50.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

میرا عشق بے زبان
تحریر : حیانور
ایپیسوڈ : ١٤
ہاۓ اللہ یہ کیا تھا یہ یہاں بھی آگیا پتا نہیں کیا چاہتا ہے یہ مجھ سے اف یہ پہلا انسان ہوگا مامی کے بعد جو اتنا خطرناک ہے پتا نہیں کیوں میں اس کے سامنے کمزور پڑجاتی ہوں شکرانہ کھڑکی کی طرف دیکھے سوچتی ہے جہاں سے وہ ابھی گیا تھا کہیں پھر سے نہ آجاۓ یہ سوچ آتے ہی شکرانہ جلدی سے دروازہ کھول کر باہر کی طرف بھاگتی ہے اور اندھیرا ہونے کے باعث میر سے جاکر ٹکراتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
میر جو شیر کے بلانے پر باہر آیا تھا اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ شکرانہ کو نادیکھتا ہوا اس سے ٹکراجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کون ؟؟؟ میر ٹارچ کی روشنی اس کے چہرے پر مارتا ہے آپ اس وقت یہاں کیا کررہی ہیں وہ اسے پہنچاتے ہوۓ پوچھتا ہے ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک سے پورے لیونگ روم کی لائٹس اون ہوجاتی ہے تو وہ گھبراتے ہوۓ اس سے دور ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
واٹ ہیپنڈ ازدئیر اینی پروبلم پیچھے سے آنے والی آواز پر دونوں مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں جہاں وہ پی کیپ پہنے کھڑا ہوتا ہے پی کیپ کی وجہ سے اس کا چہرہ صاف نظر نہیں آتا شکرانہ اسے غور سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ناکامی ۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں شاید یہ ڈر گئ ہے تم یہی رکو میں تمھارے لیے کچھ کھانے کو اور کافی بھی لاتا ہوں ۔۔۔۔۔ میر کہیں بھوت تو نہیں دیکھ لیا لڑکی نے وہ اپنی مسکراہٹ ضبط کیے صوفے پر مزے سے بیٹھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں ویل تم بیٹھو اور شکرانہ آپ بھی بیٹھ جائیں مجھے آپ سے بھی بات کرنی ہے بس دو منٹ میں آتا ہوں میں وہ اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ شکرانہ ایک نظر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھتی ہے جو پی کیپ کے ساۓ میں اپنا چہرہ مکمل طور پر کور کیے موبائل پر کچھ ٹائپ کررہا تھا اور جاکر ایک سائیڈ رکھے ہوۓ صوفے پر بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ بار بار اسکا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اسے نظر نہیں آتا ہے شیر جو ویسے تو موبائل پر مصروف ہوتا ہے لیکن شکرانہ کی نظروں کی تپش وہ اپنے چہرے پر محسوس کرچکا تھا وہ جانتا تھا وہ اسکا چہرہ دیکھنے کی کوشش کررہی ہے تبھی اسے کے ہونٹوں پر بھرپور مسکراہٹ آجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اف اس کا چہرہ کیوں نہیں دیکھ رہا مجھے پتانہیں کون ہے یہ پہلے تو کبھی نہیں دیکھا میں نے ایسا مشکوک آدمی شاویز بھائ اور ریحان بھائ کو تو میں نے دیکھا ہے یہ کون ہے جو ولن کی طرح چہرہ چھپاۓ ہوۓ ہے ابھی وہ اسکا چہرہ دیکھنے کی کوشش میں ہوتی ہے کہ میر کوفی اور کچھ اسنیک لے کر لیونگ روم میں داخل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ شیر یہ لو کچھ کھالو پھر بات کرتے ہیں میر اسکے آگے ٹرے رکھتا ہے اور خود اس میں سے اپنی اور شکرانہ کی کوفی کا مگ نکال کر ایک شکرانہ کی طرف بڑھاتا ہے اور دوسرا اپنے ہاتھ میں لے کر بیٹھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تھنکیوسومچ بھائ شیر اسکا شکرادا کرتا ہے تو وہ مسکرادیتا ہے شکرانہ ان دونوں کو دیکھ کر رہ جاتی ہے میر اور کسی کی اتنی فکر ۔۔۔۔۔۔۔
پھر آگے کیا کرنا ہے میر اس سے پوچھتا ہے شکرانہ بھی دونوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے وہ لوگ کچھ بڑا سوچ رہے ہیں آئ مین بم دھماکہ ٹائپ جہاں تک مجھے انفورمیشن ملی ہے اسی سلسلے میں میٹنگ بھی رکھی ہے جہانگیر لونی نے شکرانہ جو بڑے غور سے شیر کی بات سن رہی تھی اسکی آخری بات پر چونکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ او آئ سی شکرانہ مجھے آپ سے ایک ہیلپ چاہیے اپنے مشن کے حوالے سے سب سے پہلے تو میں آپکو بتادینا چاہتا ہوں کہ ہم جو ہیں وہ ایک آرمی آفیسرز ہیں اور ابھی ایک مشن پر ہیں میرا نام میجر آفان رضا میر ہے میر اسے اپنا نام بتاتا ہے تو وہ حیران ہوتی ہے کیونکہ اس نے تو اس کا نام میجر آبص رضا میر سمجھا تھا لیکن اب وہ کہہ رہا تھا کہ وہ آفان ہے ۔۔۔۔۔۔ میر میرے خیال سے یہ تمھارے نام میں کنفیوز ہوگئ ہے شیر اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا ہے خیر وہ سب بعد کی بات ہے ابھی ہمھیں پلین ڈسکس کرنا ہے شکرانہ آپ پلیز میری بات دھیان سے سنیے گا میر اسکی طرف متوجہ ہوتا ہے جس پر اثبات میں سر ہلاتی ہے اسکے بعد میر اس کو ساری بات بتاتا ہے ساری بات سن کر شکرانہ کے تاثرات عجیب ہوتے ہیں جوکہ شیر باخوبی دیکھ لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ ہے پوری بات اب آپ بتاؤ ہمارا ساتھ دوگی یا نہیں میر اس کے جواب کا منتظر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ جب کہ وہ ابھی تک اسی شوک میں ہوتی ہے کہ اسکے دادا ایسے بھی ہوسکتے ہیں حلانکہ وہ ڈیمو دیکھ ہی چکی تھی کہ کیسے وہ اسے ایک کوٹھہ میں اف یہ سوچ کر ہی وہ جھرجھری لیتی ہے وہ دونوں جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اسکے جواب کے لیے اس کے جھرجھری لینے پر ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ برو مجھے لگتا ہے ان سے نہیں ہوگا یہ ابھی سے ڈر رہی ہے ہم ایسا کرتے ہیں کیپٹن عائشہ یا پھر کیپٹن صالحہ سے کہتے ہیں تھوڑا وقت لگے گا بٹ ہوجاۓ گا شیر اس کا ڈر دیکھتے ہوۓ میر سے کہتا ہے تو میر بھی سوچ میں پڑجاتا ہے تبھی شکرانہ ٹیبل بجاتی ہے جس کی آواز پر دونوں اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوۓ شیر کو مکمل نظرانداز کیے میر سے کہتی ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے میر اسکا اشارہ سمجھتے ہوۓ مسکراتا ہے اور اسے جانے کی اجازت دیتا ہے تو وہ ایک دفعہ پھر شیر کو مکمل نظرانداز کیے وہاں سے چلی جاتی ہے جس پر شیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ چل میرے شیر یہ ختم کر اور آجا سونے کے لیے اور ہاں آپ آج کہیں نہیں جارہے اوکے میر اسے وارن کرتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ چل بیٹا شیر تیری سوئیٹ ہارٹ تو بہت بہادر نکلی اف میری شیرنی اللہ اسکی حفاظت کرنا شیر اسکے لیے دعا کرتا ہے اور پھر وہی صوفے پر ڈھے جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
سردار جاوید خان کا فون ہے آپ کے لیے ۔۔۔۔۔۔
جہانگیر لونی جو شکرانہ کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے گل جان کی بات پر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔گل جان ابھی ہم خود پریشان ہے ہمھیں کسی سے بات نہیں کرنی سردار وہ کہہ رہا ہے ضروری بات ہے اچھا لادے اور تو جا وہ اس سے فون لیتا ہے اور اسے جانے کا کہتا ہے اس کے جانے کے بعد وہ فون کان سے لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں کر بکواس۔۔۔۔۔۔ دیکھ جاوید تجھے پورا یقین ہے ۔۔۔۔۔ اچھا اور اگر تیری بات جو غلط ہوئ نہ تو پھر تمھارا ہم وہ حال کریگا کہ تم یاد رکھے گا ٹھیک تو آ پھر ہم مل کر کچھ سوچتے ہیں اس Bk کے بارے میں ٹھیک ہے دوسری طرف سے پتا نہیں کیا کہا جاتا ہے جس پر جہانگیر لونی قہقہ لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں اب قصہ ختم اس Bk کا جہانگیر لونی شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکرین پر چلتے ہوۓ منظر کو دیکھ کر میر کے چہرے پر پریشانی چھاجاتی ہے اور وہ جلدی سے موبائل جیب سے نکالتا ہے اور کسی کو مسیج کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
سر آپ صحیح کہہ رہے تھے ان سب کو شیر سر کے بارے میں پتا چل چکا ہے کہ وہ Bk نہیں ہے بلکہ کوئ آرمی آفیسر ہے شاویز میر سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آئ نیو اٹ مجھے پہلے ہی پتا تھا یہ سب ہونے والا ہے میں نے منع کیا تھا اسے لیکن یہ لڑکا سمجھتا ہی نہیں ہے ہمیشہ اپنی انٹیلیجنس کا امتحان لینے کے در پر ہوتا ہے اب ہمھیں جلدی سے کچھ کرنا ہوگا السلام علیکم ایروی ون چلو میر میں چلتا ہوں وعلیکم السلام میجر آبص رضا میر عرف Bk آپ کہیں نہیں جارہے میر اسکے سامنے آتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کیوں سب ٹھیک ہے نہ شیر مسکراتے ہوۓ پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔ نہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں جہانگیر لونی اور باقی سب دہشتگردوں کو پتا چل گیا ہے کہ تم کون ہو اور وہ سب اب تمھارے خون کے پیاسے بنے ہوۓ ہیں اسلیے اب تم کہیں نہیں جارہے ہو جو بھی کرنا ہے ہم یہی مل کر کرینگے لیکن بھائ ہم آرمی آفیسرز ہیں ہم اسے ڈر تو نہیں سکتے نہ ان ملک کے دشمنوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شیر ڈر کون رہا ہے اس وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا پڑیگا میں اور شاویز کچھ کام سے جارہے ہیں ریحان کیپٹن عائشہ اور صالحہ کے ساتھ کرنل صاحب کو رسیو کرنے گیا ہے شکرانہ گھر میں اکیلی ہے تم اسکے ساتھ رہو ہم آتے ہیں لیکن بھائ شیر کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہے بس شیر کوئ بحث نہیں میر اسکی بات بیچ میں کاٹتے ہوۓ کہتا ہے اور وہاں سے چلاجاتا ہے پیچھے شیر زور سے اپنا ہاتھ کانچ کے ٹیبل پر مارتا ہے جس کے باعث اسکا ہاتھ زخمی ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
یہ آج گھر میں اتنا سناٹا کیوں ہے عائشہ آپی بھی نہیں دکھ رہی پتانہیں سب کہاں ہے شکرانہ لیونگ روم میں ادھر اُدھر دیکھتی ہے تو اسے کوئ نظر نہیں آتا وہ واپس جانے لگتی ہے کہ اسے ایک سائیڈ شیر بیٹھا نظر آتا ہے جو شاید کچھ کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ تو وہی ہے کل والا یہ کیا کررہا ہے چلو دیکھتی ہوں کل تو اسکا چہرہ نہیں دیکھ پائ آج دیکھ لونگی شکرانہ تجسس کے مارے آگے بڑھتی ہے شیر جو اپنے ہاتھ میں پٹی باندھنے کی کوشش کررہا تھا شکرانہ کی موجودگی کو محسوس کرلیتا ہے اور جلدی سے پاس پڑی کیپ اٹھا کر سر پر پہنتا ہے شکرانہ جو اسکا چہرہ دیکھنے کے لیے قریب آتی ہے اسے کیپ پہنا دیکھ مایوس ہوتی ہے لیکن جب اسکی نظر اسکے ہاتھ پر پڑتی ہے تو وہ پریشان ہوجاتی ہے خون ان کے ہاتھ سے تو خون نکل رہا ہے لیکن رات کو تو ٹھیک تھے لیکن اب میں کردوں کیا ان کی ہیلپ لیکن میں کیسے میں تو ان کو جانتی بھی نہیں ہوں اف میں کیا کروں شیر اسکی پریشانی اسکے چہرے پر دیکھ سکتا تھا کہ وہ کس قدر پریشان ہوگئ تھی اس کے خون کو دیکھ کر اور وہ جانتا تھا وہ ایسی تھی جو Bk سے نفرت کرنے کے باوجود اسکو گولی لگنے سے بچاسکتی تھی تو لڑکی کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی اور یہ شیر سے بہتر کون جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اسکیوزمی آپ پلیز یہ پٹیّ میرے ہاتھ پر باندھ دینگی مجھ سے نہیں ہورہا شیر اسے مخاطب کرتا ہے جس پر وہ ہچکچاتے ہوۓ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتی ہے اور اسکا ہاتھ ڈرتے ہوۓ اپنے ہاتھ میں لیتی ہے کہ اسے ایک کرنٹ سا لگتا ہے کیونکہ اسکا ہاتھ بہت گرم ہوتا ہے اسے تو بخار ہے یہ رہا فرسٹ ایڈ باکس میں آپکو بتاتا جاتا ہوں آپ ویسا ویسا کرتی جائیں پھر شیر اسے بتاتا ہے اور وہ کسی بچے کی طرح اسکی بات مانتی ہے اور اچھے سے اسکے ہاتھ میں پٹّی کردیتی ہے اور پھر جلدی سے کچن کی طرف جاتی ہے شیر اسکی جلدبازی پر حیران ہوتا ہے لیکن پانچ منٹ بعد جب وہ کچن سے باہر آتی ہے تو اسکے ہاتھ میں ایک ٹرے ہوتی ہے جس میں گرم دودھ اور سینڈوچز ہوتے ہیں اور ساتھ میں میڈیسن بھی وہ اسکے آگے رکھتی ہے اور ساتھ میں ایک پرچی بھی ہوتی ہے جیسے شیر کھول کر پڑتا ہے ۔۔۔۔۔ آپکو بخار ہے پہلے یہ کھالیں پھر میڈیسن بھی لے لیجیۓ گا اس میں لکھا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس دفعہ میجر آبص رضا میر کے چہرے پر کھل کر مسکراہٹ آجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھتا ہے جہاں وہ چاۓ کا مگ ہاتھ میں لیے بیٹھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیوں ان کی مدد کی شاید اس لیے کیونکہ میر ان کے لیے پریشان ہورہے تھے ہاں بس اور کچھ نہیں شکرانہ دل کو تسلی دیتی ہے اور جلدی سے اٹھتی ہے کہ شیر کے پاؤں رکھنے کی وجہ سے اسکا پاؤں اسکے پاؤں سے اٹکتا ہے اور وہ بیلنس کھوتے ہوۓ دھڑام سے شیر کی گود میں گرتی ہے شیر جو موبائل پر کوئ مسیج ٹائپ کررہا تھا شکرانہ کے گرنے پر بوکھلاجاتا ہے اور جلدی سے وہ اسکی طرف دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ جوکہ زمین پر گرنے کا سوچ کرہی اپنی آنکھیں بند کرتی ہے شیر کی آواز سے اسکی طرف متوجہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ آریواوکے آپ ٹھیک ہیں یہ آواز یہ پتا نہیں کیوں شکرانہ کو لگتا ہے اس نے پہلے کبھی سنی ہو ابھی وہ کچھ سمجھنے کی کوشش کرتی کہ باہر کا دروازہ کلک سے کھولتا ہے جس پر دونوں دروازے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعریف لکھنے بیٹھے تھے ان کے مکمل حسن پر۔۔۔۔۔۔۔❤
مگر الفاظ بھی تھم گۓ ان کی جھکی نظر دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔❤
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔