Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan NovelR50515 Mera Ishq Teri justujoo (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq Teri justujoo (Episode 11)
Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
شہریار اس شخص کا فون نمبر اور ایڈریس لے آیا تھا۔
اب اس نے اگلا لاٸحہ عمل تیار کرنا تھا۔
کہ سانپ بھی مر جاۓ اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے
اسی لمحے انوشے کی کال آٸی۔
اس سے گھر کا حال احوال پوچھا۔
اور ادھر جو آج زلفی سے بات ہوٸی۔ وہ انوشے کے گوش گذار دی۔
اب سمجھ نہیں آرہی۔۔۔ آگے کیا۔۔۔ کروں۔۔۔
ایک دل کہتا ہے اس پے اعتبارکرلوں۔۔۔ لیکن ۔۔۔ پھر دل مانتا بھی نہیں۔۔۔۔
ہمممم۔ممم۔آپ اللہ کا نام لے کے آگے بڑھیں۔ راستہ اللہ خود بناۓ گا۔
انوشے نے تسلی دی۔
فون بند کرتے ہی شہریار گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
واقعی خدا نے راستہ دکھایا تھا۔ تو انشا اللہ منزل پے بھی پہنچاۓ گا۔









آپ اب ٹھیک ہیں ناں۔۔۔۔۔۔؟؟
صلہ نے عابدہ بیگم سے فکر مندی سے پوچھا۔
وہ ہاسپٹل میں تھیں۔ اور ان کا بہت اچھے سےعلاج جاری تھا۔ اور سیکیورٹی بھی بہت سخت تھی۔
شکر اللہ کا بیٹا۔۔۔۔!! کوٸی نیکی کام آگٸ۔۔۔۔۔ جو اتنا اچھا انسان ہماری زندگی میں آیا۔۔۔۔!!
سبحان کے لیے عابدہ بیگم کا دل بہت خوش تھا۔
صلہ نے گہرا سانس لیا۔
آپ کو ۔۔۔۔ وہ اچھا لگا۔۔۔۔؟؟
صلہ نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
وہ بہت اچھا ہے صلہ۔۔۔۔۔!! اسکی قدر کرنا۔۔۔۔
میں تو تمہارے بابا کی قدر نہ کر پاٸی۔۔۔۔ آنکھیں نم ہوٸیں۔
لیکن۔۔۔۔ تم ۔۔۔ ہمیشہ اپنے شوہر کی قدر کرنا۔۔۔۔۔ اسکا ساتھ نبھانا۔۔۔۔!! اس رشتے کو ہمیشہ ۔۔۔ مضبوط رکھنا۔۔۔۔!
وہ ماں تھیں۔۔۔۔ ٹھوکریں کھا چکی تھیں۔ بیٹی کو نصیحت ہی کر سکتی تھیں۔
آپ ۔۔۔۔ اپنا ۔۔۔۔۔ خیال رکھیں۔۔۔۔!! میں پھر آٶں گی۔۔۔!!
صلہ وہاں سے اٹھی۔۔۔!
اگلی بار۔۔۔۔۔ سحر کو بھی لے آنا۔۔۔۔۔
بہت یاد آرہی ہے ۔۔۔اسکی۔۔۔!!
کیسی ہے وہ۔۔۔؟؟
وہ بھی آپ کو بہت یاد کرتی ہے۔
انشا اللہ اگلی بار ساتھ لاٶں گی۔۔۔
سحر کے ذکر پر صلہ کا لہجہ خود بخود میٹھا ہو گیا۔
باہر نکلتے گاڑی میں بیٹھتے وہ سحر کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔۔۔ اور مسکرا رہی تھی ۔
سحر ہی تو اسکے جینے کی وجہ تھی۔
گاڑی سگنل پر رکی تو اس کے موباٸیل پے بیل ہوٸی۔
سبحان کو نمبر دیکھ اس کے منہ کے زاویے بگڑے۔
ہیلو۔۔۔۔!! آرہی ہوں۔۔۔ گھر۔۔۔۔!! اتنی بھی کیا بےاعتباری۔۔۔؟؟
نروٹھے پن سے کہا۔
صلہ یکدم چپ ہوٸی۔ سبحان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکراٸی۔ اسے لگا۔۔ جیسے۔۔۔ پگھلتا سیسہ اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو۔
کہا۔۔۔۔۔ں۔۔۔۔؟؟
ڈراٸیور کو گاڑی کو ہاسپٹل کی جانب موڑنے کو کہا۔
دل تھا کہ بے تحاشا دھڑک رہا تھا۔اور دل ہی دل میں وہ سحر کی سلامتی کی دعاٸیں مانگ رہی تھی۔
سبحان نے اسے ساری بات نہ بتاٸی تھی۔لیکن ۔۔۔یہی بات ۔۔۔کہ سحر ہاسپٹل میں ہے۔۔۔ اسکی جان نکالنے کو کافی تھی۔








علی۔۔۔ علی۔۔۔بخش۔۔۔۔۔۔!!
مجھے۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ بچا لو۔۔۔۔
چھپالو۔۔۔کہیں۔۔۔۔۔!!
رمضان گھبرایا ہوا۔۔ علی بخش کے ڈیرے پے پہنچا۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ اب کیا کر آیا ہے تو؟؟؟
علی بخش اسے دیکھ منہ بنانے لگا۔
بس۔۔۔۔ بس۔۔۔ مجھے۔۔۔ بچا لے۔۔۔۔۔۔۔!! تو دوست۔۔۔۔ہے۔۔۔ناں۔۔۔ میرا۔۔۔ دوستی کا حق ادا کر۔۔۔۔ اور۔۔۔مجھے۔۔۔ چھپا لے کہیں۔۔۔۔؟؟
رمضان بہت گھبرا یا ہوا تھا۔
اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
بہت بڑا کھیل کھیل آیا تھا وہ۔۔!!
اور سب سے بڑا مسٸلہ اسے یہ تھا۔۔۔۔ کہ۔۔۔ سحر نے اسے دیکھ لیا تھا۔
جب رمضان نے اس پے تیزاب پھینکا۔ تب اسکی پیٹھ نہیں تھی۔
رمضان نے تو اسکے منہ پے تیزاب پھیکنا چاہا تھا۔ پر اسی لمحے وہ پلٹی تھی ۔۔۔
اسکی تڑپ پے وہ وہیں سکتے میں آگیا تھا اس لمحے۔
اور اس نے پلٹ کے دیکھا تھا۔ اور رمضان اسی لمحے ہڑبڑی میں وہاں سے بھاگا تھا۔
اور اب چھپتا چھپاتا علی بخش کے ڈیرے پے پہنچا تھا۔
اچھا۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔!! ٹھیک ہے۔۔۔ جا اندر جا ۔۔۔۔ تیرے ۔۔۔ چھپنے کا بندوبست کرتا ہوں۔
علی بخش نے اسے اندر بھیجا۔
وہ فوراً اندر بھاگا۔
علی دادا۔۔۔۔!! کیا آپ اسکی مدد کریں گے۔۔۔؟؟
بھول گۓ۔۔۔۔اسکی وجہ سے ہمارے ڈیرے کا کیا حال۔ہوا تھا۔
اسکے ایک بندے نے اسے پرانی بات یاد کراٸی۔
میں پاگل ہوں۔۔۔ تو پتہ کر۔۔۔۔۔۔یہ کیا کر کے آیا ہے۔۔۔۔؟؟
اسکے بعد دیکھتے ہیں۔ کیا کرنا ہے۔
علی بخش سوچتے ہوۓ بولا۔
وہ اب رمضان کی باتوں میں آنے والا نہ تھا
۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ہممممممم۔۔۔۔ممم۔۔!!
یہ لڑکی۔۔۔۔ فراڈ ہے۔۔۔۔!!
اے ڈی اور عمر اس وقت گاڑی میں بیٹھے مونا کا تعاقب کر رہے تھے۔ مونا آفس سے نکلی۔ تو اے ڈی اسے پہچان گیا۔
کیا مطلب ۔۔۔؟؟ تم اسے۔۔۔ جانتے ہو؟؟
عمر نے حیرت سے پوچھا۔
سر۔۔۔!! یہ اور۔۔۔ اسکا ایک بواۓ فرینڈ ہے۔۔۔۔
دونوں مل کے لوگوں کو اپنے جال۔میں پھنسا کے پیسہ اینٹھتے ہیں۔ ۔۔۔۔ اور ہر دفعہ بچ جاتے ہیں۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔اس بار نہیں بچیں گے۔۔۔اے ڈی انہں رنگے ہاتھوں پکڑے گا ۔۔۔ اور جیل کی سیر کراۓ گا۔
آگے کیا کرناہے۔۔۔۔۔؟؟
سر اسکا پیچھا کرتے ہیں۔۔۔۔ یقیناً یہ۔۔۔۔ اپنے بواۓ فرینڈ سے ملنے جا رہی ہو گی۔۔۔!!
اے ڈی فوراً بولا۔ا ور ساتھ ہی گاڑی بھی آگے بڑھا دی۔
اور تھوڑا فاصلہ رکھتے اس کاپیچھا کرنے لگے۔
وہیں دوسری طرف۔۔۔۔
ہاسپٹل کے کاریڈور میں وہ دیوانوں کی طرح بھاگے جارہی تھی۔
نہیں جانتی تھی کہ.وہ راستے میں کس کس سے ٹکراٸی ہے۔
اسے۔۔۔ بس اپنی بہن کو دیکھنا تھا۔
اس سے ملنا تھا۔۔۔۔
آنکھیں اسکی ایک دم سے پتھرانے لگیں۔
ادھر سے ادھر ۔۔۔ داٸیں سے باٸیں۔۔۔
اسے سب گڈمڈ سا نظر آرہا تھا۔
بھانت بھانت کی آوازیں۔۔۔ وہان آوازوں میں اپنا وجود دبتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
آنکھیں موندلیں۔
کنپٹی کو دونوں ہاتھوں سہلایا۔
خود کو نارمل کرنےکی کوشش کی۔
جیسے ہی آنکھیں کھولیں۔
سمانے ہی سبحان نظر آیا۔
ایک لمحے کی دیری کیے بنا وہ اسطرف بھاگی۔ سبحان بھی اسے دیکھ چکا تھا۔
میر۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔۔۔۔ ب۔۔۔بہ۔نن۔۔۔۔۔۔!!
صلہ کے منہ سے بمشکل آنسو ضبط کرتے الفاظ نکلے۔
آٸی سی یو میں ہے۔۔۔۔!! دھیمے لہجے میں بولا۔
وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ ٹھی۔۔۔۔یک۔۔۔۔۔؟؟
صلہ نہیں بول پارہی تھی۔۔۔۔
وہ سحر کے متعلق کچھ بھی برا سننے کے پوزیشن میں نہ تھی۔
ہو۔۔۔۔ جاۓ ۔۔۔ گی ٹھیک۔۔۔۔!!
اللہ۔۔۔ پے بھروسہ رکھو۔۔۔!!
سبحان نے اسے حوصلہ دیناچاہا۔
لیکن وہ نفی میں گردن ہلاتی پیچھے ہٹی۔
مجھ۔۔۔۔ مجھے۔۔ملنا۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔ ابھی۔۔۔۔!!
ضدی اندازمیں کہا۔۔۔
اور بے تابی سے آٸی سی یو کی جانب بڑھی۔
اسی لمحے ڈاکٹر آٸی سی یو سے باہر آٸی۔
ایک نظر صلہ کو دیکھا۔ اور سبحان سے مخاطب ہوٸی
مسٹر سبحان۔۔۔!! بچی کی کنڈیشن بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے۔۔۔
اسکی بیک ساٸیڈ۔۔ شولڈر ۔۔۔ نیک اور جسم کا کچھ حصہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔۔۔۔
ہمیں۔۔۔۔ فوراً۔۔ ان کی پہلی سرجری کرنی پڑی گی۔۔۔!!
ڈاکٹر کی بات سن صلہ لڑکھڑاٸی۔
سبحان نے فوراً اسے تھاما۔
ڈاکٹر۔۔۔!! کچھ بھی کریں۔۔۔۔۔
مجھے سحر۔۔۔ واپس پہلے جیسی چاہیے۔۔۔۔!!
اچھےسےاچھے۔۔۔ سرجن ک بلاٸیں۔۔۔ ۔ جتنا چاہے پیسہ لگے۔۔۔۔ بس مجھے وہنواپس پہلےجیسی چاہیے۔
سبحان نے دھمکی والے انداز میں کہا
مسٹر سبحان۔۔۔!! ہم۔اپنی طرف سے پوری کوشش کریں رہے ہیں۔ آپ پلیز۔۔۔ پیپرز ساٸن کر دیں۔
ڈاکٹر اپنے پیشہ ورانہ انداز میں بولی۔
سبحان نے صلہ کو ایک چیٸر پے بٹھایا۔۔ اور خود ڈاکٹر کے ساتھ پیپرز فارمیلٹی پوری کرنے چلا گیا۔
تُو پچھتاۓ گی۔۔۔ روۓ گی۔۔۔۔!!
لیکن وقت کو واپس نہیں پلٹ سکے گی۔۔۔۔
رمضان کے لفظوں کی باگشت صلہ کو بار بار سناٸی دے رہی تھی۔
وہ ہار رہی تھی۔۔۔
خود سے۔۔۔۔۔
وقت سے۔۔۔
نصیبوں سے۔۔۔۔
اس ظالم دنیا سے۔۔۔۔
سر جھک گیا۔۔۔
آنسو گود میں گرنے لگے۔
آپی۔۔۔۔ مجھے بچا لو۔۔۔۔۔
بابا مجھے۔۔۔ مارتے ہیں۔۔۔۔
سختی سے آنکھیں بند کیں۔
یاللہ۔۔۔۔!! میں۔۔۔ میں مم۔۔۔۔۔کیا کروں۔۔؟؟
میرا دل درد سے پھٹ جاۓ گا۔۔۔۔
یہ آزماٸش۔۔۔بہت سخت ہے۔۔۔۔
اے اللہ۔۔۔۔۔اپنے حبیب کے صدقے میری بہن کی جان بچا دو۔۔۔۔
وہ زارو قطار روۓ جا رہی تھی۔۔
صلہ۔۔۔۔۔!! اسے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔
سبحان نےپاس بیٹھے اسے تسلی دی۔ اور پورے یقین سے کہا۔
صلہ نے لب بھینچ کے اسکی طرف دیکھا۔ اور غصے سے کھڑی ہوٸی۔
یہ۔۔۔۔ سب ۔۔۔ آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔!!
وہ روۓ جا رہی تھی۔۔۔۔
میری۔۔۔ بہن ۔۔۔۔ آج۔۔۔۔ تکلیف۔۔۔ میں۔۔۔ ہے۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔ ہوجاتا۔۔۔؟؟ اگر۔۔۔آپ ۔۔۔ پیسے۔۔۔ دے دیتے۔۔۔۔؟؟
وہ بہت دکھی انداز میں بولی۔
صلہ۔۔۔۔۔!!
مت نام لیں میرا۔۔۔۔!! آپ ۔۔۔ نے بہت۔۔۔ برا۔۔۔ کیا۔۔۔۔!
میں۔۔۔ آپ۔۔۔ کو۔۔۔ کبھی۔۔۔ معاف۔۔۔ !!
ہچکیوں سے روتے اسکی آواز حلق میں پھنس سی گٸ۔
منہ پے ہاتھ رکھے وہ ہاسپٹل سے باہر کی طرف بھاگی۔
سبحان بھی اس کے پیچھے ہی گیا۔
وہ مزید اب کسی کی جان کا خطرہ نہیں مل لے سکتا تھا۔
گارڈن ایریا میں ہی اس نے صلہ کو جا لیا۔
میری بات سنو صلہ۔۔۔!!
سحر ٹھیک ہوجاۓ گی۔۔۔۔!! خدا پے بھروسہ رکھو۔۔۔
سبحان نے اسے اپنی سخت طبعیت کے برعکس پیار سے کہا۔
اس۔۔۔ اس معصوم کو دیکھا آپ نے ۔۔۔ دیکھا۔۔۔۔
کیا۔۔۔ حالت ۔۔۔ کر دی۔۔۔ اس ظالم ۔۔ انسان نے۔۔۔؟؟
صلہ سے برداشت نہ ہورہا تھا۔
سبحان نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کیا۔ اسے سنبھالنا چاہا۔لیکن وہ آپے سے باہر جا رہی تھی۔
مجھ۔۔۔۔ مجھ سے نہیں۔۔۔ ہو رہا۔۔۔ برداشت۔۔۔۔۔
مذاق بنا کے رکھ دیا ہے آپ نے میرا۔۔۔۔۔!!روتےہوۓ وہ۔اب بے بسی سے بولی۔
صلہ۔۔۔۔!! ادھر دیکھو۔۔۔ میری طرف۔۔۔!!
سبحان نے اسکا چہرہ اوپر کیا۔
آپ۔۔۔۔ مجھ۔۔۔ پے ایک احسان کر دیں۔۔۔۔
مجھے۔۔۔۔مجھے۔۔۔ جانے دیں۔۔۔
میں۔۔۔ اس شخص کو جان سے مار ڈالوں گی۔۔۔
آپ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔مجھے ۔۔۔ مجھے ۔۔وہ ۔۔گن دے دیں۔۔۔
میں اسے۔۔۔۔ ۔۔۔!!
صلہ کا بس نہیں چل رہا تھا۔
کہ رمضان کو سامنے ہو اور وہ اسے مار ڈالے۔
صلہ۔۔۔۔۔!! دیکھو۔۔۔ ادھر۔۔۔!! سبحان نے اسے calmdown کرنا چا ہا۔
ایک بار۔۔۔ سحر ٹھیک ہو جاۓ۔۔۔ میرا وعدہ ہے۔۔۔۔ اس شخںص کو دس گناہ زیادہ تکلیف دے کے ماروں گا۔۔۔۔!!
لہجے میں نفرت اور غصہ چھلکا۔
لیکن اس وقت۔۔۔ سحر کےپاس چلو۔۔۔ اسے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔!!
وہ۔۔۔ وہ چھپ جاۓ گا کہیں۔۔۔۔ اسے۔۔۔ کیسے۔۔۔ ڈھونڈیں۔۔۔؟؟
صلہ نے بچوں کی طرح پوچھا۔ جبکہ آنسو ابھی بھی بہہ رہے تھے۔
صلہ۔۔۔!! وہ پاتال مں بھی چھپ جاۓ۔۔۔ میں ۔۔اسے ڈھونڈ نکالوں گا۔ ۔۔۔ اور تم۔۔ خود ۔۔اپنے ہاتھوں سے اسے سزا دینا۔۔۔۔!!
سبحان نے آج پہلی بار صلہ کو اپنےہونےکا مان بخشا۔
وہ چپ چاپاسے دیکھے گٸ۔
چلو۔۔۔۔ اندر چلیں۔ اس وقت۔۔۔ سحر کو تمہاری۔۔ سب سے زیادہ ضرورت ہے۔۔۔۔!!
سبحان اسے لیے اندر کی جانب بڑھا۔










بانو۔۔۔۔!! یہ سب۔۔۔ لوگ۔۔۔ کہاں۔۔۔ ہیں۔۔؟؟
اتنی ۔۔۔ خاموشی۔۔ کیوں ہے۔۔۔؟؟
تابی نییچے آٸی۔ تو غیر معمولی خاموشی محسوس کر کے ملازمہ سے پوچھا۔
اسکی آنکھوں میں آنسسو جھلملا گۓ۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔؟؟ تم ۔۔۔ رو رہی ہو۔۔۔؟؟
تابی گھبرا کے نیچے اس کے پاس آٸی۔
صضرا خالہ کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔۔۔۔!! وہ ہاسپٹل میں ہیں۔۔۔ روتے ہوۓ بتایا۔
کیا۔۔۔۔۔؟؟ تابی کا ل زورو ں سے دھڑکا۔۔۔
جی۔۔۔۔ ان کے ساتھ۔۔۔ وہ بچی بھی تھی۔۔۔ سحر۔۔وہ۔۔۔
وہ۔۔۔۔؟؟ کیا ہوا اسے۔۔۔؟؟ وہ ٹھیک ہے ناں۔۔۔؟؟ اور صضرا خالہ۔۔۔۔؟؟ مجھے۔۔۔کسی نے بھی نہیں بتایا۔
تابی کی آنکھوں مں آنسو آگۓ۔
کوٸی پتہ نہیں جی۔۔۔۔!!
آپ فون کرو ناں۔۔۔ صاحب جی کو۔۔۔۔؟؟
وہ لجاجت سے بولی۔
تابی فوراً اپنے روم کی جانب بھاگی۔ اور سبحان کا نمبر ڈاٸیل کیا۔
بیل جا رہی تھی۔لیکن سبحان نے فون نہ اٹھایا۔
تابی وہیں بیٹھی رو دی۔
یاللہ۔۔۔!! صغرا خالہ۔۔۔ کو اور۔۔۔ سحر کو۔۔۔ اپنی حفظ و امان میں رکھنا۔۔۔۔۔۔!! وہ دعاٸیں۔۔کرتی پھر سے رونے لگی۔








اے ڈی اور عمر کافی دیر سے مونا کا پیچھا کر رہے تھے۔ اور اے ڈی ساتھ ساتھ اسکی ہر لمحے کی تصویریں بھی بنا رہا تھا ۔
وہ دیکھیں۔۔۔ سر۔۔۔ وہ رہا اس کا بوۓ فرینڈ۔ !
اے ڈی نے مونا کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا۔ تو فوراً بولا ۔ اور ساتھ تصویریں بنانے لگا۔
میرا دل چاہ رہا ہے۔۔۔ ایسی لڑکیوں کو جان سے مار ڈالوں۔۔
عمر کو غصہ آگیا۔
سر۔۔۔۔۔۔!! غصہ نہیں۔۔۔
کھیل بگڑ جاۓ گا۔۔۔ ہم۔۔۔ انکو انہی کی چال سے ماریں گے۔۔۔۔
عمر نے ایک نظر اے ڈی پے ڈالی۔
اے ڈی مسکرایا۔
کیا سمجھے۔۔۔۔؟؟
ہممممممم۔تو ٹھیک ہے۔۔۔۔!!
وہ ہر بار نیا شکار ڈھونڈتی ہے۔۔۔۔اس بار۔۔۔ شکار خود اس کے پاس چل کے جاۓ گا۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ شکار ہونے نہیں۔۔۔شکار کرنے۔۔۔۔۔!!
عمر نے بھی مسکراتے ایک عزم سے کہا۔
یہ ہوٸی نہ بات۔۔۔۔۔!! اے ڈی خوش ہو کے بولا۔







مجھے تم سے ملنا ہے۔۔۔۔!!
شہریار نے زلفی کو فون کیا۔ اس وقت وہ مونا کے ساتھ تھا۔
ٹھیک ہے سر۔۔۔!! جیسے آپ کہیں۔۔۔۔!! اردگرد نظر رکھتا وہ چوکنا ہوتا بولا۔
ابھی ملنا ہے۔۔۔ وہیں ۔۔ جہاں پہلے ملے تھے۔۔۔
اتنا کہتے شہریار نے فون بند کر دیا۔
مونا ڈرالنگ۔۔۔۔!! آٸی وانا جسٹ گو۔۔۔۔!! زلفی نے بہت پیار سے مونا سے اجازت مانگی۔
او۔۔۔ زلفی۔۔۔۔!! ابھی تو آۓ تھے۔۔۔!!اور کتنے دنوں بعد ملے ہو۔۔۔۔!! اتنی جلدی مت جاٶ ناں۔۔۔!!
مونا نے زلفی کی شرٹ کے بٹن کے ساتھ کھیلتے خمار آلود لہجے میں کہا۔
ڈارلنگ ۔۔۔ جانا ضروری ہے ناں۔۔۔!! میں جو کررہا ہوں۔۔۔ ہمارے لیے ہی کر رہا ہوں۔
زلفی نے اسکے گال کے ساتھ گال مس کرتے بہت پیار سے کہا۔
اس وقت وہ جہاں موجود تھے۔
وہاں لوگوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔
پھر کب ۔۔۔ ملو گے۔۔۔؟؟جھٹ سے پوچھا۔
بہت جلدی۔۔۔! فون کر دوں گا جان۔۔۔!! زلفی اسے زور سے ہگ کرتے۔۔ وہاں سے نکلا۔
اسے نکلنے کے بعد اے ڈی اور عمرکو اپنا کام کرنے میں آسانی ہو گٸ۔
عمر نے اسے ریڈی ہونے کا اشارہ کیا۔ تو اس نے بھی thumbs up کا ساٸن دیا۔








صغرا خالہ کو ہوش آگیا تھا۔
ان کا بھی ایکسیڈینٹ کی وجہ سے کافی خون بہہ گیا تھا۔
لیکن جب سے وہ ہوش میں آٸیں تھیں۔ سحر کےلیے رو رہی تھیں۔
صلہ ان کے پاس تھی۔ سحر کا ابھی تک آپریشن چل رہا تھا۔
صلہ ۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ معاف۔۔۔۔ کر دو۔۔۔!! صغرا خالہ نے ہاتھ جوڑے۔
خدا کے لیے خالہ۔۔۔! شرمندہ نہ کریں۔
صلہ ابھی نماز ادا کر کے آٸی تھی۔ بس لب پے سحر کے لیے دعاٸیں تھیں۔ اور آنکھوں میں آنسو۔
سب۔۔۔ میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔!! میں ہی اسے۔۔۔ لے کے گٸ۔۔۔۔!! کاش اسکی جگہ۔۔۔ میرے پے۔۔۔۔!!
صلہ انکی بات پے آنکھیں میچ گٸ۔ اور انہیں گلے سے لگایا۔
میری سحر کےلیے دعا کریں۔ ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ آپ سے بہت پیار کرتی ہے۔۔۔!!
جو شفقت اور محبت۔۔۔۔ ان چند دنوں میں آپ نے اسے دی۔۔۔ کوٸی۔۔۔ اپنا بھی نہیں۔۔۔ دے سکتاتھا۔۔۔!!
صلہ نے ان کے آنسو صاف کیے۔
جبکہ دروازے کے پاس کھڑے سبحان نے یہ منظر دل کی آنکھ سے دیکھا۔
یہ لڑکی اسے ہر بار حیران کرتی تھی۔۔اور اب بھی۔۔۔!!
کتنی بہادر تھی یہ۔۔۔۔ سبحٕان دل ہی دل میں اس کی اچھاٸی معترف ہوا۔
صلہ۔۔۔۔!!
پکار پے وہ پلٹی۔
سحر کاآپریشن کامیاب رہا ہے۔۔۔۔!! لہجے میں سکون تھا۔
کیا۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔سچ کہہ رپے ہیں۔۔۔۔؟؟ صلہ فوراً سے اسکے پاس آٸی۔ اور اسکے ہاتھ تھام کے بولی۔
ہمممممم۔۔۔!!
صلہ فرطِ جذبات میں سبحان کے گلے سے لگی۔
سبحان حیرت ذدہ رہ گیا۔۔
آپ کو۔نہیں پتہ۔۔۔۔۔ آپ نے مجھے جینے کی نوید سنا دی ہے۔ پیچھے ہوتی خود پے قابو کرتی وہ روتی آنکھوں سے بولی۔
میں مل لوں۔۔۔ اس سے۔۔۔۔؟؟ دھیرے سے سبحان کے کان کے قریب ہو کے کہا۔
ابھی۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ آٸی سی یو میں ہی ہے۔۔۔۔
وارڈ میں شفٹ کر لیں۔۔۔ پھر۔۔ مل لینا۔
لیکن۔۔۔۔؟؟ سبحان کے چہرےپے فکرکی لکیریں نمودار ہوٸیں۔
لیکن کیا۔۔۔۔؟؟ اچھنبے ے پوچھا۔
سحر کے جسم۔کے جو حصے متاثر ہوۓ ہیں۔۔۔ انہیں ۔۔۔ ٹھیک ہونے میں ۔۔ بہت وقت درکا ر ہو گا۔۔۔۔ اور ۔۔۔ایسے۔۔ میں۔۔۔ اسکی ہمت بننا۔۔۔ کمزوری نہیں۔۔۔۔
سبحان نے سخت لہجےمیں کہا۔تا کہ وہ خود بھی حوصلہ رکھے۔
وہ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ ٹھیک ہو جاۓ گی ناں۔۔۔۔؟؟ ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
ان شاء اللہ !! ایک دو سرجریز کے بعد۔۔۔ وہ ٹھیک ہو جاۓ گی۔۔
میں ۔۔۔ آتا ہوں۔
موباٸیل پے تابی کی کال آتی دیکھ اب اس نے اٹھا لی۔
وہ بہت پریشان تھی۔ سبحان نےاسے تسلی دی۔ اور مختصراً ساری صورت حال۔سے آگاہ کیا۔ اور اپنا خیال۔رکھنےکو کہا۔
کال بند کرکے مڑا تو اسکا وفادار آدمی اس کے پیچھےہی کھڑا تھا۔
کہاں ہے وہ۔۔۔؟؟
سر۔۔۔!! وہیں۔۔اپنے دوست۔۔۔ علی بخش کے ڈیرے پے۔۔
فوراً سے پہلے جواب دیا۔
مجھے وہ زندہ چاہیے۔ اور علی بخش کے ڈیرے کو آگ لگا دو۔
سرد لہجے میں کہتا وہ عزیز کو ساکن کر گیا۔
لیکن سر۔۔۔!! علی بخش۔۔۔ نے ہی اطلاع بھجواٸی ہے۔۔۔ وہ خود چاہتا ہے کہ رمضان کو وہاں سے لے جاٸیں۔ اب وہ اس معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا۔
عزیز نے فوراً علی بخش کی پوزیشن کلیٸر کی۔
ہم۔ممممممم۔ سبحان نے گہرا سانس خارج کیا۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔ رمضان کولےکے اڈے پہچو۔
اور سر۔۔۔۔!! وہ دو منخوس۔۔۔۔ جو آلریڈی وہاں ہیں۔۔۔۔
ان کا کیا کرنا ہے۔۔۔؟؟
انکو۔۔۔۔۔۔ تین چار دن مزید بھوکا رکھو۔۔۔۔
اس کےبعد ان سے بھی ملاقات کرتا ہوں۔
پہلے رمضان کا کام تمام کر لوں۔
سبحان فارم میں آتا بولا۔
عزیز۔۔۔!! ہاسپٹل اور گھر کی سیکیورٹی ڈبل کردو۔ ۔۔۔
مجھے اب۔۔۔ مزید کوٸی۔۔۔۔ پریشانی۔۔۔ نہیں چاہیے۔
سمجھے۔
سبحان نےوارن کیا۔ اور عزز نے سر تسلیمِ خم کیا۔










اوہ۔۔۔ گاڈ۔۔۔!! کون ہو۔۔تم۔۔۔؟؟
Leave me……
اے ڈی نے روپ بدل کر اچانک مونا پے اٹیک کیا۔ اور اسکا پرس چھیننا چاہا۔۔
مونا اپنا بچاٶ کرنے لگی۔لیکن ناکام ہی ہو رہی تھی۔
ایسے میں عمر کی دھماکے دار انٹری نے مونا کو حوصلہ دیا۔
اور اے ڈی پلان کےمطابق وہاں سے بھاگ نکلا۔
Are you ok…????
عمر نے گلاسز اتار کے مونا سے فکرمندی سے پوچھا۔
اوہ۔۔۔۔یس یس۔۔۔ ایم فاٸن۔۔۔۔ اینڈ تھینک یو۔۔۔۔۔سو مچ۔۔۔ فار دا ہیلپ۔۔۔!!
مونا اسکی پرسنلٹی سے بہت متاثر ہورہی تھی۔ اس لیے مسکرا کے بولی۔
are you…. Pkaistani..???
عمر نے اگلاسوال کیا۔ بہت محتاط انداز میں وہ اسے اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا۔
ہمممم۔یس یس۔۔۔۔!! اینڈ یو۔۔۔؟؟ مونا مسکرا کے قریب آٸی۔
یس۔۔۔آٸی ایم۔۔۔۔۔ عمر نے فخر سے کہا۔
اوکے۔۔۔۔سی یو۔۔!! عمر نےگلاسز دوبارہ پہنےاور آگے بڑھا۔
مونا۔۔۔۔۔!! کیا کر رہی ہے۔۔۔۔؟؟ لگتا ہے۔۔ بہت امیر ہے۔۔۔اور۔۔۔ ہینڈسم بھی ہے۔۔۔۔!! اففف۔۔۔ اس دل پےاٹیک کیا سیدھا۔۔۔۔
مونا خود سے بڑبڑاٸی اور عمر کے پیچھے بھاگی
۔
اکسکیوز می۔۔۔۔کیا۔۔۔ آپ مجھے۔۔گھر چھوڑ دیں گے۔۔۔؟؟ ایکچولی ۔۔۔مری گاڑی خراب ہو گٸ ہے۔۔۔!! بہت معصومانہانداز میں پوچھا۔
ہممم۔اوکے۔۔۔۔کم۔۔۔!!
عمر نے اسے آفر کی اور وہ خوشی سے ساتھ ہولی۔
جبکہ اے ڈی دور سے عمر کو وکٹری کا ساٸن دے چکا تھا۔
