Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mawi (Episode 16)

Mawi by Malaika Rafi

شاور کے نیچے بیٹھی۔۔۔ دیوار سے ٹیک لگائے ۔۔۔ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ۔۔۔ انسو بہا رہی تھی۔۔۔

جسم کی گندگی جیسے روح میں پھیل چکی تھی اس کے ۔۔۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ گندگی اب کھبی نہیں مٹ سکے گی ۔۔۔

عاشر نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کے۔۔ اس کے غرور کی دھجیاں اڑا دی تھی۔۔۔ اپنے وجود پہ وہ خو کھبی نازاں تھی۔۔۔ آج اسی وجود سے نفرت تھی اسے ۔۔۔ بےحد نفرت ۔۔۔

کمرے سے بار بار موبائل بجنے کی آواز آ رہی تھی۔۔۔ وہ ان سنی کرتی ۔۔ یونہی بیٹھی رہی تھی۔۔۔ لیکن کال کرنے والا شاید ضد کر چکا تھا ۔۔۔

جھٹکے سے اٹھ کے۔۔۔ ٹاول اپنے گرد لپیٹے وہ باہر آئی تھی ۔۔۔ کوئی پرائیوٹ نمبر تھا۔۔۔

” ہیلو ۔۔۔ “

” اوہ ہیلو غزل بےبی ۔۔ “

ابرام کی تمسخرانہ آواز پہ ۔۔۔ اس نے اپنے لب بھینچ لیے تھے ۔۔

” کیوں کال کیا ہے؟؟”

” پوچھنا یہ تھا کہ کیسا لگا تمہیں سرپرائز ؟؟ انجوائے کیا؟؟”

ابرام زیر لب مسکراتا پوچھ رہا تھا۔۔۔

” کیا مطلب ؟؟”

غزل کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔۔۔

” اب میں اپنی زبان سے کچھ کہتا اچھا لگوں گا؟؟ ۔۔۔ آخر تم چاروں کے پرائیوٹ مومنٹس تھے ۔۔۔ “

اور ابرام کی بات پہ ۔۔۔ اس کے دماغ میں کلک ہوا تھا۔۔۔ مطلب عاشر کا یوں انا اور وہ سب ہونا ۔۔۔ ابرام کا پلان تھا سب ۔۔۔

غصے کی آگ میں وہ جلتی چلائی تھی۔۔

” یو باسٹرڈ ۔۔۔ تو یہ سب تم نے کرایا ۔۔۔۔ بےغیرت انسان ۔۔ “

” اوہ کم آن غزل۔۔۔ مجھے لگا تم خوش ہوگی اتنا تو انجوائے کروایا تمہیں۔۔۔ یہی سب تو چاہتی ہو ۔۔ “

ابرام پرسکون لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔ جبکہ غزل غم و غصے سے چلائی تھی۔۔۔

” بہت غلط کیا ہے تم نے ابرام ۔۔۔ بہت غلط۔۔۔ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا میرے ساتھ۔۔۔ “

جبکہ ابرام کی ہنسی گونجی تھی ۔۔۔ دیر تک ہنستے رہنے کے بعد ۔۔۔ جب وہ بولا تو آواز بےحد سرد تھی۔۔

” کہا تھا احرم سے دور رہو ۔۔۔ میری فیملی سے دور رہو ۔۔۔ ماوی سے دور رہو ۔۔۔ تم نہیں سمجھی ۔۔۔ تم بار بار نہیں سمجھی۔۔۔ مجھ سے ڈرنا چاہیئے تھا تمہیں۔۔۔ اور اب یہ سزا کے طور پہ۔۔۔ تمہیں وارننگ دی ہے ۔۔۔ لیکن غزل بےبی کو اچھا نہیں لگا ۔۔۔ “

” اب تمہیں مجھ سے ڈرنا چاہئے ابرام ۔۔۔ اس کا انتقام بہت بھیانک ہونے والا ہے ۔۔۔ بہت بھیانک۔۔۔ “

اپنی بات کہہ کے ۔۔ غزل نے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی۔۔۔ آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے۔۔۔

غم و غصے سے جیسے ۔۔۔۔ دماغ کی شریانیں پھٹ رہی تھی۔۔۔ اس نے تیزی سے انعم کو کال ملائی تھی۔۔۔

” ابرام کے بیٹے علی کو ختم کردو ۔۔ “

اس وقت وہ بےحد سفاک اور بھیانک لگ رہی تھی۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” مجھے مم کے پاس جانا ہے ۔۔۔ مجھے مم کے پاس جانا ہے۔۔ “

علی روتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔ جبکہ انعم نے آنکھیں گھمائی تھی۔۔۔

” ہششش علی ڈونٹ کرائی ۔۔۔ آپ کی مم آپ کو چھوڑ کے چلی گئی ہے ۔۔ وہ نہیں چاہتی آپ کو ۔۔ سو آپ بھی مت روئیے پلیز ۔۔ “

” no … you are a lier ..

میری مم کہاں ہے ۔۔۔ میرے پاپا کہاں ہے ؟؟ “

وہ پھر سے رونے لگا تھا۔۔۔ جب انعم اس پہ چلائی تھی۔۔

” شٹ اپ ۔۔۔ “

علی رونا بھول کے۔۔۔ خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

” مم ۔۔ مم ۔۔۔ پاگل کر دیا مجھے۔۔ اب آواز نہ آئے مجھے تمہاری ۔۔۔”

علی کو وہ خطرناک حد تک ڈراونی ہی لگی تھی ۔۔۔ اس سے آج تک کسی نے اس انداز میں بات نہیں کی تھی۔۔ انعم نے خود کھبی اس انداز سے بات نہیں کی تھی اس سے ۔۔ وہ ہمیشہ محبت اور نرمی کا برتاو کرتی اور آج۔۔۔۔

اسے اپنی سانس اکھڑتی محسوس ہوئی تھی۔۔ تبھی اکھڑی سانسوں کے ساتھ وہ بمشکل۔۔۔ گہرے گہرے سانس لینے کی کوشش کرنے لگا ۔۔

جبکہ انعم بےرحمانہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

” کیا ہوا علی ؟؟ سانس نہیں آ رہی کیا ؟؟ اوہ۔۔۔ تمہیں اپنا ان ہیلر چاہیے؟؟ لیکن میں تمہیں تمہارا ان ہیلر نہیں دے سکتی ۔۔۔ جانتے ہو کیوں؟؟ “

چھوٹا سا علی اپنا سینہ مسلتا ۔۔۔ بےبسی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ سانس لینے کی کوشش میں وہ ننھا سا وجود ہلکان ہو رہا تھا۔۔

” کیونکہ تمہیں ان ہیلر نہیں ملے گا تو مجھے پیسے ملے گیں۔۔۔ جانتے ہو ناں دولت کتنی ضروری ہے میرے لئے ۔۔ ویسے اس غزل سے مجھے کچھ خاص نہیں ملنا ۔۔ بٹ پھر بھی کچھ تو مل ہی جائے گا۔۔۔ سو کم “

اس کا بےجان ہوتا ہاتھ تھام کے ۔۔ اسے کھینچتی ہوئی وہ واشروم کی طرف گئی تھی۔۔۔ اور شاور آن کر کے ۔۔۔ اسے شاور کے نیچے بٹھا کے۔۔ وہ مسکراتے ہوئے پیچھے ہوئی تھی۔۔

” you will feel better now .. “

علی وہیں بیٹھا کانپ رہا تھا ۔۔۔ چہرے کی رنگت نیلی پڑ رہی تھی۔۔

موبائل پہ کال آ رہی تھی۔۔۔ جو ابرام کی تھی۔۔۔ موبائل کان سے لگا کے ۔۔۔ مسکراتی نظروں سے وہ علی کو دیکھنے لگی ۔۔

” ہیلو ابرام سر۔۔ “

” ہیلو انعم ۔۔ علی کیسا ہے ؟؟ “

ابرام جلدی سے علی کا پوچھنے لگا ۔۔ جب سے وہ نیویارک بزنس میٹنگ کے سلسلے میں گیا تھا ۔۔۔ تب سے اسے بار بار علی کے لئے پریشانی ہو رہی تھی۔۔۔

” بلکل ٹھیک ہے علی ۔۔۔ سو رہا ہے ۔۔ “

علی کو شاور کے نیچے لیٹتے دیکھ کے ۔۔ وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔

” ماوی نہیں آئی؟؟ “

ڈوبتے دل کے ساتھ وہ یہ سوال کر رہا تھا۔۔

” نو سر ۔۔ “

” ہممممم ٹھیک ہے ۔۔ علی کا خیال رکھو ۔۔۔ میں شام تک آ رہا ہوں۔۔۔ “

ابرام کی بات پہ وہ چونکی ضرور تھی۔۔۔ لیکن پرسکون ہی رہی ۔۔۔

اور پھر کال ڈسکنیکٹ کر کے ۔۔۔ آگے بڑھ کے ۔۔ اس نے علی کو اٹھایا۔۔۔ کمرے میں لا کے ۔۔۔ اسے جلدی سے ان ہیلر کروایا ۔۔۔ اس کے کپڑے تبدیل کروائے۔۔۔

اس کی سانس تھوڑی بحال ہوئی تھی۔۔۔ تبھی ہچکی لیتے ہوئے وہ سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

” مم ۔۔۔ مم “

وہ سسکا تھا۔۔۔ جب انعم نے اسے آنکھیں دکھائی تو وہ چپ کر گیا ۔۔۔ انعم نے اسے بیڈ پہ لٹایا۔۔۔ اور پھر اس کی گردن کو دبوچ کے ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔۔

” اگر کسی کو کچھ بھی بتایا تو ۔۔۔ پھر سے ان ییلر نہیں دوں گی ۔۔۔ گاٹ اٹ؟؟”

وہ تقریبا غرائی تھی۔۔۔ اور علی خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔ جبکہ انعم ہلکا سا مسکرا دی تھی۔۔

” اب سو جاو ۔۔۔ “

نرمی سے اس کا چہرہ تھپتھپاتی ۔۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ اس پہ کمفرٹر ٹھیک کر کے۔۔۔ اب وہ کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔

جبکہ علی ڈرتے ڈرتے سسکیاں لینے لگا کمفرٹر کے نیچے ہی ۔۔

” مم ۔۔۔۔ م۔۔۔۔مم “

وہ بےحد خوفزدہ تھا۔۔۔ تبھی بیڈ سے اترنےکی بھی ہمت نہیں تھی ۔۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے ۔۔ وہ خود کو بچانے کی کوشش کرتا ۔۔ کانپ رہا تھا۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” علی کہاں ہے ؟؟”

وہ گھر میں داخل ہوتے ہی ۔۔۔ ادھر ادھر دیکھتی آگے بڑھی تھی۔۔ جب انعم اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔

” آپ علی کو نہیں لے جا سکتی ” ۔

” کیا مطلب ۔۔۔ ہٹو سامنے سے “

ماوی نے تیوری چڑھا کے اسے دیکھا تھا۔۔

” ابرام سر علی کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔۔۔ “

انعم نے جلدی سے جواب دیا تھا۔۔

” کیا ؟؟ کہاں؟؟ ہٹو سامنے سے ۔۔ علی علی۔۔۔ “

انعم کو پیچھے دھکا دے کے ۔۔۔ وہ علی کو پکارتے آگے بڑھی تھی۔۔۔

” میم میں بتا رہی ہوں۔۔۔ علی نہیں ہے۔۔۔ ابرام سر اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔۔ “

انعم پھر سے اس کے پیچھے آئی تھی ۔۔

” وہاٹ دا ہیل ۔۔۔ کہاں لے گئے ہیں میرے بیٹے کو۔۔۔۔ “

وہ چیخ ہی پڑی تھی۔۔۔ جبکہ انعم نے نظریں چرائی تھی ۔۔

” ابرام سر نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کو اندر آنے کی اجازت بھی نہیں دینی چاہئے ۔۔۔ “

ماوی نے لب بھینچے ادھر ادھر دیکھا تھا۔۔

” دھوکا ۔۔۔ پھر سے دھوکا ۔۔۔ پھر سے ۔۔۔ “

اس کا دل جل رہا تھا ۔۔۔ اس کا بیٹا دور ہوگیا تھا اس سے ۔۔۔ ابرام اسے نہ جانے کہاں لے گیا تھا۔۔۔ شوہر زانی بن گیا تھا۔۔۔ اور وہ خود وفا کرنے کی خواہش میں۔۔۔ بدکردار کہلائی گئی تھی ۔۔

ایک بار نہیں۔۔ بار بار ۔۔۔

” میم کیا ہوا ہے ؟؟ اپ کیوں چلی گئی تھی؟؟ اور ابرام سر کیوں یہ سب کر رہے ہیں۔۔۔ ؟؟ اپ تو احرم سر کی وائف ہے ناں۔۔۔ کچھ ہوا ہے کیا ؟؟ علی آپ کا بیٹا کیسے ؟؟”

انعم کہہ رہی تھی جبکہ ماوی خاموش کھڑی تھی ۔۔۔ وہ کیا جواب دیتی ؟؟ کون تھی وہ ؟؟ ایک بھکارن ؟؟ استعمال کر کے پھینکا جانے والا کھلونا؟؟ یا انسان ؟؟

وہ اس لمحے کچھ نہیں تھی ۔۔۔ وہ اس لمحے تو انسان بھی نہیں تھی شاید ۔۔۔ کٹھ پتلی کا ناچ ۔۔۔۔ ناچ کے وہ ابھی ایک کونے میں پڑی ہوئی۔۔۔ وہی گڑیا تھی ۔۔۔ جسے دوسرے ناٹک تک اب کوئی ہاتھ نہیں لگانے والا تھا ۔۔ وہی مٹی اور گرد میں پڑے رہنا تھا اس نے ۔۔۔

تھکے تھکے قدم اٹھاتی۔۔۔ وہ وہاں سے جا رہی تھی ۔۔۔ دل میں طوفان برپا تھا ۔۔۔ وہ ہار رہی تھی۔۔۔ وہ زندگی سے ہار رہی تھی۔۔۔ وہ خود سے ہار رہی تھی۔۔۔ وہ ہر جنگ ہار رہی تھی۔۔۔۔ محبت۔۔۔ وفا ۔۔۔ مان ۔۔۔ یقین ۔۔ سب ڈگمگا گئے تھے ۔۔۔

مرد پہ یقین ختم ہو گیا تھا ۔۔۔ ایک مرد نے کہا ۔۔ میری بیوی بدکردار ہے ۔۔۔ بنا کسی سوال کے ۔۔۔۔ اس عورت کے ہاتھ میں۔۔۔ اس کی تذلیل کا پروانہ رکھ دیا ۔۔۔ جبکہ دوسرا مرد ؟؟؟

دوسرے مرد نے ۔۔۔ دوسری عورت کو اپنے بستر پہ لا کے ۔۔ اپنی بیوی کی تذلیل کی ۔۔۔

تو؟؟ یقین کس پہ کیا جائے؟؟

اس کے قدم ڈگمگائے تھے ۔۔۔ لیکن خود کو سنبھالتی ۔۔۔ لڑکھڑاتے قدموں وہ چلتی ہوئی ۔۔۔ اس گھر سے جا رہی تھی۔۔۔

اور وہ بیٹا؟؟؟ اس کا بیٹا علی۔۔۔۔

آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔۔۔ وہ اپنے علی کو کھو چکی تھی۔۔۔ وہ خالی ہاتھ تھی۔۔۔ آج ماوی مکمل خالی ہاتھ تھی۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

مکمل چیک اپ کے بعد ۔۔۔ ڈاکٹر اسد اسے پرسوچ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔ جبکہ احرم کے ہر عمل میں اضطراب تھا۔۔۔

وہ مضطرب سا منتظر تھا۔۔۔

” ڈاکٹر اسد ۔۔ کچھ کہہ کیوں نہیں رہے آپ؟”

” ہمممم مسٹر احرم ۔۔ میڈیسن کا بہتر اثر ہوا ہے آپ کی ائیز پہ ۔۔ ماشاءاللہ اچھی پروگریس ہے ۔۔۔ لیکن “

وہ کچھ کہتے کہتے رکا تھا ۔۔

” لیکن کیا ڈاکٹر اسد ؟ پلیز بتائیے ۔۔ میں چاہتا ہوں کہ دیکھ سکوں۔۔۔ اندھیروں اور تاریکیوں کی زندگی سے تھک چکا ہوں اب ۔۔۔ پلیز کچھ بتائیے۔۔۔ کیا میں دیکھ پاؤں گا ؟؟”

وہ بےچین لہجے میں پوچھ رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹر اسد نے ہنکارا بھرا تھا ۔۔۔

” ایک بہت بڑا آپریشن ہونا ہے آپ کا مسٹر احرم ۔۔ لیکن اس میں خطرہ بھی ہے ۔۔ یا تو آپ دیکھ پائے گیں یا پھر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گیں۔۔۔ “

احرم کے چہرے پہ سایہ سا گزرا تھا۔۔۔ آنکھیں نم ہوئی تھی ۔۔ وہ پرامید تھا ۔۔ کہ اب شاید وہ دیکھ پائے ۔۔ اب شاید وہ ماوی کو دیکھ پائے ۔۔۔ شاید ماوی کو ڈھونڈ پائے ۔۔ شاید اس سے معافی مانگ لیں۔۔ وہ جو اس سے ناسمجھی میں ہوا ہے۔۔۔ جو غلطی ہوئی ہے ۔۔ وہ معافی مانگ لیں ان سب کے لئے ۔۔

” کیا میں دیکھ پاؤں گا ؟؟”

اسے اپنی آواز جیسے گہری کھائی سے آتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

” آپریشن کے بعد ہی یہ معلوم۔ہوگا ۔۔ اگر تو دیکھ پائے گیں یا پھر ۔۔۔ “

اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی ۔۔۔

” ایک ریکویسٹ ہے ڈاکٹر۔۔۔ پلیز یہ بات ابرام کو نہ پتہ چلے۔۔۔ ہمارے بیچ رہے پلیز ۔۔۔ “

احرم کچھ سوچتے کہنے لگا ۔۔

” آپ کے بھائی کو اس بات کی خبر ہونی چاہئے مسٹر احرم ۔۔ “

ڈاکٹر اسد اسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا ۔۔

” پلیز ڈاکٹر پلیز “

جبکہ احرم کی اپنی ضد تھی۔۔۔

” اوکے مسٹر احرم ۔۔۔ “

ڈاکٹر اسد رضامندی کا اظہار کرتا بولا ۔۔۔ تو احرم کے چہرے پہ ہلکی اداس مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔۔

” تھینک یو ۔۔ “

” لیکن ایٹ لاسٹ آپ کی وائف کو تو ۔۔۔ “

اسد نے پھر سے کہنا چاہا ۔۔

” she is no more … “

اتنا کہہ کے احرم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا جبکہ ڈاکٹر اسد حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

ڈرائیور کے دیے گئے ایڈریس پہ ۔۔۔ شائستہ طلال کے ساتھ وہاں پہنچی تھی۔۔۔

فاصلے سے ہی انھیں ماوی نظر آ گئی تھی۔۔۔ جو بنچ پہ بیٹھی۔۔۔ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔۔۔

” یہ محترمہ ڈرامہ لگتی ہے مجھے پوری ۔۔۔ “

طلال کی بات پہ ۔۔۔ شائستہ نے گھور کے اسے دیکھا تھا۔۔ تو وہ کندھے اچکا کے دوسری طرف دیکھنے لگا۔۔

” چلو بات کرتے ہیں ماوی سے ۔۔ “

شائستہ اسے کہتی ۔۔۔ گاڑی سے نیچے اترنے لگی ۔۔

” آپ بات کر لیں۔۔۔ میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔ “

طلال نے صاف انکار کیا تھا ۔۔

” بہت بےحس ہو تم طلال ۔۔۔ وہ بچی مشکل میں ہے ۔۔ “

شائستہ تاسف سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔۔ جبکہ وہ خاموش ہی رہا اور اپنا موبائل دیکھنے لگا۔۔۔

شائستہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی۔۔۔ ماوی کے قریب گئی تھی ۔۔۔ اور بنچ پہ اس کے قریب ہی بیٹھ کے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

” یہاں کیوں آ گئی ماوی ؟”

ماوی نے نظر اٹھا کے شائستہ کو ایک نظر دیکھا اور پھر نظریں پھیر کے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی ۔۔

” عورت ہار تسلیم کر لیں تو اسے کیا کرنا چاہئے ؟؟”

” ماوی نے ہار کب تسلیم کر لی ؟ “

شائستہ نرمی سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی ۔۔ جبکہ ماوی اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی ۔۔۔

” ماوی ۔۔۔ “

شائستہ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔

” میرا بیٹا لے گیا وہ مجھ سے دور ۔۔۔ ابرام کا بیٹا ہے تو ۔۔۔ تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مجھ سے پوچھے بنا علی کو لے جائے؟؟ کہیں بھی لے جائے ۔۔۔ میں کہاں ڈھونڈوں اب علی کو ؟؟ شاید میں ہار گئی ۔۔۔ مرد کی تذلیل سہتے میں ہار گئی ۔۔۔ اور یہاں بیٹھ گئی ۔۔۔ ہارے ہوئے لوگ یونہی ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔ انہیں کوئی سنتا نہیں ہے تبھی وہ اس کونے میں سب سے چھپ کے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔ “

اس کا لہجہ سپاٹ اور پرسکون تھا ۔۔۔ جیسے وہ کسی کی کہانی سنا رہی ہو ۔۔۔ وہ اپنی نہیں کسی اور کی بات کر رہی ہو ۔۔۔

” ماوی مضبوط عورت ہے ۔۔ میں نہیں مانتی کہ ماوی نے ہار مانی ہو ۔۔ “

شائستہ کی بات پہ وہ خاموش رہی ۔۔۔

” ماوی نے تب ہار نہیں مانی جب وہ بستر پہ پڑی ہوئی تھی اور موو نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ تو اب وہ کیسے ہار مان لیں۔۔۔ تم جھوٹ بول رہی ہو ۔۔ ماوی کمزور نہیں ہے ۔۔ “

ماوی کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ ابھری تھی ۔۔

” ہے تو ایک عورت ہی ماوی ۔۔۔ کمزور ۔۔ ناتواں ۔۔ مرد سے وہ کیسے مقابلہ کر سکتی ہے ۔۔۔ وہ بھی اس مرد سے ۔۔۔ جو بےحد اونچا ہے ۔۔۔ جو بےحد امیر ہے ۔۔۔ جو دنیا خرید لیتا ہے ۔۔۔ “

” یہ ماوی کہہ رہی ہے ؟؟”

شائستہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھا ۔۔

” یہ ماوی ہے ؟؟ میں نہیں مانتی ۔۔۔ یہ ماوی ہو ہی نہیں سکتی ۔۔ ماوی ایسا نہیں کہتی ۔۔۔ ماوی ایسا کھبی نہیں کہتی ۔۔۔ “

ماوی اب خاموش تھی۔۔۔ سکوت تھا چند لمحوں کے لئے ۔۔۔ کوئی شور نہیں تھا۔۔۔ کوئی طوفان نہیں تھا ۔۔۔ جیسے سمندر کی لہروں نے سکوت اختیار کر لیا ہو ۔۔۔۔ لیکن اس نازک سے دل میں طوفان مچا ہوا تھا ۔۔۔ غبار بھر رہا تھا ۔۔۔ جیسے بادل آگے پیچھے بھاگتے ہوئے ۔۔۔ راستہ ڈھونڈتے ہیں اپنا غبار اتارنے کے لیے ۔۔ بارش کی ننھی بوندیں بن کے برستے ہیں۔۔۔۔ اور پھر اچانک اس نے رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ وہ دھاڑیں مار کے رونے لگی تھی اب ۔۔۔

دل کے طوفان کو باہر نکلنے کا راستہ مل گیا تھا جیسے۔۔۔۔

” میرا بیٹا۔۔۔ میرے علی کو لے گیا وہ ۔۔۔ میں کتنی سیاہ بخت ہوں۔۔۔ مجھ جیسی کوئی سیاہ بخت نہیں۔۔۔ میں نے سب کھو دیا ۔۔۔ میں ہار گئی ۔۔۔ میں ہار گئی ۔۔۔ “

وہ چلا رہی تھی ۔۔۔۔ رو رہی تھی۔۔۔ شائستہ کو اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔ وہ بار بار ماوی کو اپنی بانہوں میں سمیٹ رہی تھی۔۔ لیکن وہ موم سی عورت ۔۔۔ اتنی بکھر چکی تھی۔۔۔ کہ ریزہ ریزہ ہو رہی تھی۔۔۔۔

گاڑی میں بیٹھا طلال پہلے اسے بےتاثر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ پھر ان آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔۔۔۔ وہ کیوں اس قدر رو رہی تھی ۔۔۔ کیا ہوا تھا اس کے ساتھ۔۔۔ کہ وہ اپنی زندگی سے اس قدر بیزار تھی۔۔۔ کہ اپنی سانسیں ختم کرنا چاہ رہی تھی۔۔

کچھ سوچتا گاڑی سے اتر کے ۔۔۔ وہ ان کے قریب آیا تھا ۔۔۔ ماوی کی ٹوٹتی بکھرتی آہوں کو سنتا ۔۔۔ وہ اب اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا ۔۔

” مما ؟؟”

شائستہ نے اس کی سوالیہ آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔ جب ماوی سر اٹھا کے طلال کو دیکھنے لگی ۔۔۔

سرخی مائل بھیگی آنکھوں سے ۔۔۔ طلال کو دیکھتی ۔۔۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے ۔۔۔ اس کے قریب آئی تھی ۔۔

” آپ۔۔۔ آپ لائیر ہے ناں۔۔۔۔ پ ۔۔۔ پلیز میرا بیٹا مجھے لوٹا دے ۔۔۔ وہ لوگ میرا بیٹا۔۔۔۔ مجھ سے ۔۔۔۔ مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا ہے ان لوگوں نے ۔۔۔ میرا بیٹا مجھے دلا دیں ۔۔ آپ جو کہے گیں۔۔۔ جتنا پیسہ چاہے گیں۔۔۔ میں دوں گی ۔۔۔ خود کو بیچ کے آپ کی فیس دے دوں گی ۔۔۔ پلیز آپ کے سامنے بھیک مانگتی ہوں۔۔۔ اس بھکارن کو بیٹا لوٹا دے پلیز ۔۔۔ پلیز ۔۔۔ “

وہ ہاتھ جوڑے رو رہی تھی ۔۔۔ طلال کی سپاٹ آنکھیں اس پہ تھی۔۔۔ جبکہ ذہن کہیں اور تھا ۔۔۔ جہاں آوازیں تھی۔۔۔ کرب تھا ۔۔۔ بےیقینی تھی ۔۔۔ زرتاشہ تھی۔۔۔

‘ میری بیٹی۔۔۔ طلال میری بیٹی لوٹا دو پلیز ۔۔۔ دیکھو میں۔۔۔ طلال جو تم کہو گیں۔۔۔ میں وہی کروں گی ۔۔۔ تم سے دور نہیں جاوں گی ۔۔۔پلیز میری بیٹی چاہئے مجھے ۔۔۔ مجھے میری بیٹی لوٹا دو ۔۔۔۔طلال پلیز طلال ۔۔۔ ‘

زرتاشہ کی سسکیاں اور چیخیں تھی۔۔۔۔

وہ اب بھی ماوی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ لیکن اب کے آنکھوں میں کرب تھا ۔۔۔ وحشت تھی۔۔۔ ہاتھ کانپے تھے جیسے اس کے ۔۔۔

لڑکھڑاتے قدموں وہ پیچھے ہوا تھا ۔۔ اور پھر قدم قدم پیچھے جا رہا تھا وہ ۔۔۔ جبکہ ماوی گھٹنوں کے بل وہیں گری تھی۔۔۔

جوں جوں طلال پیچھے جا رہا تھا ۔۔۔ ماوی کو اسی قدر اپنا دل گہری کھائی میں گرتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *