Mawi by Malaika Rafi NovelR50587 Mawi (Episode 10)
Rate this Novel
Mawi (Episode 10)
Mawi by Malaika Rafi
” کہاں ہو تم؟؟”
احرم کے سوال اور لہجے پہ ۔۔ وہ چونکی ضرور تھی۔۔ لیکن دھیان نہیں دیا ۔۔
” میں آپی کے گھر ہوں۔۔۔ تم ٹھیک ہو ؟”
وہ نرم لہجے میں پوچھنے لگی ۔۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ علی کا ڈرائنگ چیک کر رہی تھی۔۔۔
” یاد آ رہی تھی بہت ۔۔ تو اس لئے پوچھ رہا۔۔ “
اب کے احرم کا لہجہ نرم تھا۔۔
” میں آتی ہوں کچھ دیر میں۔۔ تم خیال رکھو اپنا ۔۔۔ “
ماوی کا دل اس کے لئے پسیجا تھا ۔۔
موبائل رکھ کے ۔۔ وہ پھر سے علی کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔۔ وہ اب ماوی کی گود میں بیٹھ کے ۔۔ منہ بسور رہا تھا۔۔۔
” کیا ہوا ہے میرے پرنس چارمنگ کو ۔۔ “
اسے پیار کرتی ۔۔ ماوی پوچھنے لگی ۔۔
جب اچانک تالیاں بجانے کی آواز پہ ۔۔ وہ چونکی تھی۔۔۔
اور اپنے سامنے ابرام کو دیکھ کے ۔۔ وہ ایک پل کے لئے ٹھٹھکی تھی۔۔۔ بےساختہ علی کو اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔جبکہ آنکھوں میں حیرت لیے وہ ابرام کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
” واو ۔۔۔ امیزنگ ڈرامہ کوئین ۔۔ مطلب کتنی بار دھوکا دو گی مجھے ؟؟ کتنی بار جھوٹ بولو گی ۔۔ کتنی بار تمہارے ہر دھوکے اور جھوٹ کو میں سہتا رہوں گا ۔۔ “
سرد آواز میں کہتا ۔۔ وہ ماوی کے قریب آ رہا تھا۔۔۔ جبکہ ماوی علی کو خود سے لگائے۔۔ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟”
” اپنے بیٹے کو لے جانے آیا ہوں۔۔ “
علی کی طرف دیکھتے ۔۔۔ کہتے ہوئے وہ بےحد سفاک لگ رہا تھا اس وقت ۔۔ جبکہ ماوی کی گرفت علی پہ بےساختہ سخت ہوئی تھی۔۔۔
سر نفی میں ہلاتی ۔۔ وہ پیچھے ہوئی تھی۔۔۔
” دور رہو ابرام ۔۔۔ بےحد دور ۔۔ “
ابرام کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی۔۔ ۔
” میرے ہی بیٹے کو مجھ سے دور رکھا۔۔۔ کیا سمجھتی ہو تم خود کو ۔۔ ہر بار مجھے نیچا دکھانے کے لئے ۔۔ ایک نیا جھوٹ ۔۔ تمہارے کس روپ کو سچ مانوں میں ماوی ۔۔۔”
اس کی آواز تیز ہوئی تھی۔۔
” میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔۔ “
وہ بھی چلائی تھی۔۔ جب علی نے اس کے چہرے پہ اپنا ننھا ہاتھ رکھا تھا۔۔
” مم ۔۔۔ مم “
گہرا سانس لیتی ۔۔۔ اس نے علی کو دیکھا تھا۔۔اور اس کے گال پہ پیار کرتی ۔۔۔ اب کے نرم لہجے میں کہنے لگی ۔۔
” کچھ نہیں ہوا علی ۔۔ میری جان ریلیکس ۔ “
” کیا شور ہے ۔۔ کیا۔۔۔۔ “
سمیرا جو کہتی آ رہی تھی۔۔ لیکن ابرام کو دیکھ کے ۔۔ اس کے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے ۔۔
وہ حیرت سے گنگ کھڑی۔۔۔ ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
” آنی ۔۔۔ آنی۔۔ “
جبکہ علی ان کی گود میں جانے کے لئے ۔۔۔ مچلنے لگا ۔۔۔ سمیرا نے آگے بڑھ کے ۔۔۔ علی کو ماوی کی گود سے لیا تھا ۔۔
” تم بات کر لو ۔۔۔ “
کہتی ۔۔ وہ علی کو لے جا چکی تھی ۔۔۔ جبکہ ماوی نے ابرام کی طرف دیکھا تھا جو خشمگین نگاہوں سے ۔۔۔ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جیسے کہہ رہا ہو وضاحت دو اب ۔۔۔ !!
” علی میرا بیٹا ہے ۔۔۔ صرف میرا بیٹا۔۔۔ تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ابرام ۔۔ “
” رئیلی ؟؟ اس کا پورا وجود چیخ چیخ کے کہہ رہا ہے کہ وہ ابرام نوفل شاہ کا بیٹا ہے ۔۔ “
ابرام کے سرد لہجے پہ ۔۔ ماوی نے تمسخر سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
” تمہارا بیٹا؟؟ ہمممم تمہارا بیٹا ہے ؟؟؟ تب کہاں تھا یہ باپ اس بیٹے کا۔۔۔ جب میں اس اونچی عمارت کے سامنے آئی تھی۔۔ اور جب میرے ہاتھ میں۔۔ میری بربادی کا پروانہ تھما کے ۔۔ مجھے نکالا گیا وہاں سے۔۔۔ سب کو اجازت تھی اندر جانے کی ۔۔ لیکن مجھے نہیں تھی۔۔
وہ باپ تب کہاں تھا۔۔ جب جب مجھے اس کی ضرورت تھی۔۔۔ جب گھبراہٹ میں مجھے اس کی ضرورت تھی ۔۔۔ جب پریگننسی کے ہر موڑ پہ مجھے اس کی ضرورت تھی ۔۔
کہاں تھے تم ؟؟ جب مجھے slut …
کہہ کے بستی والے مجھے اور میرے بچے کو مار ڈالنے آئے تھے ۔۔۔ اور جب اس گندگی کے ڈھیر پہ ۔۔۔ وہ بیٹا اس دنیا میں آیا تھا ۔۔ ۔جس کا باپ ہونے کا دعوٰی کرنے آئے ہو آج۔۔۔
جب اس ننھے وجود کو چیل اور کتے نوچنے آئے تھے۔۔ تب میں تھی میں۔۔۔جو اس ننھے وجود کو بچانے کے لئے ہاتھ پاوں مار رہی تھی۔۔۔ “
وہ کہتے کہتے اچانک رو پڑی تھی۔۔۔ ابرام خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ ۔
” اور جب ۔۔۔ جب مجھے کہا گیا کہ میرا بچہ ۔۔ میرا علی ۔۔۔ سانس نہیں لے پا رہا۔۔ وہ ۔۔۔ وہ سانس نہیں لے پائے گا۔۔ تب کہاں تھے تم ابرام ؟؟ میرے پاس تھے ؟؟ تھے ہمارے ساتھ ؟؟ جب جب تمہاری ضرورت تھی چھوڑ کے ۔۔۔میری بربادی کا طمانچہ میرے منہ پہ مار کے چلے گئے تھے ۔۔۔ کہاں تھے تم ؟؟”
وہ روتے روتےچیخ پڑی تھی ۔۔۔
” تم میڈیسن کا پوچھ رہے تھے ناں۔۔ جانتے ہو کون سی میڈیسن ؟؟؟ وہ میری زندگی ہے ۔۔ وہ میڈیسن نہیں ہے ۔۔ میرے لئے زندگی ہے ۔۔ اس گندگی کے ڈھیر پہ ۔۔ میں اور وہ معصوم بچہ موت سے جنگ لڑ رہے تھے۔۔ انفیکشن ہمیں موت سے ڈرانے ۔۔ ہمارے سامنے منہ کھولے کھڑا تھا۔۔ اور ہم اپنی جنگ لڑ رہے تھے ۔۔ اور آج تک ہم اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔۔ میرا پورا جسم میڈیسن سے بھرا پڑا ہے ۔۔ ہم اج بھی موت سے لڑ رہے ہیں۔۔ اور تم ۔۔۔ تم آئے ہو اتنی آسانی سے ۔۔۔ اپنی جگہ بنانے آئے ہو علی کی زندگی میں؟؟؟
ہم موت سے لڑ رہے ہیں۔۔۔ موت کی بےحد دشوار جنگ لڑ رہے ہیں ابرام نوفل شاہ۔۔۔ “
وہ چیخ ہی پڑی تھی۔۔۔ جبکہ ابرام آنکھوں میں حیرت لیے ۔۔۔اپنے سامنے کھڑی اس ماوی کو دیکھ رہا تھا۔۔ جو اس سے حساب لے رہی تھی۔۔
” ماوی ۔۔۔ ماوی ۔۔۔ علی۔۔۔ “
سمیرا کی آواز پہ وہ تیزی سے مڑی تھی۔۔ جہاں سمیرا کے بازوؤں میں علی کا بےجان وجود جھول رہا تھا۔۔
” سانس نہیں لے پا رہا ۔۔۔ “
” علی ۔۔۔ “
وہ چیخی تھی۔۔ جبکہ علی کی آنکھیں جیسے باہر کو آ رہی تھی۔۔ وہ سانس لینے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا۔۔۔
ابرام نے تیزی سے۔۔۔ اسے بازوؤں میں بھرا تھا اور باہر کی طرف دوڑ لگائی تھی اس نے۔۔۔ ماوی بھی اس کے پیچھے روتے ہوئے آ رہی تھی۔۔












چار سال کے علی کو آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا۔۔ ڈرپ بھی اس کے ننھے ہاتھ کی پشت پہ لگی ہوئی تھی۔۔ اس کہ آنکھیں بند تھی اور چہرے کا رنگ سفید پڑا ہوا تھا۔۔
جبکہ ماوی ہاسپٹل روم کے باہر کھڑی۔۔۔ شیشے پہ سر ٹکائے بھیگی آنکھوں سے ۔۔ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
فی الحال کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔ جبکہ اس سے فاصلے پہ ۔۔۔ ابرام دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔۔
اس کی نظریں ماوی کی پشت پہ تھی۔۔۔ جبکہ سوچوں کا تسلسل کہیں اور تھا ۔۔۔
‘ صاب میں سچ بتا رہا۔۔۔ آپ کو دھوکا ہوا ہے ۔۔ ماوی جسم فروشی کرتی ہے ۔۔ ‘
جمیلے کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔
‘ صاب وہ میرے ساتھ بستر پہ گئی تھی ۔۔ ‘
‘ صاب اس بستی کے ہر مرد کے بستر پہ گئی ہے وہ لڑکی۔۔۔ ‘
‘ صاب آپ کیا جانتا اس کے بارے میں۔۔میرے بستی کی ہے صاب ۔۔ میں جانتا اسے ۔۔۔ ‘
اس بستی کے گنے چنے لوگ ۔۔۔ ابرام کے سامنے کھڑے۔۔۔ اس لڑکی کی پاکدامن پہ کالک مل رہے تھے۔۔۔ جبکہ وہ حیرت سے گنگ ان سب کو باری باری دیکھنے رہا تھا۔۔۔
‘ اگر اس بات میں حقیقت نہ ہوئی تو انجام جانتے ہو اپنا۔۔ ‘
وہ غرایا تھا۔۔ جبکہ اس بستی کا ایک مرد ہنسا تھا ۔۔۔ جو جمیلے کا چیلہ تھا۔۔۔
‘ لو صاب ۔۔ تم کو لگتا کہ آپ اس لڑکی سے پوچھو گے اور وہ کہہ دے گی کہ ہاں میں جسم فروشی کرتی ۔۔کمال کرتے ہو صاب ۔ ‘
‘ صاب یہ شین ہے ۔۔ ماوی کی اچھی دوست ہے ۔۔ اس سے پوچھ آپ۔۔ ‘
اوپر شین کے بدلے اور انتقام کی آگ میں جلتی ۔۔ وہ کڑوے الفاظ کہہ رہی تھی۔۔۔
‘ ہاں صاب ۔۔۔ ماوی جسم فروشی کرتی ہے ۔۔ اپن نے اسے دیکھا ہے آدھی رات کو جمیلے کی جھونپڑی میں جاتے۔۔۔ اس شکیل کے جھونپڑی میں جاتے رات کے دو بجے ۔۔۔ اس بستی کے ہر مرد کےساتھ ۔۔۔ اس کے بستر پہ گئی ہے ۔۔۔ صاب اپن ہمیشہ منع کرتی ۔۔ پر وہ مجھ سے لڑ پڑتی۔۔۔ تو اپن نے کہنا چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ صاب آپ کے ساتھ دھوکا ہوا ہے ۔۔۔۔’
اس معصوم لڑکی کی پاکدامنی پہ سوال اٹھ رہے تھے۔۔۔ اس کے کردار کو سیاہ کرنے والے الفاظ بولے جا رہے تھے ۔۔۔۔
ابرام کے پاؤں لڑکھڑائے تھے ۔۔ بنا پلکیں جھپکائے وہ ایک ایک کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ دماغ سن ہو رہا تھا۔۔۔
‘ ماوی نے بہت اسٹرگل کیا ہے ۔۔۔ اپنے لئے ۔۔ اپنے بیٹے کے لئے۔۔۔ وہ اور علی مکمل انفیکٹیڈ ہو چکے تھے ۔۔۔ ماوی کی باڈی پیرالایزڈ تھی۔۔۔ وہ بہت مشکل سے زندگی کی طرف آئی ہے ۔۔۔ وہ اب بھی میڈیسن لے رہی ہے ۔۔ انفیکشن نے اس کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔۔ اور علی۔۔۔ ‘
سمیرا نے کہتے کہتے گہرا سانس لیا تھا۔۔
” علی کے لنگز انفیکٹیڈ ہوئے تھے ۔۔۔ کافی بری کنڈیشن میں تھا علی۔۔ جب ہمیں وہ اور ماوی ملے تھے۔۔۔ گندگی کے ڈھیر پہ پڑے رہے تھے وہ دونوں۔۔۔
Can you imagine …
کہ ساری رات وہ دونوں وہاں پڑے ہوئے تھے ۔۔ اور مجھے صبح ملے تھے وہ دونوں۔۔۔
علی کو breathing … میں پرابلم تھی۔۔ اب بھی اس کا بےحد دھیان رکھتے ہیں ہم ۔۔۔ علی کے ساتھ اس کا ان ہیلر ہمیشہ ہوتا ہے۔۔۔ آج کافی ٹائم بعد اس پہ اٹیک آیا تھا ۔۔ کیونکہ وہ ڈر گیا تھا۔۔۔ ‘
سمیرا کی باتیں اس کے ذہن میں گونج رہی تھی ۔۔۔
‘ ماوی بدکردار نہیں ہے ۔۔۔ بدکردار تو وہ سب ہیں ۔۔ وہ رات قیامت کی رات تھی ماوی کے لئے ۔۔۔ جب اپنے بچے کو بچانے کے لئے ۔۔۔ وہ بستی سے بھاگی تھی۔۔۔ سوچ کے ہی جھرجھری آتی ہے ۔۔۔ اس چھوٹی بچی نے ۔۔۔ وہ قیامت کیسے جھیلی ہوگی ۔۔۔ ‘
وہ اب ماوی کو دیکھ رہا تھا جو ڈاکٹر انعام سے بات کر رہی تھی ۔۔ اور رو رہی تھی۔۔۔
” آپ نے کہا تھا انکل علی ٹھیک ہو چکا ہے ۔۔۔ علی ٹھیک نہیں ہے ۔۔ علی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ “
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیسے علی کو بیڈ سے کھڑا کر دے ۔۔ ۔
” ماوی کیا ہو گیا ہے بیٹا۔۔۔ اہنے انکل کی بات پہ بھی یقین نہیں؟؟ علی ٹھیک ہے ۔۔۔ ڈر کی وجہ سے ۔۔ اسے اٹیک آیا تھا۔۔ اب بلکل نہیں رونا ۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔ “
وہ اثبات میں سر ہلاتی۔۔۔ چپ کر گئی تھی ۔۔ لیکن ڈاکٹر انعام کے آگے بڑھتے ہی ۔۔ وہ پھر سے وہیں گلاس وال پہ سر ٹکا کے ۔۔ خاموش آنسو بہانے لگی ۔۔۔
ڈاکٹر انعام ۔۔۔ ابرام کا کندھا تھپتھپا کے آگے بڑھے تھے ۔۔۔
جب تھکے تھکے سے قدم اٹھاتا ابرام ۔۔۔ ماوی کے قریب آ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ اس لمحے ابرام کو ۔۔ اپنے اور ماوی کے بیچ کے فاصلے کا بڑی شدت سے احساس ہوا تھا ۔۔۔
لب بھینچے وہ کچھ دیر ماوی کو دیکھتا رہا ۔۔ اور پھر ہاتھ بڑھا کے ۔۔۔ ماوی کے کندھے پہ رکھے تھے ۔۔۔
” ماوی ۔۔۔ “
اور ماوی مڑ کے ۔۔ اس کے سینے پہ اپنا سر ٹکا گئی تھی۔۔
” علی۔۔۔۔میرا علی۔۔۔۔ علی نہیں اٹھ رہا۔۔۔وہ نہیں اٹھ رہا۔۔۔ “
وہ روتے ہوئے ۔۔۔ ہچکیوں کے بیچ کہہ رہی تھی۔۔ ابرام کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی۔۔۔ ماوی کے بکھرتے وجود کے گرد ۔۔ اپنے بازوؤں کا حصار بنا کے ۔۔۔ وہ گلاس وال سے۔۔۔ اپنے بیٹے کو بھیگی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جو بیڈ پہ بےسدھ پڑا ۔۔۔ آنکھیں موندے ہوئے تھا۔۔ سب زیاں ہی ہوا تھا۔۔ سب برباد ہی ہوا تھا ۔۔۔ اسکی زندگی ۔۔ ماوی کی زندگی ۔۔ علی کی زندگی ۔۔
کتنی طاقت ہوتی ہے الفاظ میں۔۔۔ انسانوں کی زبان میں۔۔۔ بستی والے جو اس کے اپنے بن رہے تھے ۔۔۔ وہی اپنے ایک ایک کر کے ۔۔۔ اس کے کردار کو ۔۔۔ سولی پہ لٹکا چکے تھے۔۔۔
وہ جنہوں نے کھبی ماوی کو کپڑوں کے بنا نہیں دیکھا تھا۔۔۔ جن کے سامنے کھبی ماوی بےلباس نہیں ہوئی تھی۔۔ وہ بستی والے ایک ایک کر کے ۔۔۔ ماوی کو اس کے شوہر کے سامنے ۔۔ بار بار بےلباس کر رہے تھے۔۔۔
ماوی چونکی تھی۔۔ اور جھٹکے سے اس سے دور ہوئی تھی۔۔۔ منہ پھیر کے ۔۔۔ سر جھکائے۔۔۔ وہ اپنے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔۔
جبکہ ابرام اپنی بےبس آنکھوں سے ۔۔ اس کے گریز کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
‘ میرے کو تمہاری بانہوں میں سکون آتی ہے ۔۔’
ماوی کے الفاظ تھے۔۔ جو اس کے کانوں میں گونجے تھے ۔۔ جبکہ وہ مسکرایا تھا۔۔
‘ ہمممم ایسا ہے ۔۔ تو جب میں افس ہوتی ۔۔۔تم کیا کرتی ؟؟’
ابرام بھی اسی کے انداز میں کہنے لگا ۔۔ جبکہ ماوی پلکیں اٹھا کے ۔۔ اس کی انکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔۔
‘ تو تمہاری شرٹ پہنتی میں۔۔۔ اس میں تمہاری خوشبو ہوتی ہے ۔۔ ‘
ابرام کے لب دھیمے سے مسکرائے تھے ۔۔۔ کتنے حسین لمحے اپنی زندگی کے۔۔ وہ دونوں ساتھ گزار چکے تھے ۔۔۔ بےحد حسین۔۔۔۔
وہ اب بھی ماوی کو دیکھ رہا تھا جبکہ ماوی علی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ابرام کے نظروں کی تپش سے ۔۔۔ خود کو چھپاتی وی لب بھینچے ہوئی تھی ۔۔











” نائس روم ۔۔۔ “
نیچے بڑے بزرگ بیٹھے ان دونوں کے رشتے کی بات کر رہے تھے ۔۔ جبکہ یہاں غزل۔۔۔معاذ وسیم شوکت کو اپنا روم دکھانے لائی تھی۔۔۔
“تھینک یو ۔۔۔ “
مسکرا کے کہتی ۔۔وہ اب معاذ کا گہری نظروں سے جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
” باڈی سکس پیک ہے ؟؟”
” ایکسکیوز می ؟؟”
وہ چونک کے ناسمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔۔۔ جبکہ غزل کندھے اچکا گئی ۔۔
” کوئی مشکل سوال نہیں کیا ۔۔ ایکچوئیلی میرا بوائے جو ہے ۔۔۔ وہ کافی اچھا ہے بیڈ پہ ۔۔۔ کیا تم بھی ہو ؟؟”
معاذ حیرت سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ کیا کہہ رہی تھی وہ۔۔۔ ؟؟ ایسی باتیں؟؟ جبکہ غزل مسکراتی نظروں سے ۔۔اس کاپھر سے جائزہ لینے لگی ۔۔
” آپ کا بوائے فرینڈ بھی ہے؟؟”
وہ ہچکچاتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔
جبکہ وہ ہنسنے لگی۔۔
” یس بلکل ہے ۔۔ اور ہم نے تو کئی راتیں ساتھ اسپینڈ کی ہے ایک ہی بیڈ پہ۔۔۔آپ نے کھبی ٹرائی کیا ایسا ایکسپیرئینس؟”
جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتا۔۔ کمرے سے باہر جانے کی سوچنے لگا۔۔
” ہم بھی ٹرائی کریں؟؟”
وہ پھر سے پوچھنے لگی ۔
” کیا ؟؟”
نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے پوچھا تھا۔۔
” بیڈ شئیرنگ ۔۔۔ دیکھتے ہیں کتنے اچھے ہیں آپ بیڈ پہ ۔۔”
اپنے لب کاٹتی۔۔۔ غزل اسے دعوت دے رہی تھی۔۔۔ ساتھ ہی آگے بڑھ کے ۔۔ اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی ۔۔۔ جبکہ معاذ جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا ۔۔
” یہ کیا کر رہی ہے آپ؟؟”
” sensation… seduction … “
وہ پھر سے آگے بڑھی تھی۔۔ جب معاذ قدم پیچھے رکھتا دروازہ تک پہنچا تھا ۔۔۔
” مجھے جانا ہوگا ۔۔۔ “
دروازہ کھول کے تیزی سے کہتا وہ آگے بڑھ گیا تھا جبکہ غزل ہنس پڑی تھی
” ہممممممم ۔۔۔ غزل صرف احرم کی ہے ۔۔ اور ایک ایسی ہی خوبصورت رات میں وہ میرے ساتھ ہوگا۔۔۔ “
خود سے کہتی ۔ وہ آنے والے کل کا سوچتی مسکرا دی تھی ۔۔











ہاتھ لگا کے۔۔۔ اس نے اپنی کلائی میں بندھی گھڑی کو چھوا تھا۔۔۔
رات کے بارہ بج رہے تھے۔۔ اور ماوی کی کوئی خبر نہیں تھی۔۔۔ بےچینی حد سے سوا ہو رہی تھی۔۔۔
اپنی انگلیوں سے موبائل کو چھوتا ۔۔ وہ ماوی کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔۔ کال جا رہی تھی لیکن کال ریسیو نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
” ماوی کال کیوں نہیں ریسیو کر رہی ۔۔۔ “
لب بھینچے وہ اس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔ ابرام بھی ابھی تک نہیں آیا تھا گھر ۔۔۔
دل کو دھڑکا سا لگ گیا ۔۔ ایک عجیب سا خیال بےچین کر گیا تھا اسے۔۔۔ لیکن سر جھٹک کے۔۔ وہ خود کو ہر منفی سوچ سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
گلے میں جیسے پھندا سا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ غزل کے الفاظ پہ وہ کھبی یقین نہیں کرے گا۔۔۔ یہ عہد کر چکا تھا وہ خود سے ۔۔ لیکن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ۔۔۔ دل و دماغ کے اندیشوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔
‘ اپ پلیز مت روئیے احرم ۔۔۔ ‘
وہ چونکا تھا۔۔
‘ ک ۔۔۔ کون۔۔ ؟؟’
‘ میں ماوی ۔۔ اس نائٹ بار کی ویٹرس ۔۔ ‘
‘ ماوی ۔۔ ‘
اس نے زیر لب نام دہرایا تھا۔۔۔
وہ رات اور اس کے بعد کی کئی راتیں۔۔۔ وہ ساتھ بیٹھ کے باتیں کرنے میں گزارنے لگے تھے ۔۔
‘ کون تھا وہ شخص؟؟’
وہ پوچھ رہا تھا جبکہ ماوی اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔۔
‘ ماوی ؟؟’
‘ ایک حسین خواب ۔۔۔ ‘
اسکے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ ابھر کے معدوم ہوئی تھی ۔۔۔
‘ محبت نہیں مرتی کھبی ۔۔۔ ہے ناں ماوی ۔۔ ‘
احرم پوچھ رہا تھا۔۔
‘ لیکن میں مر چکی ہوں۔۔۔ ‘
۔۔۔۔۔۔
‘ شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے ماوی ۔۔’
اور ایک دن احرم نے اسے پروپوز کیا تھا۔۔
‘ ہم نے اتنی باتیں شئیر کی ہے۔۔ اتنا کچھ شئیر کیا ہے ۔۔ اب لگتا ہے جیسے کہ تمہارے بنا نہیں رہ سکتا۔۔۔ ماوی میری آنکھیں نہیں ہے لیکن آئی پرامس یو تمہیں مکمل خوشیاں سونپوں گا ۔۔ ‘
۔۔۔۔۔
” ماوی کے بارے میں۔۔ کیسے سوچ سکتا ہوں میں یہ سب۔۔ وہ بیوی ہے میری اور ابرام ۔۔۔ میرا بھائی ۔۔۔ اففففففف کہیں پھنس گئے ہونگیں دونوں۔۔۔ ہمممم بلکل “
خود سے کہتا ۔۔ وہ جیسے دل کو تسلی دے رہا تھا۔۔










” میں فنکشن میں نہیں جاتی۔۔ مجھے شرم آتی سب سے ۔۔ “
جب سے ابرام نے اسے اپنے دوستوں اور ان کی بیگمات کے ساتھ ۔۔۔ اسے فنکشن میں جانے کا کہا تھا ۔۔۔ تب سے وہ منمنا رہی تھی۔۔
” کم آن ماوی ۔۔۔ تم میری بیوی ہو ۔۔ کل کو کوئی آفیشل فنکشن ہوگا تو تم نہیں جاو گی کیا؟؟؟ کیا تم نہیں چاہتی کہ تم سب سے انٹروڈیوس ہو میری بیوی کی حیثیت سے؟؟؟”
ابرام خود پہ پرفیوم چھڑک کے ۔۔ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ جبکہ وہ اپنی سنہری آنکھوں میں معصومیت سمائے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ابرام گہرا سانس لیتا ۔۔ اس کے قریب آیا تھا۔۔۔ اور اسے دونوں کندھوں سے تھاما تھا ۔۔۔
” احرم کی وجہ سے ۔۔۔میں تمہارے پاس نہیں آ پایا کچھ ٹائم تک ۔۔ لیکن اب تو آ چکا ہوں۔۔ احرم نیویارک گیا ہوا ہے ۔۔ تو کیا تم اس سے بھی نہیں ملنا چاہو گی میری بیوی کی حیثیت سے ؟؟ ہمارا نکاح جلدی میں ہوا لیکن ماوی تم میری بیوی ہو۔۔ اور تمہیں سب سے ملواؤں گا تو ہی سب کو پتہ چلے گا کہ میں میرڈ ہوں اب یار۔۔ “
وہ آخر میں شرارتی ہوا تھا جبکہ ماوی کی شاکی نظریں اس پہ تھی ۔۔
” میں ڈرتی ابرام ۔۔ اگر سب تم کو برا کہتے ۔۔ کہ میں کیسی بیوی ہوتی تو ؟؟”
اس کا ڈر اس کے چہرے سے صاف جھلک رہا تھا۔۔۔ جبکہ ابرام نے اس کے لبوں پہ نرمی سے ۔۔ اپنے لب رکھ ۔۔۔ پرسکون سانس کھینچی تھی ۔۔۔
” تم ابرام نوفل شاہ کی بیوی ہو ۔۔۔ بس یہی بےحد خوبصورت احساس ہے ہم دونوں کے لئے ۔۔۔ “
۔۔۔۔۔۔
اور پھر منظر بدلا تھا ۔۔۔
‘ مجھے پتہ چاہئے ڈیم اٹ ۔۔ ماوی کا پتہ چاہئے۔۔ ‘
وہ چلا رہا تھا۔۔
‘ کیوں چاہئے ؟؟ ‘
ابرک لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
جبکہ ابرام چونک کے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
‘ she’s a slut …
کیوں چاہئے اس کا پتہ تمہیں ۔ ؟؟’
جبکہ ابرام ڈرگ لیتا ۔۔۔ بار بار اپنی پیشانی مسلنے لگا۔۔
‘ دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔ بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔ ماوی کہاں ہے ؟؟؟ پتہ چاہیئے اس کا مجھے ۔۔ ‘
وہ نشہ کر رہا تھا اور بار بار یہی کہہ رہا تھا جبکہ ابرک خاموشی سے ۔۔۔ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھیں موندے پرسکون سی ۔۔۔ ماوی ہاسپٹل بیڈ پہ ۔۔ علی کے پہلو میں نیم دراز تھی ۔۔۔ جبکہ ابرام بیڈ کے قریب کھڑا اسے بےحد محویت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ اب ابرام کی پہنچ سے دور تھی۔۔۔ وہ اب سارے حقوق کھو چکا تھا۔۔۔ اسے چھونے کا حق ۔۔۔ اسے بانہوں میں بھرنے کا حق ۔۔۔ ہر حق وہ کھو چکا تھا۔۔۔
دو قدم رکھتا ۔۔۔ وہ اب ان کے سرہانے کھڑا تھا ۔۔۔
معصوم سا علی سو رہا تھا۔۔۔ بےحد انوکھا اور خوبصورت احساس تھا یہ ۔۔۔ وہ بیٹا ہے اس کا ۔۔ اس کا اپنا خون ۔۔۔ تو تب کیوں یقین نہیں کیا ۔۔۔ تب کیوں؟؟ اپنی زندگی کے حسین لمحوں کو ۔۔۔ وہ اپنے ہی پراگندہ سوچوں کے ساتھ ۔۔۔ ختم کر چکا تھا۔۔۔
اب بس ان خوبصورت یادوں کی ۔۔۔ بکھری بکھری سی کرچیاں تھی۔۔۔
اس کی نظر ماوی پہ گئی ۔۔۔
‘ ماوی بیمار ہے ۔۔۔ وہ مکمل صحت یاب نہیں ہے۔۔۔ ماوی آج بھی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے ۔۔۔ ‘
سمیرا کی آواز۔۔۔ اس کے کانوں میں گونجی تھی۔۔۔ تھوڑا سا جھک کے ۔۔ اس نے علی کو ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔۔۔
اسکے ماتھے پہ بکھرے بال۔۔۔ ماوی کے چہرے کو چھونے لگے ۔۔۔ کسمسا کے اس نے آنکھیں کھول دی تھی۔۔۔
دونوں کی نظریں پل بھر کو ملی تھی۔۔۔ ابرام بےحد قریب سے ۔۔ ان نیند بھری بوجھل آنکھوں کو حفظ کر رہا تھا۔۔
جبکہ ماوی نظریں پھیر کے ۔۔۔ اٹھ کے بیٹھ چکی تھی ۔۔۔ اپنے بھاری ہوتے سر کو سنبھالتی ۔۔۔ وہ نیچے اترنے لگی۔۔۔
” تم نے کچھ نہیں کھایا۔۔ کینٹین جا کے کچھ کھا لیتے ہیں۔۔۔ “
ابرام کی نرم آواز پہ ۔۔ وہ ٹھٹھکی تھی ۔۔ لیکن ان سنی کرتی ۔۔ وہ سر جھٹک کے کھڑی ہوئی تھی۔۔
آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا محسوس ہوا تھا ۔۔ تبھی بیڈ کے پاس رکھی کرسی کا سہارا لیا تھا۔۔۔
ابرام جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ تیزی سے اس کے قریب آیا تھا۔۔
” ماوی ۔۔۔ “
اسے کندھوں سے تھاما تھا لیکن ماوی خود کو اس کے حصار سے نکال کے پیچھے ہوئی تھی۔۔
اپنا سینہ مسلتی ۔۔۔ وہ تیزی سے واشروم کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
واش بیسن کے پاس کھڑی۔۔۔ وہ وومیٹنگ کرنے لگی۔۔۔
ابرام بھی پریشان سا ۔۔۔ اس کے قریب کھڑا۔۔ اس کی پشت نرمی سے سہلا رہا تھا ۔۔۔
” ماوی کیا ہو گیا ہے تمہیں؟؟”
جبکہ چکراتے سر کو سنبھالتی ۔۔۔ ماوی نے اس کی شرٹ تھامی تھی۔۔۔
” اب ۔۔۔۔ رام ۔۔۔ م ۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ ع ۔۔۔ علی۔۔۔ “
اور ہوش و خرد سے بیگانہ ہوئی تھی۔۔۔ اس کا سر ابرام کے سینے پہ گرا تھا۔۔۔
” ماوی ۔۔۔۔ “
وہ تقریبا چلایا تھا۔۔۔











” یاد ہے وہ رات ؟؟ وہ سیاہ رات ؟؟ جب اسی بستی کی ایک معصوم بیٹی کو ۔۔ فاحشہ کہہ کے سب مارنا چاہ رہے تھے ۔۔۔ وہ ہم سب ہی تو تھے ۔۔۔ “
رات کی تاریکی میں۔۔۔ بھوکے پیاسے۔۔۔ بےگھر وہ لوگ چاند کی مدھم روشنی میں۔۔۔ تاروں بھرے اس آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔
ان میں سے ایک عورت بولی تھی۔۔
” وہ دن بھی یاد کر لو ۔۔ جب ایک ایک کر کے اس بستی کے ہر مرد نے ۔۔ ماوی کو اس کے شوہر کے سامنے بےلباس کیا تھا ۔۔۔ یاد ہے ؟؟”
وہیں بیٹھی شین چونک کے اس عورت کو دیکھنے لگی۔۔۔ جبکہ وہ کہہ رہی تھی۔۔۔
” کہتے ہیں۔۔ جب ایک عورت کی پاکدامنی پہ حرف اٹھایا جاتا ہے ۔۔۔ تو زمین پھٹ پڑتی ہے ۔۔۔ آسمان ہل جاتا ہے ۔۔۔ طوفان آتے ہیں۔۔ اور اس طوفان کی لپیٹ میں ہم اج آ چکے ہیں۔۔۔ بے گھر ۔۔ خالی پیٹ۔۔۔ لاچار اور ناتواں۔۔ “
شین خاموشی سے وہ الفاظ سن رہی تھی۔۔
” ہم نے ایک بیٹی پہ جسم فروشی کا الزام لگایا تھا اور آج اس بستی کے ہر جھونپڑی کی بیٹی۔۔۔ جسم فروشی کر رہی ہے۔۔۔ “
” ہمارے کیے کی سزا مل رہی ہے ہمیں۔۔۔ “
وہ سب کچھ نہ کچھ کہہ رہے تھے ۔۔
” بس کردو سب ۔۔ “
اچانک سے شین چلائی تھی۔۔۔
” ماوی ماوی لگا رکھا ہے ۔۔۔ “
سب اسے دیکھنے لگے ۔۔
” تو نے برباد کر دیا شین اس لڑکی کو ۔۔ تو نے ہم سب کو غلط راستے پہ ڈال دیا ۔۔۔ تو نے گمراہ کیا ہمیں ۔ “
” کیوں تم سب بچے تھے کیا؟؟ جو برباد ہو گئے “
وہ حلق کے بل چیخی تھی۔۔
” وہ اسی قابل تھی۔۔ وہ کتیا اسی قابل تھی۔۔۔ “
دوسری جھونپڑی میں سے ایک عورت باہر آ کے ہنسنے لگی تھی۔۔
” ماوی آج بھی ملکہ ہے ۔۔۔ شہزادیوں کی زندگی گزار رہی ہے ۔۔ اور تو اتنا سب کرنے کے بعد بھی۔۔۔ نیچ کی نیچ ہی رہی ۔۔ تف ہے تجھ پہ شین۔۔ “
” اے بس ۔۔ “
وہ چلاتی ہوئی اس عورت کی طرف لپکی تھی۔۔۔ جب بستی کے باقی لوگ ۔۔۔ اس کے سامنے آ کھڑے ہوئے تھے ۔۔
” پیچھے ہٹ کیا کرنے لگی ہے تو ۔۔ “
” مار ڈالے گی اپن اس کو ۔۔ “
وہ چیخی تھی۔۔
” ماوی کو مار کے سکون نہیں ملا تجھے ۔۔ “
نگہت بھی چلا کے اس کے سامنے آئی تھی۔۔
” مائی ۔۔۔ “
شین نے حیرت سے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔۔۔
” نہ بول مجھے مائی ۔۔ تو یہ سب تو نے کیا تھا۔۔۔ تو نے اور میں سمجھتی رہی کہ تو آگ میں گرنے کی وجہ سے ۔۔ ماوی سے نفرت کرتی ہے ۔۔ پر شین تو تو خود نفرت ہے ۔۔۔ آستین کا سانپ تھی تو ماوی کے لیے۔۔ تف لعنت ہے تجھ پہ ۔۔۔ “
نگہت کہتی ۔۔ چہرہ پھیر کے دوسری طرف جانے لگی ۔۔
” مائی ۔۔۔ “
شین حیرت سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔ اور پھر باقی سب کو دیکھنے لگی۔۔ جو اس کے چہرہ پھیر کے۔۔۔ اپنی اپنی جگہ پہ بیٹھے تھے ۔۔
” مائی بھوک لگی ہے ۔۔ “
” ابے ۔۔ پیٹ میں درد ہو رہا ۔۔ “
” مائی پیاس۔۔۔ پانی۔۔۔ “
” مائی ۔۔ گرمی ہے ۔۔۔ “
ہر طرف سے بچوں کی آہیں اور اوازیں آ رہی تھی۔۔۔ جبکہ شین سب کو بھیگی آنکھوں سے دیکھتی۔۔۔ خاموشی سے ۔۔ ایک طرف جا کے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
‘ ماوی کہاں ہے ؟؟ مجھے اس کا ایڈریس چاہیے۔۔’
‘ صاب میں قسم کھاتی ۔۔ ماوی جسم فروشی کرتی ۔۔ ‘
” ڈیم اٹ۔۔۔ منہ توڑ دوں گا تمہارا ۔۔۔ اب اگر ایک بھی لفظ ماوی لے اینٹ بھی کہا۔۔۔۔ ماوی کہاں ہے ؟؟’
ابرام چلایا تھا جبکہ شین یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ابرام تھوڑا نرم ہو کے اب پوچھنے لگا ۔۔۔
‘ ماوی تمہاری دوست ہے شین۔۔۔ کہاں گئی ہے وہ ؟؟ ایڈریس چاہیے ‘
‘ پر صاب میں قسم کھاتی۔۔۔ وہ جسم فروشی کرتی ہے ۔۔ ‘
اور بدلے میں۔۔۔ اسے زور کا تھپڑ لگا تھا ابرام کی طرف سے۔۔۔
‘ اٹس آ وارننگ ۔۔۔ اسے جس مرد نے پہلی بار چھوا تھا۔۔ وہ میں تھا ۔۔ اسے چھونے والا پہلا شخص میں تھا۔۔۔۔۔ ابرام نوفل شاہ۔۔۔
ابرام کی دھاڑ۔۔۔ اس کے کانوں میں گونجی تھی۔۔۔ اور وہ چپ چاپ سامنے اندھیرے میں کچھ دیکھنے کی کوشش کرتی رہی ۔۔
