Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mawi (Episode 22)

Mawi by Malaika Rafi

” احرم ۔۔۔ “

وہ چونک کے نیند سے بیدار ہوئی تھی۔۔۔ کمرے میں چاروں طرف نظریں دوڑائی تو نیم تاریکی تھی۔۔۔ اور گھڑی پہ رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔

گہرے سانس لیتی ۔ اس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔

” یہ کیسا خواب تھا ۔۔۔ اتنا برا خواب ۔۔ احرم ۔۔۔ “

زیر لب بڑبڑاتی وہ سامنے ٹیبل پہ پڑی فائل کو دیکھنے لگی ۔۔۔ جو شام کو ہی اظفر دے گیا تھا اسے ۔۔۔ اور وہ بنا دیکھے ہی وہی رکھ گئی تھی ۔۔

کہ اس میں سکت نہیں تھی اب ۔۔۔ مزید کچھ سننے کی ۔۔۔ مزید کسی دکھ کی ۔۔۔

لیکن ابھی بلکل اچانک اس خواب نے جیسے ۔۔۔ اس کے دل کی حالت ابترکر دی تھی۔۔۔

احرم کو کال کر کے وہ پوچھنا چاہتی تھی ۔۔ لیکن کیسے پوچھتی۔۔۔ وہ تو بےوفا ٹھہر چکا تھا اس کے لئے ۔۔ وہ تو ماوی کا ہرجائی بن بیٹھا تھا ۔۔۔

سر جھٹک کے ۔۔۔ وہ بیڈ سے نیچے اتر کے ۔۔۔ ٹیبل تک گئی اور فائل اٹھا کے وہ دیکھنا چاہتی تھی جب اسے فائل میں موجود یو ایس بی نظر ائی تھی۔۔۔

” یہ ۔۔۔ ؟؟؟ لیپ ٹاپ۔۔۔ “

ادھر ادھر نظریں دوڑاتی۔۔۔ وہ کمرے سے باہر گئی تھی تاکہ سمیرا کا لیپ ٹاپ لے کے وہ یو ایس بی کو چیک کر لیں۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

موبائل پہ بار بار ۔۔۔ اس کی انگلیاں رینگ رہی تھی ۔۔۔ وہ منتظر تھا ۔۔۔ سب کہہ دینے کے بعد بھی ۔۔ وہ منتظر تھا ۔۔۔

دل بوجھل سا تھا ۔۔۔ آنکھ میں نمی کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔

” سر فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے آپ کا۔۔۔ “

ہوٹل روم میں وہ کب سے جو منتظر تھا اس کال کا ۔۔۔ جب اظفر کی آواز نے اسے چونکایا تھا۔۔

” کیا ٹائم ہو رہا ہے ۔۔ ؟؟”

بوجھل بھاری اواز میں پوچھا گیا ۔۔

” سر تین ہو رہے ہیں۔۔۔ اور آپ کو ایئرپورٹ بھی پہنچنا ہے ۔۔ “

اظفر اس کا پاسپورٹ چیک کرتا کہنے لگا ۔۔۔

” کیسی تھی؟؟”

احرم کے اچانک پوچھنے پہ ۔۔ اظفر لمحے بھر کو رکا تھا ۔۔ اس چہرے پہ کرب کی پرچھائیاں تھی۔۔۔۔ جن سے اظفر نظریں چرا گیا۔۔۔

” she will call you sir … “

” ہمممم ۔۔۔ “

ہنکارا بھر کے ۔۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔۔۔ اور احتیاط سے ۔۔ اپنی اسٹک سنبھالتا ۔۔۔ وہ اظفر کے ساتھ ہوٹل روم۔سے باہر نکلا تھا ۔۔۔

اسے نیویارک جانا تھا ۔۔ وہ ماوی کو دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ ماوی کے لئے مضبوط مرد بننا چاہتا تھا۔۔۔ اپنی ہر غلطی۔۔ ہر گناہ کی تلافی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ تبھی وہ نیویارک جا رہا تھا ۔۔۔

کاش وہ معاف کردیتی ۔۔۔

کاش آج میرا ہاتھ تھام کے ۔۔۔ میرے ساتھ ہوتی وہ ۔۔۔

اس آخری لمحے تک ۔۔۔ وہ امید کے سہارے چل رہا تھا۔۔۔ لیکن پھر امید دم توڑ گئی ۔۔۔

شاید وہ معاف نہیں کر پائی اسے۔۔۔

شاید اس کا وجود اتنا نجس ہے۔۔ کہ ماوی کے لئے اسے معاف کردینا بےحد مشکل لگا ۔۔۔

اس کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ ابھر کے معدوم ہوئی تھی۔۔۔ وہ خاموشی سے ۔۔۔ سیٹ کی پشت پہ سر ٹکا گیا ۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” ماوی ۔۔۔ “

اس بوجھل آواز پہ ۔۔ ماوی کا دل تڑپ سا گیا تھا۔۔۔

” کہاں سے شروع کروں؟؟ وہ خوبصورت شام جب تم میرے پاس آ کے بیٹھی تھی مجھے سمجھانے۔۔۔ سہارا دینے یا اس شام سے اسٹارٹ کروں جب تم نے میرا پروپوزل ایکسپٹ کیا تھا ۔۔۔ “

بات ادھوری چھوڑ کے ۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا شاید۔۔

” تمہارا ہر احساس میرے لئے ہمیشہ خوبصورت رہا ہے ۔۔ بلکل انوکھا۔۔۔ مختلف ۔۔۔ منفرد۔۔۔ تبھی تم سے محبت ہو گئی تھی۔۔ لیکن میں اس محبت کو شاید نہ نبھا پایا۔۔ جب مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ تم مجھ سے محبت ہی نہیں کرتی ماوی ۔۔ میں صرف ایک راستہ تھا ابرام سے بدلہ لینے کا راستہ ۔۔ ماوی تو میرا کیا قصور تھا؟؟؟ میں تو گنہگار نہیں تھا ناں پھر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟”

اس کی آواز بھرا گئی تھی۔۔۔ ماوی نے گہرا سانس لیا تھا ۔۔۔ اندر کے حبس کو باہر نکالنے کے لئے۔۔

” ماوی میں بہک گیا تھا۔۔ تم سے بدلہ لینے کے لیے میں بہک گیا۔۔۔ میں بہکنا نہیں چاہتا تھا کھبی ۔۔ تمہارے علاوہ مجھے کسی اور کے جسم کی خواہش کھبی نہیں رہی تھی لیکن ۔۔ بیوفائی کا مرتکب ہو گیا ۔۔۔ زنا کر بیٹھا۔۔۔ لیکن ماوی میں قسم کھاتا ہوں۔۔۔ میں تم سے بدظن ضرور ہوا تھا لیکن مجھے کھبی کسی دوسری عورت کے وجود میں سکون کی تلاش کھبی نہیں رہی ماوی ۔۔۔۔۔ میں۔۔۔ میں ماوی مجھے نہیں یاد ۔۔۔ وہ سب کیسے ہوا؟؟ کب ہوا ؟؟؟ میں ہوش میں تھا ہی نہیں۔۔ میں نشے میں تھا ماوی ۔۔۔ “

خاموشی چھائی تھی کچھ دیر۔۔۔۔

” ماوی تمہارا گنہگار بن بیٹھا۔۔۔ مجھے ۔۔۔ مجھے معاف کردو ماوی ۔۔۔ میں نے کھبی تمہیں نوچنے کا نہیں سوچا ۔۔۔ تم بیوی ہو میری ۔۔۔ کیسے نوچ سکتا تمہارے وجود کو اپنی ہوس کے لئے ۔۔ کیسے ماوی ؟؟ مجھے معاف کردو ۔۔۔ پلیز معاف کردو ۔۔۔ “

وہ پھر سے رکا تھا ۔۔ جبکہ ماوی نے ہچکی لی تھی ۔۔

” میں تمہیں طلاق نہیں دے سکتا ماوی ۔۔۔ کھبی نہیں دے سکتا۔۔۔ یہ میرے بس میں نہیں ہے ۔۔۔ کہ اپنے ہی وجود سے تمہیں الگ کردوں۔۔ کیسے الگ کردوں۔۔۔ محبت کی ہے تم سے ۔۔۔ نکاح کیا ہے تم سے ۔۔ پھر ؟؟ کیسے ماوی ؟؟ نہیں الگ کر سکتا۔۔۔ میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں ماوی ۔۔ تمہیں دیکھنے کی بےحد خواہش ہے ماوی ۔۔ تبھی جا رہا ہوں یہاں سے ۔۔۔ اور اب جب سامنا ہو ہمارا ۔۔ تو یہی چاہوں گا کہ میں اپنی آنکھوں سے تمہیں دیکھوں۔۔۔ مکمل دیکھوں تمہیں۔۔۔ انتظار کرو گی میرا؟؟”

ماوی کا دل ساکت ہو گیا تھا جیسے ۔۔۔

‘ انتظار کرو گی میرا ؟؟’

الفاظ اس کے ذہن میں گڈمڈ ہو رہے تھے ۔۔۔

” ماوی ۔۔۔ “

وہ پھر سے متوجہ ہوئی تھی۔۔

” جانے سے پہلے ۔۔ اپنے حصے کی ساری پراپرٹی تمہارے نام کر کے جا رہا ہوں۔۔۔ کہ اگر مجھے کچھ ہوا ۔۔ میں نہ آ پایا۔۔۔ میری زندگی اگر اتنی ہی ہوئی تو ۔۔۔ تم کھبی بےاسرا نہ رہو ۔۔۔ میرا گھر ۔۔ میرا آفس۔۔ میری پراپرٹی سب تمہارے ہیں۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ سے تمہارا ہی رہا ہوں ۔۔۔ اگر کھبی تمہیں لگے کہ تم مجھے معاف کر چکی ہو ۔۔۔ اگر کھبی لگے کہ تم میری محبت کو سمجھنے لگی ہو ۔۔۔ مجھے محسوس کرنے لگی ہو ۔۔۔ ماوی اگر کھبی لگے کہ۔۔۔۔ ہم اب بھی ایکدوسرے کے محرم ہے ۔۔۔ تو ماوی مجھے بتا دینا پلیز ۔۔۔ میں منتظر رہوں گا ۔۔ میری رات تین بجے کی فلائٹ ہے ۔۔۔ کہاں؟؟ نہیں بتا سکتا ۔۔۔ لیکن ماوی میری منتظر رہنا پلیز ۔۔۔۔ “

اب مکمل خاموشی تھی۔۔ سکوت تھا۔۔ لیکن ماوی کے اندر ایک شور برپا تھا۔۔۔ اس کی بھیگی آنکھوں میں۔۔۔ کرب کی کرچیاں تھی۔۔۔

” میں نے تمہیں معاف کردیا احرم ۔۔۔ “

بھیگی آواز میں کہتی ۔۔۔ اس نے اپنا چہرہ ہاتھ کی پشت سے صاف کیا تھا۔۔۔

اور پھر پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی۔۔۔

” میں نے تمہیں معاف کردیا احرم ۔۔۔ “

اور پھر وہ نمبر ملانے لگی ۔۔۔ لیکن کال نہیں جا رہی تھی۔۔۔ نمبر سوئچ آف تھا۔۔۔۔ گھڑی پہ نظر پڑی تو 4 بج رہے تھے ۔۔۔

اس نے دیر کر دی تھی۔۔۔ اس نے بہت دیر کر دی تھی۔۔۔ احرم نہیں تھا اب ۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” تو کس کو معلوم ہے کہ احرم کہاں گیا ہے ؟؟”

وہ تقریبا دھاڑا تھا ۔۔۔ جبکہ وہاں موجود آفس ورکرز نظریں جھکا گئے تھے ۔۔۔

” احرم کو جو صحیح لگا ہوگا اس نے وہی کیا ہے ابرام ۔۔ سو کالم ڈاؤن “

ابرک نے کہنے کی کوشش کی تھی جس پہ ابرام کی گھوریوں نے اس کا استقبال کیا۔۔۔

” میرا بھائی ہے وہ ۔۔۔ اس کی فکر مجھے سب سے زیادہ ہے ۔۔۔ اور وہ جو گیا کے اکیلا ۔۔ تو بتاتا چلوں کہ وہ دیکھ نہیں سکتا ۔۔۔ اس کے ساتھ کوئی حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے ۔۔۔ سوچا ہے کھبی تم نے ؟”

ابرک لب بھینچ گیا ۔۔۔ جبکہ ابرام باقی سب کو دیکھنے لگا ۔۔

” اظفر کہاں ہے؟؟ “

” سر وہ تو نہیں آئے ۔۔۔”

اس جواب نے ابرام کے غصے کو مزید ہوا دی تھی۔۔۔

” گو ٹو ہیل ۔۔۔ جا کے ڈھونڈو اظفر کو ۔۔۔ انفارمیشن اکھٹا کرو کہاں ہے احرم ؟؟ کہاں گیا ؟؟ کون سی فلائٹ سے گیا ہے ۔۔۔ پتہ کرو سب ۔۔ رائٹ ناو “

وہ چلایا تھا ۔۔

” اوکے سر۔۔ “

وہ سب باہر نکلے تھے۔۔ جبکہ ابرک کھڑا ابرام۔کو گھور رہا تھا جب ابرام کی نظر اس پہ پڑی۔۔

” وہاٹ ۔۔۔ ؟؟”

” سوچ رہا ہوں وقت پہ اتنی کئیر دکھائی ہوتی ۔۔۔ ماوی کو تنگ کرنے کی بجائے۔۔۔ اسے احرم کے ساتھ سکون سے رہنے دیتے ۔۔ تو آج احرم بھی یہیں ہوتا تمہارے پاس اور ماوی بھی احرم سے بدگمان ہو کے۔۔۔ برباد نہ ہوتی ۔۔ “

ابرک نے اسے آئینہ دکھایا تھا جبکہ ابرام کی آنکھوں میں سرخی سی آئی تھی۔۔

” شٹ اپ اینڈ گیٹ آؤٹ “

وہ پھر سے چلایا تھا۔۔ جبکہ ابرک تاسف سے سر ہلاتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔

اپنی کنپٹی سہلاتا ابرام ۔۔۔ اپنے بھائی کے بارے میں سوچ رہا تھا اب ۔۔۔ اس کی گمشدگی ابرام کے اوسان خطا کر رہی تھی۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” کافی ؟”

سمیرا کی آواز پہ وہ چونکی تھی۔۔۔ اور پھر ہلکا سا مسکرا کے ۔۔ اس نے مگ ان کے ہاتھ سے لیا تھا۔۔

” کیا سوچ رہی ہو یہاں اکیلے بیٹھ کے۔۔۔ ؟”

سمیرا کے سوال پہ ۔۔ وہ نفی میں سر ہلا گئی ۔۔

” بہت تھک گئی ہوں۔۔۔ “

” ہممممم ۔۔۔ “

سمیرا نے ہنکارا بھرا تھا۔۔ اور پھر اسے دیکھنے لگی۔۔

” لیکن مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ تم نارمل ہونے لگی ہو پھر سے ۔۔۔ “

” لیکن یہ تھکن تو روح کا حصہ بن چکی ہے آپی ۔۔ جو کھبی نہیں اترے گی ۔۔۔ کھبی کھبی سوچتی ہوں کوئی مجھ سا بدنصیب بھی ہوگا۔۔۔ “

اس کا لہجہ آواز تھکن زدہ تھے۔۔۔ سمیرا غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔

” احرم کو سوچ رہی ہو ؟؟ کیا اسے معاف کر پاو گی؟؟”

ماوی استہزائیہ ہنسی تھی۔۔

” معاف ؟؟؟ آپی معافی مانگنے کے قابل تو میں ہوں۔۔۔ وہ تو ہوش و حواس میں تھا ہی کب ۔۔۔ جو میرا مجرم بن بیٹھا۔۔ اور میں؟؟؟ میں تو مکمل ہوش و حواس میں ہو کے ۔۔۔ اسے استعمال کیا ۔۔۔ اس کی محبت۔۔۔ اس کی فیلنگز کو ذریعہ بنایا۔۔۔ احرم ٹھیک کہتا ہے کہ میں نے اسے راستہ بنایا ابرام سے بدلہ لینے کا راستہ۔۔۔۔ “

وہ اب خاموشی سے گھونٹ گھونٹ کافی پینے لگی ۔۔۔

” لیکن اس نے پھر بھی مجھے طلاق نہیں دی ۔۔۔ مجھے طلاق دینے کا نہیں سوچا اس نے ۔۔ میرے سارے جھوٹ جان کے بھی۔۔۔ وہ مجھے خود سے باندھے ہوئے ہیں۔۔۔ میرے ماتھے پہ ۔۔۔ بدکرداری کا کلنک لگا کے ۔۔۔ مجھے رسوا نہیں کر رہا۔۔۔ اور ۔۔۔۔ “

وہ کچھ دیر رکی تھی ۔۔۔

” مرد کی تعریف کیا ہے آپی؟؟ میں آج تک نہ جان پائی ۔۔۔ لوگ کہتے ہیں عورت کو سمجھنا مشکل ہے ۔۔ مجھے تو لگتا ہے کہ مرد تو مکمل ناقابل فہم ہے ۔۔۔ “

کہتے کہتے وہ ایکدم اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ عجیب بےچینی تھی اس کے وجود میں۔۔۔ جو سمیرا کو محسوس ہوئی تھی۔۔ ۔

” ماوی کیا ہوا بیٹا؟؟”

” ع ۔۔۔ علی ۔۔۔۔ علی کے پاس جانا ہے ابھی ۔۔۔ ابھی “

وہ بوکھلا کے کہتی ۔۔۔ ادھر ادھر دیکھتی دروازے کی طرف جانے لگی تھی۔۔ جبکہ سمیرا بھی اس کے پیچھے تیزی سے آئی تھی۔۔ کہ ماوی کی دماغی حالت ابھی بھی اتنی نارمل نہیں ہوئی تھی۔۔۔ کہ اسے یوں اکیلے جانے دیا جائے۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

بکھرا بکھرا سا احساس تھا ۔۔ جو اس کے وجود میں پھیل رہا تھا ۔۔۔

بےچینی تھی۔۔۔ جو اس جسم کو چھلنی کر رہا تھا ۔۔۔

نم آنکھوں سے ونڈ اسکرین کو دیکھتا ۔۔۔ اس نے گاڑی کا رخ قبرستان کی طرف موڑا تھا ۔۔۔

جوں جوں گاڑی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ اسے اپنا دل ۔۔۔ اپنی دھڑکنیں۔۔۔ اپنا وجود بھاری ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ آنسو آنکھوں سے رواں تھے ۔۔۔

وہ رو رہا تھا ۔۔۔

” پاپا ۔۔۔ آئی لو یو پاپا ۔۔۔ “

اس کے کانوں میں معصوم سی آوازیں تھی ۔۔۔ اور وہ ہچکیوں سے رو پڑا تھا۔۔

آج تنہا سا تھا وہ۔۔

نہ احرم تھا۔۔

نہ علی ۔۔۔ نہ ماوی ۔۔۔

وہ تنہا تھا آج۔۔ مکمل تنہا ۔۔۔۔ !!

گاڑی جھٹکے سے رکی تھی۔۔۔ وہ کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا ۔۔۔ سامنے کا منظر دھندلایا ہوا تھا ۔۔۔

دھڑکتے دل ۔۔ کانپتے ہاتھوں سے ۔۔ اپنے آنسو صاف کرتا ۔۔ وہ نیچے اترا تھا ۔۔۔

دل ڈوب سا گیا تھا۔۔۔ کچھ قدموں کے فاصلے پہ ہی ۔۔۔ تو اس کا بیٹا مٹی تلے سو رہا تھا۔۔

وہ مضبوط مرد لڑکھڑایا تھا ۔۔۔ لیکن پھر خود کو سنبھالتا وہ قدم آگے بڑھانے لگا ۔۔

” پاپا ۔۔۔ آئی مسڈ یو ۔۔۔ “

چلتے چلتے وہ پھر رو پڑا تھا۔۔۔ اور پھر دھندلی آنکھوں نے ۔۔ سامنے کا منظر دیکھا تھا ۔۔۔

وہ ماوی ہی تھی ۔۔۔ جو علی کے سرہانے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔ دھڑکنیں پل بھر کو تھم کے ۔۔۔ پھر سے چلنے لگی تھی۔۔۔

لب بھینچے وہ ماوی کی پشت دیکھتا۔۔۔ آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔

اور پھر وہ قریب جا کے رکا تھا ۔۔

” ماوی ۔۔۔ “

بند آنکھیں کھول کے ۔۔۔ اس نے اپنا نام سنا تھا ۔۔ وہ جانتی تھی کون ہے؟؟ تبھی بنا مڑے وہ بیٹھی رہی ۔۔۔

” ماوی ۔۔ “

اب کے آواز بھرائی ہوئی تھی۔۔۔

سجن لاج عشق دی

رکھ لیندے ۔۔

نا اوندی جدائی

نا غم پیندے ۔۔۔

سچے لگدی سی

چوٹھے نین تیرے۔۔۔

اینے زخم

سہ کیوے سیندے ۔۔۔

اور پھر وہ گھٹنوں کے بل ۔۔ ماوی کے پیچھے ہی گرا تھا ۔۔۔ وہ رو رہا تھا ۔۔۔ ہچکیاں لیتا رو رہا تھا۔۔۔

” ماوی ۔۔۔۔ ماوی ۔۔۔ “

اس کے وجود میں پھر بھی کوئی حرکت نہ ہوئی ۔۔۔

” مت کرو ایسے ۔۔۔ میں نہیں سہہ رہا ماوی ۔۔۔ میں نہیں سہہ پا رہا ۔۔۔ تمہاری خاموشی موت ہے میرے لئے ۔۔۔ مت کرو ایسے پلیز ۔۔۔ پلیز “

وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔

” بہت درد ہے ماوی ۔۔۔ میرے وجود میں بہت درد ہے ۔۔۔ بہت غم ہیں۔۔ “

وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔ ماوی بھی بےاواز آنسو بہا رہی تھی۔۔۔

” میں اپنے نصیب کا قاتل ہوں ماوی ۔۔۔ میں تمہارا قاتل ہوں۔۔۔ مت کرو ایسے پلیز مت کرو ۔۔۔ بہت درد ہے یار ۔۔۔ بہت درد میں ہوں۔۔ “

وہ بنا ابرام کو دیکھے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ ابرام۔اسے ہی بھیگی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اور پھر وہ جا رہی تھی۔۔۔

” ماوی ۔۔۔ “

وہ تقریبا چلایا تھا ۔۔۔ عجیب کرب تھا اس کے چلانے میں۔۔ ماوی کے اٹھتے قدم رکے تھے ۔۔۔

وہ اب ابرام کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ آنکھیں بےتاثر اور سپاٹ تھی۔۔۔ جبکہ ابرام کی آنکھوں میں التجا تھی۔۔۔ فریاد تھی۔۔۔

” ماوی ۔۔۔ میں جھک گیا ماوی ۔۔۔ تم مجھے جھکانا چاہتی تھی دیکھو میں جھک گیا ۔۔ “

وہ کہتا اسے کے قدموں میں گرا تھا ۔۔۔

” تمہارے قدموں کی دھول بن گیا۔۔۔ میں جھک گیا ماوی ۔۔۔ “

جبکہ ماوی دھندلائی آنکھوں سے ۔۔ اپنے سامنے جھکے ابرام کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

” میں بکھر گیا ہوں۔۔۔ تنہا ۔۔۔ اکیلا۔۔ خالی کشکول لیے تمہارے سامنے جھک چکا ہوں۔۔۔ بھر دو میری جھولی ۔۔۔ پلیز “

” میرا بیٹا مر گیا ابرام ۔۔۔ میرا بیٹا مر گیا ۔۔۔”

ٹوٹے الفاظ اس کی زبان سے ادا ہوئے تھے ۔۔۔ وہ رو رہی تھی۔۔۔

” تم جو آج خالی کشکول ہو ۔۔۔ اپنی وجہ سے ہو ابرام ۔۔۔ اپنی وجہ سے تم تنہا رہ گئے ہو ۔۔۔۔ اور میں۔۔۔۔ میں ۔۔ میرا بیٹا نہیں رہا۔۔۔ میں مر چکی ہوں۔۔۔ میں مر گئی ہوں۔۔۔ میرا بیٹا مر گیا ہے ۔۔ “

لمبی ہچکی لیتی ۔۔۔ وہ ہکلائی تھی۔۔۔ جیسے سینے کا سارا غم اس ایک جملے میں۔۔۔ نکالنا چاہ رہی ہو وہ ۔۔۔

” بیٹا تو میرا بھی مرا ہے ۔۔۔ تم اگر ماں تھی تو میں باپ تھا ماوی ۔۔۔ تم اگر ماں نہیں رہی تو میں بھی تو باپ نہیں رہا۔۔۔ “

وہ روتے ہوئے۔۔۔ اس مٹی کے ڈھیر کو دیکھنے لگا۔۔۔

“ی۔۔۔ یہاں۔۔۔ یہاں۔۔۔ ا۔۔۔ اپنے ہ۔۔۔ ہاتھوں سے ۔۔۔ اپنے بچے کو سلایا میں نے ۔۔ سفید چادر میں لپیٹ کے ۔۔۔ م۔۔۔ میں نے سلایا ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ ماوی پھر پتہ کیا ہوا ۔۔۔ وہ ایسے سویا کہ میں پکارتا رہا۔۔۔ علی اٹھو بیٹا ۔۔۔

Dad’s prince wake up …

اور وہ اٹھا ہی نہیں۔۔۔ یہاں۔۔۔ یہاں۔۔۔ “

وہ اپنے ہاتھوں سے ۔۔۔ ارد گرد کی مٹی کو چھونے لگا ۔۔۔

” یہاں لگا تھا مجھے ۔۔۔ میرا وجود اس مٹی کے ساتھ خاک ہوتا گیا ۔۔ میں خاک ہو گیا ماوی ۔۔۔ “

” بس کردو پلیز بس کردو ۔۔۔ مجھے نہیں سننا ۔۔۔ مجھ میں ہمت نہیں سننے کی ۔۔ بس کردو ۔۔۔ “

ماوی روتے ہوئے ہچکیوں کے بیچ بولی تھی۔۔

” مجھ میں اور سکت نہیں۔۔۔ میں نے نہیں سننی ۔۔۔ بس ۔۔۔ بس ۔۔۔ بس “

وہ چیخ پڑی تھی۔۔۔ اسے جیسے پھر سے دورہ پڑا تھا ۔۔۔

گہرے سانس لیتی ۔۔ وہ وہیں گری تھی۔۔۔

” ماوی ۔۔۔”

ابرام نے اس کے قریب آنا چاہا جبکہ ماوی نے ہاتھ اٹھا کے ۔۔ اسے قریب آنے سے روکا تھا۔۔۔

” بس کردو ابرام ۔۔ بس کردو ۔۔۔ “

تھکے تھکے انداز میں کہتی ۔۔ وہ اپنی سانس بحال کرنے لگی ۔۔ ابرام خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

جس کا دوپٹہ سر سے ڈھلک چکا تھا ۔۔ اس کے چھوٹے بال ۔۔ اس کے چہرے کے اطراف کو ڈھکنے لگا تھا ۔۔۔

جبکہ ماوی اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔۔

“ان ۔۔۔ ان ہاتھوں میں لے کے۔۔۔ اسے بچایا تھا ۔۔۔ سب سے بچایا تھا ۔۔۔ ایسے ۔۔۔ سینے سے لگایا تھا ۔۔۔ “

اپنے دونوں ہاتھ۔۔ اپنے سینے پہ رکھ کے کہہ رہی تھی ۔۔

” اسے اپنی سانسیں دی تھی میں نے ۔۔۔۔ اپنی ممتا کی گرمائش میں اسے اپنا بیٹا کہا تھا میں نے ۔۔۔ اپنے آغوش کی حرارت سے ۔۔ اسے پروان چڑھایا تھا ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔ پھر وہ ان ہاتھوں سے پھسلتا چلا گیا ۔۔۔ وہاں۔۔۔۔ وہاں۔۔۔ “

آج وہ اپنے دکھ بیان کر رہی تھی ابرام کے سامنے۔۔۔ وہ رو پڑا تھا۔۔۔

” تم کیوں آئے ابرام ؟؟ کیوں آئے وہاں؟؟ کوئی ملے علی سے ؟؟ تم نہ ملتے اس سے ۔۔۔ نہ آتے وہاں ۔۔ تو آج زندہ ہوتا میرا علی ۔۔

وہ چیخی تھی ۔۔۔

” سب ختم کر دیا تم نے ۔۔۔ سب ختم کر دیا۔۔۔ “

اپنی مٹھیوں میں مٹی بھر بھر کے ۔۔ وہ ابرام پہ پھینکنے لگی ۔۔۔

” میرے زخموں سے خون رسنے لگا ہے ۔۔ ناسور بنتے جا رہے ہیں۔۔ دل سے غم نہیں جا رہا۔۔۔ کاش تم نہ آتے وہاں۔۔۔ تم کیوں آئے۔۔۔ میرا علی چلا گیا ۔۔۔ بھیڑیے کھا گئے اسے۔۔۔ “

وہ رو رہی تھی۔۔ جبکہ ابرام اسے دیکھ دیکھ کے رو رہا تھا۔۔۔

آج اس قبرستان میں۔۔۔ اپنے بیٹے کے سرہانے ایک ماں رو رہی تھی۔۔ ایک باپ رو رہا تھا۔۔ اس فضا میں عجیب سوگواریت تھی آج۔۔

وہ ماں باپ رو رہے تھے ۔۔۔ اپنے بچے کے لئے ۔۔۔ !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *