58.1K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

میرا عشق بے زبان
تحریر : حیانور
قسط_ ٢
یہ رکھ لو بچی اگر کوئ پروبلم ہوئ تو کال کرلینا تمھارا ماما آجاۓ گا تمھیں لینے اشفاق صاحب اسے فون دیتے ہوۓ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جیسے لیتے ہوۓ وہ نم آنکھوں سے مسکرادیتی ہے شکرانہ پلیز مت جاؤ نہ ہم مام کو سمجھا لینگے رمیسہ اسے گلے لگاۓ کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جانے دو اسے رمیسہ اگر اسکی یہی خوشی ہے تو بس بیٹا اتنا یاد رکھنا کہ تم اکیلی نہیں ہو تمھارا یہ ماما ابھی تک زندہ ہے کوئ بھی مسئلہ ہو وہاں تو واپس آجانا یا مجھے کال کرکے بلوالینا شکرانہ اثبات میں سر ہلاتی ہے اور بس کے اندر چڑھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تمھیں اپنے حفظ وامان میں رکھے گڑیا پیچھے اشفاق اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور رمیسہ کے ساتھ گھر کے لیے نکل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
سر جیسا آپ نے کہا تھا بالکل ویسا کردیا ہے گڈ شاویز چلو اب جلدی سے بس میں بیٹھتے ہیں یہ نہ ہو کہ بس ہی نکل جاۓ ۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر لیٹس گو شاویز فرمانبرداری سے کہتا ہے اور وہ دونوں جاکر بس میں بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سر یہ بس تو پہلے سے ہی فل ہاؤس ہے بیٹھیں گے کہاں شاویز بس میں چڑھتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں یار وہ دیکھو وہاں جگہ ہے تم وہاں بیٹھ جاؤ میر اسے ایک آدمی جو اکیلا بیٹھا ہوتا ہے اس کے پاس بیٹھنے کے لیے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سر وہ لڑکی بھی تو اکیلی بیٹھی ہوئ ہے آپ وہاں بیٹھ جائیں شاویز لڑکی کی طرف اشارہ کرتا جو نقاب میں ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں شاویز لڑکی کے پاس نہیں بیٹھ سکتا تم جانتے ہو لڑکیوں اور عورتوں کی میں بہت عزت کرتا ہوں اور ویسے بھی وہ میرے لیے نہ محرم ہے میں نہیں چاہتا میرے بیٹھنے سے وہ ان کمفرٹیبل فیل کرے تم وہاں بیٹھ جاؤ میں یہی کھڑا ہوں ابھی اگر لوگ راستے میں اترے تو خود ہی جگہ بن جاۓ گی ۔۔۔۔۔۔ جی سر شاویز مسکراتے ہوۓ چلاجاتا ہے وہ واقف تھا اپنے میر سر کی طبعیت سے لڑکیوں کے معاملے وہ بڑا حساس تھا اس کے لیے سب سے بڑھ کر ایک عورت کی عزت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
بی کے ولا :
بی کے میں کیا سوچ رہا ہوں اب یہ اسلحے اور ڈرگز وغیرہ سپلاۓ کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے کیوں نہ ہم لڑکیاں سپلاۓ کریں ۔۔۔۔۔۔۔ جاوید خان اس سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں جاوید بی کے ابھی بی کے ایسے دن نہیں آۓ کہ وہ دلالی والے کام کرے وہ ویسے بھی ابھی میں نے اس بارے سوچا نہیں جو سوچوں گا تو سب سے پہلے تمھیں بتاؤں گا بی کے سکون سے کہتا ہے بی کے دیکھو اس میں ب۔۔۔۔ بس جاوید صاحب بی کے اپنی بات دوہرانے کی عادت نہیں سمجھے آپ بی کے کہتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے جاوید خان غصے سے کہتا بی کے تیرا تو میں ایک دن ایسا انتظام کروں گا کہ تیری ساری اکھڑ نکل جاۓ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
ؤاؤ بلوچستان کے راستے تو کتنے خوبصورت ہیں مجھے ان سب کی وڈیو بنانی چاہیۓ وہاں پہنچتے ہی رمیسہ آپی کو بھیجوں گی شکرانہ دل میں کہتے ہوۓ اشفاق صاحب کا دیا ہوا موبائل نکالتی ہے اور بلوچستان کے خوبصورت منظر کو اپنے موبائل میں قید کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میجر آبص رضا میر جوکہ وہی پاس ہی کھڑا ہوتا ہے نظر جب اس نقاب پوش لڑکی پر پڑتی ہے جو بلوچستان کے راستوں کو اپنے موبائل میں قید کررہی ہوتی ہے اس دیکھ میجر آبص کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے آنکھوں کے سامنے ایک سایہ سا لہراتا ہے ایک پل میں اس کی مسکراہٹ غائب ہوجاتی ہے اور کان میں لگے چھوٹے سے آلے میں رابطہ کرتا ہے جوکہ کیپ میں نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔ کیا پوزیشن ہے ۔۔۔۔۔ سر ہم ٹارگٹ کے بالکل قریب ہیں دوسری طرف سے بولا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اوکے بٹ یاد رہے کوئ بھی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔ جی سر کوئ گڑبڑ نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔ اوکے میر اسے چند ایک ہدایات دے کر رابطہ منقطع کردیتا ہے تبھی ایک آدمی بس سے نیچھے اتر جاتا ہے اور میر جاکر اس کی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار تم کیا کرتا ہے جلدی جلدی گاڑی چلا شمس سر کا کال آرہا ہے کہ مال جلدی سے ڈلیور کرو ایک شخص جس کا حلیہ بالکل بزرگوں والا ہوتا ہے وہ آکر آرام سے بس ڈرائیور کے کان میں سرگوشی کرتا ہے جس پر بس ڈرائیور اثبات میں سرہلاتا ہے اور بس کی رفتار تیز کردیتا ہے تبھی سامنے سے آتی ایف سی کی گاڑی اس کا راستہ روک دیتی ہے اور بس ڈرائیور کو مجبوراً بس روکنی پڑتی ہے بس ایک جھٹکے سے روکنے پر شکرانہ کے ہاتھ سے موبائل گرجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے وہ نیچھے اٹھانے کے لیے جیسے ہی جھکتی ہے بس میں فائرنگ ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ فائرنگ کی آواز سن کر شکرانہ ڈر کے مارے وہی جھکی رہتی ہے
منع کیا تھا میں نے کوئ فائر نہیں ہوگا عام عوام بھی بس میں موجود ہےجن کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے بند کرو فائر میر ہلکی آواز مگر غصے میں کہتا ہے سر فائرنگ ہم نے نہیں دہشتگردوں نے شروع کی تھی پہلے دوسری طرف جواب آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اوکے ناؤ اسٹاپ فائرنگ ۔۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر دوسری طرف سے جواب آتا ہے جیسے سن کر میر رابطہ منقطع کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ گھٹنوں کے بل چلتے ہوۓ آگے کی طرف بڑھتا ہے کہ اسکی نظر بلیک ڈوپٹہ پر پڑتی ہے وہ جلدی سے ڈوپٹہ کی سمت بڑھتا ہے جہاں وہ نقاب کیے سیٹ کے نیچے چھپی ہوتی ہے میر اس کی طرف بڑھتا ہے اور ہلکے اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہے گھبرائیے مت بس ایسے ہی چھپی رہیں اٹھیۓ گا مت یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ اپنے کان کے قریب بھاری مردانہ سرگوشی سن کر اچھل پڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز ریلکس کریں اٹھیے مت فائرنگ ہورہی ہے میر پھر سے کہتا ہے شکرانہ کی میر کی طرف پشت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ میر کی بات پر عمل کرتے ہوۓ وہی چھپی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ دہشتگردوں کو پکڑ لیتے ہیں جو کہ بس میں زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں اور عام عوام جو صرف 15 فیصد ہی ہوتی ہے انہیں حفاظت کے ساتھ دوسری بس میں بیٹھا لیا جاتا ہے جس کا انتظام میجر آبص نے پہلے ہی کر رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر پہلی کامیابی مبارک ہو شاویز پاس آتے ہوۓ مسکرا کر کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ کو بھی بہت بہت مبارک شاویز سارا اسلحہ ہیڈ کواٹر بیجھوانے کا انتظام کرو جلدی سے اور ہاں ان دہشتگردوں کو ٹاچر سیل میں رکھوانے کا انتظام کرو ان کی خاطر داری تو میں خود کروں گا میر ان دہشتگردوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ وہ کیپ کی وجہ سے میر کا چہرہ نہیں دیکھ پاتے ۔۔۔۔۔۔ اوکے سر شاویز سلیوٹ مارتے ہوۓ کہتا ہے تو میر بس سے اتر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس سے باہر نکلتے ہی میر کرنل شہوار سے رابطہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ میجر آبص رضا میر اسپیکنگ سر بی کے کا سارا اسلحہ ہم نے پکڑلیا ہے اور ہیڈ کواٹر بیجھنے کا انتظام بھی کرلیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ینگ مین مبارک ہو تمھیں اپنی پہلی کامیابی ۔۔۔۔۔۔۔ تھنکیو سر ۔۔۔۔۔۔ لیکن یاد رہے میر اب بی کے کو جب معلوم ہوگا تو وہ چپ نہیں بیٹھے گا اس لیے اب تمھیں اور بھی احتیاط کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نا ہو کہ ہماری وجہ سے ہماری عوام کو تکلیف ہو ۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر آپ بےفکر رہیں اور مجھ پر بھروسہ کریں بی کے کی ہر چال ناکام بنادوں گا اور جلد ہی اس جیسے ملک کے دشمن کو پکڑ لینگے ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے مجھے بھروسہ ہے تم پر کہ تم سب سنبھالو گے ۔۔۔۔۔۔۔ انشاءاللہ سر میر کہتے ہوۓ رابطہ منقطع کردیتا ہے اور اپنی جیپ میں بیٹھتے ہوۓ وہاں سے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
چلو جلدی جلدی چلاؤ بس اور اچھی طرح بس کو چیک کرو کہیں کوئ رہ نہ گیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ شاویز اپنے باقی ساتھیوں سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر ریحان اسے آواز دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں کیا ہوا سر یہاں سیٹ کے نیچھے لڑکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا لڑکی لیکن سب لوگوں کو تو بس سے اتر وادیا تھا نہ لڑکی کہاں سے آگئ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں سر یہاں سیٹ کے نیچھے ہے ریحان سیٹ کے نیچھے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں شکرانہ چھپی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اسکیوزمی متحرمہ آپ یہاں سیٹ کے نیچھے کیا کررہی ہیں شکرانہ کو اپنے پیچھے مردانہ آواز سنائ دیتی ہے جیسے سن کر وہ کھڑی ہوتی ہے نقاب ہنوز اس کے چہرے پر بندھا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ بولتی کچھ نہیں ہے اور بولتی بھی کیسے بے چاری بے زبان جو تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیں میں آپ سے پوچھ رہا ہوں آپ یہاں کیا کررہی ہیں شاویز پھر سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اب بھی کچھ نہیں بولتی بس سر جھکاۓ کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیں متحرمہ سب لوگ اتر چکے ہیں یہ جگہ سیو نہیں آپ کے لیے آپ کیوں نہیں اتری سب کے ساتھ اب کی بار ریحان کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں ان کو کیا بتاؤں کہ میں کیوں نہیں اتری اور ویسے بھی میں بولوں کیسے انہیں کہ میں بول نہیں سکتی یااللہ یہ میں کس عذاب میں پھس گئ شکرانہ دل میں سوچتی ہے ۔۔۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف وہ دونوں بےچارے اس کے نابولنے پر پریشان ہورہے ہوتے ہیں سر شاید لڑکی صدمہ میں ہے ریحان کہتا ہے جس پر شاویز اسے گھورتا ہے شیٹ اپ ریحان میں سر کو کال کرتا ہوں تم یہی ان کے پاس رہو یہ جگہ سیو نہیں ہمھیں جلدی سے یہاں سے نکلنا ہوگا تم طیب کو بولو بس اسٹارٹ کرے اور آپ متحرمہ جہاں آپ کو جانا ہے ریحان کو بتادیں ہم آپ کو وہاں سیو لی پہنچادیں گے میں سر کو کال کرکے آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ شاویز پہلے ریحان اور پھر شکرانہ سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اوف ایڈیٹ سمجھتے بھی نہیں کہ میں بول نہیں سکتی اب میں انہیں کیسے بتاؤں کے مجھے لونی جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ دل میں سوچتی ہے اور ریحان جو اس کو غور سے دیکھ رہا ہوتا ہے شکرانہ کے گھورنے پر اپنی نظروں کا زاویہ بدلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر ایک پروبلم ہوگئ ہے شاویز میر کو کال کرتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ واٹ کیا پروبلم دوسری طرف سے میر کی سنجیدگی سے پوچھتا ہے سر بس سے ہم نے سارے لوگ اتر وادئیے تھے لیکن ایک لڑکی رہ گئ سر بس میں سیٹ کے نیچھے چھپی ہوئ تھی ۔۔۔۔۔۔ کیا دوسری طرف وہ حیرت سے کہتا ہے جی سر ہم نے اس سے پوچھا لیکن جواب بھی نہیں دے رہی اب کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔ اوکے میں آرہا ہوں بٹ میک شیور لڑکی کو کچھ بھی ہونا نہیں چائیے just because ہماری وجہ سے کپیٹن عائشہ سے رابطہ کرو اور فوری طور پر اسے انہیں بلواؤ تاکہ لڑکی تھوڑی کمفرٹیبل ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ اوکے سر شاویز کہتے ہوۓ فون کٹ کردیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔