Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Teri justujoo (Episode 06)

Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan

لمحہ لمحہ رنگ بدلتی تقدیریں۔

وہ سمجھ نہ پا رہی تھی۔ کہ وہ کیا کرے۔ ۔۔؟؟

سر گھٹنوں میں دیۓ وہ کافی دیر سے یونہی بیٹھی ہوٸی تھی۔

اب تو آنسو بھی ساتھ چھوڑگۓ تھے۔

سبحان بھاٸی۔۔۔۔ کیوں کیاآپ نے ایسا۔۔۔۔۔۔؟؟ کیسے کر سکتے ہیں آپ ایسے۔۔۔۔؟؟

عمر اور صلہ۔۔ تو ۔۔ آپس میں۔۔۔۔؟؟ پھر ۔۔ وہ آپ کس ساتھ۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔۔؟؟

کیا سچ ہے۔۔۔۔۔؟ جو مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔؟؟

کیا چھپا رہے ہیں۔۔۔ سب۔۔۔؟؟

اور صلہ۔۔۔ وہ کیسے۔۔۔۔۔ عمر کو چیٹ کر سکتی ہے۔۔۔۔؟؟

وہ تو عمر سے۔۔۔ پیار۔۔۔۔؟؟ پھر۔۔۔ اس نے سبحان بھاٸی سے شادی۔۔۔؟؟

ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔۔؟ دونوں۔۔۔۔ نے۔۔۔؟؟

اور عمر۔۔۔۔۔؟؟

دھیرے سے اٹھتی کھڑکی کے پاس آٸی۔

اس نےتو مجھے ہی سزا دے دی۔۔۔۔۔

وہ سب۔۔۔۔۔ جانتا تھا۔۔۔۔۔!!

اسی لیے۔۔۔ اس نے مجھ سے۔۔۔۔ نکاح کیا۔۔۔۔۔

زبردستی نکاح۔۔۔۔۔۔!!.

انسو پھر سے گالوں پے بہنےلگے۔

عمر ۔۔۔۔۔ تم نے بدلہ لینے میں۔۔۔ یہ بھی۔۔ نہ سوچا۔۔۔۔ کہ۔ اس سب میں۔۔۔ میرا ۔۔کیا قصور۔۔۔۔؟؟

میرا۔۔۔کیا گناہ۔۔۔۔؟؟

عمر۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔کیسے۔۔۔معاف کر پاٶں گی میں۔۔۔ میں آپ کو۔۔۔۔؟؟

میرا عشق ہںیں۔ آپ۔۔۔

جنون ہیں۔۔۔آپ۔۔۔

بے لوث محبت ہیں۔۔۔۔

میں نےتو ہمیشہ آپ کو چاہا۔۔۔

کبھی۔۔۔برا نہیں سوچا۔۔۔۔

وہ میرے عشق کی انتہا تھی۔۔۔ کہ آپ سے سے دستبردار بھی ہوگٸ۔۔۔

آپ ہی کی خاطر۔۔۔

اور آپ نے مجھے۔۔۔۔ کس دوراہے پے لا کے اکیلا کھڑا کر دیا۔ ۔۔۔۔؟؟

کوٸی مسلسل دروازہ بجا رہا تھا۔

تابی کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔

وہ خود کو کافی حد تک سنبھا ل چکی تھی۔

آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔

تابی بیٹا کھانا کھالو۔۔۔۔! جب سے آٸی۔۔۔ ہو۔۔۔!

ایسے ہی کمرے میں بند ہو۔۔۔۔۔

صغرا خالہ نے پریشانی اور پیار سے کہا۔

بھوک نہیں خالہ۔۔۔۔۔!!

لمبا سانس خارج کرتی وہ وہیں ایک طرف صوفے پے ٹک گٸ۔

صغرا خالہ تین سال سے یہاں تھیں۔ ان کا اس دنیا میں کوٸی نہ تھا۔ سبحان کو وہ روڈ پر ملیں تھیں ۔۔

ان کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔ماتھے پے چوٹ آٸی تھی۔

سبحان نے انکا علاج کرواکے اپنے ساتھ لے آیا ۔

تب سے وہ یہیں۔ تھیں۔ انکی خدمت میں کوٸی کسر نہ چھوڑتی تھیں۔ جہنوں نے انہیں اس گھر میں پناہ د ی تھی۔

سب سے زیادہ وہ سبحان کے قریب تھیں۔

وہ سب کچھ کر سکتی تھیں۔ لیکن سبحان کے خلاف کبھی نہیں جاسکتی تھیں۔

وہ ان دونوں کے بہت قریب تھیں۔

بیٹا۔۔۔۔ ایسے نہیں کہتے۔۔۔۔۔۔! گناہ ہوتا ہے۔۔

رزق کو نہ نہیں کرتے۔۔۔۔ چلو اٹھو۔۔۔۔ منہ ہاتھ دھو کے آٶ۔ ۔۔میں کھا نا لگاتی ہوں۔

صضرا خالہ نے اسے بچوں کی طرح پچکارا۔

تابی نے ایک شکوہ کناں نظر ان پے ڈالی۔

خالہ۔۔۔۔۔!آپ نے بھی۔۔۔ مجھے۔۔۔ کچھ نہ بتایا۔ ۔۔۔؟ اتنا بڑا فیصلہ۔۔۔۔ بھاٸی نے یوں۔۔۔۔۔ اچانک ۔۔۔۔ کیسے کر لیا۔۔۔۔۔؟؟

مجھے۔۔۔ نہیں ۔۔۔بتایا۔۔۔۔لیکن۔۔۔ آپ انہیں۔۔۔ روک تو سکتی تھیں ناں۔۔۔۔؟؟

دل کا شکوہ زبان پر آگیا۔

تابی بیٹا۔۔۔۔! سبحان بیٹا۔۔۔ جو بھی کرتے ہیں۔ اس میں کوٸی نہ کوٸی وجہ ضرور ہوتی ہے۔

میں جانتی ہوں۔۔۔۔وہ کوٸی غلط کام نہیں کر سکتے۔۔۔

اور آپ بہن ہو کر بھاٸی کو نہیں جانتی۔۔۔۔۔؟؟

الٹا صغرا خالہ نے ا س سے سوال کیا۔

تابی نفی میں گردن ہلاتی چپ ہو گٸ۔

چلو۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔۔۔! جو باتیں سمجھ میں نہ آٸیں۔۔۔ انہیں وقت پے چھوڑ دینا چاہیے۔

دھیرے دھیرے سارے پرنے خود ہی کھلتے چلے جاٸیں گے۔۔۔۔

بہت پیار سے سمجھاتی وہ وہاں سے اٹھ آٸیں۔

اب ان کا رخ صلہ کے روم کی طرف تھا۔

دروازہ ناک کیا۔ لیکن اندر سے کوٸی آواز نہ آٸی۔

تو خود اندر چلی گٸیں۔ آوازیں دیں۔۔پر کوٸی جواب نہ آیا۔

صغرا خالہ کا دل دہل گیا۔

فوراً باہر آٸیں۔ اور موباٸیل پر سبحان کو کال ملاٸی۔

لیکن سبحان نے کال اٹینڈ نہ کی۔

وہ ازحد پریشان ہو گٸیں۔

**********

صلہ نے گھر میں قدم رکھا۔ تو دل کی دھڑکن تیز ہوگٸ۔

سحر۔۔۔۔۔۔سحر۔۔۔۔۔۔۔!! کہاں ہو۔۔۔۔؟ اندر آتے ہی دیوانوں کی طرح وہ بہن کو پکارنے لگی۔

ماں کے کمرے کی طرف بڑھی۔

تو کمرے کی حالت بکھری ہوٸی تھی۔

عبدہ بیگم اوندھے منہ زمین پر گری ہوٸ تھیں۔ ان کے ماتھے پے چوٹ لگی تھی۔

صلہ نے آگے بڑھ کے ماں کو اٹھایا۔

امی۔۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔! یہ ۔۔۔سب۔۔۔؟؟ کس نے۔۔۔۔؟؟ دل کسی انہونی کے احساس سے ڈرا۔

عابدہ بگمصلہ ک دیکھ جی اٹھیں۔

صلہ۔۔۔۔! میری۔۔۔ بچی۔۔۔۔۔۔! تُو آگٸ۔۔۔۔۔۔۔ !!

اپنے ہاتھوں میں صلہ کا چہرہ تھامے نم لہجے میں بولیں۔

امی۔۔۔۔۔۔ ! سحر۔۔۔۔۔۔! سحر۔۔ کہاں ہے۔۔۔۔۔؟؟

اردگرد دیکھتے دھڑکتے دل سے پوچھا۔

عابدہ بیگم زارو قطار رونے لگیں۔

امی۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔! بتاٸیں۔۔۔ مجھے۔۔۔! سحر کہاں ہے۔۔۔۔۔۔؟؟

اب کی بار صلہ چلاٸی۔

وہ۔۔۔وہ اسے۔۔۔۔۔لے گیا۔۔۔۔۔۔!! میں نہ بچا پاٸی۔۔۔۔۔۔۔اسے۔۔۔۔؟؟

روتے ہوۓ وہ ہلکان ہو ۓ جا رہی تھیں۔

صلہ کوسمجھنے میں دیرنہ لگی۔ کہ وہ رمضان کا کہہ رہی ہیں۔۔

کہاں۔۔۔۔ کہاں۔۔۔لے کے گیا ہے۔۔۔۔ وہ؟؟خدا کا واسطہ ہے۔۔ امی۔۔۔بتاٸیں۔۔۔ مجھے۔۔۔۔؟؟

صلہ نے آنسو ضبط کرتےکہا۔

وہ ۔۔۔و علی۔۔۔ بخش کے۔۔۔ ڈیرے۔۔۔ پے۔۔۔! وہ اسے۔۔۔ بیچ دے گا۔ ۔۔۔۔و ہ لے گیا۔۔۔۔ ہے۔۔۔ صلہ۔۔۔۔ بچا لے اسے۔۔۔۔ ۔میری معصوم بچی۔۔۔کو۔۔وہ۔۔۔۔؟؟ وہ بے تحا شا رو رہی تھیں۔

صلہ نے ماں کے آنسو پونچھے۔ اور ایک پکے ارادے سے اٹھ کھڑی ہوٸی۔

نہیں۔۔۔۔ کبھی۔۔۔نہیں۔۔۔ میں ۔۔۔ اپنی بہن کو۔۔۔۔ ان درندوں سے واپس لے۔۔۔کے آٶں۔۔ گی۔۔۔ چاہے۔۔۔ اس میں۔۔۔میری جان کیوں نہ چلی جاۓ۔۔۔۔۔

یا مجھے۔۔۔ کسی کی جان کیوں نہ لنی پڑے۔۔۔۔!!

ایک جذبے سے کہتی وہ باہر نکل گٸ۔

عابدہ بیگم اسے پکارتی رہ گٸیں۔ لیکن وہ نہ رکی۔

وہاں سے وہ سیدھا۔ علی بخش کے ڈیرے پے پہنچی۔

اس ڈیرے کو اوہ اچھی طرح جانتی تھی۔

رمضان ی وجہ سے اسے ایک دو بار یہاں آنا پڑا تھا۔

رمضان کا زیادہ وقت یہیں گزرتا تھا۔ اور یہی نہیں۔۔ پورا محلہ علی بخش اور اس کے ڈیرے سے واقف تھا۔

ہر غلط کام یہاں ہوتا تھا۔ خاص کر جوۓ اور سٹے بازی کا اڈہ تھا یہ۔

دروازے پے کھڑے پہرے دار نے صلہ کو روکا۔

لڑکی۔۔۔۔۔! کہاں جا رہی ہے۔۔۔۔اندر۔۔۔۔؟؟

کڑک دار آواز میں پوچھا۔

صلہ کو غصہ تو بہت آیا۔ لیکن ضبط کر گٸ۔ کیونکہ جب تک بہن مل نہیں جاتی وہ کوٸی بھی رسک نہیں لے سکتی تھی۔

مجھے۔۔۔ علی بخش سے ملنا ہے۔۔۔! دھیمے لہجے میں کہا۔

تُو ۔۔۔ تو رمضان کی بیٹی ہے۔۔ناں۔۔۔۔؟؟ پہرے دار پہچان گیا۔

ہاں۔۔۔ وہی ہوں۔۔ میں۔۔۔!! مجھے علی بخش نے ملنے کے لیے بلایا ہے۔۔۔۔!

صلہ نے نارمل انداز میں کہا۔۔۔

ہاں ہاں۔۔۔۔ جاٶ۔۔ اندر ۔۔۔۔ تمہارا باپ بھی اندر ہی ہے۔۔۔۔ تم تو رانی ہو۔۔۔ علی بخش کی۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔ کون روک سکتا ہے۔۔۔۔؟؟

وہ شخص مکاری سے کہتے ہنسا۔

صلہ کا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ ایک تھپڑ رکھ کر اسے رسید کرے۔

لیکن ۔۔۔ خود پے قابو کرتی وہ بیرونی گیٹ پار کر کے اندر آٸی۔

علی بخش۔۔۔۔۔۔۔۔!! اندر بڑے سے صحن میں پنہچ کر صلہ نے پوری قوت سے آواز لگاٸی۔ سارے اطراف میں نغر دوڑاٸی۔

کوٸی کہیں سے باہر نہ نکلا۔

علی بخش۔۔۔۔!باہر آٶ۔ ۔۔۔ !

اب کو بار اونچی آواز میں للکارا۔۔

ایک کمرے سے علی بخش باہر نکلا۔۔سامنے صلہ کو دیکھ کے بری طرح ٹھٹھکا۔

تُو۔۔۔۔۔۔۔! یہاں۔۔۔۔؟؟ ہاہاہاہ۔۔۔۔۔ آگٸ آخر۔۔۔۔۔۔؟؟میری بلبل۔۔۔!!

ویلکم ٹو۔۔۔ یور ہوم۔۔۔۔۔!!

ایک ادا سے علی بخش مسکراتا آگے بڑھا ۔

وہیں رک جاٶ۔۔ علی بخش۔۔۔۔!

صلہ نے غصہ کی انتہا کو چھوتے کہا۔

علی بخش ٹھٹکا۔

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گٸ۔

کسی بھول میں نہ رہنا۔ یہاں۔۔ میں تمہاری بکواس سننے نہیں آٸی۔۔۔۔!!

اچھا۔۔۔۔۔ پھر۔۔۔پیدے دینے آٸی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟ چل نکال۔۔۔۔ پھر بیس ہزار۔۔۔ !!

شاطرانہ انداز میں کہا۔

علی بخش۔۔۔۔! چپ چاپ میری بہن کو میرے حوالے کردو۔

کیا۔۔۔۔۔کیا۔۔کہا۔۔۔؟؟ پھر سے کہنا۔۔۔۔۔؟؟

علی بخش نے اسکا مذاق اڑایا۔ اور پھر قہقہے لگا کے ہنسنے لگا۔

علی بخش ۔۔۔! مجھے میری بہن واپس چاہیے۔۔۔۔!!

اب کی بار وارن کرنے والے انداز میں کہا۔۔

کوٸی بہن۔۔ نہیں۔۔۔ تیری یہاں۔۔۔۔۔!!

بیس لاکھ۔۔۔ دے اور چلتی نظر آ۔۔۔۔۔!

علی بخش نے ناک سے مھکی اڑاٸی۔

میں یہاں سے۔۔۔ اپنی بہن کو لیے بغیر واپس نہیں جاٶں گی۔

اور اگر۔۔۔۔ تُو نے۔۔۔ میری بہن کو میرے حوالے ۔۔۔ نہ کیا۔۔۔۔؟؟تو۔۔۔۔؟؟

تو۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔کیا۔۔۔۔؟؟ میرے ڈیرے پے کھڑی ہو کے۔۔۔۔ مجھے ہی دھمکی۔۔۔۔؟؟

میرے ایک اشارے کی دیر ہے۔۔۔۔ میرے کتے تیری بوٹی بوٹی کر دیں گے۔۔۔ !!

علی بخش غرور کے نشے میں بولا۔

ہممممم۔۔۔۔!!

کتے کے ہاں کتے ہی پلتے ہیں۔

اور۔۔۔ اپنی گلی میں ۔۔تو کتا بھی شیر ہوتا۔۔۔ ہے۔۔۔ علی بخش۔۔۔۔!!

لیکن میں۔۔۔ نہ تجھ سے ڈرتی ہوں۔۔۔ نہ تیرے پالتو کتوں سے۔۔۔۔!!

پراسرار انداز میں کہتی وہ علی بخش کو ٹھٹھکا گٸ۔

کیونکہ آج ہی اس نے سب کو چھٹی دیی تھی صرف چند ایک کے۔۔۔۔

کیونکہ جس دن اس نے کسی لڑکی کو لانا وہ سب کو چھٹی دے دیتا تھا۔

صلہ کو دوپٹے کے اندر چھپاٸی گن نکالتے دیکھ وہ بہت سخت پریشان ہوا۔

آگے بڑھنے لگا تھا کہ۔

وہیں رک جاٶ ۔۔۔ علی بخش۔۔۔۔!!

خبرادار ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو۔۔۔۔۔!!!

قلہ نے اس پے گن تانی۔

یہ۔۔۔۔یہ کیا۔۔۔۔ حرکت ہے۔۔۔۔۔؟؟ گن۔۔۔۔۔نیچے۔۔۔۔ کرو۔۔۔۔۔چل۔۔۔ جاۓ گی۔۔۔۔!

بوکھلاۓ انداز میں کہا۔

اب ک تیرا پالا کتوں سے پڑا ہے۔۔۔ ! لیکن آج تیرا سامنا ۔۔۔ایک شیرنی سے ہوگا۔ ۔۔۔ !

صلہ نے کہتے ہی گن کا ٹریگر پے دباٶ بڑھایا۔

کیا۔۔۔۔۔۔کیا ۔۔۔۔ کر رہی۔۔۔ ہے۔۔۔؟؟ پاگل ہو گٸ ہے۔۔۔۔۔؟؟ ن۔۔۔۔نیچے۔۔۔کر۔۔۔ چل۔۔۔جاۓ۔۔۔۔ گی۔۔۔۔!!

علی بخش کو سامنے موت نظر آٸی۔

میری بہن کو میرے حوالے کر دو۔ ار خود کو بچا لو۔۔۔!

صلہ نے آپشن رکھا۔

اتنی دیر میں علی بخش کے دو آدمی وہاں پہنچ گۓ۔

لڑکی۔۔۔۔ ! گن نیچے کر۔۔۔۔۔ !!

ایک شخص غصے سے غراتے بولا۔ علی بخش کو حوصلہ ہوا۔

گن نیچے کر۔۔۔۔۔ ورنہ جان سے جاۓ گی۔۔۔۔!!

اب کی بار دھمکی دی۔

کوٸی پرواہ نہیں۔۔۔۔! لیکن میں۔۔۔ مروں گی ت۔۔۔ یہ۔۔۔یہ بھی زندہ نہیں۔۔۔ بچے گا۔۔۔!

اسکومار کے ہی مروں گی۔

صلہ ایک لمحے کو ڈگمگاٸی۔۔لیکن اگلے ہی پل سحر کا خیال آتے ہو وہ پھ سے نڈر ہوگٸ۔

میری بہن۔۔۔ کو میرے حوالے کرو۔۔۔علی بخش۔۔۔۔۔!!

وہی الفاظ دہراۓ۔

علی بخش نے گھبراتے نفی میں گردن ہلاٸی۔

صلہ نے ٹریگر پر دباٶ بڑھایا۔۔۔کہ۔۔۔۔۔

🔥
🔥
🔥

تمہاری جرأت کیسے ہوٸی۔۔۔ میرے دراز میں سے گن نکالنے کی۔۔۔۔۔؟؟

وہ جو گولی چلانے والی تھی۔۔

گرجدار آواز سنتے وہیں۔۔۔ تھمی۔۔ اور ہاتھ کانپے۔۔

وہ پلٹ نہ سکی۔ وہ جانتی تھی ۔کہ اب اسکا غصہ سوا نیزے پےہوگا۔

وہ اپنے سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ چلتاہوا اندر آیا اور بالکل اس کے سامنے کھڑا ہوا۔

صلہ نے اسکی آنکھوں میں بے انتہا کا غصہ دیکھا۔

ہاتھ ویسے ہی اوپر تھا سامنےوالے کو نشانے پے رکھا ہوا تھا۔

اچھا ہوا۔۔۔۔! اچھا ہوا۔۔۔ !گن کا مالک آگیا۔۔۔!!

لے لو۔۔ اس سے گن۔۔۔۔۔ ! ورنہ یہ پاگل سب کو مار دے گی۔

علی بخش ہوش میں آیا۔۔۔اور زور زور سے چلایا۔ ورنہ وہ سمجھا تھا آج وہ سیدھا اوپر جاۓ گا۔

سبحان نے صلہ کے ہاتھ میں پکڑی گن کا رخ اس علی بخش کی طرف موڑا۔ اور صلہ کے ہاتھ پے دباٶ ڈالتے ہوۓ علی بخش کی ٹانگ پے گولی چلاٸی۔۔۔

بنا صلہ سے نظریں ہٹاۓ۔ جبکہ گولی چلنے کی آواز پے صلہ نے ڈر کے آنکھیں بند کیں۔

دیکھ نہیں ۔۔۔رہے۔۔۔ ؟ میں اپنی بیوی سے بات کرہاہوں ۔۔۔ بیچ میں کیوں۔۔۔ بولے؟

ماتھے پے گہری تیوری ڈالے وہ درد سے چلاتے علی بخش کی طرف مڑا۔

ارے۔۔۔۔اوہ۔۔۔ کم بختوں۔۔۔۔ حرام خورو۔۔۔۔۔!!

کدھر مر گۓ ہو سارے۔۔۔۔۔۔؟ علی بخش نے اپنے ہی ڈیرے میں گولی کھاٸی۔۔۔

جبکہ سبحان کے ساتھ آۓ گارڈز نےوہاں موجود اس کے سارے بندوں کو اپنےانڈرمیں لےلیا تھا۔

کوٸی بھی اسکی مدد کونہ آیا۔

سبحان واپس صلہ کی طرف پلٹا۔

وہ ابھی بھی دم سادھے کھڑی تھی۔

سبحان نے اسکے ہاتھ سے گن لی۔ اور اس میں گولیاں چیک کرنے لگا۔

خود چلو ۔۔۔۔ گی یہ زبردستی لے کے جاٶں۔۔۔۔۔؟؟

بنا اسکی طرف دیکھے سرد لہجے میں کہا۔

صلہ نے اندر ایک کمرے کی طرف بے بسی سے دیکھا۔ آنکھیں نم ہوٸیں۔

سبحان غصہ ضبط کرتا صلہ کی طرف بڑھا۔

اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر باہرکی طرف لے جانے لگا۔

ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ ! پلیز۔۔۔۔۔ !.

روتے اپنا ہاتھ چھڑایا۔

وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ اندر۔۔۔ میری۔۔۔ بہ۔۔۔ن۔۔۔ !.!

خود پے قابو رکھے وہ۔۔۔۔ سبحان کے آگے منمناٸی۔

کو۔۔۔۔۔ٸی۔۔۔ نہی۔۔۔۔ں۔۔۔! بکواس کر رہی ہے۔۔۔۔۔!

لے جاٶ۔۔۔ اپنی بیوی کو یہاں سے۔۔۔۔!!.

رمضان بھی۔۔ جو خاموشی سے کھڑا ساری کارواٸی دیکھ رہا تھا۔

بلآخر ہکلاتے ہوۓ غصے سے بولا۔

جھوٹ۔۔۔۔جھوٹ بول رہا ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔!

صلہ تڑپ ہی تو گٸ۔

می۔۔۔ری۔۔۔۔بہن۔۔۔ کو یہ ۔۔۔ درندہ۔۔۔ یہاں لایا ہے ۔۔۔۔

اس ۔۔ شخص کو۔۔۔ بیچنے۔۔۔۔۔۔۔

صلہ نے ہاتھ اٹھا کر علی بخش کی طرف اشارہ کیا۔

پلیز۔۔۔۔ اسے۔۔۔ یہاں سے نکلوا دیں۔۔۔۔۔

آآ۔۔آپ۔۔۔۔ جیسا کہیں گے۔۔۔۔ ویسا کروں گی۔۔۔

بس۔۔۔۔ میری۔۔۔ بہن کو بچا لیں۔۔۔۔!!

صلہ نے ہاتھ جوڑتے کہا۔

سبحان کو اسکی آنکھوں کے آنسو پھر سے بے چین کرنےلگے۔۔

بکواس نہ کر۔۔۔۔۔ چل۔۔۔۔نکل۔یہاں سے۔۔۔۔۔!

آٸی بڑی۔۔۔۔۔ ۔!

کوٸی بہن نہیں ۔۔۔۔ تیری ۔۔۔ یہاں۔۔۔

وہ بھی بھاگ گٸ ہے ۔۔۔۔ تیری طرح۔۔۔ کسی یارکے ساتھ۔۔۔۔!!

رمضان نے زہر اگلا۔

تم۔۔۔۔! تم۔۔۔ جیسے انسان کو نہ۔۔۔ چوراہے پے کھڑا کر کے گولی سے اڑا دینا چاہیے۔۔۔!!

جو بہن بیٹیوں کی عزتوں کو نیلام کرتا ہے۔!!

صلہ جارحانہ انداز میں رمضان کے پاس آٸی۔

لیکن رمضان نے بھی اتنی زور سے ہی اسے پرے دھکا دیا۔

وہ گرتے گرتے بچی۔۔۔ سبحان نے اسےگرنےنہیں دیا۔

نہیں دیا۔ اور اسے تھام لیا۔

ایک غصیلی نظر سامنےکھڑے رمضان پر ڈالی۔ اور اپنےایک گارڈ کو اشارہ کیا کہ وہ اندر جاکے چیک کرے۔

صلہ سبحان کو دیکھے جا رہی تھی۔ وہ ایسا مہربان سایہ بنے گا۔ اسے یقین نہ آرہا تھا۔

آپی۔۔۔۔! آپی۔۔۔۔۔۔!

ایک کمرے سے روتی ہوٸی سحر باہر کیطرف بھاگتی ہوٸی آٸی۔ اور آتے ہی صلہ سے لپٹ گٸ۔۔

صلہ نے اسے اپنے بانہوں میں کس قیمتی متاع کی طرح چھپایا۔

آپی۔۔۔۔آپی۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ لے جاٶ۔۔۔۔ !

یہ انکل۔۔۔۔۔بہت گندے ہیں۔۔۔۔!

انہوں نے۔۔۔مما مما کو بھی مارا۔۔۔۔۔.! مجھے بھی۔۔۔۔!!

روتےہوۓ وہ ہچکیوں سے صلہ سے شکایتیں کر رہی تھی۔صلہنےاسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ۔

اور سبحان کی طرف روتے ہوۓ دیکھا۔

جس کی سخت نظریں سامنے رمضان پے ٹکیں تھیں۔

اور رمضان اس کے کسی بھی شدت بھرے ردِ عمل سے خاٸف گھبرایا ہوااسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

سبحان نے گن کا رخ رمضان کی طرف کیا۔ اور اسکے بازو پے گولی چلا دی۔

وہ درد سے بلبلا اٹھا۔

دوسری طرف علی بخش درد سے تڑپ رہا تھا۔

آٸیندہ ۔۔۔۔اگر میری بیوی۔۔۔ یا۔۔۔۔ اسکی فیملی کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی د یکھا۔۔۔تو ۔۔۔گولی اگلی بار۔۔۔۔

سیدھا سر کے پار ہوگی۔

اوت مجھے اد بات کا۔۔۔ قطعی ۔۔۔ افسوس نہیں ہوگا۔

سبحان کی للکار میں رعب تھا۔ غصہ تھا۔

علی بخش اور رمضان دونوں ہی چپ کر گۓ۔

صلہ کی جانب پلٹا جواور اس کے ساتھ چپکی سحر کو دیکھا۔ جو سبحان کو ہی دیکھ رہی تھی۔

چلیں۔۔۔۔۔؟؟ سبحان نے پیار سے سحر کی جانب ہاتھ بڑھایا۔

اس نے سوالیہ نظروں سے صلہ کو دیکھا۔

صلہنے آنسو پونچھتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا ۔

سحر نے آگے بڑھ کے سبحان کا ہاتھ تھاما۔ اور تینوں نے باہر کی جانب قدم بڑھاۓ۔

جبکہ سبحان کے گارڈز نے وہاں موجود علی بخش کے ساتھیوں کو اچھی طرح سبق سکھایا اور اس کے ڈیرے کی توڑ پھوڑ بھی کی۔

یہ۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔۔ کون تھا۔۔۔۔؟؟

کوٸی انڈر گراٶنڈ ڈان تھا ۔۔۔کیا۔۔۔۔۔؟؟

علی۔۔۔ بخش نے۔۔۔۔درد سے کرلاتے رمضان سے پوچھا۔

اوہ۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ کیا پتہ۔۔۔۔۔؟؟ اب یہ کون ہے۔۔۔۔اور کہاں سے آگیا۔۔۔۔۔۔؟؟

آتے ہی کم بخت نے گولی۔۔۔ چلا دی۔۔۔۔!!

لڑکی بھی گٸ۔۔۔۔۔ اور پیسے بھی۔۔۔۔۔!!

رمضان کو پیسوں کی فکر لگی۔

اوہ۔۔۔۔ جا یار۔۔۔۔۔! تُو جا۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔۔!

علی بخش کو اس پے غصہ آیا۔

رمضان نے ایک نظر اسے دیکھا اور اٹھا ۔

عجیب انسان ہے۔۔۔۔ آتے ہی۔۔۔ نہ بات کی۔۔۔۔!! نہ کچھ کہا۔۔۔ سیدھا۔۔۔ گولی چلادی۔۔۔۔۔!!

علی بخش کافی ڈر گیا تھا۔

لکن میں نہیں۔۔۔۔ چھوڑوں گا۔۔۔۔۔! رمضان نے پکے ارادے سے کہا۔

اوۓ۔۔۔ رمضو۔۔۔۔۔!! میں نے تجھے۔۔۔ بیس لاکھ بخشے۔۔۔۔! تُو جا یہاں سے۔۔۔!!

دوبارہ میرے ڈیرے پے نہ آٸیو۔۔۔۔۔!!

باس۔۔۔۔ آٶ۔۔۔ آپ کو ہاسپٹل لے چلوں۔

علی بخش کا ایک بندہ جو زخمی حالت میں ہی تھا۔

اپنی نمک حلالی میں وہ علی بخش کے پاس آیا۔ اسے سہارا دے کے اٹھایا۔

پورا ڈیرا بکھرا پڑا تھا۔ جیسے زلزلہ آیا ہو۔

اب پھر سے اسے اپنی حالت میں لاتے وقت درکار تھا۔

سر جھٹک علی بخش اپہے بندے کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا۔

جبکہ رمضان اپنی بازو کو دیکھتے درد برداشت کرتے آگے کی پلاننگ کر رہا تھا۔

اتنی آسانی سے وہ باز آنے والا نہ تھا۔

**********

خان ولا میں داخل ہوتے ہی صلہنے سکون کا سانس لیا۔

اندر بڑھے تو سامنے ہی نظر کھانے کی ٹیبل پر پڑی۔

جہاں تابی اور صغرا خالہ موجود تھیں۔ انکی نظر بھی ان پے پڑ چکی تھی۔

تابی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸی۔

ارے۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔۔۔؟؟ کیا۔۔۔ہوا۔۔۔۔۔۔؟؟ اٹھ کیوں گٸ۔۔۔؟؟

صغرا خالہ نے اسے ٹوکا۔

پیٹ بھرگیا۔۔!

اپنے اندر کا ابال دباتے وہ اتنا ہی بول پاٸی۔

اور وہا ں سے ہٹ گٸی۔

صلہ نے ایک نظر سبحان پر ڈالی۔ جو تابی کے لیے پریشان تھا۔

صلہ کو شرمندگی محسوس ہوٸی۔

صغرا خالہ یہاں آٸیں۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔!! سبحن نے بے تاثر انداز میں پکارا۔ تو وہ فوراً لبیک کہتی پہنچیں۔

تابی کے قدم بھی سیڑھیاں چڑھتے رکے۔

یہ سحر۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔ ہماری گڑیا۔۔۔۔۔! انھیں۔۔ لے جاٸیں۔۔۔ فریش کریں۔۔۔ اور کھا نا وغیرہ دیں۔

اور روم بھی سیٹ کروا دیں۔ اب ہماری گڑیا یہیں۔۔۔ رہے گی۔

سبحان نے پیار بھرے انداز میں سحر کو دیکھتے کہا۔ تو وہ پھر سے صلہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

صلہ کے چہرے پے سکون دیکھ وہ بھی مسکراتے ہوۓ صغرا خالہ کا ہاتھ تھام چکی تھی۔

آجاٶ گڑیا۔۔۔۔۔۔!! آپ کو آپکا روم دیکھاٸیں۔

صغرا خالہ کا ہاتھ تھامے وہ آگے بڑھ گٸ۔

یہ دیکھ تابی کی آنکھیں پھر جھلملا گٸیں۔

لب بھینچ کے وہ بھی اپنے روم کی جانب بڑھ گٸ۔

صلہ جو بہت مسرور انداز میں سحر کا جاتا دیکھ رہی تھی۔ ایک دم سبحان کے سامنے آجانے سے وہ ٹھٹھکی۔

سبحان نے اسے کڑے تیوروں سے دیکھا۔ اور کلاٸی سے پکڑ تے اندر کی جانب بڑھا۔

صلہ بھی اسی کے ساتھ گھسیٹتی چلی گٸ۔

روم میں لے جا کر روم لاک کیا۔

اور اسے کھینچ کے دیوار کے ساتھ پن کیا۔

سبحان کی آنکھوں میں انتہا کا غصہ تھا۔

صلہ اس کے غصے سے خاٸف ہوٸی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *