Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan NovelR50515 Mera Ishq Teri justujoo (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq Teri justujoo (Episode 12)
Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
علی بخش کے ڈیرے پے سبحان اور اس کے آدمی پہنچ گۓ۔
علی بخش خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔ وہ اس معاملے میں اب نہیں پڑنا چاہتا تھا۔
سبحان کے آدمی رمضان کو پکڑ کے باہر لاۓ۔
رمضان حیران پریشان کہ اس کے ساتھ ہوا کیا۔۔۔؟
علی بخش۔۔۔۔۔۔!! مجھے۔۔۔۔ بچاٶ یار۔۔۔۔۔۔!!
وہ علی بخش کے آگے منمنایا۔
علی بخش نے خاموشی سے نظریں پھیر لیں۔
سبحان آگے بڑھا اور کھینچ کے ایک تھپڑ اسے رسید کیا۔ اسکا ہونٹ پھٹ گیا۔
اگر وعدہ نہ کیا ہوتا۔۔۔۔ تو ابھی اسی وقت جان سے مار ڈالتا ۔۔۔ تمہیں۔
سرد لہجے میں کہتا وہ رمضان کو سخت ڈرا گیا۔
لے چلواسے۔۔!!
سبحان کے کہنےکی دیر تھی۔ اسے گھسیٹے ہوۓ اس کے آدمی لے جانے لگے۔
سبحان علی بخش کی طرف مڑا۔
آج تم نے۔۔۔ یہ نیکی کی ہے۔۔۔!! سب سے بڑا رشتہ انسانیت کا ہے۔۔۔۔اور تم نے۔۔۔ انسانیت بچاٸی۔ اس۔۔ حیوان کو میرے حوالے کر کے۔
سبحان کہتا بنا اسکی سنے باہر نکلتا چلا گیا۔
علی بخش دوستی میں شاید واقعی ہار گیا تھا۔
لیکن انسانیت کی مثال قاٸم کی تھی اس نے۔
******************
کیا ہوا۔۔۔؟ آپ نے بلایا۔۔۔۔؟؟
زین نے۔۔۔۔انہی کچھ دنوں میں مونا سے نکاح کرنے کا فیصلہ کیاہے۔۔۔
میں۔۔۔ مونا سے مل کے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
سر۔۔۔۔! وہ صرف پیسوں کی زبان سمجھتی ہے۔۔۔!!
زلفی نے پہلا پتہ پھینکا۔
میں اسے۔۔۔ اسکی منہ مانگی رقم دینے کو تیار ہوں۔۔
بس وہ زین کی زندگی سے نکل جاٸۓ۔
سر۔۔۔۔!! آپ بھی۔۔۔ اسے پیسے دیں۔۔۔۔گے۔۔۔؟؟
ایسے تو۔۔۔۔ وہ اور زیادہ ۔۔۔۔ گناہ کرتی جاۓ گی۔۔
زلفی نے ایکٹنگ کی۔
کیا مطلب۔۔۔؟؟ شہریار نے ناسمجھی سے دیکھا۔
سر۔۔۔!! میں تو کہتا ہوں۔ Kill her.
نفرت سے کہتا وہ شہریار کو چونکا گیا۔
تم۔۔۔۔ پاگل تو نہیں۔۔۔۔؟؟ قتل کیوں۔۔۔۔؟؟
شہریار کو اسکی بات ہضم نہ ہوٸی۔
سر جی۔۔۔! دھرتی کا بوجھ ہے وہ۔۔۔۔ مرے گی تو۔۔۔ بوجھ ہی کم ہو گا ناں۔۔۔؟؟
لاپرواہی سے کہتا وہ شریار کو غصہ دلا گیا۔
ہو سکتا ہے۔۔ مرنے سے پہلے وہ خدا سے معافی مانگ لے۔۔۔۔ پھر۔۔۔۔؟؟ گناہ گار کون ہوگا۔۔۔۔؟؟
اسکے ساتھ کیا ہونا چاہیے کیا نہیں۔۔۔۔؟؟ اس کا فیصلہ اوپر والاکرے گا۔
میں بس اپنی بہن کا گھر بچانا چاہتا ہوں۔ شہریار نے تھوڑا سختی سے کہا۔
ٹھیک ہے سر۔۔۔۔!! دیں پھر پیسے ۔۔۔۔ہوٸیں۔۔۔ کنگال مجھے کیا۔۔۔۔۔؟؟
آپ نے مجھےکیوں بلایا۔۔۔۔؟؟
زلفی ناراض سا ہوا۔
مجھے اسکا ایڈریس چاہیے۔۔۔۔ تمہیں ۔۔۔ پتہ ہو گا۔۔۔؟؟
ہممممم۔۔۔۔۔۔ یہ لیں۔
ایک پیچ پے اس نے مونا کا ایڈرس لکھ کے شہریار کو تھما دیا۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ تم نے جتنی مدد کی بہت شکریہ۔
شہریار نے اس سے رابطہ ختم کرنا چاہا ۔ اسے اس شخص سے نیگیٹو واٸبز آرہی تھیں۔
سر۔۔۔۔!! جیسے ۔۔۔۔ آپ کو ٹھیک لگے۔ ورنہ ۔۔۔ آپ چاہتے تو۔۔۔ میں آپ کے بہت کام آسکتا تھا۔
زلفی نے اپنی اہمیت واضح کی۔
نہیں۔۔۔۔۔!! اب ۔۔۔ اور نہیں۔۔۔۔!! شہریار نے اٹھتے حتمی لہجےمیں کہا۔
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
زلفی کا موڈ خراب ہوگیا۔ فون پے مونا کو انفارم کیا ۔ اور اپنا اگلا لاٸحہ عمل بتایا۔
مونا جو ابھی بھی عمر عرف سعدی کے خیالوں میں کھوٸی ہوٸی تھی۔
زلفی کی بات سن کر دماغ سے عمر نکل گیا۔ فوراً خود کو شہریار سے ملنےکے لیے تیار کیا۔
اورزلفی کی ساری باتوں کو دماغ میں بٹھایا۔
زلفی اور مونا نے کافی لوگوں کو ایسے لُوٹا تھا۔ اور اس بار بھی پلان فل پروف تھا۔
لیکن شہریار کی وجہ سے انہیں پلان چینج کرنا پڑا۔
*************
سحر کو وارڈ میں شفٹ کر دیاگیا۔
صلہ اس کے پاس ہی تھی۔
ایک ہی دن میں وہ صدیوں کی کمزور لگنے لگی تھی۔
نا چاہتے ہوۓ بھی بار بار صلہ کی آنکھیں آنسوٶں سے تر ہو رہیں تھیں۔
سحر نے زرا سی آنکھیں کھولیں۔ صلہ کو روتا دکھ زرا سا مسکراٸی۔
روتی ہوٸی۔۔۔ بہ۔۔ بہت۔۔ بری۔۔۔ لگ۔۔تی ہو۔۔۔۔!! بمشکل وہ بول پاٸی۔
تم ناں۔۔۔۔ زیادہ باتیں۔۔۔ نہ کرو۔۔۔۔۔۔!! ناراض ہوں میں۔۔۔!!
آنسو پونچھتی وہاس کے پاس ہی بیٹھ گٸ۔
کیوں۔۔۔ نہیں مانی میری بات۔۔۔۔۔۔؟؟
پہلی ۔۔۔ بار۔۔ہی۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ مانی۔۔۔۔۔دیکھو۔۔۔۔ سزا بھی مل گٸ۔۔۔۔۔! مسکراتے ہوٸے درد برداشت کرتے وہ بولی۔
بس کرو۔۔۔۔!! سزا تمہیں ۔۔۔ نہیں مجھے۔۔۔ملی ہے۔۔۔۔!!
بس۔۔ اب ٹینشن نہ لو۔۔۔۔!!
صغرا خالہ شرمندہ سی اندر داخل ہوٸیں۔
بیٹا۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔ معاف کردو۔۔۔۔۔
ساری غلطی میری ہے۔۔۔!! وہ پھر سے رودیں۔
آپ کا کیا قصور۔۔۔؟؟ میں نے ہی آپ سے ۔۔۔۔ ضد کی تھی۔۔۔۔!! سحر کو انکا رونا اچھا نہ لگا۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔!! زیادہ بولنےسے سحر کے سر میں درد کی ٹھیس اٹھی۔
کیا۔۔۔ ہوا۔۔۔۔؟؟ سحر۔۔۔ٹھیک ہو۔۔ ناں۔۔۔؟؟
صلہ پریشان ہوٸی۔۔۔
سحر نے اثبات میں سرہلایا اور آنکھیں موند لیں۔
وہ جانتی تھی اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ جو ہوا ہے اسکا اثر اب اسکی زندگی میں ہمیشہ ریے گا وہ بدل نہیں سکتا۔
اس لیے۔۔ پریشان ہو کے وہ اپنی بہن۔کو پریشان نہیں کر سکتی تھی۔
نیند کے انجکشن کی وجہ سے وہ جلد ہی نیند کی وادیوں میں کھو گٸ۔
صغرا خالہ۔۔۔ آپ بھی گھر جاٸیں۔
آپ کی بھی تو طبعیت نہیں ٹھیک۔۔۔!! سحر کی فکرنہ۔کریں۔ اس کےپاس میں ہوں۔۔۔!
صلہ نے سحر کوسوتے دیکھ اٹھتے کہا۔
نہیں۔۔۔ بیٹا۔۔۔!! میرا دل نہیں کر رہا ۔۔۔ اس معصوم کو اس حال میں چھوڑ کے جانے کا۔۔۔۔ مجھے یہیں رہنے دو۔۔۔!!
کہتے وہ سحر کے قریب بیٹھ اس پے پڑھ پڑھ کے پھونکنے لگیں۔
صلہ نے زبردستی نہ کی۔۔
موباٸیل پے سبحان کی کال آتی دیکھ وہ وارڈ سے باہر نکل آٸی۔
نچے ڈراٸیور آیا ہے لینے ۔۔۔ اس کے ساتھ آجاٶ۔۔۔!!
سبحان نے فوراً کہا۔اور فون ساتھ ہی بند کو گیا
صلہ حیران ہوٸی۔۔ اچانک کہاں بلا رہا ہے۔۔۔؟؟
لیکن جانا ضروری تھا۔ اسے ناں کر ہی کہاں سکتی تھی۔
واپس اندر جا کے صغرا خالہ کو سمجھا کے اور سحر کاخیال رکھنے کا کہہ کے وہ باہر آٸی۔
ڈراٸیور آچکا تھا۔۔
صلہ گاڑی میں بیٹھی سوچ کی دھاروں کا رخ سبحن کی طرف موڑتی آنکھیں موند گٸ تھی۔








تو آپ مجھے خریدنےآٸیں ہیں۔۔۔؟؟
مونا نے شہریار کی ساری بات سن کے کرخت لہجے میں کہا۔
نہیں۔۔۔۔!! خریدنے نہیں۔۔۔۔۔ میری بہن کے راستے سے ہٹ جاٶ۔۔۔ اسکی قیمت ادا کرنے۔۔۔!!
شہریار نے سنبھل کےکہا۔
اچھا۔۔۔۔۔! کیا قیمت ادا کرسکتےہیں آپ۔۔۔۔؟؟ تیکھے انداز میں پوچھا۔
جو۔۔۔۔ آپ بولیں۔۔۔۔۔!!
آپ کی نظر میں۔۔۔۔ محبت کی کیا قیمت ہے ۔۔۔ شہریار بھاٸی۔۔۔۔۔؟؟
زین کی اچانک آمد نے شہریار کو چونکا دیا۔
زین دروازے سے اندر آیا۔ مونا کا سکون بتا رہا تھا کہ اسی نے اسے بلایا ہے۔
زین۔۔۔۔۔؟؟
کیاہوا۔۔۔مجھے دیکھ۔۔۔ حیران ہوگۓ۔۔۔۔؟؟
زین کو شہریار کا وہاں ہونا چبھا تھا۔
زین۔۔۔۔۔!! یہ لڑکی۔۔۔ فراڈہے۔۔۔
Belive me….
بس کریں۔۔۔ شہریار بھاٸی۔۔۔۔!!
میں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔ اور آپ کی باتیں سن بھی چکا ہوں۔۔۔
آپ کو شرم نہیں۔۔۔ آٸی۔۔۔۔؟؟
زین۔۔۔۔! شہریار کا غصہ سے چہرہ لال ہو گیا۔
Live zain…!!
غصہ کر کے موڈنہ آف کریں۔ یقیناً ان کو کی بات کا جواب مل گیا ہوگا۔
زین کی بازو پے ہاتھ رکھے وہ ایک ادا سے شہریار کو دیکھتی بولی۔
آپ ۔۔۔ یہ شادی ۔۔روکنا چاہتے ہیں ۔۔۔ناں۔۔۔؟؟
میں ایک ہفتہ کےاندر ہی۔۔۔ مونا سے نکاح کرنے جا رہا ہوں۔۔۔روک سکیں تو روک لیں۔
زین نے شہریار کو چیلنج کیا۔
شریارلب بھیچے وہاں سے چلا گیا۔
گاڑی میں بیٹھا وہ۔۔ ازحد پریشان ہوا تھا۔
ایسا محسوس ہورہا تھا۔ جیسےوہ پہلے سے شہریار کی آمد کا جانتی تھی۔
اور وہ مونا سے ملنے والا ہے۔۔۔ اس بات کا پتہ صرف۔۔ زلفی کو تھا۔۔۔۔
کہیں۔۔۔ زلفی ۔۔۔ ڈبل کراس تو نہیں کر رہا۔۔۔۔؟؟
شہریار کو ایک دم سے اچھنبا ہوا۔
کچھ سوچتے ہوۓ اس نے گاڑی ہوٹل کی جانب موڑ دی۔








عجیہب سی جگہ تھی۔۔۔
صلہ اندر داخل ہوٸی۔ کچھ آگے جا کے روشنی نظر آٸی ۔
اور روشنی میں اسے سامنے ہی سبحان نظر آیا وہ جو گھبرارہی تھی۔ سبحان کو دیکھ اسکی جان میں جان آٸی۔
فوراً آگے بڑھی۔
آ پ نے یہاں۔۔۔۔؟؟
ابھی وہ مزید بولتی کہ سبحان نے اسکی بات کاٹی۔
آٶ۔۔۔۔!!
ہاتھ تھامےوہ آگے بڑھا۔
اندھیرے کمرے میں ہلکی اور مدھم روشنی میں اس شخص کو دیکھ صلہ کا دل جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا۔
رمضان بہت بری حالت میں اس کے سامنے کھڑا تھا
جیسے مار مار کر اسکا بُھرکس نکال دیاہو۔
اس نے صلہ کو دیکھتےہی معافی کےلیے ہاتھ جوڑے۔
صلہ کا جی چاہا۔ اسے ابھی اسی وقت جان سے مار ڈالے۔۔۔
سبحان نے اسکی ہتھیلی کھولی اور اس کے ہاتھ میں گن رکھی۔
بدلہ۔۔۔ لے لو۔۔ صلہ۔۔۔!!
سبحان نے سپاٹ انداز میں کہا۔
صلہ نے گن کارخ رمضان کی جانب کیا۔
وہ رو رہا تھا۔۔ لیکن زبان اسکی خاموش تھی۔
صلہ نے گن سے اسکے دل کا نشانہ لیا۔
آنسو اس کے بھی بہہ نکلے۔
وہ التجا کر رہا تھا۔ روتا خاموش آنسوٶں سے۔۔۔۔۔!!
صلہ سے گولی نہیں چلاٸی گٸ۔
سبحان اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ جانتاتھا کہ وہ گولی نہیں چلا پاۓ گی۔
صلہ شوٹ ہم۔!
سبحان نے سخت لہجے میں کہا۔
صلہ پھر بھی گولی نہیں چلا پارہی تھی۔
سبحان نے گن صلہ کے ہا تھ سے لی۔ اور رمضان پے تانی۔ صلہ جیسے ایک دم ہوش میں آٸی۔ اور فوراً سبحان کے آگے جا کھڑی ہوٸی۔۔
ننن۔۔۔ہہہ۔۔نہیں۔۔۔۔۔ !! پلیز۔۔۔۔۔ آپ گولی نہیں۔۔ چلاٸیں گے۔۔۔۔۔
صلہ کی بات پے سبحان کو سخت غصہ آیا۔
تم۔۔۔۔ تمہارا۔۔۔ دماغ خراب ہے۔۔۔۔؟؟
ہٹو۔۔ آگے سے۔۔۔۔!! سبحان نے اسے ساٸیڈ پے کرنا چاہا۔
سبحان۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ چھوڑ دیں۔۔ انہیں۔۔۔!!
صلہ نے روتےہوۓ کہا وہ نازک دل لڑکی۔کہاں کسی کا برا چاہ سکتی تھی۔۔۔۔؟؟
صلہ۔۔!! میری ڈکشنری میں معافی کی کوٸی گنجاٸش نہیں۔۔!! اس لیے۔۔۔ نو۔۔۔ معافی۔۔۔۔ !!سرد لہجے میں کہتا وہ صلہ کا خون خشک کر گیا۔۔
انکی آپس کی باتوں کا رمضان نے فاٸدہ اٹھایا ۔
اور ۔۔ پاس پڑی تیز دھار تار اٹھاٸی اور صلہ کے گلے پے رکھ دی۔
یہ اتنا اچانک ہوا۔کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا
سبحان۔۔۔۔ !! میرے راستے سےہٹ جاٶ۔۔ ورنہ۔۔۔۔؟
رمضان نے تیز دھار تلوار کی نوک صلہ کی گردن میں چبھوٸی۔
خون کی کچھ بوندیں نمودار ہوٸیں۔ جسے دیکھ سبحان کا دماغ گھوم گیا۔
وہ گولی چلاتا کہ پیچھے سے آکے عزیز نے رمضان کو قابو میں کر لیا۔ ۔
رمضان نے صلہ کو چھوڑا
صلہ کو سبحان نے فوراً اپنی طرف کھیچا
اور خود سے لگا تا۔ ایک گولی رمضان کے ہاتھ پے چلاٸی۔
اسی ہاتھ پے جس سے اس نے صلہ کو تکلیف دی۔اور وہ تڑپ کر رہ گیا ۔
صلہبچوں کی طرح سبحان کی شرٹ دبوچے اسکی ساتھ چپکی تھی۔
سبحان نے پسٹل ساٸیڈ پے کی۔ اور عزیز کو اشارہ کیا کہاسے لے جاۓ۔
عزیز اسے لیے اسپیشل کی طرف بڑھا۔
سبحان صلہ کی جانب متوجہ ہوا ۔ اسے اپنے سامنے کرتا۔ اسکی گردن پے نشان چیک کیا۔
are you alright?
سبحان نے فکر مندی سے پوچھا۔
وہ اس ایک لمحے میں سہم گٸ تھی۔ لیکن اب نارمل۔تھی۔
سبحان اسے لیے باہر آیا۔ گاڑی سے فرسٹ ایڈ باکس نکالااسکا زخم صاف کرنے لگا۔
سبحان کی اتنی سی قربت اسک دل دھڑکاگٸ۔
اسکی کلون کی خوشبو اسے پاگل کر نےلگی تھی۔
اس۔۔۔ بے حس انسان کو بچانا چاہتی تھی۔۔۔ تم۔۔۔؟؟
جس نے اپنی جان بچانے کے لیے تمہاری جان لینی چاہی۔۔۔۔۔؟؟
سبحان کو اس کے عمل نے غصہ دلایا تھا۔
ہممممم۔۔۔۔جانتی ہوں۔۔۔۔ لیکن میں اپنے معاملات۔۔۔ رب پے چھوڑنے کی عادی ہوں۔۔۔۔
صلہ کی بات پے اس نے ایکدم اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
کچھ پل یونہی بیت گۓ۔ دونوں ہی ایک دوسرے میں کھو سے گۓ۔
پھر خاموشی سے پیچھےہوتا گاڑی اسٹارٹ کی۔
صلہ نے اسے نجانے کیا باور کرانا چاہا۔
اس کے بعد وہ نہ بولا۔
گاڑی میں بیٹھتے گاڑی کا رخ ہاسپٹل کی جانب موڑ دیا۔ صلہ بھی خاموش ہوگٸ۔
***************
ہمممممم۔۔۔۔ کیا ہم ان تصوریروں کو زین بھاٸی کو دیکھا کے۔۔۔ مونا سے الگ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔؟؟
عمر نے زلفی اور مونا کی تمام تصویریں دیکھتے سوچتے ہوۓ کہا۔
سر جی۔۔۔۔!! اس سے کیا ہوگا۔۔۔؟؟ زین بھاٸی۔۔۔ مونا کو چھوڑ دیں۔۔ گے۔۔۔ اور کہانی ختم۔۔۔؟؟
پھر اک نٸ کہانی شروع ہوگی۔۔۔۔ اور پھر کسی کو شکار بنایٸں گے یہ۔۔۔
سر۔۔۔ میں ۔۔ا نہیں۔۔۔۔ جیل۔کے اندر ڈالنا چاہتا ہوں۔ تا کہیہقصہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاۓ۔
اے ڈی نے اپنی پلاننگ بتاٸی۔
صحیح۔۔۔۔۔!! پارٹنر ۔۔آگے کیا کریں۔۔۔۔؟؟ بتاٶ۔۔۔؟؟
عمر نے اس سے اتفاق کیا۔
آپ کی پھر سے انٹری۔۔۔!!
وہ آپ سے بہت متاثر پے۔۔۔ ہمارے جال میں پھس جاۓ گی آسانی سے۔۔۔۔۔۔!!
ہمممممم۔۔۔ممم !! چلو۔۔۔ گڈ۔مجھے بس۔۔۔ اسے اچھا سا سبق سکھانا ہے۔
ہوجاۓ گا۔۔۔۔۔ سر جی۔۔۔۔!! فکر ناٹ۔۔۔۔
اے ڈی مسکراتے ہوۓ بولا ۔ اور دونوں آگے کاپلان ڈسکس کرنے لگے۔
***************
تمہارا بھاٸی۔۔۔ خود کوکیا سمجھتا ہے۔۔۔۔۔؟؟
اگر نہوں نے یہ سب کیا ہے۔۔۔۔ تو میری نظروں سے وہ گر گۓ ہیں۔۔۔۔!!
زین سارا غصہ آ کے سمیرا پے اتارنے لگا۔
آپ کیسی۔۔۔۔ باتیں۔۔۔۔؟؟سمیرا ہکلاٸی۔
سمیرا۔۔۔ میں۔۔۔ نے ہمیشہ تمہیں۔۔ چاہا ہے۔۔ عزت دی ہے۔۔
کبھی تمہارے ساتھ کوٸی زیادتی نہیں کی۔
سمیرا۔۔۔میری بھی کچھ خواہشات ہو سکتیں ہیں۔۔
۔میری بھی مرضی ہوسکتی ہے۔۔۔ اور تمہیں ۔۔ میری خواہش کا احترام کرنا چاہیے ۔۔۔۔
زین نے پیار اور سختی دونوں انداز میں کہا۔
سمیرا نے آنسو پونچھے۔
ٹھیک۔۔۔۔!!! جاٸیں۔۔۔ کرلیں۔۔۔ دوسری شادی۔۔۔!!
دی آپ کواجازت۔۔۔!! اب آپ۔۔۔ کے راستے میں۔۔ نہ ہی میں۔۔۔۔ آٶں گی۔۔۔ نہ ہی میرا۔۔۔ بھاٸی۔۔۔۔!!
دل پےپتھر رکھے وہ کہتی ایک شکوہ کناں نظر زین پے ڈالتے وہاں سے چلی گٸ۔
زین کے دل کو جیسے اک دم کسی نے اپنی مٹھی میں لیا ہو۔ سمیرا کی آنکھوں کے آنسو آج اسے بے چین کر گۓ تھے۔
اسکااجازت دینا۔۔۔ زین کے دل کو آج بے سکون کر گیا تھا۔
*************
عمراور اے ڈی رات کے گیارہ بجے مونا کے فلیٹ کے باہر تھے۔
وہ ابھی کلب سے واپس گھر نہیں لوٹی تھی۔
دونوں اسکا ویٹ کر رہا تھا۔
اے ڈی لڑکی کے روپ میں تھا۔۔ اور ایسا گیٹاپ کیا تھا۔کہ۔کوٸی اسے پہچان نہیں سکتا تھا۔۔۔
خود کو چوٹ بھی پہنچا چکا تھا۔
اتنے میں اسکی گاڑی نظر آٸی۔
اے ڈی پلان کے مطابق چلتے اسکی گاڑی کےآگے آگیا۔
مونا نے ایکدم۔گاڑی کو بریک لگایا۔ لیکن اے ڈی گر چکا تھا۔
عمر بھاگا ہوا اس کے پیچھے آیا ۔۔۔
بیہا۔۔۔۔! بیہا۔۔۔۔ آنکھیں۔۔ کھولو۔۔۔۔!! وہ چلا رہا تھا۔
دوسری طرف مونا کا سانس اٹکا ہوا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرنا چاہی۔ لیکن نہ ہوٸی۔
دھیرے سے اتر کر باہر آٸی۔
اٹ واز ناٹ۔۔۔ ماٸی۔۔مسٹیک۔۔۔۔۔!!
بمشکل وہ بول پاٸی۔
عمر جارحانہ انداز میں اسکی طرف بڑھا۔ا ور سیدھا اسکا گلا پکڑا۔
بیوی تھی وہ میری۔۔۔ جان تھی۔۔۔!! مار ڈالا تم نے اسے۔۔۔۔!!
عمر بے انتہا غصے میں تھا۔ مونا اسے پہچان گٸ۔
ایم۔۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔۔!!
عمر نے بھی ایک دم اسے چھوڑا۔۔۔وہ بھی تو پہچان گیاتھا۔
اور واپس بیہا کی طرف گیا۔
میں۔۔۔ میں۔۔۔ نے جان بوجھ کے نہیں کیا۔۔۔ سب انجانے میں ہوا۔۔۔!! پلیز سعدی۔۔۔۔!! میرا یقین کریں۔۔۔۔!!
آپ نے۔۔ بہت۔۔۔ غلط کیا۔۔۔۔
سعدی کی آنکھوں میں آنسو آۓ۔
مونا نے آگے بڑھ کےاسے حوصلہ دینا چاہا۔اور اسکا ہاتھ تھام لیا۔
پلیز۔۔۔ ایم سوری۔۔۔۔!!
سعدی نے اسے روتے ہوٸے دیکھا۔۔۔ تو اسکے آنسو صاف کیے۔
روٸیں مت۔۔۔!! شاید ۔۔ قسمت کومیرا اور بیہا کااتنا ساتھ ہی منظور تھا۔
لیکن۔۔۔۔ بیہا۔۔۔ کے بنا ۔۔۔ میں ۔۔اکیلا ہو گیا۔ہوں۔۔۔
بیہا۔۔۔۔پلیز۔۔ اٹھو۔۔۔۔ یوں۔۔۔ مجھے چھوڑ کے مت جاٶ۔۔
سعدی آنسو ضبط کرتا بیہا کے اوپر سر مارتے رونے لگا۔
نیچے اے ڈی کو ہنسی ضبط کرنامشکل لگ رہا تھا۔
وہ تو شکر تھا۔ رات تھی اور اندھیرا تھا۔ ورنہ وہ پھس ہی جاتے۔
میرا خیال۔کون رکھےگا۔۔ بیہا۔۔۔۔۔؟؟
مجھ سے پیار ۔۔۔ کون کرے گا۔۔۔۔؟؟
ایک تم ہی تھی۔۔۔ میری زندگی۔۔۔!
تم بھی۔۔۔ چلی گٸ۔۔۔۔!!
مونا کو سعدی کا تڑپنا تکلیف دے گیا تھا۔
نہیں۔۔۔!! تمہارے بنا۔۔۔ تمہارا سعدی۔۔ کچھ۔۔ بھی نہیں۔۔
مجھے بھی۔۔ تمہارے ساتھ۔۔۔ ہی مرنا ہے۔۔۔!!
میں آرہا۔۔۔ ہوں۔۔ بیہا۔۔۔!!
پاکٹ سے گن نکال۔کے اپنی کنپٹی پے رکھی۔
یہ۔۔۔۔۔ یہ کیا۔۔۔۔ کر رہےہیں۔۔ آپ۔۔۔۔؟؟
مونا نے فوراً اسکا گن والا۔ہاتھ نیچے کیا۔
کیا کروں۔۔۔ پھر۔۔۔؟؟ بیہا کے بنا جینا۔۔۔ گوارا نہیں۔۔۔۔!!
میں اکیلارہ گیا ہوں۔۔۔ مونا۔۔۔جی۔۔۔۔!! وہ بلک اٹھا۔
مونا نے اس کےآنسو۔۔ صاف کرتے اسے حوصلہ دینا چاہا۔
میں۔۔۔۔ ہوں۔۔۔ ناں ۔۔۔ آپ کے ساتھ۔۔۔۔!! سعدی۔۔۔۔!!
پلیز۔۔ خود کواکیلا۔نہ سمجھیں۔۔۔۔!!
کیا۔۔۔کیا۔۔مطلب۔۔۔۔؟؟ آپ ۔۔۔۔مجھ سے۔۔۔۔شادی۔۔۔۔ کریں۔۔۔۔ گیں۔۔۔؟؟
سعدی کچھ زیادہ ہی فاسٹ چل رہا تھا۔۔۔
یہ پلان کا حصہ نہیں تھا۔اے ڈی پریشان ہوا۔
مونا کادل زور سے دھڑکا۔ اس کے سپنوں کا راجکمار خود اسے شادی کی آفر کرہا تھا۔
نہی۔۔۔نہیں۔۔۔میرامطلب۔۔۔ہم اچھے دوست۔۔۔۔!!
مجھے دوستی نہیں۔۔۔ محبت چاہیے۔۔۔۔۔!! مونا جی۔۔۔!!
ورنہ جاٸیں۔۔۔ چلی جاٸیں۔۔ یہاں سے۔!
سعدی نے نروٹھے لہجے میں کہا۔
میری ساری دولت لے لو۔۔۔۔بس مجھے۔۔۔بیہا لادو۔۔
کوٸی بھی نہیں۔۔۔ میرا۔۔۔
اکیلا جی کے کیا کروں گا۔۔۔۔۔۔؟؟
پلیز۔۔۔۔۔۔!! سعدی۔۔۔۔یہ۔۔۔سب۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔؟؟
مجھے۔۔۔ جینا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔!!
مجھے نہ روکیے گا۔۔۔۔!! پسٹل پھر سے کنپٹی پے رکھی۔
نہی۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔!!
ایسا۔۔۔ مت کریں۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ !! مونا کی آنکھوں میں بھی آنسو آگۓ۔
کاش۔۔۔۔ بیہا۔۔۔۔ زندہ ہوتی۔۔۔۔۔ آپ نے۔۔۔ مجھ سے چھین۔۔۔لیا بیہا کو۔۔۔۔!!
بیہا۔۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ کھولو۔۔۔ میری جان!!
میں نے آنکھیں۔۔۔ کھولیں۔۔۔ ناں۔۔۔ تو ۔۔ تمہاری آنکھیں۔۔۔ بند ہو جانی ہیں۔۔۔
اے ڈی دل میں بولا۔۔
اتنی اوور ایکٹنگ۔۔۔۔۔۔!!
اے ڈی عمر کے ایکٹنگ پےزچ آرہا تھا۔
ٹھی۔۔۔۔ٹھیک۔۔۔ ہے۔۔۔۔ میں۔۔۔ کروں۔۔۔ گی۔۔۔ آپ سے۔۔۔۔شادی۔۔۔۔!!
بس آپ۔۔ یہ گن۔۔۔ نیچے کرلیں۔۔۔۔
مونا دل کےہاتھوں مجبور ہو کے ہاں بول دیا۔
آپ۔۔۔۔ سچ۔۔۔ کہہ رہی ہیں۔۔۔۔؟؟
عمر نے خوش ہوتے کہا۔۔
اور وہ پیار کی اندھی۔۔۔ اسے ۔۔۔ سعدی ہی چاہیے تھا اب۔
زلفی۔۔۔ نے ہمیشہ اس کا استعمال کیا تھا۔ دولت کے لیے
وہ۔۔ہر دفعہ اسکی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتی تھی۔۔۔
اور جب بھی۔۔۔ اسے شادی کہتی وہ ٹال جاتا۔
وہ گھر بسانا چاہتی تھی
۔ سعدی اسے پسند بھی تھا۔ وہ خود آفر بھی کر رہا تھا۔
دولتمند بھی تھا۔ اسکی ساری خواہشات بھی پوری کر سکتا تھا۔
اور زین اور زلفی سے جان بھی چھڑا سکتا تھا۔
ایک لمحے میں اس نے سعدی کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔
آپ۔۔۔۔ بہت۔۔ اچھی ۔۔۔ ہیں۔۔۔
سعدی مسکایا۔
اس۔۔۔۔ لاش۔۔۔ کا کیا۔۔۔ کریں۔۔ گے۔۔۔؟؟ کسی نے دیکھ لیا۔۔ تو ۔۔۔ مٸسلہ۔۔۔۔؟؟
مونا۔۔ کو فکر ہوٸی اب۔۔۔
آپ اسکی ٹینشن نہ لیں۔۔۔۔ میرے آدمی اسے۔۔ ٹھکانے لگا دیں گے۔۔۔۔
لیکن آپ۔۔۔ اپنی بات سے مکرنا نہ۔۔۔۔!!
سعدی کھڑا ہوتا بولا۔
کبھی نہیں۔۔۔۔!! آپ۔۔۔ بھی۔۔۔ میرے ساتھ وفا کرنا۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے عہد و پیماں کر رہے تھے۔
اے ڈی نےہلکے سی آنکھیں وا کیں۔
توبہ توبہ۔۔۔۔ یہ بندہ تو بہت ہی فاسٹ نکلا۔۔۔۔
جھوٹی محبت ۔۔ میں اسکا یہ حال ہے۔۔۔
سچی محبت کرے گا۔۔۔ تو آندھی طوفان ہی آۓ گا۔
*************
امی۔۔۔!!
سبحان کا فون آیا ہے۔۔
آپ سے بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔
انوشے نے فون رابیہ بیگم کو تھمایا۔
خیر خیریت کے بعد سبحان مدعےپے آیا۔
رابیہ بیگم اسکی ات سن کر چپ سی ہوگٸیں۔
ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔!! کب ہے شادی۔۔۔۔؟؟
دل ان کا اداس سا ہوگیا۔
اسی مہینے کے اینڈ تک ہے ارادہ۔۔۔
سبحان کی آواز بھی دھیمی ہو گٸ۔۔۔
سبحان کولگا عمر نے صلہ اور اسکے متعلق سب بتا دیا ہوگا۔
لیکن رابیہ بیگم۔کی باتو ں سے یہی لگا وہ ہر بات سے انجان ہیں۔
کیاکچھ نہ سوچا تھا اس نے تابی اور عمر کو لے کے۔۔۔
اور اب وہ تابی کی شادی۔۔۔ کہیں اور طے کر چکا تھا۔
اللہ نصیب اچھے کرے۔
ہم آجاٸیں گے۔۔۔۔!!
شہریار کا اور۔۔۔ زین کا کچھ۔۔۔ کہہ نہیں سکتی۔۔۔
وہ دونوں ہی یہاں۔۔ نہیں۔۔۔
میں اور ۔۔۔ انوشے آجاٸیں گے۔۔۔
رابیہ بیگم نے دل پے پتھر رکھ کے کہا۔
اور فون بندکر دیا۔ آنکھوں میں آنسو آگۓ۔
امی۔۔۔۔ !! تابی کی شادی طے کر دی۔۔۔؟؟ وہ تو۔۔۔
ابھی ۔۔ا تنی چھوٹی ہے۔۔۔اور وہتو کہہ رہی تھی ابھی۔۔۔ آگے پڑھنا ہے اسے۔۔۔؟؟
انوشے پریشان ہوٸی۔
بیٹا۔۔۔!! ہر ایک کا اپنا گھر ہے۔۔ اور اپنی مرضی۔۔۔۔!!
ہم کون ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ کہنے والے۔۔۔۔؟؟
عمرسےاورشہریار سے رابطہ ہوا۔۔۔۔؟
جی۔۔۔۔۔جی فون آیا تھا۔۔۔۔
عمر بزنس کے سلسلے میں شہر سے سے باہر ہے۔۔۔
مشکل ہے ابھی لوٹے۔۔۔۔
شہریار۔۔۔ بھی کہہ رہے تھے۔۔۔ کام بہت زیادہ ہے۔۔۔دہکھیں۔۔۔ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟
انوشے دونوں کے لیے جھوٹ بولتے بہت گھبراٸی۔
اور وہاں سے اٹھ گٸ۔ کہ مزید نہ جھوٹ بولنا پڑے۔












سحر کی حالت کچھ دنوں میں کافی بہتر ہوگٸ تھی۔
لیکن کچھ داغ ہمیشہ کے لیےساتھ رہ جاتےہیں۔
سبحان نے ڈاکٹر سے سحر کو گھر لےجانےکاکہہ دیا تھا۔
ڈاکٹرز اجازت نہیں دے رہے تھے۔
لیکن سبحان نہ مانا۔
اس نے گھر کےہی ایک حصےکو ہاسپٹل بنا دیا ۔
سحر کے علاج اور ضرورت کی ہر شے مہیا کر دی۔
اور کل وقتی اک ڈاکٹر اور نرس کا بھی وہیں انتظام کر دیا۔
صلہ خاموشی سے اسے سب کرتا دیکھ رہی تھی۔
اس کے احسانات تھے کہ بڑھتے ہی جا رہے تھے۔
سحر گھر آکے بہت خوش تھی۔ صغرا خالہ ایک لمحے کےلیے بھی اسےاکیلا نہیں چھوڑتی تھیں۔
تابی بھی اُس معصوم کی حالت پے رنجیدہ تھی۔
اسکا دایاں کان کاندھا اور پچھلے سر کا دایاں حصہ متاثر ہوا تھا۔ اس کے بال کاٹ دیۓ گۓ تھے۔
جبکہ صلہ کو اپنی بہن کے بالوں سےعشق تھا۔
وہ چھپ کے رو لیتی اسکی حالت پے۔۔ لیکن اس کے سامنے ہمیشہ اس کا حوصلہ بڑھایا۔
سحر کے سونے کے بعد وہ اپنے روم میں آٸی۔ تو سبحان کسی گہری سوچ میں گم تھا۔
خاموشی سے اپنی جگہ صوفے پے جا کے لیٹ گٸی۔
سبحان چونکا۔
اور نظر صلہ پے جا ٹہری۔
کل شام کو تیار رہنا۔۔۔ میرے فرینڈ سرکل میں ایک پارٹی ہے ۔۔ جانا ہے۔۔۔!!
سبحان نے بنا کوٸی تمہید باندھے بات کی۔
صلہ نے چہرے سے بازو ہٹا کے اسے ایک نظر دیکھا۔ وہ اگنور کرتا باتھ لینےچلا گیا۔
صلہ سر جھٹک سونے کی کوشش کرنے لگی۔
وہ باہر آیا رو وہ نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی۔
گیلے بالوں کو ٹاول سے خشک کرتا وہ صلہ کی جانب دیکھتا بڑھا۔
بے اختیار نظر اسکی گردن پے گٸی۔
وہاں ابھی بھی ہلکا سا نشان باقی تھا۔
بے داغ شفاف گردن۔۔۔ اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔
بنا پلک جھکے وہ اسے دیکھا جا رہا تھا۔۔
بے اختیار ہی وہ آگے بڑھا۔ اور اس پے جھکا۔
اس نشان پے اپنے لبوں۔ کو رکھتے اس نے اپنے اندر سکون سا اترتا محسوس کیا۔
صلہ زرا سا کسمساٸی ۔تو وہ پیچھے ہو کے اسکے چہرے کو دیکھنے لگا۔
بہت قریب سے وہ اسکے ہر نقش کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتارنے لگا۔
وہ جانتا تھا صلہ کی نیند بہت گہری ہوتی ہے۔
اور اسی۔کا تو وہ فاٸدہ اٹھا رہا تھا۔
نظر بھٹکتی اسکے گلابی لبوں پے جا ٹھہری۔
دل نےایک بیٹ مس کی۔
آگے ہوا اسکی ناک سے ناک رب کی۔ انکھیں موندے وہ اسکی سانسوں کی مہک اپنےاندر اتارنے لگا۔
بے اختیار ہی اس کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا۔۔
اور جھٹکے سے فوراً پیچھے ہٹ گیا۔
وہ سبحان تھا۔۔۔ خود پے۔۔ قابو رکھنا آتا تھا اسے۔۔۔۔!!
سگریٹ کا پیکٹ اٹھاۓ وہ وہاں سے گیلری میں چلا گیا۔
محبت دھیرے دھیرے عشق کا روپ دھار رہی تھی۔ اور وہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔
یہ عشق کب سے صلہ کے لیے اسکی جستجو بنتا جا رہا تھا۔۔۔
وہ خود بھی انجان تھا ۔اس جذبے سے۔۔۔۔
اور اس عشق کی جستجو اسے اندر تک جلا رہی تھی۔۔لیکن بہت دھیرے دھیرے۔۔۔۔۔۔






اے ڈی کب سے میک اپ ریمووکر رہاتھا۔۔۔۔
لیکن بیس جو لگاٸی۔۔۔ اس نے اپنا رنگ نہیں اتارا۔ اور عمر۔۔۔ کا ہنس ہنس کے برا حال تھا۔
یار۔۔۔۔ اب بس بھی کریں۔۔۔
آپ بھی ناں۔۔۔!!
اے ڈی نروٹھے پن سے بولا۔
میری جان۔۔۔۔ بیہا۔۔۔۔!! ایسے تو نہ کہو۔۔ اپنے سعدی کو۔۔۔۔!
عمر پھر ہنسا۔۔۔۔
حد ہے۔۔۔۔ پلان کے مطابق تو آپ نے کچھ کہا نہیں۔۔۔
کیاکیا ڈاٸیلاگ مار رہے تھے۔۔۔۔۔!! قسم سے ہنسی کنٹرول کرنا مشکل۔ہو گیا تھا مجھ سے۔۔۔
اے ڈی بھی اب ہنس دیا۔
ویسے۔۔۔ وہ لڑکی لکی ہوگی جو آپ کی لاٸف میں آۓ گی۔۔۔! آپ نے تو رومانس میں پی ایچ ڈی کی ہوٸی ہے۔۔۔!!
اے ڈی کی بات پے عمر کی ہنسی کو بریک لگی۔
خیالوں میں اس نادان کا چہرہ لہرایا۔
اب کے ہونٹوں پے الگ سی ہی مسکراہٹ نے بسیرا کیا۔
اسےکیا خبر ان جذبوں کی۔۔۔۔۔
جب ملوں گا تو ہر انداز سے نہاروں گا
اے ڈی نے اس بدلتے رنگ کو بہت غور سے دیکھا۔
لگتا ہے۔۔۔۔۔ خود یہاں ہیں۔۔۔۔
دل۔۔۔ پاکستان میں ہی ہے۔۔۔۔۔!!
اے ڈی نے اندازہ لگا لیا۔
عمر نےاس بارے میں بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔
نہ وہ اپنے جذبے آشکار کرنا اچھا سمجھتا تھا نہ اپنی بیوی کا کسیغیر کے ساتھ زکر کرنا۔
اے ڈی بھی سمجھ گیا۔ اس لیے مزید نہ کریدا۔
آگے کی پلاننگ کرنے لگے۔جو آخری اور کہانی کا اینڈ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







پارٹی اپنے عروج پے تھی۔
مسٹر اینڈ مسز ذولفقار کی میرج اینیورسری تھی۔
اوپن ماٸینڈ ڈ ماحول تھا۔۔
بے باکی عروج پے تھی۔
ان سب میں صلہ سب سے الگ ہی لگ رہی تھی۔
اسکی ڈریسنگ بھی ان سب سے ہٹ کے تھی۔
واٸیٹ کلیوں والے فراک ساتھ میں لال رنگ کا ہیوی دوپٹہ تھا۔
سر پے واٸیٹ کلر کا ہی اسکارف لیے وہ سبحان کے دل میں اتری جا رہی تھی۔
لیکن بہت سی نظروں میں جہاں اسکے لیے عزت اور پسندیدگی تھی۔ وہیں بہت سوں نے اسے ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھا۔
لیکن صلہ انکی پرواہ کب کر رہی تھی۔ الگ سے ایک کونے میں بیٹھی سبحان کے فری ہونے کا انتظار کر ہی تھی۔
اوہ۔۔۔۔ یو۔۔۔۔۔ لکنگ۔۔ سو گارجٸیس۔۔۔!!
you r subhan’s wife…..???
ایک خوبصورت سی لیڈی نے آ کے صلہ کو پیار سے کہا۔
صلہ ان سے اٹھ کے ملی۔
سبحان بھلے ۔اپنے بزنس سرکل میس کھڑا تھا۔
لیکن اسکا ایک لمحے کو بھی صلہ سے دھیان نہ ہٹا تھا۔
ہاں۔۔۔ یہی ہے وہ مڈل کلاس۔۔۔۔
مسز ذوالفقار نے منہ بگاڑ طنز سے کہا
صلہ کے چہرے کی خوشی ماند پڑی ۔ جسے دور سے ہی سبحان نے نوٹ کر لیا۔
کیا مطلب۔۔۔۔۔؟؟
وہ لیڈی حیران ہوٸی۔
پتہ نہیں۔۔۔۔ کون۔۔ہے۔۔۔؟؟ کہاں سے آٸی ہے۔۔۔۔۔؟؟
سبحان نے ٹاٹ کاپیوند سر کا تاج بنا لیا۔۔۔۔
گگمسز ذوالفقار کی بات پے صلہ کی آنکھیں شدتِ ضبط سے نم۔ہوٸیں۔
Ohhhhhh
دیکھ کے لگتاتو۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔؟؟
She is so.. cute…..!!!
صلہ ان لیڈی کو بہت پسندآٸی تھی۔
ہاں۔۔۔ ناں۔۔۔۔ نیا نیا پیسہ جو ملا ہے۔۔۔۔ کچھ تو چینج آۓ گا ناں۔۔۔۔۔۔ فقیروں میں۔۔۔۔
مسز ذوالفقار کے لہجے میں حقارت تھی۔
آنٹی۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔!!
آنسو بندھ توڑ کے بہنے والے ہی تھے۔
کیا آنٹی۔۔۔۔؟؟
dont call me anty…. you bloody…..
تم جیسی حرافہ ہی ہوتی ہیں۔۔۔ جو امیر لڑکوں کو پھنسا کے انکی دولت پے عیاشی کرتی ہیں۔
اب کی بار نفرت سے بولا۔
اور سب کی وجہ۔۔۔ سبحان کا انکی بیٹی کرن کو ریجیکٹ کرنا تھا۔
بدلہ تو لینا تھا انہوں نے۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔۔۔!! سبحان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔ تو دوستوں سے ایکسکیوز کرتا صلہ کی جانب بڑھا۔
یار۔۔۔ ماریہ۔۔۔۔!! کنٹرول یور سیلف۔۔۔۔!!
ان لیڈی نے گھبرا کے مسز ذوالفقار کو چپ کرانا چاہا۔
لیکن صلہ کے اندر مزید کچھ سننے کی ہمت نہ تھی۔
اسلیے وہاں سےے باہر کی طرف بھاگتی ہوٸی نکلی۔
سبحان بھی اسی کےپیچھے ہی باہر نکلا۔










باہر آ کے صلہ نے کھلی ہوا میں سانس لیا۔ اور خود کو نارمل کرنا چاہا۔
شدتِ ضبط سے اس کے آنسونکل آٸے۔
اسے کم ماٸیگی کا احساس جو دلایاگیا وہ اسکی روح کو زخمی کر گیا تھا۔
صلہ۔۔۔!! تم باہر کیوں آٸی۔۔۔؟؟ سبحان اسی کےپیچھے آیا تھا۔
مسٹر ایس کے۔۔۔!! مجھے۔۔ اپنی ان پارٹیوں سے دور رکھیں۔۔۔۔
جہاں آپ اور آپ جیسے سطحی سوچ کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ میں ۔۔۔ آپ جیسی نہیں۔۔۔
اور ۔۔۔ نہ ہی بن سکتی ہوں۔
صلہ نے اندر ہوۓ واقعہ کا سارا غصہ سبحان پے اتار دیا۔
تمہیں۔۔۔ اتنی اکڑ کس بات کی ہے۔۔۔۔؟؟ سبحاننے اسے بازو سے پکڑ اپنی طرف کیا۔
ہماری ڈیل ہوٸی ہے۔۔۔۔ اگر۔۔۔ یاد نہیں۔۔۔۔ تو میں یاد۔۔۔۔؟؟
ڈیل۔۔۔ مں یہ کہیں۔۔۔۔ نہیں تھا۔۔۔۔ کہ آپ مجھے۔۔۔ بات بات ہر جگہ لے جا کے اپنے جیسے بے حس لوگوں سے زلیل کراٸیں گے۔
سبحان جو غصہ میں بول رہاتھا۔ صلہ نے لرزتی آواز میں لیکن مضبوط لہجے میں کہتے سبحان کو چپ کرا دیا۔
آپ۔۔۔ کرتے ہیں۔۔۔ ناں۔۔۔ بات بات پے۔۔۔ بے عزت۔۔۔لیکن ۔۔۔ گھر میں۔۔۔ !!
یوں۔۔۔ سب کے سامنے۔۔۔ بے عزت مت کریں۔۔۔ پلیز۔۔۔!!
صلہ نے بے بسی سے ہاتھ جوڑے۔
اسی لمحے اسکا گرنے والاآنسو سبحان نےاپنی انگلی کی پور پےاٹھا لیا۔ اور اسے دیکھے گیا۔
صلہ نے نظریں پھیر لیں۔
سبحان نے آگے بڑھ کر صلہ کا ہاتھ تھاما۔ا ور واپس اندرلے کے گیا ۔
مسز ذلفقار۔۔۔!! سبحان نےکافی اونچی آواز میں پکارا۔
تو سبھی ایک لمحے کےلیے چونکے اور سبحان کیطرف متوجہ ہوۓ۔
مسز ذولفقار جو کسی بات پےمسکرا رہیں تھیں۔
سبحان کی پکار پے مڑیں۔
سبحان صلہ کا ہاتھ تھامے انکی طرف بڑھا۔ صلہ اسکے ساتھ کھینچی چلی گٸی۔
معافی مانگیں۔۔۔۔!!
صلہ کو سامنے کرتے سخت اور اونچی آواز میں کہا۔
وہاں مجود سب لوگ حیران ہوۓ۔
ہاٸی سوساٸیٹی میں مسز ذولفقار کا ایک نام تھا۔ اک مرتبہ تھا۔
کیا۔۔۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔ ؟؟ کس بات کی معافی۔۔۔۔۔؟؟
وہ بھی اکڑ کر بولیں۔
میں دوبارہ نہیں کہوں گا۔۔۔۔۔!! اور جو میں کروں گا۔ وہ آپ کو یقیناً پسند نہیں آٸے گا۔ کیونکہ میں بولنے سے زیادہ کرنے پے یقین رکھتا ہوں۔
شیرکی طرح وہ غرایا۔
سبحان۔۔۔۔!! تم میری ۔۔ بیوی سے ایسے بات نہیں کرسکتے۔
مسٹر ذوولفقار نے بیچ میں آکے ٹوکا۔
آپ کی بیوی اپنی دو ٹکے کی زبان استعمال کر کے اپنا واہیات فیملی بیک گراٶنڈ بتا سکتی ہیں۔۔۔۔۔ تو سامنے والا چپ چاپ سنتا رہے۔۔۔۔۔؟؟ نوو۔ وے۔۔۔۔!!
سبحان نے سخت الفاظ کا چناٶ کیا ۔ جس سے مسز ذولفقاد کو آگ لگ گٸی۔
مسٹر سبحان۔۔۔۔!! مت بھولو۔۔۔ کہ اس وقت تم ۔۔ میرے گھر میں کھڑے ہو۔۔۔۔!!
To hell with you ghar…
میری بیوی سے معافی مانگو۔
سبحان نے اسکی بات کاٹی۔
اور اگر نہ مانگوں تو۔۔۔۔۔۔؟؟
سبحان کے بالکل سامنے کھڑی اس نے پھنکار کے کہا۔
سبحان نے ایک نظر صلہ پے ڈألی۔
وہ اسکی آنکھ کااشارہ سمجھ گٸ۔ آگے بڑھ کےایک زورد ار طمانچہ مسز ذولفقار کے منہ پے مارا۔ وہ منہ پے ہاتھ رکھے صلہ کو دیکھتی حقہ بکا رہ گٸ۔
مسٹر ذولفقار جارحانہ انداز میں آگے بڑھے ۔ لیکن سبحان کے صلہ کے آگے ڈھال بن جانے پے وہیں رک گۓ۔
بھول کے بھی یہ غلطی مت کرنا۔۔۔۔!!
میری بیوی کی طرف۔۔۔ ایک قدمبھیبڑھایا۔۔ تو اپنے پاٶں پے سلامت نہیں رہو گے۔
سبحان نے غراتےہوۓ کہا۔
مسٹر ذولفقار تلملاتے رہ گۓ۔ سبحان صلہ کو لیے وہاں سے باہر نکل۔آیا۔
صلہ کے چہرے پے خوشی تھی۔ اسے آج احساس ہو رہا تھا۔ کہ کوٸی ہے۔۔۔ جو صرف اسکا ہے۔
تھینکیو۔۔۔۔۔!! میری ۔۔۔عزت ۔۔۔۔ کے۔۔۔۔
تم۔۔۔ سبحان حیات کی بیوی ہو۔۔۔۔!! کسی کی جرأت نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کےبھی دیکھنے کی۔۔۔۔۔
اور اسی لیے۔۔۔ یہ سب کیا۔
کسی۔۔۔ خوش فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔
سبحان نے اسکی آنکھوں کے جلتے دیپ کو بجھانے کی کوشش کی۔
لیکن صلہ مسکرا دی۔
گاڑی کادروازہ کھولتا وہ اسکی مسکراہٹ پے رکا۔
کیا۔۔۔۔۔؟؟
کیا۔۔۔۔۔؟؟ صلہ نے بھی حیرانی سے پوچھا اسی کے انداز میں۔
سبحان دانت پیستا رہ گیا۔
اس لڑکی کا بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔
ابھی رو رہی تھی۔۔۔ اب ۔۔ مسکراہٹ ہی نہیں جا رہی۔
صلہ دھیرے سے بڑھتی سبحان کےقریب آٸی۔
سبحان نے ایک قدم پیچھےلیا۔ حیرانی سے اسے دیکھا۔
اسے صلہ کا یہ انداز عجیب لگا۔
صلہ ایک اور قدم بڑھی تو وہ ایک اور قدم پیچھے ہوا
۔اور دھیرے دھیرے گاڑی کے ساتھ جا لگا۔
کیا۔۔۔ہوا۔۔۔۔؟؟ مسٹر۔۔۔ ایس کے۔۔۔؟؟ ڈر گۓ۔۔۔؟؟
قریب ہوکے شرارت سے پوچھا۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی اسے یہ شرارت بہت مہنگی پڑنے والی ہے۔۔۔
سبحان نے ایک نظر اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
اور اگلے ہی لمحے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال اسے اپنی جگہ کیا اور خود اسکی جگہ کھڑا اس کے بہت قریب ہو گیا تھا۔
صلہ کا تو دل اچھل کے حلق میں ہی آگیا۔
کیا ۔۔۔ کہہ رہی تھی۔۔۔۔ زرا۔۔۔ پھر سے کہنا۔۔۔۔؟؟
سبحان بہت گھمبیر لہجے میں بولا۔
صلہ نے نفی مں گردن ہلاٸی۔۔۔
نہیں۔۔۔ بولو۔۔۔۔کیا تھا۔۔۔ وہ۔۔۔۔؟؟ ڈر۔۔۔؟؟ کچھ ۔۔۔۔
ایسا ۔۔۔ ہی کہا تھا۔۔ناں۔۔!!
کہتے ساتھ ہی کمر پے دباٶ بڑھاتے اور خود کے قریب کیا۔
صلہ کے دل کی دھڑکن سبحان کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔۔
وہ۔۔۔۔ میں۔۔ میں۔۔۔۔!!
صلہ اس شیر کوتنگ کر کے پچھتاٸی۔
ہممممممم۔۔۔۔۔۔ سبحان دھیرے دھیرے تھوڑا فصلہ مٹاتا اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کر گیا۔
صلہ نے اپنی سانس روک لی۔۔۔۔
بس۔۔۔ اتنی ہی۔۔۔ ہمت تھی۔۔۔۔؟؟
سبحان نے اسے دیکھتے مسکاتے ہوٸے کہا اور اس کے کان کے قریب جھکا۔
you are looking so beautiful….
Like fairy……!!
آنکھیں بند کیے وہ صلہ کو اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا۔
جبکہ خود بھی اسکی قربت کا طلبگار ہو رہا تھا۔
سبحان کی اتنی سی تعریف پے صلہ بلش کرنے لگی۔
پیچھےہوتے سبحان نے یہ نظارہ خوب انجواۓ کیا۔
گھر چلیں۔۔۔۔؟؟ باقی آپ کے رومانس کاشوق گھر ۔۔۔ جا کر پورا لیں گے۔۔۔ اپنے۔۔۔بیڈ روم میں۔۔۔؟؟
سبحان اس کے قریب ہوتے مسکراہٹ ضبط کیے بولا۔
صلہ نےپلکیں اٹھا کے حیرت سے اسے دیکھا۔
ایک لمبی سانس خارج کرتی وہ سبحان کو گھورتی گاڑی میں بیٹھتی زور سے گاڑی کا دروازہ بند کر گٸ۔
صہ کو آج پہلی بار یوں تنگ کرتے آج سبحان کا انداز ہی بدل گیا تھا۔
گاڑی اسٹارٹ کرتے سونگ پلے کیا۔
تُو ہی حقیقت ۔۔۔۔۔خواب تُو۔۔۔۔۔
دریا تُو ہی ۔۔۔پیاس تُو۔۔۔
تُو ہی دل کی بے قراری۔۔۔
تُو سکوں۔۔۔۔ تُو سکوں۔۔۔۔
جاٶں اب جس جگہ۔۔۔۔
پاٶں۔۔ مں تجھ کو اس جگہ۔۔۔
پاس ہوکے۔۔۔ نہ ہو تُو۔۔۔ ہی روبرو۔۔۔۔۔
تُو ہمسفر ۔۔۔
تُو ہمقدم ۔۔۔۔
تُو ہمنوا میرا۔۔۔۔۔۔۔
