Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mawi by Malaika Rafi

" تم بےحد خوبصورت ہو ماوی ۔۔۔ بےحد خوبصورت۔۔۔ "
اپنی شدتوں سے ۔۔۔ اس کو روم روم نکھارتا وہ رکا تھا ۔۔۔ اور اس کے کان کے قریب ہلکی سی سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
ماوی آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ جو بےحد نرمی سے ۔۔۔ اپنی انگلیاں اس کے چہرے سے مس کر رہا تھا ۔۔۔ ماوی کی قربت کا اثر تھا جو اس کی چاکلیٹ براون آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھی۔۔۔ یہ الفاظ بےحد سکون بخشتے اسے ۔۔۔ اہرم جب جب اسے خوبصورت کہتا ۔۔۔۔
" کاش میں ان لمحوں میں تمہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ اپنی محبت کا خمار تمہاری آنکھوں میں دیکھ پاتا ۔۔۔ تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو اس لمحے۔۔۔ محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ دیکھ بھی پاتا۔۔۔ "
ماوی نرمی سے اپنے ہاتھ کی پشت۔۔۔ اس کی گردن اور بیئرڈ کندھے پہ پھیر رہی تھی۔۔۔
" میں بےحد خوبصورت ہوں اہرم ۔۔۔ بہت زیادہ خوبصورت ہوں میں۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔۔ مجھ میں تمہاری محبت کا نکھار بھر رہا ہے اہرم ۔۔۔ "
وہ مدھم لہجے میں۔۔۔ سرگوشی کرتی اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ چکی تھی ۔۔۔
" میں تم سے خوبصورت ہوں اہرم ۔۔۔ "
اس کے لمس سے اہرم بےچین ہوا تھا ۔۔۔
" تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں ماوی ۔۔۔ آج سالوں بعد یہ خواہش جاگ رہی ہے کہ میں دیکھ پاتا۔۔ کاش میں دیکھ پاتا۔۔۔ "
آنکھیں موندے وہ بےچین سی سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔۔ ماوی اس کے لئے بےحد دلکش احساس تھی ۔۔۔ اس کی قربت اہرم کے لئے ۔۔۔ بےحد خوبصورت تھی ۔۔۔ وہ جیسے زندگی کی طرف آنے لگا تھا ۔۔۔
اس کا ہاتھ تھام کے ۔۔۔ ماوی نے اپنے پہلو میں رکھا تھا ۔۔۔۔
" مجھے محبت کرو اہرم ۔۔۔ "
مدھم سرگوشی کرتی ۔۔ وہ اہرم کے بےحد قریب ہوئی تھی۔۔۔ سلک شیٹ کو خود پہ اور اس پہ ٹھیک کرتی ۔۔۔ وہ خود کو اس کے دسترس میں سونپ رہی تھی پھر سے ۔۔۔
اور اہرم دھیمے سے مسکرایا تھا ۔۔۔ ماوی آنکھیں موندے ۔۔۔ اس کی گہرائیوں میں جاتے لمس کو ۔۔۔ اپنے وجود پہ محسوس کر رہی تھی۔۔۔ کمرے کی خاموش فضا میں ان کی سانسوں کا شور تھا ۔۔۔ اور کھبی کھبی ماوی کی سکون بھری ۔۔ ہلکی ہلکی سسکیاں سی تھی۔۔۔ بیڈ شیٹ کو دونوں مٹھیوں سے جکڑے۔۔۔ وہ اہرم کی قربت میں پرسکون ہو رہی تھی۔۔۔ جبکہ اہرم بوند بوند اس میں اتر کے سیراب ہوتا ۔۔۔ اسے اپنی بانہوں میں بھرے ۔۔۔ اپنی شدتوں سے ۔۔۔ اسے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *