۔ آنی۔۔۔! آپ نے گفٹ نہیں دینا ۔تو نہ دیں۔ میرے بال ت نہ خراب کریں۔ آیان نے من بسورا۔

ثانیہ بھی مسکرا دی۔ وہ بھی آیان کی اس نیچر سے اچھے سے واقف تھی۔

چلوو۔۔! اب سوجاٶ۔۔۔۔۔! رات بہت ہو گٸ۔۔ ہے۔۔ !

تابی نے دونوں کو لاسٹ الٹی میٹم دیا۔ اور لاٸیٹ آف کر دی۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں نیند کی وادی میں کھو گۓ۔

تابی نے احتیاط سے دونوں کے اوپر کمفرٹر درست کیا۔ اور باہر بالکنی میں آگٸ۔

بھلے وہ سب کے سامنے ہنستی مسکراتی تھی۔

لیکن اندر اس کے ایک آگ لگی تھی۔

محبت چھن جانے کی۔۔۔۔۔۔۔

لیکن شاید۔۔۔ یکطرفہ محبت کا یہی انجام ہوتا ہے۔۔

۔پلکیں نم ہوٸیں۔۔۔ تو آنکھوں کے گوشے بھیگ گۓ۔ ۔۔

ایک سرد آہ بھری۔۔ اور چاند کو دیکھے گٸ۔جو پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔

دل میں ایک ٹھیس اٹھی۔

ایک درد کا سیلاب تابی کے اندر تھا ۔۔۔

وہیں دوسری جانب اندھیر کال کوٹھری میں وہ اللہ کو یاد کرتی کسی معجزے کا انتظار کر رہی تھی۔

دونوں ہی تکلیف میں تھیں۔

دونوں کی تکلیف کی وجہ محبت تھی۔

ایک کو محبت چھن جانے کی تکلیف تھی۔۔۔۔

تو دوسری نے محبت کو پا کر محبت کا درد سہا تھا۔

وہی محبت اس کے گلے کا پھندا بن گٸ تھی۔

اور وہ یہ تک نہ جانتی تھی۔۔۔ کہ اس کال کوٹھری میں قید کی وجہ۔۔۔ اسکی محبت تھی۔۔۔۔

وہ تو بس روۓ جا رہی تھی۔۔۔۔

اور دل سے دعا گو تھی۔۔۔۔۔

*********

دعا اور فریاد اللہ کی بادگاہ میں پہنچ چکی تھی۔

کال کوٹھری کا دروازہ کھل گیا تھا۔

تیز روشنی اندر داخل ہوٸی۔

تو اس لڑکی نے آنکھیں میچ لیں۔

آنے والا کوٸی شخص تھا۔

دھیرے دھیرے چلتا وہ اس لڑکی کے پاس آیا۔

چیٸر گھسیٹ کر بالکل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

وہ رسیوں میں جکڑی۔۔ بمشکل اوپر دیکھ پاٸی۔

اس شخص نے سگریٹ سلگایا۔ کش لیا۔ اور دھواں سامنے بیٹھی لڑکی پے چھوڑا۔

وہ برداشت نہ کر پاٸی۔ اور کھانسنے لگی۔

سامنے والا ٹانگ پے ٹانگ جماۓ سرد آنکھوں سے ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔

تبھی کوٸی اور آدمی اندر داخل ہوا۔ شاید وہ ملازم تھا۔۔۔ اس نے کھانے کی ٹرے اور پانی کا گلاس لڑکی کے سامنے رکھا۔ اور واپس پلٹ گیا۔

پانی پیو۔۔۔ تاکہ تمہارے حواس کام کریں۔

سرد لہجہ۔۔۔ صلہ اندر تک کانپ گٸ۔۔۔

آواز جانی پہچانی معلوم ہوٸی۔

ذہہن پر زور ڈالنے کی بجاۓ پانی کے گلاس کو بمشکل اٹھانے کی کوشش کی۔

کیونکہ دونوں ہاتھ رسیوں میں جکڑے تھے۔

گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے۔

سامنے پانی کو دیکھتے پانی کی طلب مزید بڑھ گٸ۔۔

ایسے جیسے تپتے صحرا میں برسوں کا بھٹکا مسافر۔۔۔۔

اس وقت صلہ صرف پانی کو اپنے اندر انڈیلنا چاہتی تھی۔ اور کچھ حد تک کامیاب بھی ہوٸی تھی۔

جبکہ بیشتر پانی کپڑوں پر ہی گر گیا۔

یوں لگتا تھا۔۔۔ جیسے کوٸی بہت بڑا گناہ کیا ہو۔۔۔۔ جو قید میں تھی۔۔۔ اور سلوک عاد ی مجرموں والا تھا۔

کچھ حواس جاگے۔۔۔۔۔؟ ایک طنز بھری آواز سماعت سے ٹکراٸی۔

تم۔۔۔۔۔۔!! تم۔۔۔۔۔!!!

صلہ زہن پے زور دینے لگی۔

بیتے لمحے ایک فلم کی طرح آنکھوں کے آگے چلنے لگے۔

سبحان نے سگریٹ زمین پے پھینکا۔ اور اپنے جوتوں سے بے دردی سے مسلا۔

ایس ۔کے۔۔۔۔!!!!

بمشکل صلہ کی آواز نکلی۔

ہممممممم۔۔۔ یعنی حواس کام کرنے لگے۔۔۔۔ صلہ دی گریٹ کے۔۔۔۔۔!!

اب کی بار پر سکون لیکن سرد آواز کانوں سے ٹکراٸی۔

مجھے ۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔ قید ۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔؟

الفاظ ساتھ نہ دے رہے تھے۔ کیونکہ وجہ وہ بھی جانتی تھی۔۔۔

دی گریٹ صلہ عرفان۔۔۔۔۔۔!

سب کچھ جاننے کے باوجود بھی انجان بن رہی ہیں ۔۔۔ !! امیزنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان کی دھاڑ پر صلہ ایک دم سہم کر خود میں سمٹی۔۔

میں۔۔۔ مجھے۔۔۔ جانے ۔۔۔۔دو۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔!

صلہ نے آنسو ضبط کرتے ہوۓ ہمت سے کہا۔

ایسے۔۔۔۔۔۔ایسے۔۔۔ کیسے۔۔۔۔۔ جانے دوں۔۔۔۔؟

سب کے سامنے۔۔۔ ہاتھ اٹھایا ۔۔۔ تھا۔۔۔ تم نے۔۔۔۔!!.

یاد ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

سبحان اپنا غصہ ضبط کرتے لال انگارہ آنکھیں صلہ پے ٹکاٸیں۔

پلیز۔۔۔۔۔!! مجھے۔۔۔ معاف ۔۔کردو۔۔۔۔! مجھ سے ۔۔۔۔ غلطی ہو گٸ۔۔۔۔۔!. خدا کے لیے معاف کر دو۔۔۔۔ جانے۔۔۔۔۔۔!!!

آں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔!

صلہ دی گریٹ۔۔۔۔۔!.

معافی مانگنے۔۔۔۔ اور معافی دینے کا وقت۔۔۔۔۔ نکل گیا ہے۔۔۔۔

اب تو سزا کاوقت۔۔۔ ہے۔۔۔ سزا ملے گی۔۔۔

سخت لہجے میں کہا۔ صلہ کا چھوٹا سا دل بری طرح دھڑکا۔

میں۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔مجھے۔۔۔ جانے دو۔۔۔۔!

نجانے کتنے دن سے یہاں۔۔۔ قید۔۔؟؟

تین دن سے۔۔۔۔! سپاٹ لہجے میں بات کاٹی۔

حیرت کے مارےصلہ کی آنکھیں پھیل گٸیں۔

پلیز مجھے۔۔۔۔ جانے دو۔۔۔۔ امی۔۔۔۔ میری۔۔۔۔؟

فاتحہ پڑھ چکے ہیں۔ ایک اور وار کیا۔

صلہ کی تو زبان گنگ ہو گٸ۔ آنسو متواتر بہتے چلے گۓ

اب ۔۔۔یہ ڈرامہ بند کرو۔ اور میری بات کان کھول کر سنو!

سبحان کو اس کے آنسو مزید غصہ دلا رہےتھے۔

صلہ نے روتے ہوۓ اسکی طرف دیکھا۔

یہاں سے نکلنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔؟

سیدھا آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ سوال کر رہا تھا۔

صلہ نے پتھراٸی نظروں سے اسے دیکھا۔

ایک لمحے کے لیے سبحان ڈگمگا گیا۔ اپنے فیصلے پے۔۔

کہ آیا وہ اس لڑکی کے ساتھ صحیح کر رہا ہے یا نہیں۔۔۔۔؟

لیکن اگلے ہی پل وہ خوف کو کمپوز کر چکا تھا۔

یہاں سے نکلنےکا صرف ایک ہی راستہ ہے۔

میرے ساتھ ڈیل کرنی ہو گی تمہیں۔ ۔۔!

اب سبحان مکمل فارم میں آگیا تھا۔

صلہ اسے سمجھ نہیں پارہی تھی۔

تمہیں ۔۔ مجھ سے نکاح کرنا ہو گا۔ ۔۔ نہ صرف نکاح۔۔

بلکہ چھ ماہ تک۔۔۔ لوونگ ہسبنڈ واٸف کا ڈرامہ بھی بخوبی انجام دینا ہو گا۔

تو ہی تمہیں ۔۔۔ یہاں سے رہاٸی مل سکتی ہے۔

سبحان اب پر سکون صلہ کو جانچ رہا تھا۔

میں ۔۔۔۔ تم۔۔۔ سے۔۔۔ نکاح۔۔۔۔۔؟؟؟

صلہ بڑبڑاٸی۔

لیکن ۔۔۔لیکن۔۔۔۔میری تو منگنی ہو چکی ہے۔۔۔۔

صلہ نے فوراً سے بیشترمنگنی کا سہارا لیا۔

سبحان نے آگے بڑھ کر اسکی انگلی سے منگنی کی انگوٹھی نکال لی۔ صلہ تڑپ کر رہ گٸ۔

پلیز۔۔۔۔ مت کرو۔۔۔ ایسا۔۔۔۔میں اور عمر۔۔۔ دونوں ایک۔۔ دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ہمیں۔۔ الگ مت۔۔ کرو۔۔۔ وہ بلک بلک کے رو دی۔۔۔

پھر سے ڈرامے۔۔۔۔۔۔!!!

سبحان کو پھر سے غصہ آگیا۔

میرے سامنے یہ پیار کا جھوٹا ناٹک مت کرو۔۔۔

تمہارے باپ نے پیسے کی لالچ میں ۔۔ امیر لڑکا دیکھا۔ اور تمہیں استعمال کیا۔

اور تم۔۔۔۔۔۔ باپ کے کہے پر چل کر۔۔۔۔۔ یہ سب ۔۔۔کر رہی تھی۔۔

اور وہ عمر۔۔۔ تین دن پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر آخر تھک ہار کر بیٹھ گیا ہے۔

اینڈ دی گریٹ۔۔۔۔ صلہ عرفان۔۔۔۔! تین دن اور تین راتیں گھر سے باہر رہنے والی لڑکی کو۔۔۔۔نہ ہی والدین قبول کرتے ہیں۔۔۔۔ اور نہ ہی۔۔ یہ معاشرہ۔۔۔!!!

اس لیے بہتر ہوگا۔۔۔ میری آفر پر غور کرو۔۔۔۔

رہاٸی بھی ملے گی۔۔۔۔ اور پیسے بھی۔۔۔۔۔

منہ ۔۔منگے دام دوں گا۔۔۔۔۔!!

سبحان نے حقارت اور غرور سے کہا۔

صلہ تو لاجواب ہوگٸ۔۔۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہہ رہا تھا۔

عمر سے رشتہ ۔۔۔۔ ایک سازش ہی تو تھی۔۔۔۔

وہ یہ سب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ۔۔

لیکن سوتیلے باپ کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔۔۔۔

جس نے اسے دھمکی دی تھی۔۔۔ اسکی چھوٹی بہن کو مارنے کی۔۔۔۔۔

وہ نا چاہتے ہوۓ بھی راضی ہو گٸ۔۔۔ اس گناہ کے لیے۔۔۔۔

یہ گناہ ہی تو تھا۔۔۔۔۔ کسی کو جھوٹے پیار میں پھسانا ۔۔۔

اور اس کے جذبات سے کھیلنا۔۔۔۔۔ یہ گناہ ہی تو تھا۔۔۔

اور وہ جان بوجھ کر یہ گناہ کر رہی تھی۔۔۔

لیکن اسے یہ بات سمجھ نہ آٸی۔۔۔۔

کہ سبحان کو یہ سب کیسے پتہ چلا۔۔۔۔

لیکن جو بھی تھا۔۔۔۔

وہ آدھا سچ جانتا تھا۔

🌟
🌟
🌟

تھکا ہارا وہ ابھی اپنے آفس میں آیا تھا۔۔

اور سیکرٹری کو بھی منع کر دیا تھا۔۔ کہ کوٸی بھی ڈسٹرب نہ کرے۔

چیٸر کے ساتھ ٹیک لگاٸے وہ آنکھیں موندے خود سے لڑے جا رہا تھا۔

تین دن سے وہ ہر جگہ صلہ ک ڈھونڈ چکا تھا۔ کوٸی جگہ اس نے نہیں چھوڑی تھی۔

تین دن پہلے وہ اسے اس کے گھر کے باہر ڈراپ کر کے آیا تھا۔ ڈراپ کرتے موباٸیلپے آتی کال رسیو کی تھی۔ اور آگے بڑھا تھا۔

یہ جانے بغیر کہ۔۔۔ وہ گھر میں داخل ہوٸی یہ نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟

اسے کیا پتہ تھا وہ اس سے اسکی ۔۔۔ آخری ملاقات ہو گی۔۔۔۔

وہ اپنے طیٸں۔۔ اسے چھوڑ اپنے اپارنٹمنٹ میں آگیا تھا۔

جو اس نے اسلام آباد میں اپنی رہاٸش کے لیے لیا ہوا تھا۔

صبح آفس پہنچا تو۔۔۔ صلہ کا باپ اس کے آفس پہنچ گیا۔

اور دھاوا بول۔دیا کہ اسکی بیٹی کو کہاں چھپا کے رکھا ہے۔۔۔۔؟ رات سے وہ گھر سے غاٸب ہے۔

اور یہ بات عمر پر پہاڑ بن کر ٹوٹی۔

آخری دفعہ وہ عمر کے ساتھ تھی۔اور شک بھی اسی پے جاتا تھا۔

عمر نے بارہا یہی جواب دیا۔ وہ صلہ کو گھر کے دروازے پے ہی چھوڑ آیا تھا۔

اس کے بعد عمرنے اسے ہر جگہ تلاش کیا۔۔ لیکن وہ نہ ملی۔

آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے۔

کہاں ہو۔۔۔ صلہ۔۔۔۔۔۔۔؟

پلیز واپس آجاٶ۔۔۔۔

کہاں چلی گٸ ہو۔۔۔۔۔؟ پلیز لوٹ آٶ۔۔۔۔۔۔۔!!!

موباٸیل پے آتی کال نے عمر کو چونکایا۔ ایک نظر ڈالی۔

مما جان کالنگ لکھا تھا۔ اور لہجہ حتی الامکان ٹھیک کیا۔

کیسے ہو بیٹا۔۔۔۔۔؟

اسلام آبادجا کے ماں کو تو بھول ہی گۓ۔۔۔۔۔۔؟

رابیہ بیگم نے روندھی آواز میں شکوہ کیا

مما۔۔۔۔ تھوڑا بزی ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔لہجہ نم تھا۔

کیا ہو بیٹا۔۔۔۔۔؟ طبیعیت ٹھیک ہے ناں۔۔۔۔۔۔۔؟

وہ ماں تھیں۔۔۔۔ بیٹا۔۔ تکلیف میں تھا۔ تو وہ کیسے نہ سمجھ پاتیں۔۔۔

جی جی۔۔۔۔!! مما۔۔۔!! میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔! بیس آپ سب کی یاد آتری تھی۔۔

لہجہ اب کی بار نارمل تھا۔

تو بیٹا آجاٶ۔۔۔۔۔۔۔!

ویسے بھی آج شام کو آیان کی برتھ ڈے سلیبریٹ کر رہے ہیں۔۔۔ ۔۔

آپ تو۔۔۔۔ اسکا برتھ۔۔۔۔ ڈے بھی بھول گۓ۔۔۔۔۔

عمر نے بے اختیار ماتھا مسلا

واقعی۔۔۔ مما ۔۔ !! یاد نہیں رہا۔۔۔۔۔

کام۔میں بہت بزی تھا۔۔۔۔

خیر ۔۔۔۔۔ مں اسے فون کر دوں گا۔۔ اور اسکا گفٹ بھی اس تک پہنچا دوں گا۔۔۔

جی۔۔۔۔۔ !!

اور آپ کا فرض پورا ہو جاۓ گا۔۔۔۔ !ہے ناں۔۔۔۔۔۔؟

رابیہ بیگم خفگی سے بولیں ۔۔ تو عمر نے لب بھینچے۔

شام تک آپ لاہور ہونے چا ہیٸں۔ ۔۔ آیان کی برتھ ڈے کا گفٹ آپ خود آ کر دیں گے اسے۔۔۔ !! سمجھے آپ۔۔۔۔؟

رابیہ بیگم نے پہلے خفگی پھر پیار بھرے۔لہجے میں حکم صادر کیا۔

فون بند ہو چکا تھا۔ عمر نے دونوں ہاتھوں پے سر گرالیا ۔ اس وقت اسے ماں ک اشد ضرورت تھی۔

انکی گود میں سر رکھ کر رونا چاہتا تھا۔۔

وہ ٹوٹ گیا تھا۔۔

ہار گیا تھا۔۔۔۔

کہیں سے بھی کوٸی سراغ نہیں مل رہا تھا۔۔۔

اب وہ اس سب سے مایوس ہو چکا تھا۔۔۔

بس خدا سے دعا مانگ رہا تھا۔ کہ وہ جہاں بھی ہو۔۔ اللہ اسے اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

عمر نے پولیس میں رپورٹ درج کرانی چاہی۔

تو صلہ کے والد عرفان نے منع کر دیا۔ وہ یہی سمجھ رہے تھے۔۔۔ کہ وہ کسی کے ساتھ بھاگ گٸ تھی۔۔

لیکن عمر کا دل نہیں مان رہا تھا۔

کہ وہ بے وفا ہو سکتی ہے۔۔۔!!!

عمر کے صلہ کے ساتھ گذرا ہر پل یا دآنے لگا۔

⭐
⭐
⭐
⭐

فیصلہ اب تمہارا ہے۔۔۔۔

ایک گھنٹہ ہے ۔۔ تمہارے پاس۔!!

سوچ لو۔۔۔ سمجھ لو۔۔۔ !!

اور جواب دو۔۔۔۔!!

سبحان کھڑا ہوا۔

یہ سب۔۔۔ اک تھپڑ کی۔۔۔ وجہ سے تو نہیں کر رہے تم۔۔۔۔!!؟؟؟؟

اورکوٸی بھی وجہ ہو گی یقیناً۔۔۔۔؟

صلہ کے الفاظ نے سبحان کے قدموں کو روکا۔

لیکن پر سکون رہا۔

عمر میرا کزن ہے۔۔۔۔!

جان سے زیادہ عزیز ہے۔ وہ مجھے۔۔۔جسے تم۔۔۔ پیار کے جھوٹے جال میں پھنسا کر پیسہ اینٹھنا چاہتی ہو۔۔۔۔! دھوکے سے۔۔۔!!

تو میں تمہیں کھلی آفر دے رہا ہوں۔ ڈیل کے ساتھ۔۔۔۔!!

چھ ماہ کا

Loving husband wife relationship

ساتھ میں منہ مانگے دام۔۔۔۔!!

اپنے مضبوط ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے وہ صلہ کو ہر طرح سے لاجواب کر رہا تھا۔

یعنی۔۔۔!

اپنے کزن۔۔ عمر کو تم مجھ سے بچانا چاھتے ہو۔۔۔ ؟ اور خود کو میرے ساتھ پھسا رہے ہو۔۔۔ داد دینی چاہٸیے آپ کو۔۔۔!!!

طنزاً مذاق اڑاتے کہا۔

سبحان نے سرد پن سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔

جبکہ۔۔۔ میری اصلیت بھی تم جان گۓ ہو۔۔۔!!.

تم اپنے کزن کو۔۔ میری سچاٸی بتا کے اسے مجھ سے دور کر دو۔۔۔

یہی ۔۔۔۔۔۔ یہی تو مسٸلہ ہے۔۔۔۔۔۔!!

تم نے اسے پیار کے جال۔میں پھسایا۔۔۔۔

پیار کا جال۔۔۔۔۔۔۔!!!

جسے توڑنا۔۔۔۔۔۔ اور اس میں سے نکلنا۔۔۔۔ آسان نہیں۔۔۔۔

تمہاری۔۔ سچاٸی۔۔۔ اسے بتاٶں گا نہیں۔۔۔۔۔

دکھاٶں گا۔۔۔۔

سبحان کو غصہ آگیا۔

اور اس کے لیے۔۔ تم۔۔۔۔۔ مجھ سے۔۔۔۔ نکاح کرو گے۔۔۔۔؟

کیا نکا ح۔۔۔۔۔ ضروری ہے۔۔۔۔۔؟

صلہ کو نکاح سے ڈر لگ رہا تھا۔کہ نکاح کر کے وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔۔۔۔۔

صرف چھ ماہ کی ڈیل ہے۔۔۔ سمجھی تم۔۔۔۔!!!

اور ہاں بنا۔۔ نکاح کے میرے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہ سکتی ہو۔۔۔۔؟

تو بتاٶ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

سبحان اب سینے پے ہاتھ باندھے اسے ہر طرح سے باتوں میں الجھا رہا تھا۔

بے اختیار ہی صلہ کا سر نفی میں ہلا۔

سو۔۔۔ دی گریٹ صلہ۔۔۔۔۔۔۔!.

نکاح ضروری ہے۔

اب اپنے چھوٹے سے ذہن کو مزید نہ الجھاٶ۔۔۔۔

اک گھنٹہ کا ٹاٸم ہے تمہارے پاس۔۔۔۔ سوچو۔۔۔ سمجھو۔۔۔!!!

اگر ۔۔۔۔ ہاں کرو گی۔۔۔ تو جو تمہیں چاہیے۔۔ ۔۔!!

وہ تمہیں ۔۔۔ ملے گا۔۔۔۔

لیکن تمہیں وہ کرنا ہو گا جومیں کہوں گا۔۔۔۔

ورنہ انکار کی صورت میں اس کھانے کو اپنی زندگی کا آخری کھانا سمجھ کے کھا لینا۔۔۔۔۔۔!!

سبحان نے سامنے رکھے کھانے کی طرف اشارہ کیا۔

لب ولہجے کی سختی صلہ نے اپنے دل پے محسوس کی۔

وہ جا چکا تھا۔ اس کاملازم آکے رسیاں کھول گیا تھا۔

صلہ نے بے اختیار اپنیبکلاٸیاں دباٸیں۔

رسیوں کے نشان واضح تھے۔ اور زخم بھی بن گۓ۔

آنکھوں میں پھر سے اپنی بے بسی پر آنسو نکل۔آۓ۔

وہ کہاں پھس گٸ۔۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

اسے بس اپنی چھوٹی گیارہ سالہ بہن سحر کی فکر۔تھی۔

اسے بس اس کے پاس جانا تھا۔

اسے اپنے سوتیلے باپ پے بالکل بھروسہ نہ تھا ۔

پیسے کی لالچ میں وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔

صلہ نے اس لالچی انسان سے وعدہ کیا تھا

وہ عمر سے 20 لاکھ لے کر اس کے جوۓ کا قرضہ اتارے گی۔

اور اس سب کے لیے اس کے سوتیلے باپ نے ہی اسے عمر سے پیار کرنے کا جھوٹا ناٹک کرنے کا کہا۔ اور اب جبکہ وہ غاٸب ہے تو۔۔۔۔

اسے سحر کی فکر لگ گٸ۔ ۔۔!!!!!

اسے ہر حال میں اپنی بہن کو بچانا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *