Mawi by Malaika Rafi NovelR50587 Mawi (Episode 05)
Rate this Novel
Mawi (Episode 05)
Mawi by Malaika Rafi
” کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟؟ اور یہ ۔۔ یہ جگہ کون سی ہے؟؟ “
دو ہٹے کٹے آدمی اسے یہاں لائے تھے ۔۔ جہاں نیم ملگجا سا تھا ۔۔۔ جبکہ وہ چلا رہا تھا ۔۔۔ سامنے اسے بس ایک ٹیبل ہی نظر ائی تھی۔۔۔ اور دوسری طرف ایک اسٹریچر تھا ۔۔۔ باقی وہ جگہ خالی تھی
” یہ سب کیا ہے ۔۔۔کون ہو تم لوگ ۔۔۔ میں پوچھتا ہوں۔۔۔ کون ہو ؟؟”
یہ سب دیکھ کے ۔۔۔ اسےخوف سا محسوس ہوا تھا اور اس خوف کو زائل کرنے کے لئے ۔۔ وہ پھر سے چلانے لگا ۔۔۔
جب اسے ابرک آتا دکھائی دیا ۔۔۔
” ابرک تم ؟؟؟ اچھا تو یہ سب تمہارا کام ہے ۔۔۔ مجھے تو تم پہلے سے ہی ٹھیک انسان نہیں لگے تھے ۔۔ میں ابرام کی وجہ سے خاموش تھا۔۔۔ بتاتا ہوں میں سب ابرام کو ۔۔۔ “
حذیفہ کے چلانے پہ ۔۔۔ ابرک کے چہرے پہ مسکراہٹ در تھی۔۔۔
” ڈونٹ ووری ۔۔۔ ابرام سر یہیں آ رہے ہیں۔۔۔ “
اور حذیفہ کی نظر۔۔۔ ابرام پہ پڑی۔۔۔ جو سگریٹ کا ادھورا ٹکڑا۔۔۔ سائیڈ پہ پھینکتا ۔۔۔ پینٹ پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وہیں آ رہا تھا ۔۔
” ارے ابرام بیٹا۔۔۔ اے چھوڑو مجھے ۔۔۔ “
ابرام کو دیکھ کے۔۔۔ اس کی باچھیں کھل گئی تھی۔۔۔ تبھی وہ خود کو ان دو آدمیوں سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
ابرام کے اجازت ملتے ہی ۔۔۔ وہ دونوں اسے چھوڑ چکے تھے۔۔۔ تبھی وہ تیزی سے ابرام کے قریب آیا تھا ۔۔۔
” ابرام بیٹا۔۔۔ یہ لوگ کون ہیں۔۔۔ ؟؟ مجھے یہاں کیوں لے کے آئے ہیں یہ لوگ ۔۔۔ اور یہ ابرک بھی مجھے ان کے ساتھ ملا ہوا لگ رہا ہے۔۔۔۔ مجھے یہاں سے لے چلو ۔۔۔ چلو چلو ۔۔۔ “
وہ جلدی جلدی سے کہتے ۔۔۔ آگے بڑھا تھا ۔۔۔
” اوپری بلڈنگ سے ڈیڈ کو دھکا دے کے ۔۔۔ قتل کروا کے ۔۔۔ ان کا اپنا ہی خون ۔۔۔ اپنا بھائی حذیفہ شاہ ۔۔۔اپنے ہی بھابی اور بھتیجے کا قاتل نکلا ۔۔۔ دا ہیڈ لائنز۔۔۔ “
ابرام کی سرد آواز نے ۔۔۔ اس کے چلتے قدم روک لیے تھے۔۔۔ وہ دو قدم پیچھے لیتا ۔۔۔ پھر سے ابرام کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔۔۔
” یہ ۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا۔۔۔ “
جبکہ ابرام کا چہرہ سرد اور بےتاثر تھا ۔۔۔
” بریک فیل کروانے کا پلان ۔۔۔ گاڑی بےحد اوپر سے۔۔۔کھائی میں گرنے سے مسز نوفل شاہ کے گردن کی ہڈی ٹوٹنے سے موت واقع ہوئی اور احرم نوفل شاہ اپن بینائی کھو بیٹھے۔۔۔ سرپرائز ۔۔۔۔ “
” یہ۔۔۔ یہ ۔۔۔ “
وہ ہکلانے لگا جبکہ ابرام جبڑے بھینچے ۔۔۔ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” مجھے ۔۔۔ مجھے پولیس کے حوالے مت کرو ابرام پلیز ۔۔۔ مجھے معاف کردو ۔۔”
وہ اچانک سے ۔۔۔ابرام کے قدموں میں گر کے ۔۔۔ معافی مانگنے لگا ۔۔۔ جبکہ ابرام نے اپنے بھاری بوت سے دھکا دے کے ۔۔۔ اسے پیچھے گرایا تھا ۔۔۔
” پولیس کے حوالے؟؟ ارے چچا جان بلکل بھی نہیں ۔۔۔ اٹھئیے پلیز ۔۔۔ “
حذیفہ ان چاروں پہ نظر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
” بس سامنے پڑے اس ٹیبل پہ چڑھنا یے ۔۔۔اور وہ جو رسی نظر آ رہی ہے ۔۔ اسے اپنی گردن کے گرد لپیٹنا ہے ۔۔۔ اور پھر بےحد آرام سے ۔۔۔ پاؤں کے ذریعے اس ٹیبل کو دھکا دے کے پیچھے کرنا ہے ۔۔۔ بہت آسان۔۔۔ “
ابرام سرسراتے لہجے میں یہ سب کہہ رہا تھا ۔۔۔ جبکہ وہ بدک کے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔
” ن ۔۔۔۔ ن۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ “
” نہیں؟؟؟ پھر وہ دیکھ رہے ہیں آپ چچا جان ؟؟ خالی اسٹریچر ۔۔۔ کچھ سامان ٹیبل پہ اور ایسڈ کی بوتل ۔۔۔ جو اپ کہ آنکھوں کو واش کرنے کے لئے ہیں۔۔۔تو فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔ کون سا ؟؟”
ابرام نے دوسرا آپشن بھی اس کے سامنے رکھ دیا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ دونوں ہاتھ جوڑ کے گڑگڑانے لگا ۔۔۔
” م ۔۔۔ مجھے معاف کردو بیٹا۔۔ مجھے معاف کردو ۔۔۔ “
وہ رونے ہی لگا تھا۔۔۔
” ابرک سمجھاو میرے چچا جان کو ۔۔۔پلیز”
وہ ابرک کی طرف دیکھتا ۔۔۔پیچھے ہواتھا ۔۔۔ جبکہ حذیفہ وہیں کھڑا ۔۔۔ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” میں تمہارا چچا ہوں بیٹا۔۔۔ “
” اوپر سے گرنے والا میرا باپ تھا ۔۔۔ ایکسیڈینٹ میں مرنے والی میری ماں تھی ۔۔۔ ہری آپ ۔۔۔ جلدی دیسائید کرو۔۔۔ “
وہ پھر سے چلایا تھا ۔۔۔ جبکہ وہ زمین پہ بیٹھ کے رونے لگا ۔۔۔ ابرام کے اشارے پہ ۔۔۔ وہ دونوں آدمی آگے آئے تھے ۔۔۔ اور اسے بازوؤں سے جکڑ کے ۔۔ کھنیچتے ہوئے اسٹریچر کی طرف لے جانے لگیں۔۔۔ جبکہ وہ چلانے لگا ۔۔۔ خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔
” چھوڑو مجھے۔۔۔۔ چھوڑو ۔۔۔۔ چھوڑو “
وہ چیخ رہا تھا ۔۔۔۔ اسٹریچر پہ ڈال کے ۔۔۔ اسکے ہاتھ پاؤں باندھنے لگیں۔۔۔ جبکہ وہ چیخ رہا تھا۔۔۔رو رہا تھا ۔۔۔ جوں جوں وہ چیختا ۔۔۔ اسی قدر ابرام کے جبڑے بھنچ جاتے۔۔۔
اسے اپنے بھائی کا چلانا ۔۔۔ رونا یاد آتا ۔۔۔ جب وہ چیخ چیخ کے فریاد کر رہا تھا ۔۔۔ کہ وہ دیکھ نہیں سکتا ۔۔۔ جب وہ رو رہا تھا درد سے ۔۔۔ کہ اس کی دنیا اندھیر ہو چکی ہے۔۔۔
ایسڈ ڈراپ لے کے ۔۔۔ وہ دیو ہیکل انسان اسٹریچر کے قریب آیا تھا ۔۔۔
” ابرام۔۔۔۔ ابرام مت کرو ۔۔۔ابرام ۔۔۔۔ “
وہ چیخ رہا تھا ۔۔۔ سر کے اشارے سے ۔۔۔ انھیں اجازت دیتا ۔۔۔ ابرام اب دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب ایسڈ کا ڈراپ آنکھ میں گیا تھا۔۔۔اور وہ چیخنے لگا ۔۔۔ بےحد بھیانک چیخیں تھی ۔۔۔ جب دوسری ڈراپ دوسرے آنکھیں ڈالی گئی ۔۔۔
ابرام نے آنکھیں بند کر کے۔۔۔ گہرا سانس کھینچا تھا ۔۔۔ وہ اپنا سب کھو چکا تھا ۔۔۔ صرف اور صرف اس شخص کی وجہ سے ۔۔۔
تیز دھار آلہ لے کے ۔۔وہ دیو ہیکل آدمی۔۔ پھر سے قریب آیا تھا۔۔۔۔ جبکہ دوسرے آدمی نے ۔۔۔ حذیفہ کے کھلے منہ سے ۔۔۔ اس کی زبان کھینچ کے باہر نکالی تھی۔۔۔
اور ایک ہی جھٹکے میں۔۔۔ زبان کاٹ کے باہر پھینک دی گئی تھی۔۔۔
” کسی اپاہج خانے کے سامنے پھینک آو اسے ۔۔ “
سرد ۔۔۔ بےتاثر آواز تھی ۔۔۔ اور پھر لمبے ڈگ بھرتا وہ وہاں سے جا رہا تھا۔۔۔ جبکہ اب حذیفہ چلاتے ہوئے ۔۔۔ منہ سے عجیب آوازیں نکال رہا تھا۔۔۔
اپنے کیے کی وہ اذیتناک سزا بھگت چکاتھا۔۔۔۔۔وہ آدھا انسان تھا اب۔۔۔ آدھا ادھورا ۔۔ انسان !!!!











ایک مہینے بعد :
اپنے اپارٹمنٹ داخل ہو کے ۔۔۔ وہ ادھر ادھر نظریں دوڑاتا ماوی کے بیڈ روم کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ لیکن دروازے کھلنے پہ ۔۔۔ اپنے شرٹ کی بیک زپ بند کرتی ماوی بوکھلا کے مڑی تھی ۔۔۔
اپنے سامنے ابرام کو دیکھ کے ۔۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔ نظروں کا تصادم ہوا تو دل جیسے اچھل کے حلق میں آ گیا ہو ۔۔۔ ابرام کے دیکھنے کا انداز ۔۔ آج بےحد مختلف ہی تھا ۔۔۔
تبھی نظریں چرائی تھی۔۔۔ سرخ رنگ کی شرٹ اور ٹراوزر میں۔۔۔ ماوی کا کھلتا حسن دمک رہا تھا ۔۔۔
” کیا کر رہی تھی۔۔؟؟”
گھمبیر آواز میں کہتا ۔۔۔ وہ ماوی کے قریب آ رہا تھا ۔۔
” میں ۔۔ ڈریس چینج ۔۔۔ “
وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ لیکن ابرام کے قریب آنے پہ ۔۔۔ اس سے کچھ بولا نہ گیا ۔۔۔
” ا۔۔۔۔ابرا۔۔۔۔ “
” ہششش ۔۔۔ “
اپنے شہادت کی انگلی۔۔۔ اس کے لبوں پہ پھیرتا۔۔۔ وہ گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” میں چینج کروا دیتا ڈریس ۔۔۔ “
سرگوشی میں کہتا ۔۔۔ وہ جیسے ماوی کی سانسیں اتھل پتھل کر رہا تھا ۔۔۔
اس سے پہلے ماوی کوئی حرکت کرتی ۔۔۔ اس کے لبوں پہ جھکتا ۔۔۔ اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے قید کرتا ۔۔۔ وہ جیسے پرسکون ہو رہا تھا ۔۔۔
ماوی کو بانہوں کے گھیرے میں قید کرتا ۔۔۔ اسے اپنے بےحد قریب کر کے ۔۔۔ اپنی بےچینیاں جیسے ان سانسوں میں ان ہیل کر کے ۔۔۔ وہ پرسکون ہو رہا تھا ۔۔۔
ابرام کا لمس پاتے ہی ۔۔۔ ماوی جیسے بہک رہی تھی ۔۔۔ وہ جو مکمل ابرام کی محبت میں سانسیں لے رہی تھی۔۔۔ آج پہلی بار اس کا لمس پا کے ۔۔۔ اس کی قربت پا کے ۔۔ وہ اپنا ہی ہوش کھو رہی تھی۔۔۔
تبھی جب جھٹکے سے ۔۔۔ ابرام اس سے الگ ہوتا ۔۔ اس سے مزید گستاخی کا سوچتا ۔۔ ماوی تیزی سے اس سے الگ ہو کے ۔۔۔ اس سے فاصلے پہ ۔۔۔ کبرڈ سے لگ کے کھڑی ہوئی تھی۔۔
” ماوی پلیز ۔۔۔ آج نہیں۔۔۔ آج ہر فاصلہ مٹانا چاہتا ہوں پلیز ۔۔ “
ابرام پھر سے ۔۔۔ اس کی طرف بڑھتے بولا ۔۔۔ جبکہ وہ بمشکل خود کو۔۔۔ اس مدہوش کن حصار سے ۔۔۔ باہر نکال پائی تھی۔۔۔
” ن ۔۔۔ نہیں ابرام پلیز ۔۔ “
” اچھی لگتی ہو ماوی ۔۔ اب اور خود کو باندھ کے نہیں رکھ سکتا ۔۔ تم بھی پسند کرتی ہو مجھے ۔۔کیا نہیں چاہتی میں تمہارے قریب آوں ؟؟”
ابرام کی گھمبیر آواز۔۔۔ اس کی دھڑکنیں بکھرا گئی ۔۔
” محبت کرتی ہے میں تم سے ابرام ۔۔۔ بےحد محبت۔۔۔ “
وہ جذب کے عالم میں کہہ رہی تھی جب ابرام نے ۔۔۔ آگے بڑھ کے اسے اپنی طرف کھینچا تھا اور وہ ابرام کے سینے سے لگی تھی۔۔۔
جواں دلوں میں۔۔۔ جذبوں کی تپش سی سلگی تھی۔۔۔ تبھی دونوں ہی ایکدوسرے کی قربت کے لئے۔۔۔ جیسے تڑپ رہے تھے ۔۔۔
” نکاح کر لیتے ہیں ۔۔۔ “
ماوی نے اچانک سے کہا تھا۔۔۔ جبکہ ابرام رک کے اسے دیکھنے لگا ۔۔
” میں۔۔۔ میں مکمل تمہاری ہے ابرام ۔۔۔ میں بھی تمہارا ساتھ چاہتی ۔۔۔ میں بھی چاہتی کہ ۔۔۔۔ “
وہ کہتے کہتے رکی تھی۔۔۔ اور پھر لب کاٹتی ابرام کو دیکھنے لگی جو عجیب نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
” نکاح کے بعد یہ سب جائز ہوتا ۔۔۔ نکاح سے پہلے ۔۔۔ میں زنا نہیں کرتی ۔۔ “
ابرام دو قدم پیچھے ہو کے ۔۔۔ اسے سر سے پاؤں تک دیکھنے لگا ۔۔۔
” تمہیں کیسے پتہ یہ سب ؟؟ زنا ۔۔ نکاح “
” میں نے پڑھی۔۔۔ کتابوں میں۔۔۔ مجھے گناہ نہیں کرنا ۔۔ “
وہ نظریں چرا کے ۔۔۔ آنکھیں بند کیے کہنے لگی ۔۔۔ ابرام کچھ نہیں بولا ۔۔
اور پھر نکاح ہوا ۔۔۔ نکاح خواں آئے تھے ۔۔۔ نکاح پڑھا گیا۔۔۔
ابرام ان کو چھوڑنے دروازے تک گیا۔۔۔ جبکہ سر پہ دوپٹہ لیے۔۔۔ جھکی پلکیں اٹھا کے ۔۔۔ ماوی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔ رشتہ بدلا تو دل کی دھڑکنیں بھی بےایمانی پہ اتر آئی تھی ۔۔۔
وہ جو کب سے ابرام کو ۔۔۔ اپنے دل کے اونچے مقام پہ براجمان کر چکی تھی ۔۔۔ اب تو اس کو چاہنے ۔۔۔ اپنانے کی چاہ بھی بڑھنے لگی ۔۔۔
ابرام مڑ کے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ اپنی شرٹ کے آستینوں کو فولڈ کرتا ۔۔۔ وہ اب اپنی شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا ۔۔۔ جبکہ ماوی اپنی منتشر ہوتی دل کی دھڑکنوں پہ مدھم رقص کرنے لگی جیسے ۔۔۔
ماوی کے قریب آ کے ۔۔ ابرام صوفے پہ دونوں ٹانگیں ۔۔۔ اس کے دونوں طرف ٹکا کے ۔۔۔ اس پہ جھکا تھا ۔۔۔
” اب کوئی اعتراض؟؟”
جبکہ وہ اپنے گلابی ہوتے گالوں پہ ۔۔۔ پلکوں کے بار گرا کے مسکرائی تھی۔۔۔
سر نفی میں ہلاتی ۔۔پھر سے ابرام کو دیکھنے لگی ۔۔۔
” ماوی تمہاری ہے اب سے مکمل ۔۔۔ “
اور پھر ابرام نے ۔۔۔ اپنے بازو میں اسے بھرا تھا ۔۔۔ اسکے لبوں کو قید کرتا ۔۔۔ وہ اپنی اور اس کی سانسیں الجھانے لگا ۔۔۔
جبکہ گہرے گہرے سانس لیتی۔۔۔ ماوی جیسے اس کی ہر بےچینی۔۔۔ اس کا ہر ستم ۔۔۔ اس کے ہر شدت بھرے لمس کو خود میں جذب کر رہی تھی۔۔۔
لمحے لگے تھے اور پھر لباس کا فاصلہ بھی ان کے بیچ نہیں رہا تھا ۔۔۔
وہ ماوی کو بانہوں میں بھرے۔۔۔ اسی بیڈروم۔۔۔ اسی بیڈ پہ لایاتھا ۔۔۔۔ اس کے گہرائیوں میں جاتے ہر لمس سے ۔۔۔ ماوی کو لگ رہا تھا جیسے اس کی دنیا بےحد خوبصورت ہوگئی ہے ۔۔ وہ ابرام کو مکمل پا چکی ہے ۔۔۔جس حسن کے دیوتا سے ۔۔اسے محبت ہوئی تھی۔۔۔ وہ اپنی تمام تر وجاہت سمیت اس کا بن چکا تھا۔۔۔
” اب۔۔۔۔ رام ۔۔۔ “
اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے بیچ ۔۔ اس نے بمشکل ابرام کو پکارا تھا۔۔۔ اور ابرام پھر سے ۔۔۔ اس کے چہرے پہ جھکتا ۔۔۔ اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔۔ ان حسین لمحوں میں ۔۔۔ دونوں کے مکمل ہونے کی گھڑی جیسے ٹھہر چکی تھی۔۔۔۔ وہ مکمل ہو رہے تھے ایکدوسرے میں ڈوب کے سیراب ہو رہے تھے ۔۔۔۔ اس کی شدتوں کو سہتی ۔۔۔ ماوی بیڈ شیٹ کو دونوں مٹھیوں میں بھینچ چکی تھی۔۔۔ شیٹ کے سلوٹوں میں۔۔۔کروٹ کروٹ۔۔۔۔ اپنے لمحے رقم کر کے ۔۔۔ وہ ایکدوسرے کے پہلو میں پرسکون سے تھے۔۔۔













ابرام اپنے لئے کافی بنا رہا تھا ۔۔۔ ماوی اسی کی شرٹ میں۔۔۔۔ جب کچن میں آئی تو اس کی پشت تھی ماوی کی طرف ۔۔۔
وہ مسکراتی آگے بڑھی تھی۔۔۔ اور اس کی بیئرڈ پشت سے لگ کے ۔۔۔ اس نے گہری سانس کھینچی تھی ۔۔۔
ابرام نے چونک کے ۔۔۔ ابرو اچکائے مڑ کے دیکھا تھا ۔۔۔
” کافی پیو گی ؟؟”
” مجھے نہیں پسند آتی کافی ۔۔ بہت کڑوی ہوتی ۔۔ “
وہ منہ بنا کے کہنے لگی ۔۔ جبکہ ابرام نے ہنکارا بھرا تھا۔۔۔ اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لے کے ۔۔۔ دوسرے ہاتھ میں کافی کا مگ لیے ۔۔۔ وہ اوپن کچن سے باہر نکلا تھا۔۔
لاونج میں آ کے ۔۔ صوفے پہ بیٹھا تھا ۔۔۔ ماوی بھی یونہی اس کے بازو کے گھیرے میں۔۔۔ اس کے قریب بیٹھ کے ۔۔ سر اس کے کندھے پہ رکھ چکی تھی۔۔۔
ابرام خاموشی سے ۔۔ کافی پیتا کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔ جب ماوی کی آواز پہ چونکا تھا۔۔۔
” تمہارا باڈی کتنا گڈ لکنگ ہے ابرام۔۔ “
ابرام چونک کے ۔۔۔ زیر لب مسکرا دیا تھا ۔۔۔
” کیا کیا تم نے ۔۔۔ جو ایسا بنا۔۔۔ ؟؟”
وہ کندھے اچکا گیا ۔۔
” کلب جاتا ہوں ایکسرسائز کے لئے ۔۔ مےبی اسی لئے ۔۔۔ “
” وہ ڈانس کلب ؟؟ تم ڈانس کرتا ہے؟؟”
وہ حیرت سے اب ابرام کو دیکھ رہی تھی۔۔ جبکہ وہ ہنس دیا تھا۔۔
” ارے نہیں۔۔ ڈانس کلب نہیں ہے ۔۔ ہمممم جیم جاتا ہوں۔۔۔ جہاں ایکسرسائز ہوتی ہے ۔۔۔ “
” اچھا ۔۔۔ “
وہ اب نرم نگاہوں سے ابرام کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔
” تم کو پتہ ۔۔۔ تم بہت خوبصورت ہے ابرام ۔۔۔ تمہارا اسمائل بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ “
اس کی باتوں پہ وہ مسکرا دیا تھا۔۔
” تم انگلش کیسے بول لیتی ہو ؟؟”
” میں پڑھتی ہے ۔۔ میٹرک میں ہے میں۔۔۔ “
وہ اترا کے بتانے لگی۔۔
” رئیلی ۔۔ ویری گڈ ۔۔ یہ تو اچھی بات ہے “
وہ سر اثبات میں ہلاتا ۔۔ کافی پینے لگا ۔۔۔
وہ اب خاموش تھا ۔۔۔ جبکہ ماوی اس کے کندھے پہ سر رکھ کے ۔۔ آنکھیں موند گئی ۔۔
” اتنی خاموش کیوں ہے تم ؟؟”
اس کے سوال پہ وہ چونکا تھا۔۔۔ جبکہ ماوی نے آگے بڑھ کے اپنے لب ۔۔۔ اس کی انکھوں پہ رکھے تھے۔۔۔ اور اب بےپناہ محبت آنکھوں میں لیے ۔۔۔ اسے دیکھ رہی تھی۔۔
” میں تم سے محبت کرتی ابرام ۔۔۔ “
اس کے سینے پہ سر رکھ کے ۔۔۔ اس نے ابرام کی گردن کو اپنے لبوں سے ۔۔ نرمی سے چھوا تھا ۔۔۔
اس کے دل کے مقام پہ ۔۔ اپنے شہادت کی انگلی سے ۔۔۔ لکیریں کھینچنے لگی ۔۔۔
” تم بہت اچھا ہے ابرام ۔۔۔ میں ایک معمولی انسان ۔۔ ایک عام سی بستی کی فقیرن ۔۔۔ تم کو میں پسند آتی۔۔۔ تم نے مجھ سے شادی کی ۔۔۔ میرے کو اپنے گھر میں رکھا ۔۔ ابرام “
وہ اب دوبارہ سے ۔۔۔ ابرام کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔
” تم میرے دل کی سلطنت ہے ۔۔ میں تم سے بہت محبت کرتی ابرام ۔۔ “
وہ خاموشی سے ۔۔ ماوی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
” ماوی کو اب کھبی محبت نہیں ہوگی کسی سے ۔۔۔ ماوی کی ساری محبتوں کے مالک بس تم ہے ۔۔۔ “
اس کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔۔
” میرا کوئی نہیں۔۔ بس تم ہے ابرام ۔۔۔ تم بہت اچھا ہے ابرام ۔۔ “
وہ پھر سے ابرام کے گلے لگی تھی۔۔۔ اور ابرام نے اسے بانہوں میں بھرا تھا۔۔۔ اس کی پشت سہلاتا وہ خاموش تھا۔۔ جب اس کے موبائل پہ آتی کال نے ۔۔۔ اسے متوجہ کیا ۔۔
احرم کی کال تھی۔۔۔
” ہیلو ۔۔۔ “
ماوی سے الگ ہوتا ۔۔۔ وہ موبائل کان سے لگا چکا تھا ۔۔۔
” ہیلو ۔۔۔ ہیلو ابرام۔۔۔ ابرام۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔ ابرام میرے پاس آ جاو ۔۔ “
وہ ہکلاتے ہوئے کہنے لگا ۔۔ جب ابرام تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔
” احرم میں آ رہا ہوں احرم ۔۔۔ آنی کہاں ہے؟؟”
کال ڈسکنیکٹ ہو چکی تھی ۔۔۔ وہ تیزی سے بیڈ روم کی طرف گیا تھا ۔۔ اپنی شرٹ پہننے لگا ۔۔ جبکہ ماوی بھی پریشان سی اس کے پیچھے پیچھے تھی ۔۔۔
” ابرام کیا ہوا ہے ؟؟”
” میں آتا ہوں۔۔۔ بائے ۔۔ “
وہ تیزی سے نکل کے جا چکا تھا جبکہ ماوی وہیں کھڑی حیرت سے ۔۔۔ بند دروازے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔








” میں دیکھ نہیں پا رہا کچھ بھی ابرام ۔۔ میری آنکھیں تاریکیوں میں ڈوب چکی ہے بھائی ۔۔ میں کیا کروں۔۔۔ “
احرم کہتے کہتے ۔۔ جیسے رو پڑا تھا ۔۔ابرام نے لب بھینچے ۔۔۔ اسے بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔
” ہششش ۔۔۔ بس ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں گے ۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا یو ڈونٹ ووری ۔۔ “
ابرام نرمی سے ۔۔ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔جب احرم نے اپنے سر کے بال نوچے تھے۔۔۔
” یہ کیا کر رہے ہو احرم ؟؟”
بروقت ابرام اسے ہاتھوں سے تھام کے روکنے لگا۔۔ جبکہ وہ نفی میں سر ہلانے لگا ۔۔
” میں ادھورا ہو چکا ہوں ابرام ۔۔ میری آنکھیں ختم ہو چکی ہے ۔۔ میرا وجود ۔۔میرے ایمز ۔۔ سب ختم یو گئے ہیں۔۔۔ تاریکیوں میں ڈوب چکا ہے میرا مکمل وجود ۔۔۔ “
” ایسے نہیں کہتے احرم ۔۔ “
بظاہر سخت نظر آنے والا ابرام ۔۔اپنے بھائی کے درد پہ جیسے پگھل رہا تھا ۔۔۔
اسے خود سے لگائے وہ تسلی دینے لگا ۔۔
” ہم شام کو ہی جائیں گے ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔مکمل چیک اپ ہوگا تمہارا پھر سے ۔۔اور اسی کے مطابق تمہاری ٹریٹمنٹ ہوگی احرم ۔۔۔ بہت جلد تم دیکھ پاس گیں۔۔۔ “
احرم سر اثبات میں ہلاتا اب خاموش تھا ۔۔








اسکا آدھا جھلسا ہوا چہرہ دیکھ کے ۔۔۔ اصغر نفی میں سر ہلاتا ۔۔ اپنے قدم پیچھے لے رہا تھا ۔۔۔
جبکہ شین نے اپنے ہاتھ اس کی طرف پھیلائے تھے۔۔۔
” اصغر ۔۔ دور مت جا اپن سے ۔۔ “
” مجھے تیرے ساتھ نہیں رہنا شین ۔۔۔ “
اور وہ تیزی سے بھاگا تھا ۔۔۔ ایسے جیسے شین ہوا میں اڑ کے ۔۔۔اس کے سامنے آ کھڑی ہو جائے گی ۔۔۔ یا اسے پکڑ لے گی ۔۔۔
چارپائی سے اتر کے ۔۔۔ شین نے ادھر ادھر نظریں دوڑائی تھی۔۔۔ ایک مہینہ ہونے کو تھا اس حادثے کو ۔۔ اور اسے خود کو دیکھنا تھا ۔۔۔
آخر اس کی تلاش کامیاب ہوئی اور اسے آئینے کا ایک ٹکڑا وہیں پڑا مل گیا ۔۔
وہ دوڑ کے قریب گئی تھی۔۔گہرا سانس لیتی ۔۔ اس نے خود کو آئینے میں دیکھا تھا ۔۔۔
اس کا آدھا جھلسا ہوا چہرہ ۔۔۔ بےحد بھیانک تھا۔۔۔ وہ آنکھیں پھاڑے حیرت سے ۔۔۔خود کو دیکھتی چیخی تھی۔۔۔
شیشے کا وہ ٹکڑا۔۔۔ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کے نیچے گرا تھا ۔۔
اور وہ بھاگتی ہوئی اس کمرے سے نکلی تھی۔۔
” مائی ۔۔۔مائی۔۔۔۔ “
چیخ چیخ کے وہ رو رہی تھی۔۔۔ جب نگہت اس کے قریب آئی۔۔
” شین کیاہوا؟؟”
” اپن ۔۔۔اپن ختم ہو گیا مائی ۔۔۔ اپن مر گیا ۔۔۔اپن کا چہرہ ۔۔۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ “
وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کے۔۔۔ اونچی اواز میں چلا چلا کے رونے لگی ۔۔۔
آس پاس کے جھونپڑیوں سے ۔۔۔ عورتیں اور لڑکیاں نکل آئی تھی۔۔۔
سب اسے تاسف سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
” دیکھ لیا زیادہ دوستی کا نتیجہ تو نے شین “
” دوست نہیں تھی وہ ۔۔۔ آستین کا سانپ تھی سانپ ۔۔۔ “
” ارے جس سے دوستی کا دم بھرتی تھی۔۔۔ اسی نے چھین لی تجھ سے تیری زندگی ۔۔۔ “
” میں تو کہتی ماوی مر جائے ۔۔۔ برباد ہو جائے ۔۔۔ جو شین کو برباد کر دیا اس نے ۔۔۔ “
سب کی باتیں سنتی ۔۔ وہ ایک بار پھر سے پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی۔۔۔ وہ واقع برباد ہو گئی تھی۔۔












آج ایک ہفتہ یو چکا تھا۔۔۔اور ہر آہٹ پہ ماوی کو ایسے لگتا ۔۔۔ جیسے ابرام آیا ہے ۔۔۔ لیکن لمحے دنوں میں۔۔۔ دن ہفتہ میں ڈھل گیا ۔۔ لیکن ابرام نہیں آیا تھا ۔۔۔
بےچینی جیسے حد سےبھی سوا ہو گئی تھی ۔۔۔ عجیب خیال ستانے لگتے کہ وہ چھوڑگیا ۔۔۔ لیکن پھر خیال آتا کیسے چھوڑ سکتا ۔۔ شادی کی ہے ۔۔ بیوی ہے اس کی ۔۔۔ محبت کرتا ہے ۔۔۔
شام کے سائے پھیل کے ۔۔ رات میں ڈھل چکے تھے۔۔۔ باہر مسلسل بارش ہو رہی تھی۔۔۔اور وہ بالکونی میں بیٹھی۔۔۔اس تیز بارش میں بھیگ رہی تھی ۔۔۔
نظریں سامنے مختلف گھروں سے آتی روشنیوں پہ تھی ۔۔۔
یا پھر سڑک پہ چلتی پھرتی گاڑیوں پہ ۔۔۔ جب آہٹ پہ وہ چونکی تھی۔۔۔اور پھر وہ آواز۔۔۔
” ماوی ۔۔ “
اچھلتے دل کو سنبھال کے۔۔۔ وہ ابرام کو دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
” ابرام ۔۔۔ “
زیر لب اس کا نام لیتی ۔۔ وہ تیزی سے ابرام کے قریب آ کے۔۔۔اسکے گلے لگی تھی۔۔۔ جتنی شدت سے وہ ابرام کے گلے لگی تھی اتنی ہی شدت سے ۔۔ ابرام نے اسے خود میں بھینچا تھا ۔۔۔۔
” کہاں تھا تم ۔۔۔ کہاں تھا “
” تمہارے قریب۔۔۔ “
سرگوشی میں کہتا ۔۔۔ وہ ماوی کو لیے اندر آیا تھا اور اسے دیوار سے پن کرتا ۔۔۔ وہ ماوی کے لبوں پہ جھکا تھا۔۔۔
اپنی دیوانگی۔۔ اپنی شدتیں اور جنوں اس کی سانسوں میں اتارتا ۔۔۔ وہ اس کی گردن پہ جھکا تھا ۔۔۔
جبکہ گہرے سانس لیتی ۔۔۔ اس کی قربت میں پگھلتی ماوی ۔۔۔ اس کے ہر لمس پہ مدہوش ہوتی پاگل سی ہو رہی تھی۔۔۔
” اب ۔۔۔ رام ۔۔۔ ک۔۔۔۔دھر تھا تم ؟”
اٹکتی سانسوں کے بیچ ۔۔وہ پھر سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
جب ابرام نے اس کے لبوں پہ ۔۔ اپنی شہادت کی انگلی پھیر کے ۔۔۔اس کی انکھوں جھانکا تھا ۔۔۔جہاں ابرام کے محبت کا خمار چڑھ رہا تھا۔۔۔
اور ان نظروں سے پگھلتی دیوار سے لگی ماوی آنکھیں موند چکی تھی۔۔۔ کہ یہ جدائی کا جام وہ بھی پی رہی تھی ۔۔۔
” مجھے بےحد محبت کرو ابرام ۔۔۔ بےحد محبت ۔۔۔ “
سرگوشی میں کہتی ۔۔وہ خود کو پھر سے ابرام کے دسترس میں دے چکی تھی۔۔۔
اور ابرام اسے اپنی تمام تر شدت کے ساتھ ۔۔۔ خود میں بھینچ چکا تھا ۔۔۔ اس کے نازک وجود کی گہرائیوں میں اترتا۔۔۔۔ بوند بوند اسے اپنی شدتوں میں بھگو کے ۔۔۔ وہ خود سیراب ہو رہا تھا۔۔۔ ماوی اپنے محبوب کو پا کے ۔۔۔ پھر سے نکھر گئی تھی۔۔۔ اس کے بےجان وجود میں۔۔۔ ابرام کا ہر لمس ۔۔۔ جیسے بجلی دوڑا رہا تھا۔۔۔
تبھی ان کے بیچ یا تو بہکی سانسوں کا شور تھا ۔۔ یا پھر ابرام کی قربت میں پگھلتی ۔۔۔ اس کی ٹوٹتی بکھرتی آہیں تھی۔۔۔۔
