Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Teri justujoo (Episode 08)

Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan

سمیرا بچے۔۔۔۔۔۔۔!! ایسے روٶ تو مت۔۔۔۔!!

میں آگیا ہوں ناں۔۔۔ سب ٹھیک کر دوں گا۔

شہریار نے سمیرا کے آنسو پونچھے۔ اور اسے گلے سے لگایا۔

بھاٸی۔۔۔۔! آپ نہیں جانتے ۔۔۔ یہ۔۔ اذیت۔۔۔کتنی سخت ہے۔۔۔۔!! میری تو۔۔۔۔ روح کانپ جانتی ہے۔۔ جب ان کو کسی اور کے ساتھ۔۔۔سوچتی۔۔۔۔!!

آنسو پھر سے بہہ نکلے۔

شہریار نے اسے تسلی دی۔ اسی اثنا میں زین اندر داخل ہوا۔

سمیرا کا روتا چہرہ دیکھ اسے معاملے کی سنگینی کا احساس ہو گیا۔ پر چہرہ بے تاثر ہی تھا۔

کیسے ہو زین۔۔۔۔؟ شہریار اٹھ کر زین سے بغل گیر ہوا۔ زین بھی خوش دلی سے ملا۔

سمیرا نے اپنے آنسو پونچھے اور اٹھ کر جانے لگی۔

اک منٹ۔۔۔۔۔۔!! یہیں رہو۔۔۔۔۔!

تمہارے سامنے ہی شہریار بھاٸی سے کچھ باتیں کلٸیر کرنی ہیں۔

زین نے سرد لہجے میں سمیرا سے کہا۔ تو سمیرا نے سوالیہ نظروں سے بھاٸی کو دیکھا۔

شہریار نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

دیکھیں بھاٸی۔۔۔۔! میں نہیں جانتا۔۔۔ کہ سمیرا نے آپ سے کیا کہا۔۔۔۔؟؟لیکن میں آپ سے سب کلیٸر کرنا چاہتا ہوں۔

تمہید باندھتے ہی وہ سمیرا کا دل دھڑکا گیا۔

مونا۔۔۔۔۔میری سیکریٹری ہے۔۔۔وہ۔۔۔ طلاق یافتہ ہے۔

میں کافی عرصے سے اسے جانتا ہوں۔

اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔ اور مجھے پسند بھی ہے۔۔۔

اسلیے۔۔۔ میں نے اس سے نکاح کا فیصلہ کیا ہے۔

بنا ڈرے ساری بات کہہ دی۔

زین ۔۔۔۔! نکاح کے لیے فیصلہ لیتے وقت سمیرا اور اپنی بیٹی علیزے کا نہیں سوچا۔۔۔۔۔؟؟

شہریار نے دھیمے انداز میں بات شروع کی ۔ وہ غصے میں معاملہ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

سوچنا کیسا ۔۔۔۔۔شہریار بھاٸی۔۔۔۔؟؟

سمیرا میری بیوی ہے۔۔۔اور علیزے میری بیٹی۔

یہ دونوں میری زمہ داری ہیں۔

اور میں دو بیویاں باآسانی افورڈ کر سکتا ہوں۔

زین نے شہریار کو لاجواب کرنا چاہا۔

شہریار نے اک نظر بہن کے چہرے پے ڈالی۔ جہاں دکھ اور درد کی داستان رقم تھی۔

اور سمیرا کے جذبات کا کیا؟؟

اسکے دل۔کا کیا۔۔۔۔؟؟

اب کے شہریار کا لہجہ سخت تھا۔

میں دونوں میں عدل و انصاف رکھوں گا۔ کسی کی بھی حق تلفی نہیں کروں گا۔

زین جیسے ہر سوال کے جواب کے لیے پہلے سے ہی تیار بیٹھا تھا۔

لیکن ۔۔۔ تم جانتے ہو۔۔۔۔۔سمیرا ۔۔ راضی نہیں۔

تو۔۔۔ یہ سمیرا کا مسٸلہ ہے۔۔۔۔! میں فیصلہ کر چکا ہوں۔

زین اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

شہریار بھاٸی۔۔۔۔! میں ہمیشہ سمیرا اور علیزے کو فرسٹ پیٸوریٹی دوں گا۔ اپنی آخری سانس تک۔

اور میں یہی چاہوں گا۔ کہ یہ۔۔۔ اسکا گھر ہے۔اور یہ یہیں۔۔۔ رہے۔۔۔۔۔گی۔۔ ہمیشہ۔۔۔

اور جہاں تک بات ہے مونا کی۔۔۔۔

میں اسے الگ گھر میں رکھوں گا۔

زین۔۔۔۔!! تم صحیح نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔!!

شہریار نے بھی اسے اٹھتے ہوۓ وارن کیا۔

شہریار بھاٸی۔۔۔۔۔!! اسلام۔میں بھی چار شادیوں کی اجازت ہے۔ ۔۔۔ اور مونا طلاق یافتہ ہے۔۔۔۔۔ اور طلاق یافتہ سے نکاح کرنا۔۔۔۔۔ ثواب کا کام ہے۔

زین نے شہریار کو اک بار پھر لفظوں سے مات دی۔

اور پلیز۔۔۔۔ بھاٸی۔۔۔۔ بیٹھیں۔۔۔۔۔!! زین نے آدابِ میزبانی نبھایا۔

سمیرا۔۔۔۔۔!! شہریار بھاٸی کوکھانے کے بنا نہیں جانے دینا۔

سمیرا سے ایسے بات کی جیسے ابھی کوٸی بہت بڑی بات نہ ہوٸی۔ہو۔ نارمل انداز میں بات کی۔

مجھے ۔۔۔کچھ ضرورں کام ہے بعد میں بات ہوگی۔۔۔۔!!

شہریار سے ایکسکیوز کرتا وہ باہر نکل۔گیا۔

سمیرا اک بار پھر رو دی۔

شہریار نے آگے بڑ ھ کے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔

اپنی نازوں پلی بہن کو یوں روتا۔۔۔۔ اور غمزدہ دیکھ کے اسکی بھی آنکھیں نم ہو گٸیں تھیں۔

لیکن شہریار نے فیصلہ کر لیا تھا۔

چاہے اسے کچھ بھی کیوں نہ کر نا پڑے وہ اپنی بہن کی خوشیاں واپس لوٹاۓ گا۔

**************

ہاں ۔۔۔۔ سلمیٰ باٸی۔۔۔۔!! کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ کام ہو گیا۔۔۔۔؟؟

ہاں ۔۔ہاں۔۔۔ ہو گیا ہے تیرا کام۔۔۔

چینج کر دیٸے ہیں اس خوبصورت بلا کے کپڑے ۔۔۔۔

قسم سے۔۔۔۔۔۔۔ کیا حور پری ہے وہ۔۔۔۔۔

ہاتھ لگاۓ میلی ہوتی ہے۔

اور لال ساڑھی میں تو وہ۔۔۔۔۔ اور ہی غضب ڈھا رہی ہے۔۔۔۔۔

اور ۔۔۔ اب تم کرو جو کرنا ہے۔۔۔۔

اور جلدی سے اسے میرے حوالے کرو۔۔۔۔ میرے کوٹھے کی شان بڑھاۓ گی۔ یہ۔۔۔ چھوٸی موٸی سی۔۔۔۔۔۔

سلمیٰ باٸی مکارانہ انداز میں بولی۔

ہاں ہاں ۔۔۔۔ تیرے حوالے ہی کریں گے۔۔۔۔۔

بس ۔۔۔ کچھ تصویریں لینی ہیں۔ اور اس کے اس۔۔۔۔ مغرور بھاٸی کو بھیجنی ہیں۔۔۔

جسے بہت گرمی چڑھی ہے۔ ۔۔۔ بزنس میں ہمیں اتنا نقصان پہنچا چکا ہے۔۔۔ کہ اب بھیک مانگنے کی نوبت آگٸ ہے۔

اور اب۔۔۔ اسی کی بہن کی ۔۔۔۔ تصویریں بنا کے۔۔۔ نیٹ پے دے کے۔۔۔۔۔ پیسہ کماٸیں گے۔۔۔۔۔۔

اور اپنا نقصان پورا کریں گے۔۔

وہ شخص قہقہہ لگا کے ہنسا۔

ہاں ناں۔۔۔۔۔ اسکی بھاٸی کی تڑپ کا مزہ ہم لیں گے۔۔۔

اور اسکی بہن کی تڑپ کا مزہ تم لینا۔۔۔۔۔

شمس نے بھی کہتے ہوۓ سمیر کا ساتھ دیا۔ اور وہ تینوں زور سے قہقہہ لگا کے ہنسے۔

اتنے میں انکا ایک آدمی اندر داخل ہوا ۔ اس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔

ہاں بھٸ جیدی۔۔۔۔۔۔؟؟ بھیج دیا ناں۔۔۔۔ سب کو۔۔۔۔؟؟

اب زرا کھل کے عیاشی کریں گے۔۔۔۔

سمیر نے آنے والے سے کہا۔

فکر ناٹ سر۔۔۔۔۔!! سارا بندوبست کر کے آیا ہوں۔

اب زرا اس اپسرا کا دیدار تو کرا دیں۔ جس کے حسن کی تعریفوں کے آپ پل باندھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔!!

وہ شخص بھی مکارانہ انداز میں بولا۔ اور اپنا کیمرہ ٹھیک کیا۔

ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔۔۔؟؟

تیرے بغیر کچھ بھی کرتے ہیں۔۔۔ کیا ہم بھلا۔۔۔۔۔؟؟

سمیر نے اس سے چاپلوسی سے کہا۔

جیدی ان کے ہر غلط کام میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا۔

اور آج بھی ان کی پلاننگ تھی کہ آجکا دن اور رات رنگین بناٸیں گے۔

اور اسی لیے انہوں نے تابی کو کڈنیپ کیا تھا۔ اور آگے کا منصوبہ ان کا بہت خطرناک تھا۔

لیکن کہتے ہیں ناں۔۔۔۔ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے۔

ان کے ساتھ بھی ایساہی ہوا ۔

جیسے ہی انہوں نے اندر روم میں جانے کا ارادہ کیا۔

پولیس ریٹ پڑگٸ۔

سرجی بھاگیں۔ پولیس نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔

سمیر کا ایک آدمی بھاگتا ہوااندر آیا ۔

ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔؟؟

سر۔۔۔۔۔ آپ نے پکا بندوبست نہیں کیا تھا کیا؟؟

جیدی کو اپنی فکر لگی۔

اس سے پہلے کے وہ کچھ سوچتے پولیس اہلکار اندر داخل ہوگۓ ۔

اور ان سب کو اپنی حراست میں لے لیا۔

سلمیٰ باٸی بھی انہی کے ساتھ دھر لی گٸ۔

میری ۔۔۔ بیوی ۔۔ کہاں ہے۔۔۔۔۔؟؟

عمر نے سخت لہجے میں پوچھا۔

ان تینوں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا۔

کون سی بیوی۔۔۔۔؟؟

شمس نے حیرت سے پوچھا۔

عمر نے رکھ کے اک مکا اس شمس کو دیا۔

یاد آیا۔۔۔۔۔۔؟؟

عمر نے اسے گریبان سے پکڑا۔

وہ۔۔۔۔ وہ جو اندر ہے لڑکی۔۔۔۔۔۔۔ یہ اسکی بات کر رہا ہے۔۔۔۔

سمیر نے اپنا ہاتھ پولیس اہلکار سے چھڑاتے ہوۓ کہا۔

اسکے کہنے کی دیر تھی۔ عمر اندر کی جانب بڑھا۔۔

اندر داخل۔ہوا تو سامنے ہی تابی بے ہوش پڑی تھی۔

اسکے کپڑے دیکھ غصے سے عمر کے دماغ کی رگیں تن گٸیں۔

جبکہ وہ ہوش و حواس سے خرد بستر پر پڑی سرخ رنگ کی سلیولیس ساڑھی میں اپنے حسن کی چاندنی بکھیر رہی تھی۔

ایک لمحے کو عمر بھی پلک جھپکنا بھول گیا۔

اس سے پہلے کے کوٸی اندر داخل ہوتا۔۔۔۔

عمر نے وہیں بستر کی چادر اس کےاوپر ڈال کے اسے مکمل چھپا دیا۔ اک گہری سانس لیتا وہ باہر نکلا۔

انسپکٹر بلال ان سب کو حراست میں لے چکاتھا۔ اور تفتیش کے لیے پولیس اسٹیشن لے جانا تھا۔

عمر نے آٶ دیکھا نا تاٶ۔

۔

سمیرکی طرف جارحانہ انداز میں بڑھا۔

جو تابی کو دھوکے سے یہاں لایا تھا۔

اور اسکو بے تحاشا مارتا چلا گیا۔

انسپکٹر بلال نے اور دو اور اہلکار نے اسے قابو کرنا چاہا۔ لیکن وہ آپے سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔

عمر ۔۔!! سنبھالو خود کو۔۔۔۔۔۔!!

یہ قانون کے مجرم ہیں۔۔۔ انہیں قانون سزا دے گا۔

تم۔۔۔۔۔ بھابھی کو لے کے جاٶ۔۔۔۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔!! باقی میں دکھ لوں گا۔

بلال نے اسے سمجھانا چاہا۔

میرا منہ توڑ کے رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔ تو نے۔۔۔۔۔۔!!

ہمیں کیا۔۔۔۔۔ پتہ تھا۔۔۔۔وہ تیری بیو ی ہے۔۔۔۔؟؟

سمیر نے منہ سے خون صاف کرتے ہوۓ دکھی اور غصے بھرے لہجے میں کہا۔

عمر نے مڑ کے ایک اور مکا رکھ کے دیا۔

آٸیندہ ۔۔۔۔ میری بیوی سے دور رہنا۔۔۔۔ ورنہ آج منہ توڑا ہے۔۔۔ کل۔۔۔ تمہیں۔۔۔ توڑ دوں گا۔۔۔ وہ بھی پورا کا پورا۔۔۔۔۔ اور اس۔۔۔ بات کا مجھے قطعی افسوس نہ ہو گا۔

عمر کی بات پے وہ عمر کی شکل دیکھنے لگا۔

انسپکٹر بلال ان سب کو حراست میں لے کے وہاں سے نکلے۔

عمر بھی اندر واپس گیا۔ اوربہت احتیاط سے اس نے تابی کو اپنی بانہوں میں بھرا۔ اور باہر کی جانب قدم بڑھاۓ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

شہریار سمیرا کے گھر سے ہوٹل میں بک کیے اپنے روم میں آچکا تھا۔

فریش ہو کر گھر کال ملاٸی۔

اور انوشے کو مختصراً ساری بات بتا دی۔

وہ اور زیادہ پریشان ہوگٸ۔

اور شہریار کو تسلیاں دینے لگی۔

شہریار نے گھر کا حال احوال پچھ کے کال بند کر دی۔

حقیقتاً وہ خود بھی بہت زیادہ اپ سیٹ ہوگیا تھا۔

اسے لگا تھا کہ وہ بات سنبھال لے گا۔ لیکن۔۔۔ یہاں تو بہت زیادہ معاملات بگڑ رہے تھے۔

اور اسے کوٸی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔

وہ سمیرا کو اپنے گھر ہنستا بستا دیکھنا چاہتا تھا۔

اور دماغ میں تدبیریں بن رہا تھا ۔۔۔

وہ کسی بھی حال میں یہ نکاح روکنا چاہتا تھا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سمیرا یہ کبھی برداشت نہیں کر پاۓ گی۔ اور بہن کی تکلیف اسے اپنے دل پر محسوس ہو رہی تھی۔

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔ کہ شروع کہاں سے کرے۔۔۔۔؟؟

اور جب کچھ بھی سمجھاٸی نہ دے تو ایک

ہی ذات باری تعالیٰ ہے۔

جو دلوں کے بھید بھی جانتی ہے۔

اور ہر مشکل سے نکالنے کا سبب بھی بنا تی ہے۔

پورے یقین سے وہ اٹھا۔ وضو کیا۔ نماز ادا کی۔

اور جاۓ نماز پے بیٹھے روتے ہوۓ اپنے رب سے اپنی بہن کی خوشیاں مانگیں۔

اور جانے انجانے میں ہوٸی خطاٶں سے اللہ سے معافی مانگی۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتا۔ کہ کچھ خطاٶں کی معافی نہیں ہوتی۔

بلکہ دنیا میں ہی اسکا مکافاتِ عمل ہو جاتا ہے۔

****************

مسلسل فون کان سے لگاۓ پریشان حال وہ تابی کے نمبر پے کال کر رہا تھا۔

لیکن اسکا فون بند جا رہا تھا۔ اس کے خاص بندے مسلسل تابی کو ڈھونڈ رہے تھے۔

تابی کا سیکیورٹی گارڈ بھی غاٸب تھا۔

ادھر سے ادھر چکر لگاتا وہ خالہ صغرا کو بھی پریشان کر رہا تھا۔

بیٹا جی۔۔۔۔۔!! پریشان نہ ہوں۔۔ تابی بیٹا۔۔۔ آجاۓ۔۔۔۔۔!!

آپ نے اسے۔۔۔۔ اکیلے جانے کیسے دیا۔۔۔۔۔؟؟

آپ جانتی ہیں۔۔۔۔ اسے کچھ ہو گیا۔۔۔ تو ۔۔۔ کون۔۔۔ ذمہ دار ہوگا۔۔؟؟

سبحان صغرا خالہ پے بھڑکا۔

اس وقت اسکا غصہ اتنا شدید تھا کہ صغرا خالہ بھی لرز کے رہ گٸیں ۔

سیڑھیاں اترتی صلہ بھی ٹھٹھکی۔ سحر جو اسکے ساتھ تھی۔ سبحان کی گرج دار آواز سے وہ سہم کے صلہ سے چپک گٸ۔

سبحان نے ایک نظر ان پے ڈالی۔ اور دوبارہ سے فون کال پے بزی ہو گیا۔

اور اب وہ فون پے کسی کو ڈانٹ رہا تھا۔

وہ سکیورٹی گارڈ مجھے ہر حال میں چاہیے ۔ وہ بھی ایک گھنٹے کے اندر اندر۔۔۔

صلہ نے سحر کو پیار سے چمکارا۔ اور اسے صغرا خالہ کے ساتھ اوپر کی طرف بھیجا۔ اور خود سبحان کی طرف آٸی ۔

ہو سکتا ہے۔۔۔۔ آپ کے ہی کسی دشمن نے۔۔۔ اسے کڈنیپ کیا ہو۔۔۔۔۔؟؟

صلہ نے بہت ہی معصومیت سے سبحان کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

سبحان نےنظریں اٹھا کے اسکی طرف دیکھا اور غصے سے اسے بازو سے پکڑ اپنی اور کھینچا۔

کتنی بار کہا ہے۔۔۔ اپنی زبان اور سوچ کو قابو میں رکھو۔ کسی دن میرا دماغ خراب ہوا۔ تو جان سے جاٶ گی۔

دبے دبے غصے میں کہے گۓ الفاظ صلہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسی دوڑا گۓ ۔

تبھی سامنے سے اسد سبحان کا خاص آدمی آتا دکھاٸی دیا۔

صرف اسے اور عزیز کو ہی گھر کے اندر آنے کی اجازت تھی۔

سبحان نے جھٹکے سے صلہ کو چھوڑا۔

جاٶ یہاں سے۔۔۔۔!!

غراتے ہوۓ کہا۔ صلہ بنا کوٸی لفظ ادا کیے وہاں سے پلٹ گٸ۔

سبحان اسد کی طرف متوجہ ہوا۔

سر۔۔۔۔۔!! ڈراٸیور سے سب پتہ لگ گیا ہے۔ وہ چھوٹی بی بی کو جد ہوٹل میں لے کے گیا تھا۔ چھوٹی بی بی۔۔ وہاں سے باہر ہی نہیں آٸیں ۔

اسد کے بتانے پر سبحان کے ماتھے پر تیوری چڑھی۔

صلہ بھی رک کر سیڑھیوں کے پاس انکی باتیں سننے لگی۔

کیا مطلب۔۔۔۔۔؟؟

سر ۔۔۔۔ وہا ں سے پتہ کیا۔ تو سی سی ٹی فوٹیج ملی۔ یہ دیکھیں ۔

اسد نے ایک ویڈیو سبحان کو دکھاٸی ۔

جس میں تابی سمیر کے ساتھ جاتی دکھاٸی دے رہی تھی۔

ویڈیو دیکھ سبحان کے تن بدن میں آگ لگ گٸی۔

یہ۔۔۔ یہ یہاں کیا۔۔۔کر رہا ہے۔۔۔؟؟

سبحان کو سمیر کو پہچانتے دیر نہ لگی۔

وہ اور اسکا دوست شمس اس کے بزنس راٸیوال تھے۔

اور ان کا سارا بزنس سبحان کی وجہ سے ڈوب گیا تھا۔

سبحان کو خطرے کی بو آٸی۔

سر۔۔۔۔۔۔ !! انہوں نے چھوٹی بی بی کو نہ صرف کڈنیپ کیا ہے۔۔۔۔ بلکہ۔۔۔۔۔۔؟؟

اسد کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔

کیا۔۔۔۔۔؟؟ سبحان کا دل لرزا۔ صلہ بھی پوری ہمہ تن گوش ہوٸی۔

سر وہ چھوٹی بی بی کو سلمیٰ باٸی کے ۔۔۔ کوٹھے۔۔۔ پر۔۔۔۔۔!!!!

سبحان نے اسد کا گریبان پڑا۔

صلہ کی آنکھ ے آنسو ٹوٹ کے گرا۔ اس کے دل کو جیسے کسی نے ہاتھ مارا ہو۔

یا خدا۔۔۔۔۔!!! یہ کیا۔۔۔۔۔؟؟

میں نے تو کبھی۔۔۔۔ بھی۔۔۔ تابی کا برا نہںں چاہا۔۔۔۔

میرے مالک۔۔۔۔۔!! اپنا رحم کر۔۔۔۔ اس مععصوم کی حفاظت کر۔

صلہ نے ڈھیر ساری دعاٸیں مانگ لیں تابی کے لیے۔

سر۔۔۔۔!! اس سے پہلے کے دیر ہو جاۓ۔۔۔ ہمیں ۔۔۔ وہاں جانا ہوگا۔۔۔۔

اسد نے گھبراتے ہوۓ کہا۔

سبحان نے خود پر قابو کیا۔ اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ۔ صلہ نے اسکی او ر تابی کی دلامتی کے لیےد عا کی۔

***********

وہ کوٸی چین سموکر نہ تھا ۔ بلکہ اس نے کبھی سگریٹ کو چھوا بھی نہیں تھا۔ لیکن اس وقت وہ سگریٹ کے دو پیکٹ پی چکا تھا۔

پورے روم میں اس نے دھواں پھیلایا ہوا تھا۔ اپنے اندر کا اشتعال کن کرنے کے لیے وہ سگریٹ پے سگریٹ پیے جا رہا تھا۔

ایش ٹرے میں سگریٹ مسلتے نظریں اسکی مسلسل تابی پر تھیں۔

جو ایک گھنٹے سے بستر پر بے ہوش پڑی اسکے ضبط کا امتحان لے رہی تھی۔

عمر وہا ں سے سیدھا اسے اپنے ا یمپارٹمنٹ میں لے آیا تھا۔

اور تب سے وہ سگریٹ کے ساتھ شغل فرما رہا تھا۔ اور اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جو مزید بڑھتا جا رہا تھا۔

دھیرے دھیرے تابی کی پلکیں لرزیں۔ اس کے سر میں درد کی شدید لہر اٹھی۔

بے اختیار ہاتھ سر کی طرف گیا۔

کلروفارم کی زیادہ مقدار کی وجہ سے وہ بہت دیر بے ہوش رہی۔

آہیستہ آہیستہ اس کے دماغ نے کام کرنا شروع کیا۔ تو جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔

لیکن ارد گرد صرف دھواں ہی نظر آیا۔

فوراً اٹھ کر بیٹھی۔ ہوا میں ادھر ادھر ہاتھ مار کے دھواں ہٹایا ۔

اور اپنی کھانسی پے بمشکل قابو کرتی سامنے ہی نظر اس دشمنِ جاں پے جا ٹہری ۔

حیرے سے آنکھیں پوری کی پوری کھل گٸیں ۔

عمر کی تیز اور غصیلی نظریں اسی پر تھیں۔

ٹانگ پے ٹانگ جماۓ بیٹھا وہ تابی کو اندر تک لرزا گیا تھا۔

حلق سے تھوک نگلتی وہ جلدی سے بستر سے اٹھی تو بے اختیار ہی اسکی ساڑھی کا پلو نچے ڈھلک گیا ۔

اور اسی لمحے تابی کی نظریں اپنے حلیے پے گٸ۔

شرم سے وہ پانی پانی ہو گٸ۔

دل نے جیسے دھڑکنا ہ بندکر دیا۔

اتنا واہیات لباس پہنے وہ عمر کے سامنے کھڑی تھی۔۔

فوراً سے بیشتر ساڑھی کا پلو اٹھا یا۔ اور اسے اوڑھتے ہوۓ رخ موڑ لیا ۔

عمر دانت پیستا اس کے قریب آیا ۔ اور جھٹکے سے اسے اپنی طرف موڑا۔

اور اپنی انگلیاں اسکی بازو میں پیوست کیں۔ کہ وہ سسک اٹھی۔

تابی پوری کی پوری لرز رہی تھی۔

تم ۔۔۔۔۔ اتنی۔۔۔ بڑی بے وقوف۔۔۔کیسے ہو سکتی ہو۔۔۔۔؟؟

ہر لفظ ٹہرا ہوا اور سخت لہجے میں ڈھلا ہو اتھا۔

اور تابی کی نین کٹورہ آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں۔

اس ۔۔۔ بے ہودہ۔۔۔ عورت نے۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔ چھوا۔۔۔۔۔!!

تمہارا۔۔۔۔ لباس۔۔۔ تبدیل کیا۔۔۔۔ اور تمہیں۔۔۔۔ ہوش تک ۔۔۔ نہ تھا۔۔۔۔۔!!

عمر چاہ کر بھی خود پے قابو نہیں کر پا رہا تھا۔ ان لمحوں میں وہ ہزاروں موت مرا تھا۔

عمر کے لفظوں پر تابی کی پلکیں لرزیں۔ اسکا وجود ساکت ہوا۔

اسے یقین نہ آیا۔۔۔ کہ اسکے ساتھ ۔۔۔ ایسا کچھ ہوا۔۔۔ ہے۔۔

اس عورت نے تمہیں۔۔۔۔ دیکھا۔۔۔۔۔۔چھوا۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔

تابی۔۔۔کیسے۔۔۔۔؟؟ تم نے ۔۔۔کیوں نہ خود کی حفاظت کی۔۔۔۔۔؟؟

کیوں۔۔۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟

عمر جیسے دیوانہ سا ہونے لگا۔

اور تابی اس کے اس انداز سے سخت ڈری۔

عمر۔۔۔۔۔۔۔!!!

چپ۔۔۔۔۔۔ایک دم چپ۔۔۔۔۔!!

سرگوشی نما آواز میں وہ تابیکو چپ کرا گیا۔ آنسو عمر کی آنکھوں کو بھی نم کر نے لگے۔

تابی۔۔۔ خود کی حفاظت کیوں نہیں کرسکتی تم۔۔۔۔؟؟

کب ۔۔۔ کب تک یونہی۔۔۔۔ بے وقوفیاں کرتی رہوگی۔۔۔۔؟؟

اب کی بار غصہ اور سرزنش تھی لہجے میں۔

جانتی ہو۔۔۔ اگر میں وہاں نہ پہنچتا تو۔۔۔۔۔؟؟ میری روح تک کانپ جاتی ہے یہ سوچ کے۔۔۔۔۔۔

دکھ سے کہتا وہ تابی کو مزید رلا گیا۔

میں۔۔۔۔ میں نہیں۔۔۔۔ جانتی۔۔۔ میں وہاں۔۔۔ کیسے۔۔۔؟؟

تم۔۔۔۔۔۔تم نہیں ۔۔۔۔ جانتی۔۔۔۔؟؟

تم خود چل کے گٸ تھی ا سکے ساتھ۔۔۔۔!!

عمر نے غصے سے اسکی بات کاٹی۔

تابیکا سر جھک گیا۔ اور نیر بہنےلگے۔

وہ صحیح ہی تو کہہ رہا تھا۔

وہ خود ہی تو اس شخص کے ساتھ گٸ تھی۔ جو دھوکے سے اسے ساتھ لےکےگیا تھا۔ غلطی اسی کی تھی۔ جو بنا سوچے سمجھے اعتبار کر کے چل دی ۔

لیکن اسکی وجہ بھی تو عمر ہی تھا۔

اسی ک وجہ سے وہ گھر میں بنا کسی کو بتاۓ نکلی تھی غصے سے۔ ۔۔

اور پھر مشکل میں پھس گٸ۔

تابی۔۔۔۔۔!! یہ میری آخری وارننگ ہے تمہیں۔۔۔!!

اپنی حفاظت کرو۔ ۔۔۔۔ ورنہ انےہاتھوں سے تمہارا گلا گھونٹ کر مار ڈالوں گا۔

عمر غصے اور جذبات کی رو میں بہہ کر آج ہر حد پار کرنے کو تیار تھا۔

بے اختیار ہی تابی کی نظریں۔۔۔ عمر پے اٹھیں۔

کٸیں۔۔ سوال تھےان نظروں میں۔۔۔ جن کے جواب عمر کے پاس نہیں تھے۔

کس حق سے۔۔۔۔۔۔۔؟؟

دھیمے سے انداز میں کہتی وہ عمر کو چونکا گٸ۔

بولیں۔۔۔۔ جواب دیں۔۔۔۔ کس حق سے۔۔۔ آپ مجھ پے۔۔۔ حقجتا ہی ہیں۔۔۔۔؟؟

اب کی بارتابی کا لہجہ تیز تھا۔

نکاح میں ہو تم میرے۔۔۔۔۔!!

اور کس حق کی بات کر رہی ہو؟؟

عمر بھی دبے دبے غصے میں بولا۔

تابی نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور اس کے ہاتھ کو زور سے اپنے بازو سے پرے جھٹکا ۔

کونسا نکاح۔۔۔۔۔؟؟ جو آپ نے بدلہ لینے کےلیے کیا۔۔۔۔۔؟؟

تابی نے زہر میں بجھا تیر چھوڑا ۔ جو عمر کے دل کے پار ہوا ۔

بکواس۔۔۔۔ بند۔۔۔۔!!

ہمیشہ۔۔۔۔ یہی تو کرتے آۓ ہیں آپ۔۔۔۔!!

بس۔۔ چپ چپ۔۔چپ۔۔چپ۔۔۔۔

چپ ہی تو کراتے آٸیں ہیں۔۔۔ مجھے۔۔۔۔!!

تابی نے تیز لہجے میں کہا۔ عمر اسکی حالت کے پیشِ نظر خاموش رہا۔

کیوں ۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔؟؟

سوالیہ نظریں عمر پے ٹکاٸیں۔

اس وقت۔۔۔ میں تمہارے کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا۔ ۔۔ اس لیے۔۔۔!!

آپ کو دینا ہو گا جواب۔۔۔۔۔!!

تابی بضد ہوٸی۔ عمر نے حیرت سے اس بپھری ہرنی کو دیکھا۔

بتاٸیں۔۔۔ مجھے۔۔۔۔!! کیوں کیا آپ نے مجھ سے نکاح۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟

سبحان بھاٸی۔۔۔۔ اور صلہ نے نکاح کیا۔۔۔ اور آپ نے بدلہ مجھ سے لیا۔۔۔۔۔؟؟ کیوں۔۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟ عمر۔۔۔۔۔؟؟ می ہی کیوں۔۔۔۔؟؟

اس نے عمر کے سینے پے ایک ہاتھ سے دھکا دیا۔

عمر نے حیرت سے اسکی ہمت کو دیکھ

ا۔ جو اپنے حسن کے جلوے بکھیر رہی تھی۔ اور اس بات سے بے خبر بھی تھی۔۔

تابی۔۔۔!! یہ بات کرنے کا صحیح وقت نہیں ۔۔۔۔!!

عمر نے دھیرے سے کہا۔۔۔

نہیں۔۔۔ !!

آپ کو۔۔۔۔۔ مجھ سے بات کر۔۔۔نی ہو گی۔۔۔۔

میری بات کا جواب ۔۔۔ دینا ہوگا۔۔۔۔

تابی روتے ہوۓ غصے سے بھری بالکل اسکے سامنے جا کھڑی ہوٸی۔

عمر نے بے اختیار ہی اس کے سراپے پے نظر ڈالی تو نظریں پلٹنا ہی بھول گٸیں۔

اپنی تمام تر خوبصورتی اور رعناٸیوں سیت وہ اس وقت عمر کے لیے آزماٸش بنی ہوٸی تھی۔

آپ نے۔۔۔کیوں۔۔۔۔ کیا مجھ ۔۔۔۔۔ سے۔۔۔ نکاح۔۔۔۔؟؟

بدلے۔۔۔۔۔ کے لیے۔۔۔۔۔۔ناں۔۔۔۔۔؟؟

میں۔۔۔ کیا۔۔۔۔ قصور۔۔۔ تھا۔۔۔۔۔ میرا۔۔۔۔؟؟

تابی کے آنسو بہہ کے گالوں سے گردن کا سفر طے

کرنے لگے۔ اور عمر اس کےہر گرتے آنسو کو اپنے دل پے محسوس کر رہا تھا۔

تابی۔۔۔۔۔۔۔!! دھیرے سے اس منچلی کو پکارا۔

اب آپ پھر سے مجھے چپ ہونے کو کہیں گے۔۔۔۔۔

تابی نے بھی آج ہمت کر کے سب کہہ دینے کی ٹھان لی تھی۔

عمر نے نظریں جھکا کر سر نفی میں ہلایا۔

آپ۔۔۔۔۔ بہت برے ہیں۔۔۔ عمر۔۔۔۔۔۔!!

روتے ہوۓ دونوں ہاتھوں سے اسے دھیرے سے دھکا دینا چاہا۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلا تک نہ۔

آپ نے بہت غلط کیا۔۔۔۔۔ میرے ساتھ۔۔۔۔۔!!

بولتے بولتے جیسے وہ تھک سی گٸ تھی۔

آنسوٶں کا گولا لفظوں کو حلق میں دبا سا گیا تھا۔ وہ اب وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔

میں۔۔۔ آپ کو۔۔۔ کبھی۔۔۔۔ معاف۔۔۔۔ نہ۔۔۔یں۔۔۔۔ کر۔۔۔وں۔۔۔

تابی نے بے جا مکے اس کے سینے پے برساۓ۔ لیکن اس کے ہاتھوں میں جان کہاں تھی۔

عمر نے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کے اپنے لبوں سے لگایا۔وہ آنکھیں بند کیے روۓ جا رہی تھی۔

بے اختیاری میں ہی عمر نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔ اور دونوں بازو اس کے گرد حاٸل کیے۔

وہ عمر کے سینے سے لگی روۓ جا رہی تھی۔ اور وہ اسے سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

کہاں ہے وہ۔۔۔۔۔؟؟سبحا ن نے پورا ایریا چھان مارا لیکن تابی کہیں نہ ملی۔

تمہاری خبر غلط۔۔۔ تو نہیں۔۔۔۔؟؟

سبحان نے اسد کو ایک گھوری سے نوازا۔

نہی۔۔۔۔نہیں۔۔۔ سر۔۔۔۔ !! خبر ہنڈریٹ پرسنٹ پکی ہے۔

سر۔۔۔یہاں آٸیں۔۔۔۔!! سبحن کے ایک آدمی نے اسے اندر کے ایک روم کی طرف بلایا۔

اتنے میں اسد کے نمبر پر کسی کی کال آٸی۔ وہ اسے سننے لگا۔۔

سر۔۔۔!! یہ کپڑے۔۔۔ ملے ہیں۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔!!!

وہ آدمی گھبرایا ہوا بولا۔

کپڑے دیکھ سبحان کا سانس اٹکا۔ وہ تابی کے ہی کپڑے تھے۔

سبحان کے قدم ڈگمگاۓ۔

دل کی دھڑکن رک سی گٸ۔

سر۔۔۔۔!!

پولیس کا چھاپہ پڑا تھا یہاں ۔۔۔۔!!

اور پولیں سب کو لے گٸ ہے یہا ں سے۔۔۔۔!!

اد نے فوراً اندر آ کر کہا۔ تو سبحان کی جان میں جان آٸی۔

اور میری۔۔۔ بہن۔۔۔۔؟؟

ایک مغموم سی امید سے پوچھا۔

سر۔۔۔۔! پولس اسٹیشن جا کے ہی پتہ چلے گا۔ ۔

اسد دھیمے سے بولا۔

آج پہلی بار وہ سبحان کو یوں ہارا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اور اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

اسک بس نہی ںچل رہا تھا کہ وہ اپنے مالک کے سارے غم خود لے لے۔ اور اسے واپس پہلے جیسا بنا دے۔

**********

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *