Mawi by Malaika Rafi NovelR50587 Mawi (Episode 18)
Rate this Novel
Mawi (Episode 18)
Mawi by Malaika Rafi
اپنی پیٹھ پہ ۔۔۔ درد کی شدت برداشت کرتی ۔۔ وہ بمشکل پیچھے مڑی تھی۔۔۔ جہاں انعم آنکھوں میں وحشت لیے ۔۔۔ ریوالور اس پہ تانے کھڑی تھی۔۔۔
درد کی شدت سے ۔۔۔ غزل سرخ آنکھیں لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
” ت ۔۔۔ تم ۔۔۔ “
” بہت بری ہو تم غزل ۔۔۔ بہت زیادہ زلیل اور اپنی اس غلاظت میں مجھے بھی گندا کردیا ۔۔۔ اپنی ضد میں مجھے ایک چھوٹے سے بچے کا قاتل بنا دیا تم نے ۔۔۔ تمہارے لئے یہی بہتر ہے غزل کہ تم مر ہی جاو ۔۔۔ ایٹ لیسٹ بہت سی زندگیاں تو بچ جائے گی تمہاری اس غلاظت سے ۔۔۔ “
غزل گھٹنوں کے بل وہیں گری تھی۔۔۔ جبکہ انعم کے ہاتھ کانپے تھے ۔۔۔ وحشت زدہ انداز میں ۔۔۔ ریوالور اس کے ہاتھ سے نیچے گرا تھا۔۔۔۔ وہ آنکھوں میں خوف لیے ۔۔۔ غزل کے ساکت وجود کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ گولی کی آواز سن کے گارڈز اندر آئے تھے ۔۔۔
اور وہاں کی حالت دیکھ کے ۔۔ وہ دونوں گارڈز بھی حیرت زدہ رہ گئے تھے ۔۔۔۔
” احرم سر ؟؟”
ان میں سے ایک گارڈ احرم کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
” چلئے سر آپ یہاں سے ۔۔ “
احرم کا بازو نرمی سے پکڑ کے ۔۔۔ وہ اسے وہاں سے لے جانے لگا۔۔۔۔
” ک۔۔۔ کیا ہوا ہے ؟؟ یہاں کیا ہوا ہے ؟؟”
احرم کی آواز کانپ رہی تھی۔۔۔ جبکہ وہ گارڈ اپنے ساتھی کو دیکھنے لگا ۔۔
” ابرام سر کو کال کرو ۔۔ “
وہ اثبات میں سر ہلاتا موبائل نکالنے لگا۔۔









ہوش میں آنے کے بعد ۔۔۔ وہ ویران آنکھیں لیے ۔۔۔ اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو بند آنکھوں کے ساتھ۔۔۔ ہاسپٹل بیڈ پہ پڑا ہوا تھا ۔۔۔
ابرام اس کے قریب ہی بیٹھا۔۔۔۔ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جس کے چہرے پہ زردی گھلی ہوئی تھی۔۔۔ اور رنگت پھیکی پڑی ہوئی تھی ۔۔۔
آخر اس کے لبوں میں حرکت ہوئی تھی اور ٹوٹے ہوئے الفاظ کو راستہ ملا تھا۔۔
” کیوں ابرام؟؟؟ علی کے ساتھ ہی کیوں؟؟ میرا بیٹا ہونے کی سزا مل رہی ہے ؟ کیا اس لئے یہ سب کیا تم نے علی کے ساتھ کہ وہ بھی اپنی ماں کی طرح گندگی کے ڈھیر پہ اس دنیا میں آیا تھا۔۔۔ ؟؟”
ابرام تاسف سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
” علی میرا بیٹا ہے ماوی ۔۔ سوچ بھی کیسے سکتی ہو تم کہ تم سے بدلہ لوں گا یا اپنے بیٹے ۔۔ اپنے ہی خون سے ۔۔ “
کچھ دیر خاموشی آن ٹھہری تھی ان کے بیچ ۔۔۔
اور پھر ماوی رو پڑی تھی۔۔۔
” ماوی پلیز اسٹاپ کرائنگ ۔۔ “
ابرام نے اسے چپ کرانے کی سعی کی تھی۔۔۔ جبکہ ماوی نفی میں سر ہلا رہی تھی ۔۔
” سب ۔۔۔ سب غلط ہو رہا ہے۔۔ میں غلط تھی۔۔ مجھے سزا اس طرح سے ملی ہے۔۔۔ یہی تو سزا ہے میری ۔۔۔ بہت بڑی سزا۔۔۔ ایک اندھے شخص کو اپنے بدلے کے لئے استعمال کرتی رہی اور آج میرا بیٹا اس بدلے کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔۔ اور میں کچھ نہیں کر پا رہی ۔۔۔ اس اندھے شخص کو استعمال کیا تھا میں نے ۔۔۔۔ میں گنہگار ہوں۔۔ “
اس کے رونے میں مزید شدت ائی تھی۔۔۔ جبکہ ابرام لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
” اپنی بیوی اور بیٹے کا گنہگار میں ہوں۔۔۔ ایک مغرور شخص ۔۔۔ جو اپنے گھمنڈ میں۔۔۔ اپنے رشتوں کو کھو چکا ہے ۔۔۔ “
” میرا بیٹا۔۔۔ میرا بچہ ۔۔۔ کس قدر کربناک ہے یہ ۔۔۔ کہ جس بچے کو بچانے کی کوشش میں۔۔۔ اپنی ساری زندگی اس کے نام کر دی آج وہی بیٹا میرا ۔۔۔ میرے سامنے بےحس و حرکت پڑا ہوا ہے ۔۔۔۔ “
ماوی ہچکیوں کے بیچ کہہ رہی تھی۔۔۔ جبکہ ابرام لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جب اس کے موبائل پہ کال آنے لگی تھی۔۔۔ اور دوسری طرف سے جو اطلاع اسے دی گئی تھی۔۔۔ اس کے چہرے پہ کرختگی ائی تھی۔۔۔
” احرم کہاں ہے؟؟”
اس کا لہجہ سرد تھا۔۔۔ ماوی بھی بھیگی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
ابرام ایک نظر اس پہ ڈال کے۔۔ اپنی جگہ سے اٹھ کے تیزی سے باہر نکلا تھا۔۔۔











اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا۔۔۔۔ تو تاریکی نے اس کا استقبال کیا تھا۔۔۔۔ اور بو سی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
اس کمرے کو بہت کم ہی استعمال کیا جاتا۔۔۔ تبھی صفائی بھی زیادہ نہیں ہوتی تھی اس کمرے کی ۔۔۔
” احرم ۔۔۔ ؟؟”
اس نے نرمی سے آواز دی ۔۔۔ اور آہستہ سی ہچکی ابھری تھی اس تاریک کمرے کی فضا میں۔۔۔ ۔ابرام نے بےچینی سے آگے بڑھ کے۔۔۔ لائٹ آن کی ۔۔۔
” احرم ۔۔۔ میرے بھائی “
کمرے کے کونے میں۔۔۔ احرم گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے رو رہا تھا۔۔۔ ابرام بےچین سا اس کے قریب آ کے بیٹھا تھا۔۔۔
” احرم ۔۔۔ میرے بھائی۔۔۔ میرا بچہ یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟”
جبکہ احرم ابرام کے گلے لگا تھا۔۔۔ اور ہچکیوں سے رونے لگا۔۔
” م۔۔۔ مجھے ۔۔۔ ڈ ۔۔۔ ڈر لگ رہا ہے ابرام۔۔۔۔ بہت خوف آ رہا ہے ۔۔۔ بہت زیادہ خوف ۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ م۔۔۔ مجھے کیوں نہیں لے کے گئے مام ڈیڈ اپنے ساتھ ؟؟؟ کیوں چھوڑ دیا ان تاریکیوں میں تنہا۔۔۔ کیوں؟؟”
وہ چلایا تھا ۔۔۔ ابرام کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی۔۔۔
” احرم کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ میں ہوں ناں۔۔۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔ “
” نہیں ابرام ۔۔ تم بھی میرے نہیں ہو ۔۔۔تم بھی تنہا چھوڑ چکے ہو مجھے۔۔۔ ماوی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرتے آ رہے ہو ۔۔۔ مجھ سے جھوٹ بولا ۔۔ ماوی نے بھی مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔ مجھے استعمال کرتا رہا ہے یہاں کا ہر انسان۔۔۔ کوئی بھائی بن کے ۔۔ کوئی بیوی بن کے۔۔۔ کوئی دوست بن کے ۔۔۔ یہاں۔۔۔ ایک اندھے اور بےبس انسان کا کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔ وقت آنے پہ ۔۔۔ تو خود کا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔ “
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کے۔۔۔۔ آنسو صاف کرنے لگا ۔۔۔
” اپنی اس اندھیری اور تاریک دنیا میں ۔۔ محبت کے معنی پڑھنے لگا تھا میں ماوی کے روپ میں۔۔۔ ل۔۔۔ لیکن وہ تو ۔۔۔ وہ تو میرے بھائی کے عشق میں پور پور ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔ وہ تو میرے بھائی سے اپنی نارسائی کا بدلہ لینے۔۔۔ میری اس تاریک زندگی میں آئی تھی۔۔۔ اور میں استعمال ہوتا رہا ۔۔۔ “
” احرم اسٹاپ اٹ پلیز۔۔ “
ابرام نے بھرائی آواز میں۔۔۔ اسے روکا تھا۔۔۔ اسے خود سے لگا کے وہ بھی رو رہا تھا۔۔
یہاں قصوروار سب تھے شاید۔۔۔ اور بےقصور بھی ۔۔۔
ابرام نوفل شاہ ۔۔ جو ایک معصوم لڑکی کو محبت کی دنیا میں لے جا کے ۔۔ اپنا محرم بنا کے ۔۔۔ اسے پھر سے چھوڑ دیا تھا۔۔
ماوی جس نے بدلے کے لئے احرم کو چنا اور
احرم نوفل شاہ ۔۔۔ جو اپنے ہی سوچوں میں گھرا ۔۔۔ زنا کا مرتکب ہوا تھا۔۔۔
” لیکن میری محبت۔۔۔ میری فیلنگز پیور رہی ہے ہمیشہ سے ماوی کے لئے ۔۔ پھر میں ہی کیوں اتنا بدنصیب رہا۔۔۔ ماوی نے ایک بار بھی مجھ سے محبت نہیں کی ۔۔۔ ایک بار بھی ۔۔ “
” ماوی نے ہمیشہ تم سے محبت کی ہے احرم ۔۔۔ وہ ہمیشہ سے تمہاری ہی رہی ہے ۔۔۔ تمہاری بیوی۔۔۔ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے ۔۔۔ بہت نفرت ۔۔۔ اس کی بربادی ہوں میں۔۔۔ اور تم اس کے ہزبینڈ ۔۔۔ اس کی محبت۔۔۔ تمہیں کسی نے استعمال نہیں کیا ۔۔۔ تم میرے بھائی ہو ۔۔۔ میں کیسے تمہیں یوز کر سکتا ہوں۔۔۔ کیسے احرم ؟ میں بھائی ہوں تمہارا۔۔۔ تمہارا بھائی۔۔۔ اتنا خودغرض بھائی نہیں ہو سکتا میں کھبی ۔۔۔ اتنا مت گراو مجھے ۔۔۔ مت گراو احرم پلیز “
ابرام کو ہر وہ لمحہ یاد آیا تھا جب جب اس نے ماوی کو زچ کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ احرم کے قریب نہ جائے اور اب اس کا دل جیسے ڈوب رہا تھا۔۔۔ تبھی شرمندگی کے آنسو۔۔۔ اس کی انکھوں سے جاری ہوئے تھے۔۔۔ وہ اپنے سگے بھائی کے ساتھ بہت برا کر رہا تھا۔۔۔ اس نے احرم کو خود میں سختی سے بھینچ لیا تھا۔۔۔
” میں گنہگار ہوں۔۔۔ میں زنا کا مرتکب تب ہوا جب میں ہوش میں نہیں تھا۔۔۔ میں۔۔۔ میرا مائنڈ سب مفلوج ہو چکے تھے۔۔۔ میں اپنے ہوش و حواس میں رہ کے ۔۔۔ کیسے ماوی کو دھوکا دے سکتا تھا کیسے ؟؟؟ میں۔۔۔۔ میں گنہگار ہوں ماوی کا۔۔۔ میں گنہگار ہوں خود کا ۔۔۔ لیکن یہ سب ۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا نہیں معلوم مجھے ۔۔۔ نہیں معلوم ۔۔ “
وہ اپنا ماتھا پیٹنے لگا ۔۔۔
” میں نہیں رہنا چاہتا ان تاریکیوں میں اب ۔۔ مجھے ۔۔۔ مجھے خوف آ رہا ہے ان تاریکیوں سے ۔۔۔۔ مجھے روشنی چاہیئے۔۔۔۔ مجھے روشنی۔۔۔۔۔ “
اپنی بات ادھوری چھوڑ کے ۔۔۔ وہ پھر سے رونے لگا۔۔ جبکہ ابرام نے اسے اپنے سے لگا لیا تھا۔۔۔ اس کے ٹوٹتے بکھرتے وجود کو سنبھالتے ۔۔۔ وہ بھی اپنی کی گئی ہر غلطی پہ ملامت کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔۔








” آپ کی بیٹی پیرالایزڈ ہو چکی ہے ۔۔۔ بیک بون کو چھو کے گزری ہے گولی ۔۔۔ جو مس غزل کی باڈی کو پیرالایزڈ کر چکی ہے ۔۔ “
ڈاکٹر نے ان دونوں کی طرف دیکھتے کہا تھا۔۔۔
” کچھ آئیڈیا نہیں کہ وہ کب تک ایسی رہے ۔۔۔ چل پھر بھی سکے یا شاید کھبی نہ چل سکے ۔۔۔ “
وہ دونوں خاموشی سے ڈاکٹر کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔ ان کے پاس کچھ کہنے کے لئے الفاظ بھی تو نہیں تھے۔۔۔ اپنی اس بیٹی کے بارے میں وہ کیا کہتے ۔۔۔ جو ان کی عزت ان کے منہ اچھال چکی ہے ۔۔۔ جو سیاہی وہ ان دونوں کے منہ پہ مل چکی ہے ۔۔۔ اس سیاہی کو صاف کرتے ہوئے بھی۔۔۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔
” کاش ڈاکٹر ہمیں اس کی موت کا پروانہ دیتا ۔۔۔ “
ڈاکٹر کے جانے کے بعد کشمالہ نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔ جبکہ ذایان عالم خاموشی سے ۔۔۔ اپنی عزت کا جنازہ اٹھتا دیکھ رہے تھے۔۔۔
” کہاں چوک گئے تھے ہم اپنی بیٹی کی تربیت میں؟؟ کہاں چوک ہوئی تھی۔۔۔ کہاں؟ “
” اسے ہماری بیٹی مت کہو کشمالہ۔۔۔ وہ مر چکی ہے اب ۔۔۔ دفن کر کے جا رہے ہم اسے یہاں اسی ہاسپٹل میں۔۔۔ ہماری کوئی بیٹی نہیں ہے۔۔۔ ہم بےاولاد ہیں ۔۔ “
ذایان عالم کی آواز بےحد سرد تھی ۔۔۔ کشمالہ نے چونک کے انھیں دیکھا تھا۔۔
” کیسے ذایان ۔۔۔ وہ اب بھی تو ہماری بیٹی ہے ۔۔ “
” بیٹی؟؟ اس لڑکی کا ہر گناہ بتاتے ہوئے بھی میری زبان شرم سے لڑکھڑا رہی ہے ۔ اور وہ ہر گندا قدم اٹھاتے ہوئے بھی نہیں شرمندہ ہوئی۔۔۔ مجھے مار دیا ہے اس لڑکی نے۔۔۔ اس کے ہر گناہ کا باب۔۔۔ مجھے خود سے ۔۔۔۔ “
وہ لب بھینچے خاموش ہوئے تھے۔۔ اور پھر تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔۔
” کہاں جا رہے ہیں آپ؟؟”
کشمالہ بھی انھیں خوفزدہ نظروں سے دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
” گھر ۔۔۔ “
یک لفظی جواب دے کر ۔۔۔ انھوں نے قدم آگے بڑھائے تھے ۔۔۔
” اور غزل؟؟”
کشمالہ کی بات پہ ۔۔ ذایان عالم نے مڑ کے انھیں گھورا تھا ۔۔۔
” اگر آپ رہنا چاہتی ہے یہاں۔۔۔ تو بصد شوق رہئیے۔۔۔ میں یہی سمجھوں گا کہ بیٹی کے ساتھ ساتھ بیوی کو بھی دفنا کے جا رہا ہوں گھر۔۔۔ “
ان کی سرد اواز پہ ۔۔۔ کشمالہ کا دل ڈوبا تھا۔۔۔ تبھی نفی میں سر ہلاتی ۔۔۔ تیزی سے ان کے پیچھے ہی باہر نکلی تھی۔۔۔











کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے ۔۔۔ اس کی آنکھیں پل بھر کے لئے بند ہوئی تھی ۔۔۔ دوائیوں کا اثر تھا شاید۔۔۔ جو بار بار اس پہ نیند کا غلبہ آ رہا تھا۔۔۔
جب اچانک مسلسل ٹون کی آواز سے ۔۔۔ ماوی نے اچھنبے سے علی کو دیکھا تھا ۔۔۔ جس کی آنکھیں بند تھی ۔۔
اس کی نظریں کمپیوٹر پہ گئی ۔۔۔ جس کی اسکرین پہ ۔۔۔ ایک سمپل لائن ابھر رہی تھی ۔۔۔
خوفزدہ نظروں سے ۔۔۔ وہ پھر سے علی کو دیکھنے لگی۔۔۔ کانپتے دل اور لرزتے ہاتھوں سے ۔۔۔ اس نے علی کے چہرے کو چھوا تھا۔۔۔
” ع ۔۔۔ علی۔۔۔ “
چھونے پہ ۔۔۔ اسے علی کا چہرہ سرد محسوس ہوا تھا۔۔۔
” ع ۔۔۔ علی اٹھو ب ۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔ “
لہجے میں خوف تھا ۔۔ اور اواز میں لرزش سی تھی۔۔۔
” علی۔۔۔ مم از ہئیر ۔۔۔ علی “
کسی انہونی کے خوف سے ۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی دروازے تک گئی تھی۔۔۔
” ڈاکٹر۔۔۔ نرس ۔۔۔ نرس میرے ع ۔۔۔ علی کو کچھ ہو گیا ہے ۔۔۔ “
اس کی چیخ و پکار پہ ۔۔۔ نرس اور ڈاکٹر اندر آئے تھے ۔۔۔ اور تیزی سے ہاتھ پاوں چلانے لگے تا کہ علی کی سانس بحال کر سکے۔۔۔
جبکہ پیچھے دیوار سے لگی ماوی ۔۔۔ چہرے پہ دونوں ہاتھ رکھے ۔۔۔ خوفزدہ بھیگی آنکھوں سے ۔۔۔ سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ سانس نہیں لے رہا تھا۔۔۔
اس کا جسم بے جان تھا۔۔۔ اس کہ آنکھوں کے سامنے وہی منظر آن ٹھہرا تھا۔۔۔ جب چیل اور کتے اس کے بچے کو ۔۔۔ کچرے کے ڈھیر پہ نوچنے آئے تھے ۔۔۔ اور وہ چیخی تھی۔۔۔ چلائی تھی۔۔۔
لیکن ابھی اس لمحے وہ ساکت تھی ۔۔۔ وہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔ ساکت آنکھوں سے ۔۔سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔









” طلال تم آ گئے ۔۔ “
وہ ابھی ابھی آفس سے آیا تھا۔۔ جب شائستہ اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی ۔۔۔ جبکہ طلال ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ۔۔ صوفے پہ ڈھے گیا۔۔۔
” یس مام ۔۔ بہت تھکن ہو رہی ہے ۔۔ “
شائستہ اس کے قریب صوفے پہ جا کے بیٹھ گئی ۔۔
” عجیب گھبراہٹ ہو رہی ہے طلال ۔۔۔ ماوی کے بیٹے کو دیکھنے نہیں گئے تم ؟”
طلال نے عجیب نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔۔
” آپ کو ماوی اور اس کے بیٹے کے علاوہ بھی کچھ نظر آتا ہے ؟؟”
شائستہ نے شاکی نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔۔۔
” جانتے تو ہو سب اس بچی کے بارے میں۔۔۔ پھر بھی ایسے بات کر رہے ہو “
” مما اس دنیا میں ہر انسان کی کوئی نہ کوئی مشکل ضرور ہوتی ہے ۔۔ ماوی بھی انسان ہی ہے ۔۔ تو جب وہ انسان یے تو زندگی کی مشکلات کا سامنا بھی کرے گی ۔۔ “
طلال بےحسی سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
” کتنے بےحس ہو گئے ہو تم طلال ۔۔۔ یہ امید نہیں تھی مجھے کھبی تم سے ۔۔۔ “
شائستہ کو اپنے بیٹے کی بےحسی پہ غصہ بھی آ رہا تھا اور دکھ بھی ہو رہا تھا ۔۔
” ماوی کا خیال رکھنے والے بہت ہیں مما ۔۔ سو پلیز ماوی نامہ بند کر کے سو جائیے ۔۔ میں تھکا ہوا ہوں بہت ۔۔ “
طلال جھنجھلاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ شائستہ کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔ تبھی انھوں نے کال کرنے کا سوچا تھا ۔۔۔
لیکن ماوی کے موبائل پہ رنگ جانے کے باوجود ۔۔۔ کل ریسیو نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
” یا اللہ ۔۔ سب ٹھیک ہی ہو بس ۔۔۔ ماوی کی خیریت کیسے پتہ کروں میں اب ۔۔۔ “
انھوں نے شاکی نظروں سے۔۔۔ طلال کے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا تھا ۔۔
جس کے بند دروازے کے پیچھے طلال بےچین تھا ۔۔۔ اس نے اپنا موبائل سائیڈ صوفے پہ پھینکا تھا۔۔۔ کوٹ اتار کے زمین بوس کر چکا تھا وہ ۔۔۔
ماتھے پہ بلوں کا جال سا بچھا ہوا تھا۔۔ جبکہ وہ خود اپنی کنپٹی سہلاتا ۔۔۔ بیڈ پہ نیم دراز ہوا تھا۔۔۔ کہ تھکن سے بےحال۔۔۔ اس کا پورا دھیان ہاسپٹل کی طرف تھا ۔۔۔
جہاں وہ ماوی کو صبح ایک نظر دیکھ کے ۔۔ بنا کوئی بات کیے آفس چلا گیا تھا۔۔۔
وہ اپنے بیٹے کے لئے پریشان تھی۔۔۔ رو رہی تھی۔۔۔ اور یہاں اس پہ ماضی کی یادوں نے قیامت سی ڈھائی تھی۔۔۔
جب اس کی بیوی اور بیٹی۔۔۔ ہاسپٹل کے ایمرجنسی وارڈ میں ۔۔ یونہی آنکھیں موندے پڑے ہوئے تھے ۔۔ اور وہ ساکت آنکھوں سے ۔۔۔ ان دونوں کے زخمی وجود کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ بےبسی کی انتہا تھی تب شاید اس لمحے۔۔۔ کہ ملک کا مشہور اور کامیاب وکیل ۔۔۔ اپنی فیملی کو بچانے کے لئے کچھ نہیں کر پا رہا۔۔۔ بےچینی حد سے سوا ہوئی ۔۔۔ تو وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔ سوچوں کا محور ماوی تھی۔۔۔۔ جس کے دکھ بہت تھے۔۔۔ اور وہ جس کرب میں تھی ان دنوں۔۔ وہ محسوس کر سکتا تھا۔۔۔
موبائل پہ کال آنے لگی ۔۔۔ تو وہ صوفے کی طرف متوجہ ہوا جہاں اس کا موبائل پڑا ہوا تھا ۔۔۔
کال ہاسپٹل سے آ رہی تھی۔۔۔ اس نے جلدی سے کام سے لگایا تھا ۔۔۔
” ہیلو مسٹر طلال۔۔۔ آپ نے کہا تھا کہ مس ماوی سے متعلق ہر انفارمیشن آپ کو پہنچایا جائے ۔۔۔ “
دوسری طرف سے کہا گیا تھا۔۔
” ہممم بلکل ۔۔۔ جیسے کہیے۔۔۔ “
” مسٹر طلال۔۔۔ سوری ٹو سے ۔۔۔ مس ماوی کے پیشنٹ کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔۔۔ اور آپ کو انفارمیشن کرنا ضروری سمجھا ہم نے ۔۔ “
موبائل ہاتھ سے چھوٹ کے گرا تھا۔۔۔ دل میں کرب سا اٹھا تھا اور آنکھیں دھندلا گئی تھی۔۔
” مسٹر طلال وی آڑ سوری بٹ ہم آپ کی مسز اور بیٹی کو نہیں بچا سکے ۔۔۔ “
ماضی کا وہ کربناک جملہ اس کے کانوں میں گونجا تھا اور وہ تیزی سے موبائل اٹھا کے ۔۔۔ کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
چہرے پہ کرب تھا۔۔۔ پریشانی تھی۔۔۔ ہوائیاں سی اڑ رہی تھی۔۔۔ شائستہ اسے دیکھ کے۔۔ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
” کیا ہوا ہے طلال ؟؟ کہاں جا رہے ہو ؟؟”
” ہ ۔۔۔ ہاسپٹل۔۔۔ “
یک لفظی جواب دے کے ۔۔۔ وہ تیزی سے باہر کی طرف گیا تھا جبکہ شائستہ بھی حواس باختہ سی اس کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔
