50.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

میرا عشق بے زبان
تحریر : حیانور
ایپیسوڈ : ١١
شیر سر آپ شاویز بھی اسے دیکھے حیرت سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یس میں اب اتنا حیران کیوں ہورہے ہو دونوں مجھے دیکھ کر وہ انہیں حیران ہوتا دیکھ پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں وہ ۔۔۔۔۔ وہ سب چھوڑو جلدی سے جاؤ اور ٹرک کا پیچھا کرو اس ٹرک میں لڑکیاں ہیں جن کو آج رات دبئ سپلاۓ کرنے کا پروگرام ہے جو کہ ہمھیں روکنا ہے اس لیے جلدی سے جاؤ ٹائم کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن سر شکرانہ کو تو شاویز کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔
۔ شاویز شکرانہ ایک ہے اور اس کی فکر مت کرو ہمھیں پہلے ان 50 سے 60 لڑکیوں کو بچانا ہے جن کی عزت خطرے میں ہے ۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر اب جلدی سے جاؤ اور ٹرک کا پیچھا کرو اور مجھ سے رابطہ کرتے رہنا اوکے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ان کو ہدایت دیتے ہوۓ چلا جاتا ہے جبکہ وہ بھی بغیر کوئ وقت ضائع کیے ٹرک کا پیچھا کرنے کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
سردار ہمارا بات سنو لڑکی کو بھیجو نہیں ایک اور کام کرتے ہیں ہم کیوں نہ اسکو کوٹھے پر بیٹھادیں اس سے یہ ہوگا یہ آپکی نظروں کے سامنے رہے گی اور آپ جب چاہو اسکو Bk کے خلاف استعمال کرسکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ سردار جہانگیر لونی کا آدمی راحت گل اس سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے راحت بات تو تمھارا صحیح ہے پھر ایسا کرو ریشم بائ کو کال کرو اور کہو سردار تم سے ملنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ جی سردار جو حکم ٹھیک ہے پھر شکرانہ کو واپس سے اسی کمرے میں بیٹھا دو اور کھانا بھی اچھا سا کھلانا اور ہاں کھانے میں نیند کا گولی ڈالنا مت بھولنا آخر کو جہانگیر لونی کی پوتی ہے اتنا اسکا خاطرداری تو بنتا ہے جہانگیر لونی چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاتے ہوۓ کہتا ہے تو راحت گل اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
اشفاق صاحب مجھے بڑی ٹینشن ہورہی ہے رومیسہ ابھی تک یونیورسٹی سے گھر نہیں آئ صبح سے شام ہوگئ ہے۔۔۔۔۔۔ عفت بیگم روتے ہوۓ کہتی ہے۔۔۔۔۔۔ کیا آپ نے پتا نہیں کروایا ابھی تک کہاں رہ گئ بچی آپ جانتی ہیں نہ حالات پہلے سے خراب ہیں آپ نے اسے اکیلے بھیجا ہی کیوں اشفاق صاحب جو پہلے ہی شکرانہ کی وجہ سے پریشان تھے اب رومیسہ کے گھر نہ آنے پر اور زیادہ پریشان ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اب مجھے بعد میں آکر باتیں سنائیں پہلے جائیں اور میری بچی کو ڈھونڈ کر لائیں۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں جاتا ہوں پتا کروا کر آتا ہوں باقی اللہ رحم کرے میری بچی پر اشفاق صاحب کہتے ہوۓ چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے عفت بیگم بھی روتے ہوۓ دعا کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
یا اللہ میری حفاظت کر مجھے بچا لے میں کیوں آج اکیلی آئ رومیسہ ٹرک میں بیٹھی اپنے رب کو یاد کررہی تھی آج دوپہر ہی وہ جب یونی سے واپس آرہی تھی تو راستہ میں کچھ لوگوں نے زبردستی اسے بےہوش کرکے گاڑی میں بیٹھایا اب جب وہ ہوش میں آئ تو اس نے اپنے آپ کو ایک ٹرک میں پایا جہاں اس کی طرح باقی لڑکیاں بھی باندھی ہوئ تھی انہیں دیکھ کر اسے خوف آرہا تھا اسکے ذہن میں سارا واقع گھومتا ہے کہ کیسے اسے زبردستی اغواء کیا ناجانے آگے اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا یہ سوچتے ہی رومیسہ کانپ رہی تھی اور باقی لڑکیوں کی طرح وہ بھی اپنے رب کو یاد کررہی تھی کہ وہ کوئ فرشتہ بھیج دے ان کی مدد کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر لیفٹ سائیڈ شاویز کے کان میں آواز گونجتی ہے جس پر وہ پھرتی سے درخت سے جمپ لگا کر ٹرک کے اوپر گرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور آرام آرام سے لٹکتے ہوۓ نیچھے کی طرف آتا ہے جہاں ٹرک کا دروازہ تھا بڑی احتیاط سے آکر وہ ٹرک کا دروازہ کھولتے ہوۓ اندر داخل ہوتا ہے جہاں تقریباً 40 سے 50 لڑکیاں باندھی ہوتی ہیں او شٹ شاویز دیکھتے ہوۓ بڑبڑاتا ہے اور جلدی سے ان کی طرف بڑھتا ہے لڑکیاں اسے دیکھ کر گھبرا جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ریلکس میں آپ سب کو بچانے آیا ہوں محافظ ہوں میں آپ سب کا شاویز ان کو ڈرتا دیکھ کر کہتا ہے بھاری مردانہ مگر خوبصورت آواز کان میں پڑتے ہوۓ رومیسہ جھٹ سے سر اٹھا کر دیکھتی ہے جہاں ایک آدمی فوجی کیپ پہنے چہرے پر ماکس لگاۓ لڑکیوں کے ہاتھوں سے رسٌی کھول رہا تھا ساری لڑکیوں کی رسی کھول کر وہ انہیں ایک ایک کرکے نیچے اترتے جاتا ہے اور آخر میں آکر رومیسہ کے ہاتھ کھولنے لگتا ہے تبھی اچانک سے ہوا میں فائر ہوتا ہے رومیسہ ڈر کے مارےشاویز کے گلے لگتی ہے شاویز جو اپنی گن جیب سے نکال رہا تھا رومیسہ کے گلے لگنے سے بوکھلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ شاویز فوراً سے باہر نکلو ٹرک میں بم لگا ہوا ہے جلدی شاویز کے کان میں شیر کی آواز گونجتی ہے ۔۔۔۔ جی سر شاویز کہتے ہوۓ رومیسہ کا ہاتھ پکڑتا ہے چلیں جلدی سے نیچھے اترئیے ہمارے پاس ٹائم نہیں شاویز کہتے ہوۓ فوراً سے ٹرک سے چھلانگ لگاتا ہے تبھی ایک زور دار دھمکا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔رومیسہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے دیکھ رہی تھی جہاں ہر طرف دھواں دھواں ہورہا تھا رومیسہ دل میں اللہ کا شکرادا کرتی ہے کہ اللہ نے اسے بچا لیا اس شخص کو ذریعہ بنا کر وہ اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی لیکن مارکس لگنے کی وجہ سے نہ دیکھ پائ ۔۔۔۔۔ تھنکیو سو مچ آپ کا رومیسہ ہاتھ جوڑے اس کا شکریہ ادا کرتی ہے تو شاویز چونک کر اسکی طرف دیکھتا ہے تو دیکھتا رہ جاتا ہے وہ لڑکی اسے بہت معصوم لگ رہی تھی ابھی وہ اسے کوئ جواب دیتا کہ شیر کی آواز اسے اپنے کان میں سنائ دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔ شاویز بیک ٹو ہوم طیب اور ازمیر سے کہو لڑکیوں کو باحفاظت ان کے گھر پہنچادے اوکے ۔۔۔۔۔ رائٹ سر کہتے ہوۓ شاویز کال کٹ کردیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ وہاں جاکر کھڑی ہوجائیں پولیس کی ٹیم آپکو باحفاظت آپکے گھر پہنچادے گی ٹیک کئیر اوف یور سیلف اینڈ اللہ حافظ شاویز کہتے ہوۓ چلاجاتا ہے جبکہ پیچھے رومیسہ کی نظریں دور تک اس کا پیچھا کرتی ہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوجاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
آؤ آؤ جہانگیر لونی صاحب کیسے ہیں آپ کیسے یاد کرلیا آپ نے ہم جیسے غریبوں کو ریشم بائ جہانگیر لونی کو آتا دیکھ کہتی ہے او بس آگیا ایک کام تھا تجھ سے مجھے جہانگیر لونی تخت پر بیٹھتے ہوۓ کہتا ہے بتائیں سرکار یہ طوائف آپ کی کیا مدد کرسکتی ہے ریشم بائ اک ادا سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔ او راحت گل ہماری رانی کو لیکر آ جہانگیر لونی راحت گل کو اونچی آواز میں کہتا ہے جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ چلا جاتا ہے اور دومنٹ بعد ہی شکرانہ کو اپنے کندھوں پر ڈالے لے آتا ہے اور آکر جہانگیر لونی کے پاس رکھے ہوۓ صوفہ پر لیٹا دیتا ہے ریشم بائ اس چھوٹی سی لڑکی جو بےہوش ہوتی اسے دیکھ کر رہ جاتی بلاشبہ وہ قیامت خیز حسن کی ملکہ تھی ۔۔۔۔ ماشأاﷲ سرکار یہ کیا چلتی پھرتی قیامت کو ساتھ لے کر گھوم رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ ریشم بائ یہ میری شکرانہ رانی ہے اور آج سے یہ تمھارے ساتھ رہے گی لیکن اس سے تم ابھی کوئ ایسا ویسا کام نہیں کرواؤگی جب تک میں اجازت نہ دے دیتا سمجھ گئ ۔۔۔۔۔ ویسے ہے کون یہ ریشم بائ اس کے خوبصورت سراپے کو ایک نظر دیکھتے ہوۓ کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے تمھارا واسطہ نہیں تم بس اسے سنبھال کر رکھو یہ سمجھو کہ جہانگیر لونی تمھیں اپنی کوئ چیز امانت دیے کر جارہا ہے سمجھ گئ بہت جلد اپنی گڑیا رانی کو لینے آؤں گا یہ کہتے ہوۓ جہانگیر لونی چلاجاتا ہے جبکہ پیچھے ریشم بیگم اپنی لاٹری کھلنے پر زور سے قہقہ لگاتی ہے او رضیہ آ اس حسن کی ملکہ کو میرے کمرے میں سلا کر آ رضیہ جی بائ کہتے ہوۓ چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے ریشم بائ مسکراتے ہوۓ کہتی ہے جہانگیر لونی تو نہیں جانتا کہ تو نے کتنا بڑا گفٹ دیا ہے ریشم بائ کو اب دیکھ میں کتنا اچھا خیال رکھتی ہوں تیری گڑیا رانی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
ریحان کیا خبر ہے بم کس لیے لگایا تھا شیر ریحان کو آتا دیکھ اس سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بھائ میرا مطلب ہے سر بم اس لیے لگایا گیا تھا کہ اگر راستہ میں ٹرک پکڑا بھی جاۓ تو بلاسٹ ہوجاۓ ۔۔۔۔۔۔ بڑے افسوس کی بات ہے یہ اگر آج ہم ٹائم پر نہ پوچھتے تو وہ لڑکیاں اف شکر ہے اللہ پاک نے بہت بڑا نقصان ہونے سے بچالیا شیر اللہ کا شکرادا کرتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اب جاؤ اور دیکھو کتنی لڑکیاں اپنےگھر والوں تک پہنچ گئ ہے جی سر ریحان سلیوٹ مارتے ہوۓ چلا جاتا تبھی شیر ایک نمبر ڈائل کرتا ہوۓ موبائل کان سے لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بولو کیا خبر ہے وہ فون پر کسی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔ واٹ آئ کانٹ بلیو دس دوسری طرف سے پتا نہیں کیا بولا جاتا ہے جس پر وہ تھوڑا پریشان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اوکے ٹھیک ہے میں پہنچتا ہوں تھوڑی دیر میں اور ہاں ایک اور بات اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے ٹھیک ہے فی امان اللہ کہتے ہوۓ کال کٹ کردیتا ہے اور اپنے کمرے کی طرف چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
شکرانہ دیرے دیرے اپنی آنکھیں کھولتی ہے تو خود کو ایک کمرے میں پاتی ہے سر اسکا کا بھاری ہورہا تھا وہ آس پاس دیکھتی ہے یہ یہ میں کہاں ہوں میں تو دادا جان کے کمرے لیکن یہ تو اور میرا سر اتنا بھاری کیوں ہورہا ہے ۔۔۔۔۔ یااللہ میں کہاں ہوں یہ کیا عجیب سی سمیل آرہی ہے کس سے پوچھوں ابھی سوچ رہی ہوتی ہے کہ دروازہ کھول کر ایک عورت اندر داخل ہوتی ہے شکرانہ سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہے چمکیلے گلابی کلر کی ساڑھی جس میں اس کا جسم پورا واضع نظر آرہا تھا چہرے پر بہت زیادہ ہیوی میک اپ ہونٹوں پر ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لگاۓ وہ شکرانہ کو پہلی نظر میں ہی بہت بُری لگی ۔۔۔۔۔ اٹھ گئ رانی ویسے اس پورے کوٹھے میں سب سے زیادہ خوبصورت میں ہوں ریشم بائ لیکن اب تیرے آنے سے لگ رہا ہے کہ تجھ سے زیادہ خوبصورت اس کوٹھے میں کیا اس پورے شہر میں کوئ نہیں ہوگا بڑی فرصت سے تجھے رب نے بنایا ہے وہ اسکے گال تھپھپاتے ہوۓ کہتی ہے جبکہ کوٹھے والی بات پر شکرانہ کا سانس روکنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔ او میری رانی اتنی گھبرا کیوں رہی ہے یہ کوٹھا ہی ہے اور آج سے تو یہی رہے گی میرے پاس بھئ ماننا پڑے گا اس بڈھے جہانگیر لونی کو تجھے دے کر وہ مجھے مالا مال کرکے گیا ہے اب تو میرے لیے پیسے کماۓ گی تیری وجہ سے اب میرے کوٹھے پر چار چاند لگ جائیں گے او مہر بانو جلدی آ اور ہماری ملکہ کو دلہن کی طرح سجادو تاکہ یہ ہمارے آج کے پروگرام کو اپنے حسن سے اور رنگین بنادے ۔۔۔۔۔ چل اور ہاں رانی شور بالکل نہیں کرنا ورنہ ریشم بائ کو منہ بند کروانا آتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ریشم بائ کہتے ہوۓ چلی جاتی جبکہ شکرانہ وہ تو یقین ہی نہیں کرپارہی تھی کہ اس کے دادا جان نے اسے ایک کوٹھے پر بھیج دیا پتا نہیں اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا ڈر کے مارے وہ کانپ رہی ہوتی ہے اپنے اللہ کو دل ہی دل میں یاد کررہی ہوتی ہے دیکھو پری جاؤ تیار ہوکر آجاؤ اب تمھارا یہاں سے نکلنا بہت مشکل ہے اس کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرلو اور بنا شور شرابہ کیے تیار ہوکر نیچھے آجاؤ مہربانو اسے سمجھاتے ہوۓ چلی جاتی ہے پیچھے وہ بھی اپنی قسمت پر ماتم کیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور لال کلر کا لہنگا جس کا گلہ بہت زیادہ گہرا تھا اسے لے کر مرے مرے قدموں کے ساتھ واشروم میں گھس جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
او ہیرو کہاں چل دئیے شیر جو اپنا ہولیہ بدل کر باہر کی طرف جارہا تھا اپنے پیچھے کسی کی شرارت سے بھرپور آواز سن کر مسکراتے ہوۓ پیچھے دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میر تم کب آۓ ؟ وہ میر کو گلے لگاتے ہوۓ اس سے پوچھ رہا تھا بس ابھی تھوڑی دیر پہلے تم کہاں جارہے ہو میں وہ زرا کام سے ویسے مجھے چھوڑو تمھیں تو کافی چوٹیں آئ ہیں وہ اس کی چوٹوں کو دیکھے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یہی تو افسوس ہے کہ صرف چوٹیں آئی ہیں ورنہ میری خواہش تھی اس دفعہ شہید ہونے کی میر مسکراتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اچھا جی پھر یہ بتاؤ تمھارے بعد تمھاری مارشملو کا کیا ہوگا اس کے بارے میں سوچا ہے وہ کیسے رہے گی تمھارے بغیر مجھے اس کی ٹینشن نہیں اس کے لیے تو تم بھی ہو نہ وہ تم سے بھی بہت پیار کرتی ہے اچھا یہ بتاؤ تمھارے مشن کا کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سمجھ لو کہ بس آخری مرحلہ ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں یار تمھاری محنت بھی تو بہت ہے اس میں اتنے سال اپنا ہولیہ بدل کر رہنا آسان تھوڑی تھا میر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یہی تو ہمارا کام ہے میجر آبص رضا میر صاحب شیر شرارت سے میر کو دیکھتے ہوۓ کہتا ہے جس پر وہ بھی مسکرادیتا ہے تم بھی جانتے ہو کہ میں میجر آبص رضا میر نہیں میجر آفان رضا میر ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میر اس سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ دنیا کے لیے تو تم ہی ہو نہ میجر آبص رضا میر ۔۔۔۔۔۔ ہاں لیکن شیر تم بھی جانتے ہو کہ اصل میں میجر آبص رضا میر تم ہو اور تم دیکھنا ایک دن جب یہ مشن ہمارا کمپلیٹ ہوجاۓ گا نہ تو تم اپنی اصل شناخت میں آجاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں انشااللہ بہت جلد ہمارا مشن کمپلیٹ ہوگا ۔۔۔۔۔۔ انشااللہ میر بھی اس کی بات پر کہتا ہے ۔۔۔۔۔ اچھا میں اب چلوں گا بعد میں ملتا ہوں ۔۔۔۔۔ ویسے کہاں جارہے ہیں آپ Bk صاحب اپنے Bk ولا میں میر شرارت سے کہتا ہے جس پر شیر اس کی شرارت کو سمجھتے ہوۓ نفی میں سر ہلاتا ہے اور مسکراتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔