No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
میرا عشق بے زبان
تحریر : حیانور
قسط _ ١
کہاں گئ یہ مانوس ماری کب سے میں نے اسے چاۓ بنانے کا کہا تھا لیکن نہیں کمبخت کو فرصت ہی نہیں ہے او لڑکی سن رہی ہے یا اٹھاؤں ڈنڈا عفت بیگم غصے سے پورے گھر میں اسے ڈھونڈتے ہوۓ چلاّ تی ہے ۔۔۔۔۔۔ کیا مصیبت آگئ اماں کیوں پورے گھر کو سر پر اٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ رمیسہ بیزاریت سے بولتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہے یہ کرمجلی بلُا اسے ایک کام نہیں کرتی نمک حرام بہت کام چور ہوگئ ہے اماں وہ گھر پر نہیں رمشہ کے کام سے باہر گئ ہوئ ہے ۔۔۔۔۔ کیا مطلب اسے باہر بیجھا کس نے میری اجازت کے بغیر پھر کوئ نیا کارنامہ کرکے آجاۓ گی کمبخت اے میرے اللہ میں تنگ آگئ ہوں اس نوست سے کب میری جان چھوٹے گی اس مصیبت سے عفت بیگم اسے گالیوں سے نوازتے ہوۓ سوچ رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لیں آگئ رمیسہ اسے گیٹ سے اندر داخل ہوتا دیکھ عفت بیگم سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اسے دیکھتے ہی غصے سے اسکی جانب بڑھتی ہیں وہ جو گیٹ سے اندر داخل ہورہی ہوتی ہے عفت بیگم کو اپنی طرف آتا دیکھ وہی گیٹ کے ساتھ چپک جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کہاں گئ تھی تو اپنا منہ کالا کرنے منع کیا ہے نہ میں نے تجھے کہ گھر سے باہر نہیں نکلنا تجھے لیکن تجھ جیسی جاہل کو میری بات کہاں سمجھ آۓ گی میں بتا رہی ہوں رمیسہ اگر پھر کوئ ماں اپنے لاڈلے کا رشتہ لے کر میری دہلیز پر آئ نہ تو میں اس کا ایسا انتظام کروں گی یہ پوری زندگی یاد رکھے گی سمجھالے اسے اور تو اب مجھے گھورنا بند کر مانوس ماری اور جا میرے لیے چاۓ بنا عفت بیگم اسے دھکا دیتی ہے جس سے وہ زمین بوس ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔ بڑی آئ باہر جانے والی عفت بیگم کہتے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پیچھے وہ اپنے آنسو صاف کرکے کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ بس کرو اب رونا میں نے تمھیں کہا بھی تھا رمشہ کی بات پر گھر سے باہر مت جاؤ لیکن تم تو پھر تم ہونہ ہر ایک کی فرمانبردار تو اب رونا کس بات کا تم نے اپنے لیے یہ زندگی خود چنی ہے اب بھگتو رمیسہ اسے دیکھے دکھ سے کہتی ہے اور وہاں سے چلی جاتی ہے وہ بھی اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ کچن کی طرف بڑھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💞…………………………………………💞
یہ منظر ہے بلوچستان کے شہر سبی کے گاؤں لونی کا جو سبی سے تقریباً 15 کلو میٹر کی دوری پر ہے یہاں پر سردار جہانگیر لونی کی حکومت ہے ان کی مرضی کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہلتا پورے گاؤں والے سردار جہانگیر لونی سے ڈرتے تھے ان سے پوچھے بغیر کوئ کام نہیں کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ سردار میری جنیک(لڑکی) کا کیا قصور ہے چھوڑ دے اسے بشیر روتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ تمھاری جنیک نے ہماری روایت کو توڑنے کا کوشش کیا ہے جس کی سزا اسے مرکر ملے گی سردار غصے سے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ نہیں سردار ایسا نہ کرو ہم مانگتا ہے اس کی طرف سے معافی آگے سے ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔اوۓ بشیر تاریخ گواہ ہے جس نے بھی ہمارا روایت توڑنے کی کوشش کیا ہے اسکا سزا موت ہوا ہے سردار صاحب ہمارے بیٹے کو تو چھوڑدے اس کا کیا قصور یہ لڑکی خود بھاگ کر اس کے پاس آیا ہے گل جان ہاتھ جوڑکر کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ او گل جان ہم انصاف پسند ہے سزا دونوں کو ملے گا شیرگل ہم جارہا ہے آرام کرنے ہمارے اٹھنے سے پہلے ان دونوں کا کام ہوجانا چاہیے تاکہ یہ دونوں پورے گاؤں کے لیے ایک سبق ہو آگے سے کوئ بھی اس گاؤں کا جنیک (لڑکی ) یا بچیک (لڑکا) ایک دوسرے کے ساتھ بھاگنے کی کوشش نہ کرے یہ کہتے ہوۓ سردار جہانگیر لونی اپنے تخت سے اٹھتے ہیں اور اپنے گارڈز کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھ کر حویلی کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے ان کے آدمی لڑکے اور لڑکی پر فائرنگ کرکے انہیں گولیوں سے چھلنی کردیتے ہیں جبکہ ان کے ماں باپ اپنے بچوں کی ایسی موت پر نڈھال سے ہوکر وہی زمین پر گر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💙……………………………………….💙
ابے او مانوس جا جاکر دروازہ کھول کب سے بج رہا ہے عفت بیگم جو ٹی وی پر کوئ ڈرامہ دیکھ رہی تھی دروازہ بجنے کی آواز سے ڈسٹرب ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ آرہی ہے کہ میں آؤں بڑی ہی کام چور ہے کمبخت ماری عفت بیگم پھر سے اسے آواز دیتی ہے جس پر شکرانہ بھاگتے ہوۓ ان کے پاس آتی ہے ۔۔۔۔۔۔ اب مانوس ماری میری شکل کیا دیکھ رہی ہے جاکر دروازہ کھول شکرانہ کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ وہ دھاڑنے والے انداز میں کہتی ہے جس پر وہ سہم کر دروازے کی طرف بھاگتی ہے اور جلدی سے دروازہ کھولتی ہے جہاں کوئ عورت کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام وعلیکم بیٹا کیسی ہو امی ہے گھر پر رضوانہ خاتون اس سے پوچھتی ہے جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ انہیں اندر آنے کی اجازت دیتی ہے بہت پیاری ہو بیٹا ماشأاﷲ سے اپنی نظر اتارا کرو وہ اسے پیار کرتے ہوۓ اندر داخل ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اے کمب۔۔۔۔ السلام وعلیکم میں رضوانہ ابھی عفت بیگم اسے پھر سے بُرا بھلا کہنے والی تھی کہ کسی عورت کو اسکے ساتھ دیکھ چپ ہوجاتی ہے وعلیکم السلام آپ کون میں پہچانہ نہیں عفت بیگم انہیں سر سے پاؤں تک دیکھتی ہیں جی بہن آپ مجھے نہیں جانتی لیکن میں آپ کو جانتی ہوں اور یہاں ایک کام کے سلسلے میں آئ ہوں رضوانہ بیگم مسکراتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اچھا آئیں بیٹھ جائیں بہن اور تو کیا یہاں کھڑی ہے جا اور جاکر کوئ چاۓ بیسکٹ لے کر آ عفت بیگم پہلے رضوانہ بیگم اور پھر شکرانہ کو مخاطب کرتی ہے جیسے سن کر شکرانہ تیزی سے کچن کی طرف بھاگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت پیاری بچی ہے آپکی رضوانہ بیگم کچن کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ جہاں شکرانہ کھڑی چاۓ کے لیے پانی چڑھا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ او یہ میری بیٹی نہیں ہے میری نند کی بیٹی ہے اسکے ماں باپ کے مرنے کے بعد اشفاق اسے اپنے ساتھ لے آۓ تب سے یہ ہمارے ساتھ رہ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا عمر کیا ہوگی اس بچی کی رضوانہ بیگم مسکراتے ہوۓ پوچھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جی یہی کوئ 18 سال کی ہوگی آپ اسے چھوڑیں آپ مجھے بتائیں نہ آپ کو کیا بات کرنی ہے عفت بیگم بات بدلتی ہیں ۔۔۔۔۔ جی وہ میں کہہ رہی تھی کہ آپ شہروز کو جانتی ہیں جس کی یہاں آپکے گھر کے پاس ہی کوسمیٹک کی دکان ہے میں اس کی والدہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ارے آپ شہروز بیٹا کی والدہ ہیں وہ تو بہت ہی پیارا بچہ ہے عفت بیگم شہروز کا نام سنتے ہی پرجوش انداز میں کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں وہ مجھے آپ سے اس کے متعلق ہی بات کرنی ہے دراصل آج کل میں اس کے لیے لڑکی ڈھونڈ رہی ہوں اس کی شادی کے لیے دکان بھی اچھی خاصی چلتی ہے اس کی بالکل سیٹ ہوگیا ہے اپنے کاروبار میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی جی ماشأاﷲ سے میں کیا مدد کرسکتی ہوں آپکی عفت ناسمجھی سے کہتی ہیں جی وہ مجھے آپکی بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے میرا مطلب ہے آپکی نند کی بیٹی شکرانہ کا رشتہ میں اپنے بیٹے کے لیے مانگنے آئ ہوں عفت بیگم جو رضوانہ بیگم کی پہلی سنتے ہی خوش ہورہی ہوتی ہیں ان کی آخری بات سن کر غصے سے مٹھیاں بینچھ دیتی ہے ۔۔۔۔۔ شکرانہ جو چاۓ کپ میں نکال رہی ہوتی ہے رضوانہ بیگم کی بات سن کر گھبراجاتی ہے اور اپنی گرفت کپوں پر مضبوط کرلیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ او تو آپ شکرانہ کا رشتہ لے کر آئی ہیں تو پھر تو آپ کو اسکے بارے میں بھی سب پتا ہوگا عفت بیگم ایک ایک لفظ چبا کر کہتی ہیں ۔۔۔۔۔ میں سمجھی نہیں رضوانہ بیگم ناسمجھی عفت بیگم کو دیکھتی ہیں وہ ایسے کہ شکرانہ جو ہے گونگی ہے بول نہیں سکتی ابھی سے نہیں تب سے جب سے پیدا ہی تب سے میں اور اشفاق اس کے ماں باپ کے مارنے کے بعد اسی پریشانی میں تھے کہ بچی کی شادی کیسے ہوگی کون اپناۓ گا ایک گونگی لڑکی کو لیکن میں بھول گئ تھی کہ اس دنیا میں آپ جیسے اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں بظاہر تو وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہتی ہیں لیکن دل میں ان کے ایک آگ بھڑک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہی وہ گونگی میرا مطلب کیسے نہیں میں اپنے بیٹے کی شادی ایک گونگی لڑکی سے نہیں کرسکتی مجھے معاف رکھیں کہتے ساتھ ہی وہ جلدی سے اپنا بیگ اٹھاتی ہے اور ان کے گھر سے باہر نکل جاتی ہیں جبکہ پیچھے شکرانہ اپنی اتنی تذلیل پر وہی زمیں پر بیٹھتی چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
سر آپ ایک کوشش مجھے کرنے کیوں نہیں دیتے آپ نے سب کو موقع دیا ایک موقع مجھے بھی دے دیں اس مشن کو میں خود ہینڈل کرنا چاہتا ہوں وہ ڈیسک پر ہاتھ رکھے ہوۓ سنجیدگی سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو میر میں تمھیں اجازت نہیں دے سکتا تم جانتے ہو بی کے بہت خطرناک ہے اور بہت ہی ہوشیار ہے دشمن کی بوُ دور سے ہی سونگھ لیتا ہے اس کا تعلق انڈورلڈ سے ہے اور ویسے بھی ہمارا کام صرف اس تک پہنچنا ہے ناکہ اسے مارنا کرنل شہوار اسے سمجھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن سر ہم ایسے ہاتھ پر ہاتھ تو نہیں رکھ سکتے نہ میر غصے سے ڈیسک پر ہاتھ مارتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو میر تم جذباتی ہورہے ہو کیا میں نہیں جانتا تم کیوں اس مشن پر جانے کے لیے بےچین ہورہے ۔۔۔۔۔۔۔ سر آپ مجھ پر شک کررہے ہیں سر آپ جانتے ہیں کہ اب تک ہمارے کتنے ساتھی اس مشن میں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں اس دفعہ آپ مجھے موقع دے کر دیکھیں میرا وعدہ ہے آپ سے میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا وہ ایک جذبے سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے میر اگر تم یہی چاہتے ہو تو میں تمھیں پرمیشن دے دیتا ہوں لیکن یاد رہے کوئ بھی فیصلہ جذبات میں آکر نہیں کرنا تمھارا ایک غلط فیصلہ BK کے تمام راز پر پردہ ڈال سکتا ہے ہمھیں اس کا ایک ایک راز معلوم کرکے اپنے وطن کی مٹی کا قرض اتارنا ہے اور اس کے لیے BK کا زندہ رہنا ضروری ہے Understand یس سر انشاءاللہ آپ کو مایوسی نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ سر جانے کی اجازت چاہوں گا میر سلیوٹ مارتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ میر اس مشن پر جانے سے پہلے امائزل سے مل کر جانا بہت یاد کرتی ہے تمھیں کرنل شہوار اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر میں ملوں گا اس سے ۔۔۔۔ اوکے بیسٹ اوف لک ینگ مین خدا تمھیں اپنے حفظ و امان میں رکھے کرنل شہوار اسے گلے لگاتے ہیں اور ساتھ ہی اسے دعا بھی دیتے ہیں جس پر وہ دل میں آمین کہتا ہے اور وہاں سے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
بی کے ولا:
میں نے مال پہنچا دیا ہے BK اور پیمنٹ بھی بینک میں جمع کروادی ہے جیسے تم نے کہا تھا ویسے کردیا ہے میں نے شمس جوکہ Bk کا خاص آدمی تھا وہ آکر اس سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔ اوکے اب تم جاؤ اور جاکر دیکھو بلوچستان جو اسلحہ بھیجنا تھا وہ بھیجا گیا یا نہیں کیوں کہ اس دفعہ میں کوئ غلطی برداشت نہیں کروں گا سیدھا شوٹ کروں گا تمھیں اور تم جانتے ہو شمس مجھے یہ کرتے ہوۓ زرا بھی افسوس نہیں ہوگا BK مسکراتے ہوۓ کہتا ہے BK کی بات سن کر شمس کا رنگ سفید پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ او شمس اب اتنا ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے جاؤ جاکر چیک کرو اور یاد رہے اگر اس دفعہ اسلحہ پولیس، ایف سی یا آرمی کے ہاتھ لگا تو BK تباہی مچادے گا پورے ملک میں سنا تم نے اب دفاع ہوجاؤ یہاں سے بی کے شمس کو دھکا مارتے ہوۓ روم سے باہر نکالتا ہے اور روم لوک کردیتا ہے اور آکر روم کی گلری میں کھڑا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں چھوڑوں گا کسی کو بھی اس ملک کے ایک ایک رہنے والے کا جینا حرام نہ کیا تو میرا نام بھی بی کے نہیں ۔۔۔۔۔ بی کے نفرت بھرے انداز میں کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
اشفاق صاحب آج آپکو ایک فیصلہ کرنا ہوگا یا تو اس گھر میں یہ گونگی رہے گی یا تو میں یا میری بیٹیاں عفت بیگم شکرانہ کو حقارت سے دیکھے اشفاق صاحب سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسی باتیں کررہی ہو عفت میں کیسے اس بچی کو گھر سے نکال دوں اور ویسے بھی یہ میری بہن کی بیٹی ہے مجھے اس میں اپنی بہن نظر آتی ہے میں کیسے اسے خود سے دور کردوں اشفاق صاحب بےبسی سے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میں بتا رہی ہوں اشفاق اگر یہ مانوس اس گھر میں رہی تو میری بیٹیوں کا گھر کبھی بھی بس نہیں پاۓ گا آپ اسے اسکے دادا کے گھر کیوں نہیں بھیج دیتے وہ سنبھالے اس مصیبت کو ہم کیوں نہیں میں اسے نہیں بھیج سکتا وہاں عورتوں اور لڑکیوں کو کوئ حثیت نہیں دی جاتی ان کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے اور ویسے بھی راشد اور سمیرا (شکرانہ کے والدین) نے تو بھاگ کر شادی کی تھی اور تم جانتی ہو بھاگنے والے کی سزا موت ہے وہاں ۔۔۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتی آپ اسے بھیجیں ورنہ میں اپنی بیٹیوں کو لے کر یہاں سے چلی جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔ ماں آپ کیسے رمیسہ انہیں سمجھنے کے لیے پاس آتی ہے بس رمیسہ اگر اس کرمجلی کی سائیڈ لینی ہے تو تم بھی اس کے ساتھ چلی جاؤ اس گھر سے عفت بیگم غصے سے کہتے ہوۓ اپنے روم میں بند ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اشفاق صاحب نڈھال ہوتے ہوۓ صوفے پر ڈھہ جاتے ہیں تو شکرانہ ان کے پاس آتی ہے اور انکے کندھے پر سر رکھ دیتی ہے مجھے معاف کردو بیٹا میں بےبس ہوں اشفاق صاحب اسے اپنے سینے سے لگاتے ہیں آپ مجھے بھیجوادے یہاں سے میں اپنے دادا جان کے گھر جانا چاہتی ہوں شکرانہ ہاتھ کے اشارے سے ان کو کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں بیٹا میں تمھیں اس جہنم میں نہیں بھیج سکتا ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز آپ مجھے بھیج دیں آپ کو میری قسم شکرانہ پہلے ہاتھ اور پھر اشفاق صاحب کا ہاتھ اپنے سر پر رکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے بیٹا جیسے تم چاہو اپنا سامان پیک کرو میں تمھیں 9 بجے والی بلوچستان کی بس جوکہ سیدھا لونی جاۓ گی اس میں بیٹھا دوں گا لیکن شکرانہ وہاں تمھیں کوئ بھی پروبلم ہو تو مجھے کال کردینا بچا میرے گھر کے دروازے تمھارے لیے ہمیشہ سے کھولے رہیں گے اشفاق صاحب نم آنکھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں جس پر وہ مسکرادیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے معاف کردیں ماما جی میں مجبور ہوں میں اپنی وجہ سے رمیسہ آپی اور رمشہ آپی کا مستقبل خراب نہیں کرسکتی میں چلی جاؤں گی یہاں میرے اللہ میرے اس فیصلے کی لاج رکھنا شکرانہ دل میں اپنے رب کو مخاطب کرتی ہے اور اپنے آنسوؤں کو صاف کرکے اپنے روم میں سامان پیک کرنے کی غرض سے جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
سر یہ رہا بلوچستان کا نقشہ جو آپ نے منگوایا تھا شاویز نقشہ میر کے ہاتھ میں دیتا تھنکیو سو مچ شاویز مجھے واقعی اس کی نیڈ تھی اور بتاؤ کچھ پتا چلا BK اسلحہ کب اور کہاں بھیجوا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ یس سر آج رات نوبجے بلوچستان بس کے ذریعے شاویز فرمانبرداری سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ او آئ سی بڑا کوئ ہوشیار سمجھتا ہے خود کو لیکن شاید وہ جانتا نہیں کہ پاک آرمی نے اس جیسے کہی ملک کے دشمنوں کو دھول چٹائ ہے تم ایسا کرو اس بس کی دو ٹکس بک کراؤ اور ہاں ہمارے باقی ساتھیوں سے کہنا کہ وہ بس کا پیچھا کریں اور ایسے پیچھا کریں کہ ان دہشتگردوں کو بانک تک نہ پڑے کیوں کہ بس میں عام لوگ بھی ہوں گے اور وہ بھی بہت سارے اس لیے احتیاط لازمی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہم بھی دیکھتے ہیں اسلحہ کیسے بلوچستان پہنچتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر شاویز سلیوٹ مارتے ہوۓ چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بلوچستان کے نقشے کا معائنہ کررہا تھا کہ اچانک سے اس کا موبائل رنگ ہوتا ہے وہ بغیر نام دیکھے موبائل کان سے لگاتا ہے السلام وعلیکم میجر آبص رضا میر اسپیکنگ !
ب۔۔۔ا۔۔۔با۔۔۔ ہ۔۔پی ب۔۔تدے ۔۔۔۔۔ت۔۔۔و۔۔یلو۔۔۔ دوسری طرف سے توتلی زبان میں بولاجاتا ہے جیسے سن کر میجر آبص رضا میر کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ چھاجاتی ہے …… تھنکیو سو مچ بابا کی مارشملو آبص محبت بھرے انداز میں کہتا ہے……..ویسے میر تمھیں اپنی ماں کی کوئ فکر ہی نہیں ہے کم از کم امائزل کے لیے ہی واپس آجاؤ وہ تو تمھاری بیٹی ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔ رامین بیگم ناراضگی سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔ امی جان میں آجاؤں گا ایک دو دن تک میں نے بابا سے وعدہ کیا ہے مشن پر جانے سے پہلے آپ سے اور اپنی مارشملو سے مل کر جاؤں گا آپ بس اپنا میری مارشملو کا خیال رکھیے گا ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ حافظ میر کہتے ہوۓ کال کاٹ دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ آئم سوری امی جان میں نے آپ سے جھوٹ بولا کہ میں ملنے آؤں گا لیکن میں کیا کروں میرے لیے میرا ملک سب سے پہلے ہے اور اب جب مجھے موقع مل رہا ہے اسے دشمن کی ہر چال سے بچانے کا تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا ایک ہی تو خواب ہے میرا میجر آبص رضا میر کا اپنے ملک پر قربان ہوجانے کا شہادت حاصل کرنے کا میجر آبص رضا میر پاکستان کے پرچم کو چھومتے ہوۓ مسکرادیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری وفا کا تقاضہ کے جاں نثار کروں۔۔۔۔
اے وطن تیری مٹی سے ایسا پیار کروں۔۔۔
میرے لہو سے جو تیری بہار باقی ہو۔۔۔۔۔
میرا نصیب کہ میں ایسا بار بار کروں۔۔۔۔
خون دل سے جو چمن کو بہار سونپ گیا۔۔۔۔۔
اے کاش ان میں خود کو شمار کروں ۔۔۔۔۔۔
میری دعا ہے میں بھی شہید کہلاؤں۔۔۔۔
میں کوئ کام کبھی ایسا یادگار کروں ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
