50.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

میرا عشق بےزبان
تحریر : حیانور
قسط _ ٤
پاپا شکرانہ نے ابھی تک ہمھیں انفورم نہیں کیا کہ وہ لونی پہنچی کہ نہیں رمیسہ اشفاق صاحب کے کمرے میں آتے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں بیٹا میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ ابھی تک بچی نے اپنے پہچنے کی اطلاع کیوں نہیں دی میں نے اسکے نمبر پر بھی ٹراۓ کیا لیکن بند آرہا ہے اس کا نمبر ۔۔۔۔۔۔۔ جی پاپا میں نے بھی ٹراۓ کیا تھا لیکن نمبر بند جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ دونوں بلاوجہ اس کرمجلی کے لیے پریشان ہورہے ہو وہ تو وہاں پہنچتے ہی آپ دونوں کو بھول گئ ہوگی بھئ ظاہر سی بات اتنے بڑے محل میں جو گئ ہم جیسے غریب تھوڑی یاد ہوں گے عفت بیگم ان دونوں سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں مما ایسا نہیں ہے وہ ایسی ۔۔۔۔ رمیسہ تم تو چپ رہو اور اب جاؤ اپنے کمرے میں سوجاؤ اور ہمھیں بھی سونے دو وہ پہنچ گئ ہوگی ۔۔۔۔۔۔ ہاں بیٹا مجھے لگتا ہے تمھاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے وہ پہنچ گئ ہوگی کیا پتا موبائل کی بیٹری لو ہوگئ ہو اس لیے اشفاق صاحب رمیسہ کو تسلی دیتے ہیں جس پر وہ سر ہلاتے ہوۓ کمرے سے چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
سر لڑکی کا کیا کرنا ہے ہم اسے اپنے ساتھ تو نہیں رکھ سکتے ہیں اس طرح اسکی جان کو بھی خطرہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ اس وقت اپنے خفیہ کمرے میں ہوتے ہیں شکرانہ کو انہوں نے دوسرے کمرے میں رکھا ہوا ہوتا ہے وہ چاروں اپنے اگلے پلین کے بارے میں ڈسکس کررہے ہوتے ہیں جب شاویز میجر آبص سے پوچھتا ہے ……… میں بھی وہی سوچ رہا تھا ویل کیپٹن آپ جائیے اور ان سے پوچھیۓ وہ کہاں رہتی ہیں پھر ہم انہیں ان کے گھر پہنچا دیں گے میجر آبص کیپٹن عائشہ سے کہتا ہے جس پر وہ سر ہلاۓ سلیوٹ مارتے ہوۓ چلی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاویز تم جاؤ اور معلوم کرو بی کے کا اگلا ٹارگٹ کون ہے اور ریحان آپ میری کیپٹن طیب سے وڈیو کال پر بات کروانے کا انتظام کیجیۓ تب تک میں چینج کرکے آتا ہوں میر پہلے شاویز اور پھر ریحان سے مخاطب ہوتا ہے اور خود کپڑے چینج کرنے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
السلام علیکم پیاری کیسی ہو تم ؟ کپیٹن عائشہ روم میں داخل ہوتے ہوۓ شکرانہ سے پوچھتی ہے جس پر وہ مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ او ؤاؤ واٹ آ بیوٹی تم تو بہت سے بھی زیادہ خوبصورت ہو اور چھوٹی سی بھی عائشہ اس کو دیکھے دنگ رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے کوئ اتنا خوبصورت کیسے ہوسکتا ہے اور وہ بھی سارا کا سارا کیسے ہوسکتا ہے عائشہ اسکے گال کھیچے کہتی ہے جس پر وہ بلش کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے واہ تم تو شرماتے ہوۓ اور بھی پیاری لگ رہی ہو سریسلی ویسے یار میں لڑکی ہوکر تم پر فدا ہوگئ لڑکوں کا کیا ہوتا ہوگا تمھیں دیکھ کر اسی لیے شاید نقاب میں رہتی ہو ۔۔۔۔۔۔ عائشہ مسلسل بول رہی ہوتی لیکن شکرانہ ہنوز خاموش ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے مانا کہ آپ خوبصورت ہیں لیکن اب بولنے پر پابندی تو نہیں ہے نہ دیکھو ہم تمھیں اتنے دن یہاں نہیں رکھ سکتے یہاں خطرہ ہے اس لیے جب تک تم بولوگی نہیں ہمھیں پتا کیسے چلے گا کہ کہاں رہتی ہو تم سر نے مجھے اس لیے تمھارے پاس بھیجا ہے کہ میں تم سے تمھارا پتا پوچھ سکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیپٹن عائشہ اب کہ سنجیدگی سے کہتی ہے جس پر شکرانہ نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاتھوں کا اشارہ کرتے ہوۓ اسے بتاتی ہے کہ وہ بول نہیں سکتی کیپٹن عائشہ جو غور سے اسکے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھ رہی ہوتی ہے اسکا آخری اشارہ سمجھتے ہوۓ دنگ رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واٹ دا ہیل آپ بول نہیں سکتی ہیں وہ بے یقینی سے اس سے پوچھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ او مائ گڈ آئ ڈونٹ بلیو دس ابھی وہ اتنا ہی کہتی کہ کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آتی ہے جس پر دونوں دروازے کی طرف دیکھتی ہیں جہاں ریحان کھڑا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہمھیں جلدی سے یہاں سے نکلنا ہوگا کیپٹن آپ جلدی کریں ایمرجنسی ہوگئ ہے ریحان جلدی سے کہتا ہے جس پر وہ جلدی سے اٹھتی ہے اور بغیر شکرانہ کی طرف دیکھے چلی جاتی ہے جبکہ شکرانہ حیرت سے دروازے کو دیکھ رہی ہوتی ہے جہاں سے وہ دونوں ابھی گۓ تھے اور پھر سر جھٹک دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
بی کے ولا:
حرام خوروں پہلے ہی میرا نقصان کروادیا ہے تم لوگوں نے اس دفعہ اگر کوئ غلطی ہوئ تو کوئ نہیں بچے گا یہ تم لوگوں کا آخری چانس ہے ایف سی کے ہیڈ کواٹر پر ایسا بم دھماکہ کروانا کہ ان ایف سی والوں کے جسم کا ایک حصہ بھی نہ بچے سمجھے نہ ان کے ماں باپ رشتہ داروں کو تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے بی کے اچھے سے بم فیٹ کرنا اب دفع ہوجاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں چھوڑوں گا آرام آرام سے پورے پاکستان کا نام ونشان مٹا دوں گا اور کچھ نہیں کرپائیں گے یہ ایف سے, پولیس, آرمی اور آئ ایس آئ والے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا بی کے شیطانی انداز میں اتنی زور زور سے قہقے لگا رہا تھا کہ بی کے ولا کے درو دیوار ہل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜…………………………………………💜
پتا نہیں وہ لوگ وہاں پہنچے ہونگے یا نہیں مجھے خود ہی جانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ لڑکی پتا نہیں کیپٹن عائشہ نے اس کا ایڈریس ہوچھا یا نہیں ۔۔۔۔۔۔ میں ہی پوچھ لیتا ہوں یہ لڑکی مشن کے بیچ میں آکر ہم سب کو الجھا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے جلدی سے اسے یہاں سے نکالنا ہوگا تاکہ ہم جلدی سے اپنے مشن کو انجام تک پہنچاسکے مجھے جاکر خود ہی اس سے بات کرنی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میر سوچتے ہوۓ اسکے کمرے کی طرف بڑھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جس پر شکرانہ آرام سے دروازہ کھولتی ہے اور آگے سے ہٹ کر اس کی طرف پشت کردیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم میر اسے مخاطب کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بھاری مردانہ سحر انگیز آواز سن کر شکرانہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کہاں رہتی ہیں میجر آبص اس کی پشت کو دیکھتے ہوۓ پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
خاموشی ۔۔۔۔
دیکھیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم آپکے محافظ ہیں اور ویسے بھی اگر آپ اپنا پتا نہیں بتائیں گی تو ہمھیں پتا کیسے چلے گا کہ آپ کہاں رہتی ہیں پھر ہم آپکو آپکے گھر کیسے بھیجیں گے میجر آبص اسے خاموش پاکر پھر سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف وہ اب بھی خاموش ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب بات ہے لڑکیاں تو کتنا بولتی ہیں یہ پہلی لڑکی دیکھی ہے جیسے بولنے میں کوئ دلچسپی ہی نہیں ہے حیرت ہے میجر آبص اسکی پشت کو دیکھتے ہوۓ سوچتا ہے اور کمرے سے باہر نکل جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف اللہ یہ کیا تھا ان کی آواز سن کر میرے دل کی دھڑکنیں اتنی تیز کیوں ہو گئ تھیں اف ۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ گہری سانس لیتی ہے اللہ جی میں نے تو کوئ نماز بھی نہیں پڑھی صبح سے اس لیے ایسے خیال آرہے ہیں ابھی دو نوافل پڑھ لیتی ہوں نماز کا ٹائم تو چلا گیا ہے شکرانہ وضو کرنے کی نیت سے اٹھتی ہے اور واشروم میں چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
بی کے ولا :
بی کے تمھارا کام ہوگیا شمس مسکراتے ہوۓ اسٹڈی روم میں آتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس پر بی کے ایک زوردار قہقہ لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کتنے لوگ مرے سگریٹ کا کش لگاتے ہوۓ پوچھتا ہے 10 سے 11 کے درمیان لوگ مرے ہیں اور باقی برُی طرح گھائل ہیں بچنے کے چانسس بہت کم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ واہ شمس تم نے تو بی کے کو خوش کردیا اسی خوشی میں پارٹی تو بنتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پارٹی کا انتظام کرو اور سب لوگوں انوائیٹ کرو بی کے پر جوش انداز میں کہتا آج بی کے کی ایک دفعہ پھر جیت ہوئ ہے کیا سمجھ رہے تھے یہ پاکستان کے محافظ بی کے سے مقابلہ کرینگے ہاہاہاہا یہ شاید بھول گۓ تھے یہ ابھی بی کے کے سامنے بچے ہیں بچے بی کے ایک دفعہ پھر زور دار قہقہا لگاتا ہے اس دفعہ تو شمس بھی بی کے کے قہقے سے سہم جاتا ہے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
جی ناظرین ہم آپکو بتاتے چلیں پاکستان ایف سی کے ہیڈ کواٹر پر بڑا زور دار بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایف سی کے 11 اہلکار شہید ہوگۓ ہیں اور باقی بُری طرح گھائل ہیں ناظرین اب تک کی اطلاع کے مطابق یہ معلوم ہوا کہ دھماکہ بہت زور دار ہوا تھا جس کی آواز دور دراز کے علاقوں تک سنائ دی ہے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکاروں کے بچنے کے چانسس بہت کم ہے نیوز اینکر کا ایک ایک لفظ میجر آبص رضا میر کے دل کو بُری طرح گھائل کررہا تھا غصے اور غم کی شدت سے اسکا برا حال تھا وہ ایک زوردار مکا پاس رکھے کانچ کے ٹیبل پر مارتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کیسے ہونے دیا میں نے یہ سب بی کے میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا میجر آبص رضا میر خون سے رنگے ہاتھ کو بالوں میں پھرتا ہے اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بی کے اسکے سامنے ہوتا اور وہ اسے اتنی گولیوں مارتا اور مار مار کر اس کے جسم کو چھلنی کردیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ جو کچھ ٹوٹنے کی آواز سے کمرے سے باہر کی طرف آتی ہے میر کو اس حالت میں دیکھ کر گھبرا جاتی ہے اور ڈرتے ڈرتے وہ اسکے قریب آتی ہے میر جلدی سے اٹھنے کے لیے جیسے پیچھے کی طرف مڑتا ہے شکرانہ کو دیکھ کر اسکا غصہ مزید بڑھ جاتا ہے سیاہ گھنے بال جو کندھوں سے نیچے تک آرہے تھے گرے آنکھیں جو جھکی ہوتی ہیں سفید دودھ ملائ جیسی رنگت گلابی ہونٹ جیسے گلابی لپ اسٹک لگی ہو ٹی پنک کلر کے پلین سوٹ میں ڈوپٹہ جو سر سے گر کر کندھے پر پھیلا ہوا تھا بلاشبہ وہ چھوٹی سی لڑکی رب کی فرصت سے بنائ ہوئ مخلوق تھی میر ایک نظر اس کا جائزہ لیتے ہوۓ اسے اپنی طرف کھیچتا ہے شکرانہ اس حملے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور جاکر اس کے سینے سے لگتی ہے یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے تم اگر بیچ میں نا آتی تو آج اتنے سارے لوگ نہ مارتے یہ دیکھ رہی ہو میر اسے کھیچتے ہوۓ ٹی وی کی طرف لے جاتا ہے جہاں دھماکہ کے بارے میں بتایا جارہا ہوتا ہے شکرانہ خوف زدہ نظروں سے میر کی طرف دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم قاتل ہو ان سب کی تم نے مارا ان لوگوں کو یہ آج جو دھماکہ ہوا وہ صرف تمھاری وجہ سے ہوا ہے قاتل ہو تم میرے ملک کے رہنے والے ان 11 لوگوں کی قاتل ہو تم سنا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں اب میں تمھیں ہمھیں اور الجھانے نہیں دوں گا جلد سے جلد تمھیں یہاں سے بھیج دوں گا تم دشمن کی بیجھی ہوئ لڑکی ہو نہ ایک سازش میجر آبص اس وقت کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا وہ اپنے غصے میں ایک لڑکی کو زہنی دباؤ دے رہا ہے اسے تو بس لوگوں کی سسکیاں سنائ دے رہی تھی جو اپنے پیاروں کے لیے رو رہے تھے نیوز اینکر کا چیخ چیخ کر بولنا زہن میں گھوم رہا تھا جس سے اس کے سر میں شدید درد ہورہا تھا وہ میجر آبص رضا میر جو عورتوں کی اتنی عزت کرتا تھا آج ایک لڑکی پر چلاّ رہا تھا سر درد کی شدید شدت کی وجہ وہ اسے صوفے پر گراتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے وہ بے یقینی کی کفیت میں ٹی وی دیکھ رہی ہوتی وہ تو ایک چیونٹی کو بھی نہیں مار سکتی پھر وہ کیسا اس پر اتنے سارے لوگوں کو مارنے کا الزام لگا کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ روتے روتے وہ وہیں صوفے پر ہی بے ہوش ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی کے میں آرہا ہوں تمھارے پاس اپنے ملک کہ ایک ایک رہنے والے کا بدلہ لینے میجر آبص رضا میر اپنے وطن سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ جلد سے جلد بی کے جیسے انسان کا صفایہ اس ملک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کردیگا بی کے جیسے انسان کا خوف اس ملک سے نکال دیگا اے میرے مالک مجھے اتنی ہمت دے کہ میں اپنے ملک پاکستان کے ایک ایک دشمن کو موت کے منہ تک پہنچاؤں جو میرے وطن کا خاتمہ کرنے کے بارے میں سوچے گا اس کا انجام موت ہوگا آبص خود سے عہد کرتے ہوۓ روم سے باہر چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل سے نکلے گی نہ مرکے بھی وطن کی الفت میری مٹی سے بھی خوشبوۓ وفا آۓ گی
کھڑے تھے ہم بھی قسمت کے دروازے پر
لوگوں نے دولت مانگی ہم نے وطن مانگ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔