Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan NovelR50515 Mera Ishq Teri justujoo (Last Episode)Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq Teri justujoo (Last Episode)Part 1
Mera Ishq Teri justujoo by Muntaha Chohan
میں ۔۔۔۔۔ عمر فرقان زیدی۔۔۔ اپنے۔۔۔ پورے ہوش وحواس میں۔۔۔۔ تعبیر حیات خان کو۔۔۔ طلا۔۔۔۔۔!!!!
ابھی اسکے الفاظ منہ میں ہی تھے۔ کہ رابیہ بیگم نے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ اور رکھ کے ایک تھپڑ اسے رسید کیا۔
سبھی خاموش ان سب کو دیکھنے لگے۔
عمر تو ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے تو یہ سوچا ہی نہ تھا۔۔ کہ اسکی امی یہاں ہوں گی۔
امی۔۔۔۔۔۔!! منہ پے ہاتھ رکھے وہ دھیرے سے بولا۔
چپ۔۔۔!! ایک دم چپ۔۔۔۔! کیا سمجھا ہوا ہے تم۔نے۔۔۔۔؟؟ شادی بیاہ کو۔۔۔؟؟ کھیل۔ہے۔۔۔۔؟؟؟۔
رابیہ بیگم سے غصہ کنٹرول ہی نہ ہو رہا تھا۔
امی۔۔۔۔!!
انوشے انکے پاس آٸی۔
چھوڑو۔۔۔ مجھے۔۔۔!!
یہ۔۔۔ اولاد ہے ۔۔میری۔۔؟؟
تماشا بنا کے رکھ دیا ہے۔۔۔ رشتوں کو۔۔۔۔۔!!
وہ رو رہی تھیں۔۔
امی۔۔۔۔۔!! عمر آگے بڑھا۔ اس نے کب چاہا تھا کہ ماں ایسے روۓ۔۔۔۔؟؟
میرے پاس نہیں آنا۔۔۔ !! انگلی اٹھا کے وارن کیا۔ عمر کے قدم وہیں تھمے۔
چلو۔۔۔ اسفند یہاں سے۔۔۔۔!!
مسٹر سبحان۔۔!! یہ عزت افزاٸی ہمیشہ یاد رہے گی
۔آفاق صاحب غصے سے کہتے سبحان کو ایک گھوری سے نوازتے باہر نکل گۓ۔
اسفند بھی خود پے بمشکل قابو کیے باہر نکلا۔
باری باری سارے باراتی نکلتے چلے گۓ۔
سبحان تو ایک دم چپ سا ہو گیا۔۔
کسی اور کی بہن بیٹی کے ساتھ برا کرتے انسان یہ کیوں نہیں سوچتا ۔۔۔ کہ اس کے گھر میں بھی بہن بیٹی ہے۔۔۔۔!!
ان کے کیے کاان کی بہن بیٹیوں کو بھگتنا پڑ جاۓ گا۔۔۔۔!!
آج مکافات عمل تھا۔
صلہ کی آنکھیں نم تھیں۔ سبحان کا جھکا سر دیکھ وہ بھی دکھی تھی۔ لیکن وہ لمحے نہیں بھولی تھی۔۔ جب سبحان نے اسے قید کیاتھا۔ اور نکاح کیا تھا۔
وہ سچ تو آج بھی کوٸی نہیں جانتا تھا۔
کیوں۔۔۔۔؟؟ تابی۔۔۔۔؟؟ میرے پیار میں کہاں کمی رہ گٸ تھی۔۔۔۔؟؟ کیوں دھوکا دیا۔۔۔۔؟؟اپنے بھاٸی کو۔۔۔؟؟
سبحان نے درد دل کےاندر دباتے تابی سے پوچھا۔
وہ روۓ جا رہی تھی۔ قصور وار نہ ہوتے بھی آج سارے قصور اسکے کھاتے میں ہی آٸے تھے۔
کبھی۔۔۔۔ کبھی۔۔۔ معاف ۔۔نہیں ۔۔۔ کر پاٶں۔۔۔ گا۔۔۔
نہ تمہیں۔۔۔۔ نہ خود کو۔۔۔!!
سختی سے کہتا وہ اپنے آنسو پیے گیا۔
بھا۔۔۔۔ٸی۔۔۔۔۔؟؟۔تابی نے تڑپ کےپکارا۔
نام بھی مت لو میرا۔۔۔۔!! انگلی اٹھا کے روکا۔
سبحان۔۔۔۔!! رابیہ بیگم غصہ سے بولتیں اپنی جگہ سے اٹھیں۔
خبردار۔۔۔۔!! جواب ایک لفظ بھی تابی کوکہا۔۔۔!!
مت رکھو۔۔ کوٸی تعلق۔۔۔ میں آج ابھی اسی وقت ۔۔ اپنی بیٹی کو رخصت کر کے لے کے جا رہی ہوں یہاں سے۔۔۔!!
رابیہ بیگم کے فیصلے پے عمر سٹپٹایا۔
امی۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔۔۔۔؟؟
عمر ۔۔۔۔!! ایک تنبیہ نظر عمر پے ڈالی وہ وہیں رک گیا۔
انوشے۔۔۔۔!! چادر لاٶ۔
تابی کے پاس جاتے۔۔۔ ساتھ میں انوشے کو کہا۔وہ روتی ہوٸی اندر سے چادر لینے چلی گٸ۔
کتنے خاموش آنسو بہہ نکلے تھے۔
وہ مان جو وہ بھاٸی اور شوہر سے چاہتی تھی وہ ماں بن کے رابیہ بیگم نے دے دیا۔
رابیہ بیگم۔نے بہت پیار سے تابی کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے چوما۔
ایک ماں کے ساتھ۔۔۔ اسکی بیٹی جارہی ہے۔۔۔۔!!
اپنے ہونے کا یقین دلایا۔۔
عمر نے پہلو بدلا۔
ہمیشہ ایسا ہی تو ہوتا آیا تھا۔ تابی کو ہمیشہ ہی اس پے فوقیت دی گٸ تھی۔ اور آج بھی وہی۔۔ عمر خفگی سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔
انوشے نے تابی کو چادر اوڑھاٸی۔
چلو۔۔۔!! تای کا ہاتھ تھامے وہ آگے بڑھیں۔
نہ ہی سبحان کو منہ لگایا نہ ہی عمر کو۔ دونوں ہی دیکھتے رہ گۓ۔ لیکن رابیہ بیگم کے آگے بولنے کی جرأت نہیں کر سکے۔
سبحان نے عزیز کو پیچھے جانے کا اشارہ کیا۔ اور خود عمر کی طرف متوجہ ہوا۔
تم نے جو کیا۔۔۔! اسکی بھرپاٸی کےلیے تیار رہنا۔
عمر نے تیکھی نظر سے سبحان کو دیکھا۔ اور باہر کی جانب قدم بڑھاۓ۔
وہ گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔
عمر چاچو۔۔۔!! آیان اور ثانی عمر کے پاس بھاگے آۓ۔
عمر نے انہیں پیار کیا۔ اور ان کے ساتھ چلتا گاڑی کے قریب آیا۔
تم جاٶ۔۔۔!! میں دیکھ لوں گا۔
عمر نے عزیز کو وہاں سے روانہ کیا ۔ جو ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھنے والا تھا۔
شام کا وقت تھا۔
اور وہ ان کو اکیلا کسی غیر کے ساتھ کیسے جانے دیتا۔۔۔۔؟؟
بھلے عزیز قابل اعتبار تھا۔
لیکن وہ اپنے گھر کی عورتوں کو اکیلا نہیں جانے دے سکتا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے بناکچھ کہے گاڑی اسٹارٹ کی۔ رابیہ بیگم بھی خاموش رہیں۔ وہ بھی یہی چاہتی تھیں۔ کہ عمر اب مزید کوٸی غلطی نہ کرے۔ بچے آگے تھے فرنٹ سیٹ پر۔
اور تابی کو ساتھ لے جانے پے خوش تھے بہت۔
***********************
مہمان آہیستہ آہیستہ کر کے جا چکے تھے۔
سبحان اپنے روم میں جا کے دروازہ لاک کر چکا تھا۔باقی سب عزیز نے سنبھالا۔
اس نے کب سوچا تھا کہ بہن کی رخصتی ایسے ہو گی۔۔۔۔؟؟
وہ درواز بند کیے وہیں دروازے کے ساتھ لگ کے نیچے بیٹھ گیا۔
جیسے آج سب ہار گیا ہو۔ آنسو خود ہی نہہ نکلے۔
تابی کے جانے کا اسے بہت دکھ تھا۔ اس میں سبحان کی جان بستی تھی۔
اور آج وہ ۔۔۔۔۔ جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔!!
اسے تنہا چھوڑ کے۔۔۔۔۔
****************
آپ کے لیے شادی نکاح۔۔۔
6months deal
کا نام ہے۔۔۔!!
اب کی بار عمر کے لہجے میں درد تھا۔
میرےلیے یا تو نکاح ہے۔۔۔۔ یا نہیں۔۔۔۔۔ہے۔۔۔!!
سبحان کو عمرکے الفاظ کی بازگشت ہوٸی۔ تو وہ تڑپ کے اٹھا۔
ہمارے ۔۔۔ بیچ۔۔۔۔کی ڈیل۔کا عمر کوکیسے پتہ چلا۔۔۔۔۔۔؟؟
چھ ماہ کی ڈیل۔۔۔ کا وہ۔۔۔۔ کیسے جانتا ہے۔۔۔۔؟؟
یہ تو۔۔۔۔ میرے۔۔
اور صلہ کے ۔۔۔ بیچ کی بات ہے۔۔۔۔!!!
مطلب۔۔۔۔۔۔!! صلہ۔۔۔۔۔ نے اسے۔۔۔۔ سب۔۔۔؟؟
سبحان نے دیوار پے مکا مارا۔۔۔۔
ہاٶ کڈیو ڈو۔۔۔۔ صلہ۔۔۔۔؟؟
ہمارے بیچ کی بات کو ۔۔۔ تم۔۔۔ نے عمر۔۔۔۔ سے۔۔۔؟؟
غصے میں آگے بڑھا اور درا میں سے گن نکالی۔
اسے لوڈ کیا۔
تم نے بہت غلط کیا صلہ۔۔۔۔۔!!
میں تو۔۔۔ تمیں۔۔ مان بخشنے والا تھا۔۔۔۔
اپنی زندگی۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ کے لیے شاملنکرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
اور تم۔۔؟؟ کر دی ناں۔۔۔ بے وفاٸی۔۔۔۔۔؟؟
سبحان نے دوہری۔۔۔ تکلیف آج برداشت کی تھی۔
ایک بہن کی اور اب صلہ کی بے وفاٸی کی۔
گن کو جیکٹ میں رکھتاباہر آیا۔
وہ سحر کے پورشن کی طرف ہوتی تھی۔
سبحان کا رخ بھی اسی طرف تھا۔









آپی ۔۔۔!! پلیز بتاٶ تو۔۔۔۔۔؟؟ آخر ہوا کیا۔۔۔۔؟؟
سحر صلہ کو مسلسل ضروری سامان سمیٹتا دیکھ پریشان ہو رہی تھی۔
ہم۔۔ جا رہے ہیں یہاں سے۔۔۔۔
سحر کی فاٸیلز رکھتے وہ عجلت میں بولی۔
لیکن کہاں۔۔۔۔؟؟ سحر نے الجھن سے پوچھا۔
کہیں۔۔۔ بھی۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔ اب یہاں اور نہیں رہ سکتے۔۔۔
سحر کی میڈیسن بھی رکھیں ۔
وہ یہاں سے نکنے کا بہت بڑا رسک لے رہی تھی۔ لیکن اسے لینا تھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی۔
سبحان اب اسے نہیں چھوڑے گا۔۔۔
اس ڈیل کے بارے میں عمر کو پتہ چل چکا ہے۔اور اس ک یہ بات ۔۔۔ صلہ ے ذریعے پہنچی ہے۔۔۔
صلہ کو اپنا اور اپنی بہن کا بچاٶ کرنا تھا۔
چلو۔۔۔۔!! بیگ اٹھاتے وہ عجلت سے بولی۔
نہیں۔۔۔۔ آپی۔۔۔!! اتنی رات گۓ۔۔۔ یوں۔۔۔ گھر سے نکلنا۔۔۔ ٹھیک نہیں۔۔۔۔!!
سحر کا دل گھبرایا۔۔
پاگل پن مت کرو۔۔۔ سحر۔۔۔!! پلیز چلو۔۔
صلہ نے تنگ آکے کہا۔
آپی۔۔۔ !! سبحان بھاٸی۔۔۔ کو بنا بتاۓ۔۔۔ کیوں ۔۔جاٸیں۔۔۔؟؟
آپ کوٸی مسٸلہ یاپریشانی ہے آپ ان سے بات کریں ناں۔۔۔۔۔!!
سحر۔۔۔۔!! مجھے مشورے مت دو تم۔۔۔!! سمجھی۔۔۔
اب چلو۔
آپی۔۔۔۔۔۔!! صلہ اسے تقریباً گھسیٹتی باہر لاٸی۔
مین سے گیٹ سے جانا ہی تھا۔ بیک گیٹ پے بہت بڑا ڈوگ تھا۔
گیٹ مین سے بھی بحث ہو گٸ۔
میڈم۔۔۔!! پلیز۔۔۔ اندرواپس جاٸیں۔ ورنہ ہمیں۔۔ سر کو انفارم۔کرنا ہو گا۔
جس مرضی کو بتاٶ۔لیکن میرے راستے سے ہٹو۔
چوکیدار سے غصہ سے کہتی وہ اسے دھکا دے کے باہر نکلی۔ سحر کو افسوس ہوا۔
چوکیدار آگے بڑھا۔ کہ کسی نے اسکے سر پر وار کیا۔ وہ وہیں تھم گیا۔ پیچھے پلٹا۔ تو اس عرت نے چوکہدار کو دھکا دیا۔ اور صلہ کی جانب بڑھا۔
یہاں سے نکلنا چاہتی ہیں۔۔۔؟؟ وہ عورت جیسے اندر سے ہی بھاگ کے آٸی تھی۔۔۔ شاید وہ بھی قیدی تھی۔۔۔
تم۔۔۔تم۔۔ کون ہو۔۔۔؟؟۔
صلہ نے سحر کواپنے پیچھے کیا۔
قید تھی یہاں۔۔۔!! تم نے چلنا ہے۔۔ میرے ساتھ تو بتاٶ۔۔۔؟؟ میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں۔
وہ عورت ادھر ادھر دیکھتی جلدی سے بولی۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔!! چلو۔۔۔!
صلہ ے فوراً فیصلہ کیا۔
آپی۔۔۔۔؟؟
سحر کو اسکا فیصلہ ٹھیک نہ لگا۔
اک گاڑی میں بیٹھتے وہ عورت کوٸی ایڈریس بتا رہی تھی۔
صلہ بس اسی میں خوش تھی کہ وہا ں سے نکل آٸی۔
آگے کا راستہ وہ خود بنا لے گی۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے خود کو اوراپنی بہن کو کتنی بڑی مشکل۔میں ڈال دیا ہے۔








گاڑی گیٹ کے اندر داخل کرتے عمر سوچوں سے باہر آیا۔
سارے راستے کوٸی نہ بولا تھا۔
بچے بھی سو گۓ تھے۔ انہیں بمشکل۔جگایا۔ اور اندر بھیجا۔
رات بھی کافی ہو گٸ تھی۔۔
رابیہ بیگم نے بھی بیٹے سے کلام تک نہ کیا۔
گاڑی سے اترتے بھی خاموش رہیں۔
انوشے تم تابی کو لے کے اندر جاٶ۔
اور عمر۔۔۔۔تم۔۔۔!! اب جا سکتے ہو۔
سخت لہجے مں کہتی وہ سب کو چونکا گٸ۔
امی۔۔۔۔!! عمر نے حیرانی سے ماں کو پکارا۔
عمر۔۔۔! میں کوٸی لمبی چوڑی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ تابی کو میں بیٹی بنا کے لاٸی ہوں۔ اور وہ مجھے۔۔۔ تم سب سے عزیز ہے۔۔۔!
تم نے جو پہلے کیا سو کیا۔۔ لیکن آج ۔۔۔ جو تم جو کرنے والے تھے۔۔۔۔۔ اس کے لیے۔۔۔ میں تمہیں۔۔ معاف نہیں ر سکتی۔ لہجہ ہنوز سنجیدہ تھا۔
امی۔۔۔
اور وہ جو سبحان بھاٸی نے کیا۔۔۔ اس کاکیا۔۔۔۔؟؟
تیکھے انداز میں پوچھا۔
تو اسکا حساب جا کے۔۔۔ اس سے لو۔۔۔!!
مردوں کی طرح۔۔۔۔!!
نا کہ۔۔۔ عورتوں کو بیچ میں لے کے آٶ۔
اب کے بہت سخت غصے سے کہا۔
مجھے ایک بات نہیں سمجھ آتی۔۔۔۔
جہاں کہیں۔۔ بھی کوٸی۔۔ بھی بات ہو جاۓ۔۔۔
ہمیشہ عورت ہی کیوں۔۔ سولی چڑھتی ہے۔۔۔۔؟؟
مرد مرد سے مقابلہ کیوں نہیں۔۔ کرتا۔۔۔۔؟؟
عور ت کوکمزور سمجھ کے اسی کی قربانی کیوں دی جاتی ہے۔۔۔؟؟
بہت دکھی ہوٸیں وہ۔
عمر کا سر جھک گیا۔
بس ا۔۔۔۔۔۔۔اب اور نہیں۔۔۔۔!!
سبحان کی پرورش میں نے نہیں۔۔۔ کی۔۔۔ ہاں۔۔ البتہ۔۔۔ تم میرے ہاتھوں پراون چڑھے ہو۔۔۔
اور میں۔۔۔ نے تمہیں۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔ عورت کی عزت کرنا سکھایا ہے۔۔۔۔
لیکن۔۔۔ آج۔۔۔ تم نے مجھے بہت۔۔مایوس کیا۔۔۔
امی۔۔۔!!
عمر ۔۔۔!! تمہارے پاس بولنے لاٸق کچھ نہیں بچا۔
اگر تم۔۔۔ اس گھر میں آنا چاہتے ہو۔۔۔ تو تابی سے معافی مانگنا ہو گی۔ اور سچے دل سے اس رشتے کو نبھانا ہوگا۔
ورنہ۔۔۔۔ دوسری صورت میں۔۔ تم یہاں سے جا سکتے ہو۔
کہتے ساتھ ہی اک نظر اسکے چہرے پے ڈالتیں وہ اندر کی جا نب بڑھیں۔
انوشے تابی کواندر لے جاچکی تھی ۔
امی۔۔۔!! آپ میرے ساتھ ایسا نہیں۔کر سکتیں۔
مانا کہ۔۔۔ میرا قصور تھا۔۔ تابی کے ساتھ غلط کیا۔ لیکن۔۔۔وہ ۔۔۔ وہ کیا کررہی تھی۔۔۔؟؟
میرے نکاح میں ہوتے وہ۔۔۔ شادی۔۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟؟
عمر نے لب بھینچے۔
تو۔۔۔۔؟؟ رابیہ بیگم غصے سے پلٹیں۔









یہ۔۔۔۔یہ کونسی جگہ ہے۔۔۔؟؟ صلہ پریشان ہوٸی۔ بالکل انجانی جگہ دیکھ کے۔۔۔
ارے۔۔۔ یہ میرا گھر ہے۔۔۔آٶ۔۔۔ اندر آٶ۔۔۔ یہاں تمہیں ۔۔ کوٸی خطرہ نہیں ہوگا۔
بہت محبت سے کہا۔
نننن۔۔۔نہیں۔۔۔۔!! میرا خیال۔ ہے۔۔۔ اب۔۔۔ ہمیں اپنٕے اپنے راستے جاناچاہیے۔
صلہ نے فوراً انکار کیا۔۔
اوہہہووو۔! گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔۔؟؟
اپنا گھر ہی مجھو۔
وہ عورت صلہ کو زبررستی اندرکی جانب گھسیٹتے لے گٸ۔اور ایک روم میں لے جا کے بیٹھایا۔
اور خود کہیں چلی گٸ۔
سحر اور صلہ خاموشی سے اسکا وہیں انتظار کرنے لگیں۔







پورا گھر چھان مارا لیکن۔۔۔۔۔ صلہ اور سحر دونوں سبحان کو نہ ملیں۔
سبحان کا غصہ ساتویں آسمان پے تھا۔
صلہ۔۔۔۔!بھاگ کے تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔
You pay for this.
سر۔۔۔!! یہاں آٸیں۔۔ پلیز۔۔۔۔!!
عزیز نے پکارا تو وہ باہر کی جانب بڑھا۔
جہاں چوکیدار باہر زخمی حالت میں پڑا ہوا
تھا۔
کیا۔۔۔۔ہوا۔۔۔؟؟ کس نے کیایہ سب۔۔۔۔؟؟
سبحان کو یقین نہ آیا کہ صلہ ایسا کچھ بھی کرسکتی ہے۔
سر۔۔۔۔۔۔!! معلوم۔نہیں۔۔۔۔۔۔ کوٸی۔۔۔۔ عورت۔۔۔ تھی۔۔۔۔!!
سر پے ہاتھ رکھے وہ بمشکل بولا۔ خون ابھی بھی بہہ رہا تھا۔ جہاں کپڑا رکھ کے خون روکا ہوا تھا۔
صلہ۔۔۔ نے۔۔۔؟؟ سبحان کا دل دھڑکا۔
نہیں ۔۔۔ سر۔۔۔۔۔!! وہ تو باہر۔۔۔ جانے کی ضد کر رہی تھیں۔۔۔ مجھ پے وار کسی نے پیچھے سے کیا تھا۔۔۔
اور۔۔ پھر وہ۔۔ میڈم کو ساتھ لے گٸ۔۔۔۔۔!!
عزیز اسے بھیجوکسی کے ساھ ہاسپٹل۔۔۔ فوراً۔
سبحان اسکی حالت کے پیشِ نظر فوراً بولا۔
سر۔۔۔۔ ایک گاڑی کو آتے دیکھا تھا۔۔۔۔ اسی میں بیٹھ کے میڈم۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
تم۔ ہاسپٹل۔جاٶ۔ میں پتہ کرا لوں گا۔
سبحان نے اسے ٹوکا۔
یہ کون دشمن ہو سکتاہے۔۔۔۔؟؟
وہ رمضان تو قید میں ہے۔۔۔ اور اسکی ایسی حالت نہیں کہ وہ کچھ بھی کر سکے۔۔۔۔
علی بخش۔۔۔۔۔؟؟ سوچوں نے رخ بدلا۔
نہیں۔۔۔ اسے بیس لاکھ سے مطلب تھا۔ وہ اسے مل گۓ ہیں۔۔۔۔۔تو وہ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔
پھر۔۔۔ کون۔۔۔۔؟؟
تم ۔۔۔ نے۔۔۔ ہمیں تو قید کر لیا۔
لیکن کے۔کے سے کیسے بچو گے۔۔۔؟؟ وہ تو ۔۔۔ تمہاری جڑوں میں بیٹھاہوا ہے۔۔۔
سمیر اور شمس دونوں جو سبحان کی قید میں تھے۔
ان کی اچھی خاصی ٹھکاٸی کے بعد جو الفاظ ان کے منہ سے نکلے تھے۔ اس وقت تو سبحان نظر انداز کر گیا تھا۔ لیکن آج ۔۔۔ اسے شدت سے اپنی لاپرواہی کا احساس ہو رہا تھا۔
کون ہے۔۔۔۔یہ۔۔ کے۔کے؟؟؟
موباٸیل پے مسج ٹون ہوٸی۔
سحر نے سبحان کو اپنی لوکیشن سینڈ کی تھی۔
جبکہ صلہ نہیں جانتی تھی۔۔۔ کہ اسکے اس موباٸیل بھی ہے۔۔۔۔!!
تمہاری۔۔۔ جڑوں میں۔۔۔۔؟؟
کون۔۔۔۔؟؟۔کے۔۔۔۔۔؟؟ سبحان کا دماغ شل ہو رہا تھا۔۔
I m the king of my life….
مسٹر خالد کے الفاظ کی گونج کی بازگشت سبحان کے کانوں میں ہوٸی۔
وہ اکثر خود کو اپنی لاٸف کا کنگ کہا کرتا تھا۔
اور سبحان بس سر جھٹک دیاکرتاتھا۔
k for king k for khalid…….
سوچ کے ہانے خالد کی طرف گۓ تو رہی سہی کسر سحر کے میسج نے پوری کر دی۔
مسٹر۔۔۔ کے کے۔۔!!
its time to meet you…
سبحان نے لمبا سانس خارج کیا۔
اسے رہ رہ کے صلہ پے غصہ آرہا تھا۔
وہ اپنے ساتھ ساتھ معصوم سحر کی جان بھی خطرے میں ڈال چکی تھی۔







تم آرام کرو۔۔۔ میں کھانے کے لیے کچھ لاتی ہوں۔
انوشے نے تابی کو عمر کے روم میں پہنچا دیا۔
بھابھی۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ یہاں۔۔ نہیں رہنا۔۔۔میں ۔۔۔آپ کیے روم۔۔۔ میں۔۔۔؟؟
تابی نے گھبراتے ہوۓ کہا۔
تابی۔۔۔۔!! گھبراٶ نہیں۔۔!!عمر تو کیا کوٸی بھی امی کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔ اس لیے بے خوف ہو کے رہو۔ اور اب سے یہی روم تمہارا ہے۔
انوشے نے اسے تسلی دی۔
تابی رو دی۔
اب کیا ہوا۔۔۔؟؟ انشےپریشان ہوٸی۔
بھابھی۔۔۔۔ میرا۔۔۔ کوٸی قصور نہیں۔۔۔۔!! سبحان بھاٸی۔۔۔۔ نے مجھے۔۔۔۔۔ ایک بار بھی بولنے کا موقع نہ دیا۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ گھر۔۔۔ سے نکال۔۔۔۔۔!!
ایسا۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ تابی۔۔۔!! وقتی غصہ ہے۔۔۔۔سارا۔۔۔!! دیکھنا۔۔۔۔۔ غصہ اترے گا تو خود بھاگے آٸیں گے۔۔۔
فکر نہ کرو۔۔۔!اور۔۔۔۔ یہ سب ہوا بھی تو اچانک ہی ہے ناں۔۔۔۔!! کوٸی بھی مینٹلی کہاں تیار تھا۔۔۔۔؟؟
انوشے نے دھیمے سے کہا۔
بھابھی۔۔۔۔!! آپ بھی خفا ہیں۔۔۔ مجھ سے۔۔۔؟؟
تابی نے شرمندگی سے پوچھا۔
ہاں۔۔۔ ہوں تو سہی۔۔۔۔۔!! لیکن تم سے نہیں۔۔۔۔ اپنے اس ۔۔۔ چھپے رستم۔۔۔ دیور سے۔۔۔۔!! زرا جو بھنک پڑنے دی ہو۔۔۔ کسی کو۔۔۔۔!! میسنا۔۔۔!!
انوشے نے پیار سے کہا تو تابی کاسر جھک گیا۔
اچھا اب زیادہ سوچو مت۔۔۔!! میں ڈریس لاتی ہوں۔۔۔ تم چینج کر لو۔۔ اور کھانا۔۔۔
پلہز بھابھی۔۔۔!! کھانے کا بالکل دل نہیں۔۔ آپ۔۔ بس ڈریس دے دیں۔
تابی نے منہ بناتےکہا۔
اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔ دودھ لے آتی ہوں۔ وہ پی لینا۔خالی پیٹ نہیں سوتے۔۔۔
انوشے اسے پیار سے کہتی باہر نکل گٸ۔
تابی نے پورے کمرے پے ایک زخمی نظر ڈالی۔ آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔
کتناظالم تھا یہ انسان۔۔۔!! اپنا بنانے لاگا تو ایک پل کو نہ سوچا۔۔۔ اور جب۔۔۔ ساتھ نبھانے کا وقت آیا تو۔۔ چھوڑنے میں پل بھی نہ لگایا۔۔
محبت تو انتہا کی تھی۔۔۔
کیا۔۔۔۔ اب اعتبار کر پاۓ گی۔۔۔۔؟؟ جو پل۔پل اسے توڑنے کے کام کرتا ہے۔
یہ لو۔۔۔ بھٸ۔۔۔!! یہ ڈریس چہنج کرو اور یہ دودھ بھی پی لو۔۔۔۔!! اور اپنا دماغ خالی کر دو۔۔۔ اور آرام کرو۔ سمجھی۔۔۔!! اب آنسو نہ دیکھوں میں۔۔۔!!
انوشے نے اسے پیار سے ڈانٹا۔
تابی نے اثبات میں سر ہلایا۔ لیکن آنسوٶں پے کنٹرول کہاں تھا۔۔۔۔؟؟
انوشے جا چکی تھی۔وہ ابھی بھی سوچوں کے گرداب میں پھنسی ہوٸی تھی۔
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں الجھی وہ ارد گرد سے بے خبر تھی۔آنسو ہاتھوں کے کشکول میں گرتے جا رہے تھے۔
کیا ڈھونڈرہی ہو۔۔۔؟؟ میرے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑ کے ہاتھوں پے کسی اور کے نام کی مہندی لگاتے تمہارا دل نہیں لرزا۔۔۔۔؟؟
اپنے عقب سے عمر کی آواز پے وہ جھٹ سے اٹھی۔ جیسے اسے کرنٹ لگا ہو۔
نظریں سامنے عمر پے جا ٹہریں۔۔
آپ۔۔۔۔۔؟؟؟ یہاں۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟؟
تابی کا دل بہت زور سے دھڑکا۔
میرا روم ہے۔۔۔۔ اور مجھ سے۔۔۔ ہی پوچھا جا رہا ہے۔۔۔۔۔میں یہاں۔۔ کیسے۔۔۔؟؟
عمرکھڑا ہوتا طنز کے تیر چلانے لگا۔
تابی نے فوراً منہ پھیر لیا۔
پل۔۔۔۔للللیز۔۔۔۔ جاٸیں۔۔۔ یہاں سے۔۔۔!! خود پے ضبط کرتی وہ اتنا ہی بول پاٸی کہ عمر نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ وہ سیدھی اسکے سینے سے جا لگی۔
تمہیں کیالگا۔۔۔۔؟؟ تم ۔۔۔ مجھے۔۔۔ اسطرح چیٹ کرو گی۔۔۔ اور میں تمہیں۔۔۔ بخش دوں گا۔۔۔۔۔؟؟
دانت پیستے وہ غرایا۔
میں۔۔۔ نے ۔۔۔نہیں۔۔۔ آپ ۔۔۔نے ۔۔چیٹ کیا۔۔۔!!
ہکلاتے وہ عمر سے نظریں ملاتے بولی۔
اچھا۔۔۔۔۔۔!!نکاح پے نکاح۔۔۔۔ کون کرنے جا رہا تھا۔۔۔۔؟؟
تیکھے انداز میں خود سے مزید قریب کرتے پوچھا۔
میں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔!! آپ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔ چھوڑ گۓ۔۔۔۔!!
روتے ہوۓ اس نے اپنا دفاع کیا۔
اچھ۔۔۔ااااااا !میں چھوڑ کے گیا۔۔۔ اور تم۔۔۔ کسی۔۔۔ اور کے ساتھ۔۔۔۔؟؟
بس کریں۔۔۔۔!! ایسا کچھ نہیں۔
تابی عمر کی اس بات پے تژپ ہی تو گٸ۔
اور اسے پرے دھکیلا۔
آپ۔۔۔ بہت برے ہیں۔۔۔!! آپ۔۔۔ تب تب چلے گۓ۔۔۔ !! جب جب مجھے آپ کی ضرورت تھی۔۔۔
میں نے کہا۔۔۔ تھا آپ سے۔۔۔؟؟ مجھ سے نکاح کریں۔۔۔؟؟
وہ بپھری شیرنی اس وقت عمر کے چودہ طبق روشن کر گٸ۔
نکاح آپ نے زور ۔۔۔ز بردستی کیا۔۔۔۔ وہ بھی۔۔ بدلے کے لیے۔۔۔۔!! دکھ سے کہا۔
لیکن ۔۔۔۔ پھر بھی۔۔۔میں آپ سے نفرت نہ کر سکی۔۔۔۔!
آپ نےمجھے۔۔ دھمکی دی۔۔۔ بھاٸی کو بتایا۔۔۔۔تو ۔۔۔ طلاق۔۔۔؟؟
روتے ہوۓ سر جھکایا۔
سچ ہی تو کہہ رہی تھی۔ ہر موڑ پے تو عمر نے اسے ہی آزمایا۔
اپنی آزماٸش پے تو ہار ہی گیا۔
سب کچھ۔۔۔ خود سہا۔۔۔ لیکن۔۔۔ میرے عشق نے مجھے۔۔۔۔ کہیں کا نہ چھوڑا۔۔۔۔
کتنا ۔۔۔ رابطہ کرنے کی کوشش کی آپ سے۔۔۔!!
لیکن آپ تو ۔۔۔ سارے رابطے۔۔۔ ختم کرکے۔۔۔ گۓ۔۔۔ تھے۔۔ ناں۔۔۔۔۔؟؟ پھر کیوں آۓ۔۔۔۔۔؟؟؟
تابی نے غصے سے پوچھا۔
عمرنے اسکی اتنی لمبی بات بنا سانس لیے سنی۔ اور آخر میں ایک لمبا سانس خارج کیا۔
میرا۔۔۔ روم ہے۔۔۔اور ۔۔۔ اپنے روم میں۔۔ آنے کے لیے
۔مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
مزے سے بیڈ پے بیٹھتے وہ تابی کو آگ لگاگیا۔
کیا۔۔۔۔ مطلب۔۔۔ اس بات کا۔۔۔؟؟
خالہ۔۔ آنی نے آپ کو۔۔۔ منع کیا تھا۔۔۔۔!!
تابی کو اسکا انداز ہضم نہ ہو رہا تھا۔
ہاں۔۔۔ جانتا ہوں۔۔۔ ! لیکن وہ میری ماں اور میرا معاملہ ہے۔۔۔۔ تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں۔
عمر اب کے تابی کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔
تابی کااظہار محبت اسے اندر تک سرشار کر گیاتھا۔
اور اب تو دوری کا تصور بھی سوہان روح تھا۔
آپ۔۔۔ جاٸیں۔۔۔ یہاں۔۔۔ سے۔۔۔ ورنہ۔۔۔!!
انگلی اٹھاتے وارن کیا۔
ورنہ کیا۔۔۔؟؟ دھمکی پے وہ اٹھ کے قریب آیا۔۔
میں۔۔۔۔ خالہ آنی۔۔۔ کو بتا دوں گی۔۔۔!! اپنی طرف سے خاصی پاورفل دھمکی دی۔
ہمممممم۔!! میں ڈر گیا۔
عمر نے اسکا مزاق بنایا ۔ تو اسکے آنسو ایک بار پھر بہہ نکلے۔
دروازے کی طرف بڑھی۔ کہ عمر نے کمر میں ہاتھ ڈال کے بہت پیار سے اپنی اور کھینچا۔
