No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
میرا عشق بےزبان
تحریر : حیانور
قسط _ ٥
سر نقصان تو بہت ہوا ہے بمب پری پلینڈ تھا اس لیے ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی بلاسٹ ہوگیا ریحان شاویز سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا ہے وہ لوگ اس وقت ایف سی کے ہیڈ کواٹر کے باہر کھڑے تھے ۔۔۔۔۔۔ سر میر سر سے رابطہ کرنا پڑیگا ان کو بتانا ہوگا یہاں کی کنڈیشن کے حوالے سے ہاں میں کب سے سر سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن رابطہ منقطع ہورہا ہے آپ ایک کام کرو یہاں کی سکیورٹی کو مزید بڑھوادو اور لوگوں کو یہاں سے ہٹوادو اس بی کے کا بھروسہ نہیں ہے پھر سے وہ اس عام عوام کے بیچ دھماکا نہ کروادے اس لیے ہمھیں بہت ہوشیار رہنا ہوگا میں کیپٹن عائشہ کو گھر بیجھواتا ہوں اس لڑکی سے بات کرے تاکہ ہم اسے بھی اس کے گھر پہنچادیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس بی کے کا بھی پتا صاف کرنا ہے بس بہت کرلیا اس نے ظلم ۔۔۔۔۔۔۔ جی سر ریحان سلیوٹ مارتے ہوۓ چلاجاتا ہے شاویز بھی عائشہ کے پاس چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼
شکرانہ آرام آرام سے اپنی آنکھیں کھولتی ہے سر اس کا بھاری ہورہا تھا آرام سے اٹھ کر صوفے پر بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دماغ پر زور دیتی ہے تو ساری باتیں اسے آرام آرام سے یاد آتی ہیں کیسے میر نے اس پر چلّایا تھا اس پر الزام لگایا تھا وہ باتیں یاد آتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوجاتے ہیں وہ جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتی ہے ڈوپٹہ کو اچھے سے سر پر اوڑھتی ہے اور ادھر ادھر دیکھے بغیر گھر کے گیٹ کی طرف بڑھتی ہے اور اسے آرام سے کھول دیتی ہے اور باہر نکلتی ہے باہر اس وقت شام ہورہی تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ یہ جگہ کونسی ہے لیکن اسے بس اتنا پتا تھا کہ اب وہ اس گھر میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں رہے گی جو اس پر الزام لگارہے تھے اسے بس یہاں سے کیسے بھی نکل کر اپنے دادا کے پاس پہنچنا تھا اس لیے تیزی سے سڑک پر بھاگ رہی تھی اچانک بالکل سامنے اسے بہت بڑا ٹرک نظر آتا ہے وہ بغیر کچھ سوچے اس میں بیٹھ جاتی ہے لیکن ایسے بیٹھتی ہے کہ کسی کو بھی نظر نہیں آتی تھوڑی ہی دیر میں ٹرک چلنا اسٹارٹ ہوتی ہے شکرانہ دل میں دعائیں کررہی ہوتی ہے کہ اللہ اس کی حفاظت کرنا لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس ٹرک میں بیٹھ کر اس نے اپنے آپ کو کس مشکل میں ڈال دیا ہے خیر یہ تو وقت بتانے والا تھا شکرانہ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻
میجر آبص جو اپنا ہولیہ تبدیل کرے بی کے ولا کے پاس والے باغ میں بیٹھے بی کے ولا میں آنے والے ہر آدمی پر نظر رکھے ہوۓ تھا اچانک سے اسے اپنے کان میں ریحان کی آواز گونجتی ہوئ سنائ دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔ سر آج بی کے نے اپنے گھر پارٹی رکھی ہے اپنی کامیابی کی خوشی میں ریحان کی بات سن کر میر کی رگیں تن جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سر بہت بڑے بڑے لوگ آنے والے ہیں اس پارٹی میں سر ہمارا اس پارٹی میں ہونا بہت ضروری ہے اس سے ہمھیں یہ پتا چلے جاۓ گا کہ بی کے کے ساتھ اور کون کون ہمارے ملک کے غدار ہیں جو بی کے کے ذریعہ اپنا کام کروارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے ریحان اور میں نے تمھیں ایک اور کام بھی دیا تھا وہ کیا میجر آبص اس پوچھتا ہے۔۔۔۔ جی سر میں نے نکلوالی ہے لڑکی کی انفورمیشن ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا کیا پتا چلا سر لڑکی کا نام شکرانہ ہے کراچی کے چھوٹے سے علاقے میں اپنے ماما مامی کے ساتھ رہتی ہے ماں باپ کا انتقال اسکے بچپن میں ہی ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اچھا اس بس میں کیوں تھی اس بارے میں پتا چلا جی سر بس میں وہ اس لیے تھی کہ وہ بلوچستان اپنے دادا کے پاس جارہی تھی اور کہیں نہیں ۔۔۔۔۔ اس کا مطلب وہ ایک عام شہری ہے میجر آبص سنجیدگی سے پوچھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جی سر ایک اور بات ہے جو میں آپکو اس کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں بولو سر وہ بول نہیں سکتی بے زبان ہے ریحان کہتے ساتھ رابطہ منقطع کردیتا ہے ریحان کی بات سن کر میر کو وہ ساری باتیں یاد آتی ہے اس لیے تو وہ خاموش تھی ورنہ وہ بھی حیران تھا کہ ایک لڑکی چپ رہے ہوہی نہیں سکتا لیکن پھر وہ سر جھٹک کر بی کے ولا کی طرف اپنا دھیان کردیتا اس وقت اس کے لیے سب سے ضروری اس کا مشن تھا اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵
ٹرک آکر بی کے ولا کے سامنے رکتی ہے ڈرئیوار اتر کر گاڑڈز سے کچھ کہتا جس پر گاڑڈز ولا کا دروازہ کھول دیتے ہیں ڈرائیور ٹرک کو اندر کی طرف لے جاتا میجر آبص جو ٹرک کو ہی دیکھ رہا ہوتا ہے ٹرک کے اندر جانے پر ہاتھ زور سے بینچ پر مارتا ہے اور اٹھ کھڑا ہوتا ہے پانچ منٹ تک وہ اندر کیسے جاۓ اس بارے میں سوچ رہا تھا کہ اچانک سے اسکے دماغ میں ایک خیال آتا ہے جس پر وہ عمل کرنے کے لیے فوراً وہاں سے نکلتا ہے لیکن ایک آخری نظر بی کے ولا پر ڈالنا نہیں بھولتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫
یااللہ میری حفاظت کرنا ٹرک جیسے ہی بی کے ولا کے پورچ میں روکتا ہے شکرانہ دل میں دعا کرتی ہے ڈرائیور اور باقی کے لوگ آج کی پارٹی کو رنگین بنانے کے لیے جو خاص مشروب ٹرک میں لے کر آۓ تھے اسے اتارنے کے لیے اور بھی بہت سارے گاڑڈز آتے ہیں بی کے بھی شمس کے ساتھ مغرورانہ چال چلتے ہوۓ باہر آکر کھڑا ہوتا ہے جیسے جیسے وہ سامان نیچے اتار رہے تھے شکرانہ کا سانس روکتا جارہا تھا پکڑجانے کا ڈر اوپر سے گندی سمیل سے اسکا دم گھٹ رہا تھا گاڑڈز جیسے ہی آخری کریڈ اٹھاتے ہیں ان کی نظر ٹی پنک کلر کے ڈوپٹہ پر پڑتی ہے وہ آرام آرام سے آگے ہوکر دیکھتا ہے تو اسے اس ڈوپٹہ میں کوئ وجود چھپا ملتا جس کا چہرہ ڈوپٹہ سے چھپا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سر ٹرک میں کوئ لڑکی ہے وہ گاڑڈ شمس سے کہتا ہے شمس حیرت سے آگے کی طرف بڑھتا ہے دیکھنے کے لیے بی کے جس کو اس دوران کال آئ تھی وہ سنتے ہی وہ جیسے پیچھے مڑتا ہے شمس کو وہاں نہ پاکر ادھر اُدھر دیکھتا ہے تو شمس اسے ٹرک کے پاس کھڑا نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واٹ ہیپنڈ شمس بی کے اس کے پاس آتے ہوۓ پوچھتا ہے تو شمس اس کی توجہ سامنے کی طرف دلاتا ہے جہاں وہ چھپی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ جو دل میں دعا کررہی تھی کسی کے خود کو پکارنے پر گھبراجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لڑکی کون ہو تم اترو نیچھے شمس سنجیدگی سے کہتا جبکہ بی کے اس دوران خاموش ہوتا ہے شکرانہ ڈر کر اوپر کی طرف دیکھتی دوپٹہ سے کیا نقاب ابھی تک ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سامنے دو آدمی ہوتے ہیں ایک بھاری جسامت کا موٹا آدمی جس کی گھنی مونچھیں ہوتی ہیں رنگ سانولا ہوتا ہے شکرانہ اسے دیکھ اپنا تھوک نگلتی ہے جبکہ دوسرے کا وہ چہرہ نہیں دیکھ پاتی وہ ڈرتے ڈرتے نیچھے اترتی ہے بی کے دلچسپی سے اسکی ایک ایک حرکت نوٹ کررہا تھا ٹرک بہت اونچا تھا سامنے وہ دو پہلوان شکرانہ کی حالت خراب ہورہی تھی بی کے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے شکرانہ جو اترنے کا سوچ رہی ہوتی ہے کہ ایک خوبصورت ہاتھ اسے اپنی طرف بڑھتا نظر آتا ہے وہ سر اٹھا کر دیکھتی ہے جہاں وہ بادشاہوں سا حسن رکھنے والا مغرور بادشاہ کھڑا ہوتا ہے سفید رنگت سنہری بال ہیزل گرین آنکھیں ہلکی سی بیرڈ مضبوط جسامت شکرانہ اسے دیکھ کر رہ جاتی ہے شکرانہ کو اپنی طرف دیکھتا پاکر بی کے کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے شکرانہ بی کے کو مسکراتا دیکھ ہڑبڑاجاتی ہے اور جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلتی ہے بی کے کا ہاتھ مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوۓ خود ہی اترتی ہے جس پر بی کے کی مسکراہٹ گہری ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کون ہو تم لڑکی اور گاڑی میں کیا کررہی ہو شمس اس سے پوچھتا ہے جس کے جواب میں وہ خاموش ہوتی ہے شمس لڑکی ہے تمیز سے بات کرو بی کے شمس کو ڈپٹ کر کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو شمس سر ہلاتا ہے ابھی شمس کچھ اور کہتا کہ بی کے اسے کہتا شمس تم جاؤ انتظامات دیکھو ان سے میں خود ہی اپنا تعارف کروادیتا ہوں شمس بی کے کی بات پر سرہلاتے ہوۓ چلا جاتا ہے تبھی ایک فائر کی آواز گونجتی ہے جس پر شکرانہ ڈر جاتی ہے ڈر کے مارے اسکا ہاتھ نیچھے ہوجاتا ہے جس سے اس کا چہرہ نظر آجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ریلکس سوئیٹ ہارٹ اندر چلو بی کے ایک نظر اس کے خوبصورت چہرے پر ڈالے کہتا ہے شکرانہ اسے غصے سے گھورتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوماۓ گڈ کیا قاتلانہ ادا ہے اف بی کے تو آج گیا بی کے اپنے دل پر ہاتھ رکھے کہتا ہے شکرانہ جلدی سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے بی کے اس کا ارادہ بھانپتے ہوۓ جلدی سے اسے پکڑتا ہے سوچنا بھی مت سوئیٹ ہارٹ اب تم بی کے کی قید میں ہو جس سے نکلنا آسان نہیں ویسے تم نے یہ قید اپنے لیے خود چنی ہے اب چپ چاپ اندر چلو ورنہ مجھے تمھیں اٹھانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بی کے کی دھمکی پر شکرانہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی ہے لیکن سامنے والی کی پکڑ مضبوط ہوتی ہے شکرانہ آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوئیٹ ہارٹ میں کوئ تمھارے پیار میں پاگل تمھارا کوئ مجنوں نہیں جو تمھارے آنسو دیکھ کر نرم پڑجاؤں میں بی کے ہوں بہرام خانزادہ جس کے دل میں کسی کے لیے بھی رحم نہیں تو بنا خود کو تھکاۓ میرے ساتھ چلو بی کے اسے گھسیٹتے ہوۓ اندر کی طرف بڑھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
کیا ہوا آپ سب ایسے یہاں دروازے پر کیوں کھڑے ہیں کوئ بات ہے کیا میر ان تینوں کو پریشان سا کھڑا دیکھ پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سر وہ شکرانہ کہیں نہیں مل رہی ہم نے اسے پورے گھر میں ڈھونڈا لیکن وہ نہیں ہے کیپٹن عائشہ اسے بتاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس پر وہ حیران ہوتا ہے کیا مطلب کہیں نہیں ابھی تو میں اسے یہی چھوڑے گیا تھا پھر کہاں چلی گئ وہ سر وہی تو ہم بھی سوچ رہے ہیں وہ کہاں گئ ریحان تم طیب اور باقی ساتھیوں کو لیکر لڑکی کو ڈھونڈنے جاؤ تب تک شاویز تم مجھے بی کے ولا کی فوٹیج دکھاؤ میجر آبص پہلے ریحان پھر شاویز کو مخاطب کرتا ہے جس پر دونوں سر ہلادیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یااللہ اس لڑکی کو اپنے حفظ وامان میں رکھنا میر دل میں دعا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
بی کے اسے کمرے لاتے ہوۓ بیڈ پر گراتا ہے کیوں مجبور کررہی ہو مجھے سختی کرنے پر جبکہ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا بی کے اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ اسے غصے سے گھورتی ہے اور کربھی کیا سکتی تھی چیخنے چلّانے سے رہی بے زبان جو تھی۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ اسے دھکا دیتے ہوۓ اٹھتی ہے لیکن سامنے والا جیسے پتھر کا بنا ہو وہ نازک سی لڑکی کے دھکے دینے سے اسکا تھوڑی نہ کچھ ہوسکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ تم تو بڑی بہادر ہو ویسے سوئیٹ ہارٹ تمھیں پتا ہے تم بہت خوبصورت ہو وہ اسکے کانوں پر آئ آوارہ لٹوں کو پیچھے کرتے ہوۓ بے خودی کے عالم میں کہتا ہے جبکہ وہ اس کے لمس سے اندر تک کانپ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے تمھاری خوبصورتی نے کاہل نہیں کیا کیوں کہ خوبصورت اور ہنڈسم تو میں خود بھی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھاری ان آنکھوں نے مجھے اپنا دیوانہ کیا ہے جب تم ایسے گھورتی ہو تو واللّٰہ قیامت لگتی ہو ۔۔۔۔۔۔ تمھیں پتا ہے تم پہلی لڑکی ہو جو میرے سیدھے جاکر دل پر لگی ہو ورنہ میں نے کسی کو اتنی اجازت نہیں دی کہ وہ میرے سامنے نظر اٹھا کر بھی مجھے دیکھے لکی یو سوئیٹ ہارٹ وہ اسے ایک دم اپنی طرف کھیچتے ہوۓ کہتا ہے جس سے وہ جاکر اسکے سینے سے لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اسکرین کے سامنے جو منظر چل رہا تھا میجر آبص کے لیے اس منظر کو دیکھ کر اپنا غصہ قابو کرنا مشکل ہورہا تھا وہ ایک ہاتھ پاس پڑے ٹیبل پر مارتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سر شکرانہ بی کے کہ پاس کیسے پہنچی شاویز کچھ بھی ہو لڑکی کو بی کے کے چنگل سے چھڑوانا ہوگا یہ ہماری ذمہ داری تھی ایسے میں ہم اسے اس شیطان کے پاس نہیں چھوڑسکتے ہمھیں کچھ بھی کرکے اسے پہلے چھڑوانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر شاویز بی کے ولا جانے کا کوئ پلین سوچنا ہوگا سب ساتھیو کو خفیہ کمرے میں بلاؤ اب وقت آگیا ہےاگلے پلین پر عمل کرنے کا میجر آبص شاویز سے کہتا ہے جس ہر وہ سلیوٹ مارتے ہوۓ چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے میجر آبص کسی گہری سوچ میں گم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
