Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mawi (Episode 23)

Mawi by Malaika Rafi

وقت اپنی چال چل رہا تھا ۔۔۔ آٹھ مہینے ہو چکے تھے۔۔۔ اب ماوی کو بھی تھوڑا صبر آنے لگا تھا۔۔

احرم کی ابھی تک کوئی خبر نہ تھی۔۔ نہ کھبی ماوی نے جاننے کی کوشش کی ۔۔۔ کپ وہ کس حال میں ہے ۔۔۔

” سنا ہے احرم آ رہا ہے پاکستان۔۔ “

وہ جو آسمان پہ چلتے بادلوں کو دیکھ رہی تھی۔۔ چونک کے طلال کو دیکھنے لگی ۔۔

اور پھر بنا کوئی جواب دیے ۔۔۔ نظریں پھیر کے ۔۔ وہ پھر سے بادلوں کا پیچھا کرنے لگی تھی۔۔

جبکہ طلال سنجیدگی سے ۔۔ اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔

” اگر تم احرم کو معاف کرنا چاہو تو اپنے دل کی سنو ماوی ۔۔۔ ورنہ پچھتاوے زندگی بھر کا روگ بن جاتے ہیں ۔ “

طلال نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا جبکہ وہ لب کاٹتی سامنے درخت پہ چہچہاتے پرندوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔

” معاف کر دینا بہت آسان ہوتا ہے طلال۔۔۔ لیکن بھول جانا بہت مشکل۔۔۔ میں نے احرم کو معاف کر بھی دیا ہو ۔۔۔ لیکن وہ لمحہ میں کھبی نہیں بھول سکتی۔۔ “

” جھوٹ تم نے بھی تو بولے ہیں ماوی ۔۔۔ استعمال اسے تم نے بھی کیا ہے ۔۔ “

طلال کا لہجہ جتاتا ہوا تھا ۔۔ ماوی نے ایک شاکی نظر اپنے محسن پہ ڈالی تھی۔۔

” زنا نہیں کیا میں نے ۔۔۔” ۔۔۔

” میں بھی اکثر یہی سوچتا تھا ماوی ۔۔۔ کہ میری مرضی کے بنا میری شادی کروا دی گئی ہے ۔۔۔ ایشال میری پسند نہیں ہے تو میں کیوں اس کے ساتھ بہت اچھا رہوں۔۔۔ لیکن اب ملال رہنے لگا ہے ۔۔ پچھتاوے ڈستے ہیں مجھے ۔۔ زندگی بھر کا روگ بن گیا ہے ۔۔۔ کاش کبھی اچھا ہزبینڈ بن کے۔۔۔ ایشال سے ویسی ہی محبت کرتا ۔۔۔ جس طرح کی محبت وہ چاہتی تھی مجھ سے ۔۔۔ماوی بس اتنا کہوں گا۔۔ کہ کسی کو معاف کرنا ہو تو دل سے معاف کرو ۔۔ اپنے عمل سے اسے محسوس کراو کہ تم اسے معاف کر چکی ہو ۔۔ ورنہ یہ خالی الفاظ ایک دن اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔۔ پھر ہاتھ کچھ نہیں رہتا۔۔ “

طلال بوجھل لہجے میں اپنی بات کہتا اب اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

جبکہ وہ اپنی سوچوں میں الجھی ہوئی اپنے لب کاٹ رہی تھی۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” آج اپن کا دل اپنے گناہ کا اعتراف کرنے کو چاہ رہا ۔۔ پروفیسر صاب “

عجیب افسردگی اس کے وجود میں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ اس کی گندمی رنگت پہ جیسے سانولا پن سا ٹھہرا ہوا تھا۔۔

” کہئے شین۔۔۔ میں سن رہا ہوں۔۔ “

پروفیسر ذاکر نرمی سے بولے تھے ۔۔۔

شین افسردہ آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی ۔۔۔

” کسی پہ بدکرداری کا الزام کیسا ہوتا ہے پروفیسر صاب ؟؟ “

پروفیسر ذاکر اچھنبے سے اسے دیکھنے لگے ۔

” آپ پہ لگا ہے ؟؟”

شین آنکھوں میں نمی لیے سر نفی میں ہلانے لگی ۔۔

” اپن نے بہت گناہ کیے ہیں صاب ۔۔ بہت بڑے بڑے گناہ۔۔۔ آپ کی باتیں سن کے ۔۔۔ اپن کو خود سے شرمندگی ہو رہی ہے صاب ۔۔۔ اپن کو خود سے نفرت ہو رہی ہے ۔۔۔ اپن ماوی کی گنہگار ہے صاب۔۔۔ اپن۔۔۔ پروفیسر صاب۔۔۔ اپن ۔۔۔ “

وہ رک کے اپنے خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیرنے لگی ۔۔۔

” اس کے شوہر کے سامنے ۔۔ اپن نے ماوی کو بدکردار کہا۔۔۔ اور کہا کہ ماوی ہر مرد کے بستر ۔۔۔۔۔۔ “

پروفیسر ذاکر کی آنکھوں میں حیرت دیکھ کے۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔

دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔ یہی دھچکا تھا کہ اب پروفیسر نکال دے گا اسے یہاں سے ۔۔۔

جبکہ اب ان کی آنکھوں میں حیرت کی جگہ افسوس تھا۔۔

” آپ نے ایک نہیں دو گناہ کیے ہیں شین۔۔۔ ایک معصوم عورت پہ بدکرداری کا الزام لگایا اور دوسرا میاں بیوی کے بیچ دراڑ ڈالا ہے آپ نے ۔۔۔”

شین کی نظریں شرمندگی سے جھک گئی تھی۔۔ ایسے جیسے اب اس میں ہمت نہیں تھی۔۔۔ پروفیسر ذاکر سے سر اٹھا کے بات کرنے کی ۔۔۔

” جانتی ہے آپ۔۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ کتنا حق ہے؟؟؟ قصاص جانتی ہے آپ؟؟ انکھ ۔۔ کان ۔۔ زبان کا قصاص ہوتا ہے ۔۔ جان کے بدلے جان ۔۔ خون کے بدلے خون کا قصاص ہوتا ہے ۔۔ ویسے ہی تہمت کا قصاص بھی ہوتا ہے ۔۔۔ میاں بیوی کے بیچ بدگمانی ڈال کے ۔۔۔۔ ان کے رشتے کو ختم کرنے کا گناہ جانتی ہے آپ؟؟ “

شین نے سسکی لی تھی۔۔۔ نفی میں سر ہلاتی وہ رو پڑی تھی۔۔۔

” اپن کچھ نہیں جانتی ۔۔۔ اپن سزا کے لائق ہے صاب۔۔۔ اپن کو سزا دو ۔۔۔ اپنی بہت برا کر گئی ماوی کے ساتھ ۔۔۔ اپن نے الزام لگایا ۔۔۔ تہمت لگایا۔۔۔ بہتان لگایا ۔۔۔ بدکردار کہا اپن نے اسے۔۔۔ اس کی بربادی میں اپن کا ہاتھ بھی ہے پروفیسر صاب ۔۔ کیسے اپنے گناہوں کی معافی مانگوں۔۔۔ کیسے اپنے رب کے سامنے جھکوں ۔۔ اپن کی سزا بتا دیں بس ۔۔۔ “

وہ روتے ہوئے۔۔۔ ہچکیوں کے بیچ کہہ رہی تھی۔۔

” ماوی سے معافی مانگو ۔۔۔ اگر وہ آپ کو معاف کردیتی ہے ۔۔ اگر ماوی اپنا حق حلال کرتی ہے۔۔۔ تو آپ کا رب بھی آپ کو بخش دے گا ۔۔۔ یہی آپ کی سزا ہے شین کہ آپ ماوی کے سامنے جا کے ۔۔ اپنے ہر گناہ کا اعتراف کر لیں۔۔۔ “

شین بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ جبکہ وہ اب کوئی کتاب اٹھا کے پڑھنے لگے تھے ۔۔۔

” یہ اپن کی سزا ہے؟؟”

شین حیرت سے پوچھ رہی تھی۔۔ پروفیسر ذاکر نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا تھا ۔۔

” سزا تو آپ کی ۔۔۔ ایک بدکار کے جتنا ہے کہ جب وہ بدکاری کرتے پکڑا جائے اور اسے کوڑے مارے جائے ۔۔ ویسے ہی آپ کی سزا بھی بنتی ہے ۔۔ لیکن اگر آپ ماوی کے سامنے اعتراف جرم کر کے معافی مانگ لیں اور وہ آپ کو معاف کردیں ۔ تو بیشک اللہ بےحد مہربان اور بخشنے والی ذات ہے ۔۔ “

وہ اپنی بات کہہ کے ۔۔ پھر سے کتاب پڑھنے لگے ۔۔۔ جبکہ شین دھڑکتے دل کے ساتھ ۔۔۔ انہیں دیکھتی رہی ۔۔۔ اور پھر نظریں جھکا کے۔۔ لب کاٹتی وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔

کہ سزا کوئی بھی ہو ۔۔ اسے اب اپنی سزا بھگتنی تو ہے ۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” کیوں نہیں جاو گی آفس؟؟ وہ جو احرم نے اپنا سارا بزنس تمہارے پاس رکھا ہوا ہے ۔۔ کیا وہ امانت نہیں ہے اس کا؟؟ کیا تم خیانت نہیں کر رہی ؟؟”

ابرام لب بھینچے اسے باتیں سنا رہا تھا جبکہ ماوی سپاٹ نظروں سے اسے گھور رہی تھی ۔۔۔

” مجھے افس ۔۔۔ اس بزنس ۔۔ اور تم لوگوں سے دور ہی رہنا ہے۔۔ “

” دور رہ لینا ۔۔ فی الحال احرم کے واپس آنے تک ۔۔۔ اس کا سب سنبھالو ماوی ۔۔ تم بیوی ہو اس کی اور اس کی ساری بزنس ڈیلز تمہاری وجہ سے ڈیلے ہو رہی ہے ۔۔ یہ صحیح نہیں ہے بلکل بھی ۔۔۔ ایٹ لیسٹ اس کے واپس آنے تک آفس آ جایا کرو پلیز ۔۔۔ “

اور پھر ایک بڑی جنگ کے بعد ۔۔ اس نے آفس جانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔

ابھی بھی وہ اپنی میٹنگ اٹینڈ کر کے ۔۔ پھر سے اپنے آفس روم میں آئی تھی۔۔۔

فائل دور ٹیبل پہ اچھال کے ۔۔۔ اس نے اپنے بال بکھیرے تھے ۔۔۔۔

” اوففففف ۔۔۔۔ “

اپنی گردن سہلاتی ۔۔۔ ماوی اپنا کوٹ بھی اتار کے صوفے پہ پھینک چکی تھی۔۔۔جبکہ ان دو آنکھوں نے بےحد دلچسپی سے ۔۔۔ اس کے ہر عمل کو دیکھا۔۔۔

” کافی ۔۔۔ “

خود سے کہتی وہ انٹر کام تک جانے کے لئے مڑی ۔۔۔ جب اس کی نظر سامنے دیوار سے ٹیک لگا کے کھڑے احرم پہ پڑی۔۔۔

تو ایک پل کے لیے وہ اپنی جگہ پہ ٹھٹھک گئی تھی۔۔۔ جبکہ احرم سینے پہ ہاتھ باندھے۔۔۔ دیوار سے ٹیک لگائے۔۔۔ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

” ا ۔۔۔۔ حرم “

اس کے لب ہلے تھے ۔۔

” کیسی ہو ماوی ؟؟”

وہ ماوی سے سوال کرتا ۔۔۔۔ اس کے قریب آرہا تھا۔۔۔

ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور وہ ایک سال بعد اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

وہ مکمل بدل چکا تھا۔۔۔ اس کی شخصیت پراعتماد سی ہو گئی تھی۔۔۔ آنکھیں ٹھیک ہو جانے کے بعد ۔۔۔ وہ بےحد بدل گیا تھا۔۔۔ وہ جو احساس کمتری کا شکار ہوا کرتا تھا۔۔۔ اب وہ پراعتماد ہو کے ۔۔۔ وجیہہ مرد بن چکا تھا۔۔۔۔ جس کی بولتی آنکھوں میں ۔۔۔ دیکھتے ماوی کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔۔۔

وہ محرم تھا اس کا۔۔۔ لیکن وہ ہرجائی بھی تو تھا۔۔۔

وہ محرم تھا اس کا ۔۔۔ لیکن وہ بھرم توڑ چکا تھا اس کا ۔۔

جسے اس نے ہمیشہ بےوفا کا خطاب دیا۔۔۔ آج یوں اسے اپنے سامنے دیکھ کے ۔۔۔ وہ جیسے شاک کی کیفیت میں تھی۔۔۔

جبکہ وہ زیر لب مسکراتا ۔۔۔ اس کے قریب کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔

” تو تم ہو ماوی ۔۔۔ آج اپنی آنکھوں سے تمہیں دیکھ رہا ہوں۔۔۔ جس سے میں نے اپنی تاریکیوں میں۔۔۔ بےپناہ محبت کی ۔۔۔ جو میری محرم بنی میری تاریکیوں میں۔۔۔

وہ اس قدر خوبصورت ہے۔۔۔ “

ماوی کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے وہ کہہ رہا تھا۔۔۔ جبکہ ماوی شاک سے جیسے باہر نکلی تھی اور دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔

” اور تم وہی شخص ہو جسے میں ان بارہ مہینوں میں بےوفا کا نام دے چکی ہوں۔۔۔ جو میرا بھرم توڑ کے ۔۔۔ میرا ہرجائی بن چکا ہے ۔۔ “

وہ سپاٹ لہجے میں کہہ رہی تھی جبکہ نہ جانے کیوں احرم کو اس کے لہجے میں شکوے سے محسوس ہوئے تھے ۔۔۔ تبھی زیر لب مسکرا دیا تھا۔۔

دو قدم آگے بڑھا تھا وہ ۔۔ ماوی کی آنکھوں میں شکوے پڑھ چکا تھا شاید وہ ۔۔۔

جبکہ اتنے عرصہ بعد اسے سامنے دیکھ کے ۔۔ ماوی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے ردعمل کا اظہار کرے ۔۔۔

” وہیں رہو احرم ۔۔۔ میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ “

احرم نے ابرو اچکائے تھے۔۔۔

” اور اگر میں پیچھے نہ ہٹوں تو ؟؟ “

اسے نظروں کے حصار میں لیے ۔۔۔ احرم قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔

جبکہ ماوی اس کی شخصیت کا اعتماد دیکھتی ۔۔ بوکھلا کے پھر سے پیچھے ہوئی تھی۔۔

” اگر میں تمہارے قریب آنا چاہوں تو ؟؟”

وہ اب بھی کہہ رہا تھا۔۔۔ جبکہ ماوی گنگ سی ۔۔۔ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو آنکھوں میں محبت لیے اس کی طرف آ رہا تھا۔۔۔ اور وہ دیوار سے جا لگی تھی۔۔۔

” اگر ماوی ۔۔۔ اگر میں تمہیں اپنے حصار میں لینا چاہوں تو ؟؟”

احرم اس کے قریب ہوا تھا۔۔۔ کہ ایکدوسرے کی سانسوں کی آواز تک وہ سن رہے تھے ۔۔۔

وہ حیرت سے ان آنکھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جن میں ماوی کا عکس صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔

” اگر یہ کہہ دوں ماوی ۔۔ کہ میں تمہاری محبت کا مکمل اسیر ہو چکا ہوں۔۔ تو ؟؟؟ ماوی “

احرم اس کے بےحد قریب سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔ اپنی سانسیں ماوی کے گالوں پہ چھوڑتا۔۔۔ وہ گھمبیر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

جبکہ ماوی کو اپنی سانسیں بوجھل ہوتی محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔

جیسے ابھی وہ سانس نہ لے پائے گی۔۔۔

جیسے ابھی اسے ان ہیلر کی ضرورت پڑے گی۔۔۔۔

” اگر یہ کہوں ماوی ۔۔۔۔ کہ ان دنوں ۔۔۔ ہفتوں۔۔۔ مہینوں میں۔۔۔۔ تمہیں دیکھنے کی خواہش رہی ہے تو ؟؟؟ “

وہ آنکھیں موندے اب سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔ ماوی کے بےحد قریب ۔۔۔

” I just wanted to see you with my naked eyes Maavi … “

وہ پھر سے سرگوشی کرتا ۔۔۔ پورے استحقاق سے اس کے لبوں پہ جھکا تھا۔۔۔

ماوی کو اپنی سانسیں اٹکتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ احرم دھیمے سے مسکرایا تھا۔۔۔

” اپنی سانسیں تمہیں دان کر سکتا کیا میں؟؟ ماوی ۔۔۔”

اس کے کان کی لو پہ اپنے لبوں سے ۔۔۔ سرگوشی کرتا۔۔۔ وہ اس کے لبوں پہ خاموش سرگوشی کرنے لگا ۔۔۔

ماوی اس کی قربت میں۔۔۔ اس کے سحر سے نکلنے کی تگ و دو میں تھی ۔۔۔ جو ناممکن سی لگ رہی تھی۔۔۔

اور پھر احرم اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں انڈیلنے لگا ۔۔۔ لمحے جیسے دھیمی رفتار سے چلنے لگے تھے ۔۔۔ ان لمحوں کی خاموشی میں۔۔۔ ان دونوں کی سانسوں کا شور تھا۔۔۔

جیسے اتنے عرصے کی پیاس ۔۔۔ اس ایک لمحے میں آن سمائے ہو ۔۔

احرم کے ہاتھوں کا لمس ۔۔۔ وہ اپنی پشت پہ محسوس کر رہی تھی۔۔۔ لیکن جیسے مزاحمت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔

بےبسی کا عالم تھا اس کے وجود پہ ۔۔۔

ہاتھوں کا لمس گردن پہ محسوس ہو رہا تھا اب ۔۔۔

خود کو احرم کی دسترس سے نکالنے کی چاہ تھی۔۔۔ لیکن ان لمحوں کو احرم کی قربت میں جینے کی خواہش بھی تھی ۔۔ لیکن اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔۔۔۔

اور پھر بلکل اچانک گہرا سانس لیتی ۔۔ خود کو اس کے سحر نکالنے کی کوشش کرتی ۔۔۔ اسے پیچھے دھکا دے چکی تھی۔۔۔

” د ۔۔۔ دور رہو مجھ سے۔۔۔ م ۔۔۔ معاف کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے احرم نوفل شاہ۔۔ کہ تم میرے قریب آنے کی کوشش کرو ۔۔۔ “

وہ چلائی تھی اس کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔۔۔ جسے نارمل کرنا اس کے لئے فی الحال مشکل امر تھا۔۔۔ جبکہ احرم ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔

” اتنے مہینوں بعد اپنی بیوی سے ملنے پہ ۔۔۔ اس کے قریب ہی ہونے کی کوشش کروں گا ۔۔ “

اس کی گھمبیر آواز پہ ۔۔۔ وہ جزبز ہوئی تھی ۔۔۔۔ گہرا سانس لیتی وہ اپنی کنپٹی سہلانے لگی۔۔۔ جبکہ احرم نرم نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

” اس کا مطلب یہی ہوا کہ میں اکیلا نہیں تھا تم نے بھی مجھے مس کیا۔۔۔ مسز احرم نوفل شاہ ۔۔ “

وہ کہہ رہا تھا اور ماوی نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا۔۔ کہ وہ کیسے کمزور پڑ گئی تھی ان لمحوں میں۔۔۔

شاید محرم رشتے میں تڑپ ایسی ہی ہوتی ہے ۔۔ جو ماوی کو احرم کی قربت میں محسوس ہوئی تھی۔۔۔

لب بھینچے وہ ٹیبل تک گئی ۔۔۔

فائلز کھینچ کے اس کی طرف پھینکی۔۔۔

” یہ تمہاری فائلز ۔۔ تمہارا بزنس ۔۔ تمہارا آفس۔۔۔ میں جا رہی ہوں۔۔۔ سکون چاہیئے مجھے ۔۔۔ “

وہ چیختی چلاتی ۔۔۔۔ اپنا کوٹ اٹھا کے تن فن کرتی کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔

لیکن جتنی تیزی سے وہ کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ باہر آ کے اسے اپنے وجود میں تھکاوٹ سے بڑھتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

اپنا سر تھامے۔۔۔ وہ اپنے وجود پہ اترتی یاسیت کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

” ماوی آڑ یو اوکے ؟؟؟”

ابرام کی پریشان آواز پہ ۔۔۔ دھندلائی آنکھوں سے اس نے اوپر دیکھا تھا۔۔۔

سب کچھ دھندلا دھندلا سا تھا۔۔۔

اور پھر ابرام نے ان آنکھوں میں وحشت اترتے دیکھا تھا۔۔۔

وہ لڑکھڑا کے دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔ جیسے اپنے سامنے کسی دیو کو دیکھ لیا ہو ۔۔۔

خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھتی۔۔۔ وہ تیزی سے وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔

” ماوی ۔۔۔۔ ماوی ۔۔۔ “

ابرام بھی اسکے پیچھے ہی آیا تھا ۔۔ جبکہ وہ لفٹ میں داخل ہوئی چیخی تھی۔۔۔

” stop following me .. “

چھوڑ دو میرا پیچھا۔۔۔

۔۔۔۔۔

ابرام وہیں رک گیا تھا ۔۔۔ اور پریشان نظروں سے بند ہوتے دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

” ابرام ۔۔۔ “

بھاری اوازپہ ۔۔۔ اسے اپنی ہارٹ بیٹ ایک لمحے کو بند ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔

وہ تیزی سے پیچھے مڑا تھا ۔۔۔ جہاں احرم نم آنکھیں لیے کھڑا۔۔۔ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” مجھے ایک بار بتا تو دیتے ۔۔۔ اپنے بھائی کو تو بتا دیتے ۔۔ “

ابرام نم آنکھوں سے اپنے بھائی کو دیکھتے کہہ رہا تھا۔۔۔ چہرے پہ خوشی اور دکھ کا امتزاج تھا ۔۔۔

احرم کی بینائی واپس آ گئی تھی اور ابرام کے لئے اس سے بڑھ کر کیا خوشی ہوگی کہ اس کا بھائی اب دیکھ سکتا ہے ۔۔۔

وہ بار بار احرم کا چھو رہا تھا۔۔۔ خود کو یقین دلا رہا تھا کہ اس کا بھائی اس کے پاس ہے ۔۔۔

احرم نے بےحد محبت سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے ۔۔۔

” مجھے علم نہیں تھا کہ یہ سب ہو پائے گا کہ نہیں۔۔۔ میں زندہ رہ بھی پاؤں گا کہ نہیں۔۔۔ اسی لئے چھپایا۔۔۔ “

” اور اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کھبی خود کو معاف نہ کرتا احرم ۔۔ کھبی بھی نہیں۔۔۔ “

ابرام کہتے کہتے رو دیا تھا ۔۔ احرم نے اسے گلے لگایا تھا۔۔۔

” ایک سال ۔۔۔ جانتے ہو احرم بارہ مہینے ۔۔ کس اذیت میں گزارے ہیں میں نے ؟؟ کیسے کیسے خیال آئے تھے مجھے ۔۔۔ میرا بھائی کس حال میں ہیں۔۔۔ میں اپنے بھائی کی حفاظت نہ کر سکا۔۔۔ “

ابرام کہہ رہا تھا۔۔۔ وہ بےحد ٹوٹا ہوا لگا تھا احرم کو ۔۔۔ اس کا مضبوط بھائی ۔۔ کس قدر کمزور سا محسوس ہوا تھا اسے آج۔۔۔

تبھی اس نے ابرام کو خود میں بھینچا تھا ۔۔۔ ویسے ہی ۔۔۔ جیسے ابرام اسے خود میں بھینچتا ۔۔۔ جب جب وہ خود کو کمزور محسوس کرتا ۔۔۔

” اب نہیں جاوں گا اپنے بھائی کو چھوڑ کے کہیں ۔۔۔ کہیں نہیں جاوں گا ۔۔ “

احرم نرمی سے کہہ رہا تھا۔۔۔ ابرام اس سے الگ ہو کے ۔۔ اسے دیکھنے لگا۔۔ ۔

” ماوی سے ملے ؟؟” ۔

احرم نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔ گہرا سانس لیتا وہ اپنے بھائی کو دیکھنے لگا۔۔۔

” یہ دیکھ رہے ہو ناں اس کی کاروائی ۔۔۔ “

وہ نیچے گری فائلز کی طرف اشارہ کرتے بولا تھا ۔۔۔

” ساری فائلز ۔۔ بزنس ۔۔ افس میرے منہ پہ مار کے گئی ہے ۔ “

ابرام کو ماوی کی کچھ دیر پہلے کی حالت یاد آئی تھی۔۔۔

” ہممممم ۔۔ “

اس نے ہنکارا بھرا تھا ۔۔۔ جبکہ احرم کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔۔ خوبصورت آنکھیں کچھ سوچ رہی تھی ۔۔۔

” ماوی بےحد خوبصورت ہے ۔۔۔۔ بہت اپنی اپنی سی۔۔۔ “

ابرام چونک کے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ اپنے بھائی کے چہرے پہ پھیلی خوشی کو ابرام نے پہلی بار ۔۔۔ کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔

ہلکا سا مسکرا کے اس نے سر جھٹکا تھا۔۔۔

” everything will be fine .. “

احرم بھی اپنے بھائی کو دیکھ کے مسکرائے لگا ۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” ماوی ۔۔ “

وہ جو اپنی سوچوں میں گم ۔۔۔ گاڑی سے اتر رہی تھی۔۔۔ جب شین کی آواز پہ چونک کے مڑی تھی ۔۔۔

” ارے شین تم ۔۔۔ آو اندر چلتے ہیں۔۔۔ “

ماوی اسے دیکھ کے مسکراتے ہوئے کہنے لگی ۔۔

” نہیں ماوی ۔۔۔ “

ماوی کے چلتے قدم رکے تھے۔۔ وہ رک کے اسے دیکھنے لگی۔۔

” یہیں بات کرنی ہے “

شین خشک لبوں پہ زبان پھیرنے کہنے لگی۔۔۔ جبکہ ماوی کھڑی اسے دیکھنے لگی ۔۔

” ہاں کہو “

” ماوی ۔۔۔ اپن کو معاف کر ماوی ۔۔۔۔ اپن نے بہت گناہ کیے ہیں۔۔۔ اپن کو معاف کردے ۔۔۔ “

وہ روتے ہوئے کہنے لگی جبکہ ماوی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

” کیا ہوا ہے شین؟؟”

شین رونا روک کے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ ” اپن نے اس رات پوری بستی کے ساتھ مل کے ۔۔۔ تیرے پہ بدکاری کا الزام لگایا کہ تو ہر مرد کے بستر پہ جاتی ہے ۔۔۔۔ اور “

ماوی کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی ۔۔۔

” تیرے اور ابرام کے بیچ طلاق اپن کی باتوں کی وجہ سے ہوئی ۔۔۔ اپن نے کہا کہ تیری بیوی بدکردار ہے ۔۔۔ اور پھر ساری بستی ۔۔۔۔۔ “

ماوی لڑکھڑا کے ۔۔۔ پیچھے گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔۔۔ وہ بےیقینی سے شین کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

” اپن تیری زندگی برباد کر چکی ماوی ۔۔۔ “

” ک ۔۔۔ کیوں؟؟”

ماوی کے لبوں سے پھسلا تھا۔۔۔

شین بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

” اپن نفرت کرتی تھی تجھ سے ۔۔۔ ماوی “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *