Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Teri justujoo (Episode 07)

Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
 

دیوار کے ساتھ پن کیے وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھور رہا تھا۔

اور وہ سہمی سی ہرنی سی آنکھیں اس بپھرے شیر کی آنکھوں میں ڈالے دل کی دھڑکن کی رفتار کو معمول سے ہٹ کر محسوس کر رہی تھی۔

ہاتھوں کی انگلیوں پے سبحان کی انگلیوں کا دباٶ مسلسل بڑھ رہا تھا ۔

جو سبحان کے سخت غصے کا پتہ دے رہے تھے۔

٠٠

صلہ ان نظروں کی تاب نہ لا پارہی تھی۔

پل پل وہ پگھلتی جا رہی تھی۔ نظریں جھکیں۔

اور جھک کر اٹھیں۔

سبحان کا دل لرزا۔

ان نظروں میں کیا کچھ نہیں تھا۔ ۔۔۔۔؟؟

وہ جو بہت کچھ بولنے والا تھا۔ سب الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گۓ۔

جھٹکے سے پیچھے ہوا۔

اسے صلہ کی نظروں میں ایک ان کہی داستان نظر آٸی۔

جسے وہ پڑھنا نہیں چاہتا تھا۔ فوراً رخ پھیر لیا۔

آٸیندہ ایسی کوٸی حرکت ۔۔۔مت کرنا۔۔۔۔کہ ۔۔۔مجھے ۔۔۔تم پر سختی کرنی پڑی۔

اور ۔۔۔۔۔تمہاری مما۔۔۔کو ہاسپٹل پہنچا دیا تھا۔

انکے علاج کے بعدانہیں سیو جگہ پے پہنچا دیا جاۓ گا۔ ۔۔۔

لیکن ۔۔۔ا ب۔۔۔ !! تم۔۔۔۔ کوٸی بھی۔۔۔ فضول حرکت مت کرنا۔

بنا اسکی طرف دیکھے الفاظ ادا کرتے وہ اس بار لہجے میں سختی نہ پیدا کر سکا۔

اور وجہ سے خود بھی انجان تھا۔

سبحان۔۔۔۔۔۔!!!

وہ جوجانے کے لیے آگے بڑھ چکا تھا کہ صلہ کی پکار پر رکا۔ ہارٹ بیٹ مس ہوٸی۔

بنا پلٹے گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا۔

مجھے گن چلانا سکھاٸیں گے؟؟

اسکی عجیب فرماٸش پر وہ حیرانی سے پلٹا۔

اور دھیرے دھیرے چلتا اس کے پاس آیا۔

تم۔۔۔۔!! تمہیں۔۔۔۔ گن۔۔۔چلانی۔۔۔سیکھنی ہے۔۔۔۔؟؟

اتنی ہمت ہے تم میں۔۔۔۔؟؟

سبحان نے مذاق اڑاتے طنزاً کہا۔

ہمت تھی تو۔۔۔ آپ کے دراز میں سے گن۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

بولتے بولتے ۔۔۔ سبحان کی تیز نظروں نے اسکی بولتی بندکردی۔

پلیز۔۔۔۔۔ سیکھا دیں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اب کے منت سے کہا۔

کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟ تیکھے انداز میں پوچھا۔۔

یہ حفاظت کے لیے ہوتی ہے ناں۔۔۔۔۔۔؟؟

وہ کیا کہتے ہیں۔۔۔۔

Self defense.

صلہ کی بات پے سبحان سر نفی میں ہلاتابے اختیار ہی مسکرایا۔

صلہ نے چور نظروں سے دیکھا۔اسکی سماٸیل بہت خوبصورت تھی۔

پینٹ کی ایک ساٸیڈ سے گن نکال صلہ پر تانی۔

صلہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔ آنکھوں میں حیرت اور ڈر تھا۔

یہ ۔۔۔لو۔۔۔۔۔!! چلاٶ۔۔۔!!

گن کو اس کے سامنے کیا۔

صلہ نے پہلے اسے دیکھا۔ پھر گن کو۔۔!

اور کچھ سوچتے ہوۓ گن تھام لی۔ اسے الٹ پلٹ کر چیک کرنے لگی۔ ۔ سامنے نظر پڑی تو سبحان وہاں نہ تھا۔

وہ جو سامنے واس نظر آرہا ہے ناں۔۔۔۔۔!! اسکا نشانہ لو۔

اپنے کان کے پیچھے سبحان کی سرگوشی نما آواز سناٸی دی۔

ایک بار پھر سے دل کی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو سنبھالنےلگی۔

وہ بالکل اس کے پیچھے اسکے ساتھ کھڑا اسکی کپکپاہٹ محسوس کر رہا تھا۔

اسکاہونا سبحان کو عجیب سا فیل کر رہا تھا۔ جسے وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔

اور یہ ایک بے اختیاری عمل تھا۔

کانپتے ہاتھوں سے اس نے واس کا نشانہ باندھا ۔

لمبی سانس لی۔ اور ٹریگر پر دباٶ ڈالنا چاہا ۔

لیکن ہمت ہی نہ پڑ رہی تھی۔

گردن پلٹ کر سبحان کو دیکھا۔

جس کا چہرہ اسکی گردن کے ساتھ مس کر رہا تھا۔

اتنے میں سبحان ایک ہاتھ اسکی کمر میں لے جا کے اسے خود سے قریب کیا۔

اور دوسرے ہاتھ سے اسکے گن والے ہاتھ پے ہاتھ رکھا۔

صلہ نے سانس ہی روک لی۔ وہ اتنے قریب آجاۓ گا اس نے سوچا تک نہ تھا۔ لیکن ابھی وہ چاہ کے بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

اسکالمس اسکے دل کو عجیب سی لے میں دھڑکا رہا تھا۔ وہ احساس جو آج سے پہلےکبھی نہ محسوس ہوا۔

اور وجہ ۔۔۔۔۔ سے انجان تھی۔

دونوں کی نظروں کا مرکز وہ واس تھا۔ دونوں کی انگلیوں کا دباٶ اک ساتھ ٹریگر پر بڑھا ۔

ایک دم گولی چلی۔اور واس کو توڑ کے رکھ دیا۔

گولی چلاتے ہوۓ وہ اپنی جگہ پے توازن برقرار نہ رکھ پاٸی۔

لیکن سبحان کے تھامے رکھنے سے وہ جلدی سنبھل گٸی۔ رکا سانس بحال ہوا۔

پہلے حیرت پھر خوشی سے دیکھا۔

واس ۔۔۔ ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔! میں۔۔۔ میں۔۔۔ نے گولی چلاٸی۔۔۔ واس ۔۔۔ ٹوٹ گیا۔۔۔!!

وہ بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی۔ سبحان زیرِلب مسکایا۔ اور وہاں سے جانے لگا۔

پلیز۔۔۔سبحان۔۔۔۔۔!!یہ گن ۔۔مجھے دے دیں۔۔۔۔۔؟؟

اسکو چلانے سے تو آواز بھی نہیں آتی۔

بہت۔۔۔۔فن ٹاسٹک ہے یہ۔۔۔۔!!

صلہ نے خوش ہوتےاس کے قریب آتے گن کی ڈیمانڈ کی۔

ڈیل میں ایسا کہیں نہیں لکھا۔ ۔۔۔

سبحان نے اسے سہولت سے انکار کرتے ڈیل یاد کراٸی۔

صلہ کے چہرے کی خوشی ایک دم ماند پڑ گٸ۔

جو سبحان کو بالکل اچھا نہ لگا۔

ہمممممممم۔۔۔۔ کیا ہم۔۔۔ دوبارہ ڈیل نہیں۔۔۔ کر سکتے؟؟

جس میں آپ مجھے۔۔۔ گن چلانے کی ٹریننگ دیں۔ اور ساتھ میں یہ ۔۔۔گن بھی۔۔۔۔؟؟

اپنے طیٸیں اس نے بہت کار آمد مشورے سے نوازا۔

تم۔۔۔۔۔۔۔!! دن بدن ۔۔۔ تمہاری ڈیمانڈز بڑھتی نہیں جارہیں۔۔۔۔؟؟

سبحان کے ماتھے پے تیوری پڑی۔

پللیزززززززززز۔۔۔۔۔۔!!!

صلہ نے آنکھوں میں معصومیت لاٸے لجاجت سے کہا۔

اچھا۔۔۔۔۔۔۔! تو اسکے بدلے۔۔۔۔۔ مجھے کیا ملے گا۔۔۔۔؟؟

سبحان دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب آیا۔

صلہ اس کے پراسرار انداز پر اندر سے دہل کے رہ گٸ۔

وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔!! صلہ سے بات نہ بن پاٸی۔

سبحان نے اس کے دونوں اطراف ہاتھ رکھ کےاسکے فرار کا راستہ روک اسے سمٹنے پے مجبورکیا۔

میں۔۔۔ تمہیں۔۔۔ گن چلانا سیکھاٶں گا۔۔۔۔ اور ۔۔یہ گن بھی دوں گا۔۔۔اور تم۔۔۔۔۔ اپنی تیسری شرط ۔۔۔ واپس۔۔لے لو۔۔۔

دھیرے دھیرے بولتا وہ صلہ کے کان میں صور پھونک گیا۔

حیرت سے صلہ کی آنکھیں ایک دم پھیل گٸیں۔

اور غصے سے سبحان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔

وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔

نفی میں سر ہلاتی اس نے خود کو کچھ بھی غلط کہنے سے باز رکھا۔

یو۔۔ آر۔۔ سو۔۔ مین۔۔۔!! صلہ کو اسکی بات پے دکھ ہوا

آٸیندہ ڈیمانڈ کرنے سے پہلےسوچ سمجھ لینا۔۔

کسی بھی۔۔۔ ڈیمانڈ کے لیے ۔۔کیا قیمت چکانی پڑسکتی ہے۔۔۔؟؟

سبحان بھی پیچھے ہوتے اسے کافی کچھ باور کرواگیا۔

وہ احساس۔۔۔۔ جو ایک پل پہلے۔۔ دونوں کے اندر جاگا ۔

اب اسکی جگہ پھرسے نفرت نے لےلی۔

سبحان اپنی کہہ کے جا چکا تھا۔

بےاختیار ہی صلہ کاہاتھ اپنے گال پر گیا۔

خاموش آنسو کب بہہ کر اسکے گالوں پے لڑھک آۓ۔ اسے خبر نہ ہوٸی۔

✨
✨
✨
✨
✨

یوں اچانک پروگرام بنالیا۔ آپ نے ۔۔۔۔۔۔ آسٹریلیا جانے کا۔۔۔۔۔؟؟ پہلے نہیں بتایا۔۔۔۔؟؟

انوشے نے روم میں آتے شہریار سے ناراضگی کا اظہار کیا۔

آسٹریلیا نہیں۔۔۔۔ یوکے جا رہا ہوں۔

شوز اتارتے ہوۓ وہ پریشانی سے بولا۔

یو کے۔۔۔۔۔۔۔؟؟ انوشے حیران ہوٸی۔۔۔

لیکن ابھی تو باہرآپ امی سے آسٹریلیا جانے کا۔۔۔۔۔؟؟

ہاں۔۔۔۔۔!اور انہیں پتہ نہیں چلنا چاہیے۔۔۔! کبرڈ کی طرف بڑھتے ہوۓ وہ انوشے کو بھی پریشان کر رہا تھا۔

لیکن آپ نے جھوٹ کیوں بولا۔۔۔۔۔؟؟ انوشے نے اسے کپڑے نکال کے دیتےہوۓ استفسار کیا۔

تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ !!انوشے !!!

کبرڈ بند کرتے وہ مکلمل انوشے کی طرف گھوما۔ اور کبرڈ سے ٹیک لگاٸی۔

سمیرا ٹھیک نہیں۔۔۔۔! اسکا شوہر ۔۔زین۔۔۔ دوسر ی شادی کے چکر میں ہے۔ ۔۔۔

فون آیا تھا اسکا۔۔۔۔۔ بہت رو رہی تھی۔۔۔!!

شہریار تھکے ہوۓ نم لہجے میں کہتے وہ انوشے کو شاک کر گیا۔

واٹ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ایسے کیسے۔۔۔۔۔؟؟ انکی تو ایک ۔۔۔ بچی بھی ہے۔۔۔! زین بھاٸی ۔۔۔۔ ایسا کیسے کر سکتے ہیں سمیرا کے ساتھ۔۔ ؟؟

مجھے۔۔۔۔ تو خود نہیں ۔۔ سمجھ آرہا۔۔۔ ؟؟ شادی کے اتنے سال گزر جانے کے بعد۔۔۔۔۔اب ایسا کیا ہوا۔۔۔۔۔؟؟

خیر۔۔۔۔۔۔۔!! لمبی سانس خارج کی۔

اصل وجہ تو ہاں جا کے ہی پتہ چلےگی۔۔۔۔!!

میں آتا ہوں۔۔

اتنا کہہ ک وہ باتھ روم میں گھس گیا۔ انوشے وہیں بستر پے ڈھے گٸ۔

سمیرا اسے بہت عزیز تھی۔ چھوٹی عمر میں ہی اسکی شادی ہوگٸ ۔

اور اپنی شادی سے وہ بہت خوش تھی۔

شادی کے بعد وہ تین چار دفعہ ہی پاکستان آٸی تھی۔

اپنی بیٹی علیزے کے ساتھ۔ ہر بار وہ اکیلی ہی آتی تھی۔ زین کبھی نہ آیا ساتھ۔

لیکن وہ ہمیشہ خوش ہی آتی تھی۔

کبھی نہ محسوس ہوا کہ وہ اپنی شادی سے دکھی ہے۔۔۔۔

اور اب یوں اچانک ۔۔۔۔شادی کے 9 سال بعد۔۔۔۔۔؟؟

وہ حقیقتاً پریشان ہوگٸ تھی۔

شہریار فریش ہو کے باہر نکلا۔تو انوشے کو یونہی بیٹھا دیکھ اسکے پاس چلا آیا۔

یار ۔۔۔ تم۔تو پریشان نہ ہو۔۔۔۔!! اگر تم یوں پریشان ہو جاٶ گی تو۔۔۔۔ گھر والوں کو کون سنبھالے گا۔۔۔۔۔؟؟

شہریار نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا۔

انوشے نے اسکی طرف رخ موڑا۔

زین۔۔ بھاٸی۔۔۔۔۔ بہت غلط کر رہے ہیں۔ ۔۔ انھیں۔۔۔ ایسا ۔۔نہیں کرنا چاہیۓ۔۔۔۔۔۔

سمیرا ان سے کتنی محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔اور وہ۔۔۔ یوں۔۔۔۔؟؟

انوشے کا لہجہ نم ہوا ۔

شہریار اسے اسطرح دیکھتے زیرِلب مسکرایا۔

اور انوشے کو اپنے ساتھ لگایا۔

کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔

االہ پے بھروسہ رکھو۔

اپنے ساتھ لگایا اور ماتھے پے بوسہ دیا۔

میں ہوں ناں۔۔۔۔۔!! سب ٹھیک کر دوں گا۔۔۔۔!

شہریار نےاسے یقین دلایا۔

آپ۔۔۔۔ کہیں ۔۔۔ تو میں بات کروں۔۔۔۔؟؟ زین بھاٸی سے۔۔۔؟؟

انوشے نے سیدھا ہوتے فوراً سے کہا۔

زین اسکے ماموں کا بیٹا تھا۔ اور دونوں میں اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔

نہیں۔۔۔۔۔ فی الحال نہیں۔۔۔۔! مجھے۔۔۔ وہاں جا کے سب حالات پتہ کرنے دو۔۔۔۔ ! اس کے بعد سوچتے ہیں کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔!!

اورہاں۔۔۔۔۔!! تب تک سمیرا سے یا کسی سے بھی اد بارے میں کوٸی بات نہیں کرنی۔

بیڈ پرنیم دراز ہوتے آنکھیں موندتے وہ گہری سوچ میں ڈوبا۔

انوشے نے اٹھ کر بچوں کے کمرے کا رخ کیا۔

وہ سونے سے پہلے ایک بار ضرور بچوں کے روم کا چکر لگاتی تھی۔

کچھ سوچتے ہوۓ شہریار نے عمر کا نمبر ڈاٸیل کیا۔ لہیکن اس نے نہیں اٹھایا ۔ تو موباٸیل ساٸیڈ پے رکھ دیا۔

آپ پریشان نہ ہوں اللہ سب بہتر کرے گا۔

انوشے نے روم۔میں آتے ناٸیٹ لیمپآن کیا۔ اور بستر پےنیم دراز ہوٸی۔

انشاللہ ۔۔۔۔!! عمر کوٹراٸی کیا ۔۔ لیکن فون نہیں۔۔۔ اٹھایا۔۔۔۔ اس نے۔۔۔۔۔!!

شہہریار نے پھر سے موباٸیل اٹھاتے کہا ۔

اس وقت سو گیا ہو گا۔ آپ صبح بات کر لیجیے گا۔۔۔

صبح بھی مشکل ہی ہوگا۔ 6 بجے نکلنا ہے۔۔۔ بیگ تیار کر دیا۔۔۔۔۔؟؟

انوشے کی طرف مڑتے تھکے ہوۓ لہجےمیں کہا۔

سب تیار ہے۔۔۔۔!! بس اب آپ سوجاٸیں۔۔۔ تاکہ دماغ ریلکس ہو۔ ورنہ اور زیادہ تھک جاٸیں گے۔

انوشے نےپیار سےکہا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلاتا سیدھا ہوا۔

انوشے۔۔۔۔۔ سب کا دھیان رکھنا۔۔۔۔۔۔!!! میرے بعد سب تمہاری زمہ داری ہیں۔۔۔!!

آنکھیں موندے ایک جذب سے کہا۔

انوشے نے یکدم پلٹ کر اپنے مجازی خدا کودیکھا۔

آپ جلدی واپس آٸیں گے۔۔۔۔ اور اللہ آپ کو کامیاب واپس لاۓ گا۔

اب سو جاٸیں۔ انوشے کےدل کو کھینچ سی پڑی۔ شہریار کی بات پر۔

وہی اسکا سب کچھ تھا۔

شہریار ک طرف دیکھا تو وہ سوگیا تھا۔

انوشے بھی صبح کا الارم سیٹ کرتی سونےکےلیےلیٹ گٸ تھی۔ لیکن نیند کسوں دور تھی آنکھوں سے۔

*************

How are you mr Subhan?

آواز پر سبحان نے پلٹ کر دیکھا۔

وہ اک ضروری میٹنگ کے لیے آیا تھا۔ اور ریسٹورینٹ سے باہر نکل رہا تھا کہ آواز پے پلٹا۔

اوہ۔۔۔۔۔ آفاق انکل۔۔۔۔۔۔۔!!

What a pleasant surprize.

کیسےہیں آپ۔۔۔۔؟؟ آپ تو ایسے گۓ۔۔ پلٹ کر دیکھا نہیں۔ ؟

سبحان نے بھی مصافحہ کرتے گِلہ بھی کردیا۔

ارے بیٹا۔۔۔۔۔لندن شفٹ ہو گۓ تھے۔۔۔ا سفند کی پڑھاٸی کی وجہ سے۔ ۔۔

اب الحَمْدُ ِلله اسکی پڑھاٸی مکمل ہو گٸ ہے تو۔۔۔

ابھی حال ہی میں واپس پاکستان آٸیں ہیں۔ اور اسفند نے یہیں اپنا بزنس اسٹارٹ کیا ہے۔

ایک۔۔۔ منٹ۔۔۔ میں اپنے بیٹے سے ملواتا ہوں۔

آفاق صاحب نے مڑ کے اپنے بیٹے کو اشارہ کیا۔

وہ بھی ان کے پاس چلا آیا۔

ڈیسنٹ سے خوبرو نوجوان سبحان کو بہت اچھا لگا اس سے مل کے۔

کچھ مزید باتوں کے بعد سبحان نے اجازت چاہی۔

انکل ۔۔۔۔ا ب آگۓ ہیں پاکستان تو۔۔۔۔ گھر کا چکر بھی ضرور لگاٸے گا۔

ہاں ہاں۔۔ کیوں نہیں۔۔۔۔۔ !!

الوداعی کلمات کہتا سبحان باہر نکل آیا۔ اور اپنے خاص بندے کو اشارہ کیا۔

عزیز۔۔۔۔۔!! مجھے اس شخص کے بارے مں مکملانفارمیشن چاہیے۔

جی۔۔۔۔۔ ہو جاۓ گا سر۔۔۔۔۔!! عزیز نے سر تسلیمِ خم کیا۔

اتنے میں موباٸیل پے کال آٸی۔

کال گھر سے تھی۔ سبحان نے فوراً پک کی۔

لیکن مقابل کی بات سن کے سبحان کی دماغ کی رگیں تن گٸیں۔

آپ نے اسے اکیلے۔۔۔۔ جانے کیسے دیا۔۔۔۔؟

صغرا خالہ کی بات پر غصے کال بند کی۔ا ور دوسرا نمبر ڈاٸیل کیا۔

ہاں۔۔۔۔ کہاں ہو۔۔۔۔۔۔؟؟

فون کان سے لگاۓ وہ آگے بڑھا۔

مجھے میری بہن کی سیفٹی چاہیے۔۔۔۔ !! اور اسکی زمہ داری تم پر ہے۔

اگر اسے کچھ ہوا ناں۔۔۔۔۔ تو تم اپنی خیر منانا۔

سبحان نے غصے سے کال بند کی اور گاڑی میں بیٹھا۔

پریشانی اس کے چہرے پے واضح دکھاٸی دے رہی تھی۔

*************

اچھا یار۔۔۔۔۔۔!! تم روٶ تو مت۔۔۔۔۔! یہ آنسو پونچھو۔

پبلک پلیس۔۔۔ ہے۔۔ سب دیکھ رہے ہیں۔

عینی نے ٹشو پیپر تابی کو تھمایا۔

وہ دونوں اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھیں تھیں۔

تابی نےروت ہوۓ اپنےاوپر بیتی ساری بات عینی کے گوش گزار دی۔

آج وہ.خاص اپنی دوست سےہی ملنے آٸی تھی۔

غصے میں گھر میں بنا کسی کو بتاۓ وہ نکلی تھی۔

لیکن جیسےیہی صغرا خالہ کوپتہ چلا انہوں نے فوراً سبحان کو اطلاع کر دی۔

میرے۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی یہ سب کیوں۔۔۔۔ ؟ عینی؟؟

میں نے کیا قصور کیا۔۔۔۔۔؟؟ مجھے کیوں عمر نے بدلے کی آگ میں جھونکا۔۔۔۔۔؟؟

تابی دل کا غم اپنی دوست سے بانٹ رہی تھی۔

سب کچھ۔۔۔۔ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اللہ پے بھروسہ رکھو۔ وہ کبھی بھی تمہارے ساتھ کچھ بھی۔۔۔ غلط نہیں ہونے دے گا۔

عینی نےاسے تسلی دی۔ تابی خاموش ہوگٸ۔

تابی۔۔۔۔۔۔!! تم سب سبحان بھاٸی کو بتا دو۔۔۔۔ وہ خود عمر سے ہینڈل کر لیں گے۔

کچھ سوچتے ہوۓ عینی نے اسے مشورہ دیا۔

میں نے بھی پہلے۔۔۔ یہی سوچا تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ عمر کی دھمکی۔۔۔۔

مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔ اگر اس نے مجھے۔۔۔۔ چھوڑ دیا تو۔۔۔۔۔؟؟ تابی نے دھیمے لہجےمیں کہا۔

کیا مطلب۔۔۔۔۔؟؟ تو کیا۔۔۔۔ تم عمر سے تعلق رکھنا چاہتی ہو۔۔۔۔؟؟

عینی کو حیرت ہوٸی۔

نہیں۔۔۔۔۔ جانتی۔۔۔۔۔۔جسطرح عمر نے ۔۔۔ نکاح کیا۔۔۔۔۔!!

نہیں۔۔۔جانتی کہ۔۔۔۔ اس رشتے کا انجام کیا ہوگا۔۔۔۔؟؟

آنسو پونچھے۔۔ دل تھا کہ درد سے پھٹا جا رہا تھا۔

تابی۔۔۔۔۔! کیوں سیراب کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔۔۔۔۔؟؟

مجھے ان سب باتوں میں ۔۔۔اتنی سمجھ لگی ہے۔۔۔ کہ وہ۔۔۔ تم سے محبت نہیں کرتا۔۔۔۔۔

صرف بدلہ لیاہے اس نے۔۔۔ اپنی محبت کے چھین جانےکا۔۔۔۔۔!!

اور وہ۔۔۔۔ کبھی بھی۔۔۔۔ تمہیں ۔۔۔ چھوڑ دے گا۔۔۔۔

وہ لڑکی۔۔۔۔ بیوی ہے۔۔۔ میری۔۔۔۔۔!

ہمت۔۔۔کیسے۔۔۔۔ ہوٸی۔۔۔ تیری۔۔۔۔؟؟ میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی۔۔۔۔۔؟؟۔

تم۔۔۔۔تم جانتی ہو۔۔۔۔! اگر۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔ کچھ ۔۔۔ہو جاتا۔۔تو۔۔۔۔؟؟

ایک ۔۔۔۔ایک ۔۔۔۔۔لمحے۔۔۔۔ کے۔۔۔لیے بھی۔۔۔۔ تم نے۔۔۔۔ نہیں۔۔ سوچا۔۔۔۔؟؟

کچھ۔۔۔ہو جاتا تمہیں۔۔۔۔۔؟؟ تو۔۔۔۔ کیا ہوتا۔۔۔ میرا۔۔۔۔؟؟

گزرے لمحات کے وہ پل آنکھوں کے سامنے آگۓ۔

ان لمحوں میں وہ عمر کا اصل تھے۔

کسی بھی ریا سے پاک وہ الفاظ تھے۔۔

جو کسی سازش کا حصہ نہ تھے ۔

وہ بے اختیاری میں تھا سب۔

اور وہی تو عمر کا اصل تھا۔

اور تابی وہ کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔۔۔۔؟؟

عینی۔۔۔! ابھی ت تم نےکہا۔۔۔۔ اللہ پےبھروسہ رکھو۔۔۔وہکبھی غلط نہیں ہونے دے گا میرے ساتھ۔۔۔

اور اب تم خود ہی مایوسی کی طرف دھکیل رہی ہو ممجھے۔۔۔۔۔؟؟

تابی کو بھی اسکی بات کا برا لگا۔

عینینے لمبا سانس خارج کیا۔ آنکھیں میچ کے کھولیں۔ اور تابی کی طرف مڑی۔

تابی۔۔۔۔!! اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی۔۔۔ تم عمر کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔؟؟؟

عینی کے سوال پر تابی کا دل دھڑکا۔

نہیں۔۔۔۔ معلوم۔۔۔۔۔۔۔!!

تابی نے نظریں چراٸیں۔

عینی سمجھ گٸ کہ وہ جواب نہیں دینا چاہتی۔

اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے۔ اور تمہاری ہر خواہش پوری ہو۔ آمین۔

کافی دیر ہو گٸ ہے۔۔۔ اب چلنا چاہیے۔۔۔۔

عینی نے اٹھتے ہوۓ کہا۔

تم جاٶ ۔۔۔۔۔ میں کچھ دیر میں نکلتی ہوں۔

تابی نے اسے اللہ حافظ کہا تو وہ ریسٹورینٹ سے باہر نکلتی چلی گٸ۔

جبکہ تابی ابھی بھی عینی کےسوال میں گم تھی۔

کیا وہ واقعی اب ابھی عمر کو چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔؟؟ اس نے خود سے سوال کیا۔

چاہت۔۔۔۔

محبت۔۔۔۔

پیار۔۔۔۔۔

یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔

میں نہیں جانتی۔۔۔۔۔

لیکن اتنا جانتی ہوں۔۔۔۔۔

عمر میرا عشق ہے۔۔۔۔۔۔۔

میری جستجو ہے۔۔۔۔

میرے جینے کی وجہ ہے۔۔۔۔۔

میرا سب کچھ ہے۔۔۔۔

میں نے اس سے اس کو نہیں مانگا۔

مں نے رب سے اسے مانگا۔۔۔۔

اور یہ میرے عشق کی انتہا ہے۔۔

کہ عمر نے کسی اور کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔تو۔۔۔۔ میں خاموشی سے اللہ کی رضا میں شامل ہو گٸ۔۔۔

لیکن۔۔۔۔ میری دعاٶں نے ۔۔۔۔۔۔

اللہ نے اسے میرا نصیبوں میں لکھ دیا۔۔۔۔

آنسو پھر سے بہنے لگے۔۔۔

تو اس میں بھی خدا کی کوٸی مصلحت ہی ہو گی۔

وہ سوچوں میں گم تھی۔ کہ تبھی کوٸی شخص اس کے پاس آیا۔ اور ٹیبل بجایا۔

تو تابی خیالوں سے چونکی۔

اور سوالیہ نظروں سے سامنے والے کو دیکھا۔

ایکسکیوز می ۔۔۔ مس تعبیر۔۔۔۔۔؟؟

باہر آپ کے بھاٸی آپکا ویٹ کررہے ہیں۔ ۔۔

پلیز۔۔ آجاٸیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔!!

وہ شخص مہذب انداز میں بولا۔

تابی حیران ہوٸی۔

سبحان بھاٸی۔۔۔ یہاں۔۔۔۔۔۔؟؟

لیکن پھر کچھ سوچتے ہوۓ اٹھی۔

اور اس شخص کے پیچھے چل دی۔لیکن اسے گھبراہٹ سی ہوٸی۔

ایک گاڑی کے پاس جا کے وہ رک گیا۔

بیٹھیں پلیز۔۔۔۔!! اب کی بار لہجہ تھوڑا سخت تھا۔

میرے۔۔۔۔میرے۔۔۔۔ بھاٸی۔۔۔ کہاں۔۔ ہیں۔۔۔؟؟

تابی کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔

تبھی گاڑی کا دروازہ کھلا۔ اور اندر بیٹھے شخص نے تابی کو اندر کی طرف کھینچا۔

اور وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی۔اور اندر کی طرف کھینچی چلی گٸ ۔

یہ سب اتنا اچانک ہوا۔

کہ تابی کچھ نہ کر سکی۔ شور مچانا چاہا۔

لیکن کلوروفارم کی وجہ سے اسے بے ہوش کردیا۔ اور وہ بے سدھ ہوگٸی۔

گاڑی سیدھا اڈے پے لے چلو۔

وہ شخص گاڑی ڈراٸیورسے بولا۔

اور خود گاڑی کی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گیا۔

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

یہ تابی۔۔۔۔۔۔؟؟

عمر وہاں اپنے دوست کے ہمراہ آیا تھا۔

تابی کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا۔ تو خود بھیایک ٹیبلچھوڑ کے وہیں بیٹھ گیا۔

اوران دونوں کی ساری باتیں بہت انہماک سے سنتا رہا۔

تابی کی ہر بات اس کے دل پار ہوٸی۔

اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے۔ ابھی وہ مزید وہاں بیٹھتا۔ کہ اسے گھر سے کال آگٸ۔

کال اٹینڈ کرتا وہ وہاں سے اٹھا۔

ہیلو۔۔۔۔بھابھی۔۔۔۔۔!! کیسی ہیں۔۔؟؟

اس نے ہشاش بشاش اندازمیں بات کی۔

لیکن آگے انوشے کی بات سن کے وہ ایک دم سا چپ ہوگیا۔

ایم سوری۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔!! میں نے دیکھا نہیں۔۔۔۔۔۔

بھاٸی۔۔۔۔ کی کالز۔۔۔۔۔۔۔؟؟

ورنہ ۔۔۔ضرور کال بیک کرتا۔

عمر شرمندہ ہوا۔

عمر ۔۔۔!! کچھ دن کے لیے لاہور آجاٶ۔ انوشے نے افسردگی سے کہا ۔

تو وہ بھی اسکی طرف متوجہ ہوا۔

جبکہ۔۔۔ شہریار کے مل کے نہ جانے پے۔۔۔ اسکا دل جیسے اندر سے ٹوٹ گیا تھا۔۔۔

جی بھابھی۔۔۔۔!! میرا بھی دل یہی چاہ رہا ہے۔۔۔کہ گھر واپس آجاٶں۔۔۔۔۔!!

آپ۔۔۔ پریشان نہ ہوں ۔۔۔جتنی جلدی ہو سکے۔۔میں یہاں کام واٸنڈ اپ کرتا ہوں ۔ اور لاہور آنے کی کوشش کرتا ہوں۔

عمر کا دل بھی یہاں سے جانے کو ہمکنے لگا۔

جس وجہ سے اس نے یہاں بزنس اسٹارٹ کیا تھا۔وہ وجہ اب ختم ہو گٸ تھی۔

فون بند کرتے وہ باہر آیا۔ تو تابی باہر نہ تھی۔

شاید چلی گٸ ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟

عمر کا دل اچانک سے بے چین ہوا ۔

اسی بے چینی میں وہ باہر نکلا ۔

تو سامنےہی تابی کو کسی انجان شخص کے ساتھ جاتا دیکھ ٹھٹھکا۔

یہ کس کے ساتھ جا رہی ہے؟؟ عمر نے ارد گرد نظر دوڑاٸی۔

تابی کی گاڑی مخالف سمت میں کھڑی تھی۔ عمرکوکچھ گڑبڑ لگی۔

وہ بھی تابی کی طرف ہی بڑھا۔

تبھی وہ دونوں ایک گاڑی کے پاس جا رکے۔

عمر چلتے چلتے ہی یہ ساری کارواٸی دیکھ رہا تھا۔ اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

کہ اتنے میں کسی نے تابی کو گاڑی کے اندر کھینچا۔ اور پھر گاڑی کو آگے بڑھا دیا۔

عمر فوراً پیچھے بھا گا۔۔ لیکن پھر رک کر واپس اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اور اپنی گاڑی کو انکی گاڑی کے پیچھے لگا دیا۔

دل تھا کہ اک بار پھر سے بے چین ہوا۔

یہ۔۔۔ ہر بار ۔۔۔ایسی ۔۔۔مصیبت میں ہی کیوں پھنستی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟

کب میچور ہو گی یہ۔۔۔۔۔؟؟

عمر کوتابی کی بے وقوفی پے رہ رہ کے غصہ آرہا تھا۔

ساتھ میں وہ موباٸیل۔پے انسپکٹر بلال کا نمبر ڈاٸیل کر رہا تھا۔ جو اسکا دوست تھا۔

فون پر اسے ساری انفارمیشن دی۔

سبحان بھاٸی کو۔۔۔۔ بتاٶں۔۔۔ یا۔۔۔نہ۔۔۔۔۔؟؟

عمر شش وپنج میں پڑ گیا۔

اگر انہیں ۔۔۔ اتنی ہی پرواہ ہوتی۔۔۔ تو آج یہ بے وقوف اس مشکل۔میں نہ پڑتی۔۔۔۔۔۔

عمر کوسبحان پے بھی غصہ آنے لگا۔

تبھی انکی گاڑی ایک غیر آباد علاقے میں داخل۔ہوٸی۔

کچھ فاصلہ رکھتے ہوۓ عمر کی گاڑی بھی پیچھے پیچھے ہی تھی۔

ایک لمحے کے لیے بھی عمر نے ان کی گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دی۔

میسج پے انسپکٹر بلال کو لوکیشن سینڈ کی۔ اور خود انکی حرکات و سکنات چیک کرنے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *