50.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

میرا عشق بےزبان
تحریر : حیانور
قسط_٦
چند لمحوں کی ملاقات ہمیں چاہیے ہی نہیں
ہم تیری قربت میں جاگیں گے پوری رات مسلسل “-❤️😘
واؤ کوئ اتنا خوبصورت اور دلکش کیسے ہوسکتا ہے سوئیٹ ہارٹ تم تو چلتی پھرتی حسن کی مورت ہو Bk کے لیے پرفیکٹ ہو ویسے تمھاری اس معصوم اور خوبصورت چہرے کے علاوہ آنکھیں قیامت خیز ہیں وہ اسکے گال پر اپنی انگلیاں رگڑتے ہوۓ کہتا ہے شکرانہ کو اس کے چھونے سے کراہیت محسوس ہوتی ہے وہ اپنی پوری ہمت لگا کر اسے دھکا دیتی ہے جیسے وہ گرتا تو نہیں لیکن لڑکھڑاتا ضرور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنو سوئیٹ ہارٹ مت تھکاؤ خود کو اتنا ابھی تم شاید جانتی نہیں ہو تم کس کی قید میں ہو ابھی Bk اتنا ہی کہتا ہے کہ دروازے پر دستک ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کم ان Bk کی روعب دار آواز پر شمس اندر آتا ہے شکرانہ جلدی سے اپنا ڈوپٹہ سر پر ٹھیک سے اوڑھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سر سارے مہمان آپکا ویٹ کررہے ہیں شمس سر جھکاۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شمس میرا دل نہیں کررہا نیچھے آنے کو Bk ایک نظر شکرانہ کو دیکھے ہوۓ شمس سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سر لیکن سب آپکا ویٹ کررہے ہیں شمس پھر سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔آہ اوکے تم جاؤ آتا ہوں میں پانچ منٹ میں Bk کی بات سنتے ہی شمس اثبات میں سرہلاتے ہوۓ چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کردیا ہے تم نے کچھ ہی منٹوں میں سوئیٹ ہارٹ کے Bk تمھارا اسیر ہوگیا ہے وہ اسے ایک دفعہ پھر سے اپنی طرف کھیچتا ہے جس سے وہ جاکر اس کے سینے سے لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ نم آنکھوں سے سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ارے جانِ بی کے اب رو رہی ہو چلو ابھی جاتا ہوں دل تو نہیں کررہا تم سے دور جانے کا لیکن Bk کو بزنس بھی تو دیکھنا ہے نہ ورنہ سڑک پر آجائیں گے پھر تمھیں پرنسیس بنا کر بھی تو رکھنا ہے نہ اس لیے ابھی کے لیے اجازت گڈ باۓ سوئیٹ ہارٹ میری Bk اسکے گال تھپتھپاتے ہوۓ چلاجاتا ہے جبکہ پیچھے وہ زمین پر بیٹھتی چلی جاتی ہے آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا ہوتا ہے وہ بے اختیار اپنے رب کو یاد کرتی ہے اسے افسوس ہورہا تھا کہ وہ وہاں سے بھاگی کیوں وہاں کم ازکم اسکی عزت تو محفوظ تھی یہاں پتا نہیں وہ اسکے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
سر کس طرف سے جانا ہے ہمھیں ریحان شاویز سے پوچھتا ہے ریحان طیب اور ازمیر تم لوگوں یہاں سامنے سے جاؤ ویسے بھی Bk اس وقت اپنے آدمیوں اور مہمانوں کے ساتھ مصروف ہوگا اس پر نظر رکھو کہ وہ کن کن لوگوں سے ملتا ہے لیکن یاد رہے خود کو ایسے رکھنا کے پہچان میں نہ آسکو اوکے اینی پروبلم ؟ نو سر تینوں ایک ساتھ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اینی کنفیوژن ؟ نو سر اوکے ناؤ گو شاویز حکم صادر کرتا ہے تو وہ تینوں چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ان کے جاتے ہی شاویز میر سے رابطہ کرتاہے ۔۔۔۔۔ سر آپ نے جیسے کہا تھا میں نے بالکل ویسا کردیا ہے جی سر فلحال تو سب کچھ پلین کے مطابق ہی چل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جی سر میں بالکل تیار ہوں اوکے دوسری طرف سے پتا نہیں کیا کہا جاتا ہے جس پر شاویز یس سر کہتے ہی فون بند کردیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
کیا ہوا Bk بڑا بے جین لگ رہے ہو آج تو ہوم منیسٹر جہانگیر عالم مسکراتے ہوۓ پوچھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔Bk اور بے چینی کیسی بات کردی تم نے Bk دوسروں کو بےچین کرتا ہے تحسین نیازی آئ جی سندھ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ او کم اون کیا میری باتوں کو لیکر بیٹھ گۓ ہیں آپ لوگ اینجواۓ دا پارٹی گائز اور ویسے بھی آج میں بہت خوش ہوں تو پلیز آج یہ اپنی سو کالڈ سیاست کو لیکر مت بیٹھ جانا میرے سامنے اور نیازی صاحب آپ جیسے پولیس والے ہی ملک کے غدار نکلتے ہیں Bk آپ کا مشکور رہے گا کہ آپ نے اتنا بڑا دھمکا کروانے میں میری مدد کی آپ کو کوئ بھی ضرورت یا پریشانی ہو Bk کو یاد کیجیۓ گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ Bk سگریٹ پیتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔Bk تم لو نہ یہ وہ اسےوسکی کا گلاس تھماتے ہیں نہیں Bk شراب نوشی نہیں کرتا کیونکہ یہاں Bk لڑکھڑایا وہاں دشمن نے حملہ کردیا تو اس لیے نو شراب Bk مسکراتے ہوۓ ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر سگریٹ کے کش لیتا ہے ذہن کے پردے پر وہ حسین چہرہ لہراتا ہے اور آج تو ویسے بھی Bk کو مکمل ہوش وحواس میں رہنا ہے ابھی تو دیدار یار بھی باقی ہے Bk مسکراتے ہوۓ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
شاویز تم ریڈی ہو نہ میر پائپ کے ذریعہ چڑھتے ہوۓ شاویز سے پوچھ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جی سر بس آپ کے حکم کا انتظار ہے اوکے میں جیسے ہی سگنل دوں تم کام کردینا میر ایک دو اور ہدایت دیتے ہوۓ رابطہ منقطع کردیتا ہے اور آرام آرام سے پائپ کے ذریعہ اس کمرے کی طرف بڑھتا ہے جہاں شکرانہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکرانہ جو رو رہی ہوتی ہے کچھ غیر معمول سی آواز پر گھبراتے ہوۓ ادھر اُدھر دیکھتی ہے تو اسے کھڑکی پر کوئ سایہ سا نظر آتا ہے تو وہ ڈرجاتی ہے تبھی اچانک سے لائٹ چلی جاتی ہے تو وہ اور ڈرجاتی ہے اچانک سے اسے قدموں کی آواز اپنے بالکل قریب سنائ دیتی ہے تو وہ ڈر کے مارے دیوار کے ساتھ چپک جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاتھ ادھر اُدھر مارتی ہے اپنی مطلوبہ چیز ملنے پر وہ قریب آنے والے کو مارنے والی ہوتی ہے کہ میر اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ریلکس شکرانہ اٹس می میجر آبص رضا میر وہ شکرانہ کے ہاتھ سے گلدستہ لیتے ہوۓ کہتا ہے شکرانہ اس کی آواز سنتے ہی اسکے سینے سے لگ جاتی ہے اور اس کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑ لیتی ہے جیسے اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ اسے چھوڑ کر چلا جاۓ گا ۔۔۔۔۔۔۔ میر جو اس حملے کے لیے تیار نہ ہوتا ہے اچانک سے اسکے سینے لگنے سے بوکھلا جاتا ہے شکرانہ اسکے سینے سے لگی رو رہی ہوتی ہے اور دل میں اپنے رب کا شکرادا کرتی ہے اس نے اسکے مسیحا کو اسکی مدد کے لیے بھیج دیا واقعی اللہ اپنے بندوں کا صبر اتنا ہی آزماتا ہے جتنا وہ برداشت کرسکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں اور اگر دل سے اللہ کو پکارا جاۓ تو وہ کبھی اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ ریلکس سب ٹھیک ہے بس چپ میر اسکے سر کو آرام آرام سے تھپتھپاتے ہوۓ اسے چپ کروا رہا ہوتا ہے جبکہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑے ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں کیوں زندگی میں پہلی دفعہ میجر آبص میر کو کسی لڑکی کے آنسو تکلیف دے رہے تھے وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اچانک لائیٹ کیسے چلی گئ گاڑڈز جنریٹر اون کراوؤ یہ کس کی لاپرواہی ہے کس نے انتظام دیکھے تھے Bk لائیٹ بند ہونے پر اپنے سبھی گاڑڈز پر چلاّ رہا تھا Bk میں ابھی چیک کرواتا ہوں بارش کا موسم ہے شاید اس لیے سسٹم میں خرابی آگئ ہو ۔۔۔۔۔۔۔ شمس اسے سمجھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا مجھے پانچ منٹ کے اندرBk والا روشنیوں سے نہاتا ہوا نظر آنا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
سر ہمارے پاس ٹائم کم ہے آپ لوگ پلیز وہاں سے جلدی نکلنے کی کوشش کریں لائٹ کسی بھی وقت آسکتی ہے شاویز میر سے کہتا ہے جس پر وہ ہوش کی دنیا میں آتا ہے اوکے ۔۔۔۔۔۔ شکرانہ بس چلیں چپ ہوجائیں ہمھیں جلدی سے یہاں سے نکلنا ہوگا آئیے میرے ساتھ وہ اسے کھڑکی کی طرف لے جاتے ہوۓ کہتا ہے بدلے میں وہ اسے حیرانگی سے دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمھیں یہاں سے نیچھے اترنا ہوگا Bk کسی بھی وقت آتا ہوگا ٹائم کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ اسکے بازو سے لگ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرانہ بچی مت بنے یہی آخری راستہ ہے ہمارے پاس اور ویسے بھی میں ہوں آپکے ساتھ میر اسے سمجھاتے ہوۓ کہتا ہے جس پر وہ اسے لگتے ہوۓ کھڑکی سے نیچھے اترنے کے لیے جیسے ہی آگے بڑھتی ہے اونچائ دیکھتے ہوۓ اسے چکر سا آتا ہے اور وہ لڑکھڑاتی ہے لیکن میر اسے تھام لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ریلکس لڑکی مجھ پر بھروسہ ہے نہ ویسے اگر نہیں بھی ہے تو اب کرلیں آنکھیں بند کریں اپنی میر اس کا تھامتے ہوۓ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر کھڑکی سے کھود جاتا ہے شکرانہ اس کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑے ہوۓ آنکھیں بند کرلیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
شمس اب میں بہت تھک گیا ہوں مہمان بھی کافی چلے گۓ ہیں اب تم ایسا کرو ڈنر لگواؤ میرے لیے میں اپنی سوئیٹ ہارٹ کو لیکر آتا ہوں اس نے بھی کچھ نہیں کھایا ہے جب سے آئ ہے اب اسے اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شمس سے کہتے ہی Bk شکرانہ کے کمرے کی طرف بڑھتا ہے اور اسے آرام آرام سے کھولتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوئیٹ ہارٹ کہاں ہو تم آؤ چلو ڈنر کرتے ہیں آج تمھیں Bk اپنے ہاتھوں سے کھلاۓ گا چلو پرنسیس کہاں ہو تم بی کے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ اسے پکارتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے واشروم میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سوئیٹ ہارٹ کہاں ہو تم Bk سے چھپ نہیں سکتی تم باہر آجاؤ جلدی سے واشروم کا دروازہ Bk آرام سے کھولتا لیکن وہاں بھی اسے نہ پاکر Bk کو غصہ آتا ہے کہاں جاسکتی ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچانک سے اسے کچھ دیر پہلے کا واقعہ یاد آتا ہے لائیٹ بند ہونے کا Bk کے ماتھے پر بہت سارے بل پڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ شمس شمس Bk اونچی آواز میں شمس کو پکارتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی کہاں گئ اتنی سکیورٹی ہونے کے باوجود وہ لڑکی کہاں گئ کون نکال کر لے گیا اسے Bk کی قید سے ڈھونڈ نکالو اس لڑکی کو شمس Bk کو وہ ہرحال میں چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ Bk ڈھارتے ہوۓ کہتا ہے جس سے شمس سہم کر اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ بھاگ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سوئیٹ ہارٹ کہاں تک بھاگ پاؤگی ایک نہ ایک دن تو میرے پاس ہی آنا ہے تمھیں میری دسترس میں Bk اب تم سے دستبردار نہیں ہوسکتا جان بن گئ ہو تم محبت ہوئ تو Bk تمھیں اپنی جان سے بھی زیادہ چاہے گا اور اگر کسی کی بھیجی ہوئ سازش ہوئ تو یقین کرو اپنے ان ہاتھوں سے تمھیں میں ماروں گا Bk شکرانہ کو تصور میں لاتے ہوۓ کہتا ہے اور پاس پڑے ٹیبل کو زور سے لات مارتے ہوۓ کمرے سے نکل جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔