50.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

میرا عشق بےزبان
تحریر: حیانور
ایپیسوڈ :١٦
سردار آپ یہی رہیں میں دیکھتا ہوں کہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ او جلدی کرنا ہم کو پہلے سے دیر ہورہا ہے جہانگیر لونی بیزاریت سے بولتا ہے ۔۔۔۔۔ جی سردار ڈرائیور جلدی سےنیچے اترتا ہے اور لڑکی جو زمین پر پڑی ہوتی ہے اسے سیدھا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سردار سردار شکرانہ کا چہرہ دیکھتے ہی ڈرائیور جلدی سے گاڑی کی طرف بھاگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا مصیبت آگئ ہے جو ایسے ْبھاگتا ہوا آرہا ہے جہانگیر لونی جو پہلے سے ہی تپا ہوا تھا دیر ہونے پر اب ڈرائیور کو اس طرح بھاگتے ہوۓ آتا دیکھ مزید تپ جاتا ہے ۔۔۔۔۔ سردار وہ وہ بی بی جی وہاں میرا مطلب ہے شکرانہ بی بی جی ہے وہاں زمین پر جہانگیر لونی جو ڈرائیور کو اٹکتا دیکھ تھپڑ مارنے کا ارادہ کرتے ہوۓ اپنا ہاتھ اٹھانے والا تھا شکرانہ کے نام پر چونک جاتا ہے ۔۔۔ رانی میری کہاں ہے جہانگیر لونی جلدی سے گاڑی سے باہر نکلتا ہے بھاگتے ہوۓ شکرانہ کی طرف آتا ہے ۔۔۔۔۔ میری رانی شکرانہ کہاں تھی تو جلدی سے اٹھ وہ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام وہ ہنوز بے ہوش ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ تم کیا ہمارا منہ دیکھ رہا ہے جلدی سے ہماری پوتی کو اٹھانے میں مدد کرو ۔۔۔۔۔۔ جی جی سردار وہ دونوں اسے اٹھاۓ گاڑی میں لیٹاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میر یہ سب منظر درخت کی اونٹ میں چھپے دیکھ رہا تھا تبھی اس کا سیل بجتا ہے۔۔۔۔۔۔ جیسے وہ یس کرتے ہوۓ کان سے لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائ پوزیشن کیسی ہے ایوری تھنگ از فائن نہ دوسری طرف وہ بے چینی سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ریلکس میرے شیر ایوری تھنگ از فائن اینڈ شکرانہ ان کے ساتھ ہی ہے ان کو اس پر بالکل بھی شک نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا آپ نے بات کی اس سے ابھی وہ اب بھی فکرمند لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اچھا میں دیکھتا ہوں تم جاؤ اور اپنا کام کرلو اج کی تاریخ میں ورنہ پھر پروبلم ہوجاۓ گی تمھیں وہ اسے بولتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمم ٹھیک کہہ رہے ہو تم لیکن پلیز ایک دفعہ مجھے اسکی وڈیو سینڈ کردو تاکہ میں تسلی کرلوں کہ وہ ٹھیک ہے وہ جیسے منت کررہا تھا میر اس کی بات پر مسکراتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اوکے میر شیر میں سینڈ کردیتا ہوں تم بس اپنے کام پر فوکس کرو اور آل دا بیسٹ آج کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ تھنکس بھائ اللہ حافظ پھر الوادعی کلمات کہتے ہوۓ میر کال کٹ کردیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
شکرانہ جس کا سر جہانگیر لونی کی گود میں ہوتا ہے کان میں اس نے بالکل چھوٹا سا مونگ کی دال جتنا ائیر پیس لگایا ہوتا ہے اس میں سے میر کی آواز آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ آریو اوکے اگر آپ ٹھیک ہے تو اپنی آنکھوں کو آرام آرام سے کھولیں کیونکہ اب ٹائم آگیا ہے پلین پر عمل کرنے کا میر کی بات پر شکرانہ آرام آرام سے اپنی کھولتی ہے جس پر میر کو تسلی ہوتی ہے کیونکہ شکرانہ کے ہاتھ کی کلائ پر جو گھڑی بندھی ہوتی ہے اس میں چھوٹا سا اسپوۓ کمرہ لگا ہوتا ہے جس سے میر آسانی سے اس کا چہرہ دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ شکرانہ سیدھے ہوکر جہانگیر لونی کی طرف دیکھتی ہے اور روتے ہوۓ اس سے لپٹ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جہانگیر لونی شکرانہ کو روتا دیکھ پریشان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا میری رانی رو کیوں ہورہی ہے تجھے اس Bk نے کچھ کیا ہے کیا ہاں وہ اسے کندھوں سے پکڑے پوچھتا ہے تو وہ پھر رودیتی ہے ۔۔۔۔۔ اچھا چل رو نہیں میرا بچہ اب دادا جان تیرا تجھے کہیں نہیں جانے دے گا ہاں وہ اسے گلے لگاتا ہے ابے او حرام خور جلدی چلا ورنہ یہی تیری ٹانگیں توڑ دوں گا میں جہانگیر لونی کی بات سن کر ڈرائیور جلدی سے گاڑی کی اسپیڈ تیز کردیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر شکرانہ گڑیا کو کچھ ہوگا تو نہیں نہ شاویز فکرمندی سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ شاویز وہ میجر آبص رضا میر کی محبت ہے اسے کچھ نہیں ہوگا اور ویسے بھی یہ سب کچھ وہ اپنے وطن کے لیے کررہی ہے اللہ پاک اس کی حفاظت کرے گا انشااللہ میر مسکراتے ہوۓ شاویز سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جی سر میں اور ریحان کراچی کے لیے نکل رہے ہیں اطلاع ملی ہے کہ وہاں بہت بڑی تعداد میں ڈرگز سپلاۓ ہورہا کراچی کی یونیورسٹی میں اس لیے ہم وہاں جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوکے شاویز آپ جاؤ اور ہاں دھیان سے جانا اوکے فی امان اللہ وہ اسے جانے کی اجازت دیتا ہے اور خود دوبارہ اسکرین کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
جہانگیر لونی کی گاڑی گوادر کے ایک مشہور ہوٹل کے سامنے روکتی ہے جہاں اس نے پہلے سے ہی اپنا روم بک کروایا تھا اور ان سب کی میٹنگ بھی یہی ہونی تھی شکرانہ اب کہ ڈر رہی تھی کہ پتا نہیں آگے اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا آجاؤ رانی دو دن ہم یہی روکیں گے پھر ہم اپنے گھر جائیں گے تمھارے لیے میں روم بک کروادیتا ہوں تم جاؤ تب تک میرے روم میں آرام کرو ٹھیک ہے میرا بچہ جہانگیر لونی جو شکرانہ سے باتیں کررہا تھا جاوید خان کو اپنی طرف آتا دیکھ وہ جلدی سے شکرانہ کو وہاں سے بھیجتا ہے یہ لو چابی جاؤ میں آتا ہوں شکرانہ اثبات میں سرہلاتے ہوۓ وہاں سے چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ابے جہانگیر کیا زبردست قسم کی افسرا لے کر گھوم رہے ہو ہمارا بھی تعارف تو کرواؤ اس سے وہ کمینگی سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔ ابے گالی پوتی ہے میری بکواس نہیں کر ورنہ یہی تجھے گولیوں سے اڑادوں گا گھٹیا کدھر کا چل اب جلدی سے کام ختم کروا اور مجھے جانا بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ہاں بس تھوڑی دیر میں سب پہنچنے والے ہیں پھر ہم اپنی میٹنگ شروع کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جب تک میں آرام کرتا ہوں ٹھیک ہے وہ دونوں الوداعی کلمات کے ساتھ ہوٹل کے اندر داخل ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
شکرانہ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی میر سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اسے وڈیو کال کرتی ہے جو کہ میر کی جگہ شیر اٹھاتا ہے اسکرین کے سامنے اس کا چہرہ آتا ہے ہمیشہ کی طرح پی کیپ پہنے ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے دیکھ شکرانہ گہری سانس لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔ اففف یہ شہزادہ گلفام ہمیشہ کی طرح اپنا چہرہ چھپاتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوئیٹ میرا مطلب شکرانہ آریو اوکے وہ فکرمندی سے پوچھتا ہے شکرانہ اثبات میں سر ہلاتی ہے اوکے اب جلدی سے جو خفیہ کمرہ تمھیں میر نے دیا اسے یہاں کسی خفیہ جگہ کوئ بھی ایسی جگہ جہاں جہانگیر لونی کی نظر نہ پڑے وہاں لگادو اور ہاں گھبرانہ بالکل نہیں ہے تمھارے ارادے پاک ہیں اللہ تمھارا حامی و ناصر وہ اسے دعا دیتے ہوۓ کال کٹ کرلیتا ہے کیونکہ جہانگیر لونی کسی بھی وقت کمرے میں آسکتا تھا شکرانہ تیزی سے سر ہلاتی ہے وہ بھی کال کٹ کردیتا ہے شکرانہ ایک سائیڈ پر بنے ہوۓ کتاب کی شیلف میں رکھے کتابوں کے بیچ وبیچ کیمرہ لگادیتی ہے جس سے منظر صاف ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
جہانگیر لونی دروازہ کھولتا ہوا اندر آتا ہے شکرانہ بیڈ پر بیٹھی اسے نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔ رانی کیا کھاؤ گی کیا منگواؤں تمھارے لیے وہ کچھ بھی نہیں کہتی بس منہ پھولاۓ بیٹھی ہوتی ہے ارے اب تم اپنے دادا سے ناراض رہوگی وہ غلطی ہوگئ اب نہیں ہوگی بیٹا معاف کردو اپنے دادا سے وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوۓ کہتا ہے۔۔۔۔ دادا کے نام پر دھبہ ہو تم جہانگیر لونی شکرانہ حقارت سے دل میں کہتی ہے شکرانہ کے خیالوں کا تسلسل جہانگیر لونی کے موبائل پر آنے والی کال سے ٹوٹتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جہانگیر لونی یس کرتے ہوۓ غصے سے کہتا ہے اب کیا مصیبت آگئ ہے جو اس وقت کال کررہے ہو دوسری طرف سے پتا نہیں کیا بولا جاتا ہے جہانگیر لونی تیزی سے کمرے میں لگے ہوۓ ٹی وی کو اون کرتا ہے جہانگیر لونی کو تیزی سے ٹی وی کی طرف جاتا دیکھ شکرانہ بھی حیران ہوتے ہوۓ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکرین پر چلتے منظر نے شکرانہ کے پیروں تلے زمین کھینچ لی تھی۔۔۔۔۔ جی ناظرین ہم آپکو بتاتے چلیں کہ Bk ولا میں زوردار دھماکا جس کے باعث چاروں طرف ہی آگ لگ گئ ہے اطلاعت کے مطابق یہ بتایا جارہا ہے کہ دھماکہ شدید نوعیت کا تھا جس کے باعث پورے ولا میں ہی آگ لگ گئ ناظرین ہم آپکو یہ بھی بتاتے چلیں کے اس دھماکے میں انڈرورلڈ کے بہت بڑے دہشت گرد ہمارے ملک کا غدار بہرام خانزادہ عرف Bk اس بم دھماکہ میں ہلاک ہوگیا ہے نیوز اینکر اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی لیکن شکرانہ کو تو مانو جیسے کچھ سنائ نہیں دے رہا تھا آنکھوں کے سامنے بس جلی ہوئ Bk ولا کا منظر چل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوئیٹ ہارٹ بہت محبت کرتا ہوں تم سے جب تم پاس ہوتی ہو نہ تو عاجز آجاتا ہوں دل کی دھڑکنوں ترتیب دیتے دیتے ۔۔۔۔۔۔ جب تک سانسیں چل رہی ہے تب تک تو تم بھول جاؤ کے Bk تمھارا پیچھا چھوڑے گا ذہن کے پردوں پر اس کی آوازیں سنائ دے رہی تھی وہ تو کہتا کہ جب سانس روکے گی تب ہی پیچھا چھوڑوں گا تو کیا اس کی سانسیں روک گئ تھی وہ بھی تو یہی چاہتی تھی کہ bk جیسا گھٹیا انسان ملک کا غدار مر جاۓ لیکن اب جب وہ مرگیا
تھا تو اسے کیوں اتنی تکلیف ہورہی تھی کیوں اسکا دل زور زور سے رونے اور چیخنے کو چاہ رہا تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھی سوئیٹ ہارٹ دعا کرو میں مرجاؤں کیونکہ جیتے جی تو میں تمھیں خود سے دور نہیں کرسکتا شکرانہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ساکت نظروں سے اسکرین کی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ جہانگیر لونی Bk کی موت کا سن کر زور زور سے قہقے لگا رہا تھا شکرانہ کو اس وقت اس کے قہقوں سے خوف محسوس ہورہا تھا وہ جو جہانگیر لونی کو دیکھ کر کھڑی ہوئ تھی اب وہی Bk کی موت کا سن کر زمین پر بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو بچھڑا یہ رمز سمجھائ اس نے 🤕
روح ایسے نکلتی ہے ، لوگ ایسے مارا کرتے ہیں😥
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
اور فائنلی یہ مرحلہ بھی حل ہوا سب کچھ اچھے سے ہوگیا ہاں یار شکر ہے ان لوگوں کو شک نہیں ہوا ویسے میر مجھے لگتا ہے جہانگیر لونی کو یقین آہی جاۓ گا کہ bk مرگیا ہے وہ اس سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شیر چلو دیکھتے ہیں شکرانہ نے کیمرے تو فٹ کرہی دیۓ ہیں چلو دیکھتے ہیں اب ان کی میٹنگ اسٹارٹ ہوگئ ہوگی ہاں چلو اون کرو لیپ ٹاپ وہ دونوں لیپ ٹاپ پر نظریں جماتے ہیں جہاں وہ سارے بیٹھے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ گالی bk مرگیا اپنے ہی اس ولا میں بہت ترم خان بنتا تھا نہ ہر چیز اپنے حساب سے کرنے کا بہت شوق تھا اسے لیکن اب دیکھو ایسا گیا کہ جسم کا ایک حصہ بھی نہیں بچا بچارے کا ہاں ۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک کہتا ہے شکر ہے گالی مرگیا اب ہم اچھے سے پلین کو انجام دیں گے کل گوادر پورٹ پر ایک پروگرام ہے جس میں بہت سے لوگ ہونگے اور غیرملکی لوگ بھی ہونگے ہمھیں وہاں بم بلاسٹ کرواکر خوف پھیلانا ہے بہت سے لوگوں کی جان لے کر آرمی کے منہ پر تماچہ مارنا ہے وہ سب تو ٹھیک لیکن ہم ایسے کرینگے کیسے جاوید خان جہانگیر لونی سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میری رانی ہے نہ شکرانہ میری پوتی کب آۓ گی اپنے دادا کے کام اس کو ہی خودکش بمبار بنا کر بھیجیں گے اور کسی کو شک بھی نہیں ہوگا کیونکہ لڑکی ہے اس طرح ہمارا کام بھی ہوجاۓ گا اور تباہی بھی مچ جاۓ گی جہانگیر لونی شیطانی انداز میں قہقہ لگاتا ہے اس کی بات سن کر کمرے میں موجود باقی لوگ بھی قہقے لگاتے ہیں جبکہ جہانگیر لونی کی گھٹیا بات سن کر اسکرین کے سامنے بیٹھے شیر کا دماغ گھوم جاتا ہے وہ زور سے لیپ ٹاپ کو اٹھاکر پھینکتا ہے گھٹیا آدمی نہیں چھوڑونگا میں اسے میں نے کہا بھی تھا اسے مت بھیجو مجھے ہینڈل کرنے دو خود لیکن نہیں اب دیکھ لیا انجام وہ میری شکرانہ میری زندگی کو خودکش بمبار بنا کر گوادر ہورٹ بھیجے گا میں ایسا نہیں ہونے دوں گا ابھی جاکر اس گھٹیا آدمی کو جان سے مار کر قصہ ختم کرآتا ہوں وہ غصے سے اٹھتا ہوا کمرے سے باہر نکل جاتا ہے جبکہ اس کا غصہ دیکھ میر جلدی سے اسکے پیچھے بھاگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔