Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Teri justujoo (Episode 09)

Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan

ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے۔۔۔ صدیوں کا سفر

زندگی تیز۔۔۔۔ بہت تیز ۔۔۔چلی ہو جیسے۔۔۔۔۔۔!!!

💕
💕
💕
💕
💕

اور اس ایک لمحے میں اس نے فیصلہ لیا تھا۔

تابی کے ساتھ اپنے رشتے کو نبھانے کا۔

وہ تابی کو یوں سزا نہیں دے سکتا تھا۔

اس نے غلطی کی تھی۔ جلد بازی میں ہی سہی۔۔۔ اس نے اب تابی کواپنی زندگی میں شامل کرلیا تھا۔

اور وہ اب۔۔۔ اسے یوں مزید تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔

جبکہ وہ اپنے اس جذبے سے بھی واقف ہو گیا تھا کہ۔۔ تعبیر اس کے لیے کیا۔۔۔ ہے۔۔۔۔!!

وہ اس سے دستبردار نہیں ہو سکتا تھا۔

دل سے فیصلہ لے کے وہ اب مطمیٸن تھا۔

پر اپنے فیصلے سے متعلق وہ ابھی تابی سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔

اسے اپنے گھر والوں کا بتانا تھا پہلے۔۔۔۔۔

سب کچھ۔۔۔۔۔۔!!

وہ ابھی بھی ہچکیوں سے روۓ جا رہی تھی۔ عمر نے اسے اپنے سامنے کرنا چاہا۔ لیکن وہ اور زیادہ اس کے سینے میں چھپنے لگی تھی۔

تابی۔۔۔۔!! ادھر دیکھو۔۔۔۔! میری طرف۔۔۔۔؟؟

عمر نے اسے دھیرے سے پکارا۔

لیکن وہ سن کہاں رہی تھی۔ وہ توآج سارے آنسو بہانے کے در پے تھی۔

اتنے میں عمر کے موباٸیل پے کال آٸی۔

اس نے ایک ہاتھ سے تابی کو اپنی بانہوں میں لیے رکھا۔ اور دوسرے ہاتھ سے موباٸیل کان سے لگایا ۔

عمر۔۔۔!! کہاں ہو۔۔۔۔؟؟

جہاں بھی ہو جلدی سے بھابھی کو گھر چھوڑ کے آٶ۔

انسپکٹر بلال نے بہت سنبھل کے بات کی۔

عمر نے ایک نظر اپنے ساتھ لگی تابی کو دیکھا۔

عمر۔۔۔! مسٹر سبحان اور اس کے آدمیوں نے یہاں آکر بہت شور شرابہ کیا ہے۔ وہ اپنی بہن کے لیے بہت پریشان ہے۔۔۔

اور۔۔۔۔۔ سمیر۔۔۔ اور۔۔۔ شمس سے ملنے کے لیے زور دے رہا ہے۔۔۔۔

بتاٶ ۔۔۔مجھے۔۔۔۔!! کب تک روک پاٶں گا اسے۔۔۔۔۔۔؟؟

اسکی پہنچ کافی اوپر تک ہے۔۔۔۔ وہ آرڈرز لے آیا ۔۔۔ تو۔۔۔

مجھے مجبوراً ۔۔۔ اسے سمیر اور شمس سے ملوانا پڑگا۔۔۔۔

اور ۔۔۔۔ تمہارے نکاح کا راز۔۔۔۔ وہ دونوں سمیر اور شمس جان گۓ ہیں۔

اور سبحان کو ان سے ملا۔تو۔۔۔ جانت ہو ناں۔۔۔؟؟

بلال نے اسے کافی لمبا لیکچر دیا۔

کیا بتایا انہیں۔۔۔۔۔۔؟؟

عمر نے لمبا سانس خارج کرتے پوچھا۔

یہی ۔۔کہا ہے۔۔۔۔ کہ ہمیں ۔۔۔ نہیں۔۔۔ ملی۔۔۔ انکی بہن۔۔۔۔!!

لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں۔۔۔۔

ابھی بھی وہ باہر ہی ہے۔۔۔!!

بلال نے دھیمے لہجے میں کہا۔ تو عمرنے فون بند کر دیا۔

اور تابی کی طرف متوجہ ہوا۔

تابی۔۔۔۔۔۔!!اس نے پھر اسے پکارا۔

تو منہ نیچےکیے پیچھے ہٹی۔

عمر نے اسکے آنسو اس کےگالوں سے بہت نرمی سے صاف کیے۔ تابی نے نظریں نہ اٹھاٸیں۔

عمر زیرِلب مسکرایا۔

قریب پڑی اپنی جیکٹ اٹھاٸی ۔ اور تابی کوپہنانےلگا ۔

تابی نے حیرت سے اسے دیکھا۔

آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا ۔

تابی نے نروٹھے پن سے کہا ۔

جیکٹ پہنا کے اسکی طرف سے مطمیٸن ہوتا۔ اپنا والٹ اور گاڑی کی کیز اٹھاتا وہ تابی کا ہاتھ تھامے باہر آیا۔

آپ مجھے اگنور کر رہے ہیں۔۔۔۔

تابی کا لہجہ پھرسے نم ہوا۔

نہیں۔۔۔۔۔!! بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔

ابھی گھر جا رہے ہیں۔۔۔ !! وہ زیادہ ضروری ہے۔

اور ۔۔۔ تمہاری ساری باتوں کا جواب وقت آنےپے دے دوں گا۔

گاڑی میں بیٹھ کے گاڑی اس نے خان ولا کی جانب موڑ دی۔

آپ ۔۔۔۔پھر سے ۔۔۔ غلط۔۔۔۔۔۔!!

بولتے بولتےوہ رکی ۔

تابی اسکی ان باتوں سےالجھن کا شکا ر تھی۔

اس نے تابی کی ایک بات کا جواب بھی تو نہ دیا تھا۔

سارا راستہ خاموشی میں کٹا۔

عمر اسکی سچویشن سمجھ سکتا تھا۔۔

لیکن ابھی خاموش تھا۔ وہ خود کو پاور فل کر کے ہی سبحان کا سامنا کر سکتا تھا۔

اور اس سب میں اسے اپنوں کا ساتھ چاہیے تھا۔ان کا اعتماد چاہیے تھا۔

خان ولا پہنچ کے اس نےگاڑی گیٹ کے اندر کی۔

اور گہرا سانس خارج کیا۔

آٶ۔ ۔۔۔!!

تابی سے کہتا وہ خود گاڑی سے نیچے اترا

تابی کا دل بہت زوروں سے دھڑک رہا تھا۔

عمر نے تابی کا ہاتھ پھر سے تھاما۔

تابی نے اسکی طرف دیکھا۔ جبکہ عمر نے سامنے۔

اور تابی کو لیے اندر کیجانب بڑھا۔۔

اندر آتے سامنے ہی صلہ پے نظر پڑی۔ ۔

تابی کو دیکھ وہ بہت خوش ہوٸی۔ لیکن ساتھ میں عمر کو دیکھ وہ ٹھٹھکی۔

عمر نے تابی کی جانب دیکھا۔

تابی۔۔۔!! روم میں جاٶ۔

نرم لہجےمیں کہا۔

تابی نے ایک نظر صلہ پے ڈالی۔ اور وہاں سے اپنے روم میں چلی گٸ۔

صغرا خالہ نے تابی کو آتا دیکھ شکر ادا کرتے سبحان کو فون کرنے چلی گٸیں۔

کیا بات ہو آپ کی مسز صلہ سبحان۔۔۔؟؟

پیسہ انسان کوکافی بدل دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!!

طنز سے بھرپور تھا عمر کا لہجہ۔

عمر۔۔۔۔!! اپنی لمیٹس میں رہو۔ بھولومت ۔۔۔ !

اس وقت تم میرے ہی گھر میں کھڑے مجھ سے بات کر رہے ہو۔

صلہ کو عمر کا انداز ذرا نہ بھایا۔

ہممممم۔۔۔۔ آپ کا گھر۔۔۔۔۔۔!! زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی ہو گی نا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟

کیونکہ ۔۔۔ امیر لڑکوں کو پھانسنا۔۔۔۔ تم جیسی مڈل کلاس کی لڑکیوں کو خوب آتا ہے۔

عمر نے بھی لحاظ نہ کیا۔

عمر۔۔۔۔!! اب تم حد سے بڑھ رہے ہو۔۔۔۔۔!! صلہ کی آنکھیں نم ہوٸیں۔

حدیں۔۔۔۔ تو تم نے توڑی ہیں ساری۔۔۔۔۔!!

کسی کے جذبات سے کھیل کے۔۔۔ اسے روندھ دینا۔۔۔۔

مشغلہ ہے ناں تمہارا۔۔۔۔؟؟؟

عمر نے دانت پیستے کہا۔

ہماری ۔۔۔۔ صرف ۔۔۔ منگنی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔ بس۔۔۔!!

سبحان میرے شوہر ہیں۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔۔!!

صلہ کی زبان لڑکھڑاٸی۔

اور اس بات کو جتنی جلدی تم سمجھ لو۔۔۔۔ اتنا اچھا ہے۔۔۔۔۔!! انگلی اٹھاتے وارن کیا۔

لیکن لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر قابو نہ پا سکی۔

محبت۔۔۔۔۔۔؟؟؟

عمرنفی میں سر ہلاتا طنزیہ ہنسا۔

کاش ۔۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔ پتہ ہوتا۔۔۔۔۔ محبت کیا ہوتی ہے۔۔۔۔۔؟؟

ایک ریکوسٹ ہے۔۔۔۔۔مسز صلہ سبحان!!

منگنی کے رشتے میں تو آپ وفا نہ کر سکیں۔ کیونکہ وہ۔۔۔۔ آپ کی نظر میں پاٸیدار نہیں۔ ۔۔

لیکن ۔۔۔ نکاح کا رشتہ ۔۔۔۔ بہت مقدس اور پاٸیدار ہوتا ہے ۔ اسکی لاج رکھنا۔… یہ نہ ہو۔۔۔۔۔۔ کل۔کو کوٸی اور امیر دیکھا۔ اور اسکے لیے۔۔۔۔۔۔۔!!

شٹ اپ عمر۔۔۔۔۔!! اپنی زبان کو لگام دو۔۔ ورنہ۔۔۔۔۔!!

اب کی بار صلہ اپنے آنسوٶ ں کو نہ روک پاٸی۔

ضبط کے باوجوو وہ بھڑک اٹھی۔

سچ یقیناً کڑوا ہوتا ہے۔۔۔۔۔!!

پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے وہ پرسکون سا صلہ کو بے سکون کیے جا رہا تھا۔

کونسا سچ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟

سبحان کی اچانک آمد سے وہ دونوں ہی چونک گۓ۔

سبحان سخت تیور لیے آگے بڑھا۔

ویلکم ویلکم۔۔۔۔۔ ٹو یور ہوم ۔۔۔ !!!

مسٹر۔۔۔ سبحان۔۔۔۔۔!!

دونوں ہاتھ کھول کے ویلکم کرتا وہ سبحان کو تپا گیا۔

تم۔۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔اس وقت ۔۔۔ یہاں کیا کرنے آۓ ہو۔۔۔۔۔؟؟

سبحان کے سوال پے عمر پھر سے زیرِ لب مسکرایا۔

صلہ فوراً سبحان کی طرف بڑھی۔

تابی۔۔۔۔۔اسی کے ساتھ آٸی ہے۔۔۔۔۔۔!!

دھیرے سے کہتی وہ سبحان کے چودہ طبق روشن کر گٸ۔

کیا۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔مطلب ۔۔۔اس بات کا۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ جو صغرا خالہ کے فون کرنےپر آدھے گھنٹے کا راستہ پندرہ منٹ میں طےکر کے آیا تھا۔ بہن کی خاطر۔۔۔ !! یہ سن اسے شاک ہی لگا۔

صلہ خاموشی سے ساٸیڈ پے ہو گٸ۔

تابی۔۔۔ تمہارے ساتھ۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔۔؟؟

سیدھا عمر کے سامنے کھڑا کڑے تیور سےوہ سوال کر رہا تھا۔

مسٹر سبحان۔۔۔۔!! جیسے آپ نے دشمنی۔۔۔۔ اپ گریڈ کی ہے ناں۔۔۔۔۔۔۔!! ہاتھ سے نیچے سے اوپر کی طرف اشارہ کیا۔

ویسے ہی سیکیورٹی بھی۔۔۔اپ گریڈ کرنی چاہیے آپ کو۔۔۔۔۔!!

عمر کی بات سبحان کو کچھ پل کے لیے چپ ہی کرا گٸ۔

میری بات کاجواب دو عمر۔۔۔۔!! تم اس وقت یہاں کیا کرنے آۓ ہو۔۔۔۔۔؟؟

سبحان کی سوٸی ابھی بھی وہیں اٹکی تھی۔

آپ کو کیا لگتا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟ کیوں ہوں میں یہاں۔۔۔۔؟؟

اب کی بار عمر نے اسی سے سوال کیا۔

سبحان نے پلٹ کر ایک نظر صلہ پے ڈالی۔ اور عمر کی جانب غصے سے دیکھا۔

عمر نفی میں سرہلاتا سبحان کی خاموشی کا مطلب سمجھ گیا۔

آپ کو لگتا ہے۔۔۔۔میں۔۔۔۔آپ کی محبوب بیوی سے ملاقات کرنےآیا ہوں۔۔۔۔۔؟؟

قریب ہو کے اب کی بار عمر بھی دانت چبا کر بولا۔

عمر۔۔۔۔۔۔!! جہاں سبحان کا ہاتھ اٹھا۔ وہیں صلہ کا دل زوروں سے دھڑکا۔

نہیں ۔۔بھاٸی۔۔۔۔۔!!

لیکن تابی کی آواز پے سبحان کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔

تابی آنسو صاف کرتی نیچے آٸی۔

آتے ہی وہ سبحان اور عمر کےبیچ میں کھڑی ہوٸی۔

نہیں۔۔۔ بھاٸی۔۔۔۔!! عمر کی۔۔۔ کوٸی۔۔۔ غلطی نہیں۔۔۔!!

انہوں نے مجھے بچایا۔۔۔۔۔۔اور صحیح سلامت گھر۔۔۔ لےکے آٸے۔

بمشکل آنسو ضبط کرتے وہ سبحان کے آگے کھڑی بولی۔

سبحان اسے یوں اپنےسامنے عمر کی ساٸیڈلیتے دیکھ دنگ رہ گیا۔

رہنے دو تابی۔۔۔۔۔۔!! یہ نہیں سمجھیں گے۔۔۔۔۔!!

لیکن ایک بات یاد رکھیے گا مسٹر سبحان۔۔۔!!

عزتوں کے محافظ۔۔۔۔ عزتوں کے لٹیرےنہیں ہوا کرتے۔۔۔۔

بہت گہری بات کہتے وہ وہاں رکا نہیں۔ بلکہ نکلتا چلاگیا۔ اور گھر کی دہلیز پار گیا۔

تابی خاموش آنسو بہاتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔

سبحان جو تھوڑی دیر پہلے بہن کے لیے پاگل ہوا ہوا تھا۔ اب بالکل خاموش ہو گیا تھا۔

اسکی اپنی بہن نےہی اسے چپ لگا دی تھی۔

وہ جس نے آج تک سبحان کے سامنے نظر نہیں اٹھاٸی تھی۔ ۔۔

آج وہ عمر کے حق کے لیے کھڑی ہوٸی تھی۔

سبحان کے دل کو بہت سخت کھٹکا لگ رہا تھا۔

کچھ۔۔۔ تھا جو۔۔۔ اسے چبھ رہا تھا۔

وہ وہیں صوفے پے ڈھے سا گیا۔

اسے تابی کا بدلہ روپ نظر آگیا تھا۔

لیکن وجہ۔۔۔۔ سمجھ نہیں آٸی تھی۔

سبحان۔۔۔۔۔۔!!

صلہ نے ساری ہمت یکجا کرتے سبحان کو پکارا۔

سبحان نے تیکھی نظر سےاسے دیکھا۔

آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔ تابی۔۔۔۔ صحیح سلامت۔۔۔۔۔۔!!

سبحان ایک دم غصے سے کھڑا ہوا۔

کیاکہہ رہا تھا وہ تم سے۔۔۔۔۔؟؟؟

کس سچ کی بات کر رہا تھا وہ۔۔۔۔۔؟؟

جارحانہ۔انداز میں وہ صلہ کی طرف بڑھا۔

صلہ انہی قدموں پے پیچھے ہوٸی۔۔۔

ک۔۔۔کچھ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ !!

صلہ چاہ کبھی سبحان سے نہ بول پاٸی۔

ایک بات۔۔۔ میری ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔۔۔!!

بازو سے پکڑ کر اپنی گرفت میں لیا۔

صلہ نے بازو چھڑانا چاہی۔ لیکن شیر کی کچھار سے نکلنا آسان کہاں تھا۔

مجھے۔۔۔ دھوکا ۔۔۔ دینے کے بارے میں سوچنا بھی مت۔۔۔۔!!

ورنہ ۔۔۔وہ کروں گا۔۔۔۔ جہاں تک تمہاری سوچ بھی نہیں جاۓ گی۔

جھٹکے سے بازو کو چھوڑتا وہ اندر کی جانب بڑھ گیا۔

صلہ اسے جاتا دیکھتی رہ گٸ۔

لیکن۔۔۔ نجانے کیوں۔۔۔؟؟ عمر کی کسی بات کا دل پے اثر نہیں ہوا۔

لیکن سبحان کی ہر بات اس کے دل پے لگتی تھی۔

ابھی بھی لفظوں کے جو نشتر وہ چبھو کے گیا تھا۔ صلہ تڑپ ہی تو گٸ تھی۔

******

انوشے بیٹا۔۔۔!! شہریار کا فون آیا تھا؟؟

کیا کہتا ہے۔۔۔؟؟ کب ہے واپسی۔۔۔۔؟؟

انوشے جو بچوں کو ہوم ورک کروا رہی تھی۔ رابیہ بیگم کی بات پے چونکی۔

جی ۔۔۔۔جی۔۔ امی۔۔۔۔ آیا تھا۔

لیکن۔۔۔۔ بہت ۔۔۔کم بات ہوٸی۔۔۔۔ دراصل۔۔۔ وہ کام میں بزی تھے ناں۔۔۔

تو کہہ رہےتھے فری ہوتے ہی بات کریں گے۔ انوشے نے نظریں چراتے بات بناٸی۔

اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔!! کافی دن ہوگۓ۔۔۔۔۔ سمیرا کی بھی کوٸی خیر خیریت نہیں آٸی۔ ورنہ خود ہی۔۔۔ کال کر لیتی ہوتی تھی۔۔۔۔

رابیہ بیگم۔کو اب بیٹی کی یاد آنے لگی۔

ہممممم۔!! علیزے نے نیانیا اسکول جانا شروع کیا ہے ناں۔۔۔۔!

تو بزی ہوگی۔۔۔۔وہ بھی۔

سرسری سے انداز میں کہا ۔

ہاں اسکو تو چھوٹی سی گڑیا ہی مل گٸ ہے۔۔۔۔۔

رابیہ بیگم پر سکون سی مسکراٸیں۔

شکر اللہ کا۔۔۔۔!! اس ذات بادی تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نواز دیا میری بچی کو۔۔۔۔!!

ورنہ کنتے سالوں سے۔۔۔ ترس رہی تھی۔۔۔!!

رابیہ بیگم۔کو گذرے لمحات یاد آۓ۔ تو تھوی رنجیدہ سی ہو گٸیں۔

جی۔۔ جی ۔۔۔ صحیح کہہ رہی ہیں۔۔۔۔!! اللہ ہماری سمیرا کو زندگیکی کی تم خوشیوں سے نوازے۔ آمین۔۔

انوشے نے دل سے دعا کی۔

بس ۔۔۔ اب ایک فرض باقی رہ گیا ہے۔۔۔۔۔عمر کا۔۔۔۔!!

اللہ کرے تو اس بار وہ عمر آۓ ۔۔۔ تو اس سے بات کر کے اس کے فرض سے بھی سبکدوش ہو جاٶں۔

ہممم۔۔۔۔۔۔ ۔۔ممم۔ یہ تو اچھی بات ہو گٸ۔۔۔ گھر میں رونق ہو جاۓ گی۔

انوشے خوشی سے بولی۔

مما۔۔۔۔!! عمر چاچو کی شادی۔۔۔ پے تابی۔آنی بھی آٸیں گی ناں۔۔۔۔۔۔؟؟

آیان جو کام کرتےہوۓ باتیں بھی سن رہا تھا۔۔۔۔ بیچ میں بولا۔

سب آٸیں گے بیٹا۔۔۔۔۔!! جب شادی بیاہ جیسی تقریبات ہوتی ہیں ۔۔تو سب آتے ہیں۔

انوشے نے پیار سے کہا۔

اور تابی آنی کی شادی پے بھی ہم جاٸیں گے ناں۔۔۔۔؟؟

ثانی نے بھی باتوں میں حصہ لیا۔

انوشے ایک دم اداس ہو گٸ۔

ہاں بیٹا۔۔۔۔ ضرور جاٸیں گے۔۔۔۔!!

چلو۔۔۔۔! جلدی سے ہوم ورک مکمل کرو۔۔۔۔

پھر آٸسکریم کھانے چلیں گے۔

انوشے نے ان کا دھیان بٹایا۔

جبکہ تابی کے ذکر پرایک بارپھر سے رابیہ بیگم رنجیدہ سی ہو گٸیں۔

***********

جہازکی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاتے عمر نے ونڈو سے باہر دیکھا۔

وہ اس شہر کوہمیشہ کے لیے خیرآباد کہہ کے جا رہا تھا۔

ہاں ۔۔۔اب اسے لوٹنا تھا۔۔۔

تابی کا بن کے۔۔۔۔

اسے اپنا بنانے۔۔۔

اسے عزت اور رتبے کے ساتھ اپنے ساتھ رخصت کرنے۔۔۔

اس نے لوٹنا تھا۔۔۔۔

ایک نیا عمر بن کے۔۔۔

جہاں۔۔۔ کہیں۔۔۔ صلہ کا عکس نہ ہو۔۔

اسکی پرچھاٸی نہ ہو۔۔۔

کہیں۔۔۔ کوٸی۔۔۔ بدلہ نہ ہو۔۔۔۔

عمرنے مسکراتے پر سکون ہو کے آنکھیں موند لیں۔

اپنی ماں ۔۔۔

اپنی جنت کے پاس وہ واپس لوٹ رہا تھا۔۔

ایک سراب کے پیچھے بھاگا تو وہ اپنی جنت کو ناراض کرکے۔۔۔۔

گگت٥گت

تو اللہ نےکیسے اسے۔۔۔ منزل۔پے پہنچانا تھا۔۔۔۔؟؟

ماں کی دعا کے بنا تو کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔!!

آنکھوں میں رابیہ بیگم کا شفیق چہرہ لہرایا۔ تو چہرے پے خوبصورت مسکراہٹ آگٸ۔

جہاز نے اڑان بھری۔

وہ اپنا سارا بزنس ان۔دو۔دنوں میں بمشکل ہی سہی واٸینڈ اپ کر آیا تھا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔

اب وہ شہریار کے ساتھ مل کے کام کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔

خیالوں کے جھروکے میں اچانک تابی کا چہرہ جھلملایا۔

تو پھر سے ایک خوبصورت مسکراہٹ نے لبوں کو چھوا۔

پاگل۔۔۔۔ ہے تھوڑی تھوڑی۔۔۔۔

پر۔۔۔۔ میری ہے۔۔۔۔ پوری کی پوری۔۔۔۔

ایک جذب سے سوچتا وہ مطمیٸن ہوا۔

تابی۔۔۔۔۔ جسٹ ویٹ۔۔۔۔۔۔!!

میں بہت جلد آٶں گا۔۔۔۔۔

خیالوں میں اس سے مخاطب ہوا۔

مجھے پتہ ہے۔۔۔۔

میرے ۔۔۔غصے میں کیۓ گۓ۔۔۔ فیصلے سے مما ناراض ہوں گی۔۔۔۔

لیکن۔۔۔ میں انہیں ۔۔۔منا لوں گا۔۔۔

بس ۔۔کچھ دنوں میں۔۔۔ ہی۔۔۔ تم۔۔۔۔ میرے پاس ہو گی۔۔۔۔!!

پھر۔۔ میں لفظوں سے نہیں۔۔۔

اپنے ہر عمل سے۔۔۔

اپنی محبت کو تم پے نچھاور کروں گا۔۔۔۔

تمہیں۔۔۔ سمیٹ لوں گا۔۔۔۔۔!!

آنے والے وقت کی پلاننگ کرتے عمر بہت خوش تھا۔

وقت رہتے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ اور وہ اسے سدھارنے کا بھی ارادہ رکھتا تھا۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا۔

اسکا یوں خاموشی سے چلے جانا۔۔۔ تابی کو کتنی بڑی مصیبت میں ڈالنے والا تھا۔

***************

شہریار زین کے آفس آیا تھا۔

وہ کوٸی بھی انتہاٸی قدم اٹھانے سے پہلے ایک بار پھر زین سےمل کے بات کو ہینڈل۔کر نا چاہتا تھا۔

کہ شاید زین بات کو سمجھ جاۓ۔اور اپنے فیصلے پے نظر ثانی کرے۔

لیکن زین کا وہی رویہ دیکھ کر شہریار بہت دکھی ہوا۔

وہ اپنی بات سے ایک انچ بھی پیچھےہٹنے کو تیار نہ تھا۔

شہریار کو زین کے روٸیے پے بہت دکھ ہوا۔

وہ دکھ سے آفس سے باہر نکلا۔

سر۔۔۔۔! ایک منٹ میری بات سنیں۔

ایک شخص شہریار کے پاس آیا۔ اور دھیرے سے بولا۔

شہریار چونکا۔ اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

سر ۔۔۔۔ یہ ایڈریس ہے۔۔۔ اس پتے پے شام کو 5 بجے پہنچ جانا۔

ہو سکتا ہے۔۔۔ میں آپ کی مدد کر سکوں۔

وہ ایک چٹ بہت محتاط انداز میں شہریار کی طرف بڑھاتا وہاں سے یکدم غاٸب ہوا۔

شہریار حیرت سے اس چٹ پے لکھے ایڈریس کو دیکھتے باہر آگیا۔

پرشانی صاف اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

اب اسکا رخ بہن کے گھر کی طرف تھا۔

اسے سمیرا کی ازحد فکر ستا رہی تھی۔

****************

صغرا خالہ جتنا کہا ہے۔۔ اتنا ہی کیا جاۓ۔۔۔۔۔

آج شام وہ لوگ آرہے ہیں۔ ان کا اچھے سے ویلکم ہو نا چاہیے۔ اور کسی قسم کی کوٸی بدمزگی نہ ہو۔

ناشتے کی ٹیبل سے اٹھتے سبحان سپاٹ لہجے میں بولا۔

صغرا خالہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا ۔

آپ پریشان نہ ہوں ۔۔۔ تابی سے۔۔۔ میں بات کر لیتی ہوں۔

صلہ نے پریشان صغرا خالہ کی مشکل حل کرنی چاہی۔

ارے نہیں بیٹا۔۔۔۔!! تابی سے تو میں خود بھی کہہ دوں گی۔۔۔۔

لیکن ۔۔۔۔ سبحان بیٹا۔۔۔۔۔!! بہت جلد بازی کر رہیں ہیں۔۔۔۔

صغرا خالہ غمگین ہوٸیں۔

آپ کیوں اتنا سوچ رہی ہیں۔۔۔۔؟؟

اس گھر میں ہونے والا ہر چھوٹا بڑا فیصلہ وہی تو کرتے آٸیں ہیں۔۔۔

اب عادت ڈال لینی چاہیے آپ کو۔۔۔ اس ہٹلر کی۔۔۔۔۔!!

منہ بگاڑ کے کہتی وہ ایک دم رکی۔

سامنے ہی سبحان کھڑا کڑے تیوروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

یہ۔۔۔کب واپس آۓ۔۔۔۔۔۔؟؟ دھیرے سے بڑبڑاٸی۔۔

مس صلہ ددی گریٹ۔۔۔۔! پلیز کم ٹو دی روم۔۔۔۔!!

ایک ایک لفظ کو وہ چبھاچھبا کے کہتا صلہ کی جان نکال گیا۔

صلہ نے بے بسی سے صغرا خالہ کی طرف دیکھا۔

تو وہ مسکرا دیں۔

صلہ پیر پٹختی روم میں آٸی۔

اندر آتےہی روم پیچھے روم لاک ہونے کی آواز آٸی۔

صلہ نے پلٹ کر دیکھا۔ تو دنگ رہ گٸ۔

*************

شہریار۔۔۔۔!! آپ پلیز۔۔۔ ایسے پریشان نہ ہوں۔۔

ورنہ۔۔۔ سمیرا کوکون سنبھالے گا۔۔۔۔۔۔؟؟؟

انوشے کی بات پے شہریار نے کرب سے آنکھیں موندیں۔

انوشے۔۔۔۔!! میں ابھی سمیرا ۔۔ سے مل کے آیا ہوں۔۔۔

وہ بہت پریشان ہے۔ اور ۔۔۔ آج وہ بے ہوش بھی ہوگٸ تھی۔۔۔۔

مجھے نہیں ۔۔۔ سمجھ آرہا۔۔۔ کہ کیسے۔۔۔۔ اسکے ۔۔ سارے غم دور کر دوں۔

شہریار بہت زیادہ اپ سیٹ تھا۔

انوشےکی آنکھیں بھی نم ہو گٸیں۔

آپ حوصلہ رکھیں۔ آپ حوصلہ ہار گۓ ۔۔۔ تو ہمارا کیا ہو گا۔۔۔۔۔؟؟

سمیرا کاکیا۔۔۔ ہو گا۔۔۔۔؟؟

کیاہوا سمیرا کو.؟؟؟ بھابھی۔۔۔۔۔۔؟؟

اچانک اپنی پیٹھ پیچھے عمر کی آواز سن کر صلہ نے فوراً فون بند کر دیا۔ اور ہاتھ نیچے گرا لیا ۔

دوسری طرف شہریار کو اسکے یوں اچانک فون بند کرنے کی وجہ سمجھ نہ آٸی۔

انوشے آنسو صاف کرتی عمر کی طرف پلٹی۔

کچھ بہانہ بناتی۔۔ لیکن عمر کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ سب سن چکا ہے۔۔۔۔

**********

سبحان کے ہاتھ میں گن دیکھتے صلہ کا سانس تھما۔

کیا کہہ رہی تھی باہر۔۔۔؟؟ ہٹلر۔۔۔۔۔؟؟

سبحان نے گن کا رخ صلہ کی جانب کرتے سرسراتے لہجے میں پوچھا۔

نننن۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔!!

صلہ کی آواز حلق سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔

سبحان اس کے بہت پاس آگیا۔

صلہ نفی میں سر ہلاتی ایک قدم پیچھے ہٹی۔

سبحان نے اسکی کمرمیں ہاتھ ڈال کے اسے خود کے قریب کیا۔ اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

کتنے دیپ جلے تھے۔۔۔صلہ کی آنکھوں میں۔۔۔۔

سبحان سے چھپا نہ رہ سکا۔

لوِنگ ہسبنڈ واٸف ۔۔۔ کی ڈیل ہوٸی تھی۔۔۔۔۔۔؟؟

ہیں۔۔۔ نا۔۔۔۔۔۔؟؟

سبحان اسکی سانسوں کو آج روکنے کے در پے تھا۔

صلہ بہت چھوٹے چھوٹے سانس لے رہی تھی۔یاشاید روک گٸ تھی۔۔۔۔۔۔۔ سبحان سمجھ نہ سکا۔

مجھے تو۔۔۔۔۔ love کہیں بھی نظر نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔؟؟

سادہ انداز اپناتے وہ صلہ کی باقی کی سانس کو بھی سن کر گیا۔

سانس لو۔۔۔۔۔۔!!

سبحان نے اسے مکمل سانس روکتے محسوس کیا ۔ تو ماتھے پےتیوری پڑی۔

سبحان کی اتنی سی قربت ۔۔۔

اپنی کمر پے اس کے کے ہاتھوں کا لمس۔۔۔۔

وہ کہاں سانس لیتی۔۔۔۔؟؟

صلہ سانس لو۔۔۔۔۔۔ورنہ۔۔۔۔۔۔یہ سانسیں۔۔۔۔ میں بند کردوں گا۔۔۔۔۔اور میرا انداز ۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔ پسند نہیں آۓ گا۔

سبحان نے گھمبیر لہجے میں کہا۔۔

تو۔۔۔اسکی بات کا مفہوم سمجھتے تابی نے ایک دم سے لمبا سانس بھرا۔

سبحان اس کے اسطرح کرنے سے زیرِ لب مسکرایا۔

صلہ کی نظروں نے اسکی مسکراہٹ کا طواف کیا۔

گڈگرل۔

آج۔۔۔مہمان آرہے ہیں۔۔۔!! اور ان کے سامنے اچھے سے اپنی لوِنگ نیچر کا مظاہرہ کرنا ہے۔۔۔۔

سبحان نے پسٹل کو واپس پاکٹ میں رکھتے سنجیدہ انداز میں کہا۔

تو صلہ نے اچھے بچوں کی طرح فوراً اثبات میں سر ہلا یا۔

سبحان اپنے اسٹڈی روم کی جانب بڑھا۔ پھر رکا۔

صلہ۔۔۔۔۔!! تابی۔۔۔ اب یہاں ۔۔۔ کچھ دن کی ہی مہمان ہے۔۔۔۔! تو ۔۔۔ اس کا خیال رکھنا۔۔۔۔!!

اور ایک اچھی بھابھی کی طرح پیش آنا۔۔۔۔

وہ میرے لیے۔۔۔ میرا سب کچھ ہے۔۔۔

میں نہیں چاہتا۔۔۔۔ کہ وہ۔۔ یہاں سے۔۔۔ کوٸی بھی بری یاد لے کے جاۓ۔۔۔۔۔

چاہے وہ۔۔۔۔ میری طرف سے ہو۔۔۔ یا تمہاری طرف سے۔۔۔۔۔۔۔۔!!

بہت رسان سے سمجھایا۔ اور بنا جواب سنے باہر۔نکل۔گیا۔

صلہ نے لمبا سانس خارج کیا۔

اففففف۔۔۔۔۔۔۔ کیا انسان ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟

اس کے سامنے۔۔۔۔۔ یہ دل۔۔۔۔۔ آگے پیچھے داٸیں باٸیں۔۔۔ ہر جگہ سے دھڑکنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور آواز۔۔۔ ایسے سناٸی دیتی ہے۔۔۔۔ جیسے ابھی۔۔۔ نکل کے باہر۔۔۔ آجاۓ گا۔۔۔۔

جو بھی ہے۔۔۔۔ ہے بہت بڑا جادوگر۔۔۔۔۔۔۔!!

صلہ نے آج ہی کے دن سبحان کوایک اور نۓ خطاب سے نوازا۔ اور مسکرا دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *