Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan NovelR50515 Mera Ishq Teri justujoo (Episode 04)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq Teri justujoo (Episode 04)
Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
کیسی رونق ہو گٸ تھی تابی۔۔کے آنے سے۔۔۔۔۔! اب جبکہ ۔وہ چلی گٸ ہے ۔۔۔! اداسی سی آگٸ ہے۔۔۔!!
کچن میں سبزی کاٹتے انوشے نے اداسی سے کہا
ہاں۔۔۔۔۔۔! اللہ بچی کے نصیب اچھے کرے۔۔۔۔ اس بار گٸ۔۔۔ ہے تو۔۔۔۔کچھ زیادہ ہی اداس کر گٸ ہے۔۔۔۔
ساگ کے پتے الگ کرتے ہوۓ رابیہ بگم بھی اداس ہوٸیں۔
بچے بھی تو کتنا اداس ہو گۓ ہیں۔۔۔۔۔!!
چولہاآن کرتے مزید تبصرہ کیا۔.رابیہ بیگم چپ سی ہو گیٸں۔
کیا ہوا۔۔ امی۔۔۔۔؟ آپ اتنی۔۔ چپ کیوں ہیں۔۔۔۔؟؟ انوشے نےنوٹ کیا۔ ۔۔
پتہ نہیں کیوں۔۔۔۔۔۔؟لیکن اس بار عمر۔۔۔کے چہرے پے وہ خوشی نہیں تھی۔۔۔۔ جو منگنی والے روز تھی۔۔۔!
بہت۔۔۔۔ چپ چپ سا تھا۔۔۔۔ دل کی بات کا اظہار بہو سے کر لیا۔
آپ کا۔۔ وہم ہو گا امی۔۔۔! بھلا عمر کیوں چپ کونےلگا۔۔۔؟ اسکی دلی خواہش پوری ہونے کی بعد۔۔۔ کوٸی جواز۔۔۔۔۔۔!!!
نمبر تو ملانا ۔۔۔۔۔ کہاں پہنچا ہے۔۔۔۔۔؟
ایسےہی اسکی طرف سے دل گھبرا رہا ہے۔
رابیہ بیگم نے انوشےکی بات کاٹتے کہا۔
انوشے نمبر ملانے لگی۔۔ لیکن کال رسیو نہ کی۔
امی۔۔۔۔! پریشان نہ ہوں۔۔ پہنچے گا تو خود ہی کال کر لے گا۔
ایسے پریشان ہوتی رہیں۔۔۔ تو بی پی لو ہو جاۓ گا۔۔۔!!
ہمممممم۔۔ دل سے بیٹے کی خوشیوں کی دعا کی۔
******
ہمت کرتی تابی گاڑی سے باہر آٸی۔
اندھیرا پھیل رہا تھا۔ اور یوں بیچ سڑک میں گاڑی کھڑی کرنا۔۔ ۔۔۔ٹھیک نہ تھا۔
تابی گھبرا رہی تھی۔
عمر۔۔۔۔۔! ادھر ادھر دیکھتے عمر کی طرف بڑھی۔۔۔
آپ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ ہیں۔۔۔۔؟ سب۔۔۔۔۔۔؟؟
عمر جارحانہ انداز میں اسکی طرف بڑھا۔
تابی انہی قدموں پے ڈر کے پیچھے ہٹی۔
لیکن عمرنے فوراً خود پے قابو پا لیا۔
گاڑی میں جا کے بیٹھو۔
سخت اور بے تاثر لہجے میں کہا۔
تابی نے مزید کوٸی بات کرنا حماقت سمجھی۔اور خاموشی سے گاڑی میں جا کر بیٹھ گٸ۔
سبحان۔۔۔ بھاٸی۔۔۔۔۔! آپ نے۔۔۔ اچھا نہیں کیا۔۔۔۔
میری۔۔۔ منگیتر ۔۔۔ کو اپنے۔۔ نکاح میں لے لیا۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ دونوں نے مل کے۔۔۔ دھوکا دیا۔
خود پے جبر کرتا وہ ماتھا مسلتا وہیں۔۔ کھڑا۔۔ کچھ کر گزرنے کا سوچتا رہا۔
کہ ۔۔۔ ایک نظر ۔۔ تابی پے اٹھی۔ اور اسی۔۔ لمحے۔۔۔ میں غصہ حاوی ہوا۔
اور دماغ نے پلان بنایا۔
تو دل نے آمادگی ظاہر کی۔
فوراً موباٸیل۔پے کوٸی نمبر ڈاٸیل کرنے لگا۔
اور اپنا پلان اپنے جگری دوست عثمان کے ساتھ شٸیر کر کے اسے ہدایات دیتا گاڑی میں آبیٹھا۔
اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
کچھ دیر پہلے والا طوفان تھم چکا تھا۔
اب بالکل خاموشی تھی۔
تابی نے کن اکھیوں سے عمر کو دیکھا۔ اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی ۔۔کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔۔
طوفان تو اب آنا تھا۔۔۔۔
جس نے اسکی زندگی کو بدل کے رکھ دینا تھا۔
****************
صبح سے شام ہو گٸ۔
وہ وہیں کمرے میں صوفے پر منہ سرلپیٹے لیٹی ہوٸی تھی۔
کوٸی بھی دوبارہ اسکے کمرے میں نہ آیا تھا۔
اور صلہ نے غصہ میں کھانے سے بھی منع کر دیا ہوا تھا۔
بھوک سے برا حال تھا۔
لیکن ضد ابھی بھی قاٸم تھی۔
کروٹ بدلی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
اللہ جی۔۔۔۔۔۔! کیسی آزماٸش ہے۔۔۔۔۔؟؟ مجھے ہمت دے۔۔۔! میرے مالک۔۔۔۔۔!
خود کو خود ہی حوصلہ دیتی وہ اٹھی۔
لیکن چکر آنے کی وجہ سے وہیں ڈھے گٸ۔
تبھی دروازہ بجا۔ اور ملازمہ اندر داخل ہوٸی۔
میڈم جی۔۔۔۔! سر نے آپ کو نیچے بلایا ہے۔ ۔۔!
ملازمہ کی بات سن کریہی جی چاہا کہ کھری کھری سنا دے۔
لیکن ایک تو ہمت نہیں تھی۔
اور دوسرا۔۔۔ بہن کی فکر تھی۔۔اس سے ملنا تھا۔
اور تب تک۔۔ وہ کوٸی رسک نہیں لے سکتی تھی۔
مجبوراً ہی سہی۔۔ اسے سبحان کی ہاں میں ہاں ملانی تھی۔
بمشکل اپنی جگہ سے اٹھتی وہ آگے بڑھی۔ اور لڑکھڑا گٸ۔۔
میڈم جی۔۔۔۔! سر کہہ رہے ہیں۔ کہ شال لے کے آٸیں۔
“خان ولا “جاناہے۔
ملازمہ نے مزید اطلاع دی۔ تو صلہ حیران ہوٸی۔
یعنی۔۔۔۔۔ خدا نے اسکی سن لی۔۔۔
فٹ سے ملازمہ کے ہاتھ سے شال۔لے کے خود کے گرد لپیٹی۔
ایک انرجی سی آگٸ تھی اس کے اندر۔۔ایسا لگ رہا تھا۔کہ اسکی دعاٸیں رنگ لاٸی ہیں۔
دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی نیچے آٸی۔
سامنے ہی سبحان موباٸیل ہا تھ میں تھامے میسج ٹاٸپ کر رہا تھا ۔
صلہ کو آتا دیکھا ۔ تو باہر کی طرف قدم بڑھاۓ۔
موباٸیل۔کان کے ساتھ لگاۓ اب ساتھ میں وہ چلتے کسی سے بات بھی کر رہا تھا۔
گاڑی کے قریب پہنچا تو ڈراٸیور نے دروازہ کھولا ۔
ایک غرور سے وہ گاڑی میں داخل ہوا۔
اس کے پیچھے ہی صلہ نے گاڑی میں قدم رکھا۔ یکدم۔چکر آنے پر لڑکھڑا کر پیچھے کی طرف گرنےلگی۔ کہ۔۔۔
سبحان نے آگے ہاتھ بڑھا کر اسے فوراً کلاٸی سے تھاما۔ جبکہ دوسرے ہاتھ میں موباٸیل کان سے لگایا ہوا تھا۔
لیکن دھیان سارا صلہ پے ہی تھا۔
صلہ نے بھی فوراً خود کو سنبھالا۔
اور گاڑی میں سوار ہوٸی۔
دونوں کے بیچ مکمل خاموشی تھی۔
وہ گاڑی سے باہر کے نظاروں کو کتنے دنوں بعد آج دیکھ رہی تھی۔ سب کچھ۔۔۔۔ نیا نیا سا لگ رہا تھا۔
دنیا کی چہل پہل نے عجیب سا ہی رنگ جگایا تھا۔
دل تھا کہ بس بہن کے پاس جانے کے لیے ہمک رہا تھا۔
لیکن پھر خود کو تسلی دی۔ کہ منزل۔۔۔۔ اب دور نہیں۔۔۔!!
ریلکس ہو کر سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاتے آنکھیں موند لیں۔
آگے پیچھے سیکیورٹی گارڈز کی گاڑیاں تھیں۔
بیسٹ بزنس ٹاٸیکون ہونے کی وجہ سے دوست کم۔۔ دشمن زیادہ تھے۔
اس لیے سکیورٹی کے باوجود خود بھی چوکنا تھا۔
سبحان نے ریلکس ہوکے بیٹھتی صلہ کو اب فرصت سے دیکھ رہا تھا۔ لیکن اپنی نظروں پے فوراً بند باندھتے ہی نظریں پھیر۔لیں۔
****************





یہ۔۔۔۔ یہ ۔۔آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔؟
تابی نے گھر کے علاوہ انجانا راستہ دیکھا۔ تو گھبراتے ہوۓ عمر سے پوچھا۔
عمر نے تیکھی نظر تابی پے ڈالی۔ اور گاڑی چلانےمیں مصروف رہا۔
تابی دل ہی دل میں پریشان ہو تی رہی۔
کچھ ہی دیربعد گاڑی ایک بڑے سے گھر کے سامنے رکی۔ گیٹ کھلا۔ گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوٸی۔
اب کی بار تابی کا دل زوروں سے دھڑکا۔ اور کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
پلٹ کر سوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا۔
یہ۔۔۔یہ کس کا۔۔۔ گھر ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ تھوک نگلتے پو چھا۔
باہر آٶ۔۔۔۔ ! سرد لہجے میں حکم صادر ہوا۔
تابی بھی خاموشی سے مرے ہوۓ قدموں سے باہر نکلی۔۔
عمر۔۔۔۔۔! رات ہو گٸ ہے۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔گھر۔۔ چھوڑ دیں۔ !!!
تابی نے درخواست والا انداز اپنایا۔
عمر نے تابی کو کلاٸی سے پکڑا۔ اور اندر کی طرف بڑھا۔
تابی بھی اس کے ساتھ کھینچی چلی گٸ۔
ڈراٸینگ روم کے ہالکل بیچوں بیچ لا کے جھٹکے سے چھوڑا۔
کچھ دیر میں۔۔۔ ہمارا نکاح ہے۔۔۔! اسلیے مینٹلی تیار ہو جاٶ۔
ایک لمحے کی دیر کیے بنا عمر نے تابی کے سر پے بمم پھوڑا۔
یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔کیا کہہ رہے۔۔۔۔ہیں ۔۔۔آپ۔۔۔؟؟؟
آنکھوں میں آنسو جھلملاۓ۔
وہی۔۔۔۔۔۔! جو سنا۔۔۔۔۔۔!
عمر سفاکیت کی انتہا پے تھا۔
بس ایک ہی بات۔من میں سماٸی ہوٸی تھی۔
کہ بدلہ لینا ہے۔۔۔۔ا
انجام سے بے خبر وہ کوٸی بھی حد پار کرنے کو تیار تھا۔
ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔! میں۔۔۔۔ ایسا۔۔۔ نہیں۔۔۔ کر سکتی۔!
تابی نے قدم پیچھے لیے۔اور دروازے کی طرف بھاگی
لیکن عمر نے ایک ہی جست میں اسے جا لیا۔ اور صوفے پے لا کے پٹخا۔
میرے ساتھ۔۔۔ کوٸی ہوشیاری نہ کرنا۔۔۔! ورنہ۔۔ میرے غصے کے عتاب سے بچ نہیں پاٶ گی۔۔۔!
بمشکل خود پے قابو کرتا وہ تابی پے برسا۔
عمر کا غصہ دیکھ ۔۔۔تابی کی سٹی ہی گم ہوگٸ۔۔
آپ۔۔۔۔ غلط ۔۔۔ کر رہے ہیں۔ ۔۔۔!!
بکواس بند۔۔۔۔۔! جتنا کہا۔۔۔ہے۔۔۔! اتنا کرو۔۔۔!
بات کاٹی۔
آپ۔۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔ بھی لے لیں۔۔۔۔ ! لیکن میں ۔۔۔ آپ سے نکاح ہرگز نہیں کروں گی۔۔۔۔
تابی نے بہت ہمت کرتے عمر کو دوبدو جواب دیا۔۔
آہا۔۔۔۔۔۔!! تمہاری جان۔۔۔۔۔؟؟ نو۔۔نو۔۔۔ تمہاری۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ تمھارے۔۔ بھاٸی کی جان۔۔۔۔۔!
شاطرانہ انداز تابی کا تو دل ہی دہل گیا۔
کتنا پیار کرتی ہو اپنے بھاٸی سے۔۔۔۔۔؟؟ ہاں۔۔۔۔۔۔!!
سینے پے یاتھ باندھے پوچھا۔
تابی کے آنسو گالوں پے بہےلگے۔
آپ ۔۔۔ ایسا۔۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ کریں گے۔۔۔۔۔۔!
آپ ایسا۔۔۔۔ کر ہی نہیں سکتے۔۔۔۔ وہ آپ کے
بھی بھاٸی ہیں۔۔۔۔!!
تابی کو عمر کی بات پے یقین نہ آیا۔۔
جانتا تھا۔۔۔۔جانتا تھا۔۔۔۔!!! یہی جواب ہو گا۔
کہتے فون کال ملاٸی۔ اور فون سپیکر پے ڈالا۔
ہاں بولو۔۔۔۔!! کیا۔۔پوزیشن ہے۔۔۔۔؟؟نظریں تابی پرہی تھیں۔
سر۔۔۔۔! مسٹر سبحان ہماری گولی کے نشانے پر ہیں۔
صرف آپ کے حکم کی دیر ہے۔
مقابل کی آواز ابھری۔
ہمممم۔۔اوکے۔۔۔ شوٹ ۔۔ہم۔۔!!!
ن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔! پلیز۔۔۔۔ ۔! ایسا۔۔مت کریں۔۔۔۔
تابی روتی بلکتی عمر کے پاس آٸی۔ اور ہاتھ جوڑے۔
آپ جیسا کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔ ویسا۔۔۔ ہی کروں گی۔۔۔۔!!
پلیز۔۔۔۔۔میرے ۔۔۔بھاٸی۔۔۔کو کچھ مت کہنا۔۔۔!!
رورو کر تابی کا برا حال تھا۔ تابی کے آنسو عمر کو سکون دے رہےتھے۔۔
وہ تکلیف ۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے دل میں جاگی تھی۔
سبحان اور صلہ کے تصاویر دیکھ کے۔۔۔۔
تابی کے آنسو اس پے پھوار بن کے برسے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں مولوی کو لیے عمر کا دوست عثمان وہاں پہنچا۔
اور بنا کوٸی دیری کیے نکاح کا مر حلہ مکمل ہوا ۔
نکاح ۔۔۔۔۔ ہوتے ہی عثمان ، مولوی کولیے وہاں سے چلا گیا۔
تابی اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کھو سی گٸ۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔دعاٸیں ایسے بھی قبول ہوتی ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟
کاش۔۔۔۔۔ میں نے ۔۔۔۔ عمر کی ملن کی دعا۔۔۔ نہ مانگی ہوتی۔۔۔۔!
ہاتھ میں چہرہ چھپاۓ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
عمر بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا۔ لیکن لاک لگانا نہ بھولا۔
اور چوکیدار کو اسکا ۔۔۔ دھیان رکھنے کاکہنا نہ بھولا۔۔۔۔
گاڑی لیے۔۔۔۔ وہ اب سڑکوں کی خاک چھان رہا تھا۔
جلد بازی میں وہ بنا سوچے سمجھے اتنا بڑا قم اٹھا تو گیا تھا۔
لیکن انجام کا نہ سوچا اس نے۔۔۔۔!
نہ گھر والوں کا سوچا۔۔۔ کہ ان کو کیسے فیس کرے گا۔۔۔ کیا جواب دے گا اپنے اس عمل کا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بس غصے میں جو جی میں آیا۔۔ کر دیا۔۔۔۔
********




گاڑی “خان ولا” گیٹ سے اندر داخل ہوٸی۔
گاڑی کے رکتے ہی ڈراٸیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
سبحان باہر نکلا۔ تو خود کو اچھی طرح شال میں لپیٹے وہ بھی اسی کے پیچھے گاڑی سے اتری۔
رات کی تاریکی میں بھی “خان ولا “کسی محل سے کم نہ لگ رہا تھا۔”
روشنیوں میں نہایا ہوا وہ خوبصورتی کی اعلیٰ مثال تھا۔
ایک پل کو صلہ میمراٸز ہو گٸ۔
میکانیکی انداز میں اندر کی جانب بڑھی۔
خالہ صغرا۔۔۔۔۔۔!
وہیں کھڑے سبحان نے پکارا تو وہ فوراً آن وارد ہوٸیں۔
آگۓ۔۔۔ بیٹا جی۔۔۔۔۔۔! بہو رانی بھی آٸی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟
صلہ کو دیکھتے وہ ادھیڑ عمر عورت پیار سے بولی۔
صغرا خالہ۔۔۔۔ ! انہیں۔۔۔۔۔ اس گھر کے طور طریقے اچھی ۔۔۔ طرح سمجھا دیں۔ ۔۔ کسی غلطی کی کوٸی گنجاٸش نہیں۔۔۔ا
آنکھیں صلہ پے ٹکاۓ سخت لہجے میں کہا۔
صلہ جو زمین کو گھورے جا رہی تھی۔ سبحان کے الفاظ پرزخمی نظروں سے اسے دیکھا۔ سبحان نے بھی سخت گھوری سے نوازا
بیٹا جی ۔۔۔۔۔! آپ فکر ہی نہ کریں۔۔۔ میں ۔۔ بہو رانی کو سب۔۔۔ سمجھا دوں گی۔
صضرا خالہ۔۔صلہ کو دیکھ کے بہت خوش تھیں۔
آٶ۔۔۔ بہو رانی۔۔۔۔!صغرا خالہ صلہ کو لیے سبحان کے روم۔میں لے آٸیں۔
بہو۔۔ رانی۔۔۔! آپ فریش ہو جاٸیں۔ میں کھانا لگاتی ہوں۔
اپنے۔۔۔۔۔ ان بیٹا۔۔۔۔ جی۔۔۔ سے پوچھ بھی لیجیے گا۔۔۔۔ کہ میں نے باہر آنا بھی ہے یا نہیں۔۔۔؟؟؟
صلہ نے غصے سے دانت پیستے کہا۔ تو صغرا خالہ حیرانی سے پلٹیں۔ اور مسکرا دیں۔
بہو رانی۔۔۔۔۔! یہ گھر ۔۔۔ سبحان بیٹے کا ہے۔۔۔ ! اور انکی بیوی ہونے کے ناطے۔۔۔ آپ اس گھر کی مالکن ہو۔۔۔ تو آپ کو کہیں بھی۔۔۔ آنے جانے کے لیے ۔۔۔ کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔! آپ کے بیٹے کی اجازت کی۔۔۔۔!!!
صلہ آگے بڑھی۔ لیکن اب کی بار لہجہ نرم تھا۔
اور خاموشی سے واش روم میں گھس گٸ۔
صضرا خالہ کی آنکھوں سے صلہ کے آنسو نہ چھپ سکے۔
ایک قید سے نکل کر۔۔۔۔ ایک اور قید میں۔۔۔۔
لمبا سانس خارج کرتے اس نے منہ پے پانی کے چھینٹے مارے۔ اور باہر آٸی۔
کمرے کا جاٸزہ لیا۔
یہ کمرہ فارم ہاٶس کے کمرے سے بہت بڑا اور خوبصور ت تھا۔
عالیشان کمرہ۔۔۔۔۔
عالیشان ۔۔۔ گھر۔۔۔۔
عالیشان۔۔۔طرزِ زندگی۔۔۔!!!
سب کچھ تھا اس شخص کے پاس۔۔۔۔۔ سواۓ ایک ۔۔۔ خوبصورت دل کے۔۔۔۔۔!!.
صلہ نے سبحان کے بارے میں نظریہ اخز کر ہی لیا۔




عمر رات کے بارہ بجے کے بعد گھر لوٹا۔ تو تابی کو وہیں صوفے پے بیٹھا پایا۔
ایک لمحے کو ٹھٹھکا۔ لیکن اگلے ہی لمحے خود پر سرد مہری کا خول چڑھا لیا۔
اگر سوگ ختم ہو گیا ہو تو۔۔۔۔ اندر روم میں جاٶ۔
عمر کو اسکا رویارویا چہرہ ایک دم برا لگنے لگا۔
وہ جو سوچوں میں گم تھی۔ عمر کی آواز پے ایک دم چونکی۔ اور جھٹکے سے کھڑی ہوٸی۔
آپ نے۔۔۔ جیسا۔۔۔ کہا۔۔ میں ۔۔۔ نے کیا۔۔۔! اب ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔ مجھے۔۔۔ گھر ۔۔۔ چھوڑ آٸیں۔۔۔۔!! تابی۔۔۔اسکے سامنے آتی نم۔لہجے میں بولی۔
عمر کو اسے اس حال۔میں دیکھ کے دل کو کچھ ہوا۔
وہ تو سبحان اور صلہ کو تکلیف پہنچانا چاہتا تھا۔
لیکن وہ تابی۔۔۔ کو نشانہ بنا گیا
صبح چھوڑ آٶ ں گا۔۔۔! نرم لہجے میں کہتا وہ اپنے روم کی جانب بڑھا
ن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ ! مجھے ۔۔۔ ابھی۔۔۔ جانا ہے۔۔۔۔۔!!
تابی نے ضدی انداز میں کہا۔ تو وہ رکا۔ غصہ ایک بار پھر عود کر آیا
میری اک بات تمہارے پلے نہیں پڑتی۔ ۔۔۔؟ ٹاٸم دیکھا ہے۔۔۔۔۔؟
واپس جانا ہے۔ غصے سے بڑبڑایا۔
جاٶ۔۔ اوپر۔۔۔ روم میں۔۔۔! عمر نے سختی سے کہا ۔ تو تابی اسے دیکھتی بے بسی سے اوپر روم کی طرف بڑھی۔
بحث و لڑاٸی بے کار تھی۔ وہ اسے بچپن سے جانتی تھی۔۔۔۔ اور اسکی ضد کو بھی۔ اک بار کسی بات پے اڑ جاۓ۔ تو ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا۔۔۔
اس لیے تابی نے خاموش رہنا زیادہ مناسب سمجھا۔ ۔لیکن ۔۔۔ دل۔میں تہیہ کر لیا۔ کہ وہ کیسے بھی کر کے یہاں سے نکلے گی۔
چاہے۔۔ اسے۔۔۔ یہاں سے بھاگناکیوں نہ پڑے۔
تابی کے روم میں جانے کے بعد عمر بھی اپنے روم میں آگیا۔
زندگی ایک دم سے یوں پلٹا کھاۓ گی۔ اس نے کل تک۔۔ خود بھی نہ سوچا تھا۔
اب خود کااحتساب کرنے لگا تھا۔
ان دونوں کوکیا لگا۔۔۔۔۔۔؟؟ کہ نکاح کرکے ۔۔۔ یہ دونوں۔۔۔مجھے ۔۔۔۔ جھٹکا دیں گے۔۔۔۔۔۔؟؟
ایک طنزیہ مسکراہٹ نے لبوں کو چھوا۔
نہ نہ۔۔۔۔۔ ! اب۔۔۔۔ جھٹکا کھانے کی۔۔۔۔ تم ۔۔۔دونوں کی باری ہے۔۔۔۔
اب میں وہ کرں گا ۔۔ جہاں تمہاری سوچ بھی نہیں جاسکے گی۔۔
مطمیٸن ہوتا وہ واش روم میں گھسا.







کھانے کی ٹیبل پر مختلف انواع و اقسام کے کھانے دیکھ کر صلہ کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اور بھوک زوروں کی جاگ گٸ۔
لیکن خاموشی سے ایک چیٸر پر بیٹھ گٸ۔۔ جبکہ سبحان کھانا کھاتے مسلسل اسے نظر انداز کر رہا تھا۔۔
بہو رانی۔۔۔۔۔! کھانا نکالوپلیٹ میں۔۔۔۔!!
صغرا خالہ نے پلیٹ صلہ کے سامنے رکھی۔ توصلہنے تشکر انہانداز میں دیکھا۔
تھوڑے سے چاول۔ڈالے پلیٹ میں ۔ اور انہی پے جھک گٸ۔۔ چمچ چلاتی انکو کھانے کم اور ھلنے زیادہ لگی۔
سبحاننے ایک نظر اسکی حرکتوں کو ملاحظہ کیا۔ اور اپنا کھانا فٹ سے ختم کر کے وہاں سے اٹھ گیا۔
سبحان کے اٹھ کے جاتے ہی صلہ کھانے دے بھر پور انصاف کرنے لگی۔
سبحاننے ونڈو سے اسے دیکھا۔تو زیرِ لب مسکرا دیا۔
وہ جانتا تھا کہوہ بھوکی ہے۔۔۔ اسے بھوک لگی ہے۔
اور سبحان کے سامنے وہ کھانے سے کترا رہی تھی۔
اب جبکہ وہکھا رہی تھی اور صضرا خالہ سے مطمیٸن انداز میں باتیں بھی کر رہی تھی۔
تو سبحان تھوڑا پر سکون ہوا۔
اس نے آج تک کبھی کسی کی زات کو تکلیف نہیں دی تھی۔
اور یہ سب پہلی بار تھا۔
جب صلہ نے سب کے سامنے اسے تھپڑ مارا۔ غلط فہمی کی بنا پے۔۔ تب بھی۔۔۔۔۔ اس نے کبھی اس سے بدلہ لینے کا نہ سوچا۔
کہتے ہیں ناں۔۔۔۔۔ جب ہماری اپنی زات پر تکلیف آۓ تو ہم ہر طرح کی تکیلف سہہ جاتے ہیں۔
لیکن بات جب اپنوں پے آتی ہے تو۔۔۔ چوٹ وہاں لگتی ہے۔ جہاں سب سے زیادہ درد ہوتا ہے۔
بات اب اسکی زات کی نہیں ۔۔۔۔ اسکی بہن کی زات کی تھی۔
عمر اور صلہ دونوں ہی اسکی تکلیف کا باعث بنے تھے۔ وہ کیسے چھوڑ دیتا۔۔۔۔ ؟؟؟
سبحان کا دماغ پھر سے تابی میں جا اٹکا۔
اب اسے بھی سب سمجھانا تھا۔ کہانی وہ ترتیب دےتو چکا تھا۔ صلہ کو بھی سمجھا چکا تھا۔
لیکن پھر بھی اس کے روٹھ جانے کا ایک ڈر تھا۔ جو حاوی تھا۔







موباٸیل کی مسلسل بجتی بیل پر اس نے مندی مندی آنکھوں سے دیکھا۔
مما جان کالنگ۔۔۔۔۔۔!! وہ فوراً سے یشتر اٹھا۔
ٹاٸم دکھا تو رات کے دو بج رہے تھے۔ابھی ہی تو اسکی آنکھ لگی تھی۔
جی ۔۔۔۔ مما۔۔۔ سب خیریت۔۔۔۔۔۔؟؟ اس وقت فون۔۔۔؟؟؟
عمر۔۔۔۔۔۔۔! تم۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہو ناں۔۔۔۔۔؟ اور۔۔۔ تابی۔۔۔وہ بھی۔۔۔۔۔؟؟؟
عمر کا دل لرزا۔ تابی کے نام پے۔
جی جی۔۔۔۔۔ مما ۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔! آپ کیوں اتنی پریشان ہیں۔۔۔۔۔؟؟
بہت۔۔۔۔ برا خواب ۔۔۔دیکھا۔۔۔۔ !! مجھ سے نہیں۔۔۔ رہا گیا۔۔۔۔ اسلیے۔۔۔ فون ۔۔۔۔۔!! وہ پھر سے رو دیں۔
پاس بیٹھی انوشے انہیں تسلیاں دے رہی تھی۔
مم۔۔۔! کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔! سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ پریشان نہ ہوں پلیز۔۔۔۔۔۔!!
عمر ماں کے لیے فکر مند ہوا۔
پہنچنے کی اطلاع بھی دینا ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔ ماں کو۔۔۔؟؟
روتے ہوۓ گلہ کیا۔
تو عمر ماں کے پیار پر زیرِلب مسکرادیا۔
سوری مما۔۔ جان۔۔۔۔ ! غلطی ہو گٸ۔۔۔۔۔!! آتے ہی کام میں بزی ہو گیا۔ تو ۔۔۔۔ !!
سوری وانس اگین۔۔۔۔۔!!
بیٹا۔۔۔ ! ماں ہوں ناں۔۔۔۔ فکر تو ہوتی ہے ناں۔۔۔۔۔!
اور تابی۔۔۔۔۔۔ اسے بھی کتنے فون کیے۔۔۔۔اس نے بھی نہیں۔۔۔ اٹھایا۔
عمر کی نظر پاس پڑے تابی کے موباٸیل پر پڑی جو رات سے بند تھا۔
مما۔۔۔۔ ! فکر ۔۔۔نہ کریں۔ وہ بھی ٹھیک ہوگی۔۔۔۔ سو رہی ہو گی۔۔۔ صبح بات کر لینا آپ ۔۔۔۔۔!!
چلو۔۔ بیٹا۔۔۔۔ ! تم بھی آرام کرو۔۔۔! اپنی خیر خیرت کی اطلاع دیتے رہنا۔
فون بند ہو چکا تھا۔ لیکن عمر کی نیند اڑ گٸ تھی۔
اچانک دل میں تابی کا خیال آیا۔ تو فوراً جوتے پہنتا وہ باہر نکلا۔
تابی ساتھ والے روم میں ہی تھی۔
لیکن اسکا دروازہ کھلا تھا۔
عمر کو کچھ صحیح نہیں لگا۔اندر روم میں گیا وہاں تابی کہیں نہیں تھی۔۔۔۔
سارا گھر چھان مارا ۔۔۔ وہ کہیں نہیں تھی۔
اب وہ حقیقتاًپر یشان ہوا۔
اور باہر گیٹ کے پاس آیا۔
عاطف بابا۔۔۔ عاطف۔۔ بابا۔۔۔۔!!
اونچی آوازمیں پکارتا وہ ادھر ادھر بھی دیکھے جا رہا تھا۔
جی بیٹا۔۔۔۔۔۔! کیا۔۔۔۔ ہوا۔۔۔۔؟؟ سب خیریت ہے ناں۔۔۔۔؟؟
عاطف بابا۔۔۔۔! تعبیر ۔۔۔۔ اندر نہیں۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔!
آپ نے دیکھا۔۔۔۔۔ اسے۔۔۔۔؟؟
عمرکی لہجے میں فکر مندی تھی۔
نہیں بیٹا۔۔۔۔۔! گیٹ۔۔تو بند ہے۔۔! اندر ہی۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اندر نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔! غصہ ضبط کرتے وہ چلایا۔
گیٹ کھولیں آپ۔۔۔۔! فوراً حکم صادر کیا۔
عاطف بابا نے فوراً گیٹ کھولا۔ باہر نکل کےسارا چیک کیا۔
کہ تبھی دروازے کی ساٸیڈ والی دیوار کے پاس ٹوٹی چوڑیاں نظر آٸیں۔
قریب جا کے اچھے سے چیک کیا۔ تو عمر کے رونگٹے کھڑے ہوگۓ۔
تابی۔۔۔۔۔۔! فوراً کھڑا ہوا۔ اور اندر بڑھا۔
عاطف بابا ۔۔۔۔! گیٹ کھولیں۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے اونچی آواز میں کہا۔
عاطف بابا نے فوراً بڑا گیٹ کھولا۔ عمر نے گاڑی نکالی۔اور روڈ پر ڈال دی۔
ہر جگہ وہ دیکھتا جا رہا تھا۔ دل تھا ۔۔کہ بہت زیادہ بے چین ہو رہا تھا۔
کیوں تابی۔۔۔۔۔؟؟ کیوں۔۔۔؟؟ بھاگی تم۔۔۔۔۔؟؟اگر۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔ کچھ ۔۔۔ہو گیا۔۔۔۔۔ تو۔۔۔؟؟
یہ سوچ آتے ہی۔۔۔ وہ زیادہ پریشان ہو گیا۔ اور سنسان سڑکوں پے گاڑی دوڑاتا رہا۔




بھاٸی۔۔۔۔ جلدی چلاٶ ناں۔۔۔۔۔!!
تابی منہ سر لپیٹے رکشہ ڈراٸیور سے بولی۔
وہ بمشکل دیوار پھلانگ کر وہاں سے نکل تو آٸی تھی۔ لیکن آگے جا کے اسے ایک رکشے والا مل گیا۔
اسے گھر کاایڈرس بتاتی ۔۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی رکشہ ڈراٸیور کو شک میں ڈال رہی تھی۔
اور رکشہ ڈراٸیورنےرکشہ کی سپیڈ بھی آہیستہ رکھی تھی۔۔۔
کیا بات ہے بی بی۔۔۔۔؟ کس سے بھاگ کے کر آٸی ہو۔۔۔؟
معنی خیزی سے کہتا وہ تابی کو چونکا گیا۔
بھاٸی۔۔۔۔ ! اپنے کام سے مطلب رکھو۔۔۔ اور تھوڑا تیز چلاٶ۔
تابی منہ چھپاۓ ہڑبڑی میں بولی تھی۔لیکن اسکے لہجے کی لڑکھڑاہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔
رکشہ ڈراٸیور نے فرصت سے تابی کا بھرپور جاٸزہ لیا۔
جہاں نظر کلاٸی پے پڑی۔ جو زخمی ہوٸی تھی۔
اپنا کام ہی کر رہا ہوں۔ ۔۔۔ !
رکشہ ڈراٸیور نے سنسان جگہ۔۔ پے رکشہ روکا۔ اور تابی کوبنا کوٸی سنبھلنے کا موقع دٸیے اس کے پاس پیچھے آیا۔
تابی اسکی اس اچانک حرکت پے بوکھلا گٸ۔
اور فوراً رکشے سے اترنا چاہا۔ لکن اس شخص کی گرفت بہت سخت تھی
تابی نے اسکی کلاٸی پے اپنے دانت گاڑھ دیۓ۔وہ درد سے بلبلا اٹھا۔ ۔۔۔
