No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
میرا عشق بے زبان
تحریر : حیانور
قسط_٣
بی کے بی کے شمس بھاگتے ہوۓ اسٹڈی روم میں آتا ہے جہاں بی کے بیٹھا سگريٹ پی رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے جو اتنا چلاّ رہے ہو بی کے سگريٹ ایش ٹرے میں پھینکتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ و۔۔وہ۔۔۔۔۔ کیا وہ وہ کی رٹ لگائ ہے جو کہنا صاف صاف کہو بی کے بزاریت سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ اسلحہ ایف سی نے پکڑ لیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا شمس تھوک نگلے بولتا ہے ۔۔۔۔۔۔ شمس کی بات سن کر بی کے مٹھیاں بینچھے شمس کو ایک تھپڑ رسید کرتا ہے جس سے شمس جاکر زمین پر گرتا ہے…….. کیسے شمس کیسے کن لنگوڑوں کو بھیجا تھا تم نے جنھوں نے سارا اسلحہ ہی پکڑوادیا جانتے بھی ہو کتنا نقصان ہوا ہے آج بی کے ہاں بی کے شمس کو دبوچے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ب۔۔بی۔۔ کے چھوڑدو مجھے پلیز شمس اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ابھی دیر نہیں ہوئ ہے فوراً سے پہلے کچھ آدمیوں کو بھیجو ہوسکے تو پوری فوج لے کر جاؤ یا تو وہ اسلحے بھری بس لے آؤ یا تو تباہی مچادو خالی ہاتھ واپسی کی صورت بی کے مار دیگا سب کو سنا تم نے اب گھم کرو اپنی شکل بی کے غصے سے پاگل ہورہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پورا شہر کیا پورا ملک تباہ کردیتا اتنا نقصان بی کے کا خون کھول رہا تھا وہ غصے میں پورے اسٹڈی روم کو تہس نہس کردیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
سر کیا ہوا ہے آپ نے اتنی جلدی میں بولایا کیپٹن عائشہ اپنی جیپ سے اترتے ہوۓ پوچھتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ریلی سوری فور ڈیٹ کیپٹن لیکن میر سر کا آرڈر تھا کہ آپ کو فوری طور پر بلایا جاۓ شاویز بس سے اترتے ہوۓ کیپٹن عائشہ سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔ رائٹ سر کوئ خاص بات جی ہاں وہ بس میں ویسے تو ہم نے سارے لوگوں کو اتاردیا تھا لیکن ایک لڑکی رہ گئ ہے بس میں اسی وجہ سے شاویز اپنا ماتھا مسلے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ڈونٹ وری سر میں ہینڈل کرلیتی ہوں عائشہ مسکراتے ہوۓ کہتی ہے جس پر شاویز بھی سر ہلادیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اسے اپنے ساتھ بس میں لے جاتا ہے جہاں شکرانہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر یہ تو بڑی خطرناک لڑکی ہے میں صرف غور سے اسے دیکھ رہا تھا کہ کہیں کوئ دشمن کی بھیجی ہوئ نہیں تو اس نے مجھے ایسا گھورا جیسے ابھی کھا جاۓ گی ریحان شاویز سے کہتا ہے جس پر شاویز اور عائشہ دونوں کو ہنسی آجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ریحان سر یہ گھورنا نہیں یہ اپنی سیفٹی کے لیے ہم لڑکیوں کو کرنا پڑتا ہے تاکہ سامنے والے کو یہ نہ لگے ایک لڑکی یا عورت کمزور نہیں بلکہ وہ بھی آپ مردوں کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بلکل صحیح کہا آپ نے کیپٹن آج کی عورت واقع کمزور نہیں ہے وہ بھی مردوں کے برابر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ چلیں اب ورنہ یہ نہ ہوکہ لیٹ ہوجاۓ ویسے بھی ہمھیں بی کے کا سارا اسلحہ ہیڈ کواٹر بیجھنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحان کہاں ہے لڑکی شاویز اور عائشہ اسی سیٹ پر آتے ہوۓ ریحان سے پوچھتے ہیں جہاں تھوڑی دیر پہلے شکرانہ بیٹھی ہوئ تھی اور اب وہاں کوئ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سر ابھی یہی تو تھی میں خود ابھی انہیں یہی چھوڑ کر گیا تھا کہاں گئ یہ واٹ دا ہیل ریحان کہاں گئ لڑکی تم جانتے ہو نہ یہ ایریا سیو نہیں اوپر سے بی کے اور اسکے لوگ اتنی آسانی سے اپنی ہار کو تسلیم نہیں کریں گے کسی بھی وقت آتے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاویز پریشانی سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر میں یہی چھوڑ کر گیا تھا انہیں مجھے کیا پتا وہ بھاگ جاۓ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کیا ہوگا سر ! میر سر غصہ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ عائشہ بھی پریشانی سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ڈیم اٹ کیا کریں اب سر کو بتانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ لوگ ایسا کرو بس کو طیب کے ساتھ بیجھوادیں ہیڈ کواٹر ہم کیپٹن عائشہ کی جیپ میں چل کر اسے ڈھونڈتے ہیں یہی آس پاس ہی ہوگی ابھی اتنا دور نہیں گئ ہوگی ۔۔۔۔۔۔ رائٹ سر عائشہ اس سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اسکے بعد وہ لوگ بس کو سیولی ایریے سے نکالتے ہیں اور خود کیپٹن عائشہ کی جیپ میں بیٹھ کر شکرانہ کو ڈھونڈنے کے لیے نکل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
اف پتا نہیں کہاں آ گئ میں پتا نہیں وہ لوگ کون تھے اور وہ لڑکا کیسے گھور رہا تھا مجھے اہمم سمجھتا کیا تھا خود کو شکرانہ جنگل میں چلتے ہوۓ دل میں کہتی ہے ۔۔۔۔۔ اچھا ہوا وہاں سے بھاگ کر آگئ لیکن اب جاؤں گی کہاں یہاں تو چاروں طرف جنگل ہی جنگل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اف اللہ کہاں پھنس گئ اب دادا جان کے گھر کیسے جاؤں گی میں یہاں آس پاس تو کوئ بس بھی نظر نہیں آرہی اوپر سے یہ ایڈیٹ فون بھی خراب ہوگیا اللہ کوئ راستہ دکھا دے شکرانہ دل میں بولتے ہوۓ آسمان کی طرف دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
یہ شاویز سے رابطہ کیوں نہیں ہورہا ہے پتا نہیں کہاں ہوگا اب کیسے مجھے پتا چلے گا وہ لوگ سیولی پہنچے یا نہیں اوپر سے لڑکی بھی ساتھ تھی حد ہے ویسے ایک سے بھی رابطہ نہیں ہوپارہا ہے ۔۔۔۔۔۔ میر غصے سے ایک مکہ جیپ پر رسید کرتا ہے اور جیپ سے اترتا ہے مجھے خود ہی جاکر دیکھنا ہوگا اتنی مشکل سے تو سر راضی ہوۓ تھے مجھے یہ مشن دینے پر اب میں ایسے پہلے ہی دن ہار نہیں مان سکتا مجھے کیسے بھی ان تک پہنچنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ میر چلتا ہوا جنگل کی طرف بڑھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکرانہ جو ادھر اُدھر راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہوتی ہے جنگلی جانوروں کی آواز سن کر گھبراجاتی ہے اور اسے بے اختیار اپنے بے زبان ہونے پر افسوس ہوتا ہے کاش وہ آج بول سکتی تو چلاّ کر کسی نہ کسی کو آواز دے دیتی اپنی مدد کے لیے لیکن افسوس کے سوا اب وہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ بھاگنے والے انداز میں چل رہی ہوتی ہے کہ کسی وجود سے جاکر ٹکراتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میر جو آس پاس دیکھتے ہوۓ آرام آرام سے چل رہا ہوتا ہے سامنے والے وجود سے ٹکراجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ جو ٹکراتے ہوۓ گرنے والی ہوتی ہے لیکن میر اس سے بے اختیار تھام لیتا ہے جس سے وہ گرنے سے بچ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون ہیں آپ ؟ میر کے سوال پر وہ بے اختیار اس کی طرف دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔ چاند کی روشنی میں وہ اس شخص کا چہرہ دیکھتی ہے بھوری گہری آنکھیں یاقوتی ہونٹ بال وہ اس کے نہیں دیکھ پاتی کیونکہ اسے کیپ پہنی ہوتی ہے بلیک شرٹ جو اس کے بازوؤں پر بہت ٹائٹ تھی جس سے اسکے باڈی بلڈر ہونے کا اندازہ ہورہا تھا براؤن جینز پہنے وہ اسکے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس سے دور ہوتی ہے اور نگاہیں نیچے کردیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میر اس کا چہرہ نہیں دیکھ پاتا کیونکہ اس نے نقاب کیا ہوتا ہے وہ صرف اس کی آنکھیں دیکھتا ہے جو کہ گرے کلر کی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیں آپ یہاں اس وقت کیا کررہی ہیں ۔۔۔۔۔ یہ ایریا سیو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اب بھی جواب نہیں دیتی ہے اف اللہ اب میں ان کو کیا بتاؤں میں بول نہیں سکتی ویسے بڑے ہی کوئ بے وقوف انسان ہیں سمجھتے ہی نہیں اب ایک لڑکی بول نہیں سکتی تو سمجھ جانا چاہیے نہ کہ بے زبان ہے پر نہیں بےوقوف جو ٹھہرے رمیسہ آپی کاش آپ یہاں ہوتی تو ان کو بتاسکتی شکرانہ غصے سے میر کو دیکھتے ہوۓ سوچتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا اوکے کوئ بات نہیں اگر آپ بولنا نہیں چاہتی تو میں آپکو فورس نہیں کروں گا بٹ پلیز یہاں سے جائیے یہ جگہ سیو نہیں ابھی میر اسے بول ہی رہا ہوتا ہے کہ اسے قدموں کی آواز سنائ دیتی ہے میر اس کا ہاتھ پکڑے ہوۓ ایک درخت کی اونٹ میں چھپ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے بی کے کے لوگ ہیں میر دل میں کہتا ہے ۔۔۔۔۔
اششش پلیز شور مت کیجیئے گا وہ لوگ یہاں پاس ہی ہیں میجر آبص اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہے جس پر وہ جی جان سے کانپ اٹھتی ہے ۔۔۔۔۔۔ میں ابھی آتا ہوں آپ پلیز یہیں رہیۓ گا رات کا وقت ہے اور اندھیرا بھی بہت ہے اوپر سے چاروں طرف جنگل ہی جنگل ہے آپ کی تھوڑی سی آواز آپکو خطرے میں ڈال سکتی ہے سو پلیز بی کئیر فل وہ کہتے ہی آرام سے دبے پاؤں چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔ اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ تو بول ہی نہیں سکتی شور کیا خاک کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر دبے پاؤں چلتے ہوۓ جاتا ہے ریولور وہ اپنی جیب سے نکلے ہاتھ میں تھامتا ہے قدموں کی آواز اب مزید قریب آتی ہے ۔۔۔۔۔۔شکرانہ سانس روکے کھڑی ہوتی ہے میر ابھی ان کے سر پر ریولور رکھنے والا ہوتا ہے کہ وہ لوگ مڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ شاویز ، عائشہ اور ریحان کو دیکھ میجر آبص اپنی ریولور نیچے کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ لوگ یہاں کیا کررہے ہیں آپ لوگوں کو تو میں نے کہا تھا اسلحے کو ہیڈ کواٹر پہچانا ہے اور شاویز آپ کو میں نے کہا تھا نہ مجھ سے رابطہ میں رہیے گا لیکن آپ نے یہاں بھی غیر ذمہ داری دکھائ آپ جانتے ہیں نہ یہ مشن میرے لیے کتنا ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔ جی سر آئم سوری وہ ایکچولی ایک پروبلم ہوگئ تھی باقی اسلحہ ہیڈ کواٹر پہنچ چکا ہے آپ بے فکر رہیں کیا پروبلم ؟ اور کیپٹن عائشہ یہاں ہے تو وہ لڑکی کہاں ہے جو رہ گئ تھی بس میں میجر آبص کیپٹن عائشہ کو دیکھتے ہوۓ پوچھتا ہے سر اسی کے بارے میں بات کرنی ہے وہ لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔ مل گئ مل گئ ابھی شاویز بولنے والا ہوتا ہے کہ ریحان چلاّ تے ہوۓ کہتا ہے جس پر تینوں اس کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سر میں نے پکڑلیا نقاب پوش چورنی کو جہاں ریحان شکرانہ کو کھینچتے ہوۓ ان کی طرف لاتا ہے جو اپنا ہاتھ اس سے چھڑوانے کی کوشش کررہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ریحان بیہو یور سلیف ہاتھ چھوڑو لڑکی کا میر اسے گھورتے ہوۓ کہتا جس پر ریحان شکرانہ کا ہاتھ چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ سر یہی ہے وہ لڑکی جو بھاگی تھی بس سے ریحان شاویز سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آپ یہاں آپکو پتا ہے ہم نے آپکو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا شاویز سنجیدگی سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ سر یہی ہے وہ لڑکی جس کی میں نے آپ سے بات کی تھی یہ بس سے بھاگ گئ تھی اس لیے ہم اسے ڈھونڈنے نکلے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا میر گہری سانس لیتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیپٹن عائشہ آپ ان سے پوچھیں گی کہ یہ کہاں رہتی ہے تاکہ ہم انہیں ان کے گھر سیولی پہچادیں لیکن ابھی نہیں گھر چل کر ابھی مجھے لگ رہا یہ تھوڑا گھبرائ ہوئ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی گاڑی میں چل کر بیٹھائیں انہیں کیونکہ ابھی یہاں مزید رہنا ٹھیک نہیں سو لیٹس گو ۔۔۔۔۔۔ میجر آبص ہدایت دیتا شاویز کے ساتھ چلاجاتا ہے ریحان بھی ایک نظر شکرانہ پر ڈالتے ہوۓ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیپٹن عائشہ اسکے پاس آتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ السلام وعلیکم پیاری میرا نام عائشہ ہے تم مجھے اپنا دوست سمجھ سکتی ہو اور تمھیں گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں تم ہمارے ساتھ سیو ہو بالکل او واؤ تم تو بیوٹی ان حجاب ہو اس کے اسطرح کہنے پر شکرانہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے دیکھو ابھی ہمھیں یہاں سے نکلنا ہوگا کیونکہ یہاں خطرہ ہے ابھی تم ہمارے ساتھ چلو تم جہاں جانا چاہتی ہو وہ جگہ ہمھیں بتادینا ہم تمھیں سیولی وہاں پہنچادیں گے اوکے اس ساری صورتحال میں شکرانہ پہلی دفعہ اپنا سر ہلاتی ہے جس پر کیپٹن عائشہ تھوڑا مطمئن ہوتی اور پھر اسے لے کر گاڑی کی طرف جاتی ہے جہاں میجر آبص ، شاویز اور ریحان ان کا انتظار کررہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
