No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
میرا عشق بے زبان
تحریر : حیانور
قسط ٧ شکرانہ سنبھال کر چلیں پلیز اندھیرا بہت ہے آس پاس وہ لوگ بھاگتے بھاگتے سنسان سڑک پر آگۓ تھے جہاں اندھیرا بہت تھا شکرانہ بار بار میر سے ٹکڑا رہی تھی اف اللہ سنبھل کر چل تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے میں کوئ انکے اوپر گر رہی ہوں شکرانہ منہ بناتے ہوۓ سوچتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ شاویز گاڑی کہاں ہے میر ایک سائیڈ کھڑا ہوکر شاویز سے رابطہ کرتے ہوۓ پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سر آپکے بالکل رائٹ سائیڈ پر جو بلیک کار کھڑی ہے وہی اوکے باقی آپ سب خیریت سے پہنچ گۓ نہ ۔۔۔۔۔ جی سر ہم سب پہنچ گۓ بس آپ لوگوں کا ویٹ ہورہا ہے کرنل سر نے بھی دو دفعہ کال کرکے آپکا پوچھا ہے کہہ رہے تھے آپ گھر آجائیں تو انہیں کال کرلیجیۓ گا ۔۔۔۔۔۔ اوکے آئم کمنگ اللہ حافظ کہتے ہی میر رابطہ منقطع کردیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ چلیں جلدی سے بیٹھیں ہمھیں فوراً یہاں سے نکلنا ہوگا اور ہاں ایک بات اور شکرانہ بیٹھنے والی ہوتی ہے کہ میجر آبص اس سے کہتا ہے جس پر وہ اسےسوالیہ نظروں سے دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔ دیکھیں اچھی طرح ڈھانپ لیں خود کو ڈوپٹہ کے ساتھ تاکہ کوئ آپکو پہچان نہ سکے میر کی بات پر شکرانہ جلدی سے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک سے اوڑھتی ہے اور اچھے سے چہرے کو ڈھانپ کر گاڑی میں بیٹھتی ہے میر بھی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی زن سے اُڑادیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ♠……………………………………….♠ “تم میرے لاشعور کے حصار میں ہو” کیونکہ ! تم میرے دل کی آنکھوں کا محبوب نظارہ ہو__😍🖤
نہیں سوئیٹ ہارٹ تم ایسے نہیں جاسکتی Bk تمھیں اتنی آسانی سے نہیں بھول سکتا اور نہ ہی تمھیں خود کو بھولنے دے گا ابھی تو تم سے آغاز محبت ہوئ تھی اور ابھی ہی تم Bk کو چھوڑ کر چلی گئ نہیں تمھیں واپس آنا ہوگا Bk کے پاس ابھی تمھیں ٹھیک سے Bk نے دیکھا بھی نہیں تھا میں تمھیں ڈھونڈ نکالوں گا اگر تم دنیا کے آخری کونے بھی چھپی ہوئ نہ تو Bk تمھیں وہاں سے بھی نکال لے گا Bk سگریٹ کے کش لگاتے ہوۓ شکرانہ کو تصور میں لاتے ہوۓ اس سے کہہ رہا تھا تبھی دروازے پر دستک ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کم ان Bk کے کم ان کہنے پر شمس اندر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سر ہم نے اسے بہت ڈھونڈا لیکن وہ کہیں نہیں ہے شمس سر جھکاۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہا تم نے ہاں شمس کیا مطلب کہیں نہیں ہے وہ ایسے کیسے کہیں نہیں ہے وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ Bk کی قید میں تھی اس کی دسترس میں Bk ابھی بھی اسکی خوشبو میں اپنے اردگرد محسوس کرسکتا ہوں اور تم کہہ رہے ہو وہ ہے ہی نہیں Bk شمس کا کالر پکڑ کر اسے ایک تھپڑ مارتے ہوۓ زمین پر گراتا ہے مجھے وہ لڑکی چاہیے کہیں سے بھی لیکر آؤ اسے لیکن لیکر آؤ تمھارے پاس صرف چوبیس گھنٹے ہیں ورنہ Bk آگ لگادے گا پوری دنیاکو اگر مجھے میری سوئیٹ ہارٹ نہ ملی تو دفعہ ہو جاؤ Bk شمس کو دھکا دے کر روم سے باہر پھینک دیتا ہے دروازے کو اتنی زور سے بند کرتا ہے کہ Bk ولا کے درودیوار تک ہل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ……!!!
طلب کی وہ حد ھو.
جسکے آگے سب کچھ بے معنی ھے❣️.
♥……………………………………..♥
بھا صاحب میرا مطلب سر آپ لوگ ٹھیک ہیں وہ لوگ جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوتے ریحان بھاگتے ہوۓ آکر ان سے پوچھتا ہے جس پر میر اسے گھورتا ہے ریحان ہم ٹھیک ہیں سر شہوار سر کی کال ہے ۔۔۔۔۔۔ شاویز میں بس ابھی چینگ کرکے خود ہی ان سے بات کرتا ہوں وہ شکرانہ کو مکمل نظر انداز کرکے روم کی طرف چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ گڑیا ٹھیک ہو آپ شاویز پیار سے آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھتا ہے شاویز کے گڑیا کہنے پر شکرانہ کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حجاب بیوٹی رو کیوں رہی ہو سب ٹھیک ہوجاۓ گا ابھی چلو تھوڑا آرام کرو پھر مجھے اپنا پورا ایڈریس بتاؤ ہمارا وعدہ ہے ہم تمھیں صحیح سلامت تمھارے گھر پہنچادے گیں عائشہ اسکے آنسو صاف کرتی ہے اور اسے روم کی طرف لے جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ پیچھے شاویز ریحان کو ایک مکا کمر پر مارتا ہے کب سدھروگے تم ریحان کیا ضرورت تھی سب کے سامنے سر کو بھائ بولنے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بھائ ہے تو ہے اور ویسے بھی میں پریشان ہوگیا تھا اس لیے منہ سے نکل گیا ریحان پہلے شرارت اور پھر آخری میں سنجیدگی سے کہتا ہے جس پر شاویز مسکرادیتا ہے چل اب کام دیکھیں ورنہ سر پھر غصہ ہوجائیں گے شاویز اس سے کہتا ہے جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ اسکے ساتھ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💓…………………………………………..💓
السلام وعلیکم سر کیسے ہیں آپ ؟ میر موبائل کان سے لگاۓ پوچھتا ہے میں ٹھیک ہوں ینگ مین آپ کیسے ہیں ؟ کرنل شہوار خوش اخلاقی سے پوچھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ الحمداللہ آل فائن سر اچھا میر لڑکی کا کیا بنا لے کر تو آپ اسے آگۓ ہیں اب آگے کیا سوچا ہے اس لڑکی کے بارے میں Bk تو اب اسکا پیچھا نہیں چھوڑے گا تمھیں جلد ازجلد اس بچی کو اسکے گھر پہنچانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر ویسے بھی اس لڑکی نے مجھے الجھا کر رکھ دیا ہے جب سے آئ ہے تب سے ہی کوئ نہ کوئ مشکل کھڑی کردیتی ہے ہمارے لیے اور اب تو متحرمہ نے Bk کو اپنا اسیر کردیا کیا ضرورت تھی اُسے وہاں جانے کی میر جھنجھلا کر کہتا ہے ینگ مین ریلکس بچی ہے وہ خود بہ خود تو نہیں گئ تھی یہ سب تو قسمت میں لکھا ہوا تھا اس لیے اب اسے سب سے پہلے اس کے گھر پہنچادو اور وہ بھی صحیح سلامت پھر مشن پر کام کرنا اوکے رائٹ سر اچھا میر ایک بات تو بتاؤ ۔۔۔۔۔ جی سر ۔۔۔۔۔ وہ ہمارے چھوٹے لاڈ صاحب کیسے ہیں تنگ تو نہیں کررہے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔ تنگ تو خیر وہ مجھے بہت کرتا ہے بابا جانی لیکن کیا کروں میرا چھوٹا بھائ ہے میں منیج کرلیتا ہوں چلیں اب میں رکھوں گا اپنا خیال رکھیۓ گا میری امی جان اور مارشملو کو بہت زیادہ پیار دیجیئے گا میری طرف سے اللہ حافظ میجر آبص کہتے ہوۓ فون بند کردیتا ہے اور کمرے سے باہر چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
کیا ہوا Bk آج بڑے خاموش لگ رہے ہو تم جاوید خان Bk کو خاموش دیکھ کر اس سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کچھ نہیں تم بتاؤ مال پہنچ گیا لونی ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں وہ تو پہنچ گیا لیکن سردار جہانگیر لونی نے تمھیں ملنے بلایا ہے اسے کوئ ڈیل کرنی ہے تمھارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ اچھا ہاں Bk اس کی بات کا کوئ خاص ریسپونس نہیں دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا Bk اینی پروبلم جب سے آیا ہوں تب سے تم مجھے کھوۓ کھوۓ لگ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں کب ملنے بلایا ہے Bk بات بدل کر پوچھتا ہے کل صبح دس بجے جاوید خان کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اوکے Bk کہتے ہی اٹھ کر چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پیچھے جاوید خان کو حیرت ہوتی ہے کہ آج Bk کو ہوا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
سب سیٹ ہے نہ شاویز میر اس سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ شاویز کو خاموش دیکھ میر پھر اس سے پوچھتا ہے شاویز کس سوچ میں ہو ۔۔۔۔۔۔ وہ سر میں سوچ رہا تھا کہ ہم شکرانہ کو یہی روک لیتے ہیں نہ وہ ہماری مشن میں مدد کرسکتی ہے Bk تک پہنچنے میں شاویز میر کو دیکھتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ آر یو آوٹ اوف یور مائنڈ شاویز کیسی باتیں کررہے ہو ہم آرمی آفیسرز ہیں ہم ایک گینگسڑ کو پکڑنے کے لیے ایک لڑکی کو بیچ میں نہیں گھسیٹ سکتے مائنڈ یو شاویز اور شکرانہ کو تو بالکل بھی نہیں اب جاؤ اور شکرانہ کو بس اسٹینڈ تک حفاظت کے ساتھ چھوکر آؤ اور دیکھو بس چل جاۓ تب ہی واپس آنا ریحان کو ساتھ لے جاؤ تب تک میں ازمیر سے پوچھتا ہوں Bk کا اگلا پلین کیا ہے اوکے ناؤ گو میر شاویز کو ہدایت دیتا ہوا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💚…………………………………….💚
سر لیٹس گو ہمھیں جلدی نکلنا ہوگا گاڑی ریڈی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں چلو لیکن یاد رہے شمس میری سوئیٹ ہارٹ میرے واپس آنے تک یہاں Bk ولا میں ہونی چاہیے ورنہ تم جانتے ہی ہو میں کیا کرسکتا ہوں Bk شمس کی گردن دبوچتے ہوۓ دھمکی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر وہ آپ ہی کے پاس ہوگی آپ بے فکر ہوکر جائیں ۔۔۔۔۔۔۔ اہہممم گڈBk اس کے گال تھپتھپاتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌼………………………………………….🌼
گڑیا آپ کے ساتھ رہ کر بہت اچھا لگا اللہ آپکو اپنے حفظ و امان میں رکھے شاویز اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دعا دیتا ہےجس پر وہ مسکرادیتی ہے میری بھی دعا آپ کے ساتھ ہے پرنسیس خیال سے جانا ریحان کے پرنسیس کہنے پر شکرانہ کی نظروں کے سامنے بے اختیار Bk کا چہرہ آتا ہے جس پر وہ جھر جھری سی لے کر رہ جاتی ہے چلو اب جاؤ ورنہ بس مس ہوجاۓ گی ریحان کی بات پر وہ مسکراتے ہوۓ بس میں چڑھتی ہے اور ہاتھ ہلا کر انہیں خدا حافظ کہتی ہے اسی دوران بس چل پڑتی ہے بس کو چلتا دیکھ وہ بھی اپنی جیپ میں بیٹھ کر چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
ان کو جاتا دیکھ شکرانہ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اسے بار بار میر کا چہرہ اپنی نظروں کے سامنے نظر آرہا تھا پتا نہیں جب سے وہ اسے چھوڑ کر آرہی تھی تب سے اس کا دل اُداس تھا نہیں میں واپس نہیں جاؤں گی میں پھر سے ان کے پاس جاؤں گی انہیں کہوں گی مجھے اپنے پاس رکھ دیں ہاں مجھے ان کے پاس جانا ہے نہیں رہ سکتی میں ان کے بغیر شکرانہ دل میں کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔اور بس ڈرائیور کو روکنے کا اشارہ کرتی ہے بس جیسے ہی روکتی ہے وہ بس سے تیزی سے باہر نکلتی ہے اور اندھا دھند سڑک پر بھاگتی ہے تاکہ وہ شاویز والوں کی جیپ تک پہنچ سکے وہ اسے ہی بھاگ رہی تھی کہ سامنے سے آتی ہوئ گاڑی کے ہیڈلائٹس کی روشنی اسکے چہرے پر پڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
