50.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19 Part 2

میرا عشق بے زبان
تحریر : حیانور
ایپیسوڈ : سکینڈ لاسٹ حصہ(٢)
سر یہ رہے سارے ثبوت اب ہمھیں بس وہاں پہنچنا ہے اس کے بعد جہانگیر لونی اور اس کے ساتھیوں کا قصہ ختم شاویز شیر سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں شاویز بس نکلنے کی تیاری کرو اب میں اور انتظار نہیں کرسکتا آج اگر میری شہادت کا بھی دن ہوا نہ تو بھی میں جہانگیر لونی کو اس کے انجام تک پہنچا کر ہی شہید ہونگا انشااللہ سر اللہ پاک آپکو لمبی زندگی دے ابھی تو آپ نے اپنی ماں سے بھی ملنا ہے اس لیے ابھی آپکو کچھ نہیں ہوسکتا شاویز جو جس ٹائم نصیب میں لکھا ہوتا ہے نہ وہ ہو کر ہی رہتا ہے تم بس تیاری کرو باقی میرا رب سنبھال لیگا وہ ایک جوش سے کہتا ہے بے شک اوکے اب تم جاؤ مجھے بھی کچھ تیاری کرنی ہے اس کے بعد نکلنا بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیر کے کہنے پر شاویز سلیوٹ مارتا ہوا چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
شکرانہ گڑیا میں اندر آجاؤں شکرانہ جو اپنے پاؤں پر پٹی کررہی تھی میر کے دروازہ ناک اور اجازت لینے پر جلدی سے سیدھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جی آجائیں اور اسے اندر آنے کی اجازت دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیسی ہو ؟؟؟ وہ مسکراتے ہوۓ پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ؟؟؟؟ شکرانہ خود کو نارمل کرتے ہوۓ جواب دیتی ہے اچھا بات کی اس سے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بات ہی نہیں سن رہے میری شکرانہ بے بسی سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔ دیکھو گڑیا اسے آپ پر بھروسہ ہونا چاہیے محبت میں محبوب پر بھروسہ کیا جاتا ہے یوں اسکی تذلیل نہیں کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ نہیں وہ مجھے لگتا ہے ان کے لیے یہ سب برداشت سے باہر تھا وہ مجھے کسی کے ساتھ بھی نہیں دیکھ سکتے اتنی شدت سے وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں شیر جو میر کے کمرے کی طرف جارہا تھا شکرانہ کے روم سے گزرتے ہوۓ اسے اسکی رندھی ہوئ آواز سنائ دیتی ہے تو وہیں رک جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آپکو پتا ہے جب انہوں نے سنا میں بول سکتی ہوں وہ کتنا خوش تھے میر میں آپکو بتا نہیں سکتی کہ اتنا خوش کے انکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اور اس ٹائم مجھے پتا ہے اپنی قسمت پر رشک محسوس ہورہا تھا کہ میجر آبص رضا میر میرے لیے رو رہا ہے میں تو ہمیشہ سے ہر کسی کے لیے بدقسمت رہی ہوں آپکو پتا ہے میرے اس چہرے کی وجہ سے میری مامی مجھے مارتی تھی مجھے باہر تک نکلنے نہیں دیتی تھی اور تو اور کسی مہمان کے سامنے بھی نہیں جانے دیتی تھی کیونکہ انہیں لگتا تھا میں انکی بیٹیوں کے لیے مشکل پیدا کردوں مجھے دیکھ کر ان کی بیٹیوں کا رشتہ نہیں بلکہ میرا آۓ گا ۔۔۔۔۔۔ آپ بتائیں نہ اب میں اگر خوبصورت ہوں بھی تو اس میں میری کیا غلطی ہے میں نے ہر ظلم ہنسی خوشی برداشت کیا لیکن اب یہ والا ظلم مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ہے میں کیسے انہیں سمجھاؤں کہ میری ہر ایک سانس پر صرف میجر آبص رضا میر کا حق ہے میرا وجود اب صرف ان کی محبت کے سہارے زندہ ہے وہ نہیں تو میں بھی نہیں آپ کو پتا ہے میر ان کی یہ بے رخی مجھے مار دیگی میں مرجاؤں گی میر میں مرجاؤں ان کے بغیر یہ بات انہیں سمجھنی چاہیے وہ رو رہی تھی اور باہر کھڑا میجر آبص رضا میر ضبط کے آخری مراحل تہہ کررہا تھا وہ جو اس کا ایک آنسو بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا آج اس نے اسے اتنی تکلیف دی تھی کہ وہ بچوں کی طرح رو رہی تھی شیر کا دل کرتا ہے کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ شیر ابھی کمرے کا دروازہ ناک کرنے ہی والا تھا کہ اس کے موبائل پر کال آتی ہے جیسے وہ جلدی سے رسیو کرتا ہوا کان سے لگاتا ہے دوسری طرف سے پتا نہیں کیا کہا جاتا ہے جس پر وہ اوکے کرتا ہوا کال بند کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سوئیٹ ہارٹ مجھے معاف کردو بہت تکلیف دی ہے نہ میں نے تمھیں بلیومی ایک ایک تکلیف کا حساب دوں گا ابھی کے لیے جارہا ہوں واپس آتے ہی تمھیں اتنی زور سے گلے لگاؤں گا کہ تم سارے گلے شکوے بھول جاؤگی وہ مسکراتے ہوۓ سوچتا ہے اور وہاں سے چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
بھئ جہانگیر صاحب ماننا پڑے گا آپکو کیا پارٹی دی ہے اور تو اور آج کی شام کو رنگین بنانے کے لیے آپ نے تو کیا جام رکھا ہے جاوید خان شراب پیتے ہوۓ جہانگیر لونی کو داد دیتا ہے جس پر وہ قہقہ لگاتا ہے ارے کیوں نہ کروں آخر کو اتنی خوشی کا موقع جو ہے میں کہتا ہوں جتنا دل کرے اتنا پیو آج اور ابھی تو اشپیشل جام باقی ہے اس کا اشارہ کس طرف تھا جاوید خان سمجھ رہا تھا تبھی تو اسے آنکھ مارتے ہوۓ مسکرا کر چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تو شروعات آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا اس ملک کو ٹاپ دہشتگرد ملک نہ بنایا نہ تو میرا نام بھی سردار جہانگیر لونی نہیں ہاہاہا ہاہاہاہاہا جہانگیر لونی کہتے ساتھ قہقہ لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
سر ہمھیں لفٹ سائید سے جانا چاہیے یہاں اگر سامنے سے گۓ تو پکڑے جائیں گے ہم شاویز آہستگی سے میجر آبص کو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو شاویز لیکن ایک بات سنو ہم پہلے سامنے نہیں جائیں گے گٹ اٹ پولیس کو ہمھیں ان کا کام کرنے چھوڑنا ہے تم جانتے ہو ہم گمان سپائ ہیں گمان ہی رہیں تو اچھا ہے ٹھیک ہے ہمھیں صرف ان تک رسائ حاصل کرکے پولیس کو وہاں تک پہنچانا ہے باقی پولیس کا کام ہے اب چلو شاباش تم اس طرف سے جاؤ میں پیچھے والے راستے سے جاتا ہوں اوکے پاکستان زندہ آباد نعرہ تکبیر اللہ ہو اکبر کہتے ساتھ وہ دونوں اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پر نثار کردوں ۔۔۔۔۔۔۔
محبتوں کے یہ سلسلے بے شمار تم پر نثار کردوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
یااللہ پاک میرے میجر صاحب کی حفاظت کرنا پتا نہیں عجیب سی بے چینی ہورہی ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے سب کچھ میرے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اور میں کچھ بھی نہیں کرپارہی ہوں ایک عجیب سا ڈر لگ رہا ہے جیسے کچھ بہت غلط ہونے والا ہو یااللہ سب ٹھیک رکھنا میرے ماما مامی رومیسہ آپی اور رمشہ آپی کی حفاظت کرنا یااللہ میرے شیر جی کو اپنے حفظ وامان میں رکھنا شکرانہ جاۓ نماز پر دعا مانگتے ہوۓ رو رو کر اپنے رب سے فریاد کرتی ہے وہ کہتے ہیں نہ جب محبت سچی ہو تو انسان کو پتا چل جاتا ہے کہ اس کا محبوب مشکل میں ہے اور تو اور ایک محبت ہی تو ہوتی ہے جس میں انسان بےبس ہوجاتا ہے اس وقت شکرانہ کا بھی یہی حال تھا دعا تو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے بھی کی تھی لیکن شیر کو لیکر اسکی بے چینی بڑھتی جارہی تھی اس لیے وہ اپنے رب سے اسکی حفاظت کے لیے رو رو کر فریاد کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ہاتھ اٹھاؤں اور تیرا نام لوں یہ ممکن ہے بھلا تو میری دعاؤں میں شامل ہے آمین کی طرح ❤❤❤❤
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
جہانگیر لونی تمھیں پولیس نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے خبردار جو بھاگنے کی کوشش کی اور ہاں ہوشیاری تو بالکل مت کرنا ورنہ میرا نشانہ بہت پکا ہے ایک فائر کروں گا سیدھا گولی تمھارے سینے کے آر پار ہوگی ایس پی راحیل اپنی ٹیم کے ساتھ داخلی دروازہ پار کرتے ہوۓ کہتا ہے جہانگیر لونی اس کی بات پر قہقہ لگاتا ہے تم دو ٹکے کے ایس پی تم مجھے پکڑو گے جاؤ بچو پہلے ثبوت لے کر آؤ میرے خلاف جہانگیر لونی فخریہ انداز میں کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ڈونٹ وری جہانگیر صاحب اس بار ثبوت کے ساتھ ہی آئیں ہیں ہم شیر جس کے چہرے پر ماکس لگا ہوا تھا تاکہ وہ پہنچاننے میں نہ آسکے وہ ایک سائیڈ پر کھڑا ہوتے ہوۓ کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں بھئ چلیے جہانگیر صاحب باقی کی شام سلاخوں کے پیچھے رنگین کیجیۓ گا ایس پی راحیل اس کے قریب آتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ دیکھ ایس پی یہ تو غلط کررہا ہے تو جانتا نہیں ہے اس کا انجام کتنا ُبرا ہوسکتا ہے جہانگیر لونی دھمکی دیتا ہے چل چل اپنے یہ ڈرامے بعد میں کرنا ابھی چل ورنہ میں تجھے گھسیٹا ہوا لے جاؤں گا ایس پی راحیل اس کا گریبان پکڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ لوں گا تجھے میں بلکہ تم سب کو دیکھ لوں گا میں جہانگیر لونی غصے سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔چل چل بہت دیکھے تیرے جیسے ملک کے دشمن تو کیا سمجھتا ہے ہر کسی کو تو اپنی حرام کی کمائ سے رشوت دے کر خرید لے گا تو بھول ہے تیری ایسے کہی ملک کے محافظ ہیں جو تیرے جیسوں کے لیے کافی ہیں جن پر تیرے جیسوں کی رشوت نہیں چلتی شیر اسکے قریب آتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لے جائیں اسے مشتاق صاحب اور میک شیور کےاسکی آج رات اچھی خاطرداری ہو شیر کانسٹیبل مشتاق سے کہتا ہے تو وہ سلیوٹ مارتا ہوا اسے گھسیٹ کر لے جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تھنکیو میجر آبص رضا میر ہماری مدد کرنے کے لیے ایس پی راحیل ہاتھ ملاتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ارے نہیں یار بلکہ تیرا شکریہ تونے مدد کی دیکھ راحیل اسے کم از کم پھانسی کی سزا ہونی چاہیے بلکہ اسے کیا اس کے تمام ساتھیوں کو بھی اور اسپشلی جاوید خان کو ۔۔۔۔۔۔ تم بے فکر رہو آبص انشااللہ ایسا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوکے اب میں چلتا ہوں اللہ حافظ ۔۔۔۔۔۔۔ ایس پی راحیل کہتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
سر آخر ہم کامیاب ہوہی گۓ ہمارا مشن مکمل ہوا شاویز بڑے فکر سے چلتے ہوۓ شیر سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔ ہاں شاویز بس اللہ کا کرم ہے کہ ہم اپنے ملک کے غداروں کو ان کے انجام تک پہنچایا شیر بھی خوشی سے کہتا ہے سر آج آپ کافی مطمئن اور خوش بھی لگ رہے ہیں شاویز اس کے مطمئن اور مسکراتے ہوۓ چہرے کو دیکھتے ہوۓ کہتا ۔۔۔۔۔ ہاں بس اب ایک ادھورا کام رہ گیا ہے وہ کرکے سیدھا امی جان سے ملنے جاؤں گا اور ان کی گود میں سر رکھ کر سکون کی نیند سوؤں گا ۔۔۔۔ میر شیر مبارک ہو وہ شاویز سے بات کررہا ہوتا ہے کہ اسے میر کی آواز سنائ دیتی ہے جس پر وہ مسکراتے ہوۓ اسکی طرف دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بھائ وہ بھاگتا ہوا اس کی طرف بڑھتا ہے تبھی فضا میں ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ کی آوازیں گونجتی ہیں شیر میر چلاتے ہوۓ اسے پکارتا ہے لیکن وہ تو اسکی طرف دیکھ ہی نہیں رہا ہوتا ہے وہ تو اسے دیکھ رہا تھا جس نے اسکے اوپر فائر کیے تھے وہ خون سے رنگے ہاتھوں سے اپنے جیب سے اپنی گن نکالتا ہے اور سامنے کھڑے دشمن کو گولی مارتا ہے جو جاکر سیدھا اس کے سینے پر لگتی ہے اور وہ وہی گر جاتا ہے اسے گرتا دیکھ شیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آتی ہے فتح کی مسکراہٹ وہ میر کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتا ہے اور پھر اپنے ایک ہاتھ سے سلیوٹ مارتے ہوۓ وہیں زمین پر گرجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرنے کو بہت کچھ تھا مگر طے یہی پایا
ہم اہل محبت ہیں ،
محبت ہی کریں گے