Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Teri justujoo (Episode 13)

Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
 

راستے میں گاڑی نے دھوکا دے دیا ۔

اور بند پڑ گٸ۔ جگہ سنسان تھی۔

سبحان نے اردگرد نظر دوڑاٸی۔

کوٸی ذی روح نہ تھی۔۔ سیکیورٹی گارڈز وہ خود ساتھ نہ لایا تھا۔

لیکن اس اچانک افتاد سے اس کی چھٹی حس جاگ گٸ۔

گن کو لوڈ کیا۔ اور صلہ کو تھماٸی۔صلہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

میں گاڑی چیک کر کے آتا ہوں۔

سکون سے کہتے وہ باہر نکلا۔

گاڑی کا بونٹ اٹھا یا۔ چیک کیا۔

گاڑی کی خرابی اسکی سمجھ میں نہ آٸی۔

بونٹ بند کرتا وہ پلٹا۔ کہ اتنے میں ایک گاڑی پاس سے گذری۔

لیکن آگے جا کے وہ رکی اور پیچھے ریورس لیا۔ سبحان بھی گاڑی پہچان گیا تھا۔

مسٹر خالد گاڑی سے اترے اور سبحان کے پاس آیا۔ دونوں نے مصافحہ کیا۔

کیا ہوا۔۔۔۔ بڈی۔۔۔؟؟ یوں۔۔۔ اس جگہ۔۔۔ ؟؟

مڑ کر ایک نظر گاڑی میں بیٹھی۔ اس پری پیکر کا دیکھا۔

اور دیکھتاہی رہ گیا۔

ہاں۔۔۔!! گاڑی خراب ہو گٸ ہے۔

سبحان مسٹر خالد کے بالکل سامنے کھڑا ہوتا صلہ کو اسکی نظروں سے چھپا گیا۔

وہ گڑبڑایا۔

تو ۔۔۔یار۔۔۔۔ آجاٶ۔۔۔ !! میں چھو ڑ دیتا ہوں۔

نہیں۔۔۔۔!! عزیز آتاہوگا۔ تمہارا شکریہ۔۔

سبحان نے سہولت سے انکار کیا اور گاڑی کی جانب بڑھا ۔ خالد اندر سے تلملاتا رہ گیا۔

اسے صلہ سے روبرو ملنا تھا۔اسے دیکھنا تھا۔

لیکن۔۔۔ سبحان نے اسے موقع ہی نہ دیا۔

سبحان فون پے عزیز کوانفارم کر چکا تھا۔

صلہ کافی تھک چکی تھی۔ وہیں سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاۓ آنکھیں موند گٸ۔

جانتی تھی۔ وہ سبحان ہے۔۔ اس کے پاس ہر مٸسلے کا حل ہو تا ہے۔

اور سبحان کے ساتھ اس نے ہمیشہ خود کو محفوظ ہی سمجھا تھا۔

مسٹر خالد اپنی گاڑی کے پاس جا کھڑا ہوا ۔ اور سگریٹ نکال سلگا لی۔

لیکن نظریں سامنے گاڑی پے ہی ٹکیں تھیں۔

سبحان کا رویہ بہت سرد تھا اس کے ساتھ۔ اسی لیے زیادہ زور نہ دیا۔

کچھ ہی دیر میں عزیز وہاں پہنچ گیا۔

سبحان اس سے بات کرنے لگا۔ لیکن دھیان خالد پے بھی تھا۔

صلہ…!! صلہ۔۔۔۔!!

صلہ جس کی آنکھ لگ گٸ تھی۔ سبحان کے پکارنے پے مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھا۔

ان آنکھوں کے گلابی ڈوروں میں سبحان تو ڈوبنے لگا۔ کیا ہوا۔۔۔۔؟؟

صلہ نے حیرانی سے پوچھا۔

ہممم۔۔۔۔ گاڑی آگٸ ہے۔۔۔۔ آجاٶ۔۔۔!!

خود کو فوراً سنبھالتا وہ صلہ کو بولا۔

صلہ فوراً گاڑی سے اتری۔ سبحان اسے اپنے ساتھ لگاۓ دوسری گاڑی کی طرف لے گیا۔

مسٹر خالد ایک جھلک بھی نہ د یکھ پایا۔

گاڑی میں بٹھاتا ایک لمحے کو مسٹر خالد کو تنبیہ نظروں سے دیکھتا وہ گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔

گھر داخل ہوتے ہی صلہ نے روم کا رخ کیا۔

اور فوراً چینج کر کے سونے کےلیے لیٹ گٸ۔

سبحان تو اسے دیکھتا رہ گیا۔

سبحان کی نیندیں اڑا کے وہ خود مزے سے سو

گٸ۔۔۔۔؟؟ سبحان کو برداشت ہی کہاں تھا۔

وہیں ۔۔۔ بیڈ پے بیٹھے وہ اسے دیکھے جا رہا تھا۔

رہا نہیں گیا۔ تو آگے بڑھ کےاسے اپنی بانہوں میں بھرا۔

وہ گہری نیند میں تھی۔ زرا سا کسمساٸی۔

سبحان نے اسے بیڈ پے لٹایا۔ اور اس پے کمفرٹر درست کر کے دیا۔

اپنے بستر پے اسے سوتا دیکھ اسے انجانا سا سکون محسوس ہوا۔

اور خود چینج کرکے ناٸیٹ بلب آن کرتا اپنی جگہ آکے لیٹ گیا۔

عجیب سے احساسات ہو رہے تھے۔

سبحان نے آگے بڑھ کے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ اسکا سر اپنے سینےپے رکھا۔

صلہ نے بھی نیند میں سبحان کو ہگ کیا۔

سبحان کا دل بہت زور سے دھڑکا۔

کیسے۔۔۔ تمہیں۔۔۔ آزاد کروں گا۔۔۔ صلہ۔۔۔۔؟؟

تم۔۔۔۔ ضروری ہوگٸ ہو ان سانسوں کے لیے۔۔۔۔!!

سبحان خودسے کہتا اسکے بالوں پے لب رکھ گیا۔

یہ احساس کے وہ پاس ہے اسے اندر تک سکون دے رہا تھا۔

اور کب وہ نیند کی وادیوں میں صلہ کے سنگ سیر کے لیے نکلا۔۔پتہ ہی نہ چلا۔

************************

سمیرا روم میں نہیں آٸی تھی۔ آج وہ دوسرے دوم۔میں تھی۔

کل زین نے نکاح کرنا تھا۔

سارے انتظامات ہو گۓ تھے۔

اسے ابھی بھی یہی تھا کہ شہریار پھر کوٸی پنگا نہ کھڑا کر دے۔ اس لیے اب وہ دیری نہیں کرنا چاہتا تھا۔

لیکن سمیرا کی لاتعلقی اسے اندر سے جلا رہی تنی۔

وہ تو ہمیشہ اس کے ناز نخرے اٹھانے والی تھی۔

کبھی کوٸی ناجاٸز ضد نہ کی تھی۔

خود بھی خوش رہتی اسے بھی خوش رکھتی۔

اور چاند سی بیٹی اللہ نے دے کے ان کی زندگی مکمل کر دی تھی۔

پھر کونسا خلا تھا۔۔۔۔۔؟؟ جسے پُر کرنے کے لیے وہ مونا سے شادی کرنے جا رہا تھا۔۔۔۔؟؟

خود سے سوال کرتا وہ اٹھ بیٹھا۔

میں ۔۔تو ۔۔۔ ثواب کی نیت سے۔۔۔۔۔؟؟

اپنے ضمیر کے سامنے وہ گڑبڑا گیا تھا۔

ثواب۔۔۔۔۔۔؟؟؟

جیسے کوٸی اندر ہی ہنسا ہو۔

کسے بے وقوف بنا رہے ہو۔۔۔۔۔زین۔۔۔؟؟

سمیرا جیسی تمہیں ۔۔۔ کہیں نہیں۔۔۔ ملےگی۔۔۔۔!!

اور اسکا دل۔دکھا کے۔۔۔ کیا تم۔۔۔ مونا۔۔۔ کے ساتھ خوش رہ سکو گے۔۔۔۔؟؟

ن۔۔۔ننن۔۔۔نہں۔۔۔۔شاید۔۔۔؟؟

لیکن۔۔۔ اب میں فیصلہ لے چکاہوں ۔۔۔ میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔۔۔۔

ورنہ مونا۔۔۔ مجھے۔۔۔ دھوکہ باز سمجھے گی۔۔۔!!

ایک اور دلیل دی۔

اور سمیرا۔۔۔۔۔؟؟ اسکاکیا۔۔۔۔؟؟ کیا وہ بے وفا نہیں سمجھے گی۔۔۔۔۔؟؟

ضمیر نے پھر سے لتاڑ دیا۔

زین نے سر ہاتھوں پے گر الیا۔

اوہ۔۔۔ خدایا۔۔۔۔!! کیا کروں ۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔؟؟؟

میں۔۔۔۔۔ نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔

پھر۔۔۔ یہ۔۔ بے سکونی ۔۔کیوں ہے۔۔۔۔۔؟؟

ٹینشن کی وجہ سے اس کے سر میں درد شروع ہو گیا۔

سر درد کی ٹیبلٹ لے رہا تھا۔ کہ سمیرا اندر داخل ہوٸی۔

آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ وہ رو کے آٸی ہے۔

کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ آپ ۔۔۔ میڈیسن ۔۔۔ کیوں لے رہے ہیں۔۔۔؟؟

سمیرا۔۔ فوراً اس کے پاس آٸی۔

زین حیرانی سے اسے دیکھے گیا۔

ناراضگی میں بھی پرواہ کرنا نہ چھوڑی اس نے۔

کچھ نہیں۔۔۔ بس سر میں درد تھا۔۔

سمیرا کوروم میں اپنے سامنے دیکھ زین کو سکون سا آگیا۔

بیڈکراٶن سے ٹیک لگا کے آنکھیں موند گیا۔

سمرا کے نرم ہاتھوں کو سر پے محسوس کیا تو دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔

وہ پڑھ کر اس پے پھونک رہی تھی۔

زین میمراٸز سا ہو گیا۔

بے اختیاری میں اس کے ہاتھ تھامے۔

تم۔۔۔ بہت۔۔۔ اچھی ہو۔۔۔۔سمیرا۔۔۔۔!!

لیکن۔۔۔ شاید ۔۔۔ میں ۔۔تمہارے جتنا اچھا نہیں۔۔۔

سر جھکا ہوا تھا۔

آپ۔۔۔ پریشان نہ ہوں۔۔۔

اب ایسا کچھ۔۔۔۔ نہیں ہوگا۔۔۔ جس سے آپ ہرٹ ہوں۔۔

میری ۔۔۔ بھاٸی سے بات ہوگٸ ہے۔۔۔۔!!

سمیرا آنسو ضبط کرتی سر جھکاۓ بولے جارہی تھی۔

وہ اب ۔۔۔ آپ کے راستے میں نہیں ۔۔۔۔ آٸیں گے۔۔۔۔!!

میں نے ا۔۔۔۔انہیں۔۔۔ واپس جانے کو کہہ دیا ہے۔۔۔!!

زین اس باہمت لڑکی کو دیکھتا حیران ہوتا رہ گیا۔

سمیر۔۔۔ا۔۔۔!! میں۔۔۔۔ کبھی۔۔ بھی۔۔۔ تم۔۔۔؟؟

آپ۔۔۔ آرام کریں۔۔۔۔۔!!

رات۔۔۔ کافی ہو گٸ۔۔ ہے۔۔۔

سمیرا نے زین کی بات کاٹی ۔ لاٸیٹ آف کرتی وہ اپنیجگہ جا کے لیٹ گٸ۔

جبکہ خاموش آنسو۔۔ اب زندگی بھر اسکا مقدر تھے۔

******************

بہت خوبصورت جگہ ہے۔۔۔۔!!

کیا ۔۔ ہم یہیں۔۔ رہیں گے اب۔۔۔۔؟؟

تابی نے اس خوبصورت وادی کو دیکھتے عمرکا ہاتھ تھامے بہت پیار سے پوچھا۔

ہاں عمر کی جان۔۔۔!! ہم اب یہیں رہیں گے۔ایک ساتھ ایک دوسرے کے سنگ ہمیشہ۔۔۔۔!

عمر اسکی طرف رخ کر کے اسے خود سے قریب کیا۔

مجھے۔۔۔ چھوڑ۔۔۔ تو۔۔۔ نہیں۔۔ دیں گے ناں۔۔۔؟؟

ڈرتے ہوۓ پوچھا۔

کبھی نہیں۔۔۔۔!! اب ہمیں ۔۔کوٸی جدا نہیں کر سکتا۔

عمر نے اسے مان بخشا۔

لیکن کالے بادلوں نے اچانک سے ڈیرہ جمایا۔ اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ بارش برسنے والی تھی۔

تابی خوش ہوگٸ۔

پلٹ کے عمر کو دیکھا۔

لیکن وہاں تو عمر تھا ہی نہیں۔۔۔۔

عمر۔۔۔۔عمر۔۔۔۔!! کہاں ہیں۔۔ آپ۔۔۔۔۔؟؟

وہ ادھر ادھر اسے ڈھونڈنے لگی۔

لیکن عمر کہیں نہ تھا۔

عمر۔۔۔۔!! وہ چلا رہی تھی۔

عمر ۔۔۔!! کہاں۔۔۔ ہیں۔۔۔آپ۔۔۔۔؟؟۔

عمر۔۔۔۔!!

بارش کا پہلا مینا برسا۔ تابی نے ہتھیلی پے اسے محسوس کیا۔ اور پھر موسلادھار بارش شروع ہوگی۔

وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی۔

لیکن بارش نے اسکے آنسو اپنے اندر چھپالیے تھے۔

وہ پوری بھیگ گٸ تھی۔

اس نے عمر کو تلاشا۔۔۔لیکن وہ نہ ملا اچانک بھاگتے بھاگتے وہ ایک کھاٸ میں جاگری۔

اک چینخ کے ساتھ اسکی آنکھ کھلی۔

کچھ پل اسے حواس بحال کرنے میں لگے۔۔

یا خدا۔۔۔۔۔ یہ خواب تھا۔۔۔۔۔؟؟

عمر۔۔۔۔ ۔۔!! کہاں ہو تم۔۔۔۔؟؟

کیوں۔۔۔ رابطہ توڑ کے چلے گۓ۔۔۔۔؟؟

ایک بندھن میں باندھ۔۔۔۔کے مجھے ادھورا کر گۓ۔

بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاۓ وہ خاموش آنسوٶں سے رو دی۔

رات کی تاریکی اسکی محبت کی گواہ تھی۔

*****************

صبح صلہ کی آنکھ کھلی تو خود کو سبحان کی بانہوں میں پایا۔ حیرانی سے اسے دیکھا۔۔

دل نے پھر سے ایک سو بیس کی رفتار پکڑی۔

میں۔۔۔۔ یہاں۔۔۔۔ بیڈ۔۔پے۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔؟؟

میں تو۔۔۔ صوفے۔۔۔پے۔۔۔۔؟؟ صلہ ذہن پے زور ڈالتے بڑبڑاٸی۔

یہ تو مجھے ہی تکیہ بنا کے سو رہا ہے۔

دھیرے سے سبحان کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانا چاہا۔

تو سبحان نے نے اسکی طرف کروٹ لے کے مزید بانہوں کا گھیرا تنگ کیا۔

اپنا منہ اسکی گرردن میں چھپایا۔ سبحان کے ہونٹ اسکی گردن سے مس ہوۓ۔ تو وہ لرز گٸ۔

دل نے سانس لینی ہی بند کردی۔۔

سبحان کی سانسوں کی گرماٸش سے اسکا پورا جسم لرز رہا تھا۔۔

وہ اسے خود سے دور بھی نہیں کر پا رہی تھی۔ساکن سی اپنی جگہ منجمد ہو گٸ تھی۔

دھیرے سے گردن موڑ کے اس سے دور ہونا چاہا۔

کمرمیں ہاتھ ڈال کے اسکی پشت سبحان نے اپنے سینے سے لگا لی۔

صلہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

فوراً سے اسکی بازو زور سے پیچھے ہٹاتی وہ جھٹ سے بیڈ سے نیچے اتری۔ اور لمبے سانس خارج کیے۔

سبحان کی آنکھ بھی کھل گٸ۔

اسے یوں اٹھتے دیکھ ایک دلفریب مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا۔

جو صلہ کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔

آپ۔۔۔۔۔؟؟

میں۔۔۔۔ یہاں۔۔۔کیسے آٸی۔۔۔؟؟

تیکھے انداز میں پوچھا۔

مجھے ۔۔۔کیا پتہ۔۔۔۔۔؟؟ بلکہ۔۔۔۔میں یہی۔۔۔ تم۔۔ سے پوچھنےوالا تھا۔

میرے بستر۔۔۔ پر تم۔۔۔ کیاکر رہی تھی۔۔۔۔؟؟

سبحان نے الٹا اسے آڑے ہاتھوں لیا۔

صلہ نےپلٹ کر صوفے کی جانب دیکھا۔

وہاں پےتو کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ تکیہ نہ کمفرٹر۔

آپ۔۔۔ مجھے۔۔۔ یہاں۔۔۔ بستر پر لاۓ۔۔۔۔!!

صلہ نےغصہ ضبط کرتے کہا۔

کوٸی۔۔ ثبوت۔۔۔۔۔؟؟

اٹھتے ہوۓ وہ لاپرواہی سے بولا۔

آپ۔۔۔۔۔ حد سے بڑھ رہے ہیں۔۔۔

صلہ اسکے مقابل کھڑی ہوتی تیوری چڑھا کے بولی۔

اچھا۔۔۔۔۔۔!! میری حدیں۔۔۔۔ اب تم۔۔۔ طے کرو گی۔۔۔؟؟

سبحان کو اسکا انداز سلگا گیا۔

آپ۔۔۔۔ بھول رہے ہیں۔۔۔۔!! ڈیل۔۔۔۔۔!!

یاد ہے۔۔۔۔۔!! سبحان کچھ نہیں بھولتا۔

ایک تو۔۔۔ میں نےتمہیں۔۔ بستر پے آنے پے کچھ کہانہیں۔

کہ چلو۔۔۔ کوٸی بات نہیں۔۔۔ تھکی ہوگی۔۔

رات۔۔۔۔!! نہیں۔۔ پتہ چلا ہوگا۔۔۔۔۔!!

اوپر سے ۔۔۔ تم۔۔۔مجھے۔۔ ہی۔۔۔ الزام دے رہی ہو۔۔۔۔؟؟

سبحان نے اسے پھر سے آڑے ہاتھوں لیا۔

آپ۔۔۔ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔۔!! صلہ روہانسی ہوٸی۔

چلو۔۔۔!! میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔تم۔۔ ثابت کر دو۔!

پاس پڑے پیکٹ سے سگریٹ نکال منہ میں رکھتے وہ صلہ کو اچھا خاصا زچ کر چکا تھا۔

آپ۔۔۔ ناں۔۔۔ !! سگریٹ سلگا کے دھواں چھوڑا۔

وہ جو کچھ بولنے والی تھی دھویں سے کھانسنےلگی۔

سبحان ایک ٹک اسکے سراپے کو دیکھے گیا۔

صلہ کو اسکی نظروں سے عجیب سا خوف آیا۔

پتہ نہیں لوگ۔۔ سگریٹ کیوں۔۔۔ پیتےہیں۔۔۔؟؟

اونچی آواز میں بولتی وہ باتھ روم میں گھسی۔

جبکہ سبحان نے مسکراتے ہوۓ سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا۔

صلہ دی گریٹ۔۔۔ اب ہر رات۔۔۔ میری بانہوں میں ہی ہو گی تم۔۔۔!!

خود سے کہتا موباٸیل اٹھا تا گیلری میں چلا گیا۔

*****************

بھابھی۔۔!! آپ کو کوٸی۔۔۔ غلط۔۔۔ فہمی ہوٸ ہوگی۔۔۔!!

ایسا۔۔۔۔ کچھ۔۔۔نہیں۔۔۔

کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔ تابی۔۔۔۔؟؟

سبحان نے خود فون کیا ہے۔۔۔ امی ۔۔۔سے بات کی ہے۔۔۔!!

اور ہمیں۔۔۔ انواٸیٹ کیا ہے۔۔

ہم۔۔ کچھ ہی دیر میں نکل رہےہیں۔۔۔

سوچا اپنے آنے کا تمہیں۔۔۔ فون کر کے بتا دوں۔

انوشے نے ڈیٹیل دی۔

اوکے۔۔۔۔!! بھابھی۔۔۔! الله حافظ

تابی نے دھڑکتے دل کے ساتھ فون بند کر دیا۔

بھاٸی۔۔۔۔!! ایسا کیسےکر سکتےہیں۔۔۔۔؟؟

بنا مجھے۔۔۔ بتاۓ۔۔۔؟؟ میری شادی فکس کردی۔۔۔؟؟

اور۔۔۔۔میں کیسے کر سکتی ہوں۔۔۔؟؟ شادی۔۔۔؟؟

اوہ۔خدایا۔۔۔۔؟؟ یہ سب۔۔۔ کیاہورہا ہے۔۔ میرے ساتھ۔۔۔۔؟؟

نہیں۔۔۔۔ بھاٸی۔۔۔ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔!

مجھے۔۔۔بھاٸی سے بات کرنی ہوگی۔

تابی۔۔ فوراً اٹھی اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ۔

جب سے عمراسے واپس گھر چھوڑ کے گیا تھا

اسکے بعد دونوں بہن بھاٸی میں بہت کم بات ہوتی تھی۔

تابی بلاضرورت کمرے سے باہر نہیں نکلتی تھی۔

اور سبحان بھی بس مطلب کی بات کرتا تھا۔

**************

مونا فیاض ولد فیاض احمد کیاآپ کو سعدی علی ولد علی رفیق سے نکاح قبول۔ہے۔۔۔۔؟؟

جی۔۔۔۔ قبول۔ہے۔۔۔!! دھڑکتے دل سے کہا۔

مولوی صاحب باہر آۓ۔

سعدی سے بات ہوٸی۔ دونوں مسکراۓ۔

اور مبارک کا شور اٹھا۔

اتنے میں وہاں زلفی پہنچا۔ سعدی اور مونا کو ایک ساتھ کھڑا دیکھ سلگ کر رہ گیا۔

زلفی کو دیکھ مونا پہلے گڑبڑاٸی۔۔لیکن بعد۔میں منہ بنا کے تکبر سے آنکھیں پھیرلیں۔

وہ سعدی کو جھوٹی کہانی سنا کے اپنی طرف کر چکی تھی۔

اور سعدی نے اسے پورا یقین دلایا تھا۔ اسکی حفاظت کا۔

زین کی آمد سونے پے سہاگہ ثابت ہوٸی۔

ان سب کو بلانے والا خود عمر تھا۔

یہ۔۔۔یہ۔۔۔ سب کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟

زین حیران ہوتا آگے بڑھا۔

سبھی نے انکی طرف دیکھا۔

زین تو قدم بھی نہیں اٹھا پارہا تھا۔

مونا نے نظریں جھکاٸیں۔

اتنا بڑا دھوکا۔۔۔۔۔؟؟ کیوں۔۔۔مونا۔۔۔۔؟؟

تمہارے لیے۔۔۔۔ میں۔۔۔ نےکیاکچھ نہیں کیا۔۔۔۔؟؟ اور تم۔۔۔؟؟ مجھےہی چیٹ کر گٸ۔۔۔۔؟؟

زین کو حقیقتاً دکھ ہوا۔

زین۔۔!! اس سب کی وجہ بھی آپ ہیں۔۔۔ !! مونا سکون سے بولی۔

جو آپ نے وفا شعار بیوی کا نہیں ہو سکا۔ کل کو کیا گارنٹی ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کے کسی تیسری سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔؟؟

مونا نے اسے آٸینہ دکھا یا۔

اسے ایسا لگا زلزلہ آگیا ہو۔

اتنی بڑی بات کتنےآرام سے کر گٸ تھی وہ۔

اچھا۔۔۔۔۔!! تُو بڑ ی وفادار اور پاکباز ہے۔۔۔۔؟؟

راتوں کی رنگینیاں میرے ساتھ۔۔۔۔اور شادی۔۔۔ کسی اور کے ساتھ۔۔۔؟؟زلفی کی غصے بھری آواز سناٸی دی۔

عمر اپنے دو دوستواور مولوی کے ساتھ یہ لمحے بھرپور طریقے سے انجواۓ کر رہا تھا۔

مونا نے پلٹ کر سعدی کو دیکھا۔ کہ وہ اسکے لیے اسٹینڈ لے گا۔

لیکن وہ تو مزے سے منہ سیے کھڑا تھا۔

بکوا۔۔۔س بند کرو اپنی۔۔۔!! تم جیسے عیاش پسند انسان کے میں منہ بھی لگنا نہیں چاہتی۔

وہ حیران تھی۔ یہ دونوں اچانک آکہاں سے گۓ۔۔؟؟

ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہمارے منہ کیوں لگے گی۔۔ تُو۔۔؟؟ زلفی نےگالی نکالی ۔ اور غصے سے آگے بڑھا۔ اور مونا کا گلا دبایا۔

یہ۔۔۔ کچھ ۔۔ زیادہ نہیں ہو گیا۔۔۔؟؟ عمرنے دھیرے سے مولوی کےکان میں کہا۔

ہونے دیں۔۔۔ تھوڑا زیادہ تماشا لگےتو مزا بھی زیادہ آۓ گا۔ تب تک پولیس بھی آجاۓ گی۔۔۔ باقی کا کام وہ سنبھال لے گی۔

ہممممم۔۔۔۔۔!!

چھوڑو۔۔ مجھے۔۔ جنگلی۔۔۔!! مونا نے اسے دور دھکیلا۔

میری شادی ہو چکی ہے۔۔۔!! اور یہ۔۔۔میرا شوہر ہے۔۔!!

اگر کسی نے بھی مجھے کچھ بھی کہا۔ تو میرا شوہر اسے جان سے مار ڈالے گا۔

ہاتھ اٹھاۓ وہ خود ہی سعدی کے بی ہاف پے دھمکی دینے لگی۔

ایسا۔۔۔ میں نے کب کہا۔۔۔۔؟؟

عمر حیران ہوا۔۔۔۔!!

سوچیں۔۔۔ کیا پتہ۔۔۔۔ محبت کی رومیں بہتے ہوۓ جانے انجانے میں کوٸی۔۔ عہد وپیماں کر گۓ ہوں۔۔۔۔

مولوی صاحب نے انجواۓ کرتے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے کہا۔

سعدی نے مڑ کر اسے گھوری سے نوازا۔

تیری بھی ایسی کی تیسی۔۔ تیرے شوہر کی بھی۔۔۔!

زلفی پھر آگے بڑھا۔

سعدی۔۔۔! سعدی۔۔۔!! یہ مجھے ۔۔۔۔کیا کچھ نہیں۔۔۔ کہہ رہا۔۔ اور تم۔۔۔ بس کھڑے دیکھے جا رہے ہو۔۔۔!!

مونا فوراً ڈر کر سعدی کے پیچھے چھپی۔

تبھی زین کی نظر سعدی پے پڑی۔ تو لمبا سانس خارج کیا۔

یک نہ شد دو شد۔

وہ سمجھ گیا۔ کہ یہ سب پلاننگ سے ہوا ہے۔

اور عمر بھی اب زین کو ہی دیکھ رہا تھا۔

زین نے نظریں پھیر لیں۔ اور وہاں سے جانےلگا۔

ارے۔۔۔ جیجا۔۔۔ جی۔۔۔!! اتنی جلدی کہاں چل دیے۔۔۔؟؟

ابھی تو پارٹی۔۔۔ شروع ہوٸی ہے۔۔!!

عمر نے پیچھے سے ہانک لگاٸی۔

تو ایک پل کو ہال میں خاموشی چھا گٸی

۔

مونا نے پتھراٸی نظروں سے سعدی کو دیکھا۔

وہ زین کو جیجا جی کیوں بول رہاتھا۔۔۔؟؟

*****************

وہ سبحان کے اس عجیب انداز سے گھبرا رہی تھی۔

باتھ لےکے نکلی تو اسے نظر انداز کرتی روم سے ہی باہر نکل گٸ۔

سبحان فون پے بزی تھا ورنہ ضرور کچھ نہ۔کچھ کہتا۔

سر جھٹ کروہ پھر سے فون پے بزی ہو گیا۔

ارے۔۔۔ تابی۔۔۔؟؟ یہاں۔۔ کیوں کھڑی۔۔ ہو؟؟۔ اور۔۔۔ تم۔۔۔ رو۔۔کیوں۔۔ رہی ہو۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔۔؟؟

صلہ نےاسے روم کے باہر کھڑا دیکھا تو اس کے اس چلی آٸی۔

آپ۔۔۔ جاٸیں۔۔ یہاں سے۔۔۔!! مجھے۔۔۔اپنے بھاٸی سےبات کرنی ہے۔

روکھے انداز میں کہتی وہ صلہ کو شرمندہ کر گٸ۔ صلہ خاموشی سے سیڑھیاں اتر گٸ۔

صغرا خالہ ناشتہ لگا رہی تھیں۔ صلہ انکی ہیلپ کرنےلگی۔

سحر بہت صبح ناشتہ کر لیتی تھی۔ صغرا خالہ خود اسے کروا کے میڈسن دے کےآتی تھیں۔

سحر کےبارے میں ہی دونوں بات کر رہ تھیں۔ کہ سبحان نیچے آتا دکھاٸی دیا۔

صلہ فوراً ایک ساٸیڈ پے ہو گی۔

خاموشی سے دونوں نے ناشتہ کیا۔

تابی کہاں ہے صضرا خالہ۔۔۔؟؟

بے شک نارضگی تھی۔ لیکن تھی تو بہن ہی۔

آخر پوچھ۔لیا۔

بھاٸی۔۔۔!! مجھے ۔۔۔آ پ سے۔۔۔ بات کرنی ہے۔۔۔!!

تابی نے اچانک اسے چونکایا۔ سبحان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

تابی نے ایک نظر صلہ کو دیکھا۔ اور اپنی بات کہنےکے لیے الفاظ کو ترتیب دیا۔

آپ نے۔۔۔ میری۔۔ شادی۔۔ فکس کردی ہے۔۔۔؟؟تابی کی بات پے صلہ نے بھی حیرت سے پہلے تابی پھر سبحان کو دیکھا۔

ہمممممممم۔۔۔!! اسی ہفتےکے آخر میں سادگی سے نکاح ہے۔!

سبحان نے سکون سے تابی پے بم پھوڑا۔

بھاٸی۔۔۔۔!! آپ ۔۔۔ ایسا ۔۔۔ کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ۔۔۔۔۔؟؟

تابی تڑپ ہی گٸ سبحان کی بات پے۔

تابی۔۔۔!! اس میں اتنا حیران ہونے والی کیابات ہے۔۔۔۔؟؟

اور شادی تو طے ہوگٸ تھی ناں۔۔۔۔!!

بھاٸی۔۔۔۔۔!! اور میری پڑھاٸی۔۔۔؟؟ اسکاکیا۔۔۔۔؟؟

وہ تم۔۔ شادی کے بعد مکمل کر لینا۔۔۔

اسفند سمجھدار اور بہت خیال رکھنے والاہے۔ ہر طرح سے تمہارا خیال رکھے گا۔۔

نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے وہ ٹیبل سے اٹھا۔

بھاٸی۔۔!! میں شادی۔۔ نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔ابھی۔۔۔!!

پلیز۔۔۔ روک دیں۔۔۔!! بہت بے بسی تھی لہجے میں۔ صلہ اسکے آنسو دیکھ پریشان ہو رہی تھی۔

تابی۔۔۔۔!! مجھے۔۔۔ نہ سنننے کی عادت نہیں۔۔۔۔

اور بات میں طے کر چکاہوں۔ ز بان دے چکا ہوں۔

پیچھے ہٹنےکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سرد اور روکھے۔لہجے میں کہتا وہ تابی کو اندر تک درد دے گیا۔

بھاٸی۔۔۔۔!! ,میں ۔۔۔ یہ شادی۔۔۔!!نہیں۔۔۔۔۔!

تابی۔۔۔!! سبحان غصے سے چلایا۔

تابی بری طرح سہم گٸ۔

پلیز ۔۔۔۔!!آپ۔۔۔ آرام سے بات۔۔۔!

صلہ۔۔۔!

stay out of this..

Its my faimly matter. And you are not my family member. Understand.

غصے سے دیکھتا وہ صلہ کو بھی سنا گیا۔

وہ خاموشی سے لب بھینچے اسکے الفاظ پے ہی غور کرتی رہ گٸ۔

اور چپ چاپ وہاں سے نکلتی چلی گٸ۔

جاٶ اپنے روم میں۔۔۔!! اور شادی کی تیاری کرو۔اور خود کو شادی کےلیے تیار بھی کرو۔

تابی کو سنجیدہ انداز میں کہتا وہ باہر نکل گیا۔

اور وہ روتی ہوٸی روم میں آگی۔

آنسو تھےکہ تھمنےکا نام نہیں لے رہے تھے۔

آج پہلی بار سبحان نےاس سے اونچی آواز میں بات کی تھی۔ وہ رو رہی تھی۔ اسکے دل کو بے انتہا تکلیف پہنچی تھی۔

اور دوسری طرف عمر کا کچھ پتہ نہیں تھا۔

وہ سوچ سوچ کے ہلکان ہوۓ جارہی تھی۔

کیسے ان حالات سے اکیلے نمٹے۔۔۔؟؟

💔
💔
💔
💔
💔
💔

بچپن میں جسے۔۔۔۔چاند سنا۔۔۔تھا۔۔۔۔

ہوجاۓ گا۔۔ چہر۔ہ۔۔۔۔ نہ یہ سوچا تھا۔۔۔۔

ویسے تو نظر آتےہیں

سب۔۔۔ اپنے ہیں لیکن۔۔۔

کوٸی نہیں ہے اپنا۔۔۔

ہمیں معلوم نہیں تھا۔۔۔۔۔

ہم روٸیں گے اتنا۔۔۔ ہمیں ۔۔ معلوم نہیں تھا۔۔۔۔

کھو جاۓ گا چہرہ ہمیں معلوم نہیں تھا۔۔۔۔

**************

سعدی۔۔۔۔!! یہ۔۔ یہ کیا کہہ رہےہو تم؟؟؟

مونا کا دل زور سے دھڑکا۔

آپ نے مجھ سے کچھ کہا۔۔۔۔۔۔۔؟؟

عمر نے حیرانی سے مونا سے پوچھا۔

سعدی۔۔۔۔۔!! یہ سب۔۔ کیا ہے۔۔۔؟؟

دلہن بنی وہ اس وقت حیرت کانمونہ لگ رہی تھی۔

سیر کو سوا سیر۔۔۔۔! ایک ادا سے وہ بولا۔۔

وہ کیاکہتے ہیں۔۔۔ ہمارے پاکستان میں۔۔۔۔؟؟

سو سنار کی ایک لوہار کی۔۔۔۔!!

اب کی بار عمر کےلہجے میں سختی اور نفرت تھی۔

اور آپ ۔۔۔ !!کیسا لگا۔۔۔ سرپراٸز۔۔۔۔؟؟ عمرنے زین کو مخاطب کیا۔

تم۔۔۔۔ یہاں۔۔۔؟؟ زین سے بات نہ ہو پا رہی تھی۔

زور کا جھٹکالگا۔۔۔؟؟

ابھی تو ایک جھٹکا اور بھی لگے گا آپ کو۔۔!!

تم۔۔۔۔ تم۔۔۔!! زین سے۔۔۔ کیا رشتہ ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟

مونا نے عمر کا رخ اپنی طرف کیا۔

میری بہن کے شوہر ہیں یہ۔۔۔!!

اسی کی زبان میں جواب دیا۔

ایک نظر زین کو دیکھا۔ اور دوسری نظر عمر کو۔

آنکھوں میں آنسوٶں نے ڈیرہ جمایا۔

اتنا بڑا دھوکا۔۔۔۔۔؟؟ کیوں۔۔۔؟؟ سعدی۔۔۔؟؟

مونا کا دل ٹوٹا تھا۔ آج۔۔۔!!

دھوکہ۔۔۔۔۔؟؟ تمہارے منہ سے یہ الفاظ اچھے نہیں لگتے۔۔۔ یو۔۔۔۔؟؟ واٹ ایور یو آر۔۔۔!!

عمر کہتےکہتے رکا۔ لیکن پھر سر جھٹکا۔

بیوی ہوں میں تمہاری۔۔!! دانت پیستے آگے بڑھتے عمر کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کیا۔

جب۔۔۔ مولوی نقلی۔۔۔۔۔ نکاح نقلی۔۔۔۔۔۔۔ نام نقلی ۔۔۔۔ تو بیوی اصلی کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔۔؟؟

شہریار کی سمیرا کے ساتھ آمد نے ان سب پے پانی پھیر دیا۔

کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔مطلب۔۔۔؟؟

مطلب یہ۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔میں۔۔۔ مولوی نہیں۔۔۔ اے ڈی۔۔۔ means

ارسل ڈیٹکٹیو۔ ۔۔۔!!

اے ڈی نےاپنی داڑھی اور مونچھیں اتاریں۔

تم۔۔۔۔ تم۔۔سب نے مل کے۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ دھوکہ دیا۔۔ ہے۔۔۔!! مونا کو خود کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔

زلفی نے پا نسا پلٹتے دیکھا تو وہاں سے رفو چکر ہونا چاہا۔ لیکن اے ڈی نے اسے دبوچ لیا۔

اور رکھ کے دیں دو۔۔

تم اور تمہاری یہ۔۔۔ پارٹنر۔۔۔۔!! بہت عرصے سے تلاش تھی۔۔۔ اب تو پکے ثبوتوں سے ہاتھ آۓ ہو۔۔۔۔!! اب نہیں بچ سکتے سزا سے۔

بس تھوڑی دیر اور پولیس آتی ہوگی۔۔۔ پھر تمہاری کہانی کا دی اینڈ۔

اے ڈی نے اسے مارتے ہوۓ بہت جوش سے کہا۔

اتنی بھی جلدی کیا ہے۔۔۔۔؟؟ مسٹر اے ڈی۔۔۔!!

مونا نے پسٹل نکال کے اسکا رخ ا ڈی کی جانب کیا۔۔

وہاں موجود سبھی چوکنا ہوگۓ۔

اور تم۔۔۔ مسٹر۔۔۔ سعدی۔۔۔!! بہت۔۔۔ بہت غلط کیا

تم نے۔۔۔۔۔میرے ساتھ۔۔۔۔!!

پہلی بار۔۔۔۔ میں نےکسی کو چاہا۔۔۔

اور اس نے مجھے چیٹ کر دیا۔۔۔۔!! کیوں۔۔۔؟؟

مجھے محبت کبھی راس نہ آٸی۔۔۔!! وہ رو رہی تھی۔

مونا۔۔۔۔!! گن نیچے کرو۔۔۔!! اور خود کوقانون کے حوالےکر دو۔

شہریار نے اسے سمجھانا چاہا۔

ہرگز نہیں۔۔۔۔!! ان سب کے ماسٹر ماٸنڈ تم ہو ناں۔۔۔۔؟؟

اب گن کا رخ شہریار کی جانب کیا۔

عمر تڑپا۔ اور آگے بڑھا۔

خبر دار جو بیچ ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو۔۔۔ سب کی جان لے لوں گی۔

مونا نے وارننگ دی۔

مونا۔۔۔!! گن نیچے کرو۔عمر نے اسے دھیمے لہجےمیں کہا۔

گیم کھیلی ناں۔۔۔ تم نے میرے ساتھ۔۔؟

چلو۔۔ ایک آفر دیتی ہوں۔۔

تم چاہتے ہو ناں۔۔۔ کہ تمہارا بھاٸی۔۔ بچ جاۓ۔۔۔

تو سارے ثبوت میرے حوالےکردو۔

مونا نے سوچ سمجھ کے عمر سے ڈیمانڈ کی۔

ہرگز نہیں۔۔۔۔!!

تم مارنا چاہتی ہو ناں۔۔۔ مجھے۔۔۔ تو ٹھیک ہے شوٹ می۔۔۔!!

شہریار نے بیچ میں ٹوکا۔ اور آگے بڑھا۔

اتنے میں گولی چلنے کی آواز آٸی۔

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

بڑے گیٹ سے انٹر ہوتے وہ اندر کی جانب بڑھے۔

جہاں۔۔۔ اک بہت بڑا سرپراٸز صلہ کے روپ میں ان کا انتظار کر رہا تھا۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم کیسی ہیں آپ۔۔ خالہ؟؟

انوشے نے صغرا خالہ سےملتےکہا۔

وہ بہت خوش دلی سےملیں۔

تابی کہاں ہے۔۔۔؟؟ نظر نہیں آرہی۔۔۔۔؟؟

انوشے نے بیٹھتے کہا۔

انوشے اور رابیہ بیگم تابی کی شادی اٹینڈ کرنے آٸیں تھیں۔

وقت تھوڑا تھا۔ اور انہوں نے شادی کی تیاری بھی کرنی تھی اس لیے پہلےآگٸیں۔

جبکہ بچوں کو انوشے نے اپنے میکے چھوڑا تھا۔ بچوں نے شادی والے دن آنا تھا۔

بیٹا۔۔۔ وہ اپنے روم میں ۔۔۔ ہے۔۔!!

میں بلاکےلاتی ہوں۔

صغرا خالہ کے جاتےہی صلہ ہال میں آٸی۔وہ نہیں جانتی تھی کہ آنے والےکون ہیں۔۔۔۔؟؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم ……۔۔۔۔ اک شاک لگا تھا صلہ کو۔

وہیں انوشے اور رابیہ بیگم بھی حیران تھیں۔۔

صلہ۔۔۔۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ یہاں۔۔۔۔؟؟ انوشے بمشکل۔بول پاٸی

۔

صلہ آٸیں باٸیں شاٸیں کرنے لگی۔ انوشے اس کے قریب آٸی۔

تم۔۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔؟؟ تیکھے انداز میں پوچھا۔

وہ۔۔۔۔وہ۔۔ میں۔۔۔۔!!

صلہ سے بات نہ بان پارہی تھی۔

سوچا ہی نہ تھا۔۔۔ کبھی ایسا بھی ہوسکتاہے۔۔۔!

اَلسَلامُ عَلَيْكُم خالہ ۔آنی۔۔۔!! کیسی ہیں آپ۔۔۔۔؟؟

تابی کی بروقت آمد نےصلہ کو کچھ دیر کے لیے بچا لیا صلہ نے فوراً وہاں سے کھسکنا چاہا۔

لیکن دروازے سے سبحان کو انٹر ہوتے دیکھ وہیں ٹھٹھک کےرک گٸ۔

مجال تھا کہ چہرے ہےکوٸی شرمندگی ہو۔۔۔ یا کوٸی ٹینشن۔۔۔۔؟؟

جبکہ ٹینشن کے مارے صلہ کی جان نکلی ہوٸی تھی۔۔

رابیہ بیگم بہت پیار سے تابی سے ملیں۔

سبحان نےبھی آگے ہو کے دعاٸیں سمیٹیں۔

بیٹا۔۔۔۔!! یہ ۔۔۔ صلہ یہاں کیا کررہی ہے۔۔۔؟؟

رابیہ بیگم نے ڈاٸریکٹ سبحان سے پوچھا۔

سبحان نےپلٹ کر ایک نظر صلہ کو دیکھا۔

اور رابی آنٹی کی طرف مڑا۔

بیوی ہے میری۔۔۔!!

الفاظ تھےکہ گیا ایٹم بم۔۔۔۔۔؟؟

رابیہ آنٹی کا منہ کھلا رہ گیا۔

کیا۔۔۔ کیا۔۔۔ کہہ رہےہو۔۔۔؟؟

انہیں یقین نہ آیا۔۔

یہ سچ ہے آنی۔۔۔! ہم۔۔ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتےہیں ۔۔۔ اس لیے۔۔ شادی کر لی۔

سبحان نے ٹہر ٹہر کر کہا۔

رابیہ بیگم صلہ کی جانب روتی ہوٸی آنکھو ں سے بڑھیں۔

صلہ نے ایک نظر انہیں دیکھا۔ اور نظریں جھکا لیں۔

رابیہ بیگم نے زور سے ایک تھپڑ صلہ کے گال پے دے مارا۔

سبھی نے حیران ہوتے ان کی طرف دیکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *