Mera Ishq Bezuban By Haya Noor Readelle50179 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
میرا عشق بےزبان
تحریر : حیانور
ایپیسوڈ: ١٢
رومیسہ کہاں تھی بیٹا تمھیں پتا ہے ہم کتنا پریشان ہورہےتھے تمھارے لیے رومیسہ کو گھر کے اندر داخل ہوتا دیکھ وہ اس کی طرف بڑھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ رومیسہ بھی بھاگتے ہوۓ ماں کے گلے سے لگ کر روتی ہے ۔۔۔۔۔۔ نہ نہ میری بچی کیا ہوگیا ہے رو کیوں رہی ہے عفت بیگم اسے چپ کرواتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پولیس اسٹیشن میں تھی اس لیے رو رہی ہے پیچھے سے اشفاق کی آواز آتی ہے ۔۔۔۔۔ جس پر دونوں ان کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کیا مطلب پولیس اسٹیشن عفت بیگم ان کی طرف بڑھتی ہے تو اشفاق صاحب سارا واقعہ انہیں سنا دیتے ہیں جیسے سنتے ہی وہ کانپ کر رہ جاتی ہے اللہ میری بچی وہ بے اختیار رومیسہ کو گلے لگاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ دیکھا بیگم اپنی اولاد پر بات آئ تو آپ کانپ کر رہ گئ اس یتیم بچی کا سوچا ہے جو پتا نہیں کہاں ہوگی کس حال میں ہوگی نہیں نہ تو سوچیں اور دعا کریں اس کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو اور وہ جلد ہی ہمھیں مل جاۓ ورنہ میں آپکو کبھی معاف نہیں کروں گا اشفاق کہتے ہوۓ چلے جاتے ہیں پیچھے شرمندگی کے مارے عفت بیگم کی نظریں ہی جھک جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
او مہربانو کمبخت جا دیکھ رانی تیار ہوئ کہ نہیں ابھی وہ اتنا ہی کہتی ہے کہ انہیں وہ کمرے میں داخل ہوتی نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔ جی بائ آپ کے کہنے سے پہلے ہی دیکھیں میں لے آئ مہربانو ایک ادا سے کہتی ہے ریشم بائ تو شکرانہ میں ہی حیران ہوتی ہے لال کلر کے لہنگے میں لال ہی لپ اسٹک لگاۓ کھلے بال اسکے روپ کو اور بھی دلچسپ بنارہےتھے بلاشبہ وہ حسن کی چلتی پھرتی مثال تھی ۔۔۔۔۔ ماشأاﷲ ریشم بائ کے منہ سے بےاختیار نکلتا ہے بھئ واہ واہ داد دینی پریگی کیا چیز ہو تم آج تو کسٹمرز کی لائن لگ جاۓ گی تجھے دیکھ کر میری رانی وہ اس کی تھوڑی تھامتے ہوۓ کہتی جبکہ شکرانہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس گھٹیا عورت کا گلہ دبا دے چل بھئ دل جان ہماری رانی تیار ہے محفل میں چار چاند لگانے کے لیے جلدی جلدی محفل سجا اور آج تو بورڈ بھی لگا اپنی حثیت دیکھ کر ہی کسٹمرز رقص دیکھنے آئیں ایسے ویسوں کو اندر گھسنے نہ دینا سمجھ گۓ اب جلدی چل باہر ۔۔۔۔۔۔۔ اتنی جلدی بھی کیا ہے ریشم بائ Bk سے تو ملاقات کا شرف حاصل کرلو پہلے اپنی محفلوں کو بعد میں دیکھتی رہنا Bk کمرے کے اندر داخل ہوتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ریشم بائ Bk کو دیکھتے ہی گھبراجاتی ہیں جبکہ شکرانہ اس آواز کو پہنچانتے ہوۓ اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ وہ اسے دیکھ نہ پاۓ اس حالت میں ارے سرکار آپ آج یہاں کیسے ریشم بائ مکمل طور پر شکرانہ کو اپنے پیچھے چھپاتے ہوۓ پوچھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں جی وہ بس ایک کام تھا تجھ سے Bk دو قدم آگے آتے ہوۓ کہتا ہے جبکہ ریشم بائ دو قدم پیچھے کی جانب مڑتی ہے ساتھ ہی شکرانہ بھی دوقدم پیچھے لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے پہلے سامنے سے ہٹو تو بتاؤں گا ۔۔۔۔۔۔ کیا مطلب سرکار ریشم بائ انجان بنتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہٹ رہی ہے کہ انتظام کروں تیرا بڑا شوق ہے نہ تجھے لڑکیوں کی عزت کو پامال کرنے کا ان کے جلوے اپنے ان(گالی) کسٹمرز کو دیکھانے کا چل ہٹ آگے سے ورنہ تو جانتی نہیں Bk کو یہی تجھے گاڑدوں گا Bk غصے سے گن نکالتا ہے جیسے دیکھ ریشم بائ تیر کی تیزی کی طرح آگے سے ہٹتی ہے اور وہ پریوں سا روپ رکھنے والی سامنے آتی ہے Bk کو لگا کہ دنیا وہی رک گئ ہو وہ ایک ایک قدم اسکی طرف بڑھاتا ہے شکرانہ اسکو اپنے قریب آتا دیکھ دو قدم اور پیچھے ہوتی ہے لیکن Bk وہ تو بے خودی کے عالم اس کی جانب چلتا ہے کہ اچانک سے اس کی نظر اسکے کپڑوں پر پڑتی ہے جس میں اسکا پورا سراپہ نمایاں ہوتا ہے ایک لمحہ میں اسکے تاثرات سخت ہوتے ہیں تو وہ مڑ کر ریشم بائ کی طرف غصے سے دیکھتا ہے جو اسے ہی دیکھ رہی تھی Bk کا غصہ دیکھتے ہی ریشم بائ کی حالت خراب ہونے لگتی ہے اور جلدی سے کمرے سے باہر چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سوئیٹ ہارٹ کیسی ہو وہ اسکے قریب آتے ہوۓ پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔ جبکہ اسکے سوئیٹ ہارٹ کہنے پر شکرانہ کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ نہیں جواب دوگی نہ مت دو لیکن اتنا بتادو یہ کیسا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے اپنا وہ ایک نظر اسکے حلیہ پر ڈالے پوچھتا ہے وہ اب بھی جواب نہیں دیتی اسکو ہنوز خاموش دیکھ Bk کو غصہ آتا ہے اور وہ ایک دم سے اسے اپنی طرف کھیچتا ہے جس کے باعث وہ آکر اسکے سینے سے لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوپر دیکھو سوئیٹ ہارٹ اسکے کہنے پر بھی اسکا سر ہنوز جھکا ہوتا ہے میں نے کہا اوپر دیکھو اب کے وہ غصے میں کہتا ہے تو وہ جلدی سے سر اٹھاتی ہے ۔۔۔۔ Bk اسکی نم آنکھوں کو دیکھ کر اپنے دل پر ہاتھ رکھتا ہے ہاۓ صدقے ان کا رونا ہی اتنا قاتلانہ ہے تو مسکرانہ تو کئ لوگوں کو گھائل کرنے کی وجہ بنا ہوگا ویسے آپس کی بات ہے سوئیٹ ہارٹ کتنے لوگوں کو اب تک گھائل کرچکی ہو وہ اسکی سرمائ آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہتا ہے جبکہ اسکے ایسا کہنے سے شکرانہ اسے غصے سے گھورتی ہے ۔۔۔۔ اف نہ کرو یار میں مرجاؤں گا اسکا ایسا کہنا شکرانہ کا دل دھڑکا گیا تھا وہ جلدی سے اس سے دور ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ کیسے پہنچی یہاں تم ؟؟ اس جہانگیر لونی نے کیا ہے نہ یہ سب چھوڑوں گا نہیں اسے میں تم جاؤ کپڑے چینج کرکے آؤ تب تک میں باہر تمھارا ویٹ کرتا ہوں جلدی آنا وہ کہتے ہوۓ جانے لگتا ہے کہ شکرانہ اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے تو وہ مڑ کر اسکی طرف دیکھتا ہے کیا ہوا میری جان میرا مطلب ہے اینی پروبلم شکرانہ کے گھورنے پر وہ جلدی سے بات بدلتا ہے ویسے ایک بات تو ماننی پرئیگی سوئیٹ ہارٹ Bk جیسے بندے کو بھی ڈرا دیا آپ نے اپنی ان خوبصورت آنکھوں سے دیکھ کر رئیلی وہ آنکھوں شرارت لیے مسکراتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔ جس پر شکرانہ گہرا سانس لے کر رہ جاتی ہے اف اللہ ایک تو ان کا سستہ رومینس ایک دفعہ مجھے بولنا آجاۓ تو دیکھو کیسے ان کا یہ سستہ رومینس ختم کرتی ہوں پرانے فلموں کے سستہ ولن نہ ہو تو شکرانہ تپ کر سوچتی ہے اور ہاتھوں کا اشارہ کرتے ہوۓ اس بتاتی ہے کہ وہ بول نہیں سکتی ہے شکرانہ کے ہاتھوں کی حرکت دیکھ کر وہ شوک کی کیفیت میں اسے دیکھتا ہے کیا مطلب یہ کیسے تم واقع نہیں بول سکتی وہ بے یقینی سے پوچھتا ہے تو وہ اثبات میں سر ہلاتی ہے ۔۔۔۔ کبھی وہ اسے کچھ کہتا کہ اسکی کال آجاتی ہے تو وہ جیب سے فون نکال کر ایک سائید پر چلا جاتا ہے اور دو تین منٹ کے بعد واپس آتا ہے ۔۔۔۔۔۔ چلو ہمھیں یہاں سے نکلنا ہوگا فوری طور پر میرے پیچھے پیچھے آنا ہم خفیہ راستے سے جائیں گے اوکے فولو می وہ سنجیدگی سے کہتے ہوۓ چلا جاتا ہے اہہممم بڑا آیا پیار کرنے والا پتا چلا کہ میں بے زبان ہوں ساری ہیروگری ختم ہوگئ ان کی تو شکرانہ سوچتے ہوۓ اسکے پیچھے چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
سر الحمداللہ سے ساری لڑکیاں سیولی اپنے گھروں پر پہنچ گئ شاویز اندر داخل ہوتے ہوۓ میر سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔چلو اللہ کا شکر ہے ویسے کسی کے گھروالوں نے اعتراض تو نہیں کیا تھا نہ انہیں اپنانے سے وہ اپنی تسلی کے لیے پوچھتا ہے نونو سر ایسا کچھ نہیں ہوا الٹا سب شکرادا کر رہے تھے پولیس کا ۔۔۔۔۔ چلو گڈ شاویز ایک بات تو بتاؤ! جی سر پوچھیں شاویز فرمانبرداری سے کہتا ہے یہ شیر کہاں ہے کچھ پتا چلا جی سر وہ ابھی شاویز بتانے والا ہوتا ہے کہ میر کا سیل پر مسیج آتا ہے پارٹنر باہر آؤ تم سے ایک کام ہے مسیج پڑھتے ہی میر باہر کی طرف جاتا ہے سر اینی پروبلم پیچھے سے شاویز کی آواز آتی ہے ۔۔۔۔۔ نو شاویز ایروری تھنگ از فائن میر مسکراتے ہوۓ کہتا ہے اور باہر کی طرف چلا جاتا ہے ۔۔۔۔ پیچھے شاویز بھی سر جھٹک کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
واٹ ہیپنڈ سر میر اسکے پاس آتے ہوۓ شرارت سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں یار ایک فیور چاہیے تم سے وہ سنجیدگی سے کہتا ہے شیر سب ٹھیک تو ہے نہ پریشان لگ رہے ہو ۔۔۔۔۔ ہاں وہ یہ اس کو تم اپنے پاس رکھ لو اس کی جان خطرے میں ۔۔۔۔۔ تم کیا کہہ رہے ہو مجھے سمجھ نہیں اور یہ تو اپنے گھر چلی گئ تھی پھر تمھارے پاس میر اسے دیکھتے ہوۓ ناسمجھی سے کہتا ہے میں بتاتا ہوں تمھیں پھر وہ اسے ساری بات بتاتا ہے جیسے سن کر میر حیران ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اوگڈ کوئ اتنا کیسے گر سکتا ہے ٹھیک ہے تم بے فکر ہوکر اپنا کام وائنڈاپ کرو تب تک میں اسے یہاں رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔ تھنکیو سو مچ بھائ وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ اسکے گلے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اٹس اوکے میرے شیر میر بھی مسکراتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اچھا یہ لیں میں چلتا ہوں وہ اسے میر دیتے ہوۓ جانے لگتا ہے کہ میر اسے روکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ شیر محبت ہے نہ اس سے ۔۔۔۔۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے بھائ وہ تو نفرت کرتی ہے مجھ سے وہ مایوسی سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ اس لیے میرے شیر کہ اسے تمھاری سچائ نہیں پتا جب پتا چلے گی تب یقیناً محبت کرے گی تم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا بھائ اب چلوں گا آپ بھی اندر جائیے اسے لے کر میں چکر لگاؤں گا صبح وہ ایک نظر اس پری کو دیکھتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پیچھے میر بھی اسے اپنے بازوؤں میں بھرے اندر کی طرف لے جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم میرے لیے بہت خاص ہو
تم وہ واحد لڑکی ہو
جس کے لیے مجھے اپنی نیند سے محروم رہنے کے لیے کوئ اعتراض نہیں صرف تم ،
صرف تم ہو جس سے بات کرتے وقت میں کبھی تھک نہیں سکتا
جس کاخیال ہی میرے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے
میں لفظوں میں وضاحت نہیں کرسکتا کہ تم میرے لیے کیا ہو
تم ہی وہ واحد لڑکی ہو جس سے مجھے ہار جانے کا ڈر ہے اور ہاں تم ہی وہ واحد لڑکی ہو ❤❤
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
