Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mawi (Episode 25)

Mawi by Malaika Rafi

نم آنکھوں سے ۔۔۔ وہ ہاسپٹل بیڈ پہ پڑے اس شخص کو بےحد نزدیک سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

آج شاید نظروں کا زاویہ بدلا تھا یا شاید دل کی دنیا بدلی تھی۔۔۔ تبھی احساسات بھی مختلف سے تھے۔۔۔

وہ آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔۔۔ اسے اجازت نہیں تھی آنکھیں کھلی رکھنے کی ۔۔۔

اور ماوی بےحد فرصت سے ۔۔ اس شخص کے چہرے کے خدوخال دیکھ رہی تھی۔۔۔

اس کی محبت محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اس کی اچھائیاں پڑھ رہی تھی۔۔ اس کے التفات پرکھ رہی تھی۔۔۔

آج وہ ذہن بھاری نہیں تھا۔۔ دل پہ بوجھ نہیں تھا۔۔ نیت میں کھوٹ نہیں تھا ۔۔۔ بدلے کا کوئی خیال نہیں تھا۔۔۔ آج وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔ ان دونوں کے بیچ ۔۔ آج کوئی تیسرا خیال نہیں تھا۔۔ کوئی تیسرا احساس نہیں تھا ۔۔۔

آج وہ دونوں تھے۔۔۔ احرم ماوی ۔۔۔ ماوی احرم ۔۔ ۔

آہستگی سے ہاتھ آگے بڑھا کے ۔۔۔ احرم کے ماتھے پہ بکھرے بال سنوارے تھے اس نے ۔۔۔

” ماوی ۔۔ “

اس کے لبوں نے حرکت کی تھی۔۔۔

” ہممم ۔۔۔ ؟؟”

ماوی اب ان بند پلکوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

” دیکھنا چاہتا ہوں تمہیں پلیز “

بےچینی سی تھی۔۔۔

” ہشششش ۔۔۔ “

اسکے لبوں پہ اپنی شہادت کی انگلی رکھ کے ۔۔۔ ماوی نے اسے خاموش کرایا تھا ۔۔۔

” کیوں احرم ؟؟ “

اچانک سے سوال ہوا تھا۔۔

” کیا کیوں؟؟”

بند آنکھوں کے ساتھ وہ پوچھ رہا تھا۔۔۔ جبکہ ماوی نرمی سے ۔۔ اپنے ہاتھ کی پشت۔۔۔ اس کے چہرے پہ پھیرنے لگی تھی۔۔۔

” یہ رسک کیوں لیا؟؟”

احرم ہلکا سا مسکرا ۔۔ آنکھیں کھول چکا تھا۔۔۔ ان آنکھوں میں محبت تھی ۔۔ کوئی خوف نہیں تھا۔۔۔ ماوی کو اپنا دل ان آنکھوں میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔۔۔

” ماوی کو دیکھنا چاہتا تھا میں۔۔۔ “

گھمبیر سی ۔۔ بوجھل سی سرگوشی تھی۔۔۔

” تمہیں خطرہ ہے یہ جانتے ہوئے بھی ؟؟”

ماوی کی آنکھیں بھیگی تھی ۔۔۔ احرم نے اس کے ہاتھ تھام کے ۔۔ ان کی پشت پہ نرمی سے اپنی محبت کا لمس چھوڑا تھا۔۔۔ اور اب ان آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ۔

” بس یہی محبت۔۔۔یہی احساس دیکھنا چاہتا تھا میں ماوی ۔۔۔ جو اس وقت تمہاری آنکھوں میں میرے لئے ہیں۔۔۔ اور بےحد ہے۔۔ “

ماوی دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں چرا گئی تھی۔۔۔

” مت دیکھو کہیں بھی ماوی ۔۔۔ بس مجھے دیکھو۔۔۔ میں تمہیں حفظ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ ان آنکھوں میں خود کا وجود حفظ کر رہا ہوں۔۔۔ “

ماوی اسے دیکھنے لگی تھی اب ۔۔۔

” مجھے دیکھتی رہو ماوی ۔۔۔ “

وہ پھر سے کہہ رہا تھا ۔۔ اب کے آواز میں کرب تھا ۔۔ جو ماوی محسوس کر گئی تھی۔۔۔

” تمہیں درد ہو رہا ہے احرم ۔۔ “

ماوی کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔۔۔ احرم کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ ابھری تھی ۔۔۔

” میں ٹھیک ہوں۔۔۔”

” ہششش “

ماوی نے اس کی آنکھوں پہ اپنی ہتھیلی رکھی تھی۔۔۔

” یہ کیا ماوی ۔۔ “

” بس ۔۔ اب آنکھیں بند رکھو ۔۔۔ “

ماوی کے دو ٹوک انداز پہ ۔۔ وہ جھنجھلایا تھا ۔۔

” ماوی ۔۔۔ ایم مسنگ یو ۔۔ “

وہ سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔ جبکہ ماوی اپنے آنسوؤں کو پیتی اس کے قریب ہوئی تھی۔۔۔

” میں یہیں ہوں احرم ۔۔ تمہارے پاس۔۔ “

” میرے بےحد قریب رہو ماوی ۔۔ “

اس کا ہاتھ تھامے وہ سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔

ماوی نے اس کی بند آنکھوں پہ اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔

” تمہارے قریب ہوں احرم ۔۔ “

اور پھر اس کے لبوں پہ اپنے رکھ کے سرگوشی کرنے لگی تھی۔۔۔

” میں تم میں ہوں احرم ۔۔۔ “

احرم نے ان لبوں کی سرگوشی کو خود میں اتارا تھا ۔۔۔

” ماوی ۔۔۔ “

آنکھیں موندے ماوی اسے سن رہی تھی۔۔ وہ بخوبی ان دھڑکنوں کو سن رہی تھی۔۔۔

” تم وہ پہلی عورت ہو جس سے مجھے محبت ہوئی ۔۔ عشق ہوا ۔۔ جس کے ہونے سے مجھے تحفظ کا احساس ملتا رہا ۔۔ جس کے وجود سے ۔۔۔ مجھے سکون ملا ۔۔۔ جس کی قربت میں۔۔۔ میں بہکا ۔۔کئی بار بہکا ۔۔بار بار بہکا ۔۔ جس کا احساس مجھے ہمیشہ سیراب کرتا رہا۔۔ لیکن آج۔۔۔ مجھے تمہارے وجود سے محبت محسوس ہورہی ہے ماوی ۔۔۔ آج ایسا لگ رہا تم مکمل مجھ میں اتر رہی ہو آج۔۔ “

ماوی کی سسکی ابھری تھی۔۔۔ اس کے چہرے پہ وہ جھکی رو رہی تھی۔۔۔

” ماوی ۔۔ “

وہ گھبرا گیا تھا ۔۔

” ڈونٹ۔۔۔ احرم پلیز ڈونٹ۔۔۔ آنکھیں مت کھولنا پلیز ۔۔ میرے لئے پلیز ۔۔ “

اس کی بند آنکھوں پہ ۔۔ اپنی ہتھیلی رکھ کے ۔۔ وہ پھر سے کہہ رہی تھی۔۔۔

” اپنے ہر جھوٹ۔۔۔ گناہ ۔۔۔ دھوکے سمیت ۔۔۔ آج تم سے کہہ رہی ہوں احرم ۔۔۔ مجھے تمہارے ہر لمس میں محبت اور احترام دونوں ملے ہیں۔۔۔ تم نے مجھے نہیں نوچا کھبی ۔۔۔ تم نے احترام کیا ہے ۔۔۔ تم نے محبت کی ہے ۔۔ “

ہچکیوں کے بیچ کہتی ۔۔ وہ احرم کے لبوں پہ سرگوشی کر رہی تھی اور احرم نے محبت سے اسے سمیٹا تھا ۔۔۔

اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھاتا ۔۔۔ وہ ماوی کو پھر سے مان بخش رہا تھا ۔۔۔ اور ماوی ان لمحوں میں بکھری بکھری سی ۔۔۔ اس کے وجود میں گم ہو رہی تھی۔۔۔

” اب اگر روئی تو میں آنکھیں کھول دوں گا ماوی ۔۔۔ “

اکھڑتی سانسوں کے بیچ وہ کہنے لگا۔۔

” میری زندگی میں آنے والے بہترین مرد ہو تم احرم ۔۔ “

ماوی آہستگی سے کہہ رہی تھی۔۔ ۔

” جتنی مہلت ملی ہے میرے رب کی طرف سے مجھے۔۔۔ میرے لئے کافی ہے کہ میں وہ مہلت میں ملی سانسیں تمہارے سنگ ۔۔۔۔ “

وہ کہنے لگا تھا جب ماوی نے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ کے ۔۔ اس کے سارے الفاظ چن لیے تھے۔۔۔

اور اپنی سانسوں میں وہ سب لفظ اتار کے ۔۔ وہ اب سرگوشی کر رہی تھی۔۔

” don’t dare … “

” میرے قریب لیٹو ماوی ۔۔۔ “

احرم نے آس بھری سرگوشی کی تھی۔۔ اور ماوی اس کے خواہش کا مان رکھتی ۔۔۔ اس کے قریب ہی ۔۔۔ اس کے کندھے پہ سر رکھے لیٹ گئی تھی۔۔

جبکہ احرم نے اس کے ماتھے پہ ۔۔ اپنا محبت بھرا لمس چھوڑ کے ۔۔ اسے بازو میں سمیٹا تھا ۔۔۔

وہ پرسکون سا تھا ۔۔۔ بےحد درد میں ہوتے ہوئے بھی وہ پرسکون تھا ۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

ماضی

” کہاں سے آ رہی ہو ؟”

درفشاں جو دروازہ بند کر کے اندر آ رہی تھی۔۔۔ رک کے ذایان عالم کو دیکھنے لگی۔۔۔

جو ایک مہینے کی عسل کو گود میں لیے سنجیدگی سے ۔۔۔ اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

” کچھ دیر کے لئے عسل کو سنبھالنا کیا پڑ گیا۔۔۔ مجھے آنکھیں دکھائے گیں آپ۔۔۔ “

یہ وہی بات ہوئی ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری ۔۔۔ ذایان تاسف سے اسے دیکھ کے۔۔۔ پھر سے اپنی بیٹی کو دیکھنے لگ گئے ۔۔۔

جبکہ درفشاں نخوت سے سر جھٹکتی کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔ ذایان کی بےلوث محبت کا ۔۔ وہ بےحد اچھے طریقے سے استعمال کر رہی تھی۔۔۔

تبھی وہ ذایان کی کسی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔۔۔

اور وہ ویسے بھی آج بےحد خوش تھی۔۔۔ یاور شاہ کی قربت میں گزرے لمحے۔۔۔ اس کے چہرے پہ بار بار مسکراہٹ بکھیر رہے تھے ۔۔۔

” یہ ؟؟”

وہ آنکھوں میں خوشگوار حیرت لیے ۔۔۔ اس کے بنگلے اور پھر اس بیڈروم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو کوئی شیشوں کا محل لگ رہا تھا ۔۔۔

جبکہ یاور شاہ زیرلب مسکراتا اس کے قریب ہوا تھا اور ڈائمنڈ کی چین اس کے صراحی دار گردن میں پہنا کے۔۔۔ اپنے لبوں سے اس کی خوبصورتی کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔۔

درفشاں بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی۔۔۔ اور قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی۔۔۔ اپنی گردن میں جگمگاتی وہ چین دیکھ رہی تھی۔۔۔

جبکہ یاور شاہ اس کے سراپے کو دیکھتا۔۔۔ اسے بانہوں میں بھر چکا تھا ۔۔۔

” یاور پلیز ۔۔۔ “

وہ ہچکچائی تھی ۔۔۔ اسے برا نہیں لگا تھا لیکن ہچکچاہٹ کا شکار ہو رہی تھی ۔۔۔

” ہششش درفشاں ۔۔۔۔ حسن کی مورتی ۔۔۔ مجھے اس نشے میں بہکنے دو ۔۔ “

اس کی گردن پہ سرگوشی کرتا ۔۔ وہ اپنی بہکی سانسوں سے اسے مدہوش کر رہا تھا ۔۔۔

اور پھر سیکنڈ لگا تھا درفشاں کو اس کی قربت میں مدہوش ہونے میں۔۔۔

اور پھر وہ ایک نامحرم کی بانہوں میں بےلباس ہو کے ۔۔۔ اس کی عیاشی کا سامان بن گئی تھی۔۔۔

اپنا شوہر۔۔۔ اپنی محبت۔۔۔ اپنی اولاد ۔۔۔ اپنا گھر بھول کے ۔۔۔

وہ بہک چکی تھی یاور شاہ کی بانہوں میں۔۔۔ اور یاور شاہ اسے مکمل اپنے جنون کے رنگ میں رنگ کے ۔۔۔ اب پرسکون ہو چکا تھا۔۔۔

لیکن درفشاں کی بےسکونیاں بڑھا گیا تھا۔۔۔ تبھی شاور کے نیچے کھڑی۔۔۔ وہ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش میں ۔۔۔۔ یاور شاہ کی قربت کے لئے تڑپ رہی تھی۔۔۔

تبھی اسے اپنی پشت میں لمس سا محسوس ہوا ۔۔۔ وہ مسکرا کے مڑی تھی۔۔۔

” تم آ گئے یا ۔۔۔۔ “

اپنے قریب ذایان کو دیکھ کے ۔۔۔ وہ چونکی تھی۔۔۔

” کیوں بھاگتی ہو مجھ سے ۔۔ میری محبت سے ۔۔۔ “

ذایان اسے بانہوں میں بھرے کہہ رہے تھے۔۔۔ جبکہ وہ اپنی سلگتی خواہشات میں جل رہی تھی۔۔۔

” میں کہیں نہیں بھاگ رہی تم سے ۔۔۔ “

کہتی وہ زایان کے چوڑے سینے پہ اپنے لب رکھنے لگی ۔۔۔

اور وہ مدہوش سا اپنی بیوی کے محبت بھرے لمس سے ۔۔۔ پرسکون ہو رہا تھا ۔۔۔

یہ جانے بغیر کہ ۔۔۔ اس کی بیوی ۔۔۔ اس کی محبت اور اس کی امانت ۔۔۔ یاور شاہ کے بستر پہ ۔۔۔ نچھاور کر آئی ہے ۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” یاور ۔۔ “

درفشاں کی آواز پہ وہ چونک کے مڑا تھا ۔۔۔ اور چہرے پہ مسکان سجائے اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔

” ارے تم کب آئی؟؟ “

اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کیے ۔۔۔ اس نے ابرو اچکا کے ۔۔۔ آذر حکان کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔

تبھی وہ زیر لب مسکراتا کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔

” مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے یاور ۔۔ میں اس گھر میں نہیں جانا چاہتی اب کھبی ۔۔۔ “

منہ بسورے ۔۔۔ وہ یاور کے سینے سے لگی کہہ رہی تھی۔۔۔ جبکہ یاور کی سرسراتی انگلیاں اس کی پشت سہلا رہی تھی۔۔۔

” تو رہ لیتے ہیں۔۔۔ اس میں ایسی کون سی عجیب بات ہے ۔۔ “

وہ مسکرا کے کندھے اچکاتا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جبکہ درفشاں کے چہرے پہ پریشانی کے آثار تھے ۔۔۔

” ایسے کیسے رہ سکتی ہوں یاور ۔۔۔ ذایان مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا ۔۔۔ “

یاور گہرا مسکرایا تھا ۔۔۔

” چھوڑ دو اسے ۔۔۔ طلاق لے لو ۔۔۔ اور میرے پاس آ جاو اور جیسے رہنا چاہو ۔۔۔ میرے ساتھ رہ سکتی ہو ۔۔”

اس کی گردن پہ اپنے لبوں کا سفر شروع کرتا وہ کہہ رہا تھا۔۔۔ جبکہ درفشاں اس کی قربت پاتے ہی ۔۔۔ اس کے مزید قریب ہوئی تھی۔۔

” یاور پلیز ۔۔۔ افس ہے کوئی آ جائے گا ۔۔ “

” اہممم ۔ میرے آفس میری مرضی کے بنا کوئی نہیں آ سکتا ۔۔ یہاں کا باس میں ہوں۔۔”

گھمبیر لہجے میں کہتا ۔۔۔ وہ درفشاں کو کھینچ کے ۔۔۔ صوفے پہ گرا چکا تھا ۔۔۔ اور خود اس پہ جھکا ۔۔۔ اس کے چہرے پہ اپنی سانسیں چھوڑتا اسے مدہوش کر رہا تھا ۔۔۔

اور درفشاں اتنی مدہوش ہو رہی تھی کہ وہ اپنے شوہر اور بیٹی کو اس کی قربت میں بھول رہی تھی۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” مجھے طلاق چاہئے زایان ۔۔۔ “

اس کی دو ٹوک بات پہ ۔۔۔ ذایان نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔۔۔

” در کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔ کیسے کہہ سکتی ہو ۔۔۔ ہماری ایک بیٹی ہے عسل ۔۔۔ ہمارا چھوٹا سا گھر ہے ۔۔ کیسے ختم کر سکتی ہو ہماری یہ خوبصورت زندگی؟”

” گھر ؟؟ “

وہ استہزائیہ انداز میں چاروں طرف دیکھتی ۔۔۔ اب طنزیہ نگاہوں سے ذایان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

” یہ گھر ؟؟ ماچس کے ڈبے جیسا گھر ۔۔۔ اسے تم گھر کہتے ہو ؟؟ زندگی ؟؟ کون سی زندگی؟؟ جس میں میری ساری خواہشات گھٹ گھٹ کے دم توڑ رہی ہے ۔۔۔ ایسا گھر ۔۔ ایسی زندگی ۔۔ میں نے نہیں چاہی تھی کھبی ذایان عالم ۔ “

وہ آخر میں چیخی تھی۔۔ جبکہ ذایان عالم حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

” در ۔۔۔ “

” شاکڈ ہو گئے ناں؟؟ ایسے میں بھی شاک ہوئی تھی جب شادی کی پہلی رات تم مجھے اس کباڑے میں لے کر آئے تھے ۔۔۔ جہاں سانس بھی میں گھٹ گھٹ کے لے رہی تھی ۔۔۔ اور پھر تمہاری وہ سو کالڈ محبت کے انداز ۔۔۔ تمہاری قربت ۔۔۔ اس گرمی میں مجھے مزید جھلسا رہی تھی۔۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں الٹی کر دوں تم پہ ۔۔۔ “

ذایان عالم واقع شاکڈ تھے تبھی حیرت سے اسے سن رہے تھے ۔۔۔ جبکہ وہ نان اسٹاپ بول رہی تھی۔۔

” نفرت کرتی ہوں۔۔ تم سے ۔۔ اس گھر اور زندگی سے ۔۔۔ اور اس کباڑے سے ۔۔۔ جہاں تم مجھے چھوڑ کے بھول ہی گئے ۔۔۔ مجھے طلاق چاہئے بس ۔۔۔ “

” ہماری بیٹی؟؟ ہماری عسل ؟؟”

ذایان عالم نے ایک آخری امید سوچ کے ۔۔ عسل کا نام لیا تھا ۔۔۔

درفشاں نخوت سے سر جھٹکتی ناک چڑھا گئی ۔۔

” اپنے پاس رکھو اس بیٹی کو بھی۔۔۔ تمہارا ہی خون ہے یہ بھی ۔۔ “

اور پھر وہ چلی گئی تھی۔۔۔ ذایان عالم کی چھوٹی سی دنیا چھوڑ کے ۔۔۔ اپنی بہت بڑی دنیا میں۔۔۔

لیکن ان کو سہارا کشمالہ کہ صورت میں ملا تھا ۔۔۔ جس نے آ کے ان کی زندگی کو نئے معنی دیئے تھے۔۔۔ عورت کا بےحد خوبصورت روپ دیا تھا ۔۔۔

” عسل کس کے پاس ہے زایان ؟؟”

دلھن بنی کشمالہ پوچھ رہی تھی جبکہ وہ چونک کے انہیں دیکھنے لگے تھے ۔

” عسل خالہ کے پاس ہے ۔۔ “

” کیوں؟؟ ہمارے پاس کیوں نہیں ہے ؟؟”

کشمالہ حیران تھی۔۔ ویسے بھی اس چھوٹی سی گڑیا کے لئے ۔۔ انہیں محبت محسوس ہوتی تھی ہمیشہ سے۔۔ ۔

” خالہ کہہ رہی تھی کہ آپ کو برا لگے گا ۔۔۔ نئی دلہن ۔۔ “

اپنی کنپٹی سہلاتے وہ بتانے لگا ۔۔

” آپ عسل کو لے آئیے۔۔۔ عسل اپنی ماں کے پاس ہی رہے گی ۔۔ “

اور زایان متشکر سے مسکرائے تھے ۔۔۔ انہوں نے بےحد محبت سے اپنی بیوی کو دیکھا تھا ۔۔۔ جنہیں عسل کی فکر تھی ۔۔۔

اور دن گزرتے ساتھ ۔۔۔ ان کے دل میں کشمالہ کے لئے محبت اور احترام بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔ جنہوں نے پہلے دن سے ہی اس گھر اور ان کی زندگی کو جنت بنا دیا تھا ۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” یاور میں تمہیں کیا سمجھی تھی اور تم کیا نکل آئے۔۔۔ میں تمہاری بیوی بننے کے خواب دیکھ کے ۔۔۔ تمہارے پاس آئی تھی۔۔۔ ہر مرد کے بستر کی زینت بننے نہیں۔۔۔ “

اس کے شاکی نظروں کے جواب میں یاور ہنس پڑا تھا ۔۔

” میں یا اس زندگی کے خواب ؟؟ درفشاں ۔۔

Try to understand my dear …

یہ زندگی فری میں نہیں بانٹ رہے ہوتے کہ مل جائے تمہیں۔۔۔ محنت کرنی پڑتی ہے دن رات محنت سے ہی یہ سب ملتا ہے ۔ اور ایسا بھی کیا ہے کہ ڈیلی ہوتا ہے ۔۔۔ بس منتھ میں ایک دو بار ہی تو یہ سب کرنا پڑتا ہے تمہیں۔۔ “

” am not a slut … “

وہ چیخ پڑی تھی۔۔۔ یاور کی باتیں اسے کسی نشتر کی طرح ہی لگ رہے تھے ۔۔۔

” you are a slut my dear …

محبت۔۔۔ بےباکی ۔۔۔ یہ سب میں نے ہی تو سکھایا ہے تمہیں ۔۔ تم بھی تو خوش ہو ۔۔۔ آج تک میں نے اپنے کسی دوست سے یا بزنس پارٹنر سے یہ نہیں سنا کہ بھئی تمہاری بیوی ہمیں خوش کرنے میں ناکام رہی ہے ۔۔۔ جو بھی صبح ملا تو یہی کہا اس نے کہ

Your wife is amazing on bed … “

” یاور ۔۔۔ “

درفشاں کا ہاتھ اٹھا تھا اسے مارنے کے لئے ۔۔۔ جبکہ یاور نے اس کا ہاتھ پکڑ کے ۔۔۔ اس کے کمر کی طرف مروڑ کے اسے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔

” مجھے کل ان پیپرز پہ سائن چاہیے اورنگزیب کے ۔۔۔ اب یہ تمہارا کام ہے کہ اسے کیسے بیڈ پہ خوش کرتی ہو ۔۔۔ “

سرد آواز میں کہتا۔۔۔ اسے جھٹکے سے چھوڑ چکا تھا ۔۔۔ چہرے پہ مسکراہٹ سجائے۔۔۔ وہ اب درفشاں کے بال سنوار رہا تھا ۔۔۔

” ان کی بیویاں بھی تو میرے بیڈ پہ ہوتی ہے ۔۔۔ ایکسچینج ایکسچینج تو ہوتا رہتا ہے۔۔۔ کیا تم ان کی بیویوں سے پیچھے رہنا پسند کرو گی ؟؟ “

درفشاں آنکھوں میں نفرت لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

” چلو شاباش۔۔۔ اورنگزیب کو شراب زیادہ پسند ہے ۔۔۔ اسے اپنا ایسے دیوانہ بنانا ہے کہ آج رات اسے نشہ شراب سے زیادہ تم میں ملے ۔۔۔ “

اس کے گال تھپتھپاتا ۔۔۔ یاور کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔ جبکہ درفشاں اس بند دروازے کو بےبسی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور پھر بیڈ پہ پڑے اس ڈریس کو دیکھنے لگی ۔۔۔ جس میں نیم عریاں ہو کے ۔۔۔ اسے اورنگزیب کے پاس جانا تھا ۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

وہ پھر سے۔۔۔ یاور شاہ سے محبت اور شادی کی سزا پا کے ۔۔۔ ایک نئی رات ۔۔۔ ایک نئے بزنس مین کے ساتھ ۔۔۔۔ اس کی بانہوں میں بتا کے۔۔۔ اب سپاٹ وجود کے ساتھ ۔۔۔ اپنے بنگلے کی طرف جا رہی تھی۔۔۔

جہاں رہنے کی قیمت وہ ادا کر رہی تھی یا شاید اس سے بھی زیادہ ادا کر چکی تھی اب تک ۔۔۔

ڈرائیور گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔ اور وہ خاموش نظروں سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔ جب اچانک اس کی نظر ایک جگہ ٹھہر سی گئی ۔۔۔

ہنستی مسکراتی کشمالہ اور اسے محبت سے دیکھتا ذایان عالم اور وہ ننھی سی عسل ۔۔۔

جسے کشمالہ بےحد پیار سے خود سے لگائے کھڑی تھی۔۔۔ جبکہ ذایان عالم اپنی بائیک اسٹارٹ کرنے لگا تھا اب ۔۔

” گاڑی روکو ۔۔۔ “

اس کے حکم پہ ۔۔۔ ڈرائیور کاری روک چکا تھا اور ان آنکھوں میں حسد اور سرد مہری ابھری تھی۔۔۔

لب بھینچے وہ حسد بھری نگاہوں سے اس ہنستی مسکراتی فیملی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

یہاں وہ آگ کے سیلوں پہ جلتی ۔۔۔ اپنی زندگی گزار رہی تھی اور وہاں زایان عالم اپنی زندگی میں اس قدر خوش۔۔۔

” میں خوش نہیں ہوں تو تمہیں کیسے خوش رہنے دوں۔۔۔ “

اور پھر اس کی نظر عسل پہ پڑی۔۔۔ آنکھوں میں جلن اور چہرے زہرخند مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔۔

” چھین لوں گی پر خوشی تم دونوں سے ۔۔۔ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *