Mawi by Malaika Rafi NovelR50587 Mawi (Episode 15)
Rate this Novel
Mawi (Episode 15)
Mawi by Malaika Rafi
” علی تمہارے روم میں سوئے گا آج۔۔ “
رات کے بارہ بج رہے تھے۔۔۔ گھر میں داخل ہوتے ہی ۔۔۔ ابرام کے نئے حکم پہ ۔۔ماوی نے اسے تیوری چڑھا کے دیکھا۔۔۔
” شوق اتر گیا بیٹے کو اپنے پاس سلانے کا۔۔ “
” تمہارا بھی بیٹا ہے ۔۔۔ تمہارا پروٹیکٹر ۔۔۔ تمہارے پاس ہی سوئے گا ۔۔۔ “
سوئے ہوئے علی کو گود میں اٹھائے ۔۔۔ وہ بولتا ہوا ماوی کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ ماوی نے آنکھیں گھما کے ۔۔۔ اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔ لیکن وحشت زدہ انداز میں وہ ٹھٹھک کے رک چکی تھی۔۔۔۔
پورے وجود پہ جیسے قیامت سی طاری ہوئی تھی۔۔۔ اسی کے بیڈ پہ ۔۔۔ اس کا اپنا شوہر بےلباس ۔۔۔ غیر عورت کو اپنی بانہوں میں لیے سو رہا ہے ۔۔۔
اس کی وفاؤں کا خون ہوا تھا آج اس کے بستر ۔۔۔ اس کی غیر موجودگی میں۔۔۔
اپنے ڈوبتے دل پہ ہاتھ رکھے۔۔۔ وہ دو قدم پیچھے ہو کے ۔۔۔۔ دیوار سے لگی تھی۔۔۔ آنکھوں میں وحشت ٹپک رہی تھی۔۔۔۔ اپنے وجود کی لرزش پہ قابو پانا بےحد مشکل امر لگ رہا تھا۔۔۔
” تمہیں کیا ہوا ہے ماوی ۔۔۔ میں علی کو ۔۔۔۔۔ “
لیکن دروازے سے اندر جاتے ہی اسے اپنے قدم روکنے پڑے۔۔۔ غزل اور احرم انتہائی نازیبا انداز میں۔۔۔ بےلباس ایکدوسرے کی بانہوں میں سو رہے تھے ۔۔۔
زلزلہ یہی تو ہوتا ہے ۔۔۔
قیامت شاید یہی ہوتی ہے ۔۔۔
وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔ اس کی ساکت نظریں ماوی پہ تھی۔۔۔۔
جو اپنے دل پہ ہاتھ رکھے کانپ رہی تھی۔۔۔ آنکھوں میں پل بھر میں۔۔۔ ویرانیاں سی جمع ہو گئی تھی۔۔۔۔
“ماوی ۔۔۔۔ “
آہستگی سے اس کا نام لیا تھا۔۔۔ لیکن وہ منہ پہ ہاتھ رکھے ۔۔۔ نفی میں سر ہلاتی وہ قدم قدم پیچھے جانے لگی ۔۔۔
جبکہ ابرام لب بھینچے ۔۔ علی کو گود میں اٹھائے۔۔۔ اسے دور جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے اپنا وجود ۔۔۔ اپنا آپ۔۔۔ سن ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔












ماوی چلی گئی تھی۔۔۔
وہ کہیں نہیں تھی۔۔۔ ابرام جہاں تک اسے ڈھونڈ سکتا تھا ۔۔۔ گاڑی لے کے وہ ڈھونڈنے نکلا۔۔۔ لیکن اس روڈ پہ کافی دور تک جا کے بھی ۔۔۔ اسے ماوی کہیں نہیں ملی ۔۔۔
لب بھینچے وہ یونہی روڈ پہ کھڑا۔۔۔ خالی نظروں سے ۔۔۔اپنے ارد گرد چلتی پھرتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اور احرم ؟؟
ہوش میں آتے ہی ۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔ وہ کیا کچھ کر بیٹھا تھا ۔۔۔ اس خیال ۔۔۔ اس سوچ نے ۔۔۔ اس کے وجود میں بےچینی اور اضطراب پھیلایا تھا۔۔۔
وہ رونا چاہتا تھا ۔۔۔ رو نہیں پا رہا تھا۔۔۔
وہ چلانا چاہتا تھا ۔۔۔ چلا نہیں پا رہا تھا۔۔۔
وہ وقت کو پھر سے پیچھے لے جانا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن وقت تو ریت کی مانند ہے۔۔۔ جو ہاتھ سے پھسلتا ہی جاتا ہے ۔۔۔ اور پھر اس ریت کو مٹھی میں بھر لینے سے بھی ۔۔۔ کچھ حاصل میں ہوتا ۔۔۔
ماوی کو بدکردار کہنے والا ۔۔۔ آج خود بدکرداری کر بیٹھا تھا۔۔۔
غزل ۔۔۔ اسے کون سا فرق پڑنا تھا۔۔۔ وہ اپنے من پسند شخص کی بانہوں میں۔۔۔ اس کے بیڈ پہ ۔۔ اپنی ہوس کی آگ بجھا چکی تھی۔۔۔
ہوش کا پجاری صرف مرد نہیں ہوتا۔۔ عورت بھی ہوتی ہے ۔۔ بےلگام نفس کا غلام صرف مرد نہیں۔۔۔ عورت بھی ہوتی ہے ۔۔۔ جو اپنی نفس کی خواہش کے آگے۔۔۔ پوری فیملی برباد کر دیتی ہے ۔ ۔
قصور کس کا ہوتا ہے ؟؟
مرد کا ؟؟ عورت کا ؟؟ یا شاید دونوں کا ۔۔۔










گاڑی نارمل اسپیڈ پہ چل رہی تھی۔۔۔ پھر بھی شائستہ علی خان۔۔۔ بار بار اپنے بیٹے سے آہستہ چلانے کو کہہ رہی تھی۔۔۔
“اوہ کم آن مام۔۔ اس سے آہستہ چلاوں تو شاید صبح ہی اس روڈ سے نکل پائے ہم ۔۔ “
محمد طلال نے مسکراتے ہوئے اپنی ماں سے کہا ۔۔
” بیٹا ہزار بار کہا ہے ۔۔ رات کے وقت سفر نہ ہی کریں تو بہتر ہے ۔۔ “
شائستہ کے لہجے اور چہرے پہ پریشانی کی جھلک نمایاں تھی۔۔۔
” جی بلکل ۔۔ لیکن آپ کی پشاور والی بہن اگر ہمیں جلدی آنے دیتی ۔۔۔ تو ہم آدھی رات کو بیڈ پہ سو رہے ہوتے ۔۔۔ “
شائستہ نے شاکی نظروں سے ۔۔ اپنے بیٹے کو دیکھا۔۔۔
” تمہاری خالہ ہے۔۔ “
لیکن طلال کا پورا دھیان روڈ پہ تھا۔۔۔ جہاں بیچ و بیچ ایک لڑکی کھڑی تھی۔۔۔
” یہ دیکھئے چڑیل سے بھی سامنا ہونے والا ہے ہمارا ۔۔۔ “
طلال کے کہنے پہ ۔۔ شائستہ نے سامنے دیکھا۔۔۔ تو ایک لڑکی اسے روڈ پہ کھڑی نظر ائی۔۔۔
” طلال گاڑی روکو ۔۔ “
اسٹئیرنگ پہ رکھے طلال کے ہاتھ پہ ۔۔۔ انھوں نے اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
” کم آن مام ۔۔ وہ چڑیل ہے ۔۔ ہم دونوں کو کھا جائے گی ۔۔ “
طلال کے لہجے میں بیزاری تھی۔۔۔
” گاڑی رو کو طلال۔۔۔ لائیر بننے کے بعد انسانیت ہی ختم ہو چکی ہے تم میں تو ۔۔۔ “
شائستہ نے ناراضگی اقوام غصے سے کہا ۔۔۔
” بلکل غلط ۔۔اپنی بیوی اور بیٹی کو کھونے کے بعد ۔۔۔ “
طلال کا لہجہ بھاری اور بوجھل سا تھا ۔۔۔ گاڑی جھٹکے سے روک کے ۔۔ وہ نیچے اترا تھا ۔۔۔
” او ہیلو میم۔۔۔ ایکسکیوز می ۔۔۔ انسان ہی ہو “
وہ قریب آتے کہہ رہا تھا۔۔ جبکہ ماوی ویران آنکھوں سے ۔۔۔ اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
” کار کیوں روکی آپ نے ؟؟؟ مجھے مار کے گزر جاتے۔۔ “
” میں آپ کی یہ خواہش پوری کرنے والا ہی تھا۔۔۔ بٹ میری مام نے insist …
کیا۔۔۔ کہ میں کار روک دوں۔۔۔اب آپ سامنے سے ہٹو گی پلیز۔۔ مجھے گھر بھی جانا ہے۔۔۔ “
وہ بیزاری سے کہتا ۔۔۔ اپنی کنپٹی سہلانے لگا ۔۔۔ سیاہ آنکھوں پہ۔۔۔ گلاسز رکھے۔۔۔ہلکی بیرڈ کے ساتھ۔۔۔ بلیک پینٹ اور سفید ٹی شرٹ میں ملبوس ۔۔۔ وہ کسرتی بدن والا مرد ۔۔۔ خوبصورت اور بدتمیز سا تھا۔۔۔جس کے چہرے پہ بیزاری صاف لکھی ہوئی تھی ۔۔۔
کہ محترمہ کہیں اور جا کے مرے ۔۔۔
” ارے ماوی ۔۔ “
اچانک شائستہ کی اواز پہ دونوں چونک کے دائیں طرف دیکھنے لگے۔۔۔ جہاں وہ گاڑی سے اتر کے انھیں ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
” آپ مجھے جانتی ہے؟؟”
ماوی حیرت سے انھیں دیکھتی ۔۔۔ دھیمی آواز میں پوچھنے لگی۔۔۔ جبکہ شائستہ مسکراتی اس کے قریب آئی تھی ۔۔۔
” لگتا ہے تم مجھے بھول ہی گئی ہو ؟؟ “
ماوی خاموش ہی رہی ۔۔۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو بیٹا؟؟”
شائستہ پھر سے پوچھنے لگی ۔۔
” مرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
ماوی کا لہجہ بےتاثر تھا۔۔ جبکہ شائستہ کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔۔۔
” چلو میرے ساتھ بیٹا۔۔۔ “
شائستہ نے اس کا ہاتھ تھاما ہی تھا ۔۔۔ جب وہ اچانک سے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھے ۔۔۔گہرے گہرے سانس لینے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ لیکن بےسود!!
اسکی سانسیں اکڑ رہی تھی۔۔۔ آنکھیں جیسے باہر کو آرہی تھی ۔۔۔
” ماوی ۔۔۔ کیا ہو رہاہے تمہیں۔۔ ماوی ؟؟”
جبکہ وہ نیچے گری تھی۔۔۔پاس کھڑا طلال پینٹ پاکٹس میں ہاتھ ڈالے ۔۔۔ بیزار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اور کھبی کھبی عجیب نظروں سے اپنی ماں کو دیکھتا۔۔۔
شائستہ نے غصے سے اپنے بےحس بیٹے کو دیکھا تھا ۔۔۔ جو مشہور وکیل بننے کے بعد سے۔۔۔ ایک بےحس انسان بن چکا تھا ۔۔۔
” طلال۔۔۔ کیا کر رہے ہو ۔۔۔ ہیلپ کرو ماوی کو ہاسپٹل لے جانے میں۔۔ “
” محترمہ ویسے بھی مرنا ہی چاہتی تھی ۔۔۔ تو مرنے دیں اسے یہیں۔۔۔ “
وہ اب بھی بےتاثر انداز میں بات کر رہا تھا۔۔۔
” شٹ اپ طلال۔۔۔ “
شائستہ کے غصے کو دیکھتے۔۔۔ وہ چپ چاپ مزید بنا کچھ کہے ۔۔ ماوی کے بیہوش وجود کو ۔۔۔ بازوؤں میں اٹھا کے گاڑی میں لے آیا۔۔
” ارام سے طلال ۔۔ “
شائستہ نرمی سے بولی۔۔۔
” وہی کر رہا ہوں مام ۔۔۔ آپ کی ماوی کو نرمی سے لٹا رہا ہوں۔۔۔ خوش؟؟”
شائستہ تاسف بھری نگاہ اپنے بیٹے پہ ڈالی تھی ۔۔۔ اس کے بےحس ۔۔ بےلحاظ ہونے پہ ۔۔۔انہیں اکثر غصہ آتا لیکن خاموش ہی رہی فی الحال ۔۔۔ کہ ان کا ذہن ابھی ماوی کے اس اقدام میں الجھا ہوا تھا ۔۔۔ وہ مرنا کیوں چاہتی تھی ۔۔۔












دھاڑ سے دروازہ کھول کے۔۔۔ وہ سیدھا احرم کے کمرے میں آتا۔۔۔ اسے کالر سے پکڑ کے اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔۔۔
اس کی آنکھیں بےحد سرخ ہو رہی تھی۔۔۔ کنپٹی اور گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھی۔۔۔۔
” تم سے یہ امید نہیں رہی تھی مجھے ۔۔۔ اپنے نفس کے اتنے غلام بن جاؤ گیں۔۔۔ کہ اپنی بیوی کی وفا کو ۔۔۔ یوں دوسری عورت کے ساتھ۔۔۔ اس بیڈ پہ رونڈو گیں۔۔۔ صرف کچھ لمحوں کی تسکین کے لئے ۔۔ “
” چھوڑو مجھے ابرام۔۔۔ جسٹ لیو می ۔۔۔۔ “
احرم بنا لحاظ کے چلایا تھا۔۔۔
” میری بیوی کو اپنے بیڈ پہ لے جاتے ۔۔ یہ خیال کیوں نہیں آیا تھا تمہیں۔۔۔ جو اب مجھے یہ بکواس کرنے آئے ہو ۔۔ “
ابرام نے لب بھینچے اسے تھپڑ مارا تھا۔۔
” اپنی حد بھول رہے ہو شاید تم ۔۔۔ سوچ رہے ہوگیں مجھے کیسے پتہ چلا کہ میرے اندھے پن کا فائدہ اٹھا کے ۔۔۔ کیا گند پھیلا رہے ہو دونوں۔۔ “
احرم چلاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔ جبکہ ابرام نے اسے پیچھے دھکا دے کے ۔۔۔ اسے خاموش کرایا تھا۔۔۔
” ایک لفظ نہیں احرم ۔۔۔ ماوی کی پاکدامنی پہ ایک اور لفظ بھی کہا تو زندہ گاڑ دوں گا تمہیں۔۔۔ “
” تو گاڑ دیں زندہ ۔۔۔ مر تو چکا ہوں میں۔۔۔ اپنی ہی بیوی کو اپنے بھائی کے ساتھ ۔۔۔۔ “
احرم چلاتے ہوئے۔۔۔ پھر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ جب ابرام نے اس کا منہ ۔۔۔ اپنے ہاتھ میں دبوچ لیا۔۔۔
” بس ۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔ ماوی میری بیوی اور میرے بیٹے کی ماں ہے ۔۔ “
وہ شدت سے غرایا تھا۔۔۔
” جس عورت کی پاکدامنی پہ شک کر رہے ہو ۔۔۔ وہ عورت میری بیوی تھی ۔۔۔ اور جانتے ہو تمہارے قریب ماوی کو دیکھ کے ۔۔ مجھے جلن ہوتی ہے ۔۔۔ کیونکہ اس کے وجود پہ میں تمہارا سایہ بھی نہیں برداشت کر سکتا۔۔۔۔ لیکن خاموش رہا کیونکہ تم میرے بھائی ہو ۔۔۔ تمہاری عزت کا خیال تھا مجھے ۔۔۔ اور تم نے کیا کیا ؟؟؟ اپنی عزت بیچ دی تم نے ۔۔ اس دو ٹکے کی لڑکی کے ساتھ۔۔۔ ماوی کو نیچا دکھانے کے لئے ۔۔۔ تم زانی بن گئے ۔۔۔ “
” اوہ تو بیوی کی محبت جاگ رہی ہے دل میں۔۔۔ ڈونٹ ووری میں یوں کرتا ہوں۔۔۔ اسے طلاق دے دیتا ہوں۔۔۔ اتنا تو کر سکتا ہوں اپنے بھائی کے لئے ۔۔ “
احرم کے لہجے میں نفرت تھی ۔۔۔ ابرام نے غصے سے اسے صوفے پہ دھکیلا تھا۔۔۔
” ایسی کوئی بھی گندی حرکت کی ۔۔۔ تو یاد رکھنا احرم ۔۔ تمہیں زندہ گاڑنے سے میں نہیں ہچکچاوں گا ۔۔۔ “
احرم بےوجہ ہنسنے لگا۔۔۔
” لوٹ لیا ہے تم نے مجھے ابرام۔۔۔ مار دیا ہے تم نے مجھے۔۔۔۔ اپنے ہی بھائی کو مار دیا ہے تم نے ۔۔۔ کس کرب سے گزر رہا ہوں۔۔۔ کس اذیت کا شکار ہوں۔۔۔ سب تمہاری وجہ سے یے ۔۔۔ “
احرم کے لہجے میں درد ۔۔۔ شکایت ۔۔۔ غصہ تھا ۔۔۔
” ان سب کی وجہ تم خود ہو احرم ۔۔۔ تم ہو ۔۔۔ اپنے ہی منفی سوچوں میں الجھ کے۔۔۔ تم نے اپنی زندگی بھی برباد کر دی اور ماوی کی بھی ۔۔ شیم آن یو۔۔ “
ابرام اسے تاسف بھری نظروں سے دیکھتا آگے بڑھا تھا کہ یہاں بحث کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔
” تو ؟؟؟ ماوی کے پہلے شوہر ہونے کے ناطے تم نے کیا کیا ابرام شاہ؟؟؟ اسے بدکردار کا لیبل تو سب سے پہلے تم نے ہی لگایا تھا ۔۔۔ اسے بدکردار کہنے والے تو تم ہو ۔۔۔ لوگوں کی باتوں پہ یقین کر کے ۔۔۔۔ اپنی ہی بیوی کو طلاق دے دیا ۔۔۔اسے بیچ راستے میں چھوڑ کے پیچھے ہٹ گئے ۔۔ اور اب ہر گزرتے دن کے ساتھ ۔۔۔ تمہارے دل میں پھر سے اس کی محبت جاگ رہی ہے ۔۔۔ یہ جانتے ہوئے کہ ماوی میری بیوی ہے۔۔۔ اسے اپنے قریب ۔۔۔۔ “
احرم کے لہجے میں کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔۔۔ کوئی شرمندگی نہیں تھی۔۔۔
” شٹ اپ ۔۔ “
ابرام نے اس کی بات کاٹ تھی ۔۔۔
” انف ۔۔۔ جو بھی تھا میں زانی نہیں تھا ۔۔۔ بدقسمت تھا میں جو ماوی کو کھو دیا ۔۔۔ لیکن بدبخت ہو تم ۔۔۔ جو تم ماوی کو کھو چکے ہو احرم ۔۔ اپنی خودغرضی ۔۔۔ انا ۔۔۔ اور بدگمانی کی آگ میں جھلستی ہوئے تم نے ماوی کو کھو دیا ۔۔۔ سیاہ بخت انسان ۔۔ “
ابرام لفظ لفظ پہ زور دیتا غرایا تھا۔۔۔جبکہ احرم ہنسنے لگا ۔۔
” سیاہ بخت ؟؟؟ دو سیاہ بخت بھائی ۔۔ کھبی ایک ہی عورت کی محبت میں ڈوبے تو کھبی اسی عورت کو نیچا دکھانے کی خواہش میں ڈوب گئے۔۔۔ دو سیاہ بخت بھائی۔۔۔ “
وہ ہنسے جا رہا تھا ۔۔۔ ابرام لب بھینچے کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر سر جھٹک کے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔ دھاڑ سے دروازہ بند ہوا تھا۔۔۔
ہنستے ہنستے احرم نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔ وہ اب دھاڑیں مار مار کے رو رہا تھا ۔۔۔ ۔
” یہ کیا ہو گیا ۔۔ یہ کیا کر دیا میں نے ۔۔۔ کیسے بہکا میں؟؟کیسے ؟؟؟ میں زانی ہوں۔۔۔ میں زانی ہوں ۔۔۔ “
وہ رو رہا تھا۔۔ لیکن اسے سننے والا صرف ۔۔ اس کمرے کے درودیوار ہی تھے ۔۔۔ کوئی ذی روح نہیں تھا جو اس کے درد اور پچھتاوے کو سنتا۔۔








شاپنگ مال سے نکل کے ۔۔۔ غزل تیز تیز قدم اٹھاتی روڈ کی طرف جا رہی تھی۔۔۔
گرمی سے بچنے کے لئے ۔۔ وہ جلد سے جلد کسی ٹیکسی میں بیٹھنا چاہتی تھی۔۔۔ جب اچانک ایک گاڑی اس کے سامنے آ رکی تھی۔۔۔
ابھی وہ سنبھلتی ۔۔۔ جب گاڑی سے نکلتے شخص کو دیکھ کے ۔۔۔ اس کی انکھوں میں حیرت در آئی تھی ۔۔۔
جبکہ عاشر مسکراتا۔۔۔ اس کے قریب آیا تھا ۔۔
” ہیلو جان من ۔۔۔ “
انداز کچھ زیادہ ہی لوفرانہ تھا۔۔۔ جبکہ غزل تیز نظروں سے اسے ہی گھور رہی تھی۔۔
” تم یہاں کیوں آئے ہو ؟؟”
” اپنی ایکس گرل فرینڈ کو آج بہت مس کر رہا تھا میں۔۔۔ سوچا مل ہی آؤں ۔۔ “
غزل کا ہاتھ پکڑ کے ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
” ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔ “
غزل اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی غرائی تھی۔۔۔ جبکہ عاشر کی گرفت ۔۔۔ اس کے ہاتھ پہ مزید سخت ہوئی تھی۔۔ ۔
” ایسے کیسے ؟؟ چلو تمہارے لئے ایک سرپرائز ہے ۔۔ “
” کیسا سرپرائز ۔۔۔ ؟ مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔۔۔ چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔ ورنہ میں چلاوں گی ۔۔”
غزل ادھر ادھر دیکھتی کہنے لگی ۔۔۔
” مجھے تمہاری آہیں سننی ہے ۔۔۔ “
اسکے کان میں سرگوشی کرتا ۔۔۔ عاشر اب ذومعنی انداز میں مسکرا رہا تھا۔۔۔
اور اس سے پہلے غزل منہ کھول کے چلاتی۔۔۔ عاشر نے اس کے منہ پہ اپنا ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔
ساتھ ہی گاڑی کے پچھلی سائیڈ کا دروازہ کھلا اور وہاں موجود شخص نے غزل کو کھینچ کے ۔۔۔ گاڑی میں پھینکا تھا۔۔۔۔
دروازہ بند ہوا ۔۔۔ عاشر ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھ چکا تھا۔۔۔ جبکہ پیچھے بیٹھے دو آدمی۔۔۔ غزل کے منہ اپنا ہاتھ رکھ چکے تھے جبکہ دوسرے نے اس کے ہاتھ پاؤں پکڑے ہوئے تھے۔۔۔
غزل کمزور سی کوشش کرتی رہی لیکن ان دونوں کی گرفت مضبوط تھی۔۔۔۔
اور پھر گاڑی جھٹکے سے۔۔۔ ایک سنسان سڑک پہ رکی تھی۔۔۔ اور تینوں نے معنی خیز نظروں سے غزل کو دیکھا تھا۔۔۔ جبکہ غزل ان کی نظریں پڑھتی۔۔۔ خود میں سمٹنے لگی۔۔۔۔











شائستہ غمزدہ نظروں سے ماوی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ان کی اپنی کہانی ان کی آنکھوں کے سامنے گزر رہی ہو ۔۔۔
جب اپنے ہی شوہر کو ۔۔ اپنی ہی بہن کے ساتھ۔۔۔ بےباک انداز میں۔۔۔ ایکدوسرے کے قریب دیکھا تھا انہوں نے ۔۔۔ اور تب وہ لڑکھڑائی تھی ۔۔۔ اور پھر سنبھلی تھی۔۔۔ اور اپنے بیٹے کو لے کے ۔۔۔ بنا کچھ کہے ان سب سے دور یہاں اسلام آباد آئی تھی۔۔۔
انہوں نے دھیرے سے ماوی کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
” تم ویک نہیں ہو ماوی ۔۔۔ یو آڑ اسٹرونگ ۔۔۔ اور تم نے دنیا کو بتانا ہے ۔۔۔ اس شخص کو بتانا ہے کہ تم اسٹرونگ ہو تمہیں کوئی نہیں کمزور کر سکتا ۔۔ مجھے تو حیرت اس بات پہ ہے کہ ماوی جیسے مضبوط لڑکی۔۔۔ خودکشی جیسا فعل کیسے انجام دے سکتی ہے۔۔۔ “
ماوی اداس آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگی ۔۔
” اپنے بیٹے کا بھی نہیں سوچا ؟؟ جس کے لئے تم اپنی جان پہ کھیل گئی تھی ۔۔ یاد ہے ؟؟”
شائستہ کے مہربان انداز پہ وہ پھر سے رونے لگی ۔۔
” میں نہیں چھوڑ سکتی اپنے بیٹے کو وہاں۔۔ ان دونوں انسانوں پہ مجھے اعتبار نہیں ہے ۔۔ مجھے اپنے بیٹے کو لینے جانا ہے ۔۔ “
” بلکل میرے بچے ۔۔۔ اپنے بیٹے کو یہاں لے کے آو ۔۔ میرا بیٹا طلال ایک قابل وکیل ہے ۔۔۔ وہ تمہاری مدد کرے گا ۔۔۔ بدمزاج ضرور ہے میرا بیٹا۔۔۔ مگر دل کا بہت اچھا ہے ۔۔۔ تمہیں انصاف دلانے میں میں اور طلال تمہارے ساتھ ہیں۔۔ “
ماوی اثبات میں سر ہلاتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
” مجھے علی کو لینے جانا ہے ۔۔۔ “
” رکو میں ڈرائیور سے کہتی ہوں۔۔ تمہارے ساتھ جائے ۔۔۔ “
شائستہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور پھر ماوی کے ساتھ باہر قدم بڑھا دیے ۔۔










” انس ۔۔۔ انس”
اپنے بیٹے کو پولیس کے ساتھ آتے دیکھ کے ۔۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی تھی۔۔۔ اپنے بیٹے کے بکھرے حلیے کو بھیگی آنکھوں سے دیکھتی۔۔۔ اسے اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔
” کہاں چلے گئے تھے بیٹا۔۔ اپنی ماں کو چھوڑ کے کہاں گئے تھے ۔۔۔ “
” تم مجھ کو مارے گی ؟؟”
وہ ڈرتے ڈرتے پوچھنے لگا ۔۔ جبکہ سمیرا نے اسے خود سے الگ کر کے ۔۔ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” میں اپنے بیٹے کو کیوں ماروں گی ؟؟ تم کہاں تھے میری جان۔۔۔کہاں تھے تم ۔۔ اپنی مما کو بنا بتائے تم کہاں گئے تھے میرے بچے ؟؟”
جبکہ انس لب بھینچے انھیں دیکھ رہا تھا ۔۔ جب انعام نے اپنی بیگم کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
” گھر چل کے بات کرتے ہیں۔۔ “
” میں گھر نہیں جائے گا۔۔ میں اسکول نہیں جائے گا ۔۔ سب مجھ پہ ہنستے ہیں۔۔ میں بدصورت ہے ۔۔ میرا کان بدصورت ہے ۔۔۔ میں نہیں جائے گا ۔۔ میں کہیں نہیں جائے گا ۔۔ “
وہ ڈرتے ڈرتے کہہ رہا تھا جب انعام نے اسے بانہوں میں بھرا تھا ۔۔۔
” ہششش بس ۔۔ آپ کہیں نہیں جائے گیں۔۔۔ آپ کی مرضی سے ہوگا سب ۔۔۔ بس اب ریلیکس رہے آپ۔۔۔ ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔ اور وہاں سے ہم کہیں نہیں جائے گیں۔۔۔ جب تک آپ نہیں چاہے گیں۔۔۔ “
” سچ کہتا تم ؟؟”
وہ سوالیہ نظروں سے انعام کو دیکھنے لگا جب وہ مسکرا دیے تھے ۔۔
” بلکل ۔۔۔ وعدہ ہے میرا اپنے بیٹے سے ۔۔ “
اسے خود سے لگا کے ۔۔ وہ اب پولیس آفیسر کو دیکھ رہے تھے۔۔
” تھینک یو سو مچ آفیسر صاحب۔۔۔ “
” اٹس مائی ڈیوٹی ڈاکٹر صاحب۔۔۔چلتے ہیں اللہ حافظ “
” اللہ حافظ ۔۔ “
انس کو لے کے ۔۔ وہ دونوں اپنی گاڑی کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔ جبکہ انس اپنی سوچوں میں گم ان کے ساتھ آگے بڑھا تھا۔۔۔
