50.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

میرا عشق بےزبان
تحریر : حیانور
ایپیسوڈ : ١٣
سرکار لڑکی کو Bk اٹھا کر لے گیا جہانگیر لونی جس نے ریشم بائ کو شکرانہ کی خیر خیریت کے بارے میں پوچھنے کے لیے فون کیا تھا ریشم بائ کی بات سن کر وہ غصے میں آجاتا ہے ۔۔۔۔۔ یہ کیا بکواس کررہی ہے تو ایسے کیسے وہ لے کر گیا تو نے اسے جانے کیسے دیا ہاں میں نے تیرے پاس امانت رکھائ تھی نہ اپنی رانی تونے کیسے اسے اس کے ساتھ جانے دیا ہاں(گالی) جہانگیر لونی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی ریشم بائ اس کے سامنے ہوتی تو وہ شاید ہی اسے گولیوں سے چھلنی کردیتے ۔۔۔۔۔۔ سرکار وہ بہت خطرناک ہے اس سے آپ جیسا بندہ ڈر جاتا ہے تو میں کیا چیز ہوں اس کے سامنے ۔۔۔۔۔۔ چل اب بند کر اپنی بکواس آتا ہوں میں تیرا یہ کوٹھا بند کروانے(گالی) جہانگیر لونی کہتے ہوۓ زور سے موبائل کو دیوار پر مارتا ہے جس کے نتیجے میں موبائل ٹکرے ٹکرے ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
شکرانہ آرام آرام سے اپنی آنکھیں کھولتی ہے کیپٹن عائشہ جیسے میر نے ہی شکرانہ کے پاس بیٹھایا تھا اس کا خیال رکھنے کے لیے شکرانہ کو آنکھیں کھولتا دیکھ جلدی سے اس کے پاس آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم حجاب بیوٹی کیسی ہو تم ؟؟ وہ مسکراتے ہوۓ پوچھتی ہے ۔۔۔۔۔۔ میں یہاں کیسے آئ وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوۓ پوچھتی ہے ۔۔۔۔۔ تو عائشہ مسکرادیتی ہے ریلکس یار اب اس کے بارے میں ہم بعد میں بات کرینگے پہلے یہ بتاؤ کیا کھاؤ گی کیپٹن عائشہ بات بدلتی ہے اچھا چلو میں خود ہی کچھ ہلکا پلکا لے آتی ہوں وہ کہتے ہی جانے لگتی ہے کہ شکرانہ اس کا ہاتھ پکڑلیتی ہے اور اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو چینج ہوتے ہیں ۔۔۔۔ او یہ میں نے کرواۓ ہیں چینج ریلکس اب باتیں بعد میں پہلے کچھ کھالو وہ اسکے گال کھیچتی ہے تو وہ مسکرادیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
شیر تم وہاں کیوں گۓ تھے کرنل شہوار سنجیدگی سے پوچھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ سب اس وقت ایک خفیہ جگہ پر موجود تھے جہاں ان کی کرنل شہوار کے ساتھ میٹنگ تھی ۔۔۔۔۔۔ ابھی کچھ اور بات ہوتی کہ کرنل شہوار شیر سے سوال پوچھتے ہیں ۔۔۔۔۔ سر میرا وہاں جانا ضروری تھا وہ بھی سنجیدگی سے جواب دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نو نو آپ کا وہاں جانا بالکل بھی ضروری نہیں تھا ہاں آپ نے ضروری بنادیا تھا اپنے لیے وہ سخت لہجہ میں کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سر آگے سے میر آپ ہر دفعہ اس کی طرف داری نہیں کرسکتے سمجھے کرنل شہوار میر کی بات بیچ میں ہی کاٹ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور آپ میری بات غور سے سنے بہت محنت کی ہے آپ نے اس مشن پر اتنے سال دشمنوں کے بیچ رہ کر بلکہ یوں کہہ لو ملک کے غداروں کے بیچ رہ کر ان کے ناپاک ارادوں کو جاننا اور پھر ان ہی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان ارادوں کو ناکام بنانا آسان نہیں تھا اپنے گھر والوں اپنی فیملی سے اتنے سال دور رہنا آسان نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ آپکی ماں جو ہر وقت آپ کے کامیاب ہونے کی دعا کرتی ہے آپکے گھر آنے کی راحیں تکتی ہے کہ کب میرا بیٹا آۓ گا گھر اور جب مشن اپنے آخری مرحلہ پر ہے تب کیوں ایک لڑکی کی وجہ سے اپنے ہی نہیں بلکہ ان سب کے اتنے سالوں کی محنت کو برباد کرنے کے در پر ہو تم شیر وہ ان سب کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ شیر سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آئ نو سر ۔۔۔۔ شیر نظریں جھکاۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔ نو شیر یو ڈونٹ نو اگر تمھیں پتا ہوتا تو یہ جو آج تم نے کیا ہے وہ کبھی نہ کرتے خیر آپ سے میرا اب اور بحث کرنے کا کوئ ارادہ نہیں ہے میر مجھے لگتا ہے کہ جہانگیر لونی جاوید خان اور باقی جو ان کے ساتھی ہیں وہ کچھ بڑا پلین کررہے ہیں دو دن بعد ان سب کی میٹنگ ہے لونی میں جہاں وہ سب مل کر ملک کو برباد کرنے کی پلینگ کررہے ہیں Bk کو وہ لوگ نہیں بلائیں گے کیونکہ انہیں Bk پر شک ہورہا ہے اس لیے ہمھیں کسی ایسے کو بھیجنا ہوگا جن پر انہیں شک بھی نہ ہو اور ہمھیں پتا بھی لگ جاۓ ۔۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر میر جلدی سے کہتا ہے جبکہ شیر اور باقی سب خاموش ہوتے ہیں میر وہ جو لڑکی ہے کیا نام ہے اسکا کرنل شہوار میر سے پوچھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بابا میرا مطلب ہے سر شکرانہ نام ہے اس چھوٹی سی گڑیا کا میر کی جگہ ریحان بولتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں وہی وہ جہانگیر لونی کی پوتی ہے نہ اس سے یہ کام کرواتے ہیں اسے واپس بھیجتے ہیں لونی اس پر جہانگیر لونی کو شک بھی نہیں ہوگا اور اس کے ذریعہ ہمھیں پتا بھی لگ جاۓ گا ان سب کے ارادوں کا آخر کو وہ بھی اس ملک کی رہنے والی اس کا بھی فرض بنتا ہے اپنے ملک کی حفاظت کرنا ۔۔۔۔۔۔ نو سر شکرانہ یہ نہیں کریگی ابھی کرنل شہوار بول رہے ہوتے ہیں کہ شیر ان کی بات کاٹتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سر آپکو اندازہ بھی ہے کہ وہ کتنی مشکل سے وہاں سے نکلی ہے اب اگر وہ وہاں گئ تو پتا نہیں اسکے ساتھ کیا ہوجاۓ میں جاؤں گا نہ اور آپ سے وعدہ بھی کرتا ہوں کہ ان کی ساری باتیں سن کر آؤں گا لیکن ایک معصوم لڑکی کو نہ بھیجیں اور ویسے بھی وہ بول نہیں سکتی اگر اس کے ساتھ کچھ ہوبھی گیا تو ذمہ داری کون لے گا سر شیر نے آخری لائن کیسے بولی تھی یہ تو اس کا دل ہی جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میر آپ شکرانہ کو مناؤگے اینڈ آئ ہوپ وہ مان جاۓ گی ٹھیک ہے کرنل شہوار میر سے کہتے ہیں جس پر وہ سر ہلاکر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ شاویز آپ ریحان اور باقی سب جلدی سے کینٹ اسٹیشن جاؤ وہاں ڈرگز کی ڈلیوری ہونے والی ہے جس کو ہمھیں کسی بھی صورت ناکام بنانا ہے اب وقت کم ہے سب فوراً سے پہلے جاؤ وہ ان سب ہدایت دیتے ہوۓ روانہ کرتے ہیں سب کے جانے کے بعد صرف شیر اور کرنل شہوار ہی بچتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تم کیا کرنے کی کوشش کررہے ہو لیکن تم شاید بھول رہے ہو کہ تم صرف ایک آرمی آفیسر ہی نہیں بلکہ ایک اسپوۓ بھی ہو جو اتنے سال Bk بن کر دنیا کے سامنے رہا وہ بھی صرف اس لیے کہ ایک دن میرا ملک ہر گندگی ہر برائ سے پاک ہوگا اب جب یہ سب ہونے جارہا ہے تو پیچھے کیوں ہٹ رہے ہو ایک لڑکی کی وجہ سے کیوں اپنے ارادوں سے پیچھے ہٹ رہے ہو میں جانتا ہوں وہ تمھارے لیے کیا اہميت رکھتی ہے لیکن اس وقت تمھیں صرف اپنے ملک کی چاہ ہونی چاہیے اور کسی چیز کی بھی نہیں اور میں جانتا ہوں تم جان پر کھیل جاؤ گے لیکن اپنے ملک پر آنچ تک آنے نہیں دوگے اس لیے جو ہورہا ہے ہونے دو اوکے میرے شیر وہ اسے کندھوں سے پکڑتے ہوۓ کہتے ہیں تو وہ سر ہلاجاتا ہے اور ہاں اب میں تمھیں کوئ بھی حماقت کرتا ہوا نہ پاؤں سمجھ گۓ آپ میجر آبص رضا میر وہ جب بھی اس پر غصہ ہوتے تھے اسے اس کے اصلی نام سے پکارتے تھے۔۔۔۔ جی سر ۔۔۔۔ گڈ ناؤ گو ۔۔۔۔ اوکے سر وہ سلیوٹ مارتے ہوۓ چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
کیپٹن عائشہ شکرانہ جاگ رہی ہے یا سو رہی ہے میر گھر میں داخل ہوتا ہوا کیپٹن عائشہ سے پوچھتا ہے۔۔۔۔۔ سر اس کو میں نے ابھی پین کلرز دی ہے جیسے کھا کر وہ سو رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اووو! کیپٹن عائشہ کی بات سن کر میر ہونٹوں کو گول کرتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ سر اینی پروبلم ؟؟؟؟ نونو کیپٹن ایوری تھنگ از فائن وہ اسے تسلی دیتا ہے ۔۔۔۔۔ اوکے کافی بناکر لاؤں آپکے لیے ۔۔۔۔۔۔ یس پلیز تھوڑی اسٹرونگ سی وہ اپنا سر مسلتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تو کیپٹن عائشہ مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ چلی جاتی ہے میر بھی ایک نظر شکرانہ کے روم کے دروازے پر ڈالتا ہے جو کہ بند ہوتا ہے اور اس سے کل صبح ہی بات کرنے کا ارادہ کرتے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
شکرانہ کی آنکھ پیاس لگنے کی وجہ سے کھولتی ہے تو وہ ادھر اُدھر ہاتھ مارتے ہوۓ جگ ڈھونڈتی ہے جوکہ اسے مل تو جاتا ہے لیکن خالی ۔۔۔۔۔۔ اف اللہ یہ تو خالی ہے اب باہر جاکر بھر کر آنا ہوگا اف کیا مصیبت ہے وہ دل میں سوچتے ہوۓ اٹھتی ہے تبھی اس کی نظر کھڑکی پر پڑتی ہے جہاں پر کوئ سایہ سا ہوتا ہے جیسے دیکھ شکرانہ کو ڈر لگتا ہے لیکن آۓ بیچاری کی قسمت کے بول ہی نہیں سکتی تو چلّا بھی نہیں سکتی شکرانہ آرام آرام سے گیٹ کی طرف بڑھتی ہے ابھی وہ دروازہ کھول کر باہر کو بھاگتی کہ وہ سایہ سا آکر پھرتی سے اسے پکڑلیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوئیٹ ہارٹ کان میں سرگوشی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ یہ آواز جس پر اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں وہ ناچاہتے ہوۓ بھی اس شخص کے سامنے بےبس ہوجاتی تھی اس سے نفرت بھی کچھ عجیب طرح کی تھی کہ گھن بھی آتی تھی اور دل کی دھڑکنیں بھی وہ تیز کردیتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسی ہو ؟؟؟ وہ اسے اپنے ساتھ لگاۓ پوچھتا ہے۔۔۔۔ اس کے پرفیوم کی مہک شکرانہ کے حواس بےساختہ کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔ تمھیں پتا ہے جب تم نے مجھے بتایا کہ تم بول نہیں سکتی تو پتا ہے مجھے کتنی تکلیف ہوئ اتنی کہ جتنا تم سوچ بھی نہیں سکتی لیکن پھر دیکھو یہ ہوا کہ مجھے تم سے اور بھی زیادہ محبت ہوگئ تمھاری سچائ جاننے کے بعد بھی تمھیں پتا ہے تم سے محبت کرنا میرے لیے میرے جینے کی وجہ بن گیا ہے تم جتنا نفرت کرو میں تم سے اتنی ہی شدّت سے محبت کروں گا مجھے نہیں پتا میری زندگی کتنے دن کی ہے لیکن جتنے بھی دن کی ہے یہ میں تم سے محبت کرکے گزارنا چاہتا ہوں تم بھی کیا سوچتی ہوگی کیسا دل پھینک انسان ہے خوبصورت لڑکی دیکھی نہیں اور عاشق ہوگیا اندھیرے کے باعث شکرانہ کو اسکا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا لیکن شکرانہ کو اس کی آخری بات پر لگا وہ مسکرایا ہو ۔۔۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہے تم بہت خاص ہو میرے لیے آئ نو مجھ سے بہت چھوٹی ہو لیکن میں مینج کرلوں گا تمھاری ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش کو پورا کروں گا لیکن مجھ سے بےوفائ یا دھوکا مت کرنا کیونکہ جتنی شدّت والی تم سے محبت ہے اس سے کئ گناہ نفرت ہوگی تم سے اور وہ تم برداشت نہیں کرپاؤگی چلو اب میں چلوں گا اپنا خیال رکھنا وہ اسے زور سے اسے خود میں بھینچ دیتا ہے اور پھر نرمی سے اسے چھوڑے ہوۓ جس راستہ سے آیا تھا اسی راستہ سے چلاجاتا ہے جبکہ شکرانہ ابھی تک اس کی باتوں میں الجھی ہوئ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاس لفظ نہیں ، باتیں نہیں ❤
شکایتیں نہیں ، بس ایک حسرت ہے💓
تیرے سینے سے لگ کر تیری دھڑکن سنوں💞
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔