Mawi by Malaika Rafi NovelR50587 Mawi (Episode 17)
Rate this Novel
Mawi (Episode 17)
Mawi by Malaika Rafi
رات کے دس بج رہے تھے۔۔ جب وہ لان میں آیا۔۔۔ ماوی اسے لان کے ایک کونے میں۔۔۔ گم صم بیٹھی نظر ائی تھی ۔۔۔
گہرا سانس لے کے ۔۔ چھوٹے قدم اٹھاتا وہ ماوی کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ کچھ دیر اس کی پشت دیکھتا رہا ۔۔۔
” مجھے آپ کے بارے میں جاننا ہے ماوی “
ماوی مڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
” کیا جاننا ہے آپ کو ؟؟ میرے بیٹے کو ابرام لے گیا ہے مجھ سے دور ۔۔۔ میں بار بار کال کر رہی لیکن کال نہیں جا رہی اس کے نمبر پہ ۔۔۔ اور میں نیم پاگل سی ہو کے۔۔۔ یہاں بیٹھی ایک بار پھر یقین کے ٹوٹنے کا تماشا دیکھ رہی ہوں۔۔۔ “
طلال لب بھینچے اسے دیکھنے لگا۔۔ جبکہ ماوی پھر سے رخ موڑ کے ۔۔۔ اسی پوزیشن میں بیٹھ گئی ۔۔۔
” آپ انصاف نہیں چاہتی کیا ؟”
طلال کی بات پہ ۔۔۔ اس کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔
” انصاف ؟؟ کون دلائے گا انصاف ؟؟؟ ایک بھکارن جسے بار بار مرد اپنی انا کے بھینٹ چڑھا گیا ۔۔ بار بار تذلیل ہوئی ۔۔۔ وہ اس معاشرے سے ۔۔۔ یا اس عدالت سے کیا امید رکھے ۔۔۔ جس کے نگہبان مرد ہیں ۔۔۔ “
اس کا لہجہ بےحد تلخ تھا ۔۔۔ طلال اس کے پاس پڑی کرسی پہ جا کے بیٹھ گیا۔۔۔
” ناامیدی اور مایوسی گناہ ہے ماوی ۔۔ “
” آپ بھی تو مایوس ہے ۔۔ اپنا سب کھونے کے بعد ۔۔ “
ماوی اسے دیکھتی کہنے لگی۔۔
” میں مایوس نہیں تلخ ہو گیا ہوں۔۔۔ “
طلال نے اس کی تصحیح کی ۔۔
” میں ایک کونے میں جا کے نہیں بیٹھتا۔۔۔ یا گھنٹوں یہ نہیں سوچتا کہ اس معاشرے نے میرا سب مجھ سے چھین لیا۔۔۔ میں آج بھی جنگ لڑتا ہوں۔۔۔ آج بھی انسانوں کو جیت کی امید دلاتا ہوں۔۔ نئی زندگی کی امید دلاتا ہوں۔۔۔ بس تھوڑا تلخ ہوں۔۔۔ “
ماوی خاموش رہی ۔۔۔
” آپ لڑے گی تو آپ کو آپ کا بیٹا ملے گا۔۔۔ آپ قدم اٹھائے گی تو آپ کو انصاف ملے گا ۔۔۔ آپ مضبوط ہوگی تو ہی آپ ثابت قدم رہے گی ۔۔۔ مس ماوی آپ ایک کونے میں۔۔۔ بیٹھ کے خود کا تماشا لگائے گی تو دنیا آپ کا تماشاایک نظر دیکھ کے آگے بڑھ جائے گی ۔۔۔ لیکن جب اٹھے گی ۔۔۔لڑے گی ۔۔ آواز اٹھائے گی۔۔ تو دنیا بار بار رک کے۔۔۔ آپ کو دیکھے گی ۔۔۔ “
ماوی غور سے اسے دیکھ اور سن رہی تھی ۔۔۔ جبکہ طلال ہلکا سامسکرایا تھا۔۔
” مما ٹھیک کہتی ہے ۔۔ میں کھڑوس ضرور ہوں بے دل کا بہت اچھا ہوں۔۔۔ “
ماوی سر جھٹک کے۔۔ نظریں پھیر گئی ۔۔
” سو ۔۔۔ “
وہ اپنا موبائل نکال کے سامنے ٹیبل پہ رکھ چکا تھا ۔۔۔
” بتائے مجھے اپنی لائف کے بارے میں۔۔۔ سب کچھ۔۔۔ “
” پھر ؟؟؟”
ماوی نے سوال کیا تھا۔۔۔
” پھر ۔۔۔۔۔ ہممممممم پھر آپ کو یہ یقین مل جائے گا کہ اس معاشرے کا ہر مرد ۔۔۔ عورت کی تذلیل نہیں چاہتا۔۔۔ وہ عورت کو عزت بھی دیتا ہے ۔۔۔ “
طلال کا لہجہ نرم اور مضبوط تھا ۔۔۔
” کیوں کرنا چاہتے ہیں آپ ایسا ؟؟ کیوں سننا چاہتے ہیں آپ مجھے؟؟”
ماوی اب بھی شک بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جبکہ وہ مسکرا دیا تھا۔۔۔
” اللہ کی ذات پہ یقین رکھئیے ماوی ۔۔۔ سب بہترین ہوگا۔۔۔ اٹس آ پرامس ۔۔۔ “
ماوی لب کاٹتی نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔ جبکہ طلال اب موبائل پہ ریکارڈنگ بٹن پش کر کے۔۔۔ اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔












” علی کیوں سو رہا ہے اس وقت ؟؟”
کمرے میں آتا ابرام ۔۔۔ اچھنبے سے انعم کو دیکھنے لگا ۔۔۔
” تھکا ہوا تھا بہت ۔۔۔ تو اس لئے ۔۔”
انعم ادھر ادھر دیکھتی کہنے لگی ۔۔۔ جبکہ ابرام بیڈ پہ ۔۔۔ علی کے قریب جا کے بیٹھ گیا ۔۔۔
” علی۔۔۔ دیکھو آپ کے پاپا آپ کے لئے کیا لائے ہیں ۔۔ “
دھیرے سے ۔۔۔ علی پر سے کمفرٹر ہٹا کے۔۔۔ وہ علی کا گال سہلانے لگا ۔۔۔
” علی ویک آپ بیٹا “
نرمی سے کہتا ۔۔۔ وہ اپنے بیٹے کو جگا رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ عجیب سے احساس نے اسے آن گھیرا تھا۔۔۔
اس کا چہرہ ۔۔۔ ہاتھ پاوں جیسے جل رہے تھے ۔۔۔ گال سرخی مائل ہو چکے تھے ۔۔۔ اور سانس بند تھی۔۔۔
” علی۔۔۔ علی؟؟”
ابرام گھبرا کے ۔۔ بار بار اس کا گال تھپتھپانے لگا ۔۔۔ لیکن علی کے وجود میں کوئی حرکت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
” ان ہیلر لاو علی کا ؟؟”
وہ انعم کو دیکھتا چلایا تھا۔۔۔ اس کے چلانے پہ ۔۔ انعم بوکھلا کے ان ہیلر لے آئی تھی۔۔
” یہ لیں ابرام سر۔۔۔ “
ابرام تیزی سے ۔۔۔ اس کے منہ ان ہیلر دے کے ۔۔۔ پش کرنے لگا ۔۔۔ لیکن علی پھر بھی بےسدھ پڑا رہا۔۔۔
” کہاں تھی تم ۔۔۔؟؟ کیا ہوا ہے علی کو ۔۔۔ ؟ کس لیے ہو تم یہاں؟؟”
وہ چیخ ہی پڑا تھا ۔۔۔۔ آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔۔۔ تیزی سے علی کو بازوؤں میں اٹھا کے وہ باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔
شور کی اواز پہ ۔۔۔ احرم بھی کمرے سے باہر آیا تھا۔۔۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ ابرام۔۔۔ ابرام ۔۔۔ “
جبکہ ابرام رک کے اپنے بھائی کو دیکھنے لگا ۔۔۔
” میرا بیٹا سانس نہیں لے رہا ۔۔۔ “
یہ کہتے کہتے وہ رو پڑا تھا ۔۔۔ اور تیزی سے باہر کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔ احرم بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا ۔۔۔
” ڈرائیور جلدی کرو ۔۔۔ “
وہ چلاتا ۔۔۔ علی کو لے کے گاڑی کی طرف بڑھا تھا ۔۔
” ابرام بی کئیر فل ۔۔۔ “
احرم نے کہنے کی کوشش کی تھی۔۔ جبکہ ایک بھیگی نظر اپنے بھائی پہ ڈال کے ابرام گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
ہاسپٹل جانے تک کا راستہ۔۔۔ اس نے بھیگی آنکھوں سے روتے ہوئے ہی کاٹا تھا ۔۔۔۔
اس کا بیٹا۔۔۔ اس کے اور ماوی کے وجود کا ٹکڑا سانس نہیں لے پا رہا تھا ۔۔۔ ایک باپ رو رہا تھا ۔۔۔ بےحد رو رہا تھا۔۔۔
اپنے بیٹے کے بےجان و ساکت وجود کو ۔۔۔ بازوؤں میں لیے ۔۔۔ وہ ہاسپٹل کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔
اندر سے وہ جیسے بےجان ہو رہا تھا ۔۔ لیکن بظاہر۔۔۔ خود کو مضبوط رکھے۔۔۔ وہ اپنے بچے کو بچانے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔۔۔












” تو ادھر کیا کر رہا ہے ؟؟ “
اصغر کو اپنی جھونپڑی کے ارد گرد منڈلاتے دیکھ کے۔۔۔ شین غصے سے چلائی تھی۔۔۔
جبکہ وہ اپنی بتیسی کی نمائش کرتا ۔۔۔ شرمندہ شرمندہ سا ۔۔۔ اس کے قریب آنے لگا ۔۔
” وہیں رہ کے بات کر ۔۔ “
شین پھر سے چلائی تھی۔۔ اور اصغر کے قدم وہیں رکے تھے ۔۔
” تجھ سے معافی مانگنے آیا ہوں شین۔۔ میرے کو معاف کر دے ۔۔۔ “
” کیوں معافی مانگنے آیا ہے تو اپن سے ؟؟ اس چہرے کے لئے ۔۔ اس سیاہ داغ کے لئے؟؟”
شین کی بات پہ ۔۔ وہ شرمندہ سے نظریں چرا گیا ۔۔۔
” وہ نیلم جھوٹی نکلی ۔۔۔ فریبی نکلی ۔۔۔ مجھے دھوکا دے گئی ۔۔ کسی اور کے ساتھ شادی رچا لی ۔۔ مجھے کہتی ہے کہ تو شین کا نہ ہو سکا تو میرا کیا ہوگا ۔۔۔ شین معاف کر مجھے ۔۔۔ میں تیرے سے شرمندہ ہے بہت ۔۔ “
شین اسے سپاٹ نظروں سے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ ہاتھ جوڑے شرمندہ سا مسکرانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
” نیلم کی تو سن لی اب میری بھی سن ۔۔۔ “
” جو تو کہے گی وہی کروں گا۔۔۔ “
اصغر جلدی سے بولا ۔۔۔
” شین تجھ جیسے حرامی کا سایہ بھی اپنے قریب برداشت نہ کرے ۔۔۔ اپنی اوقات کا تھیلہ اٹھا اور نکل جا ادھر سے ۔۔۔ اپن تھوکتی بھی نہیں تجھ پہ ۔۔۔ تو نفرت کے قابل بھی نہیں۔۔۔ نکل ادھر سے ۔۔ “
وہ اونچی اوا میں غرائی تھی۔۔۔ جبکہ اصغر آس پاس جمع ہوتے لوگوں کو دیکھنے لگا۔۔۔
” دیکھ شین ۔۔۔ عزت کا جنازہ نہ نکال ۔۔۔ بتا رہا میں۔۔۔ “
” کیا بتا رہا تو اپن کو ؟؟”
وہ غراتی اس کے قریب آئی تھی جبکہ اصغر بوکھلا کے ۔۔۔ پیچھے ہوا تھا۔۔
” کیا بتائے گا تو اپن کو ۔۔۔ بےغیرت ۔۔۔ موالی ۔۔۔ تو اپن کو آنکھیں دکھاتا ہے ۔۔۔ تیری دونوں آنکھیں ۔۔ انگلی ڈال کے ۔۔۔ نکال باہر کرے گی اپن ۔۔۔ شین کو تجھ سے گھن آتی ہے گھن ۔۔۔ “
وہ چیخی تھی۔۔۔ سب ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
” نکل ادھر سے ۔۔۔ بےغیرت۔۔۔ “
اور اصغر ادھر ادھر سب کو دیکھتا۔۔۔ تیزی سے بھاگا تھا ۔۔۔ جبکہ شین غصے سے اسے بھاگتا دیکھ کے ۔۔۔ زمین پہ نفرت سے تھوکا تھا ۔۔
دل میں جو برسوں سے آگ جل رہی تھی بدلے کی ۔۔ آج وہ پوری ہو گئی تھی۔۔۔ تبھی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔
سر جھٹک کے۔۔۔ مسکراتی وہ اپنی جھونپڑی کی طرف بڑھی تھی ۔۔
‘ اگر لوگوں سے اچھا کرو گیں۔۔۔ نیکی کرو گے ۔۔۔ تو ان نیکیوں کے بدلے میں اللہ تم پہ رحم کرے گا ۔۔۔ وہ ذات تمہیں نواز دے گا ۔۔۔ ‘
اسے پروفیسر ذاکر اللہ کی بات یاد آئی تھی۔۔۔ جو اس نے تب سنی تھی جب وہ ان کے سینٹر کے سامنے سے گزر رہی تھی۔۔۔ اور تب رک کے ۔۔ وہ ان کی باتیں سننے لگی ۔۔۔ اور اب وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔ پرسکون مسکراہٹ۔۔۔۔











ہاسپٹل کوریڈور میں۔۔۔ وہ ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔۔۔ جبکہ اس کا بیٹا آئی سی یو میں تھا ۔۔۔ جہاں ڈاکٹرز اسے سانس دینے کی کوشش میں مصروف تھے ۔۔۔
” ماوی کہاں ہو تم ؟”
وہ زیر لب کہتا ۔۔۔ بھیگی آنکھوں سے آئی سی یو کے بند دروازے کو دیکھنے لگا۔۔
” ابرام ۔۔۔ “
احرم کی اواز پہ وہ چونک کے مڑا تھا ۔۔۔ جہاں وہ گارڈ کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔۔ ابرام آگے بڑھ کے ۔۔۔ اپنے بھائی کے گلے لگ گیا۔۔
” احرم ۔۔۔ احرم میرا بیٹا۔۔ میرا علی ۔۔۔ وہ اندر ہے ۔۔ “
وہ روتے ہوئے ہچکیوں کے بیچ کہہ رہا تھا۔۔۔ جبکہ احرم اس کی پیٹھ سہلانے لگا ۔۔۔
” بس ۔۔۔۔ ہشششش چپ ۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گا ہمارا بیٹا۔۔۔ ہمارا علی ۔۔۔ دیکھو ڈاکٹرز سب وہاں موجود ہیں۔۔ “
” یہ سب سزا ہے ۔۔ میری سزا ہے ۔۔ میرے کیے کی سزا۔۔۔ میں کتنا سیاہ بخت ہوں۔۔۔ دولت کے ہوتے ہوئے بھی ۔۔ میں۔۔۔ میں کچھ نہیں کر پا رہا۔۔۔ میں کچھ نہیں کر پا رہا۔۔۔ “
ابرام بلک بلک کے رو رہا تھا ۔۔۔
” مجھے سے جڑے میرے سارے رشتے کمزور پڑ رہے ہیں۔۔ اور میں اپنے رشتوں کو نہیں بچا رہا۔۔۔ میں کسی کو نہیں بچا پا رہا ۔۔۔ “
ڈاکٹر نرس کے ساتھ ۔۔۔ آئی سی یو سے نکل ان کی طرف آیا تھا۔۔۔
جبکہ ابرام وحشت بھری نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” he is out of danger Mr Abraam … but “
ڈاکٹر سردار چپ ہو گیا تھا۔۔ اور نظریں چراتی وہ احرم کو دیکھنے لگا۔۔۔ جس کے چہرے پہ بےچینی تھی۔۔۔ ۔
” مسٹر ابرام ۔۔۔ آپ کا بیٹا شاک کی وجہ سے ۔۔۔ ہوش میں نہیں آ رہا ۔۔۔ اور ہم بس اتنا کر سکتے ہیں۔۔ کہ اسے انڈر ابزرویشن رکھے ۔۔۔ “
ابرام کو اپنی ٹانگیں شل ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔ تبھی وہ نیچے گرا تھا۔۔۔
” ابرام۔۔۔ “
احرم نے چونک کے ۔۔۔ اس کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔ جبکہ ابرام کی آنکھوں میں آنسو جیسے ساکت ہو گئے تھے۔۔۔
وہ ٹوٹ رہا تھا آج۔۔۔ اس لمحے۔۔۔ ابھی ۔۔ اس کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟ کون خاموش ہے ؟؟ کون چل رہا ہے ؟؟؟ اس کے اندر شور برپا تھا۔۔۔۔ بہت زیادہ شور۔۔۔۔











” میں دونوں کو الگ سے نوٹیفکیشن بھجوا چکا ہوں۔۔۔ اور بہت جلد کورٹ میں ان سے سامنا ہوگا اب ۔۔ “
طلال اس کےساتھ والے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے کہنے لگا ۔۔ جبکہ ماوی اسے سن نہیں رہی تھی۔۔۔ اس کی نظریں تو نیوز ہیڈ لائنز پہ تھی۔۔۔
طلال نے رک کے غور سے اسے دیکھا تھا ۔۔ جس کے چہرے کی رنگت سفید پڑ رہی تھی ۔۔۔
” ماوی تم ٹھیک ہو ۔۔۔ “
ایک خوفزدہ نظر طلال پہ ڈال کے ۔۔۔ وہ پھر سے موبائل اسکرین کو دیکھنے لگی ۔۔۔
” ماوی کوئی پرابلم ہے؟؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہا تھا۔۔ جبکہ ماوی نے موبائل کسی اچھوت کی طرح نیچے پھینکا تھا۔۔۔ بنا طلال کو دیکھے ۔۔۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے ۔۔ باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
” ماوی ۔۔ “
طلال بھی اس کے پیچھے پیچھے ہی آیا تھا ۔۔۔ جبکہ ماوی پاگلوں کی طرح گیٹ کی طرف بھاگ رہی تھی۔۔۔
” شٹ ۔۔ ماوی ۔۔ ماوی “
طلال نے تیزی سے آگے بڑھ کے ۔۔۔ اسے بازو سے پکڑ کے روکا تھا ۔۔۔ جبکہ وہ کسی بچے کی طرح مچل رہی تھی ۔۔۔
” چ ۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔ چھ ۔۔ چھوڑو “
” ماوی کیا ہوا ہے ؟؟ کین یو ٹیل می پلیز ؟؟”
طلال نے اسے دونوں بازو سے جھٹک کے سوال کیا تھا۔۔۔
” م ۔۔۔۔ میرے ب۔۔۔۔ بیٹے کو م ۔۔ مار دیا ۔۔۔ مار دیا ۔۔۔ اس ۔۔۔ اس کی باڈی ۔۔۔ “
اپنی بات کہہ کے وہ اب ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔
” ج ۔۔۔ جانے دو ۔۔۔ جانے دو “
طلال نے غور سے اس کی غیر ہوتی حالت دیکھی تھی۔۔۔
” میں پہنچا دیتا ہوں۔۔۔ جہاں جانا چاہو “
اسے اپنے ساتھ گاڑی تک لے جاتے ۔۔ طلال نرمی سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ جبکہ وہ غائب دماغی سے ۔۔۔ خود کو گھسیٹ رہی تھی۔۔۔۔
طلال نےاسے فرنٹ سیٹ پہ بٹھا کے۔۔ لب بھینچے اپنا موبائل چیک کیا تھا۔۔۔ اور نیوز پہ نظر پڑتے ہی ۔۔۔ اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے ۔۔۔
” بزنس ٹائیکون ابرام نوفل شاہ کا بیٹا۔۔۔ بری کنڈیشن پہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے ۔۔۔ “
وہ تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کے ۔۔۔ گاڑی ڈرائیو پہ ڈال دی تھی۔۔۔ ماوی زیر لب کچھ بڑبڑاتی سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کی بکھری حالت پہ طلال کو رحم سا آیا تھا۔۔۔ وہ جو سالوں سے سنگدل بنا پھر رہا تھا آج اس لڑکی کی حالت پہ ۔۔۔ اس کا دل موم ہوا جا رہا تھا۔۔۔
گاڑی ہاسپٹل کے احاطے میں داخل ہوئی۔۔۔ اور ماوی کا دل جیسے گہری کھائی میں ڈوبنے لگا تھا۔۔۔
آنکھوں میں خوف کی تحریر مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔ ہاتھ کانپے تھے ۔۔ اور جب گاڑی سے اتری تو ٹانگیں بےجان ہو رہی تھی ۔۔۔
طلال اس کا ہاتھ پکڑے۔۔۔ جیسے اسے کسی زندہ لاش کی طرح اپنے ساتھ کھینچ رہا تھا ۔۔۔
کب روم نمبر کا پوچھا طلال نے ۔۔۔ کب وہ لوگ لفٹ کے ذریعے اوپر گئے ۔۔۔ اور کب وہ علی کے روم کے سامنے پہنچے ۔۔۔
وہ بس دیکھ رہی تھی۔۔۔ کھنچی جا رہی تھی۔۔۔ روم سے نکلتے ابرام کی نظر اس پہ گئی ۔۔۔۔ اور نظریں جیسے ساکت ہوئی تھی ۔۔۔
ماوی کا ہاتھ طلال کے ہاتھ میں دیکھ کے ۔۔۔ اس کے لب بھینچ گئے تھے ۔۔۔ تبھی ماتھے پہ بل ڈالے۔۔۔ وہ تیزی سے ان تک پہنچا تھا ۔۔۔
اور ماوی کا ہاتھ ۔۔۔ طلال کے ہاتھ سے کھینچ کے۔۔۔ وہ اب ماوی کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جبکہ طلال نے ابرو اچکا کے ۔۔۔ اس کی حرکت کو دیکھا تھا۔۔۔
اور پھر ابرام کے چہرے پہ ۔۔۔ تھپڑ پڑا تھا ۔۔۔ جو ایک عورت کی طرف سے تھا۔۔۔ ایک ماں ۔۔۔ ایک ٹوٹی بکھری خستہ حال عورت کا ۔۔۔
” مرد ہو تم ؟؟؟ خود کو مرد کہتے ہو ؟؟ ایک خستہ حال جھونپڑی کی بھکارن کو ۔۔۔ محبت کے خواب دکھا کے۔۔۔۔ اسے در بدر کردیا تم نے ۔۔۔ اس سے بہتر تھا میں اس جھونپڑی کے ہر مرد کی ہوس کا نشانہ بنتی ۔۔۔ لیکن کھبی تمہاری بیوی نہ بنتی ۔۔۔ وہ ذلت سہہ لیتی لیکن ایک مرد نے تو مجھے ذلیل کر کر کے ۔۔۔ مجھے برباد کر دیا ۔۔۔ مجھے تباہ کر دیا ۔۔۔ میرا بیٹا تھا علی۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔۔ “
وہ رکی تھی۔۔۔ اس کی انکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔۔۔۔ بات کرتے کرتے سانس اکڑنے لگی تھی۔۔۔ جبکہ ابرام لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
” وہ بیٹا تھا میرا۔۔۔ کوئی انتقام تو نہیں تھا ناں۔۔۔ مار دیا اسے ۔۔ مار دیا ؟؟ وہ ننھا وجود ۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ اسے تو میں نے چیل اور کتوں سے ب ۔۔ بچایا تھا ۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ اسے اس دنیا میں نوچ کے ختم کرنے والا بھیڑیا ابھی موجود ہے۔۔۔۔ “
آنسو اس کی گال پہ ڈھلکے تھے ۔۔۔
” ہمارا علی زندہ ہے ماوی ۔۔۔ “
ابرام نے کہنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ جبکہ ماوی کو اپنی سانسیں ختم محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ تبھی اس نے بےچینی سے ۔۔ اپنے دل کے مقام پہ ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔۔
” ماوی ۔۔۔۔ یو اوکے؟؟؟”
طلال نے اسے دونوں کندھوں سے تھام کے ۔۔۔ پریشانی سے پوچھا تھا۔۔ جبکہ ابرام نے اسی تیزی سے ۔۔۔ طلال کو دھکا دے کے پیچھے کیا تھا۔۔
” دور رہو ماوی سے تم ۔۔۔ “
وہ غرایا تھا ۔۔۔ جبکہ طلال نے شرر بار نگاہوں سے ۔۔۔ اپنے سامنے کھڑے ابرام کو دیکھا تھا ۔۔۔
” mind your own business Mr Ibram Shah …
نیکسٹ مجھے ہاتھ بھی لگانے کی کوشش کی ۔۔۔ تو میں تمیز بھول جاؤں گا ۔۔۔ “
سرد آواز میں اپنی بات کہہ کے۔۔ وہ پھر سے ماوی کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔۔ جو اپنی کنپٹی سہلاتی ۔۔۔ اپنی سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
لیکن ابرام پھر سے ۔۔۔ اس کے سامنے دیوار بن چکا تھا۔۔۔
” who the hell you are ???
نکلو یہاں سے ۔۔۔ اور ماوی سے فاصلہ رکھو ۔۔۔ “
ابرام دانت پیستے غرایا تھا ۔۔۔
” ماوی کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو تم ۔۔۔ “
وہ بھی طلال ہی تھا۔۔۔ بنا کوئی اثر لیے اس نے اپنی بات کی تھی۔۔۔ ابرام نے اس کا کالر دبوچا تھا ۔۔۔
” یو باسٹرڈ ۔۔۔ “
ساتھ ہی اپنے ہاتھ کا مکہ بنا کے طلال کو مارنا چاہا تھا ۔۔ لیکن طلال نے اس کا ہاتھ روک کے ۔۔۔ اسے پیچھے دھکا دیا تھا ۔۔
اور اسی لمحے دونوں کی نظر ماوی کی طرف گئی تھی۔۔۔ جو زمین پہ بیٹھتی جا رہی تھی۔۔۔
” ماوی ۔۔۔ “
دونوں تیزی سے۔۔ اس کی طرف بڑھے تھے لیکن ابرام اسے تھام چکا تھا اور اب سرد نگاہوں سے۔۔۔ طلال کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
جو لب بھینچے ابرام کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اور پھر ماوی کا کمزور وجود جھٹکوں کی زد میں آ چکا تھا ۔۔۔ ابرام نے چونک کے ۔۔۔ اسے اپنے بازوؤں کے گھیرے مہن دیکھا ۔۔
سفید پڑتی رنگت کے ساتھ۔۔۔ اس کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا ۔۔
” ماوی ۔۔۔ ماوی ۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔ “
ابرام چلایا تھا جبکہ طلال تیزی سے ۔۔۔ ڈاکٹرز روم کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔۔












‘ ماوی میری بیوی تھی ۔۔ میرے بیٹے علی کی مما ۔۔ ‘
‘ وہ بدکردار نہیں ۔۔ تم بدکردار ہو ۔۔ ‘
‘ میں محبت کرتی تھی اس دیوتا سے ۔۔ لیکن اب میں ایک بیوی ہوں ۔۔ احرم نوفل شاہ کی بیوی۔۔۔ ‘
پرانی یادیں تھی ۔۔ پرانی باتیں تھی ۔۔۔ اور اس کے چہرے پہ ہلکی زخمی مسکراہٹ تھی۔۔۔
اسے اپنے قریب آہٹ کا احساس ہوا تھا۔۔ وہ ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگا ۔۔۔
اسے اپنے چہرے پہ ۔۔۔ ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تھا ۔۔
” ماوی ۔ ؟؟”
” غزل ۔۔۔۔ “
اپنے کان کے قریب سرگوشی سی سنی تھی اس نے ۔۔ اور بدک کے پیچھے ہوا تھا ۔۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
وہ چلایا تھا۔۔۔ جبکہ غزل کی چہرے پہ مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔
” اس بیڈ پہ ۔۔۔ ہماری یادیں بکھری پڑی ہے ۔۔۔ ان اسپیشل مومنٹس کی ۔۔۔ سوچا آج پھر سے وہ لمحے میرے اور تمہارے بیچ ٹھہر جائے۔۔۔ “
اس کے چہرے پہ شہادت کی انگلی پھیرتی ۔۔۔ وہ اپنی مخصوص ادا سے کہہ رہی تھی۔۔۔
جبکہ احرم نے پوری طاقت سے ۔۔۔ اسے پیچھے دھکا دے کے ۔۔۔ خود سے دور کیا تھا۔۔۔
” دور رہو مجھ سے ۔۔۔ تم شیطان ہو ۔۔۔ اور وہ سب ہمارے بیچ اس لیے ہوا تھا کیونکہ تم نے اپنی ذلیل حرکت سے ۔۔۔ مجھے نشے میں کر دیا تھا ۔۔۔ “
اینی جگہ سے کھڑا ہو کے ۔۔ وہ پیچھے ہوا تھا۔۔۔ جبکہ غزل مسکراتی آنکھوں سے ۔۔۔ اس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑتی دیکھ رہی تھی اور اس کے قریب آ رہی تھی۔۔۔
” تمہارا نشہ تو اتر گیا احرم ۔۔۔ لیکن میرا نشہ نہیں اترا ابھی ۔۔۔ “
احرم دل ہی دل میں۔۔۔ مدد کی چاہ کرتا ۔۔۔ بےبسی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔۔۔
” احرم ۔۔ “
اپنے قریب اس کی آواز سن کے ۔۔ احرم چونکا تھا۔۔۔
” گیٹ لاسٹ غزل۔۔۔۔ “
وہ حلق کے بل چیخا تھا۔۔۔ اور پھر اچانک گولی چلنے کی آواز آئی تھی اور غزل کی چیخ ابھری تھی۔۔۔
جبکہ احرم خوفزدہ نظروں سے ۔۔۔ اس تاریکی میں دیکھ رہا تھا جو اس کے نصیب میں لکھا جا چکا تھا۔۔
