50.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

میرا عشق بےزبان
تحریر : حیانور
ایپیسوڈ : ١٧
وہ تیزی سے باہر کی طرف جارہا تھا کہ کرنل شہورا اس کے سامنے آجاتے ہیں میر بھی بھاگتا ہوا اسکے پیچھے آتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہورہا ہے یہاں آپ دونوں ایسے بھاگ کیوں رہے ہو ایوری تھنگ از فائن وہ ان سے پوچھ رہے تھے وہ سر بات یہ ہے کہ میر انہیں ساری بات بتاتا ہے اس لیے یہ جارہا ہے شیر آریو آوٹ اوف یور مائنڈ کیوں جارہے تھے وہاں ایسے نہیں ایسے تم اسکی جان خطرے میں ڈال رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ سر پلیز مجھے جانے دیں میں آج اس ملک کے غداروں کا قصہ ہی ختم کردوں گا بس بہت ہوا وہ غصے سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔ تم اس وقت جذباتی ہورہے اور پھر تم لگتا ہے اپنے بھائ کی شہادت کو بھول گۓ ہو تم لگتا ہے میجر ماہر رضا میر اور اسکی بیوی یعنی تمھاری بھابی دعا ماہر کی قربانی بھول گۓ ہو اس لیے شاید ایسا قدم اٹھا رہے ہو تم ان کا نہیں لیکن امائزل کا ہی سوچ لو وہ کیسے تین ماہ کی عمر میں ہی محروم ہوگئ اس بچی کا سوچو جو ابھی صرف ڈھائ سال کی ہے بہت پیار کرتے ہو نہ تم امائزل سے اس سے اس لیے اتنا دور رہے کہ اس کے ماں باپ اس ملک کے کتنے ہی بے گناہوں کے مجرموں کو پکڑ سکو تو اب جب سب کچھ پلین کے حساب سے چل رہا ہے منزل قریب ہے تو کیوں سب کچھ برباد کرنے پر تُلے ہو ہاں صرف ایک لڑکی کے لیے ہاں میں جانتا ہوں تمھارا غصہ لیکن تم بھی ہوش سے کام لو بیٹا تم میرے بیٹے ہو کرنل شہوار کے تم اپنے باپ کا نام روشن کرنے کے لیے ہو تمھیں اپنے بھائ اور بھابی کی قربانی ایسے ضائع نہیں ہونے دینی شیر وہ جیسے التجا کررہے تھے اور میر کو وہ اس وقت ایک جانباز اور ذمہ دار آرمی آفیسر نہیں بلکہ ایک مظلوم اور ہارا ہوا باپ لگ رہے تھے بابا پلیز شیر تڑپ کر ان کے گلے لگتا ہے آپ جیسا کہیں گے ویسا ہی ہوگا بس خود کو سنبھالیں آپ ٹھیک ہے میں کہیں نہیں جارہا ہوں لیکن شکرانہ سے بات کرکے اسے سمجھا تو سکتا ہوں نہ کہ آگے کے عمل کے لیے تیار رہے ٹھیک ہے تم جاؤ وہ اسے اجازت دیتے ہیں تو وہ چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔میر مجھے بڑا خوف آتا ہے اس لڑکے سے کہیں اپنے سالوں سال کی محنت خراب نہ کردے وہ میر سے کہہ رہے تھے ریلکس بابا وہ ایسا کچھ نہیں کریگا آپ نے اس کے زخم تازہ کردئیے ہیں اب وہ جوش سے نہیں ہوش سے کام لے گا ۔۔۔۔۔۔۔ میر انہیں تسلی دیتا ہے تو وہ اثبات میں سرہلادیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
رومیسہ کیا بات ہے دو تین دنوں سے کچھ اُلجھی الُجھی سی لگ رہی ہو رومیسہ جو اس واقع کے بعد شاویز کے ہی بارے میں دن رات سوچتی تھی کہ اگر وہ نا ہوتا تو کیا ہوتا ابھی بھی وہ فری پرئیڈ ہونے کی وجہ سے کالج کے کنٹین میں بیٹھی ہوئ تھی اور شاویز کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ مایا جو اس کی کالج فرینڈ تھی اس سے آکر پوچھتی ہے ۔۔۔۔۔ نہیں تو ایسی تو کوئ بات نہیں رومیسہ جلدی سے کہتی ہے پکا نہ ایک دم پکا اچھا چلو بتاؤ کیا کھاؤ گی کچھ بھی منگوالو ٹھیک ہے میں آرڈر دے کر آتی ہوں وہ کہتے ہوۓ اٹھ کر چلی جاتی ہے
شاویز بھائ یار مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے چلیں نہ کنٹین سے کچھ کھا لیں وہ لوگ اس وقت ہولیہ بدل کر بالکل یونیورسٹی اسٹوڈنٹ لگ رہے تھے وہ یہاں ڈرگز سپلاۓ کرنے والے گینگ کو پکڑنے آۓ تھے اس وقت وہ کنٹین سے گزر رہے تھے جب ریحان شاویز سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ریحان ہم یہاں کھانے نہیں بلکہ ڈرگز سپلاۓ کرنے والے گینگ کو پکڑنے آۓ ہیں بھائ پلیز کل سے کچھ نہیں کھایا پلیز اوکے ٹھیک ہے چلو شاویز اسے اپنے ساتھ لے کر کنٹین کی طرف جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آپ یہاں بیٹھیں میں کچھ لے آتا ہوں وہ اسے ایک طرف رکھے ہوۓ ٹیبل پر بیٹھا کر خود کاونٹر کی طرف چلاجاتا ہے شاویز جو بیٹھا موبائل پر میر کے مسیجز کا جواب دے رہا تھا تبھی اسکی نظر سامنے کی طرف اٹھتی ہے جہاں وہ بیٹھی ہوتی ہے کھلے بال اسٹولر گلے میں لٹکاۓ ہلکا سا میک اپ کیے وہ وہی تو تھی جس کی وجہ سے وہ اتنے دن بے چین رہا جب سے وہ اس سے ملا تھا اس دن کے بعد وہ اسے ہی سوچ رہا تھا وہ خود پریشان تھا کہ یہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے لیکن اب جب وہ اسے دیکھ گئ تھی وہ بس اسے دیکھتا ہی جارہا تھا رومیسہ کو اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوتی ہے تو وہ نظریں اٹھا کر سامنے کی طرف دیکھتی اسکے دیکھنے پر شاویز اپنی گردن موڑدیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اف یہ کیا ہورہا ہے مجھے میں کیوں سوچ رہی ہوں اسکو اف میں پاگل ہوجاؤں گی مجھے لگتا ہے مجھے گھر جانا چاہیے رومیسہ جلدی سے اٹھتی ہے اور بغیر یہاں وہاں دیکھے باہر کی طرف نکل جاتی ہے پیچھے شاویز بھی مسکراتا ہوا سرجھٹک کر میر کو مسیج کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
وہ کیسے مرسکتا ہے وہ تو کہتا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے میں کیوں رو رہی ہوں اس کے لیے اچھا ہوا مرگیا ویسے بھی ملک کا دشمن تھا کہئ لوگوں کا قاتل ایسے لوگوں کو زندہ رہنے کا کوئ حق نہیں شکرانہ اپنے دل کو تسلی دیتی ہے تبھی اسکے سیل پر وڈیو کال آتی ہے تو وہ اپنے آنسو صاف کرکے کال رسیو کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ میری بات شیر جو اسے بلاسٹ کے بارے میں بتانے والا تھا اسکا روتا ہوا چہرہ دیکھ پریشان ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم رو رہی ہو کچھ ہوا ہے کیا ہاں وہ پریشانی سے پوچھتا ہے شکرانہ اسکے پوچھنے پر رونا شروع ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ شکرانہ رو کیوں رہی ہو یار مجھے پریشان کررہی ہو تم بتاؤ کیا ہوا ہے بولو کسی نے کچھ کہا ہے کیا ہاں شیر کو اسکے آنسو تکلیف دے رہے تھے شکرانہ نفی میں سرہلاتے ہوۓ اپنے آنسو صاف کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پکا سب ٹھیک ہے نہ وہ جیسے اب بھی مطمئن نہیں ہوا تھا شکرانہ اثبات میں سرہلاتی ہے تبھی دروازے پر کلک کی آواز ہوتی ہے تو شکرانہ جلدی سے کال کٹ کرلیتی ہے دوسری طرف وہ زور سے ایک مکا ٹیبل پر مارتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
شکرانہ رانی ٹھیک ہو تم اور یہ کیا تو نے تو کھانا ہی نہیں کھایا کیوں بیٹا جہانگیر لونی جو میٹنگ سے فارغ ہوکر کمرے آیا تھا تو کھانا ویسا کا ویسا پڑا دیکھ وہ شکرانہ سے پوچھتا ہے جس کا جواب وہ ایسے ہی خاموش ہوتی ہے ……. اچھا چلو کھانا نہیں کھانا تو نا کھاؤ لیکن ایک چیز میں تجھے دیکھانا چاہتا ہوں یقیناً تم بھی ان سب کو بہت یاد کررہی ہوگی وہ کمینگی سے کہتا ہے شکرانہ پریشان ہوتے ہوۓ اسے دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔ او میری رانی پریشان نہیں ہو یہ دیکھو وہ اپنا موبائل اسکی طرف بڑھاتے ہیں جس میں کوئ وڈیو ہوتی ہے شکرانہ اس وڈیو کو دیکھ کر جہانگیر لونی کی طرف دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی سوچ رہی ہو نہ یہ سب کیا ہے تو سنو یہ تمھارے ماما مامی اور ان کی بیٹیوں کا گھر ہی ہے نہ اور یہ جو باہر لوگ کھڑے ہیں نہ یہ میرے آدمی ہیں جو تھوڑی دیر میں ہی ان کو ختم کردیں گے ہاہاہاہا وہ زور سے قہقہ لگاتا ہے شکرانہ روتے ہوۓ نفی میں سر ہلاتے ہے اور اسکے آگے ہاتھ جوڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ارے ارے رو کیو رہی ہے میری رانی بس بس تو نہیں چاہتی نہ میں ان کو کچھ کروں وہ اس سے پوچھ رہا تھا تو وہ جلدی سے اثبات میں سر ہلاتی ہے ٹھیک ہے پھر تجھے میرا ایک کام کرنا ہوگا کل گوادر رپورٹ پر ایک بڑا پروگرام میں ہے اور اس میں بڑے بڑے لوگ اور غیرملکی بھی شرکت کرینگے تجھے صرف وہاں جاکر بم بلاسٹ کرنا ہے میرا مطلب خودکش بمبار بن کر جانا ہوگا ادھر تیری سانسیں روکی وہاں تمھارے گھر والوں کی زندگی بچے گی اس لیے جلدی سے فیصلہ کرو کیا کرنا ہے تمھیں ۔۔۔۔۔ شکرانہ اسے دیکھتی ہے ایسے دیکھو نہیں فیصلہ کرو جلدی وہ دھاڑتے ہوۓ کہتا ہے تو شکرانہ جلدی سے اثبات میں سرہلاتی ہے اور اسے ہاتھ کے اشارے سے کہتی ہے کہ وہ تیار ہے لیکن اسکے گھر والوں کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ارے تم بےفکر رہو تم بس کل تیار رہنا اوکے اب جلدی سے کچھ کھالو کیونکہ کل کے بعد تو یہ سب نہیں کھاپاؤگی اور ہاں نیند اچھی کرنا رانی وہ اسکے گال تھپتھاتے ہوۓ چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ پیچھے وہ اپنی بےبسی پر روتی رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
اگلی صبح دس بجے :
میر ہمھیں جلدی سے نکلنا ہوگا وہاں بہت سے لوگوں کی جان خطرے میں پلیز تھوڑا جلدی چلاؤ شیر پریشانی سے کہتا ہے ہاں شیر بس ہم پہنچنے ہی والے ہیں میر گاڑی کی اسپیڈ تیز کرتا ہے شاویز اور ریحان کب تک پہنچیں گے بم ڈسپوزل والوں کو لیکر بس وہ لوگ نکل تو گۓ ہیں انشااللہ جلدی سے پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔ ہاں انشااللہ پلیز تھوڑا تیز چلاؤ ۔۔۔۔۔
شکرانہ رانی وہ رہی تمھاری منزل جہانگیر لونی اسے پورٹ سے تھوڑا ہی دور اتارتے ہیں اس وقت وہ بلیک جینز اور بلیک شرٹ ساتھ ہی گرے جیکٹ جس میں بم فیکٹ تھا بالوں کی ہائ ٹیل پونی کیے وہ گاڑی سے نیچے اترتی ہے اور ہاں کوئ ہوشیاری نہیں کرنا کسی کو بھی اگر کال وغیرہ کی تو یاد رکھنا کہ تمھارے گھر والے زندہ نہیں بچیں گے وہ اسے دھمکی دیتا ہے اور ایک اور بات بم کی ٹائمنگ ایک گھنٹے کی ہے جب تک بم بلاسٹ نہیں ہوتا تب تک یہی رہنا ہے تمھیں سنا اور ہاں کوشش کرنا کہ بہت زیادہ رش والی جگہ پر بم بلاسٹ ہو ٹھیک ہے رانی اب جاؤ وہ اسے جانے کا اشارہ کرتے ہیں تو وہ چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شیر ہمھیں آرام آرام سے لوگوں کو یہاں سے نکالنا ہوگا تاکہ کسی کو شک نہ ہو مجھے پورا یقین ہے وہ شکرانہ پر نظر رکھے ہوۓ ہے اس لیے ہمھیں تھوڑا ہوشیاری سے کام لینا ہوگا ۔۔۔۔۔ سب سے پہلے ہمھیں میڈیا کو یہاں سے ہٹانا ہوگا وہ میڈیا کی بھیڑ دیکھتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔ ہاں میں نے طیب کو کہا ہے وہ ان کو ہٹادیگا ۔۔۔۔۔ تم اپنا ماکس اٹھاؤ اور پہن لو تمھارا چہرہ نظر نہیں آنا چاہیے ابھی اوکے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے تم لوگوں کو نکلواؤ یہاں سے دیکھنا بھگڈر نہ مچے میں شکرانہ کو دیکھتا ہوں اور پلیز شاویز کو بولو جلدی پہنچے وہ کہتے ہوۓ بھاگتا ہوا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
جان جانی تو ویسے بھی قسمت میں آج میرے لکھی ہوئ ہے لیکن میں اپنی وجہ سے ان معصوم لوگوں کی جان نہیں لے سکتی میں اپنے اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گی نہیں میں یہاں سے دور چلی جاتی ہوں جہاں کوئ بھی نہیں ہو وہاں جاکر یہ بم بلاسٹ کروں گی اللہ میرے گھر والوں کی حفاظت کرنا وہ روتے ہوۓ دعا کرتی ہے اور خفیہ کمرا جو جہانگیر لونی نے اس کے جیکٹ پر لگایا تھا تاکہ وہ اسے آسانی سے دیکھ سکے اس کمرے کو نکال کر وہ دور پھینک دیتی اور لوگوں کے مجمعے سے دور بھاگتی ہے کہاں جاسکتی ہے یہ لڑکی شیر ادھر اُدھر دیکھتا ہے تو اسے ایک لڑکی مجمعے سے بھاگتی ہوئ نظر آتی ہے تو وہ بھی اس کے پیچھے بھاگتا ہے شکرانہ بھاگتے ہوۓ ایک سنسان جگہ پر آکر سانس لیتی ہے تبھی اسے ٹک ٹک کی آواز سنائ دیتی ہے تو وہ اپنے جیکٹ کی طرف دیکھتی ہے جہاں بلاسٹ ہونے کا ٹائمر اسٹارٹ ہوگیا تھا وہ وہی زمین پر بیٹھ جاتی ہے شیر بھاگتا ہوا اسکے پاس آتا ہے شکرانہ جو زمین پر بیٹھی ہوتی ہے کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوۓ نظر اٹھا کر اسے دیکھتی ہے جہاں وہ ماکس پہنے بلیک شرٹ بلیک ہی جینز پہنے ہوا تھا بال اسکے ماتھے پر بکھرے ہوۓ تھے شکرانہ اسکو دیکھ کر رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ یہاں کیا کررہی ہو اٹھو یہاں سے وہ ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھاتا ہے تو وہ اسے خود سے دور کرتی ہے اور نفی میں سر ہلاتے ہوۓ اسے اپنی جیکٹ میں لگا ہوا بم دیکھاتی ہے جہاں صرف 45 منٹ ہی بچے تھے بلاسٹ ہونے میں شکرانہ اسے جانے کا اشارہ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ کہیں نہیں جاؤں گا میں تمھیں چھوڑ کر سنا تم نے وہ اسے اپنی طرف کھیچتا ہے شکرانہ خود کو اس سے چھڑاونے کی کوشش کرتی ہے لیکن اسکی پکڑ مضبوط ہوتی ہے خود کو چھڑانے کی کوشش میں شکرانہ کا ہاتھ اسکے ماکس کی طرف جاتا ہے اور وہ اسے کھینچ کر نکالتی ہے جس کے باعث اسکا چہرہ نظر آجاتا ہے شکرانہ اسکا چہرہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے وہ تو وہی تھا سوئیٹ ہارٹ تم اب میری قید میں ہو اور یہ قید تم نے اپنے لیے خود چنی ہے شکرانہ کو ساری باتیں یاد آتی ہے اور آخری منظر وہ آگ جو Bk ولا میں لگی تھی جس کے باعث وہ مرگیا تھا تو کیا یہ کوئ خواب نہیں تھا وہ زندہ تھا ہاں وہ تو زندہ تھا بلکہ صحیح سلامت اسکے سامنے کھڑا تھا شکرانہ روتے ہوۓ بے اختیار اس کے گلے سے لگتی ہے اور اسکی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑلیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے الفت کے فسانوں میں تمھیں دیکھا ہے
تم وہی ہو نہ جو دھڑکنیں بڑھادیتے ہو 💖
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔