Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan NovelR50515 Mera Ishq Teri justujoo (Episode 02)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq Teri justujoo (Episode 02)
Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
خدا کا واسطہ ہے رمضان ۔۔۔۔۔ !
میری ۔۔۔ پھول سی بچی کو کچھ نہ کہنا۔۔۔۔۔
صلہ آ۔۔۔ جاۓ گی۔۔۔واپس۔۔۔۔۔!!
وہ اپنے وعدے کی پکی ہے۔
عابدہ بیگم رو دیں۔
بھاڑ میں گٸ تمہاری بیٹی۔۔۔۔!
مجھے الو۔۔ بنا گٸ ہے۔
ایک ماہ کی مہلت دی ہے مجھے علی بخش نے۔۔۔!!
اگر بیس لاکھ کی رقم نہ لوٹاسکا۔۔۔۔۔۔ تو۔۔وہ مجھے۔۔۔ مار ڈالے گا۔۔۔۔
اور۔میں۔۔۔ ابھی مرنا نہیں چاہتا۔۔۔۔!
اور اگر۔۔۔۔ اس کے لیے۔۔۔۔۔مجھے تمہاری یہ بچی۔۔۔۔۔!!
سحر کوہاتھ سے پکڑ کر آگےکی طرف کھینچا۔
اس۔۔۔۔ علی بخش کوبیچنی پڑی ناں۔۔۔۔
تومیں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
سمجھی تم۔۔۔۔۔۔!
اور تمہاری اس مکاربیٹی کو بھی پتہ چلے۔۔۔۔!!
کہ دھوکے کا کیا انجام ہوتا ہے۔۔۔۔
صرف تین ۔۔۔ تین دن۔۔میں انتظار کروں گا۔
اگر ۔۔۔۔ وہ۔۔۔واپس آگٸ۔۔۔۔ تو ٹھیک۔۔۔۔!!
ورنہ بڑی بیٹی کی طرح اسکا بھی فاتحہ پڑ ھ لینا۔
وہ شخص سفاکی کی انتہاپے تھا۔
اپنی بول کے وہ جا چکا تھا۔
عابدہ بیگم آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکتی تھیں۔
یہ ان کے اپنے کرمو ں کا پھل تھا۔
جس کا احساس انہیں اب ہو رہا تھا۔
جب ایکسیڈینٹ میں دونوں ٹانگیں کٹوا چکی تھیں۔ ایسے ہی تو انہوں نے اپنے پہلے شوہر ۔۔ اپنی بچیوں کے باپ۔۔۔ عرفان کو مارا تھا۔
رمضان کی کھوکھلی محبت میں وہ خود کواپنے گھر کو گنوا بیٹھی تھیں۔
اور اب پچھتاوے کے سوا کچھ نہ تھا۔
چھوٹی سحر سہمی بیٹھی تھی۔
ماں کے سینے سے لگی وہ اپنی بہن کو یا دکر رہی تھی۔
وہ جانتی تھی ۔۔کہ چاہے کچھ بھی ہو جاۓ۔۔
صلہ اسکی حفاظت کرنےوالی بہن ہے۔
لیکن وہ۔۔۔ ابھی تک ۔۔۔نہیں لوٹی تھی۔۔۔ جس کا مطلب تھا۔وہ خود کسی مشکل میں ہے۔۔



بھیا۔۔۔۔۔! آپ آجاتے تو آیان خوش ہو جاتا۔۔۔۔
موباٸیل ا ن سے لگاۓ شیشے کے آگے کھڑی خود پر ایک فاٸنل نظر ڈالی ۔۔
تھوڑی دیر میں آیان کی برتھ ڈے پارٹی کا فنکشن ۔۔ شروع ہونے والا تھا۔
آسمانی ر نگ کا لانگ فراک جس پر واٸیٹ سٹون کا کام ہوا تھا۔اور چوڑی دار پاجامہ۔۔
لانگ دوپٹا اور ہلکا سا میک اپ۔۔۔
کانوں میں سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے ڈاٸمنڈ کے ٹاپس۔۔ جو ہمیشہ ہی اسکے کانوں میں سجے ہوتے۔
گلے میں سونے کی چین ۔۔۔ اسکی صراحی دار گردن کو چار چاند لگا رہی تھی۔
بیٹا۔۔۔۔۔ میں آنا چاہتا تھا۔۔۔۔ لیکن ایک اہم۔میٹنگ کی وجہ سے نہ آسکا۔۔۔۔
سبحان نے پیار سے بہن کو کہا۔
ہممممم۔۔۔ آپ کی یہ میٹنگز بھی ناں۔۔۔۔۔!!!!
اداسی سی چھا گٸ۔
اچھا۔اداس نہ ہو۔۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔ انجواۓ کرو۔۔۔ اور برتھ ڈی کی پکس اور ویڈیولازمی سینڈ کرنا۔ ۔۔۔
سبحان نے الوداعی کلمات کہے اور فون بند ہو گیا۔
تابی۔۔۔ آنی ۔۔۔ اب آبھی جاٸیں۔۔۔۔۔!!
ثانی۔۔ جو ہمیشہ تابی کو فالو کرتی تھی۔۔ ابھی بھی سیم میچنگ تھی۔
ہاں ہاں ۔۔۔۔ !! چلو۔۔۔ بس۔۔ برتھ بواۓ کا گفٹ لے لوں۔ تابی نے اتنا کہہ کر کبرڈ کی لاسٹ رو سے گفٹ پیک نکالا۔
جو آیان کا فیورٹ آٸی پیڈ تھا۔
دونوں آگے پیچھے لان میں داخل ہوٸیں۔
گھر کے بڑے لان کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔
شہریار نے کوٸی کسرنہ چھوڑی تھی۔ ہرطرف رنگ و بو کا سیلاب امڈ آیا تھا۔
آیان کے تمام فرینڈز نے شرکت کی تھی۔۔
جبکہ آیان تیار ہو کے کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔اور آج تو چال ڈھال ہی نرالے تھے۔
کیسے ہو برتھ بواۓ۔۔۔۔۔۔؟
کیسا فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟
تابی نے قریب آکر آیان کو چھیڑا۔
آپ کچھ زیادہ جلدی نہیں آگٸیں۔ میٹھا سا طنز کیا۔
تابی اسکے اسٹاٸیل پر کھلکھلا کر ہنس دی۔
تبھی سب کی نظر گیٹ سے اندر آتے عمر پے جا ٹکیں۔
تابی کی نظریں بھی اس پر اٹھیں۔ تو پلٹنا بھول گٸیں۔
دل نے ایک بیٹ مس کی۔ فوراً نظریں پھیر لیں۔
عمر چاچو۔۔۔۔۔۔۔۔!! آیان بھاگتا ہوا عمر کے پاس گیا
عمرکو دیکھتے ہی آیان کا ناز و نخرہ کہیں دور جا سویا تھا۔
عمرنے آیان کو گود میں اٹھا لیا۔ سبھی عمر کے اردگرد جمع ہو گۓ تھے۔
پورے خاندان میں وہ خوبصورتی اور ذہانت کی اعلیٰ مثال تھا ۔
خاندان کی کافی لڑکیاں اس پے فریفتہ تھیں۔
اور تابی کے لیے۔۔۔۔ وہی ۔۔سب کچھ تھا۔۔۔
لیکن عمر کی منگنی نے سب کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔
شہریار ،عمرکے ساتھ بغل گیر ہوا۔
رابیہ آنٹی نے بلاٸیں لیں۔ سبھی سے پیار سمیٹنے لگا۔
وہ پورے گھرکی جان تھا۔
چلو۔۔۔۔۔ آجاٶ بچو۔۔۔۔۔ کیک کاٹیں۔ ۔۔
رابیہ آنٹی نے سب کو ٹیبل کے پاس چلنےکا اشارہ کیا۔
جہاں تابی اپنے حسن اور معصومیت کا جلوہ بکھیر رہی تھی۔
ایک نظر تابی پر پڑی تو وہ ٹھٹھک گیا۔
وہ پلکیں گراتی اٹھاتی ۔۔ عمر کو ایٹریکٹ کر رہی تھی۔
شہریارکے کاندھا ہلانے پے وہ چونکا اور آگے بڑھا۔
تابی نامحسوس انداز سے ساٸیڈ پر ہو گٸ ۔
وہ عمر کی وہاں موجودگی پر خود کو وہاں ان فٹ فیل کر رہی تھی۔
کیونکہ وہ۔سب کچھ تو ہو سکتی تھی۔۔۔ لیکن انکی فیملی ۔۔۔۔کاحصہ نہیں بن سکتی تھی۔۔۔
آیان نے ایک لمحے کے لیے عمر کا ہاتھ نہ چھوڑا۔
مسکراہٹ اس کے چہرے پے واضح نظر آرہی تھی۔
ہیپی برتھ کے شور پے آیان نے عمر کے ہمراہ کیک کٹ کیا۔
اور سب کو باری باری کھلانے لگا۔
تبھی ڈھونڈتے ڈھونڈتے نظریں تابی پے مرکوز ہوٸیں۔
فٹ سے اسے کھینچ کے اپنےپاس لے آیا۔
اور کیک کا ایک پیس اسکے منہ میں ڈالا۔
اب سیلفیز کا ٹاٸم تھا۔
آیان نےایک طرف عمر کا ہاتھ تھام رکھا تھا تو ۔۔۔ دوسری طرف تابی تھی۔
باقی سب فیملی ممبر ساتھ تھے۔
سب خوش تھے۔۔۔
مکمل تھے۔۔۔۔
ایک کلک نے ان سب کو ایک ساتھ ایک فریم۔میں کیپچر کیا۔




سبحان گہری سوچ میں راکنگ چیٸر پر جھول رہا تھا۔
آنے والے وقت کے بارےمیں سوچ رہا تھا ۔
لاٸحہ عمل تیار کرر ہا تھا کہ موباٸیل کی میسج ٹون پر چونکا۔
میسج کھولا۔۔ تو سامنے زیدی ہاٶس کی تصویر شو ہوٸی۔ وہ برتھ ڈے پارٹی فیملی پکچر تھی۔
سبھی خوش نظر آرہے تھے۔
سبحان کی نظر۔۔۔عمر اور تابی پے جا ٹہری۔۔۔ سختی سے لب بھینچ لیۓ۔
کیسے۔۔۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔ عمر۔۔۔۔۔۔؟
میری تابی پے۔۔۔۔ تم نے۔۔۔۔۔ اس کم ظرف لڑکی کو ترجیح دی۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی نہیں ۔۔۔ سوچا۔۔۔ میری تابی پر کیا بیتے گی۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ معصوم ۔۔۔ تو ۔۔۔دل۔کا درد چھپاگٸ۔۔۔۔۔۔!!!
لیکن میں تو اسکا بھاٸی ہوں۔۔۔۔ اسکاباپ۔۔۔ماں۔۔۔ سب کچھ۔۔۔
میں نہ جان پاتا۔۔۔۔۔ ۔۔؟ ایسا کیسے ممکن تھا۔۔۔۔۔؟
موباٸل کو ساٸیڈ پے رکھا۔
تمہیں پچھتانا ہو گا۔۔۔۔۔ تم پچھتاٶ گے۔۔۔۔۔!!
ایک ہیرے کوتم نے ٹھکرایا۔۔۔ اک بے مول پتھر کی خاطر۔۔۔!!!
اب میں سبحان حیات خان۔۔۔۔۔ تمہیں بتاۓ گا۔۔۔۔!! ٹھکراناکیا ہوتا ہے۔۔۔۔!!!
ایک جنون تھا اس کے اندر ۔۔۔۔۔
کلاٸی پے بندھی گھڑی پے ٹاٸم دیکھا۔
اپنے ملازم فراز کو بلایا۔ اسے سب سمجھا کے جانےکا اشارہ کیا۔
اور خود والدین کی تصویر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
بابا۔۔۔۔۔ مما۔۔۔۔۔!! کیا سوچ کے ۔۔۔ آپ نے۔۔۔۔ بچپن میں۔۔۔۔ عمر اور تابی کا رشتہ طے کیا۔۔۔۔؟
کیوں۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ ایسا۔۔۔۔۔۔؟ وہ شخص ۔۔۔۔ ہماری تابی۔۔۔ کے لاٸق ہی نہیں۔۔۔۔۔ جو ہماری تابی کی سچی اور کھری محبت کو نہ سمجھ سکا۔۔۔
بوجھ نہیں۔۔۔۔ کہ کیا۔۔۔ صحیح ہے۔۔۔ا ورکیا۔۔۔غلط۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور۔۔۔آپ نے۔۔۔۔ ایسے ۔۔۔انسان کے حوالے۔۔۔۔۔ تابی کو کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ہرگز نہیں۔۔۔۔!! وہ ہماری تابی کے قابل نہیں۔۔۔۔۔!!
میں بہت جلد ہماری تابی کے لیے۔۔۔ ایک بہت اچھا شخص ڈھونڈوں گا۔۔۔۔
جو اس کے۔۔۔۔ معیار کا ہو۔۔۔۔ اسے سمجھے۔۔۔۔ اسے مان دے۔۔۔۔نا کہ۔۔۔ بیچ راستے میں۔۔۔۔ چھوڑ کر کسی اور کے سنگ چلا۔جاۓ۔۔۔۔
سبحان آج اپنے دل کا بوجھ اپنے والدین سے بانٹ رہا تھا۔
سولہ سال کا تھا۔۔ جب والدین پلین کریش میں انتقال کر گۓ۔۔۔ اس وقت تابی صرف دس سال کی تھی۔۔
سبحان نے تابی کوماں اور باپ دونوں بن کر پالا۔۔۔
وقت سے پہلے بڑا ہو گیا۔۔
پڑھاٸی اور بزنس ایک ساتھ جاری رکھا۔
اس سب میں رابیہ آنٹی کے شوہو۔۔مسٹر زیدی نے اور حیات صاحب کے دوست۔۔ مسٹر خرم۔نے انکی بہت مدد کی۔
تو وہیں رابیہ آنٹی۔نے تابی کو ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔۔۔۔
اپنی ریزرو اور تنہاٸی پسند طبعیت کی وجہ سے وہ اپنوں میں زیادہ گھلتا ملتا نہ تھا۔
لیکن تابی کو کبھی نہ روکا تھا۔
******
وہ رابیہ آنٹی کے بہت قریب تھی۔
اور ہمیشہ کے لیے جانا بھی وہیں تھا۔اسلیے سبحان نے تابی کے لاہور جانے اور رابیہ آنٹی کے گھر رہنے پے کبھی اعتراض نہ کیا۔
لیکن۔۔۔۔۔ عمر کی منگنی کے بعد۔۔۔۔ اب اسے تابی کا وہاں جانا چبھتا تھا۔۔۔
وہ۔اب بھی اسے وہاں نہ بھیجتا۔
اگر اس نے صلہ دی گریٹ کا چیپٹر نہ کھولنا ہوتا۔۔۔۔اور ایسے میں تابی کا یہاں نہ ہونا بہتر تھا۔



مجھ۔۔۔۔ے۔۔۔ تمہاری۔۔۔ ڈیل۔منظورہے۔۔۔۔۔
صلہ۔نے بمشکل الفاظ ادا کیے۔
سبحان کے چہرے پر پھر بھی سرد پن تھا۔جیسے وہ اسکا جواب پہلے سے جانتا تھا۔
لیکن ۔۔۔۔۔میری۔۔۔۔ کچھ۔۔۔ شرطیں ہیں۔۔۔؟؟؟
صلہ فوراً سے بیشر بولی۔۔۔
اس وقت وہ سبحان کے روم میں اسکے سامنے کھڑی تھی۔
تہہ خانے سے اسے اوپر پہنچا دیا گیا تھا۔
اور اب ایسے کھڑی تھی۔۔۔ جیسےمجرم سزاکے لے کھڑا ہو تا ہے۔
تمہاری ایسی کنڈیشن ہے ۔۔۔۔ کہ میرے سامنے کنڈیشن رکھو؟؟؟
سبحان نے چبا چبا کر کہا۔
ہاں۔۔۔ جانتی ہوں ۔۔۔۔ کہ میں تمہاری ۔۔۔قید میں ہوں۔۔۔۔ پھر بھی۔۔۔۔ میری۔۔۔ کچھ شرطیں ہیں۔
کیونکہ۔۔۔۔ ڈیل کی آفر بھی تم نے کی ہے ناں۔۔۔۔ ؟؟؟
صلہ اب مکمل فارم میں آگٸ تھی۔
اوکے۔۔۔۔۔ بولو۔۔۔۔۔؟
ٹانگ پے ٹانگ جماۓ نظریں صلہ۔پر ٹکاٸیں۔
نکاح۔۔۔۔۔ سے۔۔۔ پہلے۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ بیس لاکھ ۔۔۔ دینے ہوں گے۔۔۔۔
کہتےہوۓ ایک لمحے کو صلہ کی زبان لڑکھڑاٸی۔
اور۔۔۔۔۔ مجے۔۔۔ میری ماں۔۔۔۔۔ اور بہن کی سیکیورٹی دینی ہے۔۔۔۔
ابھی وہ جہا ں ہیں۔۔۔ انھیں وہاں خطرہ ہے۔۔۔۔ !!!!
اور۔۔۔۔۔!!!
صلہ جو سبحان کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔سبحان کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی۔
ابھی ۔۔۔اور۔۔ بھی۔۔ ہیں۔۔۔؟؟؟ سبحان پر سکون سا بولا۔
صلہ نے تھوک نگلا۔۔۔ اور ہمت جمع کی۔
ہاں۔۔۔۔۔۔ آخری شرط۔۔۔۔۔ تم میرے قریب نہیں آٶ گے۔۔۔۔
بمشکل۔ہی سہی۔۔۔۔ لیکن آنکھیں بند کیے بول دیا۔
کچھ پل خاموشی چھا گٸ۔
صلہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ وہ ویسے ہی پر سکون بیٹھا تھا۔
صلہ کے آنکھیں کھولنے پو وہ اس کے قریب آیا۔۔۔
وہ ڈر کے ایک قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
نکاح کے بعد تمہیں ۔۔۔ دس لاکھ دوں گا۔۔۔۔
چھ ماہ کی ڈیل ہے۔۔۔ چھ ماہ بعد جب ڈیل ختم ہو گی۔ ۔۔ تب بیس لاکھ دوں گا۔۔۔
تمھاری ماں اور بہن کو سیو جگہ پے بھی پہنچا دوں گا۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان اس کے بالکل قریب جا کھڑا ہوا۔
دونوں کی پل بھر کو نظریں ملیں۔
ایک کی آنکھوں میں ڈر تھا۔۔۔ تو دوسرے کی آنکھوں میں نفرت۔۔۔۔۔
تمھاری تیسری شرط۔۔۔۔۔۔!!!
تمہیں ایسا کیوں لگا۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔ میں تمہارے قریب آٶں گا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
بنا پلک جھپکے وہ بولا تھا۔
تمہاری حیثیت۔۔۔۔ میرے لیے میرے ملازم سے بھی کم ہے۔۔۔
تم۔اس قابل ہو ۔۔۔۔کہ۔۔۔ تمہارے قریب آٶں گا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دانت پیستے ہر لفظ زہر میں بجھا تیر۔۔۔ صلہ کے دل کے پار ہوا۔
بے اختیار ہی آنکھوں کے نین کٹورے پانی سے بھر گۓ۔
اتنی۔۔۔ انسلٹ۔۔۔۔۔!!!! صلہ نے کبھی سوچا نہ تھا۔
اپنے دماغ سے یہ خرافات نکال دو۔۔۔ قریب آنا ۔۔ تو دور کی بات۔۔۔۔
تم پر اک نظر ڈالنا بھی پسند نہ کروں میں۔۔۔۔!!
آنسو بند توڑ کر گالوں پر پھسل گۓ۔۔
اور اس ایک لمحے میں سبحان ٹھٹھکا۔
وہ اپنے سخت الفاظ پے لب بھینچ گیا۔
نجانے کیوں۔۔۔۔ لیکن اس کے آنسو سبحان کو ناگوار گزر رہے تھے۔
اس لیے رخ پھیر لیا۔
صلہ نےبھی منہ پھیر کے فوراً آنسو پونچھے۔
وہ اس انسان کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔!!
میں دھوکہ دینے والوں کونہ تو۔معاف کرتا ہوں۔۔۔ ار نہ ہی ان پر اعتبار کرتا ہوں۔!!!
سپاٹ لہجے میں بولتا وہ صلہ کو مزید کچھ بولنےسےپہلے ہی چپ کروا گیا۔
تھوڑ ی دیر میں مولوی اور گواہان آجاٸیں گے۔۔۔۔ تیار ہوکرنیچے آجاٶ۔
بنا دیکھے وہ دروازے کی طرف بڑھا۔
صلہ نےاسکی چوڑی پشت پے نظر ڈالی۔
وہ مردانہ وجاہت کا اعلیٰ شاہکار تھا۔
اور اس پر اسکی آنکھوں کا سرد پن۔۔۔ اسے مزید دلکش اور سب سے الگ بناتا تھا۔
دھوکے باز۔۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تو خود کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
خود نہیں دھوکہ دے رہا اپنے کزن کو۔۔۔۔۔
چھپ کر کزن کی منگیتر کوکڈنیپ کیا۔۔۔
اور چھپ چھپا کر اب نکاح کر رہا ہے۔۔۔
کیا یہ چیٹنگ نہیں ہے۔۔۔۔۔؟
بڑا آیا۔۔ مجھے دھوکے باز کہنے والا۔۔۔۔۔
صلہ دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔
میڈم ۔۔۔۔! آپ کا ڈریس۔۔۔۔۔!.
ایک ادھیڑ عمر خاتون اندر داخل ہوٸیں۔ ساتھ میں بیوٹیشن بھی تھی۔
صلہ کو سمجھ نہ آیا کہ جب نکاح ایک ڈیل ہے۔۔۔
کسی کےسامنے ظاہر بھی نہیں کرنا۔۔۔
تو پھر دلہن کی طرح تیار کیوں۔۔۔۔؟
وہ ناسمجھ ۔۔۔یہ بھی نا سمجھتی تھی۔۔۔کہ اس میں بھی سبحان کی کوٸی چال ہو سکتی ہے۔
وہ کوٸی بھی کام بنا کسی وجہ کے نہیں کرتا۔



سب کچھ اچھے سے ہو گیا ناں۔۔۔۔!!!
سب سونے کے لیے جا چکے تھے۔ سواۓ عمر کے۔۔ وہ ماں کی گود میں سر رکھے آنکھیں موندے سکون حاصل کر رہا تھا۔
شش و پنج میں تھا کہ ماں کو صلہ کی گمشدگی کا بتاۓ یا نہ۔۔۔۔؟؟؟
بیٹا ۔۔۔۔! پہلا فنکشن تھا گھر میں۔۔۔۔! تمہاری منگنی کے بعد۔۔۔۔۔۔
صلہ کو بھی لے آتے ساتھ۔۔۔؟ وہ بھی شامل ہو جاتی۔۔۔
رابیہ بیگم کی بات عمر کا دل دھڑکا گٸ
مما۔۔۔۔۔۔۔! کچھ کام تھا۔۔۔۔۔اسے۔۔۔۔۔! ورنہ ضرور آتی۔۔۔
بات بنا کے عمر نے ٹالا۔
کیا بات ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔؟ آپ اتنے چپ کیوں ہو؟
کہیں صلہ سے کوٸی جھگڑا تو۔۔۔۔۔ ؟
رابیہ بیگم کو عمرکی خاموشی کھٹک رہی تھی۔
ارے ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ مما۔۔۔۔۔ ایسی کوٸی بات نہیں۔۔۔۔!
بس دل چاہتا ہے یوں ہی آپ کی گود میں سر رکھ کے لیٹا رہوں۔
عمر ماں کی طرف کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔اور اب ماں کے چہرے کو آنکھوں سے چوم رہا تھا۔
رابیہ بیگم نے پیار سے عمر کے بال سنوارے۔
مما۔۔۔ ایک بات پوچھوں۔۔۔۔؟
عمر نے آنکھیں بند کرتےسوال کیا۔
رابیہ بیگم بیٹے کا چہرہ ٹٹول رہی تھیں۔
مما۔۔۔۔۔۔۔! اگر ۔۔۔ آپ کا کوٸی۔۔۔ بہت اپنا۔۔۔۔ آپ سے کھو جاۓ ۔۔۔ تو کیا کرنا چاہیۓ؟؟؟
ٹہرے لہجے میں پوچھا۔۔۔
اسے ڈھونڈنا چاہیے۔۔۔۔! بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوۓ پیار سے ٹہرے لہجے میں کہا۔
اگر ۔۔۔۔ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔۔۔ تو؟؟؟
برجستہ کہا۔
پھر۔۔۔۔۔ خداپے چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔وہ بہت کار ساز ہے۔۔ وہ بگڑی کو خوب بنانا جانتا ہے۔
لہجے میں یقین تھا۔
مما۔۔۔۔! خدا سے مانگو تو۔۔۔۔۔۔ وہ دے دیتا ہے؟
اٹھتے ہوۓ پوچھا۔
رابیہ بیگم کو بیٹے کی خاموش سی طبعیت کھٹک رہی تھی۔۔۔
ہاں بیٹا۔۔۔۔۔۔۔! وہ ذاتِ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماٶں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔ وہ اپنے بندو ں کو خلی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔۔۔۔۔!!
رابیہ بیگم۔کی بات پر عمر پل بھر کو چپ ہوا۔
مما ۔۔۔۔ ساری دعاٸیں ۔۔۔ قبول۔ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک اور سوال کیا۔
بیٹا۔۔۔۔۔!. یہ تو خدا پے ہے۔۔۔۔ اکثر۔۔ ہم۔اپنے لیے۔۔۔ بہتر کی دعا کررہے ہوتے ہیں۔۔۔ پر۔۔۔ وہ ۔۔۔اوپر والا۔۔ہمیں بہترین دینا چاہتا ہے۔ تو دعا قبول نہ ہونے پے دکھی ہوجاتے ہیں۔
یہ نہیں سوچتے کہ جو اللہ جانتا ہے وہ ہم نہیں جان سکتے۔۔۔۔۔ ہم۔بہتر کی خواہش میں بہترین سے بھی نظریں چرا رہے ہوتے ہیں۔ اللہ کے ہر کام میں مصلحت چھپی ہوتی ہے۔۔۔۔
اور بیٹا۔۔۔۔ جو دعاٸیں قبول۔نہ بھی ہوں۔۔۔ وہ آخرت میں ہمارے نیک اعمال میں شامل ہو جاتیں ہیں۔
اور ہمیشہ اللہ سے گمان نیک رکھو۔۔۔ وہ دے کے بھی آزماتا ہے لے کے بھی۔۔۔
بس بیٹا۔۔۔۔۔۔! صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔۔
رابیہ بیگم کی ہر بات عمر کے دل پے جاکر لگ رہی تھی۔
جلتی آگ پر۔ماں کی باتیں ٹھنڈی پھوار بن کے برس رہی تھیں۔
مما۔۔۔! دعا جلدی قبول ہو جاتی ہے یا۔۔۔ بدعا۔۔۔۔؟؟
اک لمحے میں دماغ کے کسی کونے میں تابی کا چہرہ جھلملایا ۔ تو لب خود بخود وا ہوۓ۔۔
رابیہ بیگم ٹھٹھکیں۔
بیٹا سچے دل سے کی ہوٸی ہر دعا عرش تک خود بخود پہنچ جاتی ہے۔۔۔
بس۔۔۔۔ کوشش یہی کرنی چاہیے۔۔۔کہ کسی کی آہ نہ لگے۔۔۔ ورنہ دکھی اور ٹوٹے دل کی فریاد عرش تک ہلا دیتی ہے۔
عمرکواس کےسوالوں کا جواب مل گیا تھا۔
یعنی تعبیر حیات خان۔۔۔۔! تمہاری آہ نے مجھ سے سب چھین لیا۔
دکھ سےآنکھیں میچیں۔
مما۔۔۔۔۔! آپ سو جاٸیں۔۔۔۔ رات کافی ہو گٸ ہے۔
عمر نے رابیہ بیگم کا ماتھا چوما۔ اور اٹھ کھڑا ہوا۔
بیٹا اپنے دل ودماغ کو خالی کر دو۔۔ خداکےآگے سجدہ ریز ہو جایا کرو۔۔۔ جب کوٸی راستہ نظر نہ آۓ۔۔۔۔
وہ کار ساز ہے۔۔۔۔۔۔ راستے بھی دکھاتاہے منزل۔تک بھی پہنچاتا ہے۔۔۔۔۔۔
رابیہ بیگم نے عمر کو اپنےلفظوں سے تسلی دی۔
وہ ماں کے آگے تو نہیں کھلا۔۔۔۔۔لیکن ماں ماں ہوتی ہے۔۔
اولاد کی تکلیف سات سمندر پار بھی جان جاتی ہے۔۔
عمر اثبات میں سر ہلا کے باہر نکل آیا ۔
ایک دم سے دل گھبرانے لگا۔۔۔۔تو سیڑھیوں کے ساتھ بنی بالکونی میں چلا آیا۔
لیکن وہاں پہلے سے موجود تابی کو دیکھ کر ٹھٹھکا ۔
وہ اردگرد سے بے خبر چاند کو دیکھے جا رہی تھی۔
عمرکو ایسا لگا۔ ۔۔۔ خدا سے اسکی شکایتیں لگا رہی ہے۔ بدعاٸیں دے رہی ہے۔۔
مانگ لیں۔۔۔۔ میرے حصے کی بدعاٸیں ۔۔۔۔ خدا سے۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بےاختیار ہی لہجہ تلخ ہوا۔ تابی ایکدم چونکی۔۔
عمر کو دیکھ وہ بری طرح ٹھٹھکی۔۔ جبکہ اس نے کیا کہا ۔۔۔۔؟ وہ دھیان نہ دیا۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔؟ سکون مل۔گیا۔۔۔۔ خدا سے شکایتیں کر کے۔۔۔۔۔؟؟؟
عمراسکے قریب آیا۔۔ لہجہ تلخ اور دکھی ہوا۔
میں۔۔۔۔ میں نے ۔۔۔کسی ۔۔کی۔۔۔ شکایتیں۔۔۔۔ نہیں۔۔لگاٸیں۔۔!!!
تابی بہت ڈسٹرب ہو گٸ۔ دل تھا کہ۔۔۔ دھڑک دھڑک کے باہر آنے کو بے تاب تھا۔
نظریں تھیں کہ جھکی جا رہی تھیں۔
کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیوں بددعا دی مجھے۔۔۔۔۔۔؟؟
تابی جو سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہی تھی۔ عمر نے جارحانہ انداز میں کلاٸی سے پکڑ کر اپنے مدِ مقابل کیا۔وہ سخت گھبرا گٸ۔
عمر کے جنونی انداز سے اسے ڈر لگا۔۔
اپنی کلاٸی چھڑانی چاہی۔
میں۔۔۔۔۔۔نے۔۔۔۔۔۔ کو۔۔۔۔ٸی۔۔۔ بد۔۔۔د۔۔عا۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ دی۔۔!!
تبھی۔۔۔مجھ سے۔۔۔۔ سب چھن گیا۔۔۔۔۔۔۔ !!!!
تمہاری۔۔۔۔آہ لگی۔۔۔۔
گرفت مزید مضبوط ہوٸی۔۔عمر کی سانسوں کی تپش ۔۔ تابی اپنے چہرے پے محسوس کر رہی تھی۔۔
ایک پل میں ہی اسکی نظریں بھیگیں۔
میں۔۔۔میرا۔۔۔۔ ہاتھ۔۔۔ چھوڑیں۔۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔درد۔۔۔۔!!
درد۔۔۔۔۔۔ ؟ عمر نے اسے شدت سےخود میں سینچا۔وہ تڑپ ہی گٸ۔
تابی نے دونوں ہاتھ اسکے سینے پے رکھ کےپیچھے کرنے کی ناکام کوشش کی۔
درد تو یہاں۔۔۔۔۔ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔!!
اپنے سینے کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔ لہجہ بہت تلخ تھا۔۔۔ضبط کے کڑے مراحل سے گذر رہا تھا۔
تابی کو اپنی ٹانگوں پے کھڑے رہنا مشکل لگ رہا تھا۔
تمہاری۔۔۔۔ تمہاری۔۔۔وجہ سے۔۔صلہ۔۔۔۔۔۔!!!
کہتے کہتے وہ رکا۔۔ لب سختی سے بھینچے۔
صلہ کے نام پر تابی چونکی۔
جاٶ۔۔۔۔۔۔۔! چلی جاٶ ۔۔۔یہاں سے۔۔۔۔۔۔! اس سے پہلے کے۔۔۔۔میں اپنا ضبط۔۔۔کھو دوں۔۔۔۔
عمر نے ایک جھٹکے سے تابی کو خود سے دور کیا۔
صلہ۔۔۔۔۔۔کو۔۔۔۔کیا۔۔۔ہوا۔۔۔؟؟ بمشکل۔بول پاٸی۔
نام بھی مت لینا۔۔۔۔ اسکا۔۔۔۔۔!!. جاٶ یہاں سے۔۔۔!
پلٹ کر غصے کو ضبط کرتے اسے دھمکایا۔
اور نیچے جانے کا اشارہ کیا۔
تابی پتھراٸی ہوٸی نظروں سے اس بکھرے ہوۓ انسان کو دیکھ رہی تھی۔
چاہ کر بھی وہ مزید کچھ نہ کہہ سکی۔
اور فوراً پلٹ کر سیڑھیاں اتر گٸ۔
عمر سے اپنا غصہ ضبط نہ ہو پا رہا تھا۔مکا بنا کر دیوار پر دے مارا۔



صلہ عرفان ولد محمد عرفان آپ کو بیس لاکھ سکہ راٸج الوقت۔۔ سبحان حیات ملک ولد حیات خان کے ساتھ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟
دلہن بنی بیٹھی وہ آنسو روکے۔۔گھونگھٹ نکالے مولوی صاحب کے الفاظ سن رہی تھی۔
یہ۔وہ نکاح تھا۔۔۔ جو صرف چھ ماہ تک رہنا تھا۔
اس کے بعد ۔۔۔۔۔ علیحدگی۔۔۔۔۔۔
یہ نکاح نہیں ایک ڈیل تھی۔
آنکھوں کے پردے پے سحر کا چہرہ لہرایا۔تو لب خد وا ہوۓ۔
قبول ہے۔۔۔۔۔! سانس روکے وہ بول دی۔
اسی طرح تین بار قبول کروا کے مولوی صاحب سبحان کی جانب مڑے
سبحان سے بھی نکاح کے قبول وایجاب کے بعد دعا مانگی گٸ
سبحان کے تین دوست اور ایک کے ساتھ اسکی بیوی وہاں موجود تھے۔
سبحان کے یہ تینوں دوست اس پے جان چھڑکتے تھے۔ بالکل بھاٸیوں کی طرح تھے۔
بہت۔۔ مبارک ہو۔۔ مولوی صاحب کی آواز آٸی۔
تو سبحان باری باری سب کے گلے لگا۔اور اپنے یک دوست کو اشارہ کیا۔ وہ سمجھ گیا۔
چلیں جی۔۔۔۔۔۔! دلہا۔۔دلہن کو ایک ساتھ بٹھاٸیں۔ تصویریں لینی ہیں۔
صلہ کا گھونگھٹ ہٹا۔ وہ یکدم گھبراگٸ۔
سامنے ہی سبحان پوری آن بان شان سے کھڑا تھا۔
اک لمحے کو صلہ کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر ٹھٹھک گیا
وہ واقعی ۔۔ بہت حسین تھی۔ اور دلہن کے روپ میں سامنے والے کو زیر کر رہی تھی۔
اسے نظروں سے سراہتے ہوۓ سبحان محو تھا ۔۔ صلہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
سبحان کو بھی اپنی بے اختیاری کا فوراً احساس ہوا۔ اور خود کو دل میں ملامت کی۔۔ کیوں ۔۔۔وہ بے خود ہوا۔۔۔۔؟
لیکن وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔ نکاح کے بول کی طاقت کو۔۔۔!!
بھابھی۔۔۔ی۔لکنگ سو گارجیٸس۔۔۔!!
بہت خوبصورت ہیں آپ۔۔۔۔۔
احد کی بیوی نادیہ نے۔۔ صلہ کو دکھتے ہی بلاٸیں لیں۔۔لیکن صلہ اسکی بات پے مسکرا بھی نہ سکی۔
پہلے سبحان اور صلہ کی ایک ساتھ تصاویر لی گٸیں۔
پھر سب ملکر تصویریں بنانے لگے۔
صلہ ان سب میں بری طرح الجھی ہوٸی تھی۔وہ جلد از جلد اس بناوٹی ما حول سے نکلنا چاہتی تھی۔
چہرے پے بیزاریت چھانے لگی۔
بھابی۔۔۔۔! آٸیں۔آپ کو روم میں لے چلوں۔
نادیہ نے صلہ کو سہارا دیا ۔ اور سبحان کے روم میں پہنچا دیا۔
صلہ نےبھی شکر ادا کیا۔
نادیہ وہیں۔ صلہ کے لیے کھا نا لے آٸی۔۔ جسے صلہ نے بمشکل حلق سے تین چار نوالے ہی اترے۔
حالانکہ بھوک اسے کافی لگی تھی۔۔
اس دوران نادیہ سبحان کی تعریفوں کے قصیدے پڑھتی رہی۔
صلہ ضبط سے سنتی رہی۔ کچھ ہی دیر میں وہ چلی گٸ۔اور صلہ کے لیے ایک نیا سوال چھوڑ گٸ۔
یہ سبحان کا گھر نہیں۔ اسکا فارم ہاٶس تھا۔ اسکا اصل گھر شہر میں تھا۔ اور یہ علاقہ شہر سے کافی دور تھا۔
اسلیے۔۔اب وہ جلدی جا رہے تھے۔
کہ راستہ۔کافی لمبا بھی تھا۔ اور علاقہ خطرناک بھی۔
تب صلہ کو احساس ہوا۔ کہ وہ تو دیو کی قید میں آگٸ ہے۔
اب نجانے وہ آگے کیا کرنے والا تھا۔ دل تھا کہ۔۔۔ بری طرح دھڑک رہا تھا۔
بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر بہن کے پاس پہنچ جاۓ۔
سحر کی سلامتی کی دعا کرتے کرتے وہ وہیں سبحان کے بیڈ پے بیٹھی۔۔ بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موند گٸ۔
اور کب نیند کی دیوی مہربان ہوٸی۔۔۔اسے پتہ ہی نہ چلا۔



