Mera Ishq Bezuban By Haya Noor Readelle50179 Episode 18 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18 Part 2
میرا عشق بےزبان
تحریر : حیانور
ایپیسوڈ : ١٨ (حصہ ٢)
یہ سب کیسے ہوا وہ لوگ اس وقت ہاسپٹل میں تھے شکرانہ کا اندر آپریشن چل رہا تھا جب کرنل شہوار وہاں آتے ہوۓ شیر سے پوچھتے ہیں پتا نہیں اچانک سے فائر ہوا لیکن مجھے لگتا ہے فائر کرنے والے کا نشانہ ہی شکرانہ تھی اس لیے سیدھا آکر اسے ہی گولی لگی وہ بھی گردن پر شیر کی بجاۓ ریحان ان کو پوری ڈیٹل بتاتا ہے ۔۔۔۔۔ اچھا اب کیا کنڈیشن ہے لڑکی ٹھیک تو ہے نہ وہ پوچھ ریحان سے رہے تھے لیکن دیکھ شیر کو رہے تھے جس کی حالت کچھ ہی دیر میں خراب ہوگئ تھی سر آپریشن چل رہا ہے اندر باقی اللہ خیر کرے گا انشااللہ ریحان ان سے کہتا ہے وہ بھی اپنے بیٹے کی ایسی حالت ہوتے دیکھ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کے بیٹے کی زندگی کو سلامت رکھے وہ جانتے تھے کہ اس نے ساری زندگی اکیلے گزاری میر اور ریحان تو پھر بھی چھٹیوں میں گھر آجاتے تھے لیکن وہ کبھی نہیں آتا تھا اس نے سارا وقت صرف اپنے ملک کی خاطر صرف کرلیا اپنے بھائ بھابی اور اس ملک کے غداروں کو پکڑنے کے لیے دن رات مشقت کی سخت سے سخت ٹریننگ کی یہاں تک کہ دشمنوں کے بیچ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر رہا صرف اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر وہ جانتے تھے اس نے ان سے کبھی کسی چیز کی خواہش نہیں کی جیسا انہوں نے اس سے کہا وہ ویسا ہی کرتا رہا اب جب وہ کسی کی خواہش کررہا تھا اس سے محبت کرکے تو ان کی یہی دعا تھی اللہ ان کے بیٹے کی خوشی کو قائم رکھے آمین ۔۔۔۔۔۔ شیر تم گھر چلے جاؤ ہم یہاں پر ہیں اور ویسے بھی میر ابھی آتا ہوگا اور ابھی تم نے پتا بھی تو لگوانا ہے کہ گولی کس نے چلائ تھی شکرانہ پر وہ جیسے اسے سمجھا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ آپ صحیح کہہ رہے ہیں مجھے پتا لگوانا ہوگا کہ آخر کون تھا وہ جس نے میری سوئیٹ ہارٹ پر گولی چلائ ۔۔۔۔۔ بابا آپ لوگ پلیز یہیں رہیے گا میں آتا ہوں وہ ان سے ریکوسٹ کرتا ہے جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہیں تو وہ وہاں سے چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
سردار آپکا کام ہوگیا لڑکی کو گولی مار کر آیا ہوں وہ بھی گردن پر مجھے نہیں لگتا بچے گی واہ واہ شیرا تونے تو ہمارا دل خوش کردیا بتا کیا انعام چاہیے تجھے جا جو بھی چاہیے گل جان کو بول تجھے دے گا جہانگیر لونی اسے داد دیتے ہوۓ انعام گل جان سے لینے کا کہتا ہے جس پر وہ شکریہ سردار کہتے ہوۓ چلا جاتا ہے پیچھے جہانگیر لونی پہلے تو روتا ہے پھر روتے روتے زور سے قہقہ لگاتا ہے میری رانی میری بات مان لیتی تو عزت سے مرجاتی لیکن اب تو تم تڑپ تڑپ کر مرو گی مجھے افسوس ہے وہ کمینگی سے کہتا ہے اے راحت گل وہ اپنے ملازم کو آواز دیتا ہے جس پر وہ بھاگتے ہوۓ آتا ہے جی سردار ۔۔۔۔۔ راحت گل جشن کا انتظام کرو میری رانی کی موت کی خوشی میں وہ اس سے کہتا ہے جس پر اثبات میں سرہلاتے ہوۓ چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
اسکیوزمی پیشنٹ کے ساتھ کون ہے ڈاکٹر آپریشن ٹھیٹر سے باہر نکلتے ہوۓ پوچھتا ہے میر بھاگتے ہوۓ ڈاکٹر کے پاس آتا ہے جی ڈاکٹر میں ہوں ٹھیک تو ہے نہ وہ میر پریشانی سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کیا لگتے ہیں پیشنٹ کے ڈاکٹر اس سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ می۔۔۔میں دوست ہوں اس کا میر سوچتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ آپکی پیشنٹ بے زبان ہے کیا میرا مطلب بول نہیں سکتی کیا۔۔۔۔۔۔۔ جی ڈاکٹر میرے خیال سے پیدائشی ایسی ہے وہ کیوں کوئ پریشانی والی بات ہے کیا ۔۔۔۔۔۔ نو نو اصل میں وہ پیدائشی ایسی نہیں تھی آئ مین congenital dumbness نہیں ہے ان کا واکل کورڈ کسی زخم کی وجہ سے ڈیمج ہوگیا تھا آپریشن سے ٹھیک ہوسکتا ہے ہم نے آپریشن کردیا ہے اب وہ بول پائیں گی اینڈ ڈونٹ وری وہ اب بالکل ٹھیک ہیں تھوڑی دیر میں انہیں ہوش آجاۓ گا پھر آپ ان سے مل سکتے ہیں ڈاکٹر مسکراتے ہوۓ کہتا ہے اور چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کی بات سن کر میر کو بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے اور وہ جلدی سے موبائل جیب سے نکالتا ہے تاکہ شیر کو یہ گڈنیوز دے سکے لیکن پھر وہ کچھ سوچتے ہوۓ موبائل جیب میں ڈال دیتا ہے ۔۔۔۔۔کال نہیں کرتا ہوں سرپرائیز رکھتا ہوں خود آۓ گا تو خود ہی اس کو بولتا دیکھ بہت خوش ہوگا یااللہ آپ کا بہت شکریہ میرے بھائ کی خوشیاں لوٹانے کے لیے وہ اوپر دیکھتے ہوۓ اپنے رب کا شکریہ کرتا ہے اور مسکراتا ہوا وہیں بینچ پر بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
سر سارے ثبوت اسی کے خلاف ہیں یہ ریکارڈنگ بھی یہی ثابت کررہی ہے اور بھی بہت سارے ثبوت جہانگیر لونی اور اسکے ساتھیوں کے خلاف ہیں سر ہم کامیابی کے بہت زیادہ قریب ہیں شاویز لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاتے ہوۓ شیر سے کہتا ہے ہممم رائٹ شاویز یہ آج رات والی پارٹی میں وہ جشن نہیں اپنی عمر بھر کی قید کا سوگ مناۓ گا تم دیکھنا اس جیسے مجرموں کو پھانسی ہوگی ۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر انشااللہ یہ آخری ہدف بھی ہم پار کرلینگے ۔۔۔۔۔۔۔ انشااللہ تم تیاری کرو سارے ثبوتوں کو ایک ساتھ اکھٹا کرکے رکھو آج رات جہانگیر لونی کی آزادی کا آخری دن ہے میں جب تک سوئیٹ ہارٹ کو دیکھ کر آتا ہوں جی سر وہ شاویز کو ہدایت دیتا ہوا چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
کیسی ہو گڑیا میر کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ پوچھتا ہے جس پر وہ مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلاتی ہے ۔۔۔۔۔۔تمھیں پتا ہے تم اب بول سکتی ہو وہ جیسے اسے بتا رہا تھا میں نے شیر کو نہیں بتایا کہ تم بول سکتی ہو میں نے اس کے لیے یہ سرپرائیز رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ میں اپنی پہلی آواز میں اس کو پکارنا چاہتی ہوں اور پہلا لفظ بھی اس کا نام لوں گی شکرانہ اشارہ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جیسے تمھیں اچھا لگے کچھ چاہیے تو نہیں تمھیں وہ اس سے پوچھتا ہے تو پہلے تو وہ ہچکچاتی ہے لیکن پھر اشارہ کرتی ہے مجھے واشروم جانا ہے او اچھا ڈونٹ وری گڑیا میں لے چلتا ہوں وہ اسے اٹھنے میں مدد دیتا ہے کہ شکرانہ بیلنس برقرار نہ رکھتے ہوۓ بیڈ پر گرتی ہے اور ساتھ میں میر بھی اس کے اوپر گرتا ہے اسی اثناء میں روم کا دروازہ کھولتا ہے اندر آنے والا اور کوئ نہیں میجر آبص رضا میر ہوتا ہے وہ دونوں جو ابھی تک سمجھ ہی نہیں پاۓ کہ ہوا کیا دروازہ کھولنے کی آواز پر دروازے کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں شیر بے یقینی سے دونوں کو دیکھ رہا تھا شیر کو دیکھ میر جلدی سے شکرانہ کے اوپر سے اٹھتے ہوۓ اسکے پاس آتا شیر وہ تم جیسا سمجھ رہے ہو ایسا نہیں ایکچولی وہ میر ابھی اسے بتا رہا ہوتا ہے کہ شیر اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ دیتا ہے بس وہ میر کو چپ کرواتے ہوۓ تیزی سے شکرانہ کی طرف بڑھتا ہے شکرانہ اسے تیزی سے اپنی طرف آتا دیکھ ڈرتے ہوۓ خود میں سمٹتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا کمی تھی میرے پیار میں ہاں کیا نہیں کیا میں نے تمھارے لیے لیکن تم یہاں میرے ہی بھائ شیر بےدردی سے اسے اپنی طرف کھیچتا ہے جس سے وہ بالکل اسکے سینے سے جاکر لگتی ہے کہا تھا نہ دھوکہ برداشت نہیں کرونگا بولا تھا تمھیں وہ اسکا منہ دبوچتے ہوۓ کہتا ہے شکرانہ اس کا یہ وحشیانہ انداز دیکھ سہم جاتی ہے ۔۔۔ اور روتے ہوۓ نفی میں سرہلاتی ہے شیر میری بات تو سنو تم جیسا بس بھائ آپ مت بولیں بیچ میں اندھا نہیں ہوں میں اور نہ ہی بےوقوف جیسے آپ جو کہیں گے وہ مان لوں گا اور تم وہ اب کے اسے بالکل ہی اپنے قریب کرلیتا ہے شکرانہ کو اپنے چہرہ پر اسکی سانسوں کی تپش محسوس ہورہی تھی محبت دیکھی ہے نہ تم نے میری وہ بھی بے پناہ بے انتہا شدت والی میرا وعدہ ہے تم سے جتنی تم سے محبت ہے اس سے کہئ گناہ زیادہ تم سے نفرت کرکے دکھاؤں گا اب تک تم نے میجر آبص رضا میر کی محبت دیکھی ہے اب تم اس کی نفرت دیکھو گی وہ اسے بیڈ پر گراتے ہوۓ روم سے باہر نکل جاتا ہے میر بھی تیزی سے اسکے پیچھے جاتا ہے جبکہ شکرانہ وہ وہی بیڈ پر ہی گری رہتی ہے اور اپنی بےبسی پر روتی ہے کیا کچھ نہیں سوچا تھا اس نے کہ اسے سرپرائیز دیگی اس کا نام اس کے سامنے اپنے منہ سے لے گی اس سے اظہار محبت کرے گی لیکن اس نے تو ایک نہیں سنی اسکی وہ تو بڑے دعوے کرتا تھا محبت کے تو کیا یہ اس کی محبت تھی جس سے انسان محبت کرتا ہے اس پر بھروسہ بھی تو کرتا ہے جبکہ اس نے تو نہ وضاحت مانگی نہ کچھ بس اپنا فیصلہ سنا کر چلاگیا ہے وہ بے آواز روتی ہے اور روتی چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری وفا ، وفا جاناں۔۔۔۔
میری محبت کچھ بھی نہیں؟؟؟
تیرا درد ، درد ٹھہرا ۔۔۔۔
میرا زخم کچھ بھی نہیں ؟؟؟؟
تیری بات پتھر کی لکیر ۔۔۔۔
میری التجا کچھ بھی نہیں؟؟؟؟
تجھ میں انا سمندر جیسی ۔۔۔۔
میرا مان کچھ بھی نہیں ؟؟؟؟
تیرا غم ، غم ہوا !!!!!!!
میرے آنسو کچھ بھی نہیں ؟؟؟؟
تیرا وجود سب کچھ جاناں!!!!!
کیا میری ہستی کچھ بھی نہیں ؟؟؟؟؟
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
